غیر ضروری بال ، جان کا وبال ، جانیں اضافی بالوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے چند آسان گھریلو ٹوٹکے

تحریر : صبا ریاض


ہم جس قدر سر کے بالوں ،آنکھوں کی پلکوں اور بھنوئوںکے بالوں کو بڑھانا اور گھنا کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں،اسی قدر جسم کے چند دوسرے حصے جیسے چہرہ،بازو اور ٹانگوں پر موجود بالوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس سے ہاتھ پائوں اور چہرہ صاف ستھرے تو نظر آتے ہی ہیں،ساتھ ہی ان سے نجات آپ کا اعتماد بھی بحال کرتا ہے۔خواتین کی خوبصورتی کو بڑھانے میں جسم کے غیر ضرور ی بالوں کی صفائی بے حد ضروری ہے۔

ہمارے ہاتھوں،ٹانگوں اور چہرے پر ہر 20 سے 25دن بعد بال واپس آنے لگتے ہیں۔ ایسے میں پارلرز سے ہر مہینے انہیں اُتروانے پر اچھی خاصی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔آج کل کئی ایسی ٹیکنالوجیز متعارف کروا دی گئی ہیں جو جسم کے غیر ضروری بالوں کو مستقل طور پر یا لمبے عرصے کیلئے صاف کر دیتی ہیں،لیکن یہ طریقے کار سو فیصد محفوظ نہیں مانا جا سکتا ،کیونکہ نئے بالوں کا پیدا ہونا قدرتی عمل ہے اور یہ انسانی صحت کیلئے فائدے مند بھی ہے۔ایسے میں انہیں پیدا ہونے سے مستقل روک دینے سے صحت کے سنگین مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔

غیر ضروری بالوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے کئی گھریلو ٹوٹکے بھی موجود ہیں ،جو نہ صرف آپ کے پیسے بچائیں گے بلکہ آپ کی جلد کو کسی قسم کا نقصا ن بھی نہیں پہنچے گا۔آئیے آپ کو ان کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔

لیموں کا استعمال:  یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں کہ لیموں کو بالوں کی رنگت ہلکی کرنے کے لیے بلیچ کے طور پر استعمال کیا جا تا ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بالوں کو جسم سے صاف کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔لیموں میں موجود سٹرک ایسڈ بالوں کی صفائی کرتا ہے۔استعمال کرنے کے لیے لیموں کے رس میں چینی اور شہد شامل کر کے بیس منٹ تک پکائیں او ر بازاری ویکس جیسا سخت سا آمیزہ تیار کر لیں۔ اسے ٹھنڈا ہونے پر اپنی جلد پر لگائیں اور بالوں کے دوسرے رُخ میں کھینچ کر اُتار لیں۔خیال رکھیں آمیزہ زیادہ گرم نہیں ہونا چاہیے تا کہ آپ کی جلد نہ جل جائے۔اس کے استعمال سے آپ کی جلد کی میل بھی صاف ہو جائے گی اور بال جلد سے نکل جائیں گے۔یہ طریقے کار نہایت آسان بھی ہے اور آپ کے خاص پیسے بھی خرچ نہیں ہوں گے۔

بیسن کا استعمال: بیسن کو بھی پُرانے وقتوں سے لے کر آ ج تک حسن سنوارنے اور جلد کے کئی مسائل حل کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔یہ جلد کو تازگی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ رنگت نکھارنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔بیشتر خواتین شاید نہیں جانتی ہوں گی کہ بیسن کو غیر ضروری بال صاف کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ استعمال کرنے کیلئے بیسن کو ہلدی اور دودھ میں مکس کر کے گاڑھا پیسٹ بنائیں اور اسے مطلوبہ جگہ پر لگا لیں۔خشک ہونے کے بعد بالوں کی مخالف سمت میں انگلیوں کو گھمائیں ۔ایسا کرنے سے بال جھڑ جائیں گے اور ویکس کی تکلیف بھی کم ہو گی۔بیسن کا پیسٹ سا بنا کر اگر اس میں انڈے کی سفیدی بھی شامل کر لی جائے تو بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انڈے کی سفیدی کا استعمال:  چند روپے خرچ کر کے آپ نہایت آسانی سے انڈے کی سفیدی سے اضافی بال صاف کر سکتی ہیں۔ استعمال کرنے کے لیے دو چمچ مکئی کا آٹا اور ایک انڈے کی سفیدی مکس کر کے گاڑھا سا پیسٹ بناکے لگا لیں،پھر انگلیوں کی مدد سے صاف کر لیں۔اس طرح بالوں کی نشو ونما بھی کم ہو گی اور لمبے عرصے تک آ پ کے زیادہ بال بھی نہیں آئیں گے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خوداعتماد خواتین کامیاب اور مضبوط معاشرے کی بنیاد

خوداعتمادی انسان کی شخصیت کا وہ جوہر ہے جو اسے زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

گرمیوں کی چھٹیاں کیسے گزاریں؟

گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کے لیے ایک خوشگوار وقفہ ہوتی ہیں لیکن یہ وقت صرف آرام یا کھیل کود تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

آج کا پکوان:بھرے ہوئے کریلے

اجزا:قیمہ: ایک کلو ،چکن یا بیف ، کریلے: ایک کلو، پیاز: دو عدد باریک کٹی ہوئی، ٹماٹر: چار عدد باریک کٹے ہوئے، ہری مرچیں: چار عدد باریک کٹی ہوئی،

سید ضمیر جعفری اُردوادب کا چھتناور درخت

آ ج27ویں برسی:اُنہوں نے مزاح سے زیادہ سنجیدہ ادب لکھا مگر شہرت مزاحیہ کلام کی وجہ سے حاصل ہوئی :یہ کہا جا سکتا ہے کہ ضمیر جعفری نے اپنی آخری سانس تک قوم کو ہنسایا بھی ، گرمایا بھی اور اسے سنجیدگی سے سوچنے پر بھی آمادہ کیا، وہ ادب میں ہمیشہ نیا پن لے کر آتے رہے‘ پرانے پنجابی پوٹھوہاری الفاظ کو موتیوں کی طرح جڑتے تھے اور لفظ کو معنی کو وقت کی قید سے آزاد کر دیتے تھے

پاکستانی ادب کا اختصاص

اردو ادب میں پاکستانیت کے اظہار کی بات کی جائے تو نظم میں ان اثرات کا ذکر ضروری ہو جاتا ہے۔

معرکہ حق: تاریخی فتح کا ایک سال مکمل

پاکستان نے چند گھنٹوں میں بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا:مئی 2025 کا وہ تاریخی معرکہ جس میں پاک فضائیہ نے دشمن کے نام نہاد ناقابل تسخیر طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنا کر فضائی برتری کا لوہا منوایا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ قیادت نے پوری قوم کو’’ایک پیج‘‘پر لا کر دفاعِ وطن کو ناقابل تسخیر بنادیا۔ معرکہ حق کے بعد پاکستان خطے میں صرف ایک عسکری قوت ہی نہیں بلکہ امن و ثالثی کا وہ محور بن چکا ہے جس کی مرضی کے بغیر جنوبی ایشیا کا کوئی فیصلہ ممکن نہیں۔