ہماری زندگی اور ذہن پر اقبالؒ کے اثرات ، علامہ اقبالؒ کے افکار جیسا تلاطم کسی اور مصنف یا مفکر نے پیدا نہیں کیا
علامہ اقبالؒ نے لوگوں کے ذہنوں کو غلامی کے اثرات سے آزاد کرنے میں امداد دی ،ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں سے پہلے ہم نے کبھی آفاقی طریقہ سے اس موضوع پر نہیں سوچا تھا
ہمارے قومی ذہن اور ہماری ذہنی زندگی پر اقبالؒ کے کلام سے کیا اثرات مرتب ہوئے اور انھوں نے کیا نقش ہمارے ذہن پر چھوڑا… اس میں کچھ باتیں تو ایسی ہیں جن میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مثلاً ان کا پہلا اثر تو یہی ہے کہ ہماری ذہنی زندگی میں جس قسم کا تہیج اور جس قسم کا تلاطم ان کے افکار کی وجہ سے پیدا ہوا ہے وہ غالباً ان سے پہلے یا ان کے بعد کسی واحد مصنف، کسی واحد ادیب یا کسی واحد مفکر نے، ہمارے اذہان میں پیدا نہیں کیا۔
یہ صحیح ہے کہ سرسید کی تحریک اس ملک میں موجود تھی اور اس زمانے میں بھی اسی قسم کا تلاطم لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوا تھا۔ لیکن اقبالؒ کے افکار کی نسبت اس تحریک کا دائرہ محدود تھا۔ اس کا تعلق محض ہندوستان کے مسلمانوں سے تھا۔ لیکن اقبال ؒکے افکار کا تعلق، تعلیم کے علاوہ، ہندوستان کے مسلمانوں، دنیا بھر کے مسلمانوں، عام انسانوں بلکہ جملہ موجودات اور غیر موجودات دونوں سے تھا۔ کلام اقبالؒ کا دوسرا اثر یہ مرتب ہوا کہ اقبالؒ نے ہمارے قومی کاروبار میں خواہ وہ سیاست ہو، خواہ وہ اخلاقیات ہو۔ خواہ مذہب ہو، خواہ کوئی اور قومی زندگی کا شعبہ ہو اس میں تفکر اور تدبر کا ایک ایسا عنصر شامل کیا جو کہ پہلے موجود نہیں تھا پہلے بہت سی باتیں جو کہ محض وہم و گمان کے بل پہ لوگ سلوگنز(Slogans) کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے، اقبالؒ نے ان کے سوچنے کا ، غور کرنے کا، مشاہدہ کرنے کا، مطالعہ کرنے کا، تجزیہ کرنے کا، استنباط کرنے کا اور اس سارے ذہنی پروسیسز (Processes) سے گزر جانے کا ڈھب سکھایا۔ صرف خواص کو نہیں بلکہ عوام کو بھی ان باتوں سے آشنا کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان کے بعد کے ہر سیاسی مفکر، معلم اور خطیب کے یہاں اقبالؒ کے کلام کے توسط سے ایک قسم کا تفکر اور سوچنے کا عنصر خود بخود ذہن میں شامل ہو جاتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اقبالؒ نے لوگوں کے ذہن کو ان اثرات سے ایک حد تک آزاد کرنے میں امداد دی جو غلامی کے سبب پیدا ہو گئے تھے۔ اس لیے کہ انھوں نے اپنے موضوع کو جیسے کہ شروع میں سبھی لوگ کرتے ہیں اپنے ہی ذاتی تجربات تک محدد رکھا۔ اس کے بعد انھوں نے پورے ہندوستان یعنی اپنی قوم کو متوجہ کیا۔ اس کے بعد ان کا وہ دور آتا ہے جب وہ اپنی قوم کے مختلف تجربات یا مختلف موضوعات کو بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد کا دور، ان کے پین اسلام ازم (Pan Islamism) کا دور تھا۔ جبکہ وہ دنیا بھرکے اہل اسلام کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ اور ان کا آخری دور جو ان کی پختگی کا دور ہے وہ ہے جبکہ وہ انسانیت اور جملہ کائنات کے بارے میں اپنے افکار کا اظہار کرتے ہیں اور یہ موضوع وہ ہے جو نہ صرف ان کے ملک سے وابستہ ہے بلکہ ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘‘ بھی اس میں شامل ہے اور یہ ایک ان کا اضافہ ہے سرسید کی تحریک میں۔ اس لیے کہ اس سے پہلے ہم نے کبھی آفاقی طریقہ سے اس موضوع پر نہیں سوچا۔ آفاقی طریقہ سے سوچنے کا ڈھب اور اس کو سوچنے کی ترغیب۔ ہمارے ہاں اقبالؒ نے پیدا کی اور آخری چیز جو میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے تخلیق کی، وہ شعر اور ادب کے لیے ایک نئے مقام کا تعین تھا۔ یہ مقام اس سے پہلے ہمارے ہاں نہ شعر کو حاصل تھا، نہ ادب کو ۔ ہمارے ہاں اس سے پہلے شعر یا تو تفریحی چیز سمجھی جاتی تھی یا ایک غنائیہ سی چیز سمجھی جاتی تھی یا زیادہ سے زیادہ محض ایک اصلاحی چیز سمجھی جاتی تھی یہ بھی حالی کے بعد۔ شعر میں فکر اور شعر میں حکمت اور شعر میں وہ عظمتیں جن کو ہم شاعروں سے نہیں فلاسفروں سے متعلق کرتے ہیں۔ وہ محض اقبالؒ کی وجہ سے ہمارے یہاں پیدا ہوئی ہیں۔ اقبالؒ جس زمانے میں یہ لکھ رہے تھے یہی زمانہ مغرب میں آرٹ فار آرٹ سیک کے عروج کا تھا۔ چونکہ استھیٹس کا زمانہ تھا اس لیے آسکر وائلڈ اور فرانسس کے ساتھ ساتھ فرانس کے استھیٹس، انگلستان کے استھیٹس کے زیر اثر ہمارے یہاں بھی آرٹ فار آرٹ سیک کا بہت چرچا تھا اور ادب برائے ادب کو لوگ بہت بڑھیا چیز سمجھتے تھے۔ اس لیے کہ ادھر سے یہ نظریہ آیا تھا۔ اور ادھر سے جو نظریہ آتا ہے وہ ہمارے ہاں بیس برس بعد پہنچتا ہے، جب تک وہاں پرانا ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن جب یہاں پہنچتا ہے تو کچھ دن اس کا بہت چرچا رہتا ہے۔ یہی اقبالؒ کے کلام کے عروج کا زمانہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ شعر ایک مقصد، ادب ایک بہت ہی سنجیدہ اور ایک بہت ہی سیریس چیز ہے اور یہ کوئی تفریح اور محض لوگوں کی دل لگی کا سامان نہیں ہے۔ ہماری ذہنی زندگی میں یہ تصور پہلی دفعہ اقبالؒ نے پیدا کیا۔ اب یہ باتیں تو ایسی ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ اب رہے اقبالؒ کے تعلیمی افکار یا اُن کے تصورات، ان میں سے قوم نے کیا چیز قبول کی اور کس طرح قبول کی اس کے بارے میں اختلافات ہیں۔ اور وہ اس وجہ سے ہیں کہ ہر بڑے ادیب کی عظمت کا ایک راز یہ بھی ہے کہ اس کی تحریک یک معنی یا یک پہلو نہیں ہوتی بلکہ اس کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ اس کے کئی گوشے ہوتے ہیں۔ اس کی کئی تہیں ہوتی ہیں اور ان میں سے کون آدمی کس حد تک استفادہ کرتا ہے وہ اس کی بصیرت اور یہ اس کے ظرف پر منحصر ہے ۔ چنانچہ اقبالؒ کے کلام کے بارے میں بھی یہی ہے کہ قریب قریب ہر مکتب فکر ان کو سند کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ جیسا کہ وہ خود کہہ گئے ہیں:
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں
میں سمجھتا ہوں کہ اس میں وہ تھوڑی سی ترمیم کر دیتے تو زیادہ صحیح ہوتا۔ وہ یہ کہ
زاہد تنگ نظر نے مجھے زاہد جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے کہ کافر ہوں میں
وجہ یہ ہے کہ بعض مسائل ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں ہمارے معاشرے کے ذہن میں تضادات موجود ہیں ایک حد تک ان تضادات کی جھلک اقبالؒ کے ذہن میں بھی نظر آتی ہے نتیجہ یہ ہے کہ وہ بادشاہ کا قصیدہ بھی کہتے ہیں اور بندئہ مزدور کو بغاوت پر بھی اکساتے ہیں۔ وہ جملہ انسانیت کی مساوات کے بھی قائل ہیں اور حقوق نسواں اور تعلیم کے بارے میں ان کے ذہن میں بعض شکوک بھی ہیں۔ اس لیے کہ اپنے نظام کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے ذہن میں خطرات تھے، اندیشے تھے۔ لیکن ان باتوں کو چھوڑ کر، جوان کی بنیادی باتیں ہیں۔ مثلاً خودی کی تکمیل، خودی کا ارتفاع، خودی کی تکمیل کے لیے عشق کے محرک کالزوم اور پھر اس عشق کے اظہار کے لیے عمل اور جدوجہد کی ضرورت۔ یہ تینوں باتیں ان کے فلسفے کی اور ان کے پیغام کی مرکزی چیزیں ہیں۔ لیکن ان کی تفسیر اور تشریح میں بھی اختلاف ہے۔ مثال کے طور پر جب وہ خودی کے ارتفاع یا خودی کے استحکام کی بات کرتے ہیں اور اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جس کی خودی مکمل ہے وہ مرد کامل ہے کی پیروی کرنی چاہیے تو یہ دونوں باتیں متضاد معلوم ہوتی ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ محض جمہوریت سے کسی چیز کا مداوا نہیں ہو سکتا اس سے لوگ دو بالکل متضاد باتیں اخذ کرتے ہیں بعض یہ سمجھتے ہیں کہ اقبالؒ شاید آمریت یا فاشیت یا شخص پرستی کے قائل تھے اور جمہور کو ان کے حقوق سے محروم کر کے ایک ہی آدمی کو جملہ حقوق و اختیارات دینا چاہتے تھے۔ بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر خود کی تکمیل اور خودی کا ارتفاع اقبالؒ کی تعلیم ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ صرف ایک آدمی کی خودی کے ارتفاع کے قابل ہوں۔ اقبالؒ کہتے ہیں کہ خودی کی تکمیل ہر شخص کا ایک جبلی حق ہے۔ اس پہ ڈاکہ ڈالنا خواہ وہ پیسے کے بل پہ ہو یا طاقت کے بل پہ ہو یا اپنے رنگ کے بل پہ ہو یا نسل کے بل پہ ہو کسی طرح مناسب نہیں وہ تو اقبالؒ کی تعلیم کی نفی ہے۔ کیونکہ جب وہ خودی کے ارتفاع کی بات کرتے ہیں تو وہ تو جملہ انسانیت کی خودی کے ارتفاع کی بات کرتے ہیں۔ کسی ایک شخص کی نہیں۔ چنانچہ اگر کسی کی سروری سے دوسروں کی خودی پہ حرف آتا ہے تو وہ ایسی سروری کو قبول نہیں کرتے۔ چنانچہ اس سے بالکل الٹ تفسیریہ ہے کہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ مرد کامل کی پیروی کرنی چاہیے تو مرد کامل کی پیروی صرف اس لیے کرنی چاہیے کہ آپ مرد کامل بن جائیں۔ اس لیے نہیں کہ آپ اس کے غلام ہوں۔ بلکہ اس لیے کہ آپ کو وہی مقام حاصل ہو جو کہ اس کو حاصل ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک ایزدیت بھی ایک مقام ہے اور خودی کے ارتفاع کا آخری مقام ہے۔ پھر عشق اور عقل کا تضاد ہے۔ جس کے بارے میں اقبالؒ اکثر گفتگو کرتے ہیں۔ وہاں بھی یہی الجھن پیدا ہوتی ہے…چنانچہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ دیکھ لیجیے اقبالؒ نہ سائنس کے قائل ہیں نہ منطق کے وہ تو چاہتے ہیں کہ یہ عقل کا جتنا کاروبار ہے اس سے گریز کر کے آدمی کو صرف اپنے وجدان پہ اور اپنے دل کی لگن پہ بھروسہ کرنا چاہیے۔ اور جہاں وہ لے جائے لے جائے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کل جتنی سائنس ہے جتنے علوم ہیں اور جس قدر دوسرے فنون ہیں ان کو چھوڑ کے ’’اکو الف تینوں درکار‘‘ والی بات کرنی چاہیے۔ ایک مکتب فکر یہ کہتاہے، دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں۔ نہیں یہ تو غلط ہے کیونکہ وہ تو بار بار ملاّکی مذمت بھی کرتے ہیں۔ اس کو تو بار بار کہتے ہیں کہ یہ ملّا کا نقطہء نظر ہے۔ کیونکہ ملّا کو انسانیت کی حرکت اور موجودات کے ارتقاء کا عمل نظرنہیں آتاہے۔ نہ وہ اس کو دیکھتا ہے۔ چنانچہ اقبال یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی جو تعلیم ہے اس میں تفکر و تدبر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ اگر اس پہ آپ عمل نہیں کرتے تو پھرآپ جامد پتھر کی طرح ہو جائیں گے۔ جمادات اور نباتات اور ملاّ یہ تینوں ایک ہی طرح کی چیزیں ہیں۔ اسی طرح جب وہ عقل کی برائی کرتے ہیں تو مراد استدلال نہیں ہے، نہ عقل سے شعور مراد ہے۔ وہ تو اس وقت ایک خاص مسلک یا خاص رویے کی بات کرتے ہیںجو کہ بالکل ایک مجرّد چیز ہے، یعنی وہ عقل جس کا تعلق انسانیت کی بہتری یا انسانیت کی فلاح سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق محض اپنے نفس کی تسکین یا دنیا کے مال و متاع سمیٹنے کی یادنیا پہ مادی تسلط حاصل کرنے سے ہے۔ عقل کا یہ مسلک مغربی سرمایہ داری کا مسلک ہے، جس کا تعلق محض جلب زر سے ہے، محض اپنے نفس کی تسکین سے ہے، اگر اس میں عشق یعنی انسانیت کی لگن شامل نہیں ہے تو وہ مہلک اور مضر ہے۔ لیکن اگر اس میں عشق کی لگن شامل ہے تو پھر وہ ایک مفید چیز ہے۔ ایک مثبت چیز ہے۔ چنانچہ اقبالؒ کا عشق عقلیت کا منافی نہیں ہے وہ تو صرف ان خود غرضانہ (Abstract) چیزوں کا تضاد ہے جن کا کہ انسانیت کی بہتری سے تعلق نہ ہو۔ اسی طرح عمل کے سلسلے میں بھی اسی قسم کے تضاد پیدا ہوتے ہیں۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کے عمل اور جدوجہد کی کوئی حد نہیں ہے اور اس لیے ہر کسی کو اپنی زندگی کے لیے جہاں تک بھی اس کا ہاتھ پہنچتا ہے وہاں تک پہنچانا چاہیے۔ چنانچہ دیکھ لیجئے انھوں نے مسولیسنی کی بھی تعریف کی ہے۔ یہ بات بھی غلط ہے۔ اس لیے کہ اس میں وہی تضاد ہے جو کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، کہ اگر دو انسانوں کاتصادم ہوتا ہے یا دو قوموں کا آپس میں تصادم ہوتا ہے، تو پھر ظاہر ہے اس کافیصلہ جو ہے وہ توکسی نظریے کی بنا پر عقیدے کی بنا پر، کسی اصول کی بنا پر ہو گا۔ اور وہ اصول اقبالؒ نے بیان کر دیئے ہیں وہ اصول یہ ہیں کہ آزادی اور عدل و انصاف اور انسانیت کی تکمیل کی کوشش جو چیزیں ان کے منافی ہیں وہ ان کی رائے میں غلط ہیں۔ جو چیزیں موید ہیں وہ ان کی رائے میں مفید ہیں۔لیکن اس کے باوجود چونکہ اس قسم کی مختلف تفسیریں اور تشریحیں ان کے بیان سے نکالی جاسکتی ہیں۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ انھوں نے ہمارے ہاںتقریباً ہر مکتب فکر کو متاثر کیا ہے۔
اہل تعصب نے ان سے اپنا تعصب زیادہ مضبوط کیا۔ اہل نظر نے ان سے اپنی وسعت پیدا کی۔ تنگ نظروں نے ان میں اپنی تنگ نظری کی سند ڈھونڈی اور وسیع النظر لوگوں نے ان سے امداد حاصل کی۔ چنانچہ اہل ہوس نے ان کو اپنی ہوس کے لیے استعمال کیا۔ اہل جنوں نے اپنے جنوں کی تائید کے لیے استعمال کیا۔ غرض کہ ہماری قومی زندگی میں اور ہماری ذہنی زندگی میں ان کا اثر ہر ایک مکتب فکر پر پڑا۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ ان سب باتوں میں ایک بات ضرور مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ خواہ ان کے کلام کو لوگ تعصب کے لیے استعمال کریں ۔ خواہ وسیع القلبی کے لیے استعمال کریں، خواہ اس کو آفاقی نقطہء نظر سے استعمال کریں۔ خواہ خاص ذاتی نقطہء نظر سے استعمال کریں لیکن اس کے بارے میں سوچنے، اس کے بارے میں تفکر کرنے اس کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ چنانچہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اقبالؒ کی مثال ہمارے ہاں ایک ندی یا ایک نہر کی سی نہیں ہے جو کہ ایک ہی سمت میں جارہی ہو بلکہ ان کی مثال تو ایک سمندر کی سی ہے جو کہ چاروں طرف محیط ہے۔ چنانچہ ان کو ہم ایک مکتب فکر نہیں کہہ سکتے ہاں ان کو ہم ایک جامعہ سے یا ایک یونیورسٹی سے تشبیہہ دے سکتے ہیں جس میں طرح طرح کے دبستاں موجود ہیں اور طرح طرح کے دبستانوں نے ان سے فیض اٹھایا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ مقام یعنی اتنا مُؤثّریا اتنا اثر، جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا ان سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ اور میں سمجھتا ہوں جب تک ان سے بڑا شاعر کوئی نہیں پیدا ہوتا اس وقت تک غالباً کسی اور کو بھی یہ مقام حاصل نہیں ہو گا۔