اردوشاعری اور احساس کی نئی جہتیں
میرے تخلیقی سفر کے آغاز کے زمانے میں ’’ابلاغ‘‘ اور ’’ ابہام‘‘ کی بحث زوروں پر تھی۔ اگرچہ ابلاغ کو ہماری شعری روایت میں ہمیشہ مناسب اہمیت دی گئی تھی لیکن ماضی قریب کے ادبی منظر میں ابلاغ کے اہم ہونے کا تصور ترقی پسند تحریک کی دین تھی جس کا ایک بنیادی مقصد خیالات کی موثر ترسیل بھی تھی، خواہ اس کیلئے فن کے بنیادی تقاضوں یا جمالیاتی شرائط سے صرف نظر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ایک انتہا پسندانہ صورتحال تھی لیکن اس نے ادب میں ایک دبستانی نقطہ نظر کی حیثیت اختیار کر لی تھی ۔ یہ اور بات ہے کہ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر پیدا ہونے والے ادب کا باقی رہ جانے والا حصہ وہی ہے جسے ابہام اور اشاریت کے عناصر سے یکسر عاری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میرے خیال میں میری نسل کے بہت کم لکھنے والے ایسے ہوں گے جنہوں نے ترقی پسند تحریک سے کم یا زیادہ اثر قبول نہ کیا ہو۔ اس تحریک نے اردو شعر و ادب کو موضوعات اور اسالیب کے اعتبار سے جو کچھ دیا ہے، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
روایتی داخلی صداقتوں کے مقابلے میں خارجی حقائق کا وہ شعور جو ادب کو حقیقی انسانی صورت حال کے قریب لے آیا اسی تحریک کے زیر اثر پروان چڑھا۔ کسی بھی تحریک کے تاریخی کردار کو سمجھنے اور اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس کے تمام فکری اور فنی مطالبات کو کلی طور پر تسلیم کر لیا جائے۔ ایسا نہ ممکن ہے نہ مفید۔ جہاں تک ترقی پسند تحریک کا تعلق ہے خود اس کے بانیوں میں بھی فکر و نظر کے اختلافات روز اوّل ہی سے موجود رہے، لیکن اس تحریک کا سب سے بڑا کارنامہ ایک نئے ’’تصورِ انسان‘‘ کی نمود تھی جو بیک وقت نصب العینی(آئیڈیل) بھی تھا اور حقیقت پسندانہ بھی۔
اہم ترین بات یہ کہ اس تصور انسان کی اساس انسانی فعلیت کے اہم ہونے کے نظریے پر تھی، جو بہت حد تک اقبال کے تسخیر کائنات کے تصور سے بھی ہم آہنگ تھا، اور بیسویں صدی کے مادی علوم و فنون کی علاماتی تجسیم بھی تھا لیکن اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس ’’دردوالم‘‘ کی ترجمانی تھی جسے عام طور پر موجودہ سماجی صورتحال کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔ انسانی درد و الم کے تغیر نے اردو شاعری کو ایک بار پھر اردو اور فارسی شاعری کے روایتی فکری اور جذباتی پیمانوں سے مربوط کر دیا اور روایت کے ایک حصے کو زندہ عنصر کے طور پر قبول کر لینا مشکل نہ رہا۔ اگرچہ بہت سی باتیں اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں ، بہت سے ادبی مناقشے جو ہماری نو عمری کے زمانے میں بہت اہم سمجھے جاتے تھے، اب ان پر گرد بیٹھتی جا رہی ہے۔
نہ ادب میں اب مقصدیت کوئی جرم رہا ہے، نہ ہیئت پرستی کوئی گناہ رہی ہے۔ زمانہ ان مباحث سے بہت آگے نکل آیا ہے لیکن یہ امر واقع ہے کہ یہ اہم ادبی تحریک اردو شعر و ادب کے مزاج پر اپنے نقوش دائمی طور پر مرتسم کر چکی ہے، اگرچہ اس کے ردعمل میں پیدا ہونے والی ادبی تحریکیں بھی اپنی عمر طبعی کو پورا کر چکی ہیں، لیکن اگر آدرش انسانی ارتقاء کے اعتبار سے بامعنی ہوں تو وہ تحریکوں کے ختم ہو جانے کے باوجود انسانوں کے اجتماعی ضمیر میں زندہ رہتے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسطی عشروں اور عصر حاضر کی انسانی صورت حال میں کچھ ایسا فرق دکھائی نہیں دیتا۔ اس لئے میری ناچیز رائے میں ان آدرشوں اور نصب العینی تصورات کو قبول کرنے میں جن کی تائید ہماری تاریخی اور تہذیبی روایات سے بھی ہوتی ہو۔ کسی وضاحت یا معذرت کی ضرورت نہیں رہتی۔
نظم جدید کی نئی اور پرانی تحریکوں کے اعتبار سے جدید اردو شاعری تجرید و ابہام اور تمثال آفرینی اور علامت پسندی کے کئی تجرباتی ادوار سے گزر چکی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ان تحریکوں نے طرز احساس کی تازگی اور بیان کی جدت کے اعتبار سے اردو نظم کے آفاق کو خاصا وسیع کیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں غزل کے غیر متوقع احیاء نے نہ صرف غزل کو فکر و احساس کی نئی سمتوں کا سراغ دیا اور شعری روایت اور زندگی کی نئی معنویت کے درمیان ہم آہنگی کی صورتیں پیدا ہوئیں، بلکہ غزل کے احیاء سے پوری اردو شاعری کو حقیقتاً نئی زندگی ملی، آج اگر اردو شاعری کے سامعین اور قارئین براعظموں میں پائے جانے لگے ہیں تو اس میں نظم سے کہیں زیادہ غزل کی قوت تسخیر کا ہاتھ ہے۔
ان ساری باتوں کے باوجود اردو شاعری گزشتہ تین چار عشروں میں کسی بڑی تبدیلی کی آئینہ دار نہیں بن سکی مثلاً ایسی بڑی تبدیلی جو اولاً اقبالؒ کی شاعری اور بعد ازاں ترقی پسند تحریک کے زیر اثر پیدا ہوئی۔
اسالیب و موضوعات میں یقیناً وسعت اور تنوع کا ثبوت ملتا ہے لیکن اسے کسی نوع کے تاریخی کردار کا حامل تغیر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نئی شعری لسانیات کی تشکیل کی ضرورت پر اکثر زور دیا جاتا ہے لیکن اس کے ممکنہ خدو خال کیا ہو سکتے ہیں، اس کیلئے کوئی بات واضح طور پر کہنا کسی کیلئے بھی آسان نہیں لیکن اس حقیقت کا احساس اب اکثر سنجیدہ تنقیدی تحریروں میں بھی نمایاں ہونے لگا ہے کہ ہماری شاعری میں لفظیات کا دائرہ محدود ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ حقائق کا ادراک وسعت پذیر ہے اور عمومی احساسات میں بھی خاصا تنوع ہے۔ شعری لسانیات میں فطری نشوو ارتقا کی رفتار بہت کم ہے، شاید اس لئے کہ ہمارے شعری محاورے کا رشتہ ہماری، حقیقی زندگی کے ساتھ اس طرح استوار نہیں ہو رہا جس طرح ہونا چاہیے۔ اس کے باوجود یہ بات خوش آئند ہے کہ اچھا شعر اور اچھی نظم ذہانت کی شہ سرائوں تک اپنا راستہ بنا ہی لیتے ہیں، جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایک تہذیبی سطح ایسی ضرور موجود ہے جہاں شاعری کا سفر جاری رہ سکتا ہے اور جاری ہے۔