سنہرے بنگال کے آخری ایّام

سنہرے بنگال کے آخری ایّام

اسپیشل فیچر

تحریر : جاوید ہاشمی


اکتوبر 1971ء میں پنجاب یونیورسٹی یونین کو ایران یا مشرقی پاکستان میں سے کسی ایک جگہ دورہ کرنے کا اختیار دیا گیا۔ کچھ دوستوں کا خیال تھا ایران چلیں جہاں شہنشاہ رضا شاہ پہلوی بادشاہت کا اڑھائی ہزار سالہ جشن منا رہے تھے، اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کی بادشاہت اڑھائی دن کی مہمان ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ مشرقی پاکستان جاکر اپنے روٹھے ہوئے بھائیوں کو منانے کی کوشش کریں۔ پروفیسر وارث میر کی قیادت میں قافلہ دل روانہ ہوا۔ سری لنکا کا طویل چکر کاٹ کر جب ہم ڈھاکہ ایئرپورٹ پر اترے تو ایک خوفناک خاموشی نے ہمارا استقبال کیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے حکام اور اساتذہ کرام موجود تھے۔ پژمردہ چہروں نے اپنے مہمانوں کو ڈھاکہ یونیورسٹی پہنچا دیا۔ ایئرپورٹ سے یونیورسٹی کے ہاسٹلز تک راستے میں ایک مہیب خاموشی تھی۔ بعد میں پتہ چلا مکتی باہنی نے اپنے ریڈیو پر ہمیں قتل کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے اور ہر ایک کے سر کی قیمت مقرر کر دی ہے۔ ہم نے ہمت نہ ہاری اور اپنا دورہ شروع کر دیا۔ ہم ان 15 دنوں میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے ملے، اخبارات کو انٹرویو دیے، ٹی وی مکالموں میں حصہ لیا۔ بیت المکرم میں جمعہ ادا کیا۔ پلٹن میدان میں میزبانوں کے ساتھ چائے پی۔ شیر بنگال اور خواجہ ناظم الدین کے مزاروں پر حاضری دی۔ محمد پور اور میرپور کے بہاری کیمپوں کا دورہ کیا۔ بہاری عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کے کٹے ہوئے اعضاء دیکھے۔ ہماری ملاقات جنرل رائو فرمان اور جنرل اے کے نیازی سے ہوئی، البدر اور الشمس کے کمانڈروں سے بھی۔ چٹاگانگ کے کمشنر ایس کے جیلانی سے، فوج کے سپاہیوں اور کمانڈروں سے بھی۔ ہمیں بہت جلد احساس ہو گیا کہ ہم مفتوحہ علاقے میں ہیں اور یہ مغربی پاکستان کا آخری وفد ہے جو پاکستان کے پاسپورٹ پر یہاں آیا ہے۔ چار واقعات ایسے ہیں جو ہمیشہ یاد آتے ہیں۔ میں نے گاڑی سے اتر کر سائیکل رکشہ پر سفر شروع کیا اور دیکھا رکشہ ڈرائیور ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے۔ میں نے کہا میں رکشا کھینچوں گا اور وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھے گا۔ وہ خوف زدہ ہو گیا اور کانپنے لگا، مگر انکار نہ کر سکا۔ میں چاہتا تھا کہ ڈھاکہ کے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ہم انہی میں سے ہیں۔ تھوڑی دور جا کر اس نے بلند آواز سے کہا: رکشہ روکو، مجھے روزمرہ کی بنگالی آتی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا تم ڈر کیوں رہے ہو؟ اس نے کہا یہ سائیکل رکشہ ہندو مہاجن کی ملکیت ہے، اگر اسے نقصان پہنچا تو میرے بچے بھوکے مر جائیں گے۔ مشرقی پاکستان کی ترقی کے نعرے کھوکھلے تھے، بنگالی معیشت پر ہندو کے اثرات کو سمجھنے کے لئے اب مجھے کسی دانشور، کسی کتاب کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم ڈھاکہ ٹیلی ویژن پر انٹرویو دینے گئے تو ہمارے لیے ٹی وی سٹیشن پر خصوصی انتظامات کیے گئے۔ گویا جیسے شہزادے اپنی رعایا کو دیکھنے آئے ہیں۔ انٹرویو دے کر باہر نکل رہے تھے کہ ڈی ایس پی فیاض شاہ ہمیں دفتر میں لے گئے اور حکم جاری کیا کہ ٹی وی کے معمول کے پروگرام کو روک کر نورجہاں کے گانے شروع کر دیئے جائیں ’’لاہور توں منڈے آئے نیں۔‘‘ پورا مشرقی پاکستان پنجابی گانے سن رہا تھا۔ کیا آج بھی موسیقی روح کی غذا تھی؟ہم ڈھاکہ کے نواح میں دریائے شتولاک کو کشتی سے عبور کرکے پٹ سن کے کارخانے پر تعینات ان پولیس اور فوج والوں سے ملنے گئے جن کا تعلق لاہور سے تھا۔ راستے میں ہم نے دیکھا گدھ اور کتنے ایک انسانی لاش کو بھنبھوڑ رہے تھے۔ میں نے ایک آفیسر سے پوچھا تو وہ ہنسا اور اس نے کہا: یہ ایک چالاک بنگالی تھا۔ ہمارے بیٹ مین نے کہا کہ کئی دن ہو گئے ہیں ہم نے کوئی بنگالی نہیں مارا۔ یہ شخص کشتی پر جا رہا تھا، ہم نے پکارا تو اس نے کشتی تیز کرکے بھاگنا چاہا، میں نے نشانہ لے کر گولی چلائی اور اس نے پانی میں غوطہ لگا دیا، بڑی مشکل سے اس کی ٹانگ پر گولی لگی تو یہ قابو آ گیا، خیر آپ اس قصے کو چھوڑیں، ہم کافی دیر سے کھانے پر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ بنگالنیں بہت اچھا کھانا بناتی ہیں اور ہر قسم کی خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ جنرل فرمان علی نے کہا: آپ کو شفیق الاسلام کے ساتھ ان کے عزیزوں کے ہاں افسوس کے لیے جانا ہے کہ ایک المناک واقعہ ہوا ہے۔ شفیق الاسلام مسلم لیگی رہنما تھے۔ واقعہ کی جو تفصیلات انہوں نے ہمیں بتائیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی تھیں۔ فوجی ایکشن کے دوران کچھ جوان ایک گھر میں داخل ہوئے، جہاں خواتین جمع تھیں، خواتین پر حملہ کیا تو وہ قرآن اٹھا لائیں اور کہا: ہم آپ کی بہنیں ہیں اور آپ کی کامیابی اور سلامتی کے لیے اکٹھی ہو کر اجتماعی دعا مانگ رہی ہیں۔ حملہ آوروں نے کہا کہ ہم جس گھر میں جاتے ہیں یہی بہانہ بنایا جاتا ہے، ہمیں معلوم ہے آپ کا تعلق مکتی باہنی سے ہے۔ وہ واسطے دیتی رہیں، لیکن حملہ آوروں نے ان کی ایک نہ سنی۔ بعد میں حقیقت سامنے آئی اور محب وطن بنگالیوں نے شدید احتجاج کیا تو گورنر سمیت سب نے ان سے معذرت کی، صرف معذرت! اپنی مائوں اور بہنوں کے سامنے ہم شرم سے سر جھکائے کھڑے تھے۔ سفر کے آخری مرحلے میں ہم چٹاگانگ سے آگے کپتائی جھیل کے کنارے پہنچے ۔ ہمیں کہا گیا کہ فوراً ڈھاکہ پہنچیں، آپ کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ میں بضد تھا کہ ہمیں حسب پروگرام راجشاہی جانا چاہیے۔ حکام نے پروفیسر وارث میر کو اطلاع دی کہ راجشاہی کے وائس چانسلر راجشاہی سے بھاگ کر ڈھاکہ پہنچے ہیں، خطرہ مول نہ لینا چاہیے۔ میں نے کہا اگر ہماری لاشیں مغربی پاکستان جائیں گی تو انہیں احساس ہوگا کہ مشرقی پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی جاری ہے۔ میرے ساتھیوں نے میری تجویز کو رد کر دیا اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ ہم چٹاگانگ گیریژن میں کھانا کھانے گئے۔ ایک کرنل نے پنجرے میں بند بلبل کی طرف اشارہ کرکے کہا: میں اس سے باتیں کرتا رہتا ہوں۔ میں نے کہا: کرنل صاحب: کیا آپ اس بلبل کو آزاد کر سکتے ہیں؟زندہ لاشہم مغربی پاکستان سے آنے والی آخری پروازو ں میں سے ایک پر سوار ہوئے۔ سنہرے بنگال کو کالے بادلوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ میں اپنے آپ کو زندہ لاش محسوس کر رہا تھا۔ میری روح سندر بن کے جنگلات شاہ جلال کے مزار اور بین المکرم کے میناروں کے گرد بھٹک رہی تھی۔ میں آج بھی بے روح زندگی گزار رہا ہوں۔ مجھے حبیب جالب کی نظم کے شعر یاد آ رہے تھے۔ محبت گولیوں سے بو رہے ہووطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہوگُماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہےیقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو1999ء میں میاں نوازشریف کی نمائندگی کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرنے گیا۔ مختلف ممالک کے وفود کو کارگل کی صورتحال پر پاکستان کے موقف سے آگاہ کرنے کے لیے بنگلہ دیشی وفد کے سربراہ ڈاکٹر عبدالصمد سے ملا۔ وہ شیخ مجیب کے قریبی ساتھی اور پرانے عوامی لیگی تھے۔ انہوں نے کہا کہ الگ ہو کر ہم دونوں ’’لائٹ ویٹ‘‘ ہو گئے۔ یہی بات مجھے عوامی لیگ کی وزیر ماحولیات ساجدہ سید نے پچھلے سال مالدیپ میں کانفرنس کے موقع پر کہی تھی۔ ڈاکٹر عبدالصمد سوالیہ انداز میں کہنے لگے، ہندوستان بین الاقوامی سیاست میں طاقتور بن کر ابھرا ہے۔ ہمیں نکال کر آپ نے کونسی ترقی کر لی ہے؟ پھر اچانک موضوع بدل کر کہنے لگے: آپ کی کرکٹ ٹیم انڈیا سے اتنی بری طرح کیوں ہاری؟ میں ساری رات روتا رہا ہوں، پھر ہم دونوں مل کر رو رہے تھے… انڈیا سے میچ ہارنے پر… ہمیں نہ اپنے سٹاف کی پرواہ تھی نہ اردگرد کے لوگوں کی…اسی رات ہم ٹوکیو روانہ ہو گئے۔ میں جہاز میں سو گیا، ٹوکیو پہنچ کر سیدھا ہوٹل گیا اور تیار ہو کر کانفرنس ہال پہنچا۔ ڈاکٹر عبدالصمد اس کانفرنس کی صدارت کر رہے تھے۔ انہوں نے اجلاس چائے کے لیے ملتوی کیا اور مجھے اپنے کمرے میں بلا لیا، میں جونہی اندر داخل ہوا، انہوں نے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ کسی کو اندر نہ آنے دیا جائے۔ میرے بیٹھتے ہی اخبار میرے سامنے رکھ دیا جس میں لکھا تھا، ہندوستان نے کارگل میں سب سے بڑی اور آخری چوٹی ٹائیگر بھی پاکستان سے واپس چھین لی۔ میں نے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا وہ پھر رو رہے تھے… ایک اور میچ ہارنے پر… مگر میرے آنسو خشک ہو چکے تھے… میں جانتا تھا اس میچ کی ناکامی کا طوق کس کے گلے میں پڑے گا۔ میں ان مقامات آہ و فغاں کے لیے اپنے آنسو بچا کر رکھنا چاہتا تھا۔ (جاوید ہاشمی کی کتاب’’ہاں میں باغی ہوں‘‘ سے ماخوذ، اسے ساگر پبلشرز نے اردو بازار لاہور سے چھاپا)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 جدید ٹیکنالوجی کا کمال دنیا کا مضبوط ترین سوٹ کیس متعارف

جدید ٹیکنالوجی کا کمال دنیا کا مضبوط ترین سوٹ کیس متعارف

یہ بیگ ''الٹرا میٹرکس‘‘ نامی مادے سے تیار کیا گیا ہےجدید دور میں سفر محض ایک ضرورت نہیں بلکہ طرزِ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، تاہم مسافروں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ آج بھی خراب، ٹوٹے پھوٹے یا ضائع ہونے والے سامان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ آئے روز ایئرپورٹس پر مسافر اپنے نقصان زدہ سوٹ کیس دیکھ کر شکوہ کرتے نظر آتے ہیں، جس سے نہ صرف مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ سفر کی خوشی بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ ایسے میں ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے کہ معروف کمپنی ''ماؤس‘‘ (Mous) نے ایک ایسا سوٹ کیس متعارف کرایا ہے جو انتہائی سخت حالات میں بھی محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔''ماؤس‘‘ کا متعارف کرایا گیا سوٹ کیس سفر کے سخت ترین حالات میں برسوں تک قائم رہنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ جدید طرز کا سخت خول والا بیگ ''الٹرا میٹرکس‘‘ (UltraMatrix) نامی خاص مادے سے تیار کیا گیا ہے، جو ایک مضبوط پولی پروپلین کمپوزٹ ہے اور اصل میں ہوابازی کے شعبے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔کمپنی کے مطابق، پولی پروپلین کے ریشوں کو غیر معمولی مضبوطی کیلئے کھینچ کر سیدھا کیا جاتا ہے، پھر انہیں بُن کر اور حرارت کے ذریعے جوڑ کر ایک واحد کمپوزٹ شیٹ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس میں نہ کوئی گوند استعمال ہوتی ہے، نہ ریزن اور نہ ہی کوئی کمزور جوڑ ہوتا ہے۔یہ مضبوط ڈھانچہ دباؤ پڑنے پر ٹوٹنے کے بجائے لچک اختیار کرتا ہے، ضرب کی توانائی کو پھیلا دیتا ہے اور دوبارہ اپنی اصل شکل میں آ جاتا ہے۔یہ انتہائی درجہ حرارت میں بھی مضبوط رہتا ہے، سردی میں ٹوٹنے سے محفوظ اور گرمی میں نرم ہونے سے مزاحمت رکھتا ہے۔ اس سوٹ کیس کو آخری درجے کے امتحان سے گزارنے کیلئے ماؤس نے اسے ہوائی جہاز کی کھڑکی سے باہر پھینکا اور حیران کن طور پر یہ صرف چند خراشوں کے ساتھ محفوظ رہا۔ماؤس کمپنی عام طور پر اپنے مضبوط فون کیسز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے، تاہم حالیہ عرصے میں کمپنی نے بیگز اور سامانِ سفر کے شعبے میں بھی قدم رکھا ہے۔ پہلے بیک پیکس کی ایک رینج متعارف کرائی گئی اور اب سخت خول والا سوٹ کیس پیش کیا گیا ہے۔کمپنی کے مطابق، زیادہ تر ہارڈ شیل سوٹ کیس ایک ہی انداز میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ موٹے اور بھاری خول جو چند بار گرنے کے بعد پھٹ جاتے ہیں، ہلتے ڈولتے ہینڈلز، شور مچانے والے پہیے اور ایسے زِپ جو دباؤ برداشت نہیں کر پاتے۔ماؤس کا کہنا ہے کہ سفر ویسے ہی ایک مشکل عمل ہے، ایسے میں یہ مناسب نہیں کہ سوٹ کیس بھی ساتھ چھوڑ دے۔ اسی لیے کمپنی نے ہائی پرفارمنس فون کیسز اور دیگر سازوسامان کی تیاری سے حاصل ہونے والا تمام تجربہ استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا سوٹ کیس تیار کیا ہے جو مایوس نہ کرے۔ الٹرا میٹرکس خول نہ صرف انتہائی مضبوط ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر ہلکا بھی ہے۔ درحقیقت پورے سوٹ کیس کا وزن صرف چھ پاؤنڈ (تقریباً 2.8 کلوگرام) ہے۔اکثر مسافر جانتے ہیں کہ سوٹ کیس کے مرکزی جسم کے علاوہ پہیے اور ہینڈلز سب سے پہلے خراب ہوتے ہیں۔ اسی مسئلے سے بچنے کیلئے ماؤس نے اپنے سوٹ کیس میں اعلیٰ معیار کے ہینوموٹو پہیے اور 46 حصوں پر مشتمل مضبوط ٹیلی اسکوپک ہینڈل استعمال کیا ہے، جو کم شور، کم ہلچل اور ہموار چلنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔''ماؤس ‘‘کو اپنے اس سوٹ کیس کی مضبوطی پر اس قدر اعتماد ہے کہ کمپنی ابتدائی خریداروں کو تاحیات وارنٹی فراہم کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سوٹ کیس اس وقت کوڑے دان میں چلے جاتے ہیں جب ان کا کوئی پہیہ یا ہینڈل ٹوٹ جاتا ہے، لیکن ہمارا سوٹ کیس ایسا نہیں ہوگا۔ اہم حصے جیسے پہیے، ہینڈل، لاک اور بیج گھر پر ہی ایک سادہ پیچ کس کی مدد سے بدلے جا سکتے ہیں۔ دیگر بیشتر مسائل کیلئے کمپنی کی محدود تاحیات وارنٹی 25 سال تک مرمت یا تبدیلی کی سہولت فراہم کرے گی۔ ماؤس کا ہارڈ شیل کیبن سوٹ کیس اس وقت پری آرڈر کیلئے دستیاب ہے، جس کی قیمت 319.99 پائونڈ مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس کی ترسیل مئی 2026ء میں متوقع ہے۔یہ جدید سوٹ کیس اپنی مضبوطی، پائیداری اور انقلابی ڈیزائن کے باعث عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکا ہے، حتیٰ کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ہوائی جہاز سے باہر پھینکے جانے کے باوجود بھی نقصان سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف سفر کے تجربے کو محفوظ بنانے کی جانب اہم قدم ہے بلکہ سامان کی تیاری کے شعبے میں ایک نئی سوچ اور جدت کی عکاس بھی ہے۔

کریملن :روسی طاقت، تاریخ اور سیاست کا عظیم استعارہ

کریملن :روسی طاقت، تاریخ اور سیاست کا عظیم استعارہ

دنیا کے چند ایسے مقامات ہیں جو اپنی عظمت، تاریخی گہرائی اور سیاسی وقار کے باعث صدیوں سے عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اور کریملن ان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ماسکو کے قلب میں واقع یہ عظیم الشان قلعہ نما مجموعہ صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ روس کی تاریخ، اقتدار اور قومی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کریملن کا نام سنتے ہی ذہن میں روسی ریاستی طاقت، سیاسی فیصلوں اور عالمی سفارت کاری کی ایک طویل داستان ابھر آتی ہے۔کریملن کی بنیاد پندرھویں صدی میں رکھی گئی، جب ماسکو روسی ریاست کے مرکز کے طور پر ابھر رہا تھا۔ ابتدا میں یہ لکڑی کے قلعے کی صورت میں موجود تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسے پتھر اور اینٹوں سے مضبوط قلعے میں تبدیل کیا گیا۔ مختلف روسی بادشاہوں اور حکمرانوں نے اس کی توسیع اور آرائش میں اپنا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں آج یہ ایک شاندار تاریخی و ثقافتی ورثہ بن چکا ہے۔کریملن نامی شہر ماسکو کے اندر واقع ہے۔ اس کے نام کا مطلب ہے ''شہر کی حفاظت کرنے والا قلعہ‘‘۔یہ نام ان دنوں کی یاد دلاتا ہے جب شہروں کو ڈیزائن کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف دفاع کو مدنظر رکھنا ایک اہم نظریہ تصور کیا جاتا تھا۔ 14 ویں صدی میں جیسے ہی ماسکو کی اہمیت میں اضافہ ہوا ویسے ہی کریملن کی ا ہمیت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کی شاندار تعمیرات کا بیشتر حصہ 15ویں صدی کے اختتام پر منظر عام پر آیا جب تعمیر نو کا کام وسیع پیمانے پر شروع ہوا۔آج کا کریملن متوازی دیواروں کے اندر واقع ہے جن کی حفاظت میناروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اونچا ترین مینار 73.15 میٹر(240 فٹ) بلند ہے۔کریملن کے اندر کئی اہم عمارتیں واقع ہیں، جن میں عظیم کریملن محل، آرمری چیمبر اور متعدد گرجا گھر شامل ہیں۔ کیتھیڈرل اسکوائر میں موجود گرجا گھر روسی آرتھوڈوکس چرچ کی مذہبی تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں، جہاں صدیوں تک تاج پوشی کی تقریبات انجام دی جاتی رہیں۔ یہ عمارتیں نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ فن تعمیر کے لحاظ سے بھی بے مثال ہیں۔کریملن کا سیاسی کردار بھی غیر معمولی رہا ہے۔ زاروں کے دور سے لے کر سوویت یونین اور موجودہ روسی فیڈریشن تک، یہ مقام اقتدار کا مرکز رہا ہے۔ آج بھی روسی صدر کا سرکاری دفتر کریملن میں واقع ہے، جس کے باعث یہ عالمی سیاست کا ایک اہم محور بن چکا ہے۔ یہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف روس بلکہ دنیا بھر کے حالات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کریملن اپنی مضبوط دیواروں اور بلند و بالا برجوں کے باعث دفاعی نقطٔ نظر سے بھی ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے سرخ رنگ کے برج ماسکو کی پہچان بن چکے ہیں۔ سیاح جب ریڈ اسکوائر سے کریملن کی جانب نگاہ ڈالتے ہیں تو انہیں روسی تاریخ کی عظمت کا واضح احساس ہوتا ہے۔ یہاں موجود عجائب گھر، تاریخی ہتھیار، شاہی لباس اور قیمتی نوادرات روسی تہذیب و تمدن کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ آرمری چیمبر میں محفوظ تاج، تخت اور شاہی جواہرات سیاحوں کو ماضی کے شاہانہ دور میں لے جاتے ہیں۔کریملن کی عمارات میں زیادہ متاثر کن عمارت گرینڈ کریملن پیلس ہے جس کی تعمیر نو 1838-39ء میں سر انجام دی گئی تھی کیونکہ 1812ء کی آتشزدگی کے دوران یہ جل گیا تھا اور یہ وہ آتشزدگی تھی جس کی بنا پر اہل روس فرانسیسی حملہ آوروں کو اپنے ملک سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ محلات کے ہال زاروں کے دربار کی شان و شوکت کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ سینٹ جارج ہال میں روس کے عظیم ہیروجات کے نام پتھر کی میزوں پر کندہ ہیں۔ اس ہال کا فرش بیس مختلف اقسام کی لکڑیوں سے بنا ہوا ہے۔یوں کریملن محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخ ہے، جو روس کے عروج و زوال، اس کی جدوجہد اور اس کی عالمی حیثیت کی داستان سناتی ہے۔ یہ مقام آج بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے اور آنے والی نسلوں کو روسی تاریخ کی عظمت سے روشناس کرا رہا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے! غیور اختر ہر فن مولا اداکار (2014-1945ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! غیور اختر ہر فن مولا اداکار (2014-1945ء)

٭...5اکتوبر 1945ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔٭... فنی کریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے 1968ء میں کیا۔ ٭...ریڈیو پر ان کا پہلا ڈرامہ ''چھمکاں‘‘تھا جسے پروڈیوسر محمد اعظم خان نے ریکارڈ کیا تھا جو 17مئی 1968ء کو نشر کیا گیا۔٭...ریڈیو سے ان کا رشتہ تادم مرگ قائم رہا اور2011ء میں فالج کے حملے کے باوجود وہ ریڈیو پاکستان پر اپنی خدمات فراہم کرتے رہے۔ ٭... پی ٹی وی سکرین پر ان کی آمد مقبول ترین ڈرامہ سیریز ''الف نون‘‘ میں ایک کردار سے ہوئی۔ ٭...ٹی وی پر شہرت ڈرامہ سیریل ''سونا چاندی‘‘ سے ملی۔اس شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل میں انہوں نے ایک ڈرائیور کا کردار اس خوبصورتی سے نبھایا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا۔ ٭...بچوں کے کھیل ''عینک والا جن‘‘میں ان کے ''سامری جادوگر‘‘کے کردار کو بھی بے پناہ پذیرائی ملی۔ ٭...150 کے قریب ٹی وی ڈرامہ سیریلز اور 2000 کے قریب انفرادی ڈراموں میں کام کیا۔٭...ان کے مقبول ڈراموں میں ''خواجہ اینڈ سنز‘‘، ''افسر بے کار خاص‘‘، ''فری ہٹ‘‘ اور ''گھر آیا میرا پردیسی ‘‘ نمایاں ہیں۔ ٭... ان کے تکیہ کلام''او ہو ہو‘‘اور''اللہ خیر بیڑے پار‘‘ آج بھی لوگوں میں مقبول ہیں۔٭...1976ء میں اداکار عرفان کھوسٹ نے انہیں ڈرامہ ''حقہ پگ تے ریسٹورنٹ‘‘ سے تھیٹر پر متعارف کرایا۔٭...فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے، انہوں نے اپنے دور کے مایہ ناز ہدایتکاروں وحید ڈاراور شباب کیرانوی کے ساتھ فلمیں کیں۔ ٭... 2008ء میں انہیں صدارتی ایوارڈ ''تمغہ برائے حسن کارکردگی ‘‘ سے نوازا گیا۔٭...45سالہ کریئر میں نہ صرف اداکاری کی بلکہ بطور مصنف، ڈائریکٹر ، پروڈیوسراور صدا کار کے طور پر بھی کام کیا۔٭...2011ء میں ان پر فالج کا حملہ ہوا اور7فروری 2014ء میں ان کا انتقال ہوا، بلڈ پریشر کا مرض ان کی موت کی وجہ بنا۔

آج کا دن

آج کا دن

جبل الطارق کامحاصرہ 1783ء میں امریکی جنگ آزادی کے آخری مرحلے کے دوران فرانس اور اسپین کی مشترکہ افواج نے برطانیہ کے زیر قبضہ علاقے جبل الطارق کا طویل محاصرہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ محاصرہ تقریباً چار برس تک جاری رہا، جس کا مقصد برطانیہ کو کمزور کرناتھا۔ اگرچہ اتحادی افواج نے بھرپور کوششیں کیں، لیکن برطانوی دفاعی حکمت عملی، مضبوط قلعہ بندی اور بحری مدد کے باعث جبل الطارق ان کے ہاتھ میں ہی رہا۔ خلائی چہل قدمی7 فروری 1984ء کو ناسا کے خلائی شٹل پروگرام کے تحت ایس ٹی ایس41بی مشن کے دوران خلا باز بروس مکینڈلس دوم اور رابرٹ ایل اسٹیورٹ نے تاریخ کی پہلی کسی رسی یا تار کے بغیر خلائی چہل قدمی انجام دی۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے مینڈ مینیوورنگ یونٹ (MMU) نامی خصوصی جیٹ پیک استعمال کیا، جو خلا باز کو خلا میں سمت اور رفتار پر مکمل کنٹرول فراہم کرتا تھا۔ دنیا کے گرد چکر لگانے کا ریکارڈ2005ء میں برطانوی خاتون ایلن میک آرتھر نے سمندری بادبان کے ذریعے سب سے کم وقت میں دنیا کے گرد چکر لگا کر ریکارڈ قائم کیا۔ایلن نے 27 ہزار354 میل کا فاصلہ 71 دن، 14 گھنٹے ،18 منٹ اور 33 سیکنڈ میں طے کیا۔اس سے پہلے یہ ریکارڈ فرانس کے جویون نے 2004ء میں بنایا تھا انہوں مقررہ فاصلہ 72 دن ، 22 گھنٹے 54 منٹ، بائیس سیکنڈ میں مکمل کیا تھا۔ولادمیرنذر آتش ہوامنگولوں نے روسی شہر ولادمیر کو آگ لگا دی۔ منگول جنگجو یورپ کی طرف بڑھنے لگے توسب سے پہلے انہوں نے دریائے وُلگا کے علاقے پر حملہ کِیا۔ پھر انہوں نے دیگر روسی شہروں پر چڑھائی کی۔اس کے بعد منگولوں نے پیشکش کی کہ اگر انہیں روسی شہروں میں موجود تمام مال کا دسواں حصہ دیا جائے تو وہ اِن کو تباہ نہیں کریں گے لیکن روسیوں نے لڑنے کا فیصلہ کِیا۔ لہٰذا، منگولوں نے منجنیکوںکے ذریعے شہر پر پتھراور مٹی کا تیل برسایا۔ گریناڈاآزاد ہواکیریبین جزائر کا ملک گریناڈا نے 1974ء میں آج کے روز برطانیہ سے آزادی حاصل کی ۔اس کی سرکاری زبان انگریزی ہے جبکہ دارالحکومت سینٹ جارجز ہے جو اس ملک کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ یہ ملک 344 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔گریناڈا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے اپنی افواج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ گریناڈا کی کوئی فوج نہیں لیکن یہ دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک ہے اور یہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔یہاں کے شہری اکثر اپنے گھر کا دروازہ ہی لاک نہیں کرتے۔ گریناڈا کی پولیس ہے لیکن وہ بھی اسلحے کے بغیر گشت کرتی ہے۔ بلجئیم میں آئین کا نفاذبلجئیم شمال مغربی یورپ میں واقع ایک آزاد ملک ہے۔1831ء میں آج کے روز بلجئیم میں آئین کا نفاذ ہوا۔ اس کا سرکاری نام مملکت بلجئیم ہے۔ یورپی یونین کی یورپی پارلیمان اور نیٹو کے مرکزی دفاتر بلجئیم کے دارالحکومت برسلز میں قائم ہیں۔ اس کی شمالی سرحد نیدرلینڈز سے، مشرقی سرحد جرمنی سے، جنوب مشرقی سرحد لکسمبرگ سے اور جنوب مشرقی سرحد فرانس سے ملتی ہے۔ اس کے شمال مغرب میں بحیرہ شمال واقع ہے۔ یہ ایک خود مختار ریاست ہے جس میں آئینی بادشاہت قائم ہے اور اس کا طرز حکومت پارلیمانی ہے۔

50سال بعد انسان پھر چاند کی طرف گامزن

50سال بعد انسان پھر چاند کی طرف گامزن

ناسا کےArtemis IIمشن کی حتمی تیاریاںامریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 1972ء کے بعد پہلی مرتبہ انسانوں کو چاند کے قریب لے جانے والے تاریخی مشن کی عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ناسا نےArtemis II مشن کے لیے باقاعدہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دیا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ انسانوں کی چاند کی جانب واپسی اب محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ حقیقت کے قریب پہنچ چکی ہے۔یہ مشن نہ صرف امریکی خلائی تاریخ بلکہ پوری انسانیت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ اپالو پروگرام کے بعد پہلا موقع ہوگا جب انسان زمین کے مدار سے نکل کر چاند کے قریب پہنچیں گے۔ اپالو 17 کے بعد 1972ء میں چاند پر انسانی قدموں کا سلسلہ رک گیا تھا اور اب نصف صدی سے زائد عرصے بعد Artemis پروگرام اس خواب کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن کیوں ضروری ہے؟ناسا کی جانب سے شروع کیا گیا یہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن دراصل ایک مکمل ویٹ ڈریس ریہرسل ہے جس میں لانچ کے تمام مراحل کو اصل مشن کی طرح انجام دیا جاتا ہے۔ راکٹ کو انتہائی سرد ایندھن سے بھرا جاتا ہے، کاؤنٹ ڈاؤن گھڑی چلتی ہے اور صرف چند سیکنڈ پہلے اسے روکا جاتا ہے۔اس مشق کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ راکٹ اور سپیس کرافٹ کے تمام نظام درست کام کر رہے ہیں یا نہیں،عملہ، کنٹرول روم اور زمینی ٹیم میں ہم آہنگی موجود ہے یا نہیں،نیز یہ کہ کسی ممکنہ تکنیکی یا موسمی مسئلے کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ ناسا کے مطابق یہی مشقیں کسی بھی بڑے خلائی حادثے سے بچاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔Artemis پروگرام: چاند سے مریخ تکArtemis پروگرام دراصل ناسا کا وہ طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے مقاصد یہ ہیں کہ انسانوں کو چاند تک لے جایا جائے، وہاں مستقل انسانی موجودگی کی بنیاد رکھی جائے،اور پھر اسی تجربے کی بنیاد پر مریخ تک انسانی سفر ممکن بنایا جائے۔Artemis I ایک غیر انسانی مشن تھا جو 2022 ء میں کامیابی سے مکمل ہوا۔Artemis II پہلا مشن ہے جس میں انسان شامل ہوں گے، جبکہArtemis III میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔Artemis II مشن کیا کرے گا؟یہ مشن چاند پر لینڈنگ نہیں کرے گا بلکہ چار خلا باز Orion سپیس کرافٹ میں سوار ہوں گے،چاند کے گرد مخصوص مدار میں سفر کریں گے،خلامیں انسانی جسم، نظام اور آلات کی کارکردگی کو جانچا جائے گااور پھر زمین پر بحفاظت واپس آئیں گے۔ یہ مرحلہ اس لیے ضروری ہے تاکہ چاند پر اترنے سے پہلے تمام خطرات اور تکنیکی چیلنجز کو سمجھا جا سکے۔عملہ اور بین الاقوامی تعاونArtemis II کے عملے میں چار خلا باز شامل ہیں جن میں ایک کینیڈین خلا باز بھی ہے۔ یہ مشن بین الاقوامی خلائی تعاون کی علامت ہے جو مستقبل میں مزید عالمی شراکت داری کی راہیں ہموار کرے گا۔لانچ سے قبل خلا بازوں کو کوارنٹائن میں رکھا گیا ہے تاکہ وہ کسی بیماری یا انفیکشن سے محفوظ رہیں کیونکہ خلامیں معمولی صحت کا مسئلہ بھی بڑے خطرے میں بدل سکتا ہے۔موسمی چیلنجز اور ممکنہ تاخیرناسا نے واضح کیا ہے کہ فلوریڈا میں سرد موسم کے باعث لانچ شیڈول میں معمولی تبدیلی ممکن ہے۔ خلائی مشنز میں موسم نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ تیز ہوائیں، درجہ حرارت یا نمی لانچ کو خطرناک بنا سکتی ہے۔ اسی لیے ناساکسی بھی صورت میں جلد بازی کے بجائے محفوظ لانچ کو ترجیح دے رہا ہے۔دنیا کیلئے اس مشن کی اہمیتیہ مشن صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات عالمی سطح پر ہوں گے۔یہ جدید خلائی ٹیکنالوجی میں پیش رفت،سائنسی تحقیق کے نئے مواقع،چاند پر وسائل (پانی، معدنیات) کی تلاش اورمستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مشن اس بات کی بھی علامت ہے کہ انسان اب خلاء￿ کو صرف تحقیق نہیں بلکہ مستقبل کی بقا کے ایک راستے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔Artemis II مشن انسانیت کے خلائی سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف ماضی کے اپالو مشنز کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ مستقبل کے ان خوابوں کو بھی حقیقت کے قریب لاتا ہے جن میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور مریخ پر قدم رکھنا شامل ہے۔ اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو آنے والی دہائیوں میں خلاانسان کے لیے ایک نیا گھر بن سکتا ہے۔

میانی کا جنگل نوآبادیاتی دور کا خاموش گواہ

میانی کا جنگل نوآبادیاتی دور کا خاموش گواہ

حیدرآباد شہر سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع میانی کا جنگل سندھ کی تاریخ، فطری حسن اور نوآبادیاتی عہد کی یادوں کا ایک منفرد استعارہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 1843ء میں تالپرمیروں اور انگریزوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ لڑی گئی جو دوبے کی جنگ کے نام سے معروف ہے۔ یہ جنگ17 فروری سے 24مارچ تک جاری رہی۔ اس معرکے میں جنرل میر جان محمد خان تالپر کے ساتھ ہوش محمد شیدی اور دیگر سپاہیوں کی شہادت ہوئی ۔میجر جنرل سر چارلس نیپیئر نے یہاں بائیس فٹ بلند مینار بطورِ یادگار تعمیر کروایا جس پر جنگ میں مارے جانے والے برطانوی افسران اور سپاہیوں کے نام کی تفصیل بھی درج کروائی گئیں۔اس یادگار سے کچھ دور وہ قبرستان واقع ہے جہاں میر مسجد کے پاس میانی جنگ کے شہداآرام فرما ہیں۔ ان میں جنرل میر جان محمد خان تالپر کی قبر کے کتبہ پر شہادت کا سال 1843ء درج ہے۔ جنرل میر جان محمد خان تالپر کی شہادت کا دن 16 فروری کو بڑی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ہوش محمد شیدی کی اصل قبر جنرل میر جان محمد خان تالپر کے پہلو میں ہے اور اس پر کتبہ بھی لگا ہوا تھا ۔ نیپیئر نے اس علاقے میں ''جنگل میں گوشۂ نشینی‘‘ کے تصور کے تحت ایک پُرسکون مقام کی بنیاد رکھی جس کا مقصد فطرت سے قربت اور تنہائی میں سکون میسر آنا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ میانی کا جنگل برطانوی دورِ حکومت کا خاموش گواہ بن گیا۔ تقریباً ایک صدی تک یہ جنگل نوآبادیاتی اقتدار کے زیرِ سایہ پروان چڑھتا رہا۔ پھر 1947ء آیا جب برصغیر کی تاریخ نے نیا رخ لیا، یونین جیک اتار دیا گیا اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ مگر میانی کا جنگل ان تمام تبدیلیوں کے باوجود اپنے اندر بیتے ہوئے وقت کی داستانیں سموئے آج بھی قائم ہے۔یہ جنگل آج بھی سرکاری ملکیت ہے جہاں فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ویران کواٹر اور دفتر بیتے وقتوں کی یاد دلاتے ہیں۔ میانی کا جنگل نہ صرف تاریخی اہمیت کا حامل ہے بلکہ قدرتی حیات کے اعتبار سے بھی ایک بیش قیمت خزانہ ہے۔ یہاں آبی حیات کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ یہ علاقہ نقل مکانی کر کے آنے والے پرندوں کی ایک اہم آماجگاہ بھی ہے۔میانی کے جنگل میں موجود جھیلیں اور ان کے اطراف پھیلے سبزہ زار قدرتی حسن کی دلکش مثال ہیں۔ یہ مناظر نہ صرف آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں بلکہ ذہنی سکون کا بھی باعث بنتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک بار یہاں آتا ہے وہ بار بار آنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جنگل کے اطراف موجود چراگاہیں مقامی مویشیوں کے لیے چارے کا ذریعہ ہیں اور یہی مویشی اس قدرتی منظرنامے میں دیہی زندگی کی خوبصورت جھلک شامل کر دیتے ہیں۔ یہاں قائم واچ ٹاور سے جنگل اور اطراف کے مناظر کا مشاہدہ ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے، جہاں سے فطرت کی وسعت اور خاموشی کا احساس گہرا ہو جاتا ہے۔ اسی جنگل میں شہداء کی قبریں اور یادگاریں سندھ کی تاریخ میں رقم ہونے والی قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں۔یوں میانی کا جنگل محض ایک سیاحتی مقام ہی نہیں بلکہ تاریخ فطرت اور انسانی یادداشت کا سنگم ہے جہاں ماضی کی بازگشت اور حال کی زندگی ایک ساتھ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔