سنہرے بنگال کے آخری ایّام

سنہرے بنگال کے آخری ایّام

اسپیشل فیچر

تحریر : جاوید ہاشمی


اکتوبر 1971ء میں پنجاب یونیورسٹی یونین کو ایران یا مشرقی پاکستان میں سے کسی ایک جگہ دورہ کرنے کا اختیار دیا گیا۔ کچھ دوستوں کا خیال تھا ایران چلیں جہاں شہنشاہ رضا شاہ پہلوی بادشاہت کا اڑھائی ہزار سالہ جشن منا رہے تھے، اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کی بادشاہت اڑھائی دن کی مہمان ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ مشرقی پاکستان جاکر اپنے روٹھے ہوئے بھائیوں کو منانے کی کوشش کریں۔ پروفیسر وارث میر کی قیادت میں قافلہ دل روانہ ہوا۔ سری لنکا کا طویل چکر کاٹ کر جب ہم ڈھاکہ ایئرپورٹ پر اترے تو ایک خوفناک خاموشی نے ہمارا استقبال کیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے حکام اور اساتذہ کرام موجود تھے۔ پژمردہ چہروں نے اپنے مہمانوں کو ڈھاکہ یونیورسٹی پہنچا دیا۔ ایئرپورٹ سے یونیورسٹی کے ہاسٹلز تک راستے میں ایک مہیب خاموشی تھی۔ بعد میں پتہ چلا مکتی باہنی نے اپنے ریڈیو پر ہمیں قتل کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے اور ہر ایک کے سر کی قیمت مقرر کر دی ہے۔ ہم نے ہمت نہ ہاری اور اپنا دورہ شروع کر دیا۔ ہم ان 15 دنوں میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے ملے، اخبارات کو انٹرویو دیے، ٹی وی مکالموں میں حصہ لیا۔ بیت المکرم میں جمعہ ادا کیا۔ پلٹن میدان میں میزبانوں کے ساتھ چائے پی۔ شیر بنگال اور خواجہ ناظم الدین کے مزاروں پر حاضری دی۔ محمد پور اور میرپور کے بہاری کیمپوں کا دورہ کیا۔ بہاری عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کے کٹے ہوئے اعضاء دیکھے۔ ہماری ملاقات جنرل رائو فرمان اور جنرل اے کے نیازی سے ہوئی، البدر اور الشمس کے کمانڈروں سے بھی۔ چٹاگانگ کے کمشنر ایس کے جیلانی سے، فوج کے سپاہیوں اور کمانڈروں سے بھی۔ ہمیں بہت جلد احساس ہو گیا کہ ہم مفتوحہ علاقے میں ہیں اور یہ مغربی پاکستان کا آخری وفد ہے جو پاکستان کے پاسپورٹ پر یہاں آیا ہے۔ چار واقعات ایسے ہیں جو ہمیشہ یاد آتے ہیں۔ میں نے گاڑی سے اتر کر سائیکل رکشہ پر سفر شروع کیا اور دیکھا رکشہ ڈرائیور ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے۔ میں نے کہا میں رکشا کھینچوں گا اور وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھے گا۔ وہ خوف زدہ ہو گیا اور کانپنے لگا، مگر انکار نہ کر سکا۔ میں چاہتا تھا کہ ڈھاکہ کے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ہم انہی میں سے ہیں۔ تھوڑی دور جا کر اس نے بلند آواز سے کہا: رکشہ روکو، مجھے روزمرہ کی بنگالی آتی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا تم ڈر کیوں رہے ہو؟ اس نے کہا یہ سائیکل رکشہ ہندو مہاجن کی ملکیت ہے، اگر اسے نقصان پہنچا تو میرے بچے بھوکے مر جائیں گے۔ مشرقی پاکستان کی ترقی کے نعرے کھوکھلے تھے، بنگالی معیشت پر ہندو کے اثرات کو سمجھنے کے لئے اب مجھے کسی دانشور، کسی کتاب کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم ڈھاکہ ٹیلی ویژن پر انٹرویو دینے گئے تو ہمارے لیے ٹی وی سٹیشن پر خصوصی انتظامات کیے گئے۔ گویا جیسے شہزادے اپنی رعایا کو دیکھنے آئے ہیں۔ انٹرویو دے کر باہر نکل رہے تھے کہ ڈی ایس پی فیاض شاہ ہمیں دفتر میں لے گئے اور حکم جاری کیا کہ ٹی وی کے معمول کے پروگرام کو روک کر نورجہاں کے گانے شروع کر دیئے جائیں ’’لاہور توں منڈے آئے نیں۔‘‘ پورا مشرقی پاکستان پنجابی گانے سن رہا تھا۔ کیا آج بھی موسیقی روح کی غذا تھی؟ہم ڈھاکہ کے نواح میں دریائے شتولاک کو کشتی سے عبور کرکے پٹ سن کے کارخانے پر تعینات ان پولیس اور فوج والوں سے ملنے گئے جن کا تعلق لاہور سے تھا۔ راستے میں ہم نے دیکھا گدھ اور کتنے ایک انسانی لاش کو بھنبھوڑ رہے تھے۔ میں نے ایک آفیسر سے پوچھا تو وہ ہنسا اور اس نے کہا: یہ ایک چالاک بنگالی تھا۔ ہمارے بیٹ مین نے کہا کہ کئی دن ہو گئے ہیں ہم نے کوئی بنگالی نہیں مارا۔ یہ شخص کشتی پر جا رہا تھا، ہم نے پکارا تو اس نے کشتی تیز کرکے بھاگنا چاہا، میں نے نشانہ لے کر گولی چلائی اور اس نے پانی میں غوطہ لگا دیا، بڑی مشکل سے اس کی ٹانگ پر گولی لگی تو یہ قابو آ گیا، خیر آپ اس قصے کو چھوڑیں، ہم کافی دیر سے کھانے پر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ بنگالنیں بہت اچھا کھانا بناتی ہیں اور ہر قسم کی خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ جنرل فرمان علی نے کہا: آپ کو شفیق الاسلام کے ساتھ ان کے عزیزوں کے ہاں افسوس کے لیے جانا ہے کہ ایک المناک واقعہ ہوا ہے۔ شفیق الاسلام مسلم لیگی رہنما تھے۔ واقعہ کی جو تفصیلات انہوں نے ہمیں بتائیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی تھیں۔ فوجی ایکشن کے دوران کچھ جوان ایک گھر میں داخل ہوئے، جہاں خواتین جمع تھیں، خواتین پر حملہ کیا تو وہ قرآن اٹھا لائیں اور کہا: ہم آپ کی بہنیں ہیں اور آپ کی کامیابی اور سلامتی کے لیے اکٹھی ہو کر اجتماعی دعا مانگ رہی ہیں۔ حملہ آوروں نے کہا کہ ہم جس گھر میں جاتے ہیں یہی بہانہ بنایا جاتا ہے، ہمیں معلوم ہے آپ کا تعلق مکتی باہنی سے ہے۔ وہ واسطے دیتی رہیں، لیکن حملہ آوروں نے ان کی ایک نہ سنی۔ بعد میں حقیقت سامنے آئی اور محب وطن بنگالیوں نے شدید احتجاج کیا تو گورنر سمیت سب نے ان سے معذرت کی، صرف معذرت! اپنی مائوں اور بہنوں کے سامنے ہم شرم سے سر جھکائے کھڑے تھے۔ سفر کے آخری مرحلے میں ہم چٹاگانگ سے آگے کپتائی جھیل کے کنارے پہنچے ۔ ہمیں کہا گیا کہ فوراً ڈھاکہ پہنچیں، آپ کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ میں بضد تھا کہ ہمیں حسب پروگرام راجشاہی جانا چاہیے۔ حکام نے پروفیسر وارث میر کو اطلاع دی کہ راجشاہی کے وائس چانسلر راجشاہی سے بھاگ کر ڈھاکہ پہنچے ہیں، خطرہ مول نہ لینا چاہیے۔ میں نے کہا اگر ہماری لاشیں مغربی پاکستان جائیں گی تو انہیں احساس ہوگا کہ مشرقی پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی جاری ہے۔ میرے ساتھیوں نے میری تجویز کو رد کر دیا اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ ہم چٹاگانگ گیریژن میں کھانا کھانے گئے۔ ایک کرنل نے پنجرے میں بند بلبل کی طرف اشارہ کرکے کہا: میں اس سے باتیں کرتا رہتا ہوں۔ میں نے کہا: کرنل صاحب: کیا آپ اس بلبل کو آزاد کر سکتے ہیں؟زندہ لاشہم مغربی پاکستان سے آنے والی آخری پروازو ں میں سے ایک پر سوار ہوئے۔ سنہرے بنگال کو کالے بادلوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ میں اپنے آپ کو زندہ لاش محسوس کر رہا تھا۔ میری روح سندر بن کے جنگلات شاہ جلال کے مزار اور بین المکرم کے میناروں کے گرد بھٹک رہی تھی۔ میں آج بھی بے روح زندگی گزار رہا ہوں۔ مجھے حبیب جالب کی نظم کے شعر یاد آ رہے تھے۔ محبت گولیوں سے بو رہے ہووطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہوگُماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہےیقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو1999ء میں میاں نوازشریف کی نمائندگی کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرنے گیا۔ مختلف ممالک کے وفود کو کارگل کی صورتحال پر پاکستان کے موقف سے آگاہ کرنے کے لیے بنگلہ دیشی وفد کے سربراہ ڈاکٹر عبدالصمد سے ملا۔ وہ شیخ مجیب کے قریبی ساتھی اور پرانے عوامی لیگی تھے۔ انہوں نے کہا کہ الگ ہو کر ہم دونوں ’’لائٹ ویٹ‘‘ ہو گئے۔ یہی بات مجھے عوامی لیگ کی وزیر ماحولیات ساجدہ سید نے پچھلے سال مالدیپ میں کانفرنس کے موقع پر کہی تھی۔ ڈاکٹر عبدالصمد سوالیہ انداز میں کہنے لگے، ہندوستان بین الاقوامی سیاست میں طاقتور بن کر ابھرا ہے۔ ہمیں نکال کر آپ نے کونسی ترقی کر لی ہے؟ پھر اچانک موضوع بدل کر کہنے لگے: آپ کی کرکٹ ٹیم انڈیا سے اتنی بری طرح کیوں ہاری؟ میں ساری رات روتا رہا ہوں، پھر ہم دونوں مل کر رو رہے تھے… انڈیا سے میچ ہارنے پر… ہمیں نہ اپنے سٹاف کی پرواہ تھی نہ اردگرد کے لوگوں کی…اسی رات ہم ٹوکیو روانہ ہو گئے۔ میں جہاز میں سو گیا، ٹوکیو پہنچ کر سیدھا ہوٹل گیا اور تیار ہو کر کانفرنس ہال پہنچا۔ ڈاکٹر عبدالصمد اس کانفرنس کی صدارت کر رہے تھے۔ انہوں نے اجلاس چائے کے لیے ملتوی کیا اور مجھے اپنے کمرے میں بلا لیا، میں جونہی اندر داخل ہوا، انہوں نے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ کسی کو اندر نہ آنے دیا جائے۔ میرے بیٹھتے ہی اخبار میرے سامنے رکھ دیا جس میں لکھا تھا، ہندوستان نے کارگل میں سب سے بڑی اور آخری چوٹی ٹائیگر بھی پاکستان سے واپس چھین لی۔ میں نے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا وہ پھر رو رہے تھے… ایک اور میچ ہارنے پر… مگر میرے آنسو خشک ہو چکے تھے… میں جانتا تھا اس میچ کی ناکامی کا طوق کس کے گلے میں پڑے گا۔ میں ان مقامات آہ و فغاں کے لیے اپنے آنسو بچا کر رکھنا چاہتا تھا۔ (جاوید ہاشمی کی کتاب’’ہاں میں باغی ہوں‘‘ سے ماخوذ، اسے ساگر پبلشرز نے اردو بازار لاہور سے چھاپا)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عالمی یومِ خواندگی

عالمی یومِ خواندگی

پاکستان میں تعلیم کی روشنی کہاں تک؟ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی (International Literacy Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ پڑھنے لکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت محض ایک تعلیمی ہنر نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ یونیسکو کے مطابق خواندگی انسان کو اپنے حقوق سمجھنے، بہتر فیصلے کرنے، معاشی مواقع حاصل کرنے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ عالمی یومِ خواندگی کا آغاز 1967ء میں ہوا اور رواں سال اس دن کی 60ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔اس سال دنیا بھر میں خواندگی کو بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ آج صرف حروف پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ انسان کے لیے معلومات کو سمجھنا، درست اور غلط خبر میں فرق کرنا، ڈیجیٹل ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال اور بنیادی حساب کتاب جاننا بھی ضروری ہو چکا ہے۔ پاکستان میں خواندگی کی صورتحالپاکستان کے لیے عالمی یومِ خواندگی محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک اہم قومی یاد دہانی ہے۔ ملک نے گزشتہ برسوں میں خواندگی کے میدان میں کچھ پیش رفت ضرور کی ہے تاہم مجموعی صورتحال اب بھی حالات تشویش کا باعث ہیں۔پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق 10 سال یا اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں پاکستان کی شرحِ خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تعلیمی مواقع میں صنفی فرق اب بھی واضح ہے۔شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔ خواتین کے معاملے میں یہ فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ شہری خواتین میں خواندگی 68 فیصد ہے جبکہ دیہی خواتین میں یہ شرح تقریباً 44 فیصد ہے۔صوبائی سطح پر بھی صورتحال یکساں نہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب تقریباً 68 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سب سے آگے ہے، سندھ اور خیبر پختونخوا تقریباً 58 فیصد کے قریب ہیں جبکہ بلوچستان تقریباً 49 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔لڑکیوں کی تعلیم اور دیہی علاقوں کے چیلنجزپاکستان میں خواندگی کے فروغ کی سب سے بڑی ضرورت دیہی علاقوں اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے۔ غربت، سکولوں کا دور ہونا، محفوظ سفری سہولیات کی کمی، اساتذہ کی کمی، کمزور تعلیمی انفراسٹرکچر اور بعض علاقوں میں سماجی رکاوٹیں بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کا مسئلہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی صحت، صفائی، تعلیم اور مستقبل کے بارے میں زیادہ بہتر فیصلے کر سکتی ہے اس لیے خواتین کی خواندگی میں اضافہ اگلی نسل کی تعلیم پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکنامک سروے 2025-26 ء کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے سکول سے باہر بچوں کا تناسب 2023 ء کے 38 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 28 فیصد رہ گیا۔تاہم یہ صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں اور اس حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔اس لیے صرف نئے سکول بنانے، بچوں کو سکول تک لانے، انہیں سکول میں برقرار رکھنے اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا کڑا چیلنج درپیش ہے۔خواندگی کی نئی توجیہاتموجودہ دور میں خواندگی کا تصور روایتی پڑھنے لکھنے سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا نام لکھ سکتا ہے لیکن کسی بینک فارم، دوا کی ہدایت، سرکاری دستاویز یا آن لائن معلومات کو سمجھنے سے قاصر ہے تو اس کی عملی خواندگی محدود ہے۔پاکستان جیسے ملک میں صحت، مالیات اور ڈیجیٹل خواندگی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے معلومات تک رسائی آسان تو کی ہے لیکن غلط معلومات، جعلی خبروں اور آن لائن فراڈ کے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں لہٰذا نئی نسل کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ وہ معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور درستگی کو جانچ سکے۔ کیا کرنا ہوگا؟پاکستان میں خواندگی بڑھانے کے لیے سب سے پہلے تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ حکومت کو سرکاری سکولوں کے معیار، اساتذہ کی تربیت، نصاب، بنیادی سہولیات اور سکولوں تک رسائی پر مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔دیہی علاقوں میں بالخصوص لڑکیوں کے لیے قریبی سکول، محفوظ ٹرانسپورٹ، وظائف اور والدین کی حوصلہ افزائی مؤثر اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔ جو بچے کسی وجہ سے رسمی سکول کا حصہ نہیں بن سکے ان کے لیے بالغ خواندگی مراکز، غیر رسمی تعلیم اور کمیونٹی لرننگ پروگراموں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ عالمی یومِ خواندگی ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے میدان میں پیش رفت کو تیز کیسے کیا جائے۔ایک ایسا پاکستان جہاں ہر بچہ سکول جائے، ہر نوجوان کو معیاری تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کا موقع ملے، ہر عورت پڑھ لکھ سکے اور ہر شہری جدید معلومات کو سمجھ کر اپنے فیصلے کر سکے، صرف ایک تعلیمی خواب نہیں بلکہ مضبوط، خوشحال اور بااختیار معاشرے کی بنیاد ہے۔

زمین کی گہرائیوں کے اسرار

زمین کی گہرائیوں کے اسرار

مصنوعی ذہانت نے اندرونی دنیا کا نیا نقشہ کیسے بنایاہم جس زمین پر رہتے ہیں اس کا بڑا حصہ آج بھی انسان کے لیے ایک راز ہے۔ ہم نے سمندروں کی تہہ، بلند ترین پہاڑوں اور خلا کے دور دراز حصوں تک تحقیق کی ہے لیکن زمین کے اندر چند ہزار کلومیٹر کی گہرائی میں موجود دنیا تک براہِ راست پہنچنا اب بھی ہماری ٹیکنالوجی کی پہنچ سے باہر ہے۔ سائنسدان زمین کے اندرونی حصے کو سمجھنے کے لیے زلزلوں سے پیدا ہونے والی لہروں کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ یہ لہریں زمین کے مختلف طبقات سے گزرتے ہوئے اپنے راستے اور رفتار میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔اب چینی سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے زمین کے انتہائی گہرے حصے کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ محققین نے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کی مدد سے 1990ء سے 2024ء کے دوران دنیا بھر میں ریکارڈ کیے گئے بیس لاکھ سے زائد زلزلوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ اس تجزیے کے دوران تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار ایسے انتہائی کمزور زلزلہ سگنلز شناخت کیے گئے جنہیں ''PKP precursors‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان سگنلز کی مدد سے زمین کے مینٹل اور کور کے درمیان موجود خطے میں چھ ایسی ممکنہ ساختوں کی نشاندہی ہوئی ہے جنہیں پہلے اس انداز میں دستاویزی شکل نہیں دی گئی تھی۔زمین کے اندر 2,900 کلومیٹر کی گہرائی میں کیا ہو رہا ہے؟زمین کی اندرونی ساخت کئی بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ بیرونی پرت یا کرسٹ، مینٹل، مائع بیرونی کور اور ٹھوس اندرونی کور۔ نئی تحقیق کا مرکز زمین کے مینٹل اور بیرونی کور کے درمیان واقع وہ انتہائی گہرا علاقہ ہے جو سطح سے تقریباً 2900 کلومیٹر نیچے ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں ٹھوس مینٹل کے نیچے انتہائی گرم اور مائع دھاتی بیرونی کور موجود ہے۔ یہاں درجہ حرارت اور دباؤ اس قدر شدید ہوتاہے کہ سطح زمین پر پائی جانے والی چٹانیں ان حالات میں بالکل مختلف خصوصیات اختیار کرسکتی ہیں۔ جب زلزلے کی لہریں ان سے گزرتی ہیں تو ان کی سمت اور رفتارمیں تبدیلی آتی ہے۔ یہ تبدیلیاں محققین کو زمین کے اندر چھپی ساختوں کا سراغ فراہم کرتی ہیں۔مصنوعی ذہانت کا استعمالاس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اتنے بڑے ڈیٹا سیٹ کا تجزیہ روایتی طریقوں سے کرنا انتہائی مشکل تھا۔ PKP precursorsانتہائی کمزور ہوتے ہیں اور انہیں الگ شناخت کرنامحنت طلب کام ہے۔اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے محققین نے مشین لرننگ کا استعمال کیا۔ الگورتھم کو لاکھوں زلزلہ جاتی لہروں کا تجزیہ کرنے کے لیے تربیت دی گئی تاکہ وہ ان انتہائی کمزور سگنلز کو شناخت کرسکے۔ محققین نے مصنوعی ذہانت کے نتائج کی جانچ اور تصحیح بھی کی جس سے نظام کو مزید بہتر بنایا گیا۔نتیجہ حیران کن تھا۔ الگورتھم نے تقریباً 175,000 اعلیٰ معیار کےPKP precursors سگنلز شناخت کیے جو سابقہ مطالعات میں مجموعی طور پر شناخت کیے گئے سگنلز سے تقریباً دس گنا زیادہ ہیں۔ اس وسیع ڈیٹا سے سائنسدان زمین کے نچلے مینٹل اور کور کے قریب موجود غیر معمولی علاقوں کا پہلے سے کہیں زیادہ جامع نقشہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔اس نئے نقشے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں زمین کے اندر موجود یہ غیر معمولی علاقے الگ الگ، چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں دکھائی دیتے تھے۔ نئے ڈیٹا سے اشارہ ملتا ہے کہ ان میں سے بعض ممکنہ طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے وسیع علاقوں یا مسلسل پٹیوں کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ یہ قدیم براعظموں یا سمندری تہہ کے ٹکڑے ہیں؟محققین کے مطابق یہ ساختیں مختلف ارضیاتی عملوں کا نتیجہ ہوسکتی ہیں۔ ایک اہم امکان زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس سے متعلق ہے کہ جب ایک سمندری ٹیکٹونک پلیٹ دوسری پلیٹ کے نیچے دھنس جاتی ہے تو اسے subduction کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں سمندری پرت، تلچھٹ اور دیگر مادّہ لاکھوں سال کے دوران زمین کے اندر بہت زیادہ گہرائی تک پہنچ سکتا ہے۔ انتہائی دباؤ اور درجہ حرارت کے باعث یہ مادہ کیمیائی اور معدنیاتی طور پر تبدیل ہوسکتا ہے اور اردگرد کے مینٹل سے مختلف خصوصیات اختیار کرسکتا ہے۔زمین کے اندرونی رازوں کی طرف ایک قدمیہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ انسان زمین کے اندر چند ہزار کلومیٹر گہرائی تک براہِ راست مشاہدہ نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود زلزلوں کی لہریں ہمیں ایک طرح کا قدرتی سکین فراہم کرتی ہیں۔ ہر زلزلہ زمین کے اندر سے گزرنے والی بے شمار لہروں کے ذریعے اس کے اندرونی ڈھانچے کے بارے میں معلومات چھوڑ جاتا ہے۔مصنوعی ذہانت نے اب ان بے شمار کمزور سگنلز کو ایک ساتھ سمجھنے کی صلاحیت میں بڑا اضافہ کردیا ہے۔ تقریباًایک لاکھ 75ہزار PKP precursors کی شناخت اور چھ نئے ممکنہ علاقوں کا سامنے آنا اس بات کی مثال ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا اور جدید کمپیوٹنگ زمین کے اربوں سال پرانے رازوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان ساختوں کی اصل نوعیت جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ زمین کے اندرونی حصے کا نقشہ جتنا بہتر ہوگا سائنسدان اتنا ہی بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے کہ ہمارے سیارے کی موجودہ ساخت کیسے بنی، ٹیکٹونک پلیٹیں کروڑوں سال کے دوران کہاں گئیں، زمین کے مینٹل میں مادہ کس طرح گردش کرتا ہے اور سطح پر نظر آنے والی ارضیاتی سرگرمیوں کے پیچھے کون سے گہرے عوامل کارفرما ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

مائیکل اینجلو کے شاہکار کی رونمائی 8 ستمبر 1504ء کو اٹلی کے شہر فلورنس میں عظیم اطالوی فن کار مائیکل اینجلو کا مشہور مجسمہ ''ڈیوڈ‘‘ پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ مجسمہ سنگِ مرمر کے ایک ہی بڑے ٹکڑے سے تراشا گیا تھا جسے اس سے پہلے دوسرے فن کار مشکل سمجھ کر چھوڑ چکے تھے۔اصل منصوبہ یہ تھا کہ مجسمے کو فلورنس کے گرجا گھر کی عمارت کے ایک بلند حصے پر دیگر مجسموں کے ساتھ نصب کیا جائے لیکن شہر کے حکام اور فنکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اتنا شاندار مجسمہ ایسی جگہ رکھا جائے جہاں عوام اسے قریب سے دیکھ سکیں؛ چنانچہ اسے فلورنس کے مشہور چوک پیاتسا دَلا سینیوریا میں نصب کیا گیا۔بعد میں اصل مجسمے کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے فلورنس کی اکیڈیمیا گیلری میں منتقل کر دیا گیا جبکہ اس کی نقل پیاتسا دَلا سینیوریا میں نصب ہے۔ سینٹ آگسٹین کی بنیاد 8 ستمبر 1565ء کو ہسپانوی مہم جُو پیڈرو مینیندیز دے آویلیس نے موجودہ امریکی ریاست فلوریڈا میں سینٹ آگسٹین شہر کی بنیاد رکھی۔پیڈرو مینیندیز کو سپین کے بادشاہ فلپ دوم نے فلوریڈا میں ہسپانوی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری دی تھی۔ اُس وقت فرانس کے کچھ آباد کار بھی فلوریڈا کے علاقے میں موجود تھے اور انہوں نے وہاں اپنی بستی قائم کر رکھی تھی۔ سپین کو خدشہ تھا کہ فرانسیسی آباد کار شمالی امریکہ کے اس حصے میں مستقل قدم جما سکتے ہیں۔ مینیدیز اپنی مہم کے ساتھ فلوریڈا پہنچا اور 8 ستمبر کو وہاں اترنے کے بعد ایک مذہبی تقریب منعقد کی اور اس موقع پر نئی بستی کی بنیاد رکھی گئی۔ بعد میں یہ علاقہ برطانیہ اور پھر امریکہ کے زیرِ اقتدار آیالیکن سینٹ آگسٹین اپنی تاریخی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اٹلی کی جنگ بندی8 ستمبر 1943ء دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا۔ اسی روز اٹلی اور اتحادی طاقتوں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ اٹلی اس سے پہلے جرمنی اور جاپان کے ساتھ محوری طاقتوں کے اتحاد میں شامل تھا لیکن 1943ء میں جنگ کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوگئی۔اتحادی افواج نے جولائی 1943ء میں سسلی پر حملہ کیا۔ اس شکست کے بعد اٹلی میں فاشسٹ حکومت کے خلاف شدید سیاسی دباؤ پیدا ہوا۔ بینیٹو مسولینی کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور ایک نئی حکومت قائم ہوئی جس نے اتحادی طاقتوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات شروع کیے۔3 ستمبر 1943ء کو سسلی کے قصبے کاسیبیلے میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ لینن گراڈ کا محاصرہ8 ستمبر 1941ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن افواج نے سوویت شہر لینن گراڈ، جسے آج سینٹ پیٹرزبرگ کہا جاتا ہے، کا محاصرہ شروع کیا۔ یہ انسانی تاریخ کے طویل ترین اور انتہائی تباہ کن فوجی محاصروں میں سے ایک تھا۔لینن گراڈ سوویت یونین کا ایک اہم صنعتی، ثقافتی اور سیاسی مرکز تھا۔ محاصرے کے دوران خوراک، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ خاص طور پر 1941ء اور 1942ء کی سخت سردیوں میں حالات انتہائی سنگین ہوگئے۔ بہت سے لوگ بھوک، سردی، بیماری اور مسلسل بمباری کے باعث ہلاک ہوئے۔اس کے باوجود شہر نے جرمن افواج کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔محاصرہ تقریباً 872 دن جاری رہا اور جنوری 1944ء میں سوویت افواج نے اسے توڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ رچرڈ نکسن کو معافی 8 ستمبر 1974ء کو امریکی صدر جیرالڈ فورڈ نے سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کو مکمل اور غیر مشروط صدارتی معافی دے دی۔ یہ واقعہ جدید امریکی سیاسی تاریخ کے انتہائی متنازع واقعات میں شمار ہوتا ہے اور اس کا تعلق واٹرگیٹ سکینڈل سے تھا۔واٹرگیٹ سکینڈل امریکی سیاست کا ایک بڑا بحران تھا۔ اس سکینڈل کے نتیجے میں نکسن پر سیاسی دباؤ مسلسل بڑھتا گیا۔ امریکی کانگریس میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی آگے بڑھ رہی تھی۔ بالآخر 9 اگست 1974ء کو رچرڈ نکسن نے امریکی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفے کے بعد نائب صدر جیرالڈ فورڈ نے صدر کا منصب سنبھال لیا۔

اے آئی کیمرے والا ٹوتھ برش

اے آئی کیمرے والا ٹوتھ برش

ڈائیسن کی جدید پیشرفتدانتوں کی صفائی کیلئے استعمال ہونے والا عام ٹوتھ برش اب مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو کر ایک اسمارٹ ڈیوائس کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ معروف ٹیکنالوجی کمپنی ڈائیسن نے یہ برش متعارف کرایا ہے، جس میں اے آئی سے لیس کیمرا نصب ہے۔ یہ جدید ٹوتھ برش دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کا جائزہ لینے کے ساتھ صارف کو بہتر برشنگ کیلئے رہنمائی فراہم کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی420 پاؤنڈ قیمت نے اسے عام ٹوتھ برش کے مقابلے میں خاصا مہنگا بنا دیا ہے۔ برطانوی کمپنی ڈائیسن اپنے اعلیٰ معیار کے ویکیوم کلینرز کیلئے مشہور ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے اس نے ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ کمپنی پہلے ہی ہیئر ڈرائیر، ہیئر اسٹریٹنرز، ہاتھ میں پکڑے جانے والے پنکھے اور ایئر پیوریفائر جیسی مصنوعات مارکیٹ میں پیش کرچکی ہے۔ اب ڈائیسن نے ''کیمرہ جیٹ‘‘ کے ذریعے ڈینٹل مصنوعات کی مارکیٹ میں قدم رکھا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ دانت صاف کرنے کا ''بالکل نیا طریقہ‘‘ ہے، جس میں دانتوں کی صفائی اور فلاسنگ کے عمل کو ایک ہی ڈیوائس کے ذریعے انجام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس ٹوتھ برش کی سب سے نمایاں خصوصیت اس میں نصب کیمرا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے دانتوں کے درمیان موجود انتہائی باریک خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ جیسے ہی ڈیوائس کسی خلا کا سراغ لگاتی ہے، وہاں منہ صاف کرنے والے محلول کی ایک انتہائی باریک دھار پہنچائی جاتی ہے۔ ڈائیسن کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے منہ کے ان حصوں کی صفائی بھی ممکن ہوتی ہے جہاں عام برش کی رسائی مشکل ہوتی ہے اور یہ عمل فلاسنگ جیسا کام کرتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس ٹوتھ برش کی تیاری میں چھ سال لگے ہیں اور یہ مارکیٹ میں دستیاب معروف پریمیم الیکٹرک ٹوتھ برشز کے مقابلے میں 69 فیصد تک زیادہ پلاک ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈائیسن کے بانی اور چیف انجینئر سر جیمز ڈائیسن کا کہنا ہے کہ کمپنی کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ لوگ عموماً ان مقامات کی صفائی نظرانداز کردیتے ہیں جہاں پلاک زیادہ بنتا ہے، یعنی دانتوں کے درمیان موجود خلا۔ ان کے مطابق کمپنی نے تین بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش کی، دانتوں کے درمیان موجود خلا کو دیکھنا، وہاں سے پلاک ختم کرنا اور برشنگ کے مجموعی عمل کو مزید مؤثر بنانا۔سر جیمز ڈائیسن کے مطابق کیمرے، مشین لرننگ، انتہائی درست سیال ٹیکنالوجی، جدید برشنگ ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی اور وائی فائی کو یکجا کرکے ڈائیسن کیمرہ جیٹ منہ کی صحت برقرار رکھنے کا ایک بالکل نیا طریقہ پیش کرتا ہے۔تاہم 420 پاؤنڈ کی قیمت نے اس نئی ایجاد کو خاصی مہنگی مصنوعات بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو دو متبادل برش ہیڈز کیلئے مزید 25 پاؤنڈ جبکہ ڈائیسن کے تیار کردہ غیر جھاگ دار ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ رِنس کیلئے 8.49 پاؤنڈ اضافی ادا کرنا ہوں گے۔اگرچہ بہت سے لوگ ایک ٹوتھ برش پر 420 پاؤنڈ خرچ کرنے سے گریز کرسکتے ہیں، لیکن قیمتوں کے حوالے سے ڈائیسن کی مصنوعات پہلے بھی توجہ کا مرکز بنتی رہی ہیں۔ اس سے قبل کمپنی نے 820 پاؤنڈ مالیت کے ہیڈ فونز بھی متعارف کرائے تھے، جن میں ہوا صاف کرنے کا ایک غیر معمولی نظام نصب کیا گیا تھا۔زیادہ تر دندان ساز روزانہ دانتوں کو فلاس کرنے کی تجویز دیتے ہیں، تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عملی طور پر برطانیہ کے صرف 10 فیصد افراد روزانہ فلاسنگ کرتے ہیں۔ فلاسنگ کو آسان بنانے کیلئے ڈائیسن نے اپنا ٹوتھ برش تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے میں 661 انجینئرز کی ٹیم کو چھ سال لگے۔ ٹوتھ برش میں نصب کیمرا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے دانت صاف کرتے وقت ہر سیکنڈ میں 28 براہِ راست تصاویر اسکین کرتا ہے۔ جیسے ہی دانتوں کے درمیان کسی خلا کی نشاندہی ہوتی ہے، تقریباً فوری طور پر، یعنی صرف 0.1 سیکنڈ کے اندر، ایک مخروطی شکل کی باریک دھار فعال ہوجاتی ہے، جو اس خلا میں ماؤتھ رِنس اسپرے کرتی ہے۔ تاہم ڈائیسن کے مطابق زیادہ تر واٹر فلاسرز میں سوئی نما دھار استعمال ہوتی ہے، جو دانتوں پر جمی ہوئی ضدی پلاک کو مؤثر طریقے سے ہٹانے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔کمپنی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈائیسن کے تیار کردہ مصنوعی پلاک پر جب اس قسم کی دھار کا تجربہ کیا گیا تو اس نے پلاک میں سوراخ تو کردیا، لیکن اس کی چپچپاہٹ پر قابو پانے اور اسے مکمل طور پر ہٹانے میں ناکام رہی۔اس کے برعکس ڈائیسن کی مخروطی دھار ایک منفرد، وسیع مخروطی شکل کا اسپرے استعمال کرتی ہے۔ اس کا وسیع پھیلاؤ ایک ہی وقت میں زیادہ حصے کو صاف کرتے ہوئے پلاک کو ہٹا دیتا ہے، جبکہ اسے نسبتاً کم دباؤ پر استعمال کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے تاکہ مسوڑھوں اور دانتوں کی بیرونی تہہ (اینامل) پر زیادہ نرمی سے اثر پڑے۔ماؤتھ رِنس ایک خصوصی 'اینٹی گریوٹی ٹینک‘ میں محفوظ رہتا ہے، جو ٹوتھ برش کو کسی بھی زاویے پر رکھنے کے باوجود مسلسل ماؤتھ رِنس کی دھار خارج کرتا رہتا ہے۔ڈائیسن کے مطابق، ''ہمارا اینٹی گریوٹی ٹینک اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اس میں ہوا کے خلاکو ختم کیا جاسکے اور ڈیوائس کو خالی فائر کرنے سے روکا جا سکے۔یہ خصوصیت خاص طور پر دانتوں کے پچھلے حصے کی صفائی کے دوران اہم ہے، کیونکہ اس وقت ڈیوائس عموماً افقی پوزیشن میں ہوتی ہے‘‘۔ جب ماؤتھ رِنس کم ہونے لگتا ہے تو ٹوتھ برش کو اس کے ڈاکنگ اسٹیشن پر رکھتے ہی یہ خودکار طور پر دوبارہ بھر جاتا ہے۔ یہی ڈاکنگ اسٹیشن ٹوتھ برش کو چارج کرنے کا کام بھی انجام دیتا ہے۔جہاں تک برش ہیڈ کا تعلق ہے، سر جیمز ڈائیسن نے اس میں دوہری برسلز پر مشتمل ڈیزائن استعمال کیا ہے، جس میں دو مختلف اقسام کے برسلز شامل ہیں۔اندرونی برسلز قدرے سخت ہیں اور دانتوں پر موجود داغ دھبے دور کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ بیرونی برسلز نرم رکھے گئے ہیں تاکہ مسوڑھوں پر تکلیف یا خراش پیدا نہ ہو۔ لائیو ویونگ کا آپشن آپ مائی ڈائیسن ایپ کے ذریعے لائیو ویونگ کا آپشن منتخب کرسکتے ہیں، جس سے آپ اپنے منہ کے اندر کی براہِ راست ویڈیو دیکھ سکیں گے۔ ایپ پر صارفین کو رہنمائی کے ساتھ دانتوں کی صفائی، طریقہ استعمال کی ویڈیوز، برشنگ اور فلاسنگ سے متعلق معلومات، صفائی کے احاطے کی نقشہ بندی اور ذاتی نوعیت کی رہنمائی بھی دستیاب ہوگی۔

سڈنی میراتھن 2026ء، ریکارڈز کی بہار

سڈنی میراتھن 2026ء، ریکارڈز کی بہار

''میراتھن کی دنیا کا ساتواں عجوبہ‘‘سڈنی میراتھن 2026ء نے دوڑ کے شائقین کو نہ صرف شاندار کھیل کا نظارہ فراہم کیا بلکہ متعدد نئے ریکارڈز کے باعث تاریخ کا حصہ بھی بن گئی۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والی اس عالمی سطح کی دوڑ میں ہزاروں ایتھلیٹس نے شرکت کی، جبکہ ایتھوپیا کے اَدی سو گوبینا نے 2 گھنٹے 4 منٹ 42 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کرکے نیا کورس ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے ساتھ خواتین کی دوڑ میں کینیا کی پیرس جیپچیرنے کامیابی حاصل کی، جبکہ مختلف کیٹیگریز میں بھی نمایاں ریکارڈز قائم ہوئے۔ مجموعی طور پر سڈنی میراتھن 2026ء نے ثابت کردیا کہ یہ مقابلہ اب صرف ایک میراتھن نہیں بلکہ دنیا کے ممتاز ترین رننگ ایونٹس میں اپنی جگہ مضبوط کرچکا ہے۔مسلسل تیسرے سال گنیز ورلڈ ریکارڈز نے سڈنی میراتھن میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے والے ریکارڈ ساز رنرز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ دن طویل فاصلے کی دوڑ کے تازہ ترین ایڈیشن کا موقع تھا، جبکہ سڈنی نے دنیا کی سات ایبٹ ورلڈ میراتھن میجرز میں شامل ہونے کی دوسری سالگرہ بھی منائی۔ دنیا کے 140 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے کھیلوں کے نامور کھلاڑی اور شوقیہ رنرز آسٹریلیا کے اس شہر میں جمع ہوئے تاکہ اپنی جسمانی برداشت اور صلاحیتوں کو آزما سکیں۔ اس مقابلے کو ''میراتھن کی دنیا کا ساتواں عجوبہ‘‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ایڈجوڈی کیٹر برائن سوبل بھی موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے میراتھن کے دوران قائم یا توڑے جانے والے ریکارڈز کی باضابطہ تصدیق کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان تمام رنرز کی حوصلہ افزائی اور حوصلہ بلند کیا جنہوں نے اپنی دوڑ کو ایک اضافی چیلنج کے ذریعے مزید یادگار اور غیر معمولی بنانے کا فیصلہ کیا۔برائن نے کہا کہ کینسر کے علاج کے چیلنجز پر قابو پانے، ماحولیاتی مسائل کے بارے میں شعور اجاگر کرنے یا غیر روایتی لباس میں میراتھن میں حصہ لینے جیسے مختلف کارناموں کے ذریعے ان رنرز نے ثابت کردیا ہے کہ ریکارڈ قائم کرنا کس قدر خاص اور غیر معمولی تجربہ ہوسکتا ہے۔ ان کامیابیوں کا مشاہدہ کرنا اور یہ دیکھنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ یہ رنرز گنیز ورلڈ ریکارڈز کے تاریخی صفحات میں اپنے لیے جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔سڈنی میراتھن 2026ء کے اختتام پر ریکارڈ قائم کرنے کی چھ کوششوں میں سے تمام چھ کامیاب رہیں۔40 ہزار سے زائد ایتھلیٹس شمالی سڈنی کی ملر اسٹریٹ پر جمع ہوئے، جہاں میراتھن کا آغاز صبح 6 بج کر 15 منٹ پر ہوا۔ رنرز 42.195 کلومیٹر طویل میراتھن کورس مکمل کرنے کیلئے تیار تھے۔ ان کا مقصد میڈل کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈز کا اعزاز اپنے نام کرنا تھا۔ فنِش لائن عبور کرنے والا پہلا رنر آسٹریلوی ایتھلیٹ اور سابق پیشہ ور سائیکلسٹ ٹوبی فلر تھا۔غیر معمولی عزم، استقامت اور متاثر کن جسمانی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹوبی فلر نے ملٹی پل مائیلوما کے مرض میں مبتلا مرد کی جانب سے تیز ترین میراتھن مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے یہ فاصلہ 3 گھنٹے، 18 منٹ اور 1 سیکنڈ میں طے کیا۔ ٹوبی کو 23 برس کی عمر میں ملٹی پل مائیلوما کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ ہڈیوں میں موجود پلازما خلیوں کو متاثر کرنے والی ایک ناقابلِ علاج قسم کی کینسر کی بیماری ہے۔ وہ گزشتہ پانچ برس سے اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ٹوبی تسلیم کرتے ہیں کہ بیماری کی وجہ سے مستقل بنیادوں پر تربیت کرنا مشکل ہے، تاہم انہوں نے کبھی کوشش ترک نہیں کی اوردوڑ جاری رکھی۔ ٹوبی نے آج یہ ریکارڈ قائم کرکے ایک منفرد مثال قائم کر دی۔ ان کا مقصد کینسر کے ساتھ زندگی گزارنے والے دوسرے افراد کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ اپنی بیماری کے باوجود اپنے خوابوں کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں۔برسبین سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹ کینٹ اوہوری نے دن کا دوسرا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ انہوں نے بیئر کین کا لباس پہن کر تیز ترین میراتھن مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ کینٹ نے یہ دوڑ 3 گھنٹے، 28 منٹ اور 27 سیکنڈ میں مکمل کی۔کینٹ اوہوری اپنی غیر معمولی ایتھلیٹک صلاحیتوں اور کھیلوں و صحت مند طرزِ زندگی کے فوائد اجاگر کرنے کے مشن کے باعث اس سے قبل بھی خبروں کی زینت بن چکے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے سڈنی کے مشہور اوپیرا ہاؤس کے سامنے فنش لائن عبور کی تو وہ نارنجی اور سفید رنگ کے بیئر کین کے لباس میں ملبوس تھے۔ کینٹ برسبین میں قائم معروف رننگ کمیونٹی ری باؤنڈ کلب کے بانی ہیں، جو رنرز، ٹرائیتھلیٹس اور کھیلوں سے وابستہ افراد کیلئے ایک کمیونٹی ہے۔دن کی ایک اور نمایاں کامیابی فل برینٹ کی تھی، جو سڈنی سے تعلق رکھنے والے ڈیجیٹل اور کمیونیکیشنز کے ماہر ہیں۔ انہوں نے کچھوے کا روپ دھارتے ہوئے رینگنے والے جانور کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے (مرد) کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ فل برینٹ نے دلکش سبز رنگ کا کچھوے کا لباس پہن کر میراتھن 3 گھنٹے، 45 منٹ اور 52 سیکنڈ میں مکمل کی۔ سڈنی میراتھن کے ریکارڈ ہولڈرزٹوبی فلرملٹی پل مائیلوما کے مرض میں مبتلا مرد کی جانب سے تیز ترین میراتھن کا ریکارڈ قائم کیا گیا،انہوں نے مطلوبہ فاصلہ 3 گھنٹے 18 منٹ 1 سیکنڈمیں طے کیا۔کینٹ اوہوری بیئر کین کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد،انہوں نے مطلوبہ فاصلہ 3 گھنٹے 28 منٹ 27 سیکنڈمیں طے کیا۔کرس فائیویجسم کے اندر نصب ذیلی جلدی ڈیفبریلیٹر کے ساتھ تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد، فاصلہ3 گھنٹے 36 منٹ 27 سیکنڈمیں طے کیا۔فل برینٹرینگنے والے جانور کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد، 3 گھنٹے 45 منٹ 52 سیکنڈمیں فاصلہ کیا۔ربیکا جوئنر اسکاؤٹ یونیفارم میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والی خاتون، 3 گھنٹے 55 منٹ 37 سیکنڈمیں فاصلہ مکمل کیا۔نلہاری بھنڈاری روایتی بھوٹانی لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد ، 4 گھنٹے 7 منٹ 6 سیکنڈمیں مطلوبہ فاصلہ طے کیا۔

آج کا دن

آج کا دن

چین میں ہلاکت خیز زلزلہ5ستمبر 2022ء کو چین کے صوبہ سیچوان میں 6.8 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ زلزلے کے جھٹکوں سے متعدد عمارتیں منہدم ہوئیں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔ اس قدرتی آفت کے باعث کم از کم 93 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 25 افراد لاپتا ہوگئے۔ '' ڈسکوری‘‘ کا پہلا خلائی سفر1984ء میں آج کے روز اسپیس شٹل ڈسکوری نے اپنا پہلا خلائی مشن ''ایس ٹی ایس 41ڈی‘‘ مکمل کیا اور کامیابی سے زمین پر واپس آئی۔ یہ ڈسکوری کا اوّلین خلائی سفر تھا، جس کے دوران خلائی شٹل نے مختلف سائنسی اور تکنیکی سرگرمیاں انجام دیں۔ مشن کی کامیاب تکمیل کے بعد اس کی بحفاظت واپسی خلائی تحقیق اور قابلِ استعمال خلائی شٹل ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔پین ایم فلائٹ 73 ہائی جیک5ستمبر 1986ء کو بھارت سے پاکستان آنے والی ''پین ایم فلائٹ 73‘‘ کو کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہائی جیک کر لیا گیا۔ طیارے میں عملے سمیت 358 افراد سوار تھے۔ ہائی جیکنگ کے دوران مسافروں اور عملے کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا گیا۔ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ میں پیش آنے والے اہم اور المناک فضائی واقعات میں شمار ہوتا ہے، جس نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔سری لنکا میں قتل عام5 ستمبر 1990ء کو سری لنکن خانہ جنگی کے دوران ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ سری لنکن فوج کے اہلکاروں نے ایسٹرن یونیورسٹی قتل عام کے دوران 158 شہریوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ ملک میں جاری طویل خانہ جنگی کے دوران ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شمار ہوتا ہے۔ترکی : اسلحہ خانے میں دھماکہ 5 ستمبر 2012 ء کو افون کاراحسار، ترکی میں اسلحہ خانے میں دھماکہ ہوا۔ ترک مسلح افواج کے مطابق حادثے میں 25 فوجی ہلاک اور تین شہری زخمی ہوئے۔دھماکے کے بعد علاقے میں آگ لگ گئی۔ آگ بجھانے کے بعد دو نان کمیشنڈ افسران، دو اسپیشل سارجنٹس اور 21 پرائیویٹ گارڈز کو مردہ حالت میں نکالا گیا۔ اس حادثے کی بعد کئی تحقیقاتی کمیشن بنائے گئے۔محمد علی کا اولمپک طلائی تمغہ 1960ء میں آج کے روز امریکا کے عظیم باکسر محمد علی، جو اس وقت کیسیئس کلے کے نام سے جانے جاتے تھے، نے روم میں منعقدہ اولمپک کھیلوں میں لائٹ ہیوی ویٹ باکسنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ جیتا۔ بعد ازاں وہ دنیا کے عظیم ترین باکسرز میں شمار ہوئے۔