پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل غلام محمد
اسپیشل فیچر
میز پر تین مختلف رنگوں کے ٹیلیفون رکھے تھے ۔ سرخ رنگ کا ٹیلیفون جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا بلب لگاہوا تھا گورنر جنرل سے رابطہ قائم کرنے کے لیے مخصوص تھا مجھے کمرے میں داخل ہوئے چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی اور بلب روشن ہوگیا پیرزادہ صاحب نے اچھل کر سگریٹ بجھایا اور دوسرے ہاتھ سے ریسیور اٹھا کر Yes Sir, Yes Sir کی گردان شروع کردی۔ مجھ سے مسکرا ئے بغیر نہ رہا گیا جب بات کرچکے تو میں نے پیرزادہ صاحب سے پوچھا ۔ جناب ایش ٹرے آپ کے عین سامنے پڑی ہوئی تھی پھر آپ نے سگریٹ کو قلمدان میں کیوں بجھایا اور اپنی انگلیاں کیوں خراب کیں؟پیرزادہ صاحب نے میری طرف دیکھا مگر زبان سے کچھ نہ کہا جیسے رحم کے طلبگار ہوں۔ مجھے ان پر بڑا ترس آیا ایک باریش بزرگ جو چپڑاسی کی سرخ و سفید رنگ کی چست وردی زیب تن کیے کھڑے تھے کہنے لگے :حضور ہر بار جب بھی لاٹ صاحب کی گھنٹی آتی ہے یوں ہی ہوتا ہے۔ میں دن میں کئی بار دوات کو صاف کرکے سیاہی بدلتا ہوں۔ گورنر جنرل ہائوس میں میرا یہ پہلا دن تھا۔ پیرزادہ صاحب اپنی خواہش پر فنانس منسٹری واپس جارہے تھے اور ان کی جگہ میرا تقرر بحیثیت پرسنل اسسٹنٹ ٹو گورنر جنرل ہوچکا تھا۔ ریلوے بورڈ کو خیر باد کہہ کر گورنر جنرل کے پرسنل سٹاف میں شمولیت میرے لیے باعث افتخار تھی لیکن روز اول ہی مجھے ایک انجانے خوف نے آلیا۔ میں نے دیکھا کہ سٹاف کا ہرممبر گھبرایا گھبرایا بلا مقصد ادھر سے ادھر یوں بھاگتا پھرتا جیسے کوئی ان کے تعاقب میں ہو۔گفتگو رازدارانہ انداز میں سرگوشیوں کے ذریعے ہوتی ہے ایک عجیب ،مہیب اور پراسرار ماحول ہے جہاں ٹیلیفون کی گھنٹی دہشت میں مزید اضافہ کا باعث بنتی ہے گورنر جنرل ہائوس کیا ہے گویا ریلوے پلیٹ فارم ہے جہاں ہر مسافر کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں جیسے بستر کھوگیا ہے ۔ میں سوچنے لگا تنخواہ قلیل سے اضافے کے عوض سکون قلب سے یوں ہاتھ دھو بیٹھنا تو بڑا گھاٹے کا سودا ہے میں کیوں مقابلے کے امتحان میں شریک ہوا تھا، میں نے ان دوستوں کے انتباہ کو اہمیت دی ہوتی جو کہتے تھے کہ غلام محمد کے ساتھ کام کرنا جان جوکھوں میں ڈالنا ہے ۔ افسوس میں نے فیصلہ کرنے میں جلدی کی، نہ جانے یہاں سے زندہ سلامت بھی جاسکوں گا یا نہیں!٭٭٭٭کچھ روز قبل میں گورنر جنرل سے انٹرویو کے دوران مل چکا تھا کمرے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے مسکرا کر مجھے اپنے سامنے کرسی پر بیٹھنے کو کہا تھا اور میرے بیٹھنے سے پہلے ہی سوالا ت کی بوچھاڑ کردی تھی۔ نام کیا ہے ؟ تعلیم کہاں تک ہے؟ کس کالج میں پڑھے؟ پروفیسر کون کون تھے ؟ مضمون کیا تھے ؟ باپ داداکیا کرتے تھے ؟میں نے بتایا کہ طبیب تھے، حکمت کرتے تھے تو پوچھا حکمت کیوں کرتے تھے ؟ کتنے بہن بھائی ہو؟ بچے کتنے ہیں ؟ پورا جواب سنے بغیر دوسرا سوال داغ دیتے۔ جب میں نے بتایا کہ بچہ ابھی کوئی نہیں تو مسکرا کر پوچھا بیویاں کتنی ہیں ؟ اس سوال پر جب میں مسکرایا تو وہ فورا سنجیدہ ہوگئے۔ اس وقت تو میں ان کی یہ اچانک تبدیلی مزاج کو نہ سمجھ سکا تھا مگر کچھ ہی روز کام کرنے کے بعد مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ اپنے سٹاف میں کسی کو بھی اپنے ساتھ بے تکلف نہ ہونے دیتے تھے۔ سٹاف میں سے کسی کا شریکِ عشرت ہونا تو کجا شریک تبسم ہونا بھی انہیں گوارا نہ تھا۔ بندہ وآقا کے درمیان تمیز کا یہ معیار بھی اختیار کرنا پڑا ۔٭٭٭٭گنجائشِ تصور دیدار بھی نہیں23اگست 1952ء کو جب میں نے گورنر جنرل ہائوس میں ڈیوٹی کیلئے رپورٹ کی تو حکم ملا پیرزادہ صاحب کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتا رہوں دوسرے روز کہا گیا کہ کاغذات پڑھ سکتا ہوں تیسرے روز فائلیں پڑھنے کی اجازت ملی۔ پیرزادہ صاحب مختصر جسم و جان کے مالک شکل وصورت سے متشرع اور بڑے نیک سیرت انسان تھے ۔ انہوں نے بڑی محبت سے مجھے کام سمجھانا شروع کیا۔ یوں بھی وہ مجھے کام سمجھا کر جلدی چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ دوہفتوں کے بعد انہوں نے گورنر جنرل سے رخصت ہونے کی اجازت مانگی تو میری طلبی ہوئی ۔ میں نے دروازے کو آہستہ سے Knockکیا۔ کان میں آواز پڑی Come-inدروازہ کھول کر ابھی میں کمرے میں داخل ہورہا تھا کہ آواز آئی Sit Down دروازے اور گورنر جنرل کے درمیان دس بارہ قدم کا فاصلہ تھا میں نے سلام کیا اور دوڑ کر شاید ایک ہی جست میں اب ٹھیک یاد نہیں رہا ،میز کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ Come Here۔ اپنے قریب والی کرسی کی طرف اشارہ تھا ۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو گورنر جنرل صاحب کے چہرے پر شدید غصہ کے آثارتھے۔ بڑی بڑی سرخ آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں۔ ان کے تنفس کے ساتھ الائچی کی خوشبو بھی ماحول کو خوشگوار بنانے میں بری طرح ناکام تھی ۔کرخت لہجہ میں میرا نام پوچھا حالانکہ پہلے سے جانتے تھے اور صرف مجھے دہشت زدہ کرنا مقصود تھا۔ پھر میز کے دراز سے ایک ٹائپ شدہ خط نکالا اور میرے ہاتھ میں تھما کر گرجے :What is this? tell me in two minutes. Don,t waste my time any more.یہ سب کچھ ایک ہی سانس میں کہہ گئے اور آخری فقرہ مکمل کرنے سے پیشتر میرے ہاتھ سے کاغذ دبوچ کر واپس میز کی دراز میں رکھ لیا اور شہادت کی انگلی سے مجھے نشانہ بناتے ہوئے بولے۔ You are wasting my time ,Thank you.٭٭٭٭میں اٹھ کر کمرے سے باہر نکلا تو میرے سینہ میں تعجب اور غصے کے ملے جلے جذبات کا ایک طوفان تھا ۔عجیب بے صبرے انسان سے واسطہ پڑ گیا ۔ کاغذ کو پڑھنے تک نہیں دیا۔ ادھر دیا ادھر چھین لیا مجھے کوئی غیب دان یا جادو گر سمجھا تھا کہ پڑھے بغیر What is this۔ کا جواب دے دیتا۔ اپنے کمرے میں واپس آکر مستقبل کے بارے میں غورکرنا شروع کیا۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا پیرزادہ صاحب نے میری طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا تو لفافے سے خط کا مضمون بھانپ گئے اتنے میں انہیں گورنر جنرل کا بلاوا آگیا اور وہ سگریٹ کو دوات میں جھونک کر نکل بھاگے۔ ٭٭٭٭مجھے ایک ہفتہ مزید مطالعہ کرنے کا حکم موصول ہوا پھر ایک ہفتہ اور۔ بالآخر پورے ایک ماہ کے بعد پیرزادہ صاحب نے چارج میرے سپرد کیا ، صوفے پر بیٹھ کر سگریٹ کے لمبے لمبے کش لیے۔ دوات اور ایش ٹرے میں تمیز کرنا اب ان کے لیے مشکل نہ تھا۔ مجھے ڈھیروں دعائیں اور ٹوپی سرپر رکھ کر رخصت ہوگئے۔ مجھے ان پر بڑا رشک آرہا تھا۔ میں سوچنے لگا آنے والے سے جانے والا کتنا خوش قسمت ہے۔ ٭٭٭٭