زیادہ پروٹین، خاموش قاتل؟
اسپیشل فیچر
ماہرین نے مسلز بڑھانے کے شوق کو خطرناک قرار دے دیا
پروٹین انسانی جسم کی نشوؤنما، پٹھوں کی مضبوطی اور خلیات کی مرمت کیلئے ایک نہایت اہم غذائی جزو ہے، تاہم ہر مفید چیز کی طرح اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں جسمانی فٹنس، باڈی بلڈنگ اور عضلات بڑھانے کے رجحان نے پروٹین سے بھرپور غذا اور پروٹین سپلیمنٹس کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ مگر اب ایک نئی اور جامع طبی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حد سے زیادہ پروٹین کا استعمال نہ صرف گردوں، جگر اور دل پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے بلکہ یہ قبل از وقت موت کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن غذا ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے، جبکہ کسی بھی غذائی جزو کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر فٹنس ماہرین اور انفلوئنسرز اپنے پیروکاروں کو وزن کم کرنے اور پٹھے مضبوط بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ پروٹین استعمال کرنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔اس رجحان کے نتیجے میں پروٹین مصنوعات، جیسے پروٹین شیکس، پروٹین بارز اور پروٹین پاؤڈرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 2024ء کی ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 56 فیصد صارفین پروٹین سے بھرپور خوراک اور مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں۔تاہم اب 350 سے زائد تحقیقی مقالات کے جائزے پر مبنی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پروٹین کی مقدار میں اعتدال یا کمی لانا وزن گھٹانے، دل کی بیماریوں سے بچاؤ اور حتیٰ کہ عمر میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن کے محققین کے مطابق پروٹین کی محدود مقدار جسم کے میٹابولزم کو بہتر بناتی ہے، سوزش میں کمی لاتی ہے اور خلیات کو اس نقصان سے بچاتی ہے جو جسم میں تیز رفتار بڑھاپے کا سبب بنتا ہے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پروٹین صحت مند غذا کا ایک نہایت اہم جزو ہے۔ یہ غذائی عنصر پٹھوں کے ریشوں، جسمانی اعضا اور ٹشوزکی مرمت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔تاہم ماضی کی متعدد تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ مکھیوں اور چوہوں پر کیے گئے تجربات میں پروٹین کی کم مقدار نے ان کی اوسط عمر میں اضافہ کیا۔اسی طرح حالیہ برسوں میں انسانوں پر کیے گئے کئی کلینیکل ٹرائلز سے بھی معلوم ہوا ہے کہ پروٹین کی مقدار کم کرنے سے نہ صرف وزن میں کمی آتی ہے بلکہ خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نتائج اس حقیقت کے باوجود سامنے آئے کہ پروٹین کی کم مقدار استعمال کرنے والے افراد مجموعی طور پر زیادہ کیلوریز استعمال کرتے تھے۔ ''سیل پریس بلیو‘‘ (Cell Press Blue) جریدے میں شائع ہونے والے اس تازہ تحقیقی جائزے میں متعدد ممکنہ وجوہات بیان کی گئی ہیں کہ آخر پروٹین کی مقدار میں کمی صحت کیلئے کیوں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جب خوراک میں پروٹین کم ہوتی ہے تو جسم میں ''فائبروبلاسٹ گروتھ فیکٹر 21‘‘ (FGF21) نامی ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہارمون جسم کی توانائی خرچ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، خون میں شوگر کی سطح کو بہتر انداز میں قابو میں رکھتا ہے اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق کے زیادہ تر شواہد جانوروں پر کیے گئے تجربات سے حاصل ہوئے ہیں، اس لیے ضروری نہیں کہ یہی نتائج من و عن انسانوں پر بھی لاگو ہوں۔ چوہوں پر کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جن جانوروں میں ''FGF21‘‘ ہارمون کی مقدار زیادہ تھی، وہ عام چوہوں کے مقابلے میں زیادہ عرصہ زندہ رہے۔ مزید یہ کہ یہ مثبت اثر مادہ چوہوں کی نسبت نر چوہوں میں زیادہ نمایاں تھا۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انسانوں میں بھی پروٹین کی مقدار کم کرنے سے اس ہارمون کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس تحقیقی جائزے میں بعض امینو ایسڈز (Amino Acids)، جو پروٹین کے بنیادی اجزا ہیں، کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہی امینو ایسڈز کی ضرورت سے زیادہ مقدار ان منفی اثرات کی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔مختلف مطالعات سے پتا چلا ہے کہ بعض امینو ایسڈز کا حد سے زیادہ استعمال جسم میں ایسے حیاتیاتی عمل کو متحرک کر سکتا ہے جو خلیات کی غیر ضروری نشوؤنما کو بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں موٹاپا، جسمانی سوزش اور عمر بڑھنے سے وابستہ دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔اس تحقیقی مقالے کے مرکزی مصنف ڈڈلی لیمنگ (Dudley Lamming)، جو یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پروٹین فعال افراد میں پٹھوں کی نشوؤنما اور ورزش کے بہتر نتائج کیلئے انتہائی مفید ہے، لیکن چونکہ زیادہ تر لوگ جسمانی طور پر زیادہ متحرک نہیں ہوتے، اس لیے غالب امکان ہے کہ وہ اپنی حقیقی ضرورت سے کہیں زیادہ پروٹین استعمال کر رہے ہیں، جو ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
تاہم مختلف مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحت مند بالغ افراد کو اپنے جسمانی وزن کے ہر ایک کلوگرام کیلئے روزانہ 0.75 گرام پروٹین استعمال کرنی چاہیے۔ اس حساب سے 60 کلوگرام وزن رکھنے والی خاتون کیلئے روزانہ تقریباً 45 گرام جبکہ 75 کلوگرام وزن رکھنے والے مرد کیلئے تقریباً 55 گرام پروٹین کافی سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے کہیں زیادہ پروٹین کا استعمال گردوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔