خلائی ملبہ: جدید خلائی دوڑ کا بڑھتا ہوا خطرہ
اسپیشل فیچر
زمین کے گرد مدار میں تقریباً 17کروڑ ٹکڑے موجود، ہر لمحہ تصادم کا خطرہ
انسان نے گزشتہ چند دہائیوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ مصنوعی سیاروں، خلائی اسٹیشنوں، بین السیارہ مشنز اور نجی خلائی کمپنیوں کی سرگرمیوں نے کائنات کے نئے راز دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ زمین پر مواصلات، موسمیاتی پیش گوئی، نیوی گیشن اور دفاعی نظام کو بھی نئی جہت عطا کی ہے۔ تاہم اس حیرت انگیز ترقی کا ایک تاریک پہلو بھی سامنے آ رہا ہے جسے ''خلائی ملبہ‘‘ (Space Junk) کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف سائنس دانوں ہی کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے، کیونکہ اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں خلائی سرگرمیاں شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق زمین کے گرد مدار میں تقریباً 17کروڑ ایسے ٹکڑے موجود ہیں جنہیں خلائی ملبہ کہا جاتا ہے۔ یہ ملبہ مختلف خلائی مشنز کے بعد خلا میں رہ جانے والے اجزا پر مشتمل ہے، جن میں استعمال شدہ راکٹوں کے بڑے حصے، ناکارہ مصنوعی سیارے، دھاتی ٹکڑے، پیچ، بولٹ، دھماکوں سے پیدا ہونے والے ذرات اور یہاں تک کہ رنگ (پینٹ) کے نہایت باریک ذرات بھی شامل ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام ملبہ تقریباً 700 ارب امریکی ڈالر (555 ارب برطانوی پاؤنڈ) مالیت کے فعال خلائی انفراسٹرکچر کے ساتھ ہی زمین کے گرد گردش کر رہا ہے، جس سے ہر لمحہ تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
اگرچہ خلائی ملبے کے لاکھوں ٹکڑے مدار میں موجود ہیں، مگر ان میں سے صرف 27 ہزار ٹکڑوں کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ باقی ملبہ اتنا چھوٹا ہے کہ اسے مسلسل ٹریک کرنا انتہائی مشکل ہے۔ تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ بے ضرر ہے۔ یہ ذرات تقریباً 27 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ اس رفتار پر چند ملی میٹر کا ایک ذرہ بھی کسی مصنوعی سیارے، خلائی جہاز یا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے ٹکرا جائے تو وہ شدید نقصان پہنچانے یا مکمل تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی ملبہ آج خلائی صنعت کیلئے سب سے بڑے خطرات میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مختلف ممالک اور تحقیقی ادارے نئے طریقوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن خلا کا ماحول زمین سے بالکل مختلف ہونے کی وجہ سے روایتی ٹیکنالوجی وہاں مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر سکشن کپ خلا میں موجود خلا (ویکیوم) کے باعث کام نہیں کرتے، جبکہ انتہائی کم درجہ حرارت کی وجہ سے ٹیپ اور گوند جیسی چپکنے والی اشیا بھی اپنی افادیت کھو دیتی ہیں۔ اسی طرح مقناطیس پر مبنی آلات بھی زیادہ کارآمد نہیں، کیونکہ زمین کے گرد گردش کرنے والے زیادہ تر خلائی ملبے میں مقناطیسی خصوصیات موجود ہی نہیں ہوتیں۔
خلائی ملبہ ہٹانے کیلئے بعض سائنس دانوں نے ہارپون (Harpoon) ، جال (Nets) اور روبوٹک بازوؤں جیسے طریقے تجویز کیے ہیں، لیکن ان پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان طریقوں میں ملبے کے ساتھ براہِ راست اور طاقت کے ساتھ رابطہ کرنا پڑتا ہے، جس سے وہ غیر متوقع سمت میں جا سکتا ہے اور مزید تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ یوں مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
ماہرین کی تشویش صرف ملبے کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ اس کے مقام سے بھی وابستہ ہے۔ زمین کا نچلا مدار اس وقت سب سے زیادہ مصروف علاقہ ہے، جہاں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن، ہبل خلائی دوربین، مواصلاتی اور نیوی گیشن سیٹلائٹس کے علاوہ مختلف ممالک کے انسانی خلائی مشن بھی موجود ہیں۔ اسی طرح جیو اسٹیشنری مدار (Geostationary Orbit) بھی انتہائی اہم ہے، جہاں مواصلاتی، موسمیاتی اور نگرانی کے مصنوعی سیارے مستقل طور پر ایک ہی مقام پر کام کرتے ہیں۔ ان دونوں علاقوں میں خلائی ملبے کی بڑھتی ہوئی مقدار مستقبل کے خلائی منصوبوں کیلئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
اگر خلائی ملبے کی تعداد اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب ایک تصادم دوسرے تصادم کو جنم دے گا اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔ اس کیفیت کو کیسلر سنڈروم (Kessler Syndrome) کہا جاتا ہے، جس میں مدار اتنا آلودہ ہو جاتا ہے کہ نئے مصنوعی سیاروں کا بھیجنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دنیا بھر میں انٹرنیٹ، موبائل مواصلات، بینکاری، موسم کی پیش گوئی، فضائی سفر، بحری جہازوں کی رہنمائی اور عالمی نیوی گیشن جیسے بے شمار شعبے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
خلائی ملبے میں اضافے کے دو بڑے واقعات
سائنسدانوں کے مطابق خلائی ملبے میں غیر معمولی اضافے کے پیچھے دو بڑے واقعات نے اہم کردار ادا کیا۔ پہلا واقعہ فروری 2009ء میں پیش آیا، جب امریکی کمپنی اریڈیم کا ایک ٹیلی کمیونیکیشن مصنوعی سیارہ روس کے فوجی سیٹلائٹ ''کوسموس2251‘‘ سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے کے نتیجے میں ہزاروں نئے ملبے کے ٹکڑے خلا میں بکھر گئے۔
دوسرا اہم واقعہ جنوری 2007ء میں پیش آیا، جب چین نے ایک پرانے فینگ یون موسمیاتی مصنوعی سیارے کو اینٹی سیٹلائٹ میزائل سے تباہ کر کے اپنے ہتھیار کا تجربہ کیا۔ اس کارروائی سے بھی خلائی مدار میں بڑی مقدار میں خطرناک ملبہ پیدا ہوا، جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
خلائی ملبہ زمین پر بسنے والوں کیلئے بھی خطرناک؟
خلائی ملبہ بظاہر خلا کا مسئلہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اثرات براہِ راست زمین پر بسنے والے انسانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین زور دے رہے ہیں کہ خلائی تحقیق کے ساتھ ساتھ خلائی صفائی کو بھی عالمی ترجیح بنایا جائے۔
نئی ٹیکنالوجی کی تیاری، بین الاقوامی قوانین، خلائی مشنز کی ذمہ دارانہ منصوبہ بندی اور عالمی تعاون ہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو انسان کی خلائی کامیابیاں مستقبل میں اسی خلائی ملبے کے بوجھ تلے دب سکتی ہیں۔