نو عمر لڑکے کا کمال
اسپیشل فیچر
دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیار
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عمر کبھی بھی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ آج کے دور میں نوجوان ذہن اپنی تخلیقی سوچ، اختراعی صلاحیتوں اور سائنسی مہارت کے بل بوتے پر ایسے کارنامے انجام دے رہے ہیں جو ماضی میں صرف تجربہ کار سائنس دانوں اور انجینئروں سے منسوب سمجھے جاتے تھے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور مائیکرو انجینئرنگ جیسے شعبوں میں نوجوان نسل کی غیر معمولی دلچسپی نت نئی ایجادات کو جنم دے رہی ہے، جو نہ صرف سائنسی دنیا کو حیران کر رہی ہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کا رخ بھی متعین کر رہی ہیں۔ایسی ہی ایک حیران کن مثال ایک نوعمر انجینئر نے قائم کی ہے، جس نے دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیار کر کے عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ یہ اس نوجوان کی دوسری ریکارڈ ساز ایجاد ہے، جو اس کی غیر معمولی ذہانت، مسلسل محنت اور سائنسی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کامیابی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ اگر نوجوانوں کو مناسب رہنمائی، وسائل اور مواقع میسر ہوں تو وہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
17 سالہ طالب علم ہیتن نے رواں سال جنوری میں دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیار کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ مائیکرو انجینئرنگ کے شعبے میں مزید عالمی ریکارڈز لانے کے خواہشمند ہیتن کا کہنا ہے کہ میرا ذاتی مقصد یہ ہے کہ میں ہر سال ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کروں۔ ہیتن کی انتہائی چھوٹی چیزیں تیار کرنے (extreme miniaturisation) سے متعلق تحقیق کے دوران ان کی نظر اس شعبے کے سابق عالمی ریکارڈ ہولڈر کیلٹن سیرا(Kelton Serra) پر پڑی، جنہوں نے 16 مئی 2024ء کو یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ ان کا تیار کردہ روبوٹک بازو 44.49 ملی میٹر (1.75 انچ) لمبا تھا۔ہیتن کی ریکارڈ ساز کوشش میں تیار کیا گیا روبوٹک بازو اس سے 5 ملی میٹر چھوٹا تھا۔ اس کی لمبائی صرف 39.25 ملی میٹر (1.54 انچ) تھی، یعنی یہ تقریباً ایک عام پیپر کلپ سے کچھ ہی بڑا تھا۔ہیتن جانتے تھے کہ ریکارڈ بنانے کی اس کوشش کا ایک اہم مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ انتہائی درستگی کے حامل مائیکرو مینوفیکچرنگ کیلئے کسی بڑے اور جدید ترین لیبارٹری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پیچیدہ اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے میکینکل نظاموں کو چھوٹے پیمانے پر ایک سادہ گھریلو ورک اسپیس میں بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔
اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے، ہیتن نے ایسے ''آسانی سے دستیاب پرزہ جات‘‘ تلاش کرنے پر وقت صرف کیا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ جدید ترین اور عالمی معیار کی جدت طرازی عام دستیاب ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔انہوں نے اپنے ڈیزائن کے ابتدائی خاکے بنانا شروع کیے اور صرف دو ماہ بعد ان کے پاس دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو کا ایک مکمل طور پر فعال نمونہ (Prototype) تیار تھا۔ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو بنانے کے تجربے کے بارے میں پوچھے جانے پر ہیتن نے بتایا کہ میں نے جدید سی اے ڈی (CAD) سافٹ ویئر کی مدد سے میکینکل ڈھانچے کا ڈیزائن بالکل ابتدا سے تیار کرنا شروع کیا۔ جب ڈیجیٹل سمیولیشن(digital simulation) کامیاب اور درست نظر آئی تو میں نے اس کے بیرونی خول اور بیس پلیٹس (Baseplates) تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیں۔
ہیتن نے یہ مکمل منصوبہ اپنے گھر میں موجود ورک اسپیس سے ہی مکمل کیا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ جگہ کی کمی ان کیلئے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔انہوں نے کہاکہ 39.250 ملی میٹر کے انتہائی مختصر فریم میں کنٹرول ماڈیول، پیچیدہ وائرنگ اور ایکچیویٹرز (Actuators) کو نصب کرنا بعض اوقات انتہائی پریشان کن مرحلہ ثابت ہوا۔ اس دوران مجھے کئی ناکام پروٹوٹائپس کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جگہ بچانے کیلئے اگر میں تھری ڈی پرنٹ شدہ ڈھانچے کو بہت زیادہ پتلا بنا دیتا تو وہ کمزور ہو جاتا اور موٹرز کے ٹارک (Torque) کے دباؤ کو برداشت نہ کر پاتا اور ٹوٹ جاتا۔
ہیتن کا تیار کردہ ڈیزائن نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کا شاندار ثبوت ہے بلکہ کئی صنعتوں کیلئے ایک اہم اور مثبت پیش رفت بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طبی شعبے میں ان کی ایجاد جیسی مائیکرو روبوٹک ٹیکنالوجی مستقبل میں پیچیدہ جراحی (سرجری) کے دوران مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ الیکٹرانکس کی صنعت میں یہ انتہائی درستگی کے ساتھ مائیکرو چِپس کی تیاری میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ہیتن کے مطابق، انتہائی باریک اور درست پیمانے پر کام کرنے والی یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جہاں چھوٹے سے چھوٹا آلہ بھی بڑے اور اہم کام انجام دے سکے گا۔
اب دو مرتبہ گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کرنے والے ہیتن کی میکینکل کامیابیاں بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف نوعیت کی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ روبوٹک بازو تیار کرنے کیلئے جسمانی اور الیکٹرو مکینیکل ٹارک پر عبور حاصل کرنا ضروری تھا۔ ایسی چیز بنانا جو صرف معلومات کو پراسیس نہ کرے بلکہ بڑے صنعتی روبوٹس کی طرح تین محوروں میں حرکت بھی کر سکے، حقیقی طور پر چھوٹی اشیا تک پہنچ سکے، انہیں مضبوطی سے پکڑ سکے اور بغیر گرائے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکے، ایک بالکل مختلف قسم کا میکینکل چیلنج تھا۔
مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور الیکٹرانکس سے گہری دلچسپی رکھنے والے ہیتن کی صلاحیتیں صرف روبوٹک بازو بنانے تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک آف لائن اشاروں کی زبان کا ترجمہ کرنے والی موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کی ہے، جس کا مقصد ابلاغی رکاوٹوں کو کم کرنا اور سماعت سے محروم افراد کیلئے رابطے کو آسان بنانا ہے۔