ٹال مٹول :کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ
اسپیشل فیچر
کیا آپ خوابوں میں کھوئے رہنے والے ہیں، باغی مزاج ہیں یا ہر وقت ایک کام سے دوسرے کام کی طرف بھٹکتے رہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ممکن ہے آپ بھی ٹال مٹول (Procrastination) کی کسی نہ کسی قسم کا شکار ہوں۔ عام طور پر کام کو مؤخر کرنا محض سستی یا کاہلی سمجھا جاتا ہے، لیکن جدید نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ اس رویے کے پیچھے مختلف ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ماہرین نے ٹال مٹول کرنے والے افراد کی نو مختلف اقسام کی نشاندہی کی ہے، جن میں فکر مند، کمال پسند، خوابوں میں کھوئے رہنے والے، بار بار توجہ بدلنے والے، باغی مزاج، سنسنی کے متلاشی، فوری آسائش پسند اور شدید تھکن کے شکار افراد شامل ہیں۔ ہر قسم کی اپنی الگ وجوہات اور مسائل ہیں، اسی لیے ان کے حل بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اگر انسان اپنی شخصیت اور رویوں کو صحیح طور پر پہچان لے تو نہ صرف ٹال مٹول کی عادت پر قابو پا سکتا ہے بلکہ اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ذاتی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کر سکتا ہے۔
نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹال مٹول کرنے والے افراد درحقیقت نو مختلف اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں۔ اگر آپ ''ڈریمر‘‘ یعنی ''خوابوں میں کھوئے رہنے والے‘‘ ہیں تو غالب امکان ہے کہ آپ مستقبل کے حسین خواب دیکھنے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، جس کی وجہ سے حال میں انجام دیے جانے والے ضروری کام نظر انداز ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ''باغی مزاج‘‘ افراد کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی پر ان کا اختیار کم ہے، اس لیے وہ اپنی خودمختاری ظاہر کرنے اور اختیار رکھنے والوں کے خلاف خاموش احتجاج کے طور پر کام کو جان بوجھ کر مؤخر کرتے ہیں۔جبکہ ''زگ زیگر‘‘ (Zigzagger) وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی توجہ بار بار مختلف کاموں اور سرگرمیوں کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہے، اس لیے وہ کسی ایک ضروری کام پر اتنی دیر تک توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے کہ اسے مکمل کر سکیں۔
کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ محقق ڈاکٹر اتامار شاٹز (Dr Itamar Shatz) نے ٹال مٹول کرنے والوں کی ان تمام نو اقسام کیلئے مؤثر طریقۂ کار بھی پیش کیا ہے۔ان کے بقول ٹال مٹول پر قابو پانے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ اپنے دن کے ہر لمحے کو زیادہ سے زیادہ پیداواری بنائیں، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ آپ وہ کام، جو آپ کرنا چاہتے ہیں، اپنی مرضی کے وقت بغیر کسی احساسِ جرم یا ذہنی دباؤ کے انجام دے سکیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وقت گزارنے کا فیصلہ آپ خود کریں، نہ کہ ٹال مٹول کی عادت آپ سے یہ اختیار چھین لے۔
یہ خیالات ڈاکٹر ایتامار شاٹز نے اپنی نئی کتاب میں پیش کیے ہیں، جس میں انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ لوگ آخر ٹال مٹول کیوں کرتے ہیں اور اس عادت پر قابو پانے کیلئے کون سے مؤثر طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شاٹز کے مطابق ٹال مٹول صرف حوصلے کی کمی یا وقت کے ناقص انتظام کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے پس پردہ مختلف نفسیاتی اور جذباتی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ ٹال مٹول دراصل انسان کے اندر موجود دو متضاد رجحانات کی کشمکش کا نتیجہ ہے، ایک طرف وہ محرکات جو ہمیں عمل پر آمادہ کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ عوامل جو ہمیں کام مؤخر کرنے پر اکساتے ہیں۔
فکر مند افراد اس خدشے میں مبتلا رہتے ہیں کہ اگر وہ کوئی قدم اٹھائیں گے تو کہیں معاملات خراب نہ ہو جائیں، اسی لیے وہ مشکلات سے بچنے کی خاطر ضروری کام بھی مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس مایوس مزاج لوگ اپنی کامیابی کے امکانات کو بہت کم سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کوشش کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔
کمال پسند افراد ہر کام کو بے عیب اور مکمل انداز میں انجام دینا چاہتے ہیں، لیکن غلطی کے خوف یا ناقابلِ حصول معیار کی وجہ سے وہ اکثر کام شروع کرنے یا مکمل کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
اسی طرح سنسنی کے متلاشی افراد آخری وقت میں شدید دباؤ کے تحت کام کرنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ فوری آسائش پسند لوگ موجودہ لمحے کی راحت اور خوشی کو ترجیح دیتے ہیں اور ضروری ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
آخر میں شدید تھکن کے شکار افراد جسمانی یا ذہنی طور پر اس قدر نڈھال ہوتے ہیں کہ ضروری کام انجام دینے کی توانائی نہیں پاتے۔ عموماً اس کی وجہ حد سے زیادہ کام کرنا یا ایسا کام ہوتا ہے جو ذہنی دباؤ، بے مقصدیت یا شدید تھکاوٹ کا باعث بن رہا ہو۔
ٹال مٹول سے بچنے کا حل
جہاں تک ٹال مٹول پر قابو پانے کا تعلق ہے، ڈاکٹر شاٹز کا کہنا ہے کہ اس کا حل اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ٹال مٹول کرنے والوں کی کس قسم سے تعلق رکھتے ہیں، اگرچہ مختلف اقسام کیلئے تجویز کردہ بعض طریقوں میں ایک دوسرے سے مماثلت بھی پائی جاتی ہے۔
اگر آپ فکر مند (Worrier) ہیں تو وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے خوف کو واضح طور پر پہچانیے، بڑے کام کو چھوٹے اور قابلِ عمل حصوں میں تقسیم کیجیے، کمال پسندی کی عادت ترک کیجیے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتمادبڑھانے کی کوشش کیجیے۔
اس کے برعکس بار بار توجہ بدلنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ واضح اور ٹھوس اہداف مقرر کریں، ان کے حصول کیلئے درکار چھوٹے چھوٹے مراحل تحریری شکل میں طے کریں تاکہ توجہ برقرار رہے اور کام ادھورا نہ رہ جائے۔
اسی طرح سنسنی کے متلاشی افراد کیلئے بہتر ہے کہ وہ اپنے لیے متعدد چھوٹی ڈیڈ لائنز مقرر کریں، اپنے جسمانی اور ذہنی معمولات کے مطابق کام کا شیڈول بنائیں اور اگر کسی کام کو مؤخر کرنا ہی ہو تو اس دوران کسی دوسرے مفید اور ضروری کام میں مصروف رہیں۔
اگرچہ یہ مشورے بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ٹال مٹول کی عادت پر قابو نہ پایا جائے تو یہ انسان کی ذاتی زندگی، تعلیمی کارکردگی اور پیشہ ورانہ مستقبل کیلئے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
ٹال مٹول کرنے والے افراد کی اقسام
سینکڑوں تحقیقی مطالعات کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر شاٹز نے ٹال مٹول کرنے والے افراد کی نو اقسام کی نشاندہی کی ہے۔
(1) فکر مند (Worriers)، (2)مایوس مزاج (Pessimists)،
(3)کمال پسند (Perfectionists)، (4) شدید تھکن کے شکار (Burnouts)
(5)بار بار توجہ بدلنے والے (Zigzaggers)، (6)باغی مزاج (Rebels)،
(7) سنسنی کے متلاشی (Thrill Seekers)، (8)فو ری آسائش پسند (Hedonists) (9) خوابوں میں کھوئے رہنے والے (Dreamers)