پارلیمنٹ کا سفر…تاریخ کے آ ئینہ میں

پارلیمنٹ کا سفر…تاریخ کے آ ئینہ میں

اسپیشل فیچر

تحریر : اے ایس شاہ


پہلی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس 10اگست 1947ء کو سندھ اسمبلی کی عمارت میںہواتقسیم ہند کا منصوبہ فائنل ہوا تو تین جون 1947ء کو لارڈ ماونٹ بیٹن نے ہندوستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ایک اہم اجلاس بلایا تاکہ منقسم ہندوستان کی دو آزاد ریاستوں بھارت اور پاکستان کو اختیارات کی منتقلی کے منصوبے سے آگاہ کر سکیں۔اس ضمن میں26جولائی 1947ء کو گزٹ آف انڈیا کا ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔اس نوٹیفیکیشن میں پاکستان کی پہلی دستور اسمبلی کے ڈھانچے کی منظوری دی گئی جس کے مطابق اسمبلی ایک خاتون رکن سمیت 66 ارکان پر مشتمل ہو گی ۔پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس 10اگست 1947ء کو سندھ اسمبلی کراچی کی عمارت میں طلب کیا گیا۔جس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے فرمائی ۔11اگست 1947ء کو قائداعظم محمد علی جناح متفقہ طور پراسمبلی کے صدر چن لیے گئے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے پرچم کے ڈیزائن اور سائز کی منظوری بھی دی گئی ۔12اگست 1947ء کو اسمبلی کی کارروائی کے دوران محمد علی جناح کو سرکاری طور پر قائد اعظم کے خطاب سے نوازا گیا ۔ اسی دن ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔اس کمیٹی کا بنیادی مقصد پاکستان کے شہریوں اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کرانا تھا ۔ 14اگست 1947ء کو تمام اختیارات کی منتقلی کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچا۔لارڈ ماونٹ بیٹن گورنر جنرل آف انڈیا نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کیا ۔قائداعظم نے نئی ریاست پاکستان کے لیے کارہائے اصولوں پر مبنی ایک جامع جوابی تقریر فرمائی۔ 15 اگست 1947 ء کو قائداعظم نے بطور گورنر جنرل پاکستان حلف اٹھایا ۔پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا سب سے بڑا مقصد آئین کی تشکیل تھا، تاہم مہاجرین کے مسائل پر پوری توجہ مرکوز کرنے کے باعث اس اہم کام میں تاخیر ہوتی رہی۔12 مارچ 1949ء کوقرارداد مقاصد منظور ہوئی۔ اس قرارداد میںوہ بنیادی نکات شامل کیے گئے جن کو بنیاد بنا کر آئین پاکستان بنایاجانا تھا۔ یہ قراردادپاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے پیش کی تھی۔ 12مارچ کو ہی 24 رکنی کمیٹی بنائی۔ جس کے ذمے یہ ہدف لگایاگیاکہ وہ قرارداد مقاصد کے نکات کی روشنی میں پاکستان کے پہلے آئین کے خدوخال واضح کرے۔ 16 اکتوبر 1951ء کو قرارداد مقاصد کے محرک نوابزادہ لیاقت علی خان کوقتل کردیا گیا۔ اور انکی جگہ خواجہ ناظم الدین نے 17 اکتوبر 1951ء کو وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ 1954ء میںبنیادی کمیٹی نے آئین کا ڈرافٹ فائنل کیا۔ اسی دوران محمدعلی بوگرہ نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا۔اسمبلی نے گورنر جنرل کے اختیارات میں کمی کا قانون پاس کیا،مگر اس دوران گورنر جنرل غلام محمد نے اسمبلی برخاست کردی گئی۔ اسمبلی برخاست کرنے کی کارروائی گورنر جنرل غلام محمد نے 24 اکتوبر 1954ء کو کی۔ اگلے عام انتخابات سے قبل تمام اختیارات غلام محمد نے قبضے میں لے لئے۔غلام محمد کے اقدامات کوسپیکر اسمبلی مولوی تمیز الدین نے سندھ کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت نے مولوی تمیز الدین کی اس رٹ کو منظور کرتے ہوئے اس برخاستگی کو غیر آئینی قرار دیا ۔وفاقی حکومت نے اس فیصلہ کے خلاف فیڈرل کو رٹ میںاپیل کی اور جسٹس منیر نے سندھ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کرغلام محمدکے فیصلہ کی توثیق کر دی۔گورنر جنرل نے اپنے حکم نمبر 12، 1955ء کے تحت 28مئی 1955ء کو پاکستان کی دوسری قانون ساز اسمبلی کے قیام کی منظوری دی ۔یہ ا سمبلی 80ارکان پر مشتمل تھی۔اس اسمبلی نے پاکستان میں ون یونٹ سسٹم کی منظوری دی تاکہ پاکستان کے دونوں خطوں کے عوام کو برابری کی سطح پر نمائندگی مل سکے اور احساس کمتری کا خاتمہ ہو ۔اس اسمبلی نے پاکستانی عوام کو پہلے آئین کا تحفہ دیا ۔وزیراعظم چوہدری محمد علی کی قیادت میں 1956ء کے آئین کے مسودے کی منظوری 9جنوری 1956ء کو ہوئی اور 29فروری 1956ء کو قانون ساز اسمبلی کے بحث و تمیض کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔جبکہ 2مارچ 1956ء کو گورنر جنرل نے بھی اس آئین کی سمری پر دستخط کر دیئے۔یوں 23مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ العمل ہوا ۔5مارچ 1956ء کو میجر جنرل سکندر مرز ا پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہو ئے ،1956ء کے آئین کے مطابق نظام حکومت پارلیمانی طرز کا طے پایا۔ مغربی اور مشرقی پاکستان سے برابری کی سطح پر 310ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ وجود میں آئی۔جبکہ دونوں ونگز سے پانچ پانچ خواتین بھی دس سال کے لیے منتخب ہوئیں ۔سکندر مرزا نے 7اکتوبر 1958ء کو قومی و صوبائی اسمبلیوں کو برخاست کر کے مارشل لا نافذکیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر مقرر کر دیا ۔چند دنوں بعد ایوب خان نے سکندر مرزا ہی کوچلتا کیا۔27اکتوبر1958ء کو جنرل ایوب خان نے پاکستان کے دوسرے صدر کا حلف اٹھایا ۔بطور صدرپاکستان جنرل ایوب خان نے 17فروری 1960ء کوایک آئینی کمیشن مقررکیا ۔اس کمیشن کے قیام کا مقصد پاکستان میں جمہوریت کی فروغ کے لیے نئی تجاویز و سفارشات مرتب کرنا تھا ۔ کمیشن نے 29اپریل 1960کو اپنی سفارشات پیش کر دیں۔ان سفارشات کی روشنی میں آئین بنایا گیا اور یکم مارچ 1962کو قوم کے سامنے پیش کردیا ۔1962ء کا آئین صدارتی طرز کا تھا۔پاکستان کی اس تیسری قا نون سازاسمبلی کا پہلا باقاعدہ اجلاس 29اپریل 1962ء کو بلایا گیا ۔یہ اجلاس ایوب ہال راولپنڈی میں منعقد ہوا ۔اس اسمبلی نے 1962ء کے آئین کی منظوری دی ۔25مارچ 1969ء کو یحییٰ خان نے دوسر ا مارشل لاء نافذ کر دیا اوربیک وقت صدر پاکستان اور مارشل لاء ایڈمنسٹر کے عہدے کا چارج اپنے پاس رکھا۔ 7دسمبر 1970ء کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا ۔آبادی کی بنیاد پر ارکان کی تعداد کا تعین کیا گیا ۔313ارکان پر مشتمل اسمبلی میں169ارکان مشرقی پاکستان سے اور 114 ارکان مغربی پاکستان سے لیے گئے۔ جبکہ مشرقی پاکستان سے 7اور مغربی پاکستان سے 6 خواتین ارکان کے چنائو کا فیصلہ کیا گیا۔ 1947ء سے 1970ء تک پاکستان میں کوئی مستحکم نظام حکومت قائم نہ ہو سکا۔ فوج کی بار بار مداخلت اور مارشل لاء کے نفاذ نے یہا ں جمہوریت کو پنپنے ہی نہ دیا گیا۔ 20دسمبر1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے صدر اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹرکا حلف اٹھایا۔ پاکستان کی چوتھی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 14اپریل 1972ء کو سٹیٹ بنک بلڈنگ اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کے 144ارکان کے ساتھ مشرقی پاکستان اسمبلی کے دو ارکان نورالامین اور راجہ تری دیو نے شرکت کی۔ 17اپریل 1972ء کو اسمبلی نے ایک عبوری آئین کی منظوری دی۔ اس آئین کے تحت اس اسمبلی کو 14اگست 1973ء تک برخاست نہیں کیا جاسکے گا۔ اسمبلی نے ایک کمیٹی بنائی جس کے ذمہ آئین کے خدوخال واضح کرنا تھا۔ کمیٹی نے 31دسمبر 1972ء کی اپنی سفارشات اسمبلی میں پیش کیں۔ اور 10اپریل 1973ء کو پاکستان کے پہلے متفقہ آئین کی منظوری دے دی گئی۔ یہ آئین 14اگست 1973ء سے نافذالعمل ہوا۔ اسی دن ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر اعظم اور چوہدری افضل نے صدر پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ 1973ء کے آئین میں وزیراعظم کو ریاست کے ایگزیکٹو کے تمام اختیارات تفویض کیے گئے۔ صدر وفاق کی علامت کے طور پر پاکستان کا سب سے اعلیٰ عہدہ قرارپایا۔ 1973ء کے آئین میں صدر قومی اسمبلی اور سینٹ کو بہت اہمیت دی گئی۔ قانون سازی کے لیے پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی میں کوئی بھی بل بحث کے بعد ووٹنگ میں دو تہائی ووٹوں کی منظوری سے سینٹ میں جائے گا۔ سینٹ کی منظوری کے بعد صدر پاکستان کے دستخط سے بل قانون شکل اختیار کر جائے گا۔ اور نافذالعمل ہوگا ۔ اسمبلی میں ارکان کی تعداد 210ہو گی ۔ جبکہ ایوان بالا یعنی سینٹ 63ارکان پر مشتمل ہوگا ۔ بعد ازاں 1985میں ایک صدرتی حکم نمبر 14، 1985ء کے تحت قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد 273اور سینٹ میں 87 ارکان کی تعدادکی منظوری دی ۔ پارلیمنٹ کی مدت 5سال ہو گی۔ صوبوں کی آبادی کے تناسب سے ارکان کی تعداد متعین کی گئی۔ جبکہ سینٹ میں چاروں صوبوں سے برابر کی نمائندگی د ی گئی۔ 7جنوری 1977ء کو منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا۔ اور ذوالفقار علی بھٹو کی سفارش پر صدر چوہدری فضل الہی نے اسمبلیاں برخاست کر دیں۔ 7مارچ 1977ء عام انتخابات کا انعقاد ہوا انتخابات میں الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو ئی،تاہم اپوزیشن نے دھندلی کا الزام لگا کر تحریک شروع کر دی۔ اس سیاسی کشمکش نے تیسرے مارشل لاء کو دعوت دی۔ قریب تھا کہ حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کامیا ب ہو جاتے، مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے بعد میں دعویٰ کیا کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے، تاہم جنرل ضیا الحق نے 5جولائی 1977ء کو تیسرا مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اپنی پہلی تقریر میں 90دنوں میں منصفانہ انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔ 24دسمبر1981ء کو ضیاء الحق نے اپنے صدارتی فرمان کے تحت مجلس شوریٰ بنانے کا حکم صادر فرمایا۔ مجلس شوریٰ کے ارکان کا چنائو صدر ضیاء الحق نے کیا۔ اس مجلس شوریٰ کا اجلاس 11جنوری1982ء کو ہوا ۔ جس میں مشروط سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دی گئی۔پچیس جنوری 1985ء کو ملک بھر میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے اس سے پہلے کہ نئی منتخب پارلیمنٹ حلف اٹھاتی 2مارچ 1985ء کو آئین میں متعدد تبدیلیاں اور ترامیم کی منظوری دی گئی۔ 20مارچ 1985ء کے اجلاس میںقانون ساز اسمبلی نے محمد خان جو نیجوو کو وزیر اعظم منتخب کر لیا۔ محمد خان جو نیجو آٹھویں ترمیم کا شکار ہوئے اوربر طرف کر دیئے گئے۔ موجودہ پارلیمنٹ کی بلڈنگ کا افتتاح 28 مئی 1986کو ہوا اور3نومبر1986کو سپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر اس کی آرائش و تزئین کی گئی۔آٹھویں قومی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد 16نومبر1988ء کو ہوا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے اعزاز کے ساتھ حلف اٹھایا۔ لیکن اس اسمبلی کی مدت محض 20ماہ رہی۔ صدر غلام اسحاق خان نے بد عنوانی کے الزامات کی آڑ میں اسمبلیاں برخاست کر دیں۔ 24اکتوبر 1990ء کو عام انتخابات کا انعقاد کرایا ۔ ان انتخابات میں جیتنے والی جماعت مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ بد قسمتی سے یہ اسمبلی بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور بد عنوانی کے الزام میں اس حکومت کو بھی چلتا کر دیا گیا۔یہ اسمبلی غلا م اسحاق خان کی ہٹ دھرمی کے باعث ٹوٹی، سپریم کورٹ نے اسے بحال کیا ،مگر ایوان صدر اور وزیراعظم کے درمیان جنگ شدید ہوگئی ، آخر دونوں کوجانا پڑا۔ پاکستان کی دسویں قومی اسمبلی کے انتخابات 6اکتوبر 1993ء کو منعقد ہوئے۔ 15اکتوبر 1993ء کو بلائے گئے اجلاس میں یوسف رضا گیلانی نے سپیکر کے عہدے کاحلف اٹھایا اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزرات عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئیں۔پیپلزپارٹی کے اپنے منتخب کردہ صدر فاروق لغاری نے 5نومبر1996ء کواپنی ہی حکومت کا کرپشن اور نااہلی کی بنیاد پرخاتمہ کر دیا۔ 3فروری 1997ء کو عام انتخابات ہوئے۔ 15فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا۔ الہی بخش سومرو نے بطورسپیکر قومی اسمبلی کا حلف اٹھایا اور نوازشریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے۔ کارگل کی جنگ کے بعد سول حکومت اور جی ایچ کیو کے مابین کشیدگی پیدا ہوئی، حالات بے یقینی کا شکار ہوئے فوجی قیادت اور منتخب وزیر اعظم کے درمیان اختلافات بڑھے تو سیاسی بساط کو پھر سے لپیٹ دیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو معزول کیا اور چیف ایگزیکٹو کے اختیارا ت کی آڑ میں ایمر جنسی نافذ کر دی۔ ایک مرتبہ دوبارہ آئین معطل ہوا قومی و صوبائی اسمبلیاں برخاست ہوئیں ۔ کچھ عرصہ بعد ور صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ سے استعفیٰ لے کر جنرل پرویز مشرف خود صدر کے عہدے پر قابض ہوئے۔عالمی برادری کے سامنے اعتبار بنانے کے لئے جنرل مشرف کو بھی الیکشن کرانے پڑے، اگرچہ اس نے دانستہ دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو جلاوطن کئے رکھا۔ پاکستان کی بارھویں قومی اسمبلی کے لیے انتخابات 10اکتوبر 2002میں منعقد ہوئے۔ ظفر اللہ جمالی وزیر اعظم بنے ۔ بعدازاں ان کو ہٹاکر کے شوکت عزیز کو یہ منصب سونپا گیا۔ اس اسمبلی نے اپنی مدت مکمل کی ، جنوری 2008میں الیکشن کا اعلان ہوا،محمد میاں سومرو قائم مقام وزیر اعظم بن گئے۔ یہ خونی انتخابات تھے جس کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کی دو مرتبہ منتخب وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ الیکشن کچھ دنوں کے لئے ملتوی ہوئے، اٹھارہ فروری کو انتخابات ہوئے ، جن میں پی پی پی اکثریتی جماعت بن کر ابھر آئی اور سید یوسف رضا گیلانی نے 16 نومبر 2007ء کو وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔ جبکہ قومی اسمبلی کی سپیکر محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا منتخب ہوئیں۔تقریباً چار سال بعد عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان آئینی جنگ کے سلسلے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو وزرات عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔ انہیں توہین عدلیہ کے جرم کی پاداش میں ملنے والی 30سیکنڈ کی سزا نے نہ صرف اس عہدے سے محروم کیا بلکہ وہ اپنی اسمبلی نشست سے بھی نااہل قرار پائے۔ 22جون 2012ء کو پاکستان کے 17ویں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنا حلف اٹھایا۔اسمبلی کی مدت مکمل ہونے تک وہی وزیراعظم رہے، جس کے بعد پہلی مرتبہ متفقہ طورپر نگران حکومت کا سیٹ بنایا گیا جنہوں نے 11مئی 2013کو پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد کروایا۔ ان انتخابات میں نئے رجحانات کھل کر سامنے آئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اکثر یتی جماعت بن کر سامنے آئی۔جماعت کے قائدمیاں محمد نواز شریف آئندہ چند دنوں تک پاکستان کے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے ۔ دوسرے نمبر پر حکمران جماعت پی پی پی نشستیں حاصل کیں ۔اے این پی جیسی سیکولر بری طرح پٹ گئی، بعض مذہبی جماعتیں بھی ناکام ہوئیں۔ صرف جمعیت العلمائے اسلام اور جماعت اسلامی قومی اسمبلی میں عوامی نمائندگی کے لیے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہری۔ عمران خان کی تحریک انصاف اہم جماعت بن کر ابھری۔ ایک صوبے میں حکومت بنانے کے مینڈیٹ کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں بھی ان کی حاضری نمایاں رہے گی۔ پارلیمنٹ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہو تا ہے اور اسکی آئینی حیثیت میں مداخلت کا حق کسی بھی ادارے کے پاس نہیں ہوتا چاہے وہ ادارہ ہمیں کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو۔ پارلیمنٹ کو عوام اپنے ووٹوں سے حقِ حکومت تفویض کرتے ہیں لہذا حکومت کو ہٹا نے کا اختیار بھی پارلیمنٹ کے پاس ہو تا ہے۔ ہمارے آئین میں کئی عشروں تک 58-2 b آئین کا حصہ رہی جس میں صدرِ پاکستان کو اختیار حاصل تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کر دے اس58-2 bنے جو گل کھلائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ موجودہ اسمبلی خوش قسمت ہے کہ صدرِ پاکستان نے اپنے سارے اختیارات پارلیمنٹ کو تفویض کر دئے ہیں تا کہ پارلیمنٹ کے سر پر لٹکتی 58-2 b کی تلوار اس کی آزادی کو سلب نہ کر سکے ۔پاکستانی عوام دعاگو ہے کہ یہ 14ویں قومی اسمبلی ان کے روشن مستقبل کی نوید لے کر کام کرے اور پاکستان میں سے غربت، جہالت، بیماری، بیروزگاری دہشت گردی، توانائی کے بحران بدعنوانی ، اقربا پروری اور صوبائی تعصبات جیسے مسائل کو حل کرسکے۔ ٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اشاروں کی زبان کا عالمی دن

اشاروں کی زبان کا عالمی دن

ہر سال 23 ستمبر کو دنیا بھر میں اشاروں کی زبان کا عالمی دن (World Sign Language Day)منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان لاکھوں افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں،مگر اشاروں کی زبان سے ابلاغ کرتے ہیں۔ یہ دن نہ صرف اشاروں کی زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ سماعت سے محروم افراد کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔اشاروں کی زبان کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ جب انسان کو بولنا نہیں آتا وہ ہاتھوں کے اشاروں سے اپنی بات سمجھاتا ہے۔ 1620ء میں ایک ہسپانوی پادری نے گونگے بہرے لوگوں کو اشاروں کی مدد سے تقریر سکھانے پر پہلی کتاب لکھی۔ 1817ء میں امریکہ میں سماعت سے محروم افراد کے لیے ایک سکول قائم کیا گیا جہاں امریکن سائن لینگویج ایجاد کی گئی۔1951ء میں روم، اٹلی میں ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف (WFD) کی بنیاد رکھی گئی جو اپنے شعبے میں دنیا کی سب سے قدیم بین الاقوامی تنظیم ہے۔ اسی تنظیم کی کوششوں سے 1958ء میں انٹرنیشنل ڈے آف دی ڈیف کا آغاز ہوا۔ دسمبر 2017 ء کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے، 2018ء میں اقوام متحدہ نے پہلی بار 23 ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن قرار دیا۔ یہ تاریخ ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف کے قیام کی سالگرہ کے طور پر منتخب کی گئی۔ پہلا عالمی دن 2018ء میں منایا گیا۔اشاروں کی زبان کیا ہے؟اشاروں کی زبان صرف ہاتھوں کے اشاروں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل زبان ہے جو ہاتھوں، چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات کے امتزاج سے بنتی ہے، اور اس کی اپنی گرامر اور ساخت ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 300 سے زائد مختلف اشاروں کی زبانیں استعمال ہوتی ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً سات کروڑ سے زائد افراد بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں، جو ملک میں خصوصی افراد کی مجموعی آبادی کا ساڑھے سات فیصد ہیں۔اشاروں کی زبان کے عالمی دن کا بنیادی مقصد سماعت سے محروم افراد کے انسانی حقوق کے مکمل ادراک کے لیے اشاروں کی زبان کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن اشاروں کی زبان کو بولی جانے والی زبانوں کے برابر حیثیت دلانے اور گونگے بہرے افراد کی لسانی پہچان کو محفوظ بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ہر سال اس دن کا ایک خاص موضوع ہوتا ہے۔ 2026ء کا تھیم Declaring deaf people's human rightsہے۔پاکستان کے تناظر میںاشاروں کی زبان کا عالمی دن پاکستان میں بھی بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔ پاکستان سائن لینگویج (PSL) کے نام سے مشہور اشاروں کی زبان تقریباًڈھائی لاکھ قوت گویائی سے محروم پاکستانیوں کی بنیادی زبان ہے۔ حالیہ برسوں میںPSL کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ دسمبر 2025ء میں وزارت وفاقی تعلیم نے 948 PSL اشاروں کے معیار پر قومی اتفاق رائے حاصل کیا جبکہ اس سال مارچ میں 1800 PSL اشاروں کا قومی مجموعہ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا۔اس دن کی اہمیت کے باوجود قوتِ سماعت و گویائی سے محروم افراد کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان سائن لینگویج کے لیے معیاری وسائل کی کمی، پیشہ ور مترجمین کی عدم دستیابی اور تعلیمی اداروں میں PSL کے نصاب کی عدم موجودگی جیسے مسائل موجود ہیں۔ ایک ماہر نے درست نشاندہی کی کہ اشاروں کی زبان کوئی احسان نہیں بلکہ ایک حق ہے جو خصوصی افرادکے لیے مساوی مواقع کا ایک لازمی پل ہے۔اشاروں کی زبان کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی بھی اظہار کی ایک زبان ہے۔ یہ دن سماعت سے محروم افراد کے حقوق کے تحفظ، ان کی لسانی پہچان کے احترام اور معاشرے میں ان کی مکمل شمولیت کے عزم کی تجدید کا موقع ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو صرف ایک رسمی تقریب تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں اشاروں کی زبان کی اہمیت کو سمجھیں اور اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔

سولر پینلز اب سمندر کی گہرائیوں میں

سولر پینلز اب سمندر کی گہرائیوں میں

سورج کو توانائی کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ مانا جاتا ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں میں شمسی توانائی نے دنیا کے توانائی کے منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ گھروں کی چھتوں، صحراؤں، کھلے میدانوں اور حتیٰ کہ خلا میں بھی سولر پینلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی سمندر کی گہرائی میں بھی بجلی پیدا کرنے لگے تو یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہوگی۔ چین کی یونیورسٹی آف یوننان سے وابستہ سائنسدانوں نے ایسا ہی ایک تجربہ کرکے دکھایا ہے۔ محققین نے ایسے خصوصی شمسی سیل تیار کیے جو سمندر کے پانی کے اندر بھی سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔ ان سیلز کو ساؤتھ چائنا سی میں پانی کی سطح سے 10 میٹر نیچے آزمایا گیا اور وہاں بھی انہوں نے قابلِ استعمال مقدار میں بجلی پیدا کی۔یہ تحقیق 11 ستمبر 2026ء کو معروف سائنسی جریدے ''Joule‘‘ میں شائع ہوئی۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ تجربہ زیرِ آب شمسی توانائی کے عملی استعمال کی جانب ایک اہم قدم ہے کیونکہ اس سے پہلے زیرِ آب سولر سیلز کے زیادہ تر تجربات صرف دو میٹر یا اس سے کم گہرائی تک محدود رہے تھے۔سمندر کے اندر سولر پینل کیسے کام کرتے ہیں؟یہ سوال فطری ہے کہ جب سمندر کی گہرائی میں سورج کی روشنی بہت کم رہ جاتی ہے تو وہاں سولر سیل بجلی کیسے بنا سکتا ہے؟اس کا جواب روشنی کی خصوصیات اور نئے شمسی سیلز کے ڈیزائن میں پوشیدہ ہے۔ پانی سورج کی روشنی کو جذب اور منتشر کرتا ہے۔ جیسے جیسے روشنی پانی میں نیچے جاتی ہے اس کی شدت کم ہوتی جاتی ہے اور روشنی کے سپیکٹرم میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ سرخ رنگ کی زیادہ ویو لینتھ والی روشنی نسبتاً جلد پانی میں جذب ہوجاتی ہے جبکہ نیلی اور سبز روشنی زیادہ گہرائی تک پہنچ سکتی ہے۔ محققین نے اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے روایتی سولر سیلز کے بجائے لیڈ ہیلائیڈ پیروسکائٹ پر مبنی شمسی سیلز تیار کیے۔ ان میں ایسے مواد اور تکنیک استعمال کی گئی جس سے وہ پانی کے اندر موجود محدود روشنی بالخصوص تقریباً 400 سے 600 نینو میٹر کی نیلی سبز روشنی، کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرسکیں۔تحقیق میں تیار کیے گئے سیلز کا پاور کنورژن ایفیشنسی تقریباً 34.71 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا جب انہیں 10 میٹر گہرائی کے برابر مصنوعی روشنی کے حالات میں آزمایا گیا۔ یہ نتیجہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ عام سولر پینل کے لیے تیار کیا گیا ڈیزائن زیرِ آب روشنی کے بدلتے ہوئے سپیکٹرم کے مطابق نہیں ہوتا۔10 میٹر گہرائی میں کتنی بجلی پیدا ہوئی؟تجربے کا سب سے دلچسپ حصہ اس وقت سامنے آیا جب سائنسدانوں نے لیبارٹری سے نکل کر حقیقی سمندری ماحول میں ان سولر سیلز کو آزمایا۔محققین نے تقریباً 115 مربع سینٹی میٹر رقبے والے شمسی ماڈیولز کو جنوبی بحیرہ چین میںWeizhou Island کے قریب پانی کے اندر دو، چھ اور 10 میٹر کی گہرائی پر پہنچایا۔ اس کام کے لیے ریموٹ کنٹرول زیرِ آب روبوٹس بھی استعمال کیے گئے۔دو گھنٹے تک سورج کی روشنی میں تجربہ کرنے کے بعد دو میٹر گہرائی پر سولر سیل نے 1416 ملی واٹ آور توانائی پیدا کی، چھ میٹر پر یہ مقدار 752 ملی واٹ آور رہی جبکہ 10 میٹر گہرائی پر بھی 324 ملی واٹ آور بجلی پیدا ہوئی۔ یہ مقدار بظاہر بہت بڑی نہیں لگتی لیکن تجربے کا مقصد گھروں یا شہروں کو بجلی فراہم کرنا نہیں تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ 10 میٹر پانی کے نیچے بھی شمسی سیل نے اتنی توانائی پیدا کی کہ لیتھیم آئن بیٹریاں چارج کی جاسکیں اور ان بیٹریوں سے ایل ای ڈی روشن کی جاسکی۔یہ مظاہرہ اس امکان کو تقویت دیتا ہے کہ مستقبل میں سمندر کے اندر نصب ایسے آلات کو بار بار سطح پر لاکر بیٹری تبدیل کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔زیرِ آب دنیا میں نئی توانائی کا دروازہاس ٹیکنالوجی کا سب سے اہم ممکنہ فائدہ عام بجلی گھروں کے لیے نہیں بلکہ ایسے آلات کے لیے ہے جو سمندر میں طویل عرصے تک انسان کی براہِ راست نگرانی کے بغیر کام کرتے ہیں۔سمندر میں مختلف مقامات پر ماحولیاتی سینسرز، کیمرے، مواصلاتی آلات، سائنسی ڈیٹیکٹرز اور دیگر نگرانی کے نظام نصب کیے جاتے ہیں۔ ان آلات کو مسلسل بجلی فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکثر انہیں بیٹریوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جنہیں وقتاً فوقتاً تبدیل کرنے کے لیے خصوصی کشتیوں یا زیرِ آب مشینوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔اگر زیرِ آب سولر سیلز قابلِ اعتماد اور طویل عرصے تک کام کرنے کے قابل ہوجائیں تو ایسے آلات کو خود اپنی بجلی پیدا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں زیرِ آب سینسرز، کیمروں، مواصلاتی نظام اور خودکار زیرِ آب آلات کے لیے توانائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔یہ پیش رفت ہمیں توانائی کے بارے میں ایک اہم سبق بھی دیتی ہے کہ مستقبل کی قابلِ تجدید توانائی صرف زمین پر نصب سولر پینلز اور ہوا سے چلنے والی ٹربائنز تک محدود نہیں ہوسکتی، ممکن ہے آنے والے برسوں میں سمندر کی گہرائی بھی شمسی توانائی کے ایک نئے میدان کے طور پر سامنے آئے۔

آج کا دن

آج کا دن

جان پال جونز کا معرکہ23 ستمبر 1779ء کو امریکی جنگِ آزادی کے دوران برطانوی ساحل کے قریب ایک مشہور بحری معرکہ ہوا۔ امریکی بحری جہاز کی کمان جان پال جونز کر رہے تھے جس کا مقابلہ برطانوی جنگی جہازوں سے ہوا۔ برطانوی جہاز نسبتاً مضبوط اور بہتر حالت میں تھے جبکہ امریکی جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود جان پال جونز نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور کئی گھنٹوں تک لڑائی جاری رکھی۔ بالآخر دونوں برطانوی جہازوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ کامیابی جان پال جونز کو امریکی بحری تاریخ کی نمایاں شخصیات میں شامل کرنے کا سبب بنی۔ لیوس اور کلارک مہم 23 ستمبر 1806ء کو امریکی مہم جُو میری ویدر لیوس اور ولیم کلارک اپنی تاریخی مہم مکمل کرکے سینٹ لوئس واپس پہنچے۔ یہ مہم تقریباً ڈھائی سال جاری رہی تھی۔ امریکی صدر تھامس جیفرسن نے ریاست لوزیانا کی خریداری کے بعد نئے حاصل ہونے والے وسیع علاقوں کی تلاش، نقشہ سازی اور جغرافیائی معلومات جمع کرنے کے لیے یہ مہم شروع کروائی تھی۔ لیوس اور کلارک نے دریائے مسوری کے راستے مغرب کی طرف سفر کیا، راکی پہاڑ عبور کیے اور بحرالکاہل تک پہنچے، پھر واپس سینٹ لوئس آئے۔ مہم کے دوران انہوں نے جغرافیہ، نباتات، جانوروں اور مقامی قبائل کے بارے میں وسیع معلومات جمع کیں۔یہ مہم موجودہ مغربی امریکہ کے علاقے کو عبور کرنے والی پہلی امریکی مہم تھی۔نیپچون کی دریافت23 ستمبر 1846ء کو فلکیات کی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب جرمن ماہرِ فلکیات جوہان گوٹ فریڈ گالے نے برلن آبزرویٹری میں نیپچون کو پہلی مرتبہ شناخت کیا۔ اس دریافت کی خاص بات یہ تھی کہ نیپچون کو محض اتفاق سے نہیں بلکہ ریاضیاتی حسابات کی مدد سے تلاش کیا گیا تھا۔ ماہرینِ فلکیات نے یورینس کے مدار میں ایسی بے قاعدگیاں دیکھی تھیں جن سے اندازہ ہوا کہ کوئی دور موجود سیارہ اس پر کششِ ثقل کے ذریعے اثر انداز ہو رہا ہے۔ فرانسیسی ماہرِ فلکیات اربین لے وئیر اور برطانوی ماہرجان کاؤچ ایڈمز نے آزادانہ طور پر اس ممکنہ سیارے کے مقام کا حساب لگایا۔لے وئیر کے حسابات کی بنیاد پر گالے نے 23 ستمبر کی رات نیپچون کو تلاش کیا اور اس کے پس منظر کے ستاروں کے مقابلے میں حرکت دیکھ کر اس کی سیاروی حیثیت کی تصدیق کی۔یہ نظامِ شمسی کے آٹھویں سیارے کی دریافت تھی۔ مملکتِ سعودی عرب کا قیام23 ستمبر 1932ء کو ملک عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کی قیادت میں حجاز اور نجد سمیت مختلف علاقوں کو ایک ریاست کے تحت متحد کیا گیا اور نئی ریاست کا نام مملکت سعودی عرب رکھا گیا۔ اس واقعے نے جزیرہ نما عرب کے سیاسی نقشے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا اور ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی گئی جس نے بعد میں خطے کی سیاست، معیشت اور عالمی توانائی کے نظام میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1932ء میں مملکت کے نام اور اتحاد کا باقاعدہ اعلان کیا گیااسی نسبت سے ہر سال 23 ستمبر کو سعودی قومی دن منایا جاتا ہے۔پاک بھارت جنگ بندی 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے کوششیں کیں اور 20 ستمبر کو سلامتی کونسل نے قرارداد 211 منظور کرتے ہوئے 22 ستمبر 1965ء کو صبح 7 بجے GMT سے جنگ بندی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ دونوں حکومتوں نے جنگ بندی قبول کی اور 22 ستمبر کو جنگ بندی کا آغاز ہوا۔ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان اور بھارت کی قیادت کو اطلاع دی کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین علاقے میں بھیجے جا رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی سرحد کے علاقوں میں جنگ بندی کی نگرانی کی جا سکے۔ اس طرح 23 ستمبر 1965ء جنگ بندی کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی کے باقاعدہ مرحلے کے آغاز سے بھی منسلک ہے۔

ورلڈ کا ر فری ڈے

ورلڈ کا ر فری ڈے

دنیا بھر میں 22 ستمبر کو کار فری ڈے (World Car-Free Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد لوگوں کو ایک دن کے لیے ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں کمی لانے اور پیدل چلنے، سائیکل چلانے یا پبلک ٹرانسپورٹ جیسے وسائل استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ دن محض گاڑی نہ چلانے کا نام نہیں بلکہ اس بات پر غور کرنے کا موقع ہے کہ ہمارے شہروں میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد ماحول، صحت، معیشت اور شہری زندگی پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ورلڈ کار فری ڈے کی اہمیتآج دنیا کے بڑے شہروں میں آبادی کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا بڑھتا ہوا رش ٹریفک جام، فضائی آلودگی، شور اور ایندھن کے زیادہ استعمال کا باعث بنتا ہے۔ گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور گیسیں فضا کے معیار کو متاثر کرتی ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔ورلڈکار فری ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ شہری زندگی صرف ذاتی گاڑیوں پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر لوگ مختصر فاصلے کے لیے پیدل چلیں، سائیکل استعمال کریں یا پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں تو نہ صرف سڑکوں پر ٹریفک کم ہو سکتی ہے بلکہ ماحول کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس دن کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ افراد کے ساتھ ساتھ حکومتوں اور شہری اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ اگر شہریوں کو محفوظ فٹ پاتھ، سائیکل لین، بہتر بس سروس اور قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہو تو لوگوں کے لیے ذاتی گاڑی کے بجائے متبادل ذرائع اختیار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔فضائی آلودگی اور ماحولیاتی تحفظفضائی آلودگی آج دنیا کے بڑے ماحولیاتی مسائل میں شامل ہے۔ شہروں میں گاڑیوں کا دھواں فضائی آلودگی کی ایک اہم وجہ ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ٹریفک بہت زیادہ ہو، وہاں گاڑیوں سے خارج ہونے والے آلودہ ذرات صحت اور ماحول کو متاثر کر تے ہیں۔ہمارے ملک کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور، کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد میں ٹریفک کا دباؤ ایک اہم شہری مسئلہ ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں لاکھوں افراد روزانہ سفر کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں گاڑیاں سڑکوں پر موجود ہوتی ہیں۔ اگر شہری مختصر فاصلے کے لیے پیدل چلنے، سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال بڑھائیں تو گاڑیوں کی تعداد اور ایندھن کے استعمال میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ورلڈکار فری ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صاف ہوا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا بھی کردار ہے۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اجتماعی طور پر بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔صحت مند زندگی کاروں کے کم استعمال کا تعلق صرف ماحول سے نہیں بلکہ انسانی صحت سے بھی ہے۔ روزمرہ زندگی میں پیدل چلنا جسمانی سرگرمی کا ایک آسان ذریعہ ہے۔ باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے سے جسمانی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے اور فعال طرزِ زندگی کو فروغ ملتا ہے۔آج کے دور میں بہت سے لوگ گھر، دفتر، بازار اور دیگر مقامات تک پہنچنے کے لیے کار استعمال کرتے ہیں حتیٰ کہ بعض اوقات بہت کم فاصلے کے لیے بھی، مگران میں سے کچھ سفر پیدل یا سائیکل کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔ٹریفک کے مسائل اور شہری زندگیبڑھتی ہوئی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد نے دنیا کے کئی شہروں میں ٹریفک کے مسائل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ٹریفک جام میں قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، ایندھن زیادہ استعمال ہوتا ہے اور شہریوں کو ذہنی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔اگر زیادہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تو ایک ہی گاڑی میں زیادہ افراد سفر کر سکتے ہیں، جس سے سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام محفوظ، باقاعدہ، آرام دہ اور قابلِ اعتماد ہو۔کار فری ڈے اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ شہر صرف گاڑیوں کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے بنائے جانے چاہئیں۔ ایسے شہر جہاں پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کے لیے مناسب سہولیات موجود ہوں، شہری زندگی کو زیادہ آسان اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔پاکستان میں کار فری ڈے کی ضرورتپاکستان میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ ہمارے بڑے شہروں کو ٹریفک، فضائی آلودگی اور پارکنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ کار فری ڈے کے موقع پر آگاہی پروگرام منعقد کرنے چاہئیں اوراس دن کچھ سڑکوں یا مخصوص علاقوں میں محدود مدت کے لیے گاڑیوں کا داخلہ محدود کرکے پیدل چلنے اور سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ طلبہ کو ماحول کے تحفظ کے بارے میں آگاہ کرنا چاہییاور شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی ترغیب دینی چاہیے۔کار فری ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صاف، صحت مند اور پائیدار شہر صرف جدید سڑکوں اور زیادہ گاڑیوں سے نہیں بنتے بلکہ بہتر منصوبہ بندی اور متوازن شہری نظام سے بنتے ہیں۔ حکومت بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، محفوظ فٹ پاتھ اور سائیکلنگ کے لیے مناسب راستے فراہم کرے اور شہری اپنی عادات میں تبدیلی لائیں تو شہروں کے ماحول میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔  

صرف چار ہفتوں میں

صرف چار ہفتوں میں

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ عمر کا بڑھنا ایک ایساہے جسے روکا یا واپس نہیں کیا جا سکتا، لیکن سائنسدان اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جسم کی ''حیاتیاتی عمر‘‘ پر خوراک اور طرزِ زندگی کس حد تک اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق نے اس حوالے سے ایک دلچسپ امکان پیش کیا ہے کہ صرف چار ہفتوں کی مخصوص غذائی تبدیلی جسم کے بعض ایسے حیاتیاتی اشاریوں کو بدل سکتی ہے جو عمر بڑھنے سے وابستہ ہیں۔چار ہفتوں کے تجربے میں کیا ہوا؟آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی سے وابستہ محققین نے 65 سے 75 سال کی عمر کے 104 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔شرکا کو چار مختلف غذائی گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں کچھ افراد ایسی خوراک استعمال کر رہے تھے جس میں چکنائی زیادہ اور کاربوہائیڈریٹس نسبتاً کم تھے جبکہ دوسرے گروہوں کو نسبتاً کم چکنائی اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک دی گئی۔ کچھ گروہوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین زیادہ تھی جبکہ دوسرے گروہوں میں پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین کا حصہ زیادہ رکھا گیا۔اہم بات یہ تھی کہ کھانے کا منصوبہ محققین نے تیار کیا تھا اور شرکانے تقریباً چار ہفتوں تک اسی کے مطابق خوراک استعمال کی۔ تحقیق شروع ہونے اور چار ہفتے مکمل ہونے کے بعد مختلف جسمانی اور خون سے متعلق پیمائشوں کی بنیاد پر حیاتیاتی عمر کا ایک تخمینہ لگایا گیا۔نتائج میں سب سے نمایاں تبدیلی اس گروپ میں دیکھی گئی جس نے نسبتاً کم چکنائی اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک استعمال کی۔ اس گروپ کے حیاتیاتی عمر کے تخمینے میں زیادہ چکنائی والی تقابلی خوراک کے مقابلے میں تقریباً 3.5 سے 4.1 سال کی کمی کے برابر فرق دیکھا گیا۔کیا واقعی لوگ چار سال جوان ہوگئے؟یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ 70 سالہ شخص چار ہفتوں بعد حقیقتاً 66 سال کا ہوگیا۔ محققین نےBiological age کا اندازہ خون اور جسمانی صحت سے متعلق متعدد پیمائشوں کو ملا کر لگایا تھا۔ان پیمائشوں میں بلڈ پریشر، خون میں گلوکوز، انسولین، کولیسٹرول، جسمانی وزن، کمر کا گھیر اور دیگر عوامل شامل تھے۔ ان اعداد و شمار کو ایک سائنسی طریقہ کار، Klemera-Doubal biological age method یا KDM کے ذریعے ایک مجموعی تخمینے میں تبدیل کیا گیا۔خوراک کی تبدیلی کے بعد شرکاکے جسم میں ایسے بائیومارکرز کا مجموعہ نظر آیا جو نسبتاً کم عمر افراد میں دیکھا جاسکتا ہے۔زیادہ کاربوہائیڈریٹس کا مطلب زیادہ چینی نہیںاس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک نے بہتر نتائج دکھائے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کیک، مٹھائیاں، میٹھے مشروبات، سفید ڈبل روٹی یا دیگر ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس زیادہ کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔محققین کے مطابق متعلقہ غذائی گروپ میں کاربوہائیڈریٹس بنیادی طور پر ثابت اورطبعی طور پر کم سے کم حد تک پراسسڈ خوراک سے حاصل کیے گئے تھے۔ ان گروہوں میں فائبر بھی زیادہ تھا اور چکنائی کم۔ تحقیق میں یہ امکان بھی پیش کیا گیا کہ سیچوریٹڈ فیٹ کی مقدار میں فرق نتائج کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ صحت مند کاربوہائیڈریٹس، مثلاً دالیں، چنے، لوبیا، سبزیاں، پھل اور مکمل اناج کو ریفائنڈ چینی یا سفید آٹے والی غذاؤں کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔چار ہفتے اہم ہیں، مگر پوری کہانی نہیںتحقیق کے نتائج یقیناً دلچسپ ہیں لیکن اس کی کچھ حدود بھی ہیں۔ مطالعہ صرف چار ہفتوں پر مشتمل تھا، شرکاکی تعداد نسبتاً کم تھی اور تمام افراد عمر رسیدہ آسٹریلوی افراد تھے۔ اس لیے یہ معلوم نہیں کہ یہی نتائج نوجوان افراد یا دیگر خطوں کے لوگوں میں کس حد تک نظر آئیں گے۔اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ تبدیلیاں طویل مدت تک برقرار رہتی ہیں یا نہیں، عمر سے متعلق بیماریوں کا خطرہ کم کرتی ہیں یا نہیں اور کیا انسان کی زندگی واقعی طویل کرتی ہیں۔ محققین کے مطابق اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے زیادہ طویل مطالعات کی ضرورت ہے۔اس کے باوجود یہ تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ جسم خوراک میں تبدیلی کا ردِعمل توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے دے سکتا ہے۔ چند ہفتوں میں بلڈ شوگر، کولیسٹرول، بلڈ پریشر، انسولین اورجسمانی ساخت جیسے عوامل تبدیل ہوسکتے ہیں اور یہی عوامل حیاتیاتی عمر کے بعض تخمینوں کو متاثر کرتے ہیں۔لہٰذا ''چار ہفتوں میں چار سال جوان‘‘ ہونے کے دعوے کے بجائے اس تحقیق کو یوں سمجھنا چاہیے کہ صحت مند خوراک جسم کے عمر سے متعلق حیاتیاتی اشاریوں میں نسبتاً کم مدت میں مثبت تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔ اصل مقصد صرف عمر کے اعداد کو کم کرنا نہیں بلکہ ایسی خوراک اختیار کرنا ہے جو دل، خون کی نالیوں، میٹابولزم اور مجموعی صحت کو طویل عرصے تک بہتر رکھنے میں مدد دے۔فضہ جاوید ماہر غذائیت ہیں اور اس حوالے سے لکھتی ہیں 

آج کا دن

آج کا دن

ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجویز22 ستمبر 1599ء کو لندن میں مشرقی ممالک خصوصاًہندوستان کے ساتھ تجارت کرنے میں دلچسپی رکھنے والے تاجروں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اس بات پر غور کیا کہ انگلینڈ کو مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے ایک تجارتی ادارہ قائم کرنا چاہیے۔ اس زمانے میں مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت انتہائی منافع بخش سمجھی جاتی تھی اور پرتگالی تاجر اس تجارت میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ 22 ستمبر کا یہ اجلاس بعد میں قائم ہونے والی ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کی ابتدائی کوششوں میں ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً ایک سال بعد 31 دسمبر 1600ء کو ملکہ الزبتھ اول نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے کمپنی کو مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت کا اختیار دیا۔نیتھن ہیل کو پھانسی 22 ستمبر 1776ء کو امریکی جنگِ آزادی کے دوران نوجوان فوجی افسر نیتھن ہیل کو برطانوی فوج نے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دے دی۔ نیتھن ہیل امریکی فوج میں کیپٹن کے عہدے پر فائز تھا۔ امریکی جنگِ آزادی کے دوران امریکی فوج کو برطانوی فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ نیتھن ہیل نے اس مقصد کے لیے رضاکارانہ طور پر جاسوسی کا مشن قبول کیا۔وہ عام استاد کا روپ دھار کر برطانوی زیرِ قبضہ علاقے میں داخل ہوا تاہم وہ برطانوی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا۔ گرفتاری کے بعد اس پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا اور 22 ستمبر 1776ء کو اسے پھانسی دے دی گئی۔ غلاموں کی آزادی 22 ستمبر 1862ء کو امریکہ کے صدر ابراہم لنکن نے غلامی کے خاتمے کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اعلان کیا۔ اس وقت امریکہ کی کئی جنوبی ریاستیں وفاقی حکومت کے خلاف بغاوت کرچکی تھیں اور لنکن نے اعلان کیا کہ اگر باغی ریاستیں 1 جنوری 1863ء تک دوبارہ وفاق میں شامل نہ ہوئیں تو ان کے علاقوں میں موجود غلام افراد کو آزاد قرار دیا جائے گا جو وفاقی حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے تھے۔ یہ اعلان فوری طور پر پورے امریکہ میں غلامی ختم کرنے کا قانون نہیں تھا بلکہ حتمی اعلان سے پہلے ایک ابتدائی اقدام تھا۔ اس کے باوجود اس کی سیاسی اور تاریخی اہمیت بہت زیادہ تھی کیونکہ اس نے امریکی خانہ جنگی کو غلامی کے مسئلے سے واضح طور پر جوڑ دیا۔ بعد میں 1 جنوری 1863ء کو غلاموں کی آزادی کا حتمی اعلان کیا گیا۔ بسوں میں نسلی تفریق کا خاتمہ22 ستمبر 1961ء کو امریکہ کے بین الریاستی تجارتی کمیشن نے بسوں اور بس اڈوں میں نسل کی بنیاد پر تفریق کے خلاف ایک حکم جاری کیا۔ اس وقت امریکہ میں سیاہ فام اور سفید فام افراد کے لیے عوامی سہولیات میں امتیاز برتا جاتا تھا۔ فریڈم رائڈرز نامی کارکنوں نے 1961ء میں بسوں کے ذریعے سفر کرکے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس تحریک نے وفاقی حکومت پر عملی اقدامات کے لیے دباؤ بڑھایا۔ 22 ستمبر کو جاری کیے گئے حکم کے تحت بین الریاستی بسوں اور ان کے اڈوں پر نسل، رنگ، مذہب یا قومی پس منظر کی بنیاد پر مسافروں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ ہوا ۔ایران عراق جنگ 22 ستمبر 1980ء کو عراق نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایران عراق جنگ شروع ہوگئی۔ عراق کی فوج نے ایرانی سرحد عبور کی جبکہ عراقی فضائیہ نے ایران کے مختلف فوجی اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس جنگ کے پس منظر میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات، سیاسی اختلافات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی شامل تھی۔ خاص طور پر شط العرب کے آبی راستے پر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے اختلاف موجود تھا۔ 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد خطے کی سیاسی صورتِ حال بھی تیزی سے تبدیل ہوئی۔ عراقی قیادت نے اس وقت ایران کو نسبتاً کمزور سمجھتے ہوئے فوجی کارروائی شروع کی، لیکن ایرانی فوج اور عوامی مزاحمت کے باعث عراق اپنے ابتدائی مقاصد مکمل طور پر حاصل نہ کرسکا۔