پارلیمنٹ کا سفر…تاریخ کے آ ئینہ میں

پارلیمنٹ کا سفر…تاریخ کے آ ئینہ میں

اسپیشل فیچر

تحریر : اے ایس شاہ


پہلی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس 10اگست 1947ء کو سندھ اسمبلی کی عمارت میںہواتقسیم ہند کا منصوبہ فائنل ہوا تو تین جون 1947ء کو لارڈ ماونٹ بیٹن نے ہندوستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ایک اہم اجلاس بلایا تاکہ منقسم ہندوستان کی دو آزاد ریاستوں بھارت اور پاکستان کو اختیارات کی منتقلی کے منصوبے سے آگاہ کر سکیں۔اس ضمن میں26جولائی 1947ء کو گزٹ آف انڈیا کا ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔اس نوٹیفیکیشن میں پاکستان کی پہلی دستور اسمبلی کے ڈھانچے کی منظوری دی گئی جس کے مطابق اسمبلی ایک خاتون رکن سمیت 66 ارکان پر مشتمل ہو گی ۔پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس 10اگست 1947ء کو سندھ اسمبلی کراچی کی عمارت میں طلب کیا گیا۔جس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے فرمائی ۔11اگست 1947ء کو قائداعظم محمد علی جناح متفقہ طور پراسمبلی کے صدر چن لیے گئے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے پرچم کے ڈیزائن اور سائز کی منظوری بھی دی گئی ۔12اگست 1947ء کو اسمبلی کی کارروائی کے دوران محمد علی جناح کو سرکاری طور پر قائد اعظم کے خطاب سے نوازا گیا ۔ اسی دن ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔اس کمیٹی کا بنیادی مقصد پاکستان کے شہریوں اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کرانا تھا ۔ 14اگست 1947ء کو تمام اختیارات کی منتقلی کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچا۔لارڈ ماونٹ بیٹن گورنر جنرل آف انڈیا نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کیا ۔قائداعظم نے نئی ریاست پاکستان کے لیے کارہائے اصولوں پر مبنی ایک جامع جوابی تقریر فرمائی۔ 15 اگست 1947 ء کو قائداعظم نے بطور گورنر جنرل پاکستان حلف اٹھایا ۔پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا سب سے بڑا مقصد آئین کی تشکیل تھا، تاہم مہاجرین کے مسائل پر پوری توجہ مرکوز کرنے کے باعث اس اہم کام میں تاخیر ہوتی رہی۔12 مارچ 1949ء کوقرارداد مقاصد منظور ہوئی۔ اس قرارداد میںوہ بنیادی نکات شامل کیے گئے جن کو بنیاد بنا کر آئین پاکستان بنایاجانا تھا۔ یہ قراردادپاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے پیش کی تھی۔ 12مارچ کو ہی 24 رکنی کمیٹی بنائی۔ جس کے ذمے یہ ہدف لگایاگیاکہ وہ قرارداد مقاصد کے نکات کی روشنی میں پاکستان کے پہلے آئین کے خدوخال واضح کرے۔ 16 اکتوبر 1951ء کو قرارداد مقاصد کے محرک نوابزادہ لیاقت علی خان کوقتل کردیا گیا۔ اور انکی جگہ خواجہ ناظم الدین نے 17 اکتوبر 1951ء کو وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ 1954ء میںبنیادی کمیٹی نے آئین کا ڈرافٹ فائنل کیا۔ اسی دوران محمدعلی بوگرہ نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا۔اسمبلی نے گورنر جنرل کے اختیارات میں کمی کا قانون پاس کیا،مگر اس دوران گورنر جنرل غلام محمد نے اسمبلی برخاست کردی گئی۔ اسمبلی برخاست کرنے کی کارروائی گورنر جنرل غلام محمد نے 24 اکتوبر 1954ء کو کی۔ اگلے عام انتخابات سے قبل تمام اختیارات غلام محمد نے قبضے میں لے لئے۔غلام محمد کے اقدامات کوسپیکر اسمبلی مولوی تمیز الدین نے سندھ کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت نے مولوی تمیز الدین کی اس رٹ کو منظور کرتے ہوئے اس برخاستگی کو غیر آئینی قرار دیا ۔وفاقی حکومت نے اس فیصلہ کے خلاف فیڈرل کو رٹ میںاپیل کی اور جسٹس منیر نے سندھ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کرغلام محمدکے فیصلہ کی توثیق کر دی۔گورنر جنرل نے اپنے حکم نمبر 12، 1955ء کے تحت 28مئی 1955ء کو پاکستان کی دوسری قانون ساز اسمبلی کے قیام کی منظوری دی ۔یہ ا سمبلی 80ارکان پر مشتمل تھی۔اس اسمبلی نے پاکستان میں ون یونٹ سسٹم کی منظوری دی تاکہ پاکستان کے دونوں خطوں کے عوام کو برابری کی سطح پر نمائندگی مل سکے اور احساس کمتری کا خاتمہ ہو ۔اس اسمبلی نے پاکستانی عوام کو پہلے آئین کا تحفہ دیا ۔وزیراعظم چوہدری محمد علی کی قیادت میں 1956ء کے آئین کے مسودے کی منظوری 9جنوری 1956ء کو ہوئی اور 29فروری 1956ء کو قانون ساز اسمبلی کے بحث و تمیض کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔جبکہ 2مارچ 1956ء کو گورنر جنرل نے بھی اس آئین کی سمری پر دستخط کر دیئے۔یوں 23مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ العمل ہوا ۔5مارچ 1956ء کو میجر جنرل سکندر مرز ا پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہو ئے ،1956ء کے آئین کے مطابق نظام حکومت پارلیمانی طرز کا طے پایا۔ مغربی اور مشرقی پاکستان سے برابری کی سطح پر 310ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ وجود میں آئی۔جبکہ دونوں ونگز سے پانچ پانچ خواتین بھی دس سال کے لیے منتخب ہوئیں ۔سکندر مرزا نے 7اکتوبر 1958ء کو قومی و صوبائی اسمبلیوں کو برخاست کر کے مارشل لا نافذکیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر مقرر کر دیا ۔چند دنوں بعد ایوب خان نے سکندر مرزا ہی کوچلتا کیا۔27اکتوبر1958ء کو جنرل ایوب خان نے پاکستان کے دوسرے صدر کا حلف اٹھایا ۔بطور صدرپاکستان جنرل ایوب خان نے 17فروری 1960ء کوایک آئینی کمیشن مقررکیا ۔اس کمیشن کے قیام کا مقصد پاکستان میں جمہوریت کی فروغ کے لیے نئی تجاویز و سفارشات مرتب کرنا تھا ۔ کمیشن نے 29اپریل 1960کو اپنی سفارشات پیش کر دیں۔ان سفارشات کی روشنی میں آئین بنایا گیا اور یکم مارچ 1962کو قوم کے سامنے پیش کردیا ۔1962ء کا آئین صدارتی طرز کا تھا۔پاکستان کی اس تیسری قا نون سازاسمبلی کا پہلا باقاعدہ اجلاس 29اپریل 1962ء کو بلایا گیا ۔یہ اجلاس ایوب ہال راولپنڈی میں منعقد ہوا ۔اس اسمبلی نے 1962ء کے آئین کی منظوری دی ۔25مارچ 1969ء کو یحییٰ خان نے دوسر ا مارشل لاء نافذ کر دیا اوربیک وقت صدر پاکستان اور مارشل لاء ایڈمنسٹر کے عہدے کا چارج اپنے پاس رکھا۔ 7دسمبر 1970ء کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا ۔آبادی کی بنیاد پر ارکان کی تعداد کا تعین کیا گیا ۔313ارکان پر مشتمل اسمبلی میں169ارکان مشرقی پاکستان سے اور 114 ارکان مغربی پاکستان سے لیے گئے۔ جبکہ مشرقی پاکستان سے 7اور مغربی پاکستان سے 6 خواتین ارکان کے چنائو کا فیصلہ کیا گیا۔ 1947ء سے 1970ء تک پاکستان میں کوئی مستحکم نظام حکومت قائم نہ ہو سکا۔ فوج کی بار بار مداخلت اور مارشل لاء کے نفاذ نے یہا ں جمہوریت کو پنپنے ہی نہ دیا گیا۔ 20دسمبر1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے صدر اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹرکا حلف اٹھایا۔ پاکستان کی چوتھی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 14اپریل 1972ء کو سٹیٹ بنک بلڈنگ اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کے 144ارکان کے ساتھ مشرقی پاکستان اسمبلی کے دو ارکان نورالامین اور راجہ تری دیو نے شرکت کی۔ 17اپریل 1972ء کو اسمبلی نے ایک عبوری آئین کی منظوری دی۔ اس آئین کے تحت اس اسمبلی کو 14اگست 1973ء تک برخاست نہیں کیا جاسکے گا۔ اسمبلی نے ایک کمیٹی بنائی جس کے ذمہ آئین کے خدوخال واضح کرنا تھا۔ کمیٹی نے 31دسمبر 1972ء کی اپنی سفارشات اسمبلی میں پیش کیں۔ اور 10اپریل 1973ء کو پاکستان کے پہلے متفقہ آئین کی منظوری دے دی گئی۔ یہ آئین 14اگست 1973ء سے نافذالعمل ہوا۔ اسی دن ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر اعظم اور چوہدری افضل نے صدر پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ 1973ء کے آئین میں وزیراعظم کو ریاست کے ایگزیکٹو کے تمام اختیارات تفویض کیے گئے۔ صدر وفاق کی علامت کے طور پر پاکستان کا سب سے اعلیٰ عہدہ قرارپایا۔ 1973ء کے آئین میں صدر قومی اسمبلی اور سینٹ کو بہت اہمیت دی گئی۔ قانون سازی کے لیے پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی میں کوئی بھی بل بحث کے بعد ووٹنگ میں دو تہائی ووٹوں کی منظوری سے سینٹ میں جائے گا۔ سینٹ کی منظوری کے بعد صدر پاکستان کے دستخط سے بل قانون شکل اختیار کر جائے گا۔ اور نافذالعمل ہوگا ۔ اسمبلی میں ارکان کی تعداد 210ہو گی ۔ جبکہ ایوان بالا یعنی سینٹ 63ارکان پر مشتمل ہوگا ۔ بعد ازاں 1985میں ایک صدرتی حکم نمبر 14، 1985ء کے تحت قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد 273اور سینٹ میں 87 ارکان کی تعدادکی منظوری دی ۔ پارلیمنٹ کی مدت 5سال ہو گی۔ صوبوں کی آبادی کے تناسب سے ارکان کی تعداد متعین کی گئی۔ جبکہ سینٹ میں چاروں صوبوں سے برابر کی نمائندگی د ی گئی۔ 7جنوری 1977ء کو منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا۔ اور ذوالفقار علی بھٹو کی سفارش پر صدر چوہدری فضل الہی نے اسمبلیاں برخاست کر دیں۔ 7مارچ 1977ء عام انتخابات کا انعقاد ہوا انتخابات میں الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو ئی،تاہم اپوزیشن نے دھندلی کا الزام لگا کر تحریک شروع کر دی۔ اس سیاسی کشمکش نے تیسرے مارشل لاء کو دعوت دی۔ قریب تھا کہ حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کامیا ب ہو جاتے، مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے بعد میں دعویٰ کیا کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے، تاہم جنرل ضیا الحق نے 5جولائی 1977ء کو تیسرا مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اپنی پہلی تقریر میں 90دنوں میں منصفانہ انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔ 24دسمبر1981ء کو ضیاء الحق نے اپنے صدارتی فرمان کے تحت مجلس شوریٰ بنانے کا حکم صادر فرمایا۔ مجلس شوریٰ کے ارکان کا چنائو صدر ضیاء الحق نے کیا۔ اس مجلس شوریٰ کا اجلاس 11جنوری1982ء کو ہوا ۔ جس میں مشروط سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دی گئی۔پچیس جنوری 1985ء کو ملک بھر میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے اس سے پہلے کہ نئی منتخب پارلیمنٹ حلف اٹھاتی 2مارچ 1985ء کو آئین میں متعدد تبدیلیاں اور ترامیم کی منظوری دی گئی۔ 20مارچ 1985ء کے اجلاس میںقانون ساز اسمبلی نے محمد خان جو نیجوو کو وزیر اعظم منتخب کر لیا۔ محمد خان جو نیجو آٹھویں ترمیم کا شکار ہوئے اوربر طرف کر دیئے گئے۔ موجودہ پارلیمنٹ کی بلڈنگ کا افتتاح 28 مئی 1986کو ہوا اور3نومبر1986کو سپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر اس کی آرائش و تزئین کی گئی۔آٹھویں قومی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد 16نومبر1988ء کو ہوا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے اعزاز کے ساتھ حلف اٹھایا۔ لیکن اس اسمبلی کی مدت محض 20ماہ رہی۔ صدر غلام اسحاق خان نے بد عنوانی کے الزامات کی آڑ میں اسمبلیاں برخاست کر دیں۔ 24اکتوبر 1990ء کو عام انتخابات کا انعقاد کرایا ۔ ان انتخابات میں جیتنے والی جماعت مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ بد قسمتی سے یہ اسمبلی بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور بد عنوانی کے الزام میں اس حکومت کو بھی چلتا کر دیا گیا۔یہ اسمبلی غلا م اسحاق خان کی ہٹ دھرمی کے باعث ٹوٹی، سپریم کورٹ نے اسے بحال کیا ،مگر ایوان صدر اور وزیراعظم کے درمیان جنگ شدید ہوگئی ، آخر دونوں کوجانا پڑا۔ پاکستان کی دسویں قومی اسمبلی کے انتخابات 6اکتوبر 1993ء کو منعقد ہوئے۔ 15اکتوبر 1993ء کو بلائے گئے اجلاس میں یوسف رضا گیلانی نے سپیکر کے عہدے کاحلف اٹھایا اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزرات عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئیں۔پیپلزپارٹی کے اپنے منتخب کردہ صدر فاروق لغاری نے 5نومبر1996ء کواپنی ہی حکومت کا کرپشن اور نااہلی کی بنیاد پرخاتمہ کر دیا۔ 3فروری 1997ء کو عام انتخابات ہوئے۔ 15فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا۔ الہی بخش سومرو نے بطورسپیکر قومی اسمبلی کا حلف اٹھایا اور نوازشریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے۔ کارگل کی جنگ کے بعد سول حکومت اور جی ایچ کیو کے مابین کشیدگی پیدا ہوئی، حالات بے یقینی کا شکار ہوئے فوجی قیادت اور منتخب وزیر اعظم کے درمیان اختلافات بڑھے تو سیاسی بساط کو پھر سے لپیٹ دیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو معزول کیا اور چیف ایگزیکٹو کے اختیارا ت کی آڑ میں ایمر جنسی نافذ کر دی۔ ایک مرتبہ دوبارہ آئین معطل ہوا قومی و صوبائی اسمبلیاں برخاست ہوئیں ۔ کچھ عرصہ بعد ور صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ سے استعفیٰ لے کر جنرل پرویز مشرف خود صدر کے عہدے پر قابض ہوئے۔عالمی برادری کے سامنے اعتبار بنانے کے لئے جنرل مشرف کو بھی الیکشن کرانے پڑے، اگرچہ اس نے دانستہ دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو جلاوطن کئے رکھا۔ پاکستان کی بارھویں قومی اسمبلی کے لیے انتخابات 10اکتوبر 2002میں منعقد ہوئے۔ ظفر اللہ جمالی وزیر اعظم بنے ۔ بعدازاں ان کو ہٹاکر کے شوکت عزیز کو یہ منصب سونپا گیا۔ اس اسمبلی نے اپنی مدت مکمل کی ، جنوری 2008میں الیکشن کا اعلان ہوا،محمد میاں سومرو قائم مقام وزیر اعظم بن گئے۔ یہ خونی انتخابات تھے جس کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کی دو مرتبہ منتخب وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ الیکشن کچھ دنوں کے لئے ملتوی ہوئے، اٹھارہ فروری کو انتخابات ہوئے ، جن میں پی پی پی اکثریتی جماعت بن کر ابھر آئی اور سید یوسف رضا گیلانی نے 16 نومبر 2007ء کو وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔ جبکہ قومی اسمبلی کی سپیکر محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا منتخب ہوئیں۔تقریباً چار سال بعد عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان آئینی جنگ کے سلسلے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو وزرات عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔ انہیں توہین عدلیہ کے جرم کی پاداش میں ملنے والی 30سیکنڈ کی سزا نے نہ صرف اس عہدے سے محروم کیا بلکہ وہ اپنی اسمبلی نشست سے بھی نااہل قرار پائے۔ 22جون 2012ء کو پاکستان کے 17ویں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنا حلف اٹھایا۔اسمبلی کی مدت مکمل ہونے تک وہی وزیراعظم رہے، جس کے بعد پہلی مرتبہ متفقہ طورپر نگران حکومت کا سیٹ بنایا گیا جنہوں نے 11مئی 2013کو پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد کروایا۔ ان انتخابات میں نئے رجحانات کھل کر سامنے آئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اکثر یتی جماعت بن کر سامنے آئی۔جماعت کے قائدمیاں محمد نواز شریف آئندہ چند دنوں تک پاکستان کے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے ۔ دوسرے نمبر پر حکمران جماعت پی پی پی نشستیں حاصل کیں ۔اے این پی جیسی سیکولر بری طرح پٹ گئی، بعض مذہبی جماعتیں بھی ناکام ہوئیں۔ صرف جمعیت العلمائے اسلام اور جماعت اسلامی قومی اسمبلی میں عوامی نمائندگی کے لیے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہری۔ عمران خان کی تحریک انصاف اہم جماعت بن کر ابھری۔ ایک صوبے میں حکومت بنانے کے مینڈیٹ کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں بھی ان کی حاضری نمایاں رہے گی۔ پارلیمنٹ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہو تا ہے اور اسکی آئینی حیثیت میں مداخلت کا حق کسی بھی ادارے کے پاس نہیں ہوتا چاہے وہ ادارہ ہمیں کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو۔ پارلیمنٹ کو عوام اپنے ووٹوں سے حقِ حکومت تفویض کرتے ہیں لہذا حکومت کو ہٹا نے کا اختیار بھی پارلیمنٹ کے پاس ہو تا ہے۔ ہمارے آئین میں کئی عشروں تک 58-2 b آئین کا حصہ رہی جس میں صدرِ پاکستان کو اختیار حاصل تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کر دے اس58-2 bنے جو گل کھلائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ موجودہ اسمبلی خوش قسمت ہے کہ صدرِ پاکستان نے اپنے سارے اختیارات پارلیمنٹ کو تفویض کر دئے ہیں تا کہ پارلیمنٹ کے سر پر لٹکتی 58-2 b کی تلوار اس کی آزادی کو سلب نہ کر سکے ۔پاکستانی عوام دعاگو ہے کہ یہ 14ویں قومی اسمبلی ان کے روشن مستقبل کی نوید لے کر کام کرے اور پاکستان میں سے غربت، جہالت، بیماری، بیروزگاری دہشت گردی، توانائی کے بحران بدعنوانی ، اقربا پروری اور صوبائی تعصبات جیسے مسائل کو حل کرسکے۔ ٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کائنات کے راز کھولنے والی  ’’سوئفٹ آبزرویٹری‘‘

کائنات کے راز کھولنے والی ’’سوئفٹ آبزرویٹری‘‘

خلا میں دو دہائیوں تک کائناتی دھماکوں کا مشاہدہ کرنے والی دوربین ناکارہانسان نے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کیلئے خلا میں جدید ترین دوربینیں بھیجیں، جنہوں نے زمین سے اربوں نوری سال دور موجود ستاروں، کہکشاؤں اور کائناتی دھماکوں کا مشاہدہ کر کے سائنسی تحقیق کے نئے دروازے کھولے۔ تاہم خلا میں بھیجی جانے والی یہ مشینیں بھی ہمیشہ کام نہیں کرتیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب ان کا سفر اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں امریکی خلائی ادارے ناسا کی تقریباً 3200 پاؤنڈ وزنی خلائی دوربین ''سوئفٹ آبزرویٹری‘‘ (Swift Observatory) تقریباً 22 سال تک خلا میں خدمات انجام دینے کے بعد بے قابو ہو کر زمین کی فضا میں داخل ہوئی اور آگ کے شعلوں میں لپٹ کر تباہ ہو گئی۔ یہ دوربین کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں کا مشاہدہ کرنے کیلئے بھیجی گئی تھی۔ اس کا زمین پر واپسی کا سفر جہاں خلائی تحقیق کے ایک اہم باب کا اختتام ہے، وہیں یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ آخر ایک جدید خلائی دوربین کو خلا سے واپس لانے کی کوشش کیوں ناکام ہوئی اور اس کے ملبے سے زمین کو کس قدر خطرہ لاحق تھا؟ناسا کی ناکام ہو جانے والی خلائی دوربین بدھ کے روز(4نومبر کو) تقریباً 22 سال بعد بے قابو ہو کر دوبارہ زمین کی فضا میں داخل ہو گئی۔ یہ دوربین 2004ء میں خلا میں بھیجی گئی تھی۔ ''سوئفٹ آبزرویٹری‘‘ کو کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں، جنہیں ''گاما رے برسٹ‘‘ (Gamma Ray Burst) کہا جاتا ہے، اور دیگر کائناتی اجسام و واقعات کا مطالعہ کرنے کیلئے روانہ کیا گیا تھا۔اس خلائی دوربین کو ابتدائی طور پر صرف دو سالہ مشن کیلئے تیار کیا گیا تھا، تاہم اس نے 21 سال تک سائنسی خدمات انجام دیں۔ اس دوران بڑھتی ہوئی شمسی سرگرمی کے باعث زمین کے نچلے مدار میں اس کا چکر بتدریج کمزور ہونے لگا اور بالآخر اس کا مدار تیزی سے زوال پذیر ہو گیا۔امریکی خلائی فورس نے تصدیق کی کہ سوئفٹ خلائی جہاز پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 39 منٹ پر زمین کی فضا میں داخل ہوا۔ اس کا مقام انڈونیشیا کے علاقے شمالی سماٹرا کے اوپر تھا۔ ناسا کو توقع تھی کہ خلائی دوربین کے بیشتر حصے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہی شدید حرارت کے باعث جل کر راکھ ہو جائیں گے، تاہم اس کے بعض پرزے فضا میں داخلے کے دوران تباہی سے بچ کر زمین تک پہنچ سکتے تھے۔امریکی ریاست پنسلوانیا کی یونیورسٹی کے ماہر فلکیات جان نوسیک(John Nousek)، جو اس خلائی مشن سے وابستہ رہے، نے بتایا کہ انہیں سوئفٹ دوربین کی واپسی اور تباہی کے اس دن کا اندازہ اس کی خلا میں روانگی سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کم از کم زمین کے نچلے مدار میں بھیجے جانے والے خلائی اجسام کیلئے یہ حقیقت ہے کہ جو چیز اوپر جاتی ہے، اسے ایک دن نیچے بھی آنا ہوتا ہے اور اس کا اختتام تباہ کن ہوتا ہے۔خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں وضاحت کی گئی کہ دوربین کے جو ٹکڑے زمین کی فضا میں داخلے کے دوران جلنے سے بچ جائیں گے، وہ خط استوا کے گرد پھیلے ایک وسیع علاقے میں گر سکتے ہیں۔ اس ممکنہ علاقے میں لاطینی امریکا، افریقا، جنوبی ایشیا اور شمالی آسٹریلیا کے بعض حصے شامل ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ امریکا اور یورپ اس ممکنہ خطرے کے دائرے سے باہر ہیں۔ خلائی دوربین کی زمین پر واپسی کا یہ واقعہ ناسا کی جانب سے اگست میں اسے بچانے کی ناکام کوشش کے بعد پیش آیا۔ خلائی ادارے نے اس مقصد کیلئے 3 کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے تاکہ ایک اور خلائی جہاز بھیجا جا سکے، جو دوربین کو دھکا دے کر بلند مدار میں پہنچاتا اور اسے بے قابو ہو کر زمین پر گرنے سے بچا لیتا۔ اس ریسکیو مشن کیلئے ''لنک‘‘ (Link) نامی خلائی جہاز تیار کیا گیا تھا، تاہم جولائی کے اوائل میں خلا میں روانگی کے چند ہفتے بعد ہی اس کا توازن بگڑ گیا اور وہ بے قابو ہو کر گھومنے لگا۔ اگرچہ زمینی کنٹرول پر موجود ماہرین نے اس کی گردش کی رفتار کم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی، لیکن خلا میں اس کی سمت اور پوزیشن کو درست رکھنے کے مسائل مسلسل برقرار رہے۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ یہ وہ نتیجہ نہیں جس کیلئے ہم کوشش کر رہے تھے، تاہم اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ اس مشن کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنا کیوں ضروری تھا۔ریسکیو کی کوشش ترک کیے جانے کے بعد سوئفٹ دوربین نے دوبارہ کائناتی مشاہدات شروع کر دیے اور اس دوران مزید کئی گاما رے برسٹس (کائنات کے انتہائی طاقتور دھماکوں) اور دیگر انتہائی بلند توانائی کے حامل واقعات دریافت کیے۔ تاہم اکتوبر کے آخری دنوں تک دوربین کا مدار اتنا نیچے آ چکا تھا کہ وہ مستحکم رہ کر مشاہدات کرنے کے قابل نہ رہی۔ بالآخر اس کے تمام نظام بند کر دیے گئے۔سوئفٹ خلائی دوربین کی کامیابیوں میں 2 ہزار سے زائد گاما رے برسٹس (کائنات کے طاقتور دھماکوں) اور 1 ہزار 400 پھٹنے والے ستاروں کا مشاہدہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس نے متعدد دمدار ستاروں، سیارچوں اور ایسے بلیک ہولز کا بھی مطالعہ کیا جو ستاروں کو اپنی شدید کشش ثقل کے باعث ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔اس دوربین کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ کائنات میں اچانک رونما ہونے والے دھماکوں اور دیگر غیر معمولی واقعات کی سمت انتہائی تیزی سے اپنا رخ تبدیل کر سکتی تھی۔ یہی صلاحیت اسے دیگر خلائی دوربینوں سے ممتاز بناتی تھی۔ناسا سوئفٹ کو ہبل (Hubble) اور جیمز ویب(James Webb) جیسی خلائی دوربینوں کیلئے ایک ابتدائی اطلاع دینے والے نظام کی حیثیت دیتا تھا۔ سوئفٹ جب کسی غیر معمولی کائناتی واقعے کا سراغ لگاتی تو ان دوربینوں کو اس بارے میں آگاہ کیا جاتا، جس کے بعد وہ اس واقعے کا مزید تفصیلی مشاہدہ اور تحقیق کرتی تھیں۔سائنسدان اب بھی اس خلائی دوربین کی جگہ پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ اس مشن سے وابستہ ماہر فلکیات جان نوسیک نے کہا کہ ہماری بھرپور امید ہے کہ سوئفٹ کی کامیابیوں سے حاصل ہونے والے تجربات اور اسباق کو خلائی مشنز کی نئی نسل میں بروئے کار لایا جائے گا، تاکہ کائنات کے بارے میں ہماری دریافتوں کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔

دوڑتے ہوئے چار پزل کیوبز حل

دوڑتے ہوئے چار پزل کیوبز حل

برطانوی رنر جارج شولے نے 5 منٹ 9.25 سیکنڈ میں چیلنج مکمل کیاکچھ لوگ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور حیرت انگیز کارناموں سے یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ انسانی ذہن اور جسم کی حدود عام تصور سے کہیں آگے ہیں۔ عموماً دوڑ کے دوران رفتار برقرار رکھنا ہی ایک مشکل کام ہوتا ہے، جبکہ کسی ذہنی مشق پر توجہ مرکوز رکھنا الگ مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن ایک غیر معمولی رنر نے ان دونوں صلاحیتوں کو یکجا کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس نے ایک میل کی دوڑ کے دوران چار چکر مکمل کیے اور ساتھ ہی چار پزل کیوبز بھی حل کر ڈالے۔ حیرت انگیز طور پر یہ کارنامہ صرف پانچ منٹ میں انجام دیا گیا، جس کے نتیجے میں اس نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ کامیابی نہ صرف غیر معمولی جسمانی برداشت بلکہ ذہنی یکسوئی، تیز رفتار سوچ اور ہم آہنگی کی بھی مثال ہے۔برطانیہ سے تعلق رکھنے والے جارج شولے نے 12 اکتوبر کو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں واقع سینٹرل ٹیک ہائی اسکول کے ٹریک پر یہ کارنامہ انجام دیا۔ تیز ہواؤں کے باوجود وہ پورے عزم کے ساتھ میدان میں اترے۔ مقابلے میں انہیں ایک میل کا فاصلہ طے کرنا تھا اور اس دوران چار پزل کیوبز حل کرنے تھے۔ہارن بجتے ہی جارج نے پہلے کیوب سے غلاف ہٹایا اور صرف 9 سیکنڈ میں اسے حل کرکے دوڑ شروع کر دی۔ انہوں نے پہلا چکر 67 سیکنڈ میں مکمل کیا۔ دوسرے مرحلے میں کیوب 10.5 سیکنڈ میں حل کیا اور دوسرا چکر بھی 67سیکنڈ میں طے کیا۔ تیسرے مرحلے میں انہوں نے اپنی بہترین رفتار دکھاتے ہوئے کیوب محض 8.5 سیکنڈ میں حل کیا، تاہم تیسرا چکر مکمل کرنے میں 70 سیکنڈ لگے۔آخری مرحلے میں جارج نے چوتھا کیوب 9.5 سیکنڈ میں حل کیا اور پھر فیصلہ کن چکر کیلئے دوڑ پڑے۔ حامیوں کی پرجوش تالیوں کے درمیان انہوں نے آخری مرحلہ 68 سیکنڈ میں مکمل کیا۔ اس طرح 5 منٹ 9.25 سیکنڈ کے مجموعی وقت کے ساتھ وہ عالمی ریکارڈ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ کامیابی کے بعد وہ خوشی سے اچھل پڑے اور اپنے دوستوں کے گلے لگ کر جشن منایا۔انگلینڈ کے علاقے نارتھمپٹن شائر میں پرورش پانے والے جارج شولے اسپیڈ کیوبنگ کے چیمپئن ہیں اور اس سے پہلے بھی کئی عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ اکتوبر 2022ء میں انہوں نے اسکیٹ بورڈ پر سفر کرتے ہوئے 90 منٹ سے کچھ زیادہ وقت میں 500 پزل کیوبز حل کیے اور پہلا عالمی اعزاز حاصل کیا۔ اسی سال نومبر میں انہوں نے 24 گھنٹوں کے دوران 6,931 کیوبز حل کرکے ایک اور ریکارڈ قائم کیا۔ اس چیلنج میں انہوں نے اوسطاً ہر 12.5 سیکنڈ میں ایک کیوب مکمل کیا۔2024ء میں انہوں نے لندن میراتھن کے دوران دوڑتے ہوئے 520 کیوبز حل کیے اور اس شعبے میں ایک اور ریکارڈ اپنے نام کیا، تاہم بعد میں اسپین کے توتی موراگاس پاردیل نے 561 کیوبز حل کرکے یہ اعزاز اپنے نام کر لیا۔جارج شولے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث مختلف کمپنیوں کے سفیر بھی ہیں۔ ایک میل کی دوڑ کے دوران کیوبز حل کرنے کا چیلنج معلوم ہونے پر انہوں نے سات ہفتوں تک بھرپور تیاری کی۔ اس دوران دوڑنے اور کیوبز حل کرنے کی رفتار بہتر بنانے پر توجہ دی۔ مقابلے سے چند ہفتے قبل وہ ایک کیوب محض 3.86 سیکنڈ میں حل کرنے کے قابل ہو چکے تھے، جبکہ ایک ریلے مقابلے میں ایک میل کا فاصلہ 4 منٹ 50 سیکنڈ میں طے کیا تھا۔ٹریک پر مزید مشقوں کے بعد انہوں نے اس منفرد چیلنج میں حصہ لیا اور اپنی محنت کو عالمی ریکارڈ میں بدل دیا۔ جارج شولے کی یہ کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ مسلسل مشق، عزم اور ذہنی و جسمانی ہم آہنگی سے بظاہر ناممکن دکھائی دینے والے اہداف بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!درپن:خوبرو رومانوی ہیرو (1980-1928ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!درپن:خوبرو رومانوی ہیرو (1980-1928ء)

٭... درپن 1928ء کو اترپردیش میں پیدا ہوئے، اصل نام عشرت عباس تھا۔٭...وہ موسیٰ رضا المعروف سنتوش کمار، ہدایتکار ایس سلیمان اور اداکار منصور کے بھائی تھے۔٭... کریئر کا آغاز انہوں نے 1950ء میں فلم ''امانت‘‘ سے کیا۔٭...پاکستان میں چند فلمیں کرنے کے بعد وہ ممبئی چلے گئے، جہاں فلم ''عدل جہانگیری‘‘ اور ''باراتی‘‘ میں کام کیا۔٭...پاکستان واپسی پر کئی کامیاب فلموں میں کام کیا۔جن میں ''ساتھی‘‘، ''رات کے راہی‘‘، ''سہیلی‘‘، ''گلفام‘‘، ''قیدی‘‘، ''آنچل‘‘، ''باجی‘‘، ''شکوہ‘‘، ''اک تیرا سہارا‘‘ اور ''نائلہ‘‘ شامل ہیں۔٭...ان کی بطور ہیرو آخری کامیاب فلم ''پائل کی جھنکار‘‘ 1966ء میں ریلیز ہوئی، جس کے بعد انہوں نے کریکٹر اور سپورٹنگ رول بھی ادا کئے۔٭... مجموعی طور پر 67 فلموں میں کام کیا، جن میں 57 اردو، 8پنجابی اور دو پشتوفلمیں شامل ہیں۔٭... فلم ''ساتھی‘‘ (1959ء)اور'' سہیلی‘‘( 1960ء) سے بہترین اداکار کے نگار ایوارڈ ملے۔٭...بطور فلم ساز بھی چند فلمیں بنائیں، جن میں ''بالم، گلفام، تانگے والا، انسپکٹر اور ایک مسافر ایک حسینہ‘‘ شامل ہیں۔٭...درپن نے اپنے وقت کی حسین اور مقبول ہیروئین نیّر سلطانہ کو اپنا جیون ساتھی بنایا اور یہ ساتھ مرتے دم تک قائم رہا۔٭... خوبرو اداکار کا انتقال8 نومبر 1980ء کو طویل بیماری کے باعث لاہور میں ہوا۔

آج کا دن

آج کا دن

لوور ابو ظہبی کا افتتاح8نومبر 2017ء کومتحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں مشہور عجائب گھر لوور ابوظہبی (Louvre abu dhabi) کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ یہاں مختلف تہذیبوں اور ادوار کے فن پارے اور تاریخی نوادرات رکھے گئے ہیں۔یہ فرانس اور یو اے ای کے درمیان ثقافتی تعاون کی اہم علامت ہے۔ ایکس ریز کی دریافت8 نومبر 1895ء کو جرمن سائنسدان ولہیلم رونٹگن نے کیتھوڈ ریز پر تجربات کے دوران ''ایکس ریز‘‘ دریافت کیں۔ یہ شعاع عام شعاعوں سے مختلف تھی، نہ دیکھی جا سکتی تھی اور نہ روکی جا سکتی تھی۔ چونکہ رونٹگن کو ان شعاعوں کی نوعیت معلوم نہ تھی، اس لیے انہوں نے انہیں ''ایکس ریز‘‘ کا نام دیا ۔سمندری طوفان ہیان2013ء میں آج کے روز فلپائن کے وسطی جزائر کے علاقے ویسایاس میں سمندری طوفان ہیان (Haiyan) نے تباہی مچائی۔ یہ اب تک ریکارڈ کیے گئے طاقتور ترین سمندری طوفانوں میں سے ایک تھا۔ جس کے نتیجے میں 6 ہزار 340 افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد لاپتا ہوئے۔طوفان نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ، مجموعی مالی نقصان کا تخمینہ 2 ارب 86 کروڑ ڈالر لگایا گیا۔ بش صدر منتخب ہوئے1988ء میں آج کے روز امریکہ میں ڈیموکریٹ کے مائیکل ڈوکاکس اور ریپبلکن کے جارج ڈبلیو بش کے درمیان صدارتی معرکہ ہوا۔ 41 ویں چار سالہ صدارتی انتخاب میں مائیکل ڈوکاکس کو شکست ہوئی اور جارج ایچ ڈبلیو بش 1989ء سے 1993ء تک امریکہ کے صدر رہے۔ہٹلر پر قاتلانہ حملہ8نومبر1939ء کو جرمن باشندے جوہان ایلسرنے میونخ میں ایڈولف ہٹلر پر قاتلانہ حملہ کیا۔ ایلسر نے اس پلیٹ فارم کے قریب بم رکھا جہاں سے ہٹلر نے تقریر کرنی تھی۔ وقت سے پہلے چلے جانے کے باعث ہٹلراس بم سے محفوظ رہے ۔ بم دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک، 62 افراد زخمی ہوئے۔ کمبل کی درخواستدوسری عالمی جنگ کے دوران لندن پر مسلسل بمباری کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں نے سرنگوں میں پناہ لے رکھی تھی۔ شدید سردی کی وجہ سے سرنگوں میں رہنا ناممکن تھا۔ 8نومبر1940ء کو پورے شہر میں اعلان کیا گیا کہ جس کے پاس اضافی کمبل یا گرم کپڑے موجود ہیں وہ سرنگوں تک پہنچائیں۔ پہلا مسلم کانگرس مین2006ء میں آج کے دن ڈیمو کریٹ کیتھ ایلیسن امریکی کانگرس کیلئے منتخب ہوئے۔ یہ اعزاز پانے والے وہ پہلے مسلمان تھے۔کیتھ ایوان نمائندگان میں منیسوٹا کی نشست جیت کر پہنچے تھے۔ انہوں نے منیسوٹا کے 5 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں دو امیدواروں کو شکست دے کر یہ سیاسی سنگ میل حاصل کیا تھا۔

ڈیجیٹل انقلاب سے محروم 2 ارب انسان

ڈیجیٹل انقلاب سے محروم 2 ارب انسان

آج کی دنیا میں انٹرنیٹ محض معلومات کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، کاروبار اور رابطوں کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانا اور علم کے وسیع ذخیرے تک رسائی حاصل کرنا اب معمول کی بات ہے، لیکن حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب کے اس دور میں بھی دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی انٹرنیٹ سے ناواقف ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً دو ارب افراد ایسے ہیں جنہوں نے آج تک انٹرنیٹ استعمال نہیں کیا۔ یہ صورتحال جہاں ٹیکنالوجی کی ترقی پر سوال اٹھاتی ہے، وہیں ڈیجیٹل تقسیم، معاشی ناہمواری اور بنیادی سہولتوں سے محرومی جیسے اہم مسائل کی جانب بھی توجہ دلاتی ہے۔ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو کروڑوں انسانوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھے ہوئے ہیں؟ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی حیرت انگیز حد تک بڑی آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔''انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین‘‘ (ITU) کی سالانہ رپورٹ ''فیکٹس اینڈ فگرز 2026ء ‘‘ کے مطابق 2026ء میں دنیا بھر میں 6 ارب 30 کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جو عالمی آبادی کا 76 فیصد بنتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی 24 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 2 ارب افراد، اب بھی انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہیں۔آئی ٹی یو کی سیکریٹری جنرل ڈورین بوگڈان مارٹن (Doreen Bogdan Martin)کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں انٹرنیٹ سے دور رہنے کا مطلب تعلیم سے لے کر روزگار تک بے شمار مواقع سے محروم رہنا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولت کو وسعت دی جائے اور دنیا کے ہر خطے میں ہر شخص کیلئے اس کی بامعنی رسائی یقینی بنائی جائے۔اس رپورٹ کی تیاری کیلئے محققین کی ٹیم نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ دنیا بھر میں کون سے افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں اور کون اس سہولت سے محروم ہیں۔تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی کے معاملے میں مختلف طبقات کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔دنیا بھر میں 79 فیصد مرد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جبکہ خواتین میں یہ شرح صرف 74 فیصد ہے۔اسی طرح نوجوان نسل انٹرنیٹ سے سب سے زیادہ منسلک ہے۔ عالمی سطح پر 15 سے 24 سال کی عمر کے 86 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جبکہ باقی عمر کے افراد میں یہ شرح 74 فیصد ہے۔رہائشی علاقوں کے حوالے سے بھی محققین نے شہری اور دیہی آبادی کے درمیان نمایاں فرق کی نشاندہی کی ہے۔ دنیا بھر میں شہری علاقوں کے 82 فیصد باشندوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح صرف 63فیصد ہے۔تحقیق کے ایک حصے میں ماہرین نے یہ بھی جائزہ لیا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں موبائل فون رکھنے والے افراد کی شرح میں کس قدر فرق پایا جاتا ہے۔تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ عالمی سطح پر 10 سال اور اس سے زائد عمر کے 84فیصد افراد کے پاس موبائل فون موجود ہے۔تاہم، کم آمدنی والے ممالک میں موبائل فون رکھنے والے افراد کی شرح محض 57 فیصد ہے، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ شرح95فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔اگرچہ انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم دو ارب افراد کی تعداد بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے، لیکن گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مقابلے میں اس میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں 2 ارب 20 کروڑ افراد انٹرنیٹ سے محروم تھے۔آئی ٹی یو کے ٹیلی کمیونیکیشن ڈویلپمنٹ بیورو کے ڈائریکٹر کوسمس لکیسن زوازاوا (Cosmas Luckyson Zavazava) کا کہنا ہے کہ فیکٹس اینڈ فگرز 2026ء ہمیں اب تک حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت اور مستقبل میں درپیش کاموں سے آگاہ کرتی ہے۔ ہمارا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی کو ایسے بامعنی رابطوں میں تبدیل کرنا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لا سکیں۔انہوں نے مزید کہاکہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں ڈیجیٹل مہارتوں کی فراہمی کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ڈیجیٹل مہارتوں اور بامعنی انٹرنیٹ رابطوں کے بغیر ٹیکنالوجی کے فوائد بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر رہنے کا خدشہ ہے، جس سے پہلے سے موجود ڈیجیٹل تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔

غذائوں میں چھپی شکر صحت کیلئے خاموش خطرہ

غذائوں میں چھپی شکر صحت کیلئے خاموش خطرہ

ہم میں سے اکثر افراد صحت مند رہنے کیلئے اپنی غذا میں احتیاط برتتے ہیں، میٹھے مشروبات سے گریز کرتے ہیں اور چینی کے استعمال کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ روزمرہ استعمال کی بعض بظاہر صحت بخش غذائیں بھی ہمارے جسم میں شکر کی مقدار بڑھا سکتی ہیں؟ سینڈوچ میں موجود اچار، کافی میں شامل اوٹ ملک اور سلاد میں استعمال ہونے والا چقندر ایسی غذاؤں میں شامل ہیں جن میں قدرتی یا اضافی شکر موجود ہوتی ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق بعض اوقات یہ پوشیدہ شکر ہماری توجہ سے اوجھل رہتی ہے اور ہم انجانے میں اپنی روزمرہ خوراک کے ذریعے ضرورت سے زیادہ شکر استعمال کر لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پوشیدہ شکر ہماری صحت کو کس طرح متاثر کرتی ہے اور روزمرہ غذا میں اس کی شناخت کیسے ممکن ہے؟شکر صرف بسکٹ یا چاکلیٹ کے ایک ٹکڑے تک محدود نہیں بلکہ یہ مختلف غذاؤں اور اجزا میں پائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نمکین کھانوں میں بھی اکثر ''پوشیدہ شکر‘‘ موجود ہوتی ہے جہاں زیادہ تر لوگ اس کا تصور بھی نہیں کرتے۔ماہرِ غذائیت عالیہ نیلسن(Aaliyah Nelson) کے مطابق پوشیدہ شکر سے مراد عموماً ایسی غذاؤں میں موجود شکر ہے جن کے میٹھا ہونے کی توقع نہیں ہوتی، مثلاً سلاد کی ڈریسنگ، گوشت کو میرینیٹ کرنے کیلئے استعمال ہونے والے مصالحے اور نمکین کھانوں کے ساتھ استعمال ہونے والی چٹنیاں۔ یہ شکر ہماری مجموعی خوراک میں شامل ہوتی رہتی ہے، چاہے ہمیں اس کے استعمال کا احساس بھی نہ ہو۔میٹھی چٹنیاں اور مشروبات استعمال کرتے رہنا، خصوصاً ان سے حاصل ہونے والی کیلوریز کو شمار کیے بغیر، جسم میں کیلوریز کی مقدار بڑھا سکتا ہے اور وزن کم کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔تاہم عالیہ نیلسن کے مطابق، شکر کے زیادہ استعمال کے اثرات صرف وزن بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے صحت پر کئی دوسرے منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ شکر کا ضرورت سے زیادہ استعمال دانتوں کی خرابی کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے، خصوصاً جب دن بھر بار بار شکر والی غذائیں اور مشروبات استعمال کیے جائیں۔نیلسن نے خبردار کیا کہ وزن بڑھنے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔تاہم، وہ مشورہ دیتی ہیں کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ مخصوص غذائیں، مشروبات یا چٹنیاں کتنی بار استعمال کی جاتی ہیں اور کیا ان کی جگہ کوئی ایسا آسان متبادل اختیار کیا جا سکتا ہے جو ذائقے میں بھی پسند آئے۔سینڈوچ میں موجود اچارماہرِ غذائیت عالیہ نیلسن کے مطابق اچار اس غذا کی ایک اچھی مثال ہے جسے لوگ شکر کے بجائے اس کے تیز اور کھٹے ذائقے سے جوڑتے ہیں۔ اچار کے ایک جار میں ہر 100 گرام میں تقریباً 31 گرام شکر ہوتی ہے، یعنی اس کے وزن کا تقریباً ایک تہائی حصہ۔ اس میں شکر کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اجزا کی فہرست میں سبزیوں کے بعد اس کا دوسرا نمبر آتا ہے۔وہ مشورہ دیتی ہیں کہ اچار کی جگہ کھیرا، مولی یا بغیر اضافی شکر والا اچار استعمال کیا جائے، تاکہ کھانے میں کھٹاس برقرار رہے۔اگر اچار کو مکمل طور پر ترک کرنا مشکل ہو تو ان کے مطابق، اس کی مقدار کم کرکے دیگر سبزیوں کے ساتھ استعمال کرنا بہتر ہے۔ کافی میں اوٹ ملکاگر آپ کافی میں ونیلا کے ذائقے والا میٹھا اوٹ ملک استعمال کرتے ہیں تو چینی کے ڈبے کی طرف ہاتھ بڑھانے سے پہلے ہی اس مشروب میں اضافی شکر شامل ہو چکی ہوتی ہے۔ ونیلا فلیور میں مجموعی شکر کی مقدار 10.2 گرام ہے۔تاہم، خوش قسمتی سے ہر قسم کے اوٹ ملک میں شکر کی مقدار اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔عالیہ نیلسن مشورہ دیتی ہیں کہ یہ فرض کرنے کے بجائے کہ تمام نباتاتی مشروبات یکساں ہوتے ہیں، اپنے استعمال میں آنے والی مخصوص مصنوعات اور اس کی مقدار کا موازنہ کریں۔وہ بغیر ذائقے والا اور اضافی شکر سے پاک اوٹ ملک منتخب کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ سلاد پر ڈالی جانے والی چٹنیعالیہ نیلسن وضاحت کرتی ہیں کہ سلاد پر بالسامک گلیز کی چند بوندیں ایک معمولی سی اضافی چیز محسوس ہو سکتی ہیں، لیکن گاڑھی اور میٹھی گلیز، سرکے کے چند چھینٹوں سے مختلف ہوتی ہے۔ بعض گلیز میں انگور کا گاڑھا رس اور اضافی شکر شامل ہوتی ہے۔چِلی بالسامک گلیز کے ایک کھانے کے چمچ، یعنی 15 ملی لیٹر میں مجموعی شکر کی مقدار 6.8 گرام ہے۔تاہم، صحت مند رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ گلیز کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے، بلکہ اس کے استعمال میں تبدیلی یا کمی لانا زیادہ بہتر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آپ اپنے پسندیدہ سلاد سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، بس اس پر ڈالے جانے والے اضافی ذائقے کو تبدیل یا کم کر دیں۔اس کا ایک صحت بخش متبادل لیموں کا رس یا وائن ونیگر کو جڑی بوٹیوں اور زیتون کے تیل کے ساتھ استعمال کرنا ہے۔ سلاد میں موجود چقندرچقندر اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، لیکن ذائقہ دار یا زیادہ اضافی شکر والے چقندر سے گریز کرنا بہتر ہو سکتا ہے۔یہ بظاہر صحت بخش غذا محسوس ہوتی ہے، لیکن چقندر کے چار ٹکڑوں میں 15.8 گرام مجموعی شکر موجود ہوتی ہے۔تاہم، اس سبزی کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے نیلسن اسے تیار کرنے کا طریقہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ وہ سادہ ابلے ہوئے چقندر کو سرکے، مرچ اور جڑی بوٹیوں کے ساتھ استعمال کرنے کی سفارش کرتی ہیں۔ فرائز کے ساتھ کیچپٹماٹر کی چٹنی کے بغیر فرائز کا لطف ادھورا محسوس ہوتا ہے، لیکن صحت مند زندگی گزارنے کیلئے اسے مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں۔نیلسن ہینز کی روایتی ٹماٹر کیچپ کے بجائے ایسی قسم استعمال کرنے کا مشورہ دیتی ہیں جس میں شکر اور نمک کی مقدار 50 فیصد کم ہو۔ روایتی کیچپ کے 15 گرام میں 3.4 گرام شکر ہوتی ہے۔ چاکلیٹ ملک شیکنیلسن کے مطابق،ملک شیک پروٹین اور کیلشیم فراہم کر سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان میں شامل اضافی شکر کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔اگر آپ اب بھی میٹھی چیز پینے کی خواہش رکھتے ہیں تو سادہ دودھ یا بغیر شکر والے کوکو پاؤڈر کے ساتھ ملا ہوا دودھ ایک صحت بخش متبادل ہے۔ میٹھی اور کھٹی چٹنیسبزیوں سے بھرپور ڈش کو رات کے کھانے کیلئے ایک آسان اور صحت بخش انتخاب سمجھا جا سکتا ہے، لیکن چکن پر میٹھی چٹنی ڈالنے سے یہ غذا نسبتاً کم صحت بخش ہو سکتی ہے۔بینز اوریجنل کی سویٹ اینڈ سَور چٹنی کے 112 گرام حصے میں مجموعی شکر کی مقدار 14 گرام ہے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ اس میں سے کچھ شکر چٹنی میں موجود ٹماٹروں اور انناس کی قدرتی شکر بھی ہوتی ہے۔ نیلسن اس کے متبادل کے طور پر سبزیوں کو ادرک، لہسن، چاول کے سرکے اور کم نمک والی سویا ساس کے ساتھ اسٹر فرائی کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ مزید مٹھاس شامل کرنے کے لیے وہ سبزیوں کے ساتھ انناس کے ٹکڑے فرائی کرنے کی بھی سفارش کرتی ہیں۔ ناشتے میں شامل اورنج جوسسادہ اورنج جوس میں اضافی شکر شامل نہیں ہوتی، لیکن اس میں قدرتی طور پر موجود شکر کی مقدار کو بھی محدود رکھنا چاہیے۔عالیہ نیلسن کے مطابق اورنج جوس وٹامن سی فراہم کرتا ہے اور متوازن غذا کا حصہ بن سکتا ہے، لیکن گلاس میں زیادہ مقدار ڈالنے سے اس کی مقدار تجویز کردہ حد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روزانہ پھلوں کے رس اور اسموتھیز کی مجموعی مقدار 150 ملی لیٹر تک محدود رکھی جائے۔