پارلیمنٹ کا سفر…تاریخ کے آ ئینہ میں
اسپیشل فیچر
پہلی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس 10اگست 1947ء کو سندھ اسمبلی کی عمارت میںہواتقسیم ہند کا منصوبہ فائنل ہوا تو تین جون 1947ء کو لارڈ ماونٹ بیٹن نے ہندوستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ایک اہم اجلاس بلایا تاکہ منقسم ہندوستان کی دو آزاد ریاستوں بھارت اور پاکستان کو اختیارات کی منتقلی کے منصوبے سے آگاہ کر سکیں۔اس ضمن میں26جولائی 1947ء کو گزٹ آف انڈیا کا ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔اس نوٹیفیکیشن میں پاکستان کی پہلی دستور اسمبلی کے ڈھانچے کی منظوری دی گئی جس کے مطابق اسمبلی ایک خاتون رکن سمیت 66 ارکان پر مشتمل ہو گی ۔پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس 10اگست 1947ء کو سندھ اسمبلی کراچی کی عمارت میں طلب کیا گیا۔جس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے فرمائی ۔11اگست 1947ء کو قائداعظم محمد علی جناح متفقہ طور پراسمبلی کے صدر چن لیے گئے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے پرچم کے ڈیزائن اور سائز کی منظوری بھی دی گئی ۔12اگست 1947ء کو اسمبلی کی کارروائی کے دوران محمد علی جناح کو سرکاری طور پر قائد اعظم کے خطاب سے نوازا گیا ۔ اسی دن ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔اس کمیٹی کا بنیادی مقصد پاکستان کے شہریوں اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کرانا تھا ۔ 14اگست 1947ء کو تمام اختیارات کی منتقلی کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچا۔لارڈ ماونٹ بیٹن گورنر جنرل آف انڈیا نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کیا ۔قائداعظم نے نئی ریاست پاکستان کے لیے کارہائے اصولوں پر مبنی ایک جامع جوابی تقریر فرمائی۔ 15 اگست 1947 ء کو قائداعظم نے بطور گورنر جنرل پاکستان حلف اٹھایا ۔پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا سب سے بڑا مقصد آئین کی تشکیل تھا، تاہم مہاجرین کے مسائل پر پوری توجہ مرکوز کرنے کے باعث اس اہم کام میں تاخیر ہوتی رہی۔12 مارچ 1949ء کوقرارداد مقاصد منظور ہوئی۔ اس قرارداد میںوہ بنیادی نکات شامل کیے گئے جن کو بنیاد بنا کر آئین پاکستان بنایاجانا تھا۔ یہ قراردادپاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے پیش کی تھی۔ 12مارچ کو ہی 24 رکنی کمیٹی بنائی۔ جس کے ذمے یہ ہدف لگایاگیاکہ وہ قرارداد مقاصد کے نکات کی روشنی میں پاکستان کے پہلے آئین کے خدوخال واضح کرے۔ 16 اکتوبر 1951ء کو قرارداد مقاصد کے محرک نوابزادہ لیاقت علی خان کوقتل کردیا گیا۔ اور انکی جگہ خواجہ ناظم الدین نے 17 اکتوبر 1951ء کو وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ 1954ء میںبنیادی کمیٹی نے آئین کا ڈرافٹ فائنل کیا۔ اسی دوران محمدعلی بوگرہ نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا۔اسمبلی نے گورنر جنرل کے اختیارات میں کمی کا قانون پاس کیا،مگر اس دوران گورنر جنرل غلام محمد نے اسمبلی برخاست کردی گئی۔ اسمبلی برخاست کرنے کی کارروائی گورنر جنرل غلام محمد نے 24 اکتوبر 1954ء کو کی۔ اگلے عام انتخابات سے قبل تمام اختیارات غلام محمد نے قبضے میں لے لئے۔غلام محمد کے اقدامات کوسپیکر اسمبلی مولوی تمیز الدین نے سندھ کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت نے مولوی تمیز الدین کی اس رٹ کو منظور کرتے ہوئے اس برخاستگی کو غیر آئینی قرار دیا ۔وفاقی حکومت نے اس فیصلہ کے خلاف فیڈرل کو رٹ میںاپیل کی اور جسٹس منیر نے سندھ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کرغلام محمدکے فیصلہ کی توثیق کر دی۔گورنر جنرل نے اپنے حکم نمبر 12، 1955ء کے تحت 28مئی 1955ء کو پاکستان کی دوسری قانون ساز اسمبلی کے قیام کی منظوری دی ۔یہ ا سمبلی 80ارکان پر مشتمل تھی۔اس اسمبلی نے پاکستان میں ون یونٹ سسٹم کی منظوری دی تاکہ پاکستان کے دونوں خطوں کے عوام کو برابری کی سطح پر نمائندگی مل سکے اور احساس کمتری کا خاتمہ ہو ۔اس اسمبلی نے پاکستانی عوام کو پہلے آئین کا تحفہ دیا ۔وزیراعظم چوہدری محمد علی کی قیادت میں 1956ء کے آئین کے مسودے کی منظوری 9جنوری 1956ء کو ہوئی اور 29فروری 1956ء کو قانون ساز اسمبلی کے بحث و تمیض کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔جبکہ 2مارچ 1956ء کو گورنر جنرل نے بھی اس آئین کی سمری پر دستخط کر دیئے۔یوں 23مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ العمل ہوا ۔5مارچ 1956ء کو میجر جنرل سکندر مرز ا پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہو ئے ،1956ء کے آئین کے مطابق نظام حکومت پارلیمانی طرز کا طے پایا۔ مغربی اور مشرقی پاکستان سے برابری کی سطح پر 310ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ وجود میں آئی۔جبکہ دونوں ونگز سے پانچ پانچ خواتین بھی دس سال کے لیے منتخب ہوئیں ۔سکندر مرزا نے 7اکتوبر 1958ء کو قومی و صوبائی اسمبلیوں کو برخاست کر کے مارشل لا نافذکیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر مقرر کر دیا ۔چند دنوں بعد ایوب خان نے سکندر مرزا ہی کوچلتا کیا۔27اکتوبر1958ء کو جنرل ایوب خان نے پاکستان کے دوسرے صدر کا حلف اٹھایا ۔بطور صدرپاکستان جنرل ایوب خان نے 17فروری 1960ء کوایک آئینی کمیشن مقررکیا ۔اس کمیشن کے قیام کا مقصد پاکستان میں جمہوریت کی فروغ کے لیے نئی تجاویز و سفارشات مرتب کرنا تھا ۔ کمیشن نے 29اپریل 1960کو اپنی سفارشات پیش کر دیں۔ان سفارشات کی روشنی میں آئین بنایا گیا اور یکم مارچ 1962کو قوم کے سامنے پیش کردیا ۔1962ء کا آئین صدارتی طرز کا تھا۔پاکستان کی اس تیسری قا نون سازاسمبلی کا پہلا باقاعدہ اجلاس 29اپریل 1962ء کو بلایا گیا ۔یہ اجلاس ایوب ہال راولپنڈی میں منعقد ہوا ۔اس اسمبلی نے 1962ء کے آئین کی منظوری دی ۔25مارچ 1969ء کو یحییٰ خان نے دوسر ا مارشل لاء نافذ کر دیا اوربیک وقت صدر پاکستان اور مارشل لاء ایڈمنسٹر کے عہدے کا چارج اپنے پاس رکھا۔ 7دسمبر 1970ء کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا ۔آبادی کی بنیاد پر ارکان کی تعداد کا تعین کیا گیا ۔313ارکان پر مشتمل اسمبلی میں169ارکان مشرقی پاکستان سے اور 114 ارکان مغربی پاکستان سے لیے گئے۔ جبکہ مشرقی پاکستان سے 7اور مغربی پاکستان سے 6 خواتین ارکان کے چنائو کا فیصلہ کیا گیا۔ 1947ء سے 1970ء تک پاکستان میں کوئی مستحکم نظام حکومت قائم نہ ہو سکا۔ فوج کی بار بار مداخلت اور مارشل لاء کے نفاذ نے یہا ں جمہوریت کو پنپنے ہی نہ دیا گیا۔ 20دسمبر1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے صدر اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹرکا حلف اٹھایا۔ پاکستان کی چوتھی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 14اپریل 1972ء کو سٹیٹ بنک بلڈنگ اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کے 144ارکان کے ساتھ مشرقی پاکستان اسمبلی کے دو ارکان نورالامین اور راجہ تری دیو نے شرکت کی۔ 17اپریل 1972ء کو اسمبلی نے ایک عبوری آئین کی منظوری دی۔ اس آئین کے تحت اس اسمبلی کو 14اگست 1973ء تک برخاست نہیں کیا جاسکے گا۔ اسمبلی نے ایک کمیٹی بنائی جس کے ذمہ آئین کے خدوخال واضح کرنا تھا۔ کمیٹی نے 31دسمبر 1972ء کی اپنی سفارشات اسمبلی میں پیش کیں۔ اور 10اپریل 1973ء کو پاکستان کے پہلے متفقہ آئین کی منظوری دے دی گئی۔ یہ آئین 14اگست 1973ء سے نافذالعمل ہوا۔ اسی دن ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر اعظم اور چوہدری افضل نے صدر پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ 1973ء کے آئین میں وزیراعظم کو ریاست کے ایگزیکٹو کے تمام اختیارات تفویض کیے گئے۔ صدر وفاق کی علامت کے طور پر پاکستان کا سب سے اعلیٰ عہدہ قرارپایا۔ 1973ء کے آئین میں صدر قومی اسمبلی اور سینٹ کو بہت اہمیت دی گئی۔ قانون سازی کے لیے پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی میں کوئی بھی بل بحث کے بعد ووٹنگ میں دو تہائی ووٹوں کی منظوری سے سینٹ میں جائے گا۔ سینٹ کی منظوری کے بعد صدر پاکستان کے دستخط سے بل قانون شکل اختیار کر جائے گا۔ اور نافذالعمل ہوگا ۔ اسمبلی میں ارکان کی تعداد 210ہو گی ۔ جبکہ ایوان بالا یعنی سینٹ 63ارکان پر مشتمل ہوگا ۔ بعد ازاں 1985میں ایک صدرتی حکم نمبر 14، 1985ء کے تحت قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد 273اور سینٹ میں 87 ارکان کی تعدادکی منظوری دی ۔ پارلیمنٹ کی مدت 5سال ہو گی۔ صوبوں کی آبادی کے تناسب سے ارکان کی تعداد متعین کی گئی۔ جبکہ سینٹ میں چاروں صوبوں سے برابر کی نمائندگی د ی گئی۔ 7جنوری 1977ء کو منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا۔ اور ذوالفقار علی بھٹو کی سفارش پر صدر چوہدری فضل الہی نے اسمبلیاں برخاست کر دیں۔ 7مارچ 1977ء عام انتخابات کا انعقاد ہوا انتخابات میں الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو ئی،تاہم اپوزیشن نے دھندلی کا الزام لگا کر تحریک شروع کر دی۔ اس سیاسی کشمکش نے تیسرے مارشل لاء کو دعوت دی۔ قریب تھا کہ حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کامیا ب ہو جاتے، مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے بعد میں دعویٰ کیا کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے، تاہم جنرل ضیا الحق نے 5جولائی 1977ء کو تیسرا مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اپنی پہلی تقریر میں 90دنوں میں منصفانہ انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔ 24دسمبر1981ء کو ضیاء الحق نے اپنے صدارتی فرمان کے تحت مجلس شوریٰ بنانے کا حکم صادر فرمایا۔ مجلس شوریٰ کے ارکان کا چنائو صدر ضیاء الحق نے کیا۔ اس مجلس شوریٰ کا اجلاس 11جنوری1982ء کو ہوا ۔ جس میں مشروط سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دی گئی۔پچیس جنوری 1985ء کو ملک بھر میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے اس سے پہلے کہ نئی منتخب پارلیمنٹ حلف اٹھاتی 2مارچ 1985ء کو آئین میں متعدد تبدیلیاں اور ترامیم کی منظوری دی گئی۔ 20مارچ 1985ء کے اجلاس میںقانون ساز اسمبلی نے محمد خان جو نیجوو کو وزیر اعظم منتخب کر لیا۔ محمد خان جو نیجو آٹھویں ترمیم کا شکار ہوئے اوربر طرف کر دیئے گئے۔ موجودہ پارلیمنٹ کی بلڈنگ کا افتتاح 28 مئی 1986کو ہوا اور3نومبر1986کو سپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر اس کی آرائش و تزئین کی گئی۔آٹھویں قومی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد 16نومبر1988ء کو ہوا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے اعزاز کے ساتھ حلف اٹھایا۔ لیکن اس اسمبلی کی مدت محض 20ماہ رہی۔ صدر غلام اسحاق خان نے بد عنوانی کے الزامات کی آڑ میں اسمبلیاں برخاست کر دیں۔ 24اکتوبر 1990ء کو عام انتخابات کا انعقاد کرایا ۔ ان انتخابات میں جیتنے والی جماعت مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ بد قسمتی سے یہ اسمبلی بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور بد عنوانی کے الزام میں اس حکومت کو بھی چلتا کر دیا گیا۔یہ اسمبلی غلا م اسحاق خان کی ہٹ دھرمی کے باعث ٹوٹی، سپریم کورٹ نے اسے بحال کیا ،مگر ایوان صدر اور وزیراعظم کے درمیان جنگ شدید ہوگئی ، آخر دونوں کوجانا پڑا۔ پاکستان کی دسویں قومی اسمبلی کے انتخابات 6اکتوبر 1993ء کو منعقد ہوئے۔ 15اکتوبر 1993ء کو بلائے گئے اجلاس میں یوسف رضا گیلانی نے سپیکر کے عہدے کاحلف اٹھایا اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزرات عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئیں۔پیپلزپارٹی کے اپنے منتخب کردہ صدر فاروق لغاری نے 5نومبر1996ء کواپنی ہی حکومت کا کرپشن اور نااہلی کی بنیاد پرخاتمہ کر دیا۔ 3فروری 1997ء کو عام انتخابات ہوئے۔ 15فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا۔ الہی بخش سومرو نے بطورسپیکر قومی اسمبلی کا حلف اٹھایا اور نوازشریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے۔ کارگل کی جنگ کے بعد سول حکومت اور جی ایچ کیو کے مابین کشیدگی پیدا ہوئی، حالات بے یقینی کا شکار ہوئے فوجی قیادت اور منتخب وزیر اعظم کے درمیان اختلافات بڑھے تو سیاسی بساط کو پھر سے لپیٹ دیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو معزول کیا اور چیف ایگزیکٹو کے اختیارا ت کی آڑ میں ایمر جنسی نافذ کر دی۔ ایک مرتبہ دوبارہ آئین معطل ہوا قومی و صوبائی اسمبلیاں برخاست ہوئیں ۔ کچھ عرصہ بعد ور صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ سے استعفیٰ لے کر جنرل پرویز مشرف خود صدر کے عہدے پر قابض ہوئے۔عالمی برادری کے سامنے اعتبار بنانے کے لئے جنرل مشرف کو بھی الیکشن کرانے پڑے، اگرچہ اس نے دانستہ دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو جلاوطن کئے رکھا۔ پاکستان کی بارھویں قومی اسمبلی کے لیے انتخابات 10اکتوبر 2002میں منعقد ہوئے۔ ظفر اللہ جمالی وزیر اعظم بنے ۔ بعدازاں ان کو ہٹاکر کے شوکت عزیز کو یہ منصب سونپا گیا۔ اس اسمبلی نے اپنی مدت مکمل کی ، جنوری 2008میں الیکشن کا اعلان ہوا،محمد میاں سومرو قائم مقام وزیر اعظم بن گئے۔ یہ خونی انتخابات تھے جس کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کی دو مرتبہ منتخب وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ الیکشن کچھ دنوں کے لئے ملتوی ہوئے، اٹھارہ فروری کو انتخابات ہوئے ، جن میں پی پی پی اکثریتی جماعت بن کر ابھر آئی اور سید یوسف رضا گیلانی نے 16 نومبر 2007ء کو وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔ جبکہ قومی اسمبلی کی سپیکر محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا منتخب ہوئیں۔تقریباً چار سال بعد عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان آئینی جنگ کے سلسلے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو وزرات عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔ انہیں توہین عدلیہ کے جرم کی پاداش میں ملنے والی 30سیکنڈ کی سزا نے نہ صرف اس عہدے سے محروم کیا بلکہ وہ اپنی اسمبلی نشست سے بھی نااہل قرار پائے۔ 22جون 2012ء کو پاکستان کے 17ویں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنا حلف اٹھایا۔اسمبلی کی مدت مکمل ہونے تک وہی وزیراعظم رہے، جس کے بعد پہلی مرتبہ متفقہ طورپر نگران حکومت کا سیٹ بنایا گیا جنہوں نے 11مئی 2013کو پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد کروایا۔ ان انتخابات میں نئے رجحانات کھل کر سامنے آئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اکثر یتی جماعت بن کر سامنے آئی۔جماعت کے قائدمیاں محمد نواز شریف آئندہ چند دنوں تک پاکستان کے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے ۔ دوسرے نمبر پر حکمران جماعت پی پی پی نشستیں حاصل کیں ۔اے این پی جیسی سیکولر بری طرح پٹ گئی، بعض مذہبی جماعتیں بھی ناکام ہوئیں۔ صرف جمعیت العلمائے اسلام اور جماعت اسلامی قومی اسمبلی میں عوامی نمائندگی کے لیے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہری۔ عمران خان کی تحریک انصاف اہم جماعت بن کر ابھری۔ ایک صوبے میں حکومت بنانے کے مینڈیٹ کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں بھی ان کی حاضری نمایاں رہے گی۔ پارلیمنٹ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہو تا ہے اور اسکی آئینی حیثیت میں مداخلت کا حق کسی بھی ادارے کے پاس نہیں ہوتا چاہے وہ ادارہ ہمیں کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو۔ پارلیمنٹ کو عوام اپنے ووٹوں سے حقِ حکومت تفویض کرتے ہیں لہذا حکومت کو ہٹا نے کا اختیار بھی پارلیمنٹ کے پاس ہو تا ہے۔ ہمارے آئین میں کئی عشروں تک 58-2 b آئین کا حصہ رہی جس میں صدرِ پاکستان کو اختیار حاصل تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کر دے اس58-2 bنے جو گل کھلائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ موجودہ اسمبلی خوش قسمت ہے کہ صدرِ پاکستان نے اپنے سارے اختیارات پارلیمنٹ کو تفویض کر دئے ہیں تا کہ پارلیمنٹ کے سر پر لٹکتی 58-2 b کی تلوار اس کی آزادی کو سلب نہ کر سکے ۔پاکستانی عوام دعاگو ہے کہ یہ 14ویں قومی اسمبلی ان کے روشن مستقبل کی نوید لے کر کام کرے اور پاکستان میں سے غربت، جہالت، بیماری، بیروزگاری دہشت گردی، توانائی کے بحران بدعنوانی ، اقربا پروری اور صوبائی تعصبات جیسے مسائل کو حل کرسکے۔ ٭٭٭