تصوف اور صوفیائے کرام کا مقام و مرتبہ
اسپیشل فیچر
تاریخ شاہد ہے کہ دُنیا میں اسلام عمل ،سیرت اور کردارسے پھیلا۔ اشاعتِ اسلام کی آب یاری میںانبیائے کرامؑ اور رَسلِ عظام ؑنے اپنے فرائض منصبی بہ حُسن و خوبی اداکیے، وہاں اللہ تعالیٰ کے محبوب اولیائے کرام (بشمول صحابہ کرامؓ،تابعین، تبع تابعین)نے بھی دُنیا میںاشاعتِ اسلام کے لیے اپنی زندگیاں وقف فرما دیں۔ قرآن مجید میںباری تعالیٰ نے اپنے وَلیوں کی شان اس طرح بیان فرمائی: ’’بلاشبہ اللہ کے وَلیوں پر نہ کوئی خوف ہے،نہ وہ غم گین ہوں گے اور (اللہ کے وَلی وہ ہیں) جوایمان لائے اور پرہیز گاری اختیار کی۔‘‘(سورئہ یونس:آیات62-63)اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میںاولیاء اللہ کی پہچان اس طرح بیان فرمائی کہ اللہ کا وَلی (سچا دوست)وہ ہے جو صاحب ِایمان ہونے کے ساتھ ساتھ متّقی و پرہیز گار بھی ہو۔ قرآن وسُنّت کے احکام کا پابند ہو،اللہ اور رسولؐ کا اطاعت گزار ہو۔ اللہ کے وَلی وہ ہیںجو ساری ساری رات اللہ کی عبادت، توبہ اوراستغفارمیںگزار دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جتنے بھی اُولیائے کاملین گُزرے ہیںاورجوحیات ہیںاُن کے مزارات، آستانوں، خانقاہوںاوررہائش گاہوں کے ساتھ مساجدضرورہیں، جواس بات کی دلیل ہیں کہ وَلی اللہ ہر حال میں ناصرف صوم وصلوٰۃ کے پابندہوتے ہیںبلکہ اُن کے شب وروزمسجداور مدرسے میں بسرہوتے ہیں۔قرآن پاک میںاللہ تعالیٰ نے ولیوں کی پہچان بتاتے ہوئے فرمایا: ’’اور رحمن کے (مقرّب)بندے وہ ہیں جو زمین پر(عاجزی سے) آہستہ چلتے ہیں اور جب کوئی جاہل اُن سے ( کوئی ناگوار بات) کرے، تو کہتے ہیں (تمہیں) سلام اور وہ جو اپنے رَبّ کے لیے سجدے اور قیام میں راتیں گزار دیتے ہیں۔‘‘ (سورۃالفرقان:آیات 23.24) حضور اکرم ؐنے اولیاء اللہ کی پہچان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ جب کوئی اُنہیں دیکھتاہے توانہیں اللہ یادآجاتا ہے۔‘‘امام فخرالدین رازی شافعی (متوفی606ھ) امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے عظیم اخلاق اوراعلیٰ سیرت وکردار کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ایک مرتبہ امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کہیںتشریف لے جارہے تھے، راستے میں زبردست کیچڑتھی۔ایک جگہ آپ کے پائوںکی ٹھوکرسے کیچڑاُڑ کرایک شخص کے مکان کی دیوارپرجالگی۔یہ دیکھ کرآپ بہت پریشان ہوگئے کہ اگرکیچڑ اُکھاڑکر دیوارصاف کی جائے توخدشہ ہے کہ دیوارکی کچھ مِٹّی بھی اُتر جائے گی اوراگریوںہی چھوڑدیاجائے تودیوارخراب ہوتی ہے۔ آپ اسی پریشانی میں تھے کہ صاحب خانہ کو بلایاگیا،اتفاق سے وہ شخص مجوسی(آگ پرست/غیرمسلم) تھااورآپ کامقروض بھی تھا۔وہ سمجھا کہ شایداپنا قرض مانگنے آئے ہیں،پریشان ہو کرعذراور معذرت پیش کرنے لگا۔آپ ؒنے فرمایا:’’قرض کی بات چھوڑیں، میںتواس پریشانی وفکرمیںہوںکہ تمہاری دیوار کیسے صاف کروں،اگرکیچڑکھرچوںتوخدشہ ہے کہ دیوارسے کچھ مِٹّی بھی اُتر آئے گی اوراگر یوںہی رہنے دوںتو تمہاری دیوارگندی ہوتی ہے۔‘‘یہ بات سُن کر مجوسی بے ساختہ بولا: ’’حضور!دیواربعدمیںصاف کیجیے گا،پہلے مجھے کلمۂ طیّبہ پڑھاکر میرا دل پاک کر دیں۔مجوسی آپ کے عظیم اخلاق وکردارکے باعث مشرف بہ اسلام ہوگیا۔‘‘(تفسیرکبیر/تذکرۃ المحدثین)حضرت ابوعمروبن النجیدؒ فرماتے ہیں کہ صوفی وہ ہے جسے ہرآواز،نظارے میںاللہ جل شانہ کا جلوہ نظر آئے۔ انبیائے کرامؑ کے بعد صوفیائے کرام ہی وہ لوگ ہیں، جنہیں نہ تواپنے ماضی کا غم ہے، نہ حال اور مستقبل کی فکر۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’(کان کھول کرسُن لو)بلاشبہ اللہ کے وَلیوں کو نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ وہ کبھی غم گین ہوں گے۔‘‘(سورئہ یونس: آیت62)حضرت عمرفاروق ؓ بیان کرتے ہیںکہ حضورنبی کریم ؐنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے بندوں میںسے بعض ایسے بھی ہیںجونہ تونبی ؑ ہیںاورنہ شہید لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن اُن کاجودرجہ ہوگااُسے دیکھ کرنبی ؑاور شہیداُن کی تحسین کریںگے۔‘‘ صحابۂ کرامؓ نے استفسارکیا: ’’یارسول ؐاللہ! ہمیں بتائیں کہ وہ کون لوگ ہوںگے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’یہ وہ لوگ ہیںجو آپس میں محض اللہ تعالیٰ کے واسطے محبت رکھتے ہیں، نہ اُن کاآپس میںکوئی لین دین ہے اورنہ کوئی رشتہ۔ اللہ کی قسم!اُن کے چہرے نورانی ہوں گے اور وہ نورکے منبروںپربیٹھے ہوںگے، جب دوسرے لوگ ڈررہے ہوںگے توانہیں کوئی ڈر نہیں ہوگااورجب دوسرے لوگ غم گین ہوںگے تو اُنہیںکوئی غم نہیں ہوگا۔‘‘ (سنن ابی دائود،مشکوٰۃ المصابیح) اولیاء اللہ کو بارگاہِ رَبّ العزت میں کس قدربلندمقام اور قُرب حاصل ہے۔ اس کے متعلق حضرت ابوہریرہ ؓ ایک حدیث ِقدسی روایت کرتے ہیںکہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس نے میرے وَلی سے دشمنی اختیارکی تو اُس کے خلاف میرا اعلانِ جنگ ہے، اگرمیرا بندہ(فرائض کی ادائیگی کے بعد) متواتر نوافل کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرے تو میںاس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اُس سے محبت کرتا ہو ں تو میں اُس کے کان (قوّتِ سامعہ) بن جاتاہوں، جن سے وہ سُنتا ہے۔ اُس کی وہ آنکھیں (بینائی) بن جاتا ہوں،جن سے وہ دیکھتاہے۔ اُس کاوہ ہاتھ بن جاتاہوں،جس سے وہ پکڑتا ہے۔ میں اس کاوہ پائوں بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے کوئی سوال کرتاہے تومیں اُسے ضرورعطا کرتا ہوں اور اگر مجھ سے پناہ مانگے تواُسے ضرورپناہ دیتاہوں۔‘‘ (صحیح بخاری)اولیاء اللہ جب درجۂ قرب اورمحبوبیت پر فائز ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کا کوئی سوال اور دُعا رَد نہیں فرماتا۔قدرتِ الٰہی ہروقت اُنہیں اپنے حفظ وامان میں رکھتی ہے۔صوفی،شیخ اورپیرومرشدصاحبِ علم ہوتا ہے ۔ علم وعمل دونوں لازم وملزوم ہیں۔ صوفی(پیرومرشد) کوکتاب وسُنّت کاعالم وعامل ہونا چاہئے تاکہ وہ شریعت وطریقت کی روشنی میںلوگوںکی درست رہنمائی کرسکے۔ اس لیے صوفیائے کرام نے علم ظاہری وباطنی کے حصول میں اپنی زندگیاں وقف فرمائیں اور ہردَور میںرُشدو ہدایت، شریعت وطریقت اور علم وعرفاں کے وہ چراغ روشن کیے جن کی ضیاء پاشیوںسے قلوبِ بنی آدم رَوشن ترہو گئے، ہزاروں لوگوںنے ایمان وایقان اورعلم وعرفاںکی لازوال دولت حاصل کی۔ حضرت سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ 488 ہجری/ 1095ء میں 18؍ برس کی عمر میں تحصیلِ علم و معرفت کی غرض سے بغداد شریف میں جلوہ گر ہوئے اور تادَمِ ِوفات یہی شہر آپ کی علمی و روحانی سرگرمیوں کامرکزبنا رہا ۔ آپؒ نے جیّد علماء و مشائخ کرام سے علوم ظاہری و باطنی حاصل کیے اورحضرت ابو سعید مبارک مخزومی ؒ کے ہاتھ پربیعت کا شرف حاصل کیا۔ علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کے بعد اصلا ح و تبلیغ کی طرف متوجّہ ہوئے اور مسندِ شر یعت اور طر یقت کو بہ یک وقت زینت بخشی اورساری زندگی مخلوقِ خدا کورُشدوہدایت کاراستہ دکھاتے رہے۔روایات کے مطابق سیّدناشیخ عبدالقادرجیلانی ؒ اورسیّدناامام اعظم ابوحنیفہ ؒ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے نمازِ فجر ادا کی۔ امامِ اعظم کوقرآن کریم سے اتنی محبت تھی کہ ماہ رمضان المبارک میںاکسٹھ (61)قرآن پاک ختم کرتے۔ ایک قرآن ِپاک دن میں،ایک قرآن قیام اللیل میں اور ایک قرآن پاک نمازِتراویح میں پڑھتے تھے۔جو شخص اللہ کامقرّب اوراُس کاولی بنناچاہتاہے، اُسے چاہیے کہ وہ ظاہرو باطن میں قرآن وسُنّت کا مکمل اتباع کرے، کیوں کہ دین و دُنیامیںکام یابی کاانحصار حضور اکرمؐ کے مکمل اتباع میںہے۔ اولیائے کرام علم وعمل،حُسن ِاخلاق، عبادت، ریاضت اورزہدوتقویٰ کے عظیم پیکر، عجزونیازاورفقر واستغناء کا مظہر، صبرو استقامت اورتحمل و توکل کا مصدر، شانِ درویشی اوربے نیازی سے مزّین اور شریعت و طریقت کے مثالی محافظ وپاسبان ہوتے ہیں۔حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابتؒ نے زندگی میں پچپن(55) حج وعمرے ادا کیے۔ جب آخری مرتبہ حج اداکیا تو کعبہ شریف کے دربان کو اپنا نصف مال دے کربیت اللہ شریف کے اندر رات بسر کرنے کی سعادت سے شرف یاب ہوئے۔کعبۃاللہ کے اندرآپؒ نے نصف قرآنِ مجید ایک ٹانگ پراورنصف قرآن دوسری ٹانگ پر کھڑے ہوکرپڑھا۔پھر رَبّ تعالیٰ سے یوں دُعاکی:’’اے میرے رَبّ!میں نے تیری معرفت کااپنی بساط کے مطابق حق ادا کرنے کی سعی بلیغ کی،جیسا کہ تیری عبادت کا حق ہے سو تو میری خدمت کی کمی کو کمالِ معرفت سے بخش دے۔‘‘ کعبۃ اللہ کے اندرسے آواز آئی:’’ تم نے اچھی طرح معرفت حاصل کی اورخدمت ِعبادت میںخلوص کا مظاہرہ کیا، ہم نے تمہیں بھی بخش دیاہے اور قیامت تک جو تمہارے مذہب (حنفی) پرعمل پیرا ہوگااُسے بھی بخش دیا ہے۔‘‘ ( الخیرات الحسان:صفحہ122،علامہ ابنِ حجرمکی شافعی )علامہ ابوالقاسم قشیری ؒفرماتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کی بندگی کو لازم پکڑناشریعت ہے اوراُس کی ربوبیت کا مشاہدہ کرنا حقیقت ہے، لہٰذا جو شریعت وطریقت کی تائید کے بغیر ہو وہ مَردود(نامقبول)ہے اور جس حقیقت کے ساتھ شریعت کی قید نہ ہو وہ لاحاصل ہے۔‘‘امامِ رَبّانی مجدد الف ثانی ؒ فرماتے ہیں کہ تصوّف احکام شریعت پر عمل کرنے کی بنیاد ہے۔ہر صوفی عالم ہوتا ہے لیکن ہر عالم صوفی نہیں ہوتا۔ اسی طرح حضرت خواجہ عبیداللہ احرارؒ فرماتے ہیں کہ شریعت احکام کے ظاہری احوال کا نام ہے اور انہی احکام پر دل جمعی کے ساتھ عمل کرنا طریقت ہے ۔ اس میں مہارت وریاضت کانام حقیقت ہے۔علامہ قشیریؒ اپنے رسالے میں حضرت بایزیدبسطامی ؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’اگر تم کسی مردکو صاحبِ کرامت دیکھو حتیٰ کہ وہ ہَوا میں بھی اُڑتا نظر آئے لیکن تم اس پراعتماد نہ کرو،جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ َامر ونہی، احکامِ الہٰی کی پابندی اور شریعت کی ادائیگی میں تم اُسے کیسا پاتے ہو؟‘‘ تصوّف، شریعت کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ صوفیا ئے کرام کا مقام ومرتبہ اور علم ِتصوّف کی حقیقت اورتعلیمات سمجھی جائیں اوراس پر ہر ممکن عمل کرکے دارین کی سعادت حاصل کی جائے، کیوں کہ علمِ تصوّف، اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کا نام ہے۔ یہی تقاضائے دینِ اسلام ہے۔