سیدناعلی المرتضی رضی اللہ عنہ
اسپیشل فیچر
چوتھے خلیفہ راشد کی زاہدانہ سیرت , مصلحانہ ومربیانہ کردار کا احاطہ کرتی ہوئی تحریر :سیدنا حضرت علیؓ کے والدماجد ابوطالب قریش کے ان ممتاز لوگوں میں تھے جو حَکَم اور تنازعات میں فیصلہ کرنے والوں کا درجہ رکھتے تھے اور سرداروں میں سے تھے، اہم مسائل میں لوگ ان سے رجوع کرتے تھے۔ ابوطالب کوئی صاحب ثروت ودولت آدمی نہ تھے۔جب رسول اللہﷺ اسلام کی دعوت لے کر کھڑے ہوئے اور اعلان حق برملافرمانے لگے تو لوگوں کو یہ بات بہت کَھلی، انھوں نے آپﷺ کی مخالفت شروع کردی اور آپﷺ کی دشمنی پر سب متفق ہوگئے لیکن ابوطالب یکساں طورپر آپﷺ کی حمایت اور مدافعت کرتے رہے۔ابوطالب کے چارصاحبزادے تھے، طالب، دوسرے عقیل، تیسرے جعفر اور چوتھے علی اور دوصاحبزادیاں تھیں ام ہانی اور جمانہ، یہ سب فاطمہ بنت اسدؓ کے بطن سے تھے اور ان تمام بھائی بہنوں میں دس دس سال کا فرق تھا۔ چنانچہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ حضرت جعفرؓ سے دس سال چھوٹے تھے۔ سیدنا علیؓ بن ابی طالب بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے، ابن سعد کابیان ہے کہ آپؓ کی پیدائش رجب کے مہینہ میں ہوئی۔ محدثین کا خیال ہے کہ سیدنا علیؓ کعبہ میں نہیں پیدا ہوئے تھے(جیسا کہ ایک طبقے کا کہنا ہے)، کعبہ میں جو صاحب پیدا ہوئے تھے، وہ حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی تھے۔اللہ عزوجل کے خصوصی انعامات میں سے اور جو خیروبرکت ان(حضرت علیؓ) کے لئے مقدر کررکھی تھی، اس کا ظاہری سبب یا بہانا یہ ہوا کہ قریش سخت تنگ حالی کی مصیبت سے دوچار ہوئے، ابوطالب کثیرالعیال تھے، رسول اللہﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ سے جو قریش کے خوشحال لوگوں میں سے تھے کہا: چچا! آپ کے بھائی ابوطالب کثیرالعیال ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ لوگ کن مصائب سے دوچار ہیں، چلئے ان کا کچھ بوجھ ہلکا کریں اور ان کے بال بچوں میں سے کچھ کی پرورش اپنے ذمہ لیں، حضرت عباسؓ نے کہا بہترہے، چنانچہ دونوں ابوطالب کی خدمت میں پہنچے اور کہا ہم دونوں اس لئے آئے ہیں کہ جب تک یہ تنگی اور سختی کا زمانہ ہے جس میں سب ہی گرفتار ہیں، اس وقت تک ہم آپ کے بال بچوں کا کچھ بوجھ اپنے ذمہ لے کر آپ کو ہلکا کریں، ابوطالب نے ان دونوں سے کہا؛ عقیل کو تم لوگ میرے پاس چھوڑ دو باقی کے بارے میں چاہے جو فیصلہ کرلو، چنانچہ رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کی ذمہ داری خود لے لی اورحضرت جعفرؓ کی کفالت حضرت عباسؓ نے قبول فرمائی، حضرت علیؓ اس وقت سے رسول اللہﷺ سے وابستہ رہے یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنا کر مبعوث کیا اور حضرت علیؓ بن ابی طالب نے آپﷺ کا اتباع کیا، آپﷺ کی صداقت پر ایمان لائے اور تصدیق کی، دوسری طرف حضرت جعفرؓ ، حضرت عباسؓ کی کفالت میں رہے یہاں تک کہ کفالت کی ضرورت نہیں رہی۔علیؓ بن ابی طالب ایک مرتبہ ایسے وقت آئے کہ رسول اللہﷺ اور حضرت خدیجہؓ دونوں نماز میں تھے، حضرت علیؓ نے کہا: یہ کیامعاملہ ہے؟ رسول اللہﷺ نے بتایا، یہ اللہ کا دین ہے جس کو اللہ نے اپنے لئے پسند کیا اور اسی کے لئے انبیا کو مبعوث کیا ہے، میں تم کو بھی خدائے واحد کی طرف بلاتاہوں جو تنہا معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ حضرت علیؓ نے کہا: یہ وہ بات ہے جس کو میں نے پہلے کبھی نہیں سنا اور میں جب تک ابوطالب سے ذکر نہ کرلوں کچھ فیصلہ نہیں کرسکتا۔ رسول اللہﷺ نے پسند نہیں کیا کہ جب تک علانیہ دعوتِ اسلام شروع نہ کردیں یہ راز فاش ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: اگرتم ایمان نہیں لاتے ہو تو و اس کو ابھی پوشیدہ رکھو۔ حضرت علیؓ اس رات خاموش رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام ڈال دیا، صبح سویرے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: آپﷺ نے مجھے کل کیادعوت دی تھی، رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ تنہا معبود ہے اور لات وعزّیٰ کا انکارکردو اوراللہ کا کسی کو شریک ٹھہرانے سے بری ہوجائو، حضرت علیؓ نے کلمہ شہادت پڑھا اور اسلام لے آئے، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ابوطالب سے پوشیدہ آیاکرتے اوراپنے اسلام کو(رسول اللہﷺ کی حسب ہدایت) ظاہر نہیں کیا۔پہلا شخص جس نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز ادا کی وہ علیؓ تھے اور اس وقت ان کی عمردس سال تھی۔حسن بن زیدؓ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے کبھی بھی بتوں کی پرستش نہیں کی کیونکہ ان کی عمرکم تھی۔جب نماز کا وقت آتا رسول اللہﷺ مکہ کی کسی گھاٹی میں جاکر عبادت کرتے اور آپﷺ کے ساتھ علی بن ابی طالب ؓ بھی اپنے والد، چچا صاحبان اور تمام افرادخاندان سے چھپ کر جاتے اور تمام نمازیں رسول اللہﷺ کے ساتھ ادا کرتے اور شام ہوجاتی گھر واپس آتے۔ یہ سلسلہ جب تک اللہ کو منظور تھا جاری رہا، ایک دن جبکہ یہ دونوں نماز پڑھ رہے تھے، ابوطالب نے دیکھ لیا، ابوطالب نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: عزیزمن! یہ کون سا دین ہے جس کی تم پیروی کررہے ہو۔ آپﷺ نے جواب دیا: عم محترم! یہ اللہ کا، اللہ کے فرشتوں کا ، اس کے پیغمبروں کا اور ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔چچا جان! آپ سب سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں جن کو مخلصانہ دعوت پیش کی جائے۔ ابوطالب نے جواب دیا؛ اے عزیز! میں اپنے آباء کا مذہب اور ان کے طورطریق نہیں چھوڑسکتا لیکن بخدا جب تک میں زندہ ہوں تم کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا، سیرت نگاروں کا بیان ہے کہ ابوطالب نے اپنے صاحبزادہ علی مرتضیٰؓ سے کہا: اے بیٹے یہ کیامذہب ہے جس پر تم چل رہے ہو، انھوں نے کہا: والدصاحب! میں اللہ اور اللہ کے رسول پر ایمان لاچکاہوں اور رسول اللہﷺ کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتاہوں اوران کی پیروی کرتاہوں۔جو لوگ حق وصداقت کی جستجو اور اسلام کی طلب میں مکہ آیاکرتے تھے، ان کی سیدنا علی کرم اللہ وجہہ مدد اور رہنمائی فرمایاکرتے تھے اور انھیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہونچایا کرتے تھے، اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص صلاحیت اور ذہانت بخشی تھی۔ امام بخاری نے اپنی سند سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کی ہے ، فرماتے ہیں: (حضرت) ابوذر (غفاری)ؓ کو جب بعثت نبوی کی خبرملی تو انھوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی کی طرف سوار ہوکر جائو اور اس شخص کے بارے میں پتہ لگائو، جو اپنے آپ کو اللہ کا نبی کہتاہے اور اس کو یقین ہے کہ اس کے پاس آسمان سے اطلاع آتی ہے ، ان کی باتیں سنو اور مجھے آکر بتائو۔ یہ صاحب(ابوذرؓ کے بھائی) چلے اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچے اورآ پ کی باتیں سنیں اور واپس آکر ابوذرؓ کو بتایا کہ میں ان کو دیکھا کہ وہ شریفانہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں اورایسی باتیں کرتے ہیں جو شاعری نہیں ہے۔ ابوذر نے کہا : میں جو معلوم کرناچاہتاتھا، وہ تم نہ بتاسکے، پھر انھوں نے خود زادراہ تیارکیا۔ پانی کا ایک مختصر سا مشکیزہ لیا اور مکہ پہنچ گئے، حرم شریف آئے، وہ رسول اللہﷺ کو پہچانتے نہیں تھے، (اندازہ وقیافہ سے) آپﷺ کو تلاش کرتے رہے، یہاں تک کہ رات ہوگئی اور وہ لیٹ گئے، حضرت علیؓ نے ان کو دیکھ کر اندازہ کرلیا کہ یہ کوئی باہر سے آنے والے شخص ہیں، وہ ان کے پیچھے پیچھے چلے مگر کوئی دوسرے سے بات نہیں کرتاتھا، یہاں تک کہ صبح ہوگئی، ابوذر اپنا زادراہ اور پانی کا مشکیزہ مسجد حرام میں لے آئے اور پورا دن گزاردیا اور رسول اللہ ﷺ سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی ، پھرشام آئی اور رات ہوگئی، ابوذر لیٹ گئے، حضرت علیؓ ان کے پاس سے گزرے فرمایا: کیا ابھی تک اس شخص کو اپنے ٹھکانہ کا پتہ نہیں چلا کہ وہاں جاکے ٹھہرے، پھر ان کو اپنے ساتھ لے کر چلے مگرا ب تک ایک دوسرے سے کچھ پوچھتانہیں تھا، تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا اور حضرت علیؓ ان کے ساتھ ٹھہرے رہے، بالآخر حضرت علیؓ نے کہا: کیاآپ بتائیں گے کہ یہاں کیسے آنا ہوا؟ کہا اگرتم عہد کرو اور مجھے قول دو کہ تم میری رہبری کرو گے تو بتائوں، حضرت علیؓ نے یہ شرط قبول کی اورفرمایا کہ بتائو کیاچاہتے ہو؟ ابوذر نے بتادیا، حضرت علیؓ نے کہا یقیناً وہ حق بات ہے اور بلاشبہ وہ رسول اللہ(ﷺ) ہیں، جب صبح کو نیند سے بیدار ہوناتو میرے ساتھ چلنا، راستہ میں اگرمیں نے کوئی خطرہ کی بات دیکھی تو رک جائوں گا، جیسے استنجے کے لئے ٹھہرگیاہوں اور اگرچلتارہوں تو میرے ساتھ ساتھ چلے آنا اور جہاں میں جائو تم بھی جانا، ابوذر نے ایسا ہی کیا، حضرت علیؓ کے پیچھے پیچھے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کی بات سنی اور اسی وقت اور اسی جگہ ایمان لے آئے۔قریش اور قبائل عرب کو اسلام کی دعوت دینے کا سلسلہ جاری رہا، دوسری قریش کی دشمنی اور مخالفت بھی پورے شباب پر تھی اور واقعات کا تسلسل قائم رہا، بنوہاشم کا مقاطعہ(سوشل بائیکاٹ) اور ان کا شعب ابی طالب میں پناہ گزیں ہونا، حضرت جعفر بن ابی طالب اور بہت سے مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کرکے جانا، رسول اللہ ﷺکا طائف جاکر دعوت حق دینا اور وہاں کے لوگوں کی بدزبانی اور بدسلوکی کا واقعہ، اسراء ومعراج کا واقعہ، حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور حضرت عمرؓبن الخطاب کا اسلام میں داخل ہونا اور اہل مکہ اور باہر سے آنے والوں میں جن لوگوں کے قلوب اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لئے کھول دئیے ان کا ایمان لانا، پھر رسول اللہﷺ کی مدافعت کرنے والے اوران کی حفاظت کے لئے سینہ سپر رہنے والے ابوطالب کی وفات ام المومنین حضرت خدیجہؓ کی وفات اور قریش کی روزافزوں سختیاں اور ایذا رسانی اور دشمنی کے نت نئے طریقے ایجاد کرنا جن کی کوئی حد نہیں اور اس دوران قبیلہ قحطان یثرب کے دوبڑے قبیلے اوس اور خزرج کا ایمان لانا، پھر بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ کے واقعات، مدینہ میں اسلام پھیلنا،بہت سے مسلمانوں کو یثرب کی طرف ہجرت کرنا یہاں تک کہ مکہ میں رسول اللہﷺ ، حضرت علیؓ ، حضرت ابوبکرؓ ابن ابی قحافہ کے علاوہ صرف وہی مسلمان رہ گئے جو یاتو محبوس تھے یاکسی مصیبت میں گرفتار تھے اور قریش کو کھٹکالگا ہواتھا کہ کہیں رسول اللہﷺ مدینہ نہ چلے جائیں، ان تمام واقعات کی تفصیل آسان بھی نہیں ہے اور حضرت امیرالمومنین علی ابن طالبؓ کی سوانح میں مکمل طورپر ذکر کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔بہرحال یہی حالات تھے کہ بالآخر قریش دارالندوہ میں جمع ہوئے اور اس تجویزپر سب متفق ہوگئے کہ ہرقبیلہ سے ایک مضبوط اور باہمت آدمی لیاجائے اور یہ سب مل کر اس طرح رسول اللہﷺ پر وارکریں کہ سب مل کر ایک ہاتھ بن جائیں ، اس طور پر خون کی ذمہ داری تمام قبائل پر ہوگی اور عبدمناف تمام قبائل سے خون کا بدلہ لینے کے لئے جنگ کرنے کی ہمت نہیں کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اس سازش سے آگاہ کردیا اور آپﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا اور فرمایا:’’ تم کو کوئی گزند نہیں پہونچائیگا‘‘۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد تین روز رہا۔ (پھرحضرت علیؓ نے مدینہ کا سفرشروع کیا) حضرت علیؓ راتوں کو چلاکرتے اور دن کو کہیں چھپ رہتے، اس طرح مدینہ پہنچے، آپؓ کے پائوں پھٹ گئے تھے۔رسول اللہﷺ نے انھیں گلے سے لگایا، ان کے پیر کے ورم کو دیکھ کر روپڑے۔ پھر ان پر لعاب دہن لگایا اور دست مبارک ان کے پیروں پر پھیرا، جس کا اثر یہ تھا کہ حضرت علیؓ کی شہادت کے دن تک پھر کوئی پیروں کی تکلیف نہیں ہوئی۔رسول اللہﷺ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ اور سہل بن حنیفؓ کے درمیان بھائی چارگی کا تعلق قائم کیا۔ہجرت کے دوسرے سال رسول اللہﷺ نے حضرت فاطمہؓ کا عقد حضرت علی ؓ سے کردیا۔اس موقع پر رسول اللہﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا، میں نے تمہارا نکاح اپنے اہل بیت کے بہترین فرد سے کردیاہے، پھر ان کو دعائیں دیں اور ان دونوںپر پانی چھڑکا۔اس وقت حضرت فاطمہؓ کی عمر15سال اور حضرت علیؓ کی عمر21سال تھی۔علیؓ و فاطمہؓ اور رسولﷺ کی معیشت انتہائی سادہ، سخت کوشی صبرومشقت کی معیشت تھی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا ایسے بہتیرے دن گزرگئے کہ ہمارے گھر میں کوئی چیز کھانے کی نہ تھی اور نہ نبیﷺ کے پاس کچھ تھا۔اسی زمانہ میں ایک بار باہرنکلاتو راستہ میں ایک دینارپڑاہوا دیکھا، میں ٹھٹھک کر کھڑا ہوگیا اور پھر دل میں سوچتا رہا کہ اس کو اٹھائوں یا چھوڑ دوں اور ان شتربانوں کو دیا جو باہر سے غلہ لے کرآئے تھے اور اس سے آٹا خریدلیا، فاطمہؓ کو دیا کہ اس کو گوندھ کر روٹیاں پکالو، وہ گوندھنے لگیں مگرفاقہ کی وجہ سے اتنی کمزور تھیں کہ آٹا گوندھنے میں ہاتھ باربار برتن پر گرجاتا اور چوٹ لگتی۔اس تنگی اور فقر وفاقہ کی زندگی کے باوجود حضرت علیؓ رسول اللہﷺ کی راحت رسانی اور آپ ﷺ کی دعوت الی اللہ اورجہاد کے لئے یکسو رکھنے کی خاطر کوئی کسراٹھا نہیں رکھتے تھے ۔ایک دن رسول اللہﷺ کے گھر فاقہ تھا، حضرت علیؓ کو یہ معلوم ہوا تو وہ کسی مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکل پڑے تاکہ اس سے اتنا مل جائے کہ رسول اللہﷺ کی ضرورت پوری ہوجائے ، اس تلاش میں ایک یہودی کے باغ میں پہنچے اور اس کے باغ کی سینچائی کا کام اپنے ذمہ لیا، مزدوری یہ تھی کہ ایک ڈول پانی کھینچنے کی اجرت ایک کھجور، حضرت علیؓ نے سترہ عجوہ لے لئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیئے، فرمایا: جناب! یہ کہاں سے لائے؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کیا، یانبی اللہ ! مجھے پتہ لگا کہ آج فاقہ درپیش ہے، اس لئے کسی مزدوری کی تلاش میں نکل گیاتھا کہ کچھ کھانے کا سامان کرسکوں، رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت نے اس پر آمادہ کیاتھا؟عرض کیا، ہاں یارسول اللہﷺ!رمضان 2ھ میں جنگ بدر ہوئی، یہ وہ فیصلہ کن معرکہ تھا جس نے امت اسلامیہ اور دعوت اسلامی کے لئے راستہ ہی صاف نہیں کیابلکہ تاریخ کے دھارے کا رخ بدل دیا۔حضرت علیؓ جنگ میں رسول اللہﷺ کے عَلم کے حامل تھے۔رسول اللہﷺ نے (اس)غزوہ کے موقع پر اپنی تلوار ذوالفقار حضرت علیؓ کے ہاتھ میں دی اور اس جنگ کے بعد ان کو ہمیشہ کے لئے بخش دی۔ غزوہ احد میں(بھی) حضرت علیؓ موجود تھے، لشکر اسلام کا میمنہ سنبھالے ہوئے تھے اور حضرت مصعب بن عمیرؓ کی شہادت کے بعد عَلم آپ ہی نے اپنے ہاتھ میں لیا، لاتعداد مشرکوں کو ٹھکانے لگایا، رسول اللہﷺ کے چہرہ مبارک سے بہتے ہوئے خون کو دھویا کیونکہ جب آپﷺ پر دشمن نے وار کیاتو سرمبارک پر زخم آئے تھے اور آگے کے دو دندان مبارک شہید ہوگئے تھے۔ شوال5ھ میں غزوہ خندق پیش آیا۔حضرت علیؓ کے جنگ کے امور میں خداداد امتیازی کمال کا پہلی بارشاندار اور مکمل اظہار اس جنگ کے موقع پر ہوا۔ ہجرت کے ساتویں سال محرم کے آخر میں خیبر کی جنگ ہوئی۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں شیرخدا حضرت علیؓ کی نادرہ روزگار شجاعت اور اللہ، اللہ کے رسول کے یہاں جو ان کا مرتبہ تھا، وہ دنیا کے سامنے کھل کر آگیا اور تقدیر الٰہی کا یہ فیصلہ کہ یہ یہودی کالونی جس کی جنگی اور فوجی نیزجغرافیائی لحاظ سے بڑی اہمیت تھی، وہ حضرت علیؓ کے ہاتھ فتح ہو۔حضرت علیؓ القموص کے قلعہ میں داخل ہوئے، ادھر سے مشہور شہسوار مرحب رجزیہ اشعارپڑھتا ہوا سامنے آیا، دونوں نے دو وار کئے، حضرت علیؓ نے جو وار کیا تو اس کے سر کا آہنی خود اور سر دونوں ایک ساتھ کٹ گئے ، اس کے جبڑے بھی ٹوٹ گئے اور اسی پر جنگ کا فیصلہ ہوگیا ۔نوہجری میں حج فرض ہوا، رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکرصدیقؓ کو اس سال امیر الحج بناکربھیجا کہ وہ مسلمانوں کو اسلامی طریقہ پر حج کرائیں، اس وقت تک مشرکین اپنے طریقوں پرحج کیاکرتے تھے، حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جن کا حج کا ارادہ تھا، ان کی تعداد تین سو تھی اور سب اہل مدینہ تھے۔رسول اللہﷺ پر سورہ برات نازل ہوئی، آپﷺ نے حضرت علیؓ کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ سورہ برات کی ابتدائی آیتیں لے کر جائو اور قربانی کے دن لوگوں کو سنادینا اور بتادینا کہ جنت میں کوئی کافر نہیں جائے گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا، خانہ کعبہ کا طواف کوئی ننگے جسم نہیں کرے گا اور آنحضرتﷺ نے اگرکسی کے ساتھ کوئی معاہدہ کیاہے تو آپﷺ اپنی زندگی بھر اس کے پابند رہیں گے۔حضرت علی رسول اللہﷺ کی اونٹنی عضبا پر نکلے، راستہ میں حضرت ابوبکرؓ سے ملاقات ہوگئی، حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: تم امیر کی حیثیت سے چل رہے ہو یا مامور کی حیثیت سے؟ حضرت علیؓ نے کہا کہ مامور کی حیثیت سے، دونوں نے اپنا سفر جاری رکھا ، حضرت ابوبکرؓ کی رہنمائی میں لوگوں نے مناسک حج ادا کئے، جب قربانی کا دن آیاتو حضرت علیؓ نے لوگوں میں ان باتوں کا اعلان کردیا جس کی رسول اللہﷺ نے ہدایت دی تھی۔حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد کئی روز تک اہل مدینہ اور اس کے حاکم ومنتظم غافقی بن حرب کو انتظار رہا کہ مسلمانوں کی سربراہی کے لئے کون آگے بڑھتا ہے۔ مصریوں کا حضرت علیؓ پر اصرارتھا اور حضرت علیؓ کو اس سے گریز تھا، وہ باغوں کی چہاردیواری میں روپوش ہورہے تھے، لوگوں کو سمجھ میں نہیںآرہاتھا کہ کس طرح اس مشکل کو حل کریں، حضرت علیؓ ہی سے بار بار رجوع کیاجارہاتھا، ان کے اصرار پر آپؓ نے بیعت قبول کرلی، بیعت سے پہلے اہل مدینہ کی رائیں معلوم کرلی گئی تھیں، ہرشخص کہہ رہاتھا کہ علیؓ کے علاوہ کوئی اس منصب کے لائق نہیں ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اس وقت امت اسلامیہ کی باگ ڈور سنبھالنے والا ، خلافت راشدہ کی نازک ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے والا اور اس کے لئے ہمہ گیر صلاحیتوں اور کمالات کاحامل ابوبکر عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے بعد علی مرتضیٰ ؓ سے زیادہ کوئی نہ تھا۔(اپنے دورخلافت میں)حضرت علیؓ کو بہ یک وقت دو طرفہ عظیم مشکلات کا سامناتھا، ایک طرف شام کی ریشہ دوانیاں تھیں جن سے جنگ کے بغیر چارہ کار نہ تھا، دوسری طرف ان کے احباب وانصار تھے جن کے اندر اس سرگرمی اور جوش کا فقدان تھا جو اہل شام کے اندرپایاجاتاتھا۔علامہ ابن کثیر کہتے ہیں: امیرالمومنینؓ کو حالات نے بہت مکدر کردیاتھا، ان کی فوج میں بے راہ روی تھی، اہل عراق نے ان کی مخالفت شروع کردی تھی، ان کے ساتھ تعاون سے کترا رہے تھے، ادھر شامیوں کی قوت زور پکڑچکی تھی، اب وہ دائیں بائیں حملے کرتے اور لوٹ مارمچارہے تھے،عراق کے امیر علی بن ابی طالبؓ اس عصر میں روئے زمین پر بسنے والے انسانوں میں سب سے اعلیٰ وافضل انسان تھے، سب سے زیادہ اللہ کے عبادت گزار، سب سے زیادہ دنیا سے بے غرض اور بے رغبت، سب سے زیادہ علم وفضل کے حامل ، سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والے انسان تھے، پھر بھی لوگوں نے ان کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، ان سے کنارہ کش ہوگئے یہاں تک کہ خود امیرالمومنین اپنی زندگی سے اکتا گئے اور موت کی تمنا کرنے لگے، کہتے تھے’’ یہ( اپنی ریش مبارک کی طرف اشارہ کرکے) اس کے( اپنے سر کی طرف اشارہ کرکے) خون سے رنگ دی جائے گی‘‘ اور بالآخر یہی ہوکررہا۔ شہادت کے واقعہ فاجعہ کی تفصیل یہ ہے کہ تین خارجی اکٹھا ہوئے جن کے نام یہ ہیں: عبدالرحمن ابن عمرو عرف ابن ملجم الحمیری ثم الکندی، برک بن عبداللہ التمیمی اور عمرو بن بکر التمیمی۔ان سبھوں نے اپنے ہم مشرب اہل نہروان کے بارے میں باتیں کیں، جن کو حضرت علیؓ نے قتل کیاتھا، اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔ اس کے بعد ابن ملجم نے کہا: علیؓ کو ختم کرنے کی ذمہ داری میں لیتاہوں، برک نے کہا: معاویہ کا صفایا کرنا میرے ذمہ ہے، عمرو بن بکر نے کہا: عمروبن العاص کو میں دیکھ لوں گا۔ابن ملجم کوفہ پہنچ گیا اور اپنے ساتھیوں (خوارج) سے بھی اپنے ارادہ کا اظہار نہیں کیا، شب جمعہ کو اس دروازہ کے چھجے کے نیچے آکر بیٹھ گیا جس سے حضرت علیؓ نماز کے لئے نکلا کرتے تھے جس وقت آپ نمازفجر کے لئے نکلے اور لوگوں کو بیدار کررہے تھے، نماز نماز کہہ رہے تھے اور لوگ نیند سے بیدار ہوکر نماز کے لئے اٹھ رہے تھے کہ ابن ملجم نے سیدنا علی ؓ کے سرکے اگلے حصہ پر وار کیا، سر کے خون سے ریش مبارک رنگین ہوگئی۔حضرت علیؓ نے 63سال کی عمر میں سفرآخرت اختیارکیا، آپ ؓ کی خلافت کی مدت چارسال نوماہ ہے۔آپؓ کے جنازہ کی نماز آپؓ کے صاحبزادہ حضرت حسنؓ نے پڑھائی۔(یہ مضمون سیدابوالحسن علی ندوی کی کتاب ’’المرتضیٰؓ‘‘ سے ماخوذ ہے)٭٭٭دنیا سے بے رغبتی: حضرت علیؓ کی سب سے نمایاں خصوصیت اور وہ بات جو ان کی علامت اور پہچان بن گئی تھی، وہ ان کی دنیا سے ایسی حالت میں بے رغبتی و بے نیازی تھی جب کہ عیش وآرام کے تمام اسباب ان کے قدموں پر تھے۔حکومت کے پورے اختیارات اور فراغت و دولت کے سارے وسائل واسباب آپ کو حاصل تھے، لوگوں کی طرف سے تعظیم وتکریم میں کمی نہ تھی، کوئی ان پر نقد نہیں کرسکتاتھا اور نہ محاسبہ کرسکتاتھا۔ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں فالودہ پیش کیاگیا، آپ نے اس فالودہ کو مخاطب کرکے فرمایا: تیری خوشبو اچھی ہے، رنگ حسین ہے، مزہ لذیذ ہے مگر میں نہیں چاہتا کہ نفس کو ایسی چیز کا عادی بنائوں جس کا وہ اب تک عادی نہیں ہے۔ایک بار حضرت سیدناعلی بن ابی طالبؓ نے خطبہ دیا، اس میں فرمایا:’’ لوگو! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے تمہارے مال سے نہ تھوڑا لیا ہے نہ بہت، سوائے اس شے کے اور جیب سے ایک چھوٹی سی شیشی نکال کر دکھائی جس میں عطر یا کوئی خوشبو تھی، حضرت علیؓ نے کہا مجھے ایک دہقان نے یہ ہدیہ دیا ہے پھر وہ بیت المال تشریف لائے اور کہا یہ لو( وہ شیشی بیت المال میں جمع کردی)۔٭٭٭مربی ومصلح امام: حضرت علیؓ شیخین(حضرت ابوبکر وعمرؓ) کے انداز ونہج کے خلیفۃ المسلمین تھے، مسلمانوں کے حقیقی معنوں میں ولی الامر، معلم، مربی اور عملی مثال قائم کرنے والے، اخلاقی و دینی امور کی نگرانی اور احتساب کرنے والے تھے، لوگوں کے رجحانات وخیالات اور تصرفات پر نظررکھتے کہ وہ کس حد تک اسلامی تعلیمات اور رسول اللہﷺ کے اسوہ کے مطابق ہیں ، آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے، ان کو نصیحتیں فرماتے، دین کے مسائل بتاتے اور دین کا فہم ان کے اندرپیدا کرتے، ان کو بتاتے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے کیا چاہتاہے اور کن باتوں کو ناپسند فرماتاہے، آپ مسجد میں بیٹھتے، لوگ آپ کے پاس آیاکرتے، اپنے معاملات میں مشورے لیتے، کوئی دینی مسئلہ پوچھتا تو اس کو بتاتے، دنیاوی امور میں صلاح و مشورہ دیتے، بازاروں میں چلتے پھرتے، کاروباری لوگوں کی نگرانی کرتے کہ کس طرح خریدوفروخت کرتے ہیں اور ان کو نصیحت فرماتے اور کہتے:’’ اللہ سے ڈرو اور ناپ تول کا پورا پورا لحاظ رکھو ، لوگوں کا حق نہ مارو‘‘۔٭٭٭اپنی ذات کے معاملہ میں انتہائی محتاط: اگربازار سے کوئی چیز خریدنا ہوتاتو دکانداروں اور بیچنے والوں میں سے ایسے دکاندار یا بائع کو تلاش کرتے جو آپ کو پہچانتا نہ ہو اور اسی سے سودا خریدتے ،اس کوسخت ناپسند کرتے کہ کوئی تاجر آپ کے ساتھ اس لئے رعایت کرے کہ آپ امیر المومنین ہیں۔اس بات کی پوری کوشش کرتے کہ لوگوں کے درمیان اپنے قول ، عمل اور برتائو میں اور اپنی مجلسوں میں مساوات قائم رکھیں اور اپنے کارندوں اور عالموں سے اس طرح کا مطالبہ کرتے اور علاقوں کے حاکموں سے بھی اسی کی توقع رکھتے، ان حکام کی سخت نگرانی کرتے اور کبھی کبھی اچانک معائنہ کرنے والوں کو بھیجتے کہ وہ جاکر دیکھیں کہ حکام کا عوام کے ساتھ کیاسلوک ہے اور عوام کی ان حکام کے بارے میں کیارائے ہے؟ آپ کے مقررکردہ کارندوں اور حکام پر آپ کی ہیبت تھی اور اگرضرورت پڑتی تو مجبوراً فہمائش اور عتاب سے بھی کام لیتے، آپ کے وہ مکاتیب جو ان حکام اور کارندوں کے نام ہیں، اس طرزعمل کے شاہد ہیں۔٭٭٭کتاب وسنت کے عالم جلیلابوعمر ابوطفیل کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا میں نے حضرت علیؓ کو اس وقت دیکھا جب لوگوں سے خطاب فرمارہے تھے اور کہہ رہے تھے ، کتاب اللہ کے بارے میں جو چاہو پوچھ لو، بخدا قرآن کریم میں کوئی بھی ایسی آیت نہیں ہے جس کے بارے میں مجھے یہ نہ معلوم ہو کہ یہ رات کو نازل ہوئی ہے یا دن کو (ہموار) راستے میں چلتے ہوئے نازل ہوئی ہے یا اس وقت جب آپﷺ کسی پہاڑی پر تھے۔ شریح بن ہانی سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے مسح علی الخفین کا مسئلہ دریافت کیا۔ انھوں نے کہا: علیؓ سے پوچھو، ان کو میری نسبت یہ مسئلہ زیادہ معلوم ہے، وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ سفر میں جایا کرتے تھے۔٭٭٭حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ کے بے مثال ساتھی حضرت علیؓ عین اپنی روایتی خاندانی شرافت، عالی ظرفی، بے نفسی، عالی نسبی اور بے داغ خلوص وصداقت کے حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے زمانہ میں ان کے معاون رہے، وہ ان کے بہترین مشیر اور سچے خیرخواہ تھے۔جب حضرت ابوبکرؓ کی وفات ہوئی، حضرت علی ؓ نے ان کی شان میں ایک طویل خطبہ دیا۔ سیدناعلیؓ حضرت عمرفاروقؓ کے (بھی) ایک خیرخواہ، قابل اعتماد رفیق ومشیرتھے، حکیمانہ اندازمیں مشکل سے مشکل مسئلہ کو اس طرح حل کردیتے کہ شک وشبہ کی گنجائش نہ رہتی ۔ ایک روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا’’ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔‘‘حضرت عمرؓ جب بیت المقدس کے سفر پر گئے تو اپنی جگہ پر قائم مقام حضرت علیؓ ہی کو بناگئے تھے۔جب حضرت عمرؓ کی شہادت ہوئی ، ان کا جسد مبارک ایک چادر سے ڈھکا ہواتھا، حضرت علیؓ آئے اور حضرت عمرؓ کے چہرہ کو کھولا ، پھر کہا’’ ابوحفص! آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں، اللہ کی قسم !! رسول اللہﷺ کے بعد آپؓ کے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ میں اللہ کے سامنے جاناپسند کروں‘‘۔ پھرفرمایا’’ عمر کی موت اسلام میں ایک ایسا شگاف ہے جو قیامت تک پرنہیں کیاجاسکے گا‘‘۔اور جب تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمانؓ کا محاصرہ ہوا توحضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کی طرف سے مدافعت اور باغیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اجازت طلب کی تو حضرت عثمانؓ نے کہا:’’ میں خدا کا واسطہ اس شخص کو دیتاہوں جو اللہ کو مانتا اور اس کو حق سمجھتااور اس بات کو تسلیم کرتاہے کہ میرا اس پر کوئی حق بھی ہے، ایک پچھنے کے لگانے بھر بھی میری خاطرخون نہ بہائے۔ حضرت علیؓ نے دوبارہ اجازت طلب کی اور انھوں نے دوبارہ یہی جواب دیا، پھر حضرت علیؓ مسجد میں آئے، اذان ہوئی، لوگوں نے کہا’’ ابا الحسن! آگے بڑھئے اور نمازپڑھائیے! حضرت علیؓ نے جواب دیا: امام جب کہ خانہ قید ہے میں نماز نہیں پڑھائوں گا لیکن میں تنہا اپنی نماز پڑھوں گا چنانچہ تنہا نماز پڑھ کر اپنے گھر واپس گئے۔٭٭٭نرم خو اور مونس انسانسیدنا علیؓ اپنی شجاعت، دلیری، دل کی مضبوطی اور ارادہ کی پختگی کے ساتھ ساتھ انتہائی نرم دلی اور انس ومحبت رکھنے والے انسان تھے، نازک انسانی احساسات کے مالک تھے، بہت ہی ملنسار، دلنواز، نرم خو طبیعت پائی تھی، انسان کی یہ خصوصیات اپنے تمام جمال وکمال کے ساتھ اس وقت نمایاں ہوتی ہیں جب اس کا قاتل اس کے روبرو کھڑا ہو۔ روایت ہے کہ ابن ملجم کے بارہ میں جواس نے زہر سے بجھی ہوئی تلوار سے آپ پر حملہ کیاتھا، آپ نے اپنے صاحبزادہ سیدنا حسنؓ سے فرمایا:’’ دیکھو حسن! اگرمیں اس کے حملہ میں جانبر نہ ہوسکوں تو اس پر ایک ہی وار کیاجائے، اس کا مثلہ ہرگز نہ کیاجائے۔ جب ابن ملجم کو آپؓ کے سامنے لایاگیاتوآپؓ نے فرمایا: اس کو گرفتار کرو اور اس سے نرمی کا معاملہ کرو، اگرمیں زندہ رہ گیا تو رائے قائم کروں گا کہ اس کو معاف کردوں یاقصاص لوں اور اگر میں مرجائوں تو ایک جان کا بدلہ صرف ایک جان ہے۔٭٭٭