سیدناعلی المرتضی رضی اللہ عنہ

سیدناعلی المرتضی رضی اللہ عنہ

اسپیشل فیچر

تحریر : مولانا ابوالحسن علی ندوی


چوتھے خلیفہ راشد کی زاہدانہ سیرت , مصلحانہ ومربیانہ کردار کا احاطہ کرتی ہوئی تحریر :سیدنا حضرت علیؓ کے والدماجد ابوطالب قریش کے ان ممتاز لوگوں میں تھے جو حَکَم اور تنازعات میں فیصلہ کرنے والوں کا درجہ رکھتے تھے اور سرداروں میں سے تھے، اہم مسائل میں لوگ ان سے رجوع کرتے تھے۔ ابوطالب کوئی صاحب ثروت ودولت آدمی نہ تھے۔جب رسول اللہﷺ اسلام کی دعوت لے کر کھڑے ہوئے اور اعلان حق برملافرمانے لگے تو لوگوں کو یہ بات بہت کَھلی، انھوں نے آپﷺ کی مخالفت شروع کردی اور آپﷺ کی دشمنی پر سب متفق ہوگئے لیکن ابوطالب یکساں طورپر آپﷺ کی حمایت اور مدافعت کرتے رہے۔ابوطالب کے چارصاحبزادے تھے، طالب، دوسرے عقیل، تیسرے جعفر اور چوتھے علی اور دوصاحبزادیاں تھیں ام ہانی اور جمانہ، یہ سب فاطمہ بنت اسدؓ کے بطن سے تھے اور ان تمام بھائی بہنوں میں دس دس سال کا فرق تھا۔ چنانچہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ حضرت جعفرؓ سے دس سال چھوٹے تھے۔ سیدنا علیؓ بن ابی طالب بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے، ابن سعد کابیان ہے کہ آپؓ کی پیدائش رجب کے مہینہ میں ہوئی۔ محدثین کا خیال ہے کہ سیدنا علیؓ کعبہ میں نہیں پیدا ہوئے تھے(جیسا کہ ایک طبقے کا کہنا ہے)، کعبہ میں جو صاحب پیدا ہوئے تھے، وہ حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی تھے۔اللہ عزوجل کے خصوصی انعامات میں سے اور جو خیروبرکت ان(حضرت علیؓ) کے لئے مقدر کررکھی تھی، اس کا ظاہری سبب یا بہانا یہ ہوا کہ قریش سخت تنگ حالی کی مصیبت سے دوچار ہوئے، ابوطالب کثیرالعیال تھے، رسول اللہﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ سے جو قریش کے خوشحال لوگوں میں سے تھے کہا: چچا! آپ کے بھائی ابوطالب کثیرالعیال ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ لوگ کن مصائب سے دوچار ہیں، چلئے ان کا کچھ بوجھ ہلکا کریں اور ان کے بال بچوں میں سے کچھ کی پرورش اپنے ذمہ لیں، حضرت عباسؓ نے کہا بہترہے، چنانچہ دونوں ابوطالب کی خدمت میں پہنچے اور کہا ہم دونوں اس لئے آئے ہیں کہ جب تک یہ تنگی اور سختی کا زمانہ ہے جس میں سب ہی گرفتار ہیں، اس وقت تک ہم آپ کے بال بچوں کا کچھ بوجھ اپنے ذمہ لے کر آپ کو ہلکا کریں، ابوطالب نے ان دونوں سے کہا؛ عقیل کو تم لوگ میرے پاس چھوڑ دو باقی کے بارے میں چاہے جو فیصلہ کرلو، چنانچہ رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کی ذمہ داری خود لے لی اورحضرت جعفرؓ کی کفالت حضرت عباسؓ نے قبول فرمائی، حضرت علیؓ اس وقت سے رسول اللہﷺ سے وابستہ رہے یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنا کر مبعوث کیا اور حضرت علیؓ بن ابی طالب نے آپﷺ کا اتباع کیا، آپﷺ کی صداقت پر ایمان لائے اور تصدیق کی، دوسری طرف حضرت جعفرؓ ، حضرت عباسؓ کی کفالت میں رہے یہاں تک کہ کفالت کی ضرورت نہیں رہی۔علیؓ بن ابی طالب ایک مرتبہ ایسے وقت آئے کہ رسول اللہﷺ اور حضرت خدیجہؓ دونوں نماز میں تھے، حضرت علیؓ نے کہا: یہ کیامعاملہ ہے؟ رسول اللہﷺ نے بتایا، یہ اللہ کا دین ہے جس کو اللہ نے اپنے لئے پسند کیا اور اسی کے لئے انبیا کو مبعوث کیا ہے، میں تم کو بھی خدائے واحد کی طرف بلاتاہوں جو تنہا معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ حضرت علیؓ نے کہا: یہ وہ بات ہے جس کو میں نے پہلے کبھی نہیں سنا اور میں جب تک ابوطالب سے ذکر نہ کرلوں کچھ فیصلہ نہیں کرسکتا۔ رسول اللہﷺ نے پسند نہیں کیا کہ جب تک علانیہ دعوتِ اسلام شروع نہ کردیں یہ راز فاش ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: اگرتم ایمان نہیں لاتے ہو تو و اس کو ابھی پوشیدہ رکھو۔ حضرت علیؓ اس رات خاموش رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام ڈال دیا، صبح سویرے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: آپﷺ نے مجھے کل کیادعوت دی تھی، رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ تنہا معبود ہے اور لات وعزّیٰ کا انکارکردو اوراللہ کا کسی کو شریک ٹھہرانے سے بری ہوجائو، حضرت علیؓ نے کلمہ شہادت پڑھا اور اسلام لے آئے، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ابوطالب سے پوشیدہ آیاکرتے اوراپنے اسلام کو(رسول اللہﷺ کی حسب ہدایت) ظاہر نہیں کیا۔پہلا شخص جس نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز ادا کی وہ علیؓ تھے اور اس وقت ان کی عمردس سال تھی۔حسن بن زیدؓ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے کبھی بھی بتوں کی پرستش نہیں کی کیونکہ ان کی عمرکم تھی۔جب نماز کا وقت آتا رسول اللہﷺ مکہ کی کسی گھاٹی میں جاکر عبادت کرتے اور آپﷺ کے ساتھ علی بن ابی طالب ؓ بھی اپنے والد، چچا صاحبان اور تمام افرادخاندان سے چھپ کر جاتے اور تمام نمازیں رسول اللہﷺ کے ساتھ ادا کرتے اور شام ہوجاتی گھر واپس آتے۔ یہ سلسلہ جب تک اللہ کو منظور تھا جاری رہا، ایک دن جبکہ یہ دونوں نماز پڑھ رہے تھے، ابوطالب نے دیکھ لیا، ابوطالب نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: عزیزمن! یہ کون سا دین ہے جس کی تم پیروی کررہے ہو۔ آپﷺ نے جواب دیا: عم محترم! یہ اللہ کا، اللہ کے فرشتوں کا ، اس کے پیغمبروں کا اور ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔چچا جان! آپ سب سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں جن کو مخلصانہ دعوت پیش کی جائے۔ ابوطالب نے جواب دیا؛ اے عزیز! میں اپنے آباء کا مذہب اور ان کے طورطریق نہیں چھوڑسکتا لیکن بخدا جب تک میں زندہ ہوں تم کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا، سیرت نگاروں کا بیان ہے کہ ابوطالب نے اپنے صاحبزادہ علی مرتضیٰؓ سے کہا: اے بیٹے یہ کیامذہب ہے جس پر تم چل رہے ہو، انھوں نے کہا: والدصاحب! میں اللہ اور اللہ کے رسول پر ایمان لاچکاہوں اور رسول اللہﷺ کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتاہوں اوران کی پیروی کرتاہوں۔جو لوگ حق وصداقت کی جستجو اور اسلام کی طلب میں مکہ آیاکرتے تھے، ان کی سیدنا علی کرم اللہ وجہہ مدد اور رہنمائی فرمایاکرتے تھے اور انھیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہونچایا کرتے تھے، اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص صلاحیت اور ذہانت بخشی تھی۔ امام بخاری نے اپنی سند سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کی ہے ، فرماتے ہیں: (حضرت) ابوذر (غفاری)ؓ کو جب بعثت نبوی کی خبرملی تو انھوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی کی طرف سوار ہوکر جائو اور اس شخص کے بارے میں پتہ لگائو، جو اپنے آپ کو اللہ کا نبی کہتاہے اور اس کو یقین ہے کہ اس کے پاس آسمان سے اطلاع آتی ہے ، ان کی باتیں سنو اور مجھے آکر بتائو۔ یہ صاحب(ابوذرؓ کے بھائی) چلے اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچے اورآ پ کی باتیں سنیں اور واپس آکر ابوذرؓ کو بتایا کہ میں ان کو دیکھا کہ وہ شریفانہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں اورایسی باتیں کرتے ہیں جو شاعری نہیں ہے۔ ابوذر نے کہا : میں جو معلوم کرناچاہتاتھا، وہ تم نہ بتاسکے، پھر انھوں نے خود زادراہ تیارکیا۔ پانی کا ایک مختصر سا مشکیزہ لیا اور مکہ پہنچ گئے، حرم شریف آئے، وہ رسول اللہﷺ کو پہچانتے نہیں تھے، (اندازہ وقیافہ سے) آپﷺ کو تلاش کرتے رہے، یہاں تک کہ رات ہوگئی اور وہ لیٹ گئے، حضرت علیؓ نے ان کو دیکھ کر اندازہ کرلیا کہ یہ کوئی باہر سے آنے والے شخص ہیں، وہ ان کے پیچھے پیچھے چلے مگر کوئی دوسرے سے بات نہیں کرتاتھا، یہاں تک کہ صبح ہوگئی، ابوذر اپنا زادراہ اور پانی کا مشکیزہ مسجد حرام میں لے آئے اور پورا دن گزاردیا اور رسول اللہ ﷺ سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی ، پھرشام آئی اور رات ہوگئی، ابوذر لیٹ گئے، حضرت علیؓ ان کے پاس سے گزرے فرمایا: کیا ابھی تک اس شخص کو اپنے ٹھکانہ کا پتہ نہیں چلا کہ وہاں جاکے ٹھہرے، پھر ان کو اپنے ساتھ لے کر چلے مگرا ب تک ایک دوسرے سے کچھ پوچھتانہیں تھا، تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا اور حضرت علیؓ ان کے ساتھ ٹھہرے رہے، بالآخر حضرت علیؓ نے کہا: کیاآپ بتائیں گے کہ یہاں کیسے آنا ہوا؟ کہا اگرتم عہد کرو اور مجھے قول دو کہ تم میری رہبری کرو گے تو بتائوں، حضرت علیؓ نے یہ شرط قبول کی اورفرمایا کہ بتائو کیاچاہتے ہو؟ ابوذر نے بتادیا، حضرت علیؓ نے کہا یقیناً وہ حق بات ہے اور بلاشبہ وہ رسول اللہ(ﷺ) ہیں، جب صبح کو نیند سے بیدار ہوناتو میرے ساتھ چلنا، راستہ میں اگرمیں نے کوئی خطرہ کی بات دیکھی تو رک جائوں گا، جیسے استنجے کے لئے ٹھہرگیاہوں اور اگرچلتارہوں تو میرے ساتھ ساتھ چلے آنا اور جہاں میں جائو تم بھی جانا، ابوذر نے ایسا ہی کیا، حضرت علیؓ کے پیچھے پیچھے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کی بات سنی اور اسی وقت اور اسی جگہ ایمان لے آئے۔قریش اور قبائل عرب کو اسلام کی دعوت دینے کا سلسلہ جاری رہا، دوسری قریش کی دشمنی اور مخالفت بھی پورے شباب پر تھی اور واقعات کا تسلسل قائم رہا، بنوہاشم کا مقاطعہ(سوشل بائیکاٹ) اور ان کا شعب ابی طالب میں پناہ گزیں ہونا، حضرت جعفر بن ابی طالب اور بہت سے مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کرکے جانا، رسول اللہ ﷺکا طائف جاکر دعوت حق دینا اور وہاں کے لوگوں کی بدزبانی اور بدسلوکی کا واقعہ، اسراء ومعراج کا واقعہ، حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور حضرت عمرؓبن الخطاب کا اسلام میں داخل ہونا اور اہل مکہ اور باہر سے آنے والوں میں جن لوگوں کے قلوب اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لئے کھول دئیے ان کا ایمان لانا، پھر رسول اللہﷺ کی مدافعت کرنے والے اوران کی حفاظت کے لئے سینہ سپر رہنے والے ابوطالب کی وفات ام المومنین حضرت خدیجہؓ کی وفات اور قریش کی روزافزوں سختیاں اور ایذا رسانی اور دشمنی کے نت نئے طریقے ایجاد کرنا جن کی کوئی حد نہیں اور اس دوران قبیلہ قحطان یثرب کے دوبڑے قبیلے اوس اور خزرج کا ایمان لانا، پھر بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ کے واقعات، مدینہ میں اسلام پھیلنا،بہت سے مسلمانوں کو یثرب کی طرف ہجرت کرنا یہاں تک کہ مکہ میں رسول اللہﷺ ، حضرت علیؓ ، حضرت ابوبکرؓ ابن ابی قحافہ کے علاوہ صرف وہی مسلمان رہ گئے جو یاتو محبوس تھے یاکسی مصیبت میں گرفتار تھے اور قریش کو کھٹکالگا ہواتھا کہ کہیں رسول اللہﷺ مدینہ نہ چلے جائیں، ان تمام واقعات کی تفصیل آسان بھی نہیں ہے اور حضرت امیرالمومنین علی ابن طالبؓ کی سوانح میں مکمل طورپر ذکر کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔بہرحال یہی حالات تھے کہ بالآخر قریش دارالندوہ میں جمع ہوئے اور اس تجویزپر سب متفق ہوگئے کہ ہرقبیلہ سے ایک مضبوط اور باہمت آدمی لیاجائے اور یہ سب مل کر اس طرح رسول اللہﷺ پر وارکریں کہ سب مل کر ایک ہاتھ بن جائیں ، اس طور پر خون کی ذمہ داری تمام قبائل پر ہوگی اور عبدمناف تمام قبائل سے خون کا بدلہ لینے کے لئے جنگ کرنے کی ہمت نہیں کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اس سازش سے آگاہ کردیا اور آپﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا اور فرمایا:’’ تم کو کوئی گزند نہیں پہونچائیگا‘‘۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد تین روز رہا۔ (پھرحضرت علیؓ نے مدینہ کا سفرشروع کیا) حضرت علیؓ راتوں کو چلاکرتے اور دن کو کہیں چھپ رہتے، اس طرح مدینہ پہنچے، آپؓ کے پائوں پھٹ گئے تھے۔رسول اللہﷺ نے انھیں گلے سے لگایا، ان کے پیر کے ورم کو دیکھ کر روپڑے۔ پھر ان پر لعاب دہن لگایا اور دست مبارک ان کے پیروں پر پھیرا، جس کا اثر یہ تھا کہ حضرت علیؓ کی شہادت کے دن تک پھر کوئی پیروں کی تکلیف نہیں ہوئی۔رسول اللہﷺ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ اور سہل بن حنیفؓ کے درمیان بھائی چارگی کا تعلق قائم کیا۔ہجرت کے دوسرے سال رسول اللہﷺ نے حضرت فاطمہؓ کا عقد حضرت علی ؓ سے کردیا۔اس موقع پر رسول اللہﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا، میں نے تمہارا نکاح اپنے اہل بیت کے بہترین فرد سے کردیاہے، پھر ان کو دعائیں دیں اور ان دونوںپر پانی چھڑکا۔اس وقت حضرت فاطمہؓ کی عمر15سال اور حضرت علیؓ کی عمر21سال تھی۔علیؓ و فاطمہؓ اور رسولﷺ کی معیشت انتہائی سادہ، سخت کوشی صبرومشقت کی معیشت تھی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا ایسے بہتیرے دن گزرگئے کہ ہمارے گھر میں کوئی چیز کھانے کی نہ تھی اور نہ نبیﷺ کے پاس کچھ تھا۔اسی زمانہ میں ایک بار باہرنکلاتو راستہ میں ایک دینارپڑاہوا دیکھا، میں ٹھٹھک کر کھڑا ہوگیا اور پھر دل میں سوچتا رہا کہ اس کو اٹھائوں یا چھوڑ دوں اور ان شتربانوں کو دیا جو باہر سے غلہ لے کرآئے تھے اور اس سے آٹا خریدلیا، فاطمہؓ کو دیا کہ اس کو گوندھ کر روٹیاں پکالو، وہ گوندھنے لگیں مگرفاقہ کی وجہ سے اتنی کمزور تھیں کہ آٹا گوندھنے میں ہاتھ باربار برتن پر گرجاتا اور چوٹ لگتی۔اس تنگی اور فقر وفاقہ کی زندگی کے باوجود حضرت علیؓ رسول اللہﷺ کی راحت رسانی اور آپ ﷺ کی دعوت الی اللہ اورجہاد کے لئے یکسو رکھنے کی خاطر کوئی کسراٹھا نہیں رکھتے تھے ۔ایک دن رسول اللہﷺ کے گھر فاقہ تھا، حضرت علیؓ کو یہ معلوم ہوا تو وہ کسی مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکل پڑے تاکہ اس سے اتنا مل جائے کہ رسول اللہﷺ کی ضرورت پوری ہوجائے ، اس تلاش میں ایک یہودی کے باغ میں پہنچے اور اس کے باغ کی سینچائی کا کام اپنے ذمہ لیا، مزدوری یہ تھی کہ ایک ڈول پانی کھینچنے کی اجرت ایک کھجور، حضرت علیؓ نے سترہ عجوہ لے لئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیئے، فرمایا: جناب! یہ کہاں سے لائے؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کیا، یانبی اللہ ! مجھے پتہ لگا کہ آج فاقہ درپیش ہے، اس لئے کسی مزدوری کی تلاش میں نکل گیاتھا کہ کچھ کھانے کا سامان کرسکوں، رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت نے اس پر آمادہ کیاتھا؟عرض کیا، ہاں یارسول اللہﷺ!رمضان 2ھ میں جنگ بدر ہوئی، یہ وہ فیصلہ کن معرکہ تھا جس نے امت اسلامیہ اور دعوت اسلامی کے لئے راستہ ہی صاف نہیں کیابلکہ تاریخ کے دھارے کا رخ بدل دیا۔حضرت علیؓ جنگ میں رسول اللہﷺ کے عَلم کے حامل تھے۔رسول اللہﷺ نے (اس)غزوہ کے موقع پر اپنی تلوار ذوالفقار حضرت علیؓ کے ہاتھ میں دی اور اس جنگ کے بعد ان کو ہمیشہ کے لئے بخش دی۔ غزوہ احد میں(بھی) حضرت علیؓ موجود تھے، لشکر اسلام کا میمنہ سنبھالے ہوئے تھے اور حضرت مصعب بن عمیرؓ کی شہادت کے بعد عَلم آپ ہی نے اپنے ہاتھ میں لیا، لاتعداد مشرکوں کو ٹھکانے لگایا، رسول اللہﷺ کے چہرہ مبارک سے بہتے ہوئے خون کو دھویا کیونکہ جب آپﷺ پر دشمن نے وار کیاتو سرمبارک پر زخم آئے تھے اور آگے کے دو دندان مبارک شہید ہوگئے تھے۔ شوال5ھ میں غزوہ خندق پیش آیا۔حضرت علیؓ کے جنگ کے امور میں خداداد امتیازی کمال کا پہلی بارشاندار اور مکمل اظہار اس جنگ کے موقع پر ہوا۔ ہجرت کے ساتویں سال محرم کے آخر میں خیبر کی جنگ ہوئی۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں شیرخدا حضرت علیؓ کی نادرہ روزگار شجاعت اور اللہ، اللہ کے رسول کے یہاں جو ان کا مرتبہ تھا، وہ دنیا کے سامنے کھل کر آگیا اور تقدیر الٰہی کا یہ فیصلہ کہ یہ یہودی کالونی جس کی جنگی اور فوجی نیزجغرافیائی لحاظ سے بڑی اہمیت تھی، وہ حضرت علیؓ کے ہاتھ فتح ہو۔حضرت علیؓ القموص کے قلعہ میں داخل ہوئے، ادھر سے مشہور شہسوار مرحب رجزیہ اشعارپڑھتا ہوا سامنے آیا، دونوں نے دو وار کئے، حضرت علیؓ نے جو وار کیا تو اس کے سر کا آہنی خود اور سر دونوں ایک ساتھ کٹ گئے ، اس کے جبڑے بھی ٹوٹ گئے اور اسی پر جنگ کا فیصلہ ہوگیا ۔نوہجری میں حج فرض ہوا، رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکرصدیقؓ کو اس سال امیر الحج بناکربھیجا کہ وہ مسلمانوں کو اسلامی طریقہ پر حج کرائیں، اس وقت تک مشرکین اپنے طریقوں پرحج کیاکرتے تھے، حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جن کا حج کا ارادہ تھا، ان کی تعداد تین سو تھی اور سب اہل مدینہ تھے۔رسول اللہﷺ پر سورہ برات نازل ہوئی، آپﷺ نے حضرت علیؓ کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ سورہ برات کی ابتدائی آیتیں لے کر جائو اور قربانی کے دن لوگوں کو سنادینا اور بتادینا کہ جنت میں کوئی کافر نہیں جائے گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا، خانہ کعبہ کا طواف کوئی ننگے جسم نہیں کرے گا اور آنحضرتﷺ نے اگرکسی کے ساتھ کوئی معاہدہ کیاہے تو آپﷺ اپنی زندگی بھر اس کے پابند رہیں گے۔حضرت علی رسول اللہﷺ کی اونٹنی عضبا پر نکلے، راستہ میں حضرت ابوبکرؓ سے ملاقات ہوگئی، حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: تم امیر کی حیثیت سے چل رہے ہو یا مامور کی حیثیت سے؟ حضرت علیؓ نے کہا کہ مامور کی حیثیت سے، دونوں نے اپنا سفر جاری رکھا ، حضرت ابوبکرؓ کی رہنمائی میں لوگوں نے مناسک حج ادا کئے، جب قربانی کا دن آیاتو حضرت علیؓ نے لوگوں میں ان باتوں کا اعلان کردیا جس کی رسول اللہﷺ نے ہدایت دی تھی۔حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد کئی روز تک اہل مدینہ اور اس کے حاکم ومنتظم غافقی بن حرب کو انتظار رہا کہ مسلمانوں کی سربراہی کے لئے کون آگے بڑھتا ہے۔ مصریوں کا حضرت علیؓ پر اصرارتھا اور حضرت علیؓ کو اس سے گریز تھا، وہ باغوں کی چہاردیواری میں روپوش ہورہے تھے، لوگوں کو سمجھ میں نہیںآرہاتھا کہ کس طرح اس مشکل کو حل کریں، حضرت علیؓ ہی سے بار بار رجوع کیاجارہاتھا، ان کے اصرار پر آپؓ نے بیعت قبول کرلی، بیعت سے پہلے اہل مدینہ کی رائیں معلوم کرلی گئی تھیں، ہرشخص کہہ رہاتھا کہ علیؓ کے علاوہ کوئی اس منصب کے لائق نہیں ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اس وقت امت اسلامیہ کی باگ ڈور سنبھالنے والا ، خلافت راشدہ کی نازک ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے والا اور اس کے لئے ہمہ گیر صلاحیتوں اور کمالات کاحامل ابوبکر عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے بعد علی مرتضیٰ ؓ سے زیادہ کوئی نہ تھا۔(اپنے دورخلافت میں)حضرت علیؓ کو بہ یک وقت دو طرفہ عظیم مشکلات کا سامناتھا، ایک طرف شام کی ریشہ دوانیاں تھیں جن سے جنگ کے بغیر چارہ کار نہ تھا، دوسری طرف ان کے احباب وانصار تھے جن کے اندر اس سرگرمی اور جوش کا فقدان تھا جو اہل شام کے اندرپایاجاتاتھا۔علامہ ابن کثیر کہتے ہیں: امیرالمومنینؓ کو حالات نے بہت مکدر کردیاتھا، ان کی فوج میں بے راہ روی تھی، اہل عراق نے ان کی مخالفت شروع کردی تھی، ان کے ساتھ تعاون سے کترا رہے تھے، ادھر شامیوں کی قوت زور پکڑچکی تھی، اب وہ دائیں بائیں حملے کرتے اور لوٹ مارمچارہے تھے،عراق کے امیر علی بن ابی طالبؓ اس عصر میں روئے زمین پر بسنے والے انسانوں میں سب سے اعلیٰ وافضل انسان تھے، سب سے زیادہ اللہ کے عبادت گزار، سب سے زیادہ دنیا سے بے غرض اور بے رغبت، سب سے زیادہ علم وفضل کے حامل ، سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والے انسان تھے، پھر بھی لوگوں نے ان کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، ان سے کنارہ کش ہوگئے یہاں تک کہ خود امیرالمومنین اپنی زندگی سے اکتا گئے اور موت کی تمنا کرنے لگے، کہتے تھے’’ یہ( اپنی ریش مبارک کی طرف اشارہ کرکے) اس کے( اپنے سر کی طرف اشارہ کرکے) خون سے رنگ دی جائے گی‘‘ اور بالآخر یہی ہوکررہا۔ شہادت کے واقعہ فاجعہ کی تفصیل یہ ہے کہ تین خارجی اکٹھا ہوئے جن کے نام یہ ہیں: عبدالرحمن ابن عمرو عرف ابن ملجم الحمیری ثم الکندی، برک بن عبداللہ التمیمی اور عمرو بن بکر التمیمی۔ان سبھوں نے اپنے ہم مشرب اہل نہروان کے بارے میں باتیں کیں، جن کو حضرت علیؓ نے قتل کیاتھا، اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔ اس کے بعد ابن ملجم نے کہا: علیؓ کو ختم کرنے کی ذمہ داری میں لیتاہوں، برک نے کہا: معاویہ کا صفایا کرنا میرے ذمہ ہے، عمرو بن بکر نے کہا: عمروبن العاص کو میں دیکھ لوں گا۔ابن ملجم کوفہ پہنچ گیا اور اپنے ساتھیوں (خوارج) سے بھی اپنے ارادہ کا اظہار نہیں کیا، شب جمعہ کو اس دروازہ کے چھجے کے نیچے آکر بیٹھ گیا جس سے حضرت علیؓ نماز کے لئے نکلا کرتے تھے جس وقت آپ نمازفجر کے لئے نکلے اور لوگوں کو بیدار کررہے تھے، نماز نماز کہہ رہے تھے اور لوگ نیند سے بیدار ہوکر نماز کے لئے اٹھ رہے تھے کہ ابن ملجم نے سیدنا علی ؓ کے سرکے اگلے حصہ پر وار کیا، سر کے خون سے ریش مبارک رنگین ہوگئی۔حضرت علیؓ نے 63سال کی عمر میں سفرآخرت اختیارکیا، آپ ؓ کی خلافت کی مدت چارسال نوماہ ہے۔آپؓ کے جنازہ کی نماز آپؓ کے صاحبزادہ حضرت حسنؓ نے پڑھائی۔(یہ مضمون سیدابوالحسن علی ندوی کی کتاب ’’المرتضیٰؓ‘‘ سے ماخوذ ہے)٭٭٭دنیا سے بے رغبتی: حضرت علیؓ کی سب سے نمایاں خصوصیت اور وہ بات جو ان کی علامت اور پہچان بن گئی تھی، وہ ان کی دنیا سے ایسی حالت میں بے رغبتی و بے نیازی تھی جب کہ عیش وآرام کے تمام اسباب ان کے قدموں پر تھے۔حکومت کے پورے اختیارات اور فراغت و دولت کے سارے وسائل واسباب آپ کو حاصل تھے، لوگوں کی طرف سے تعظیم وتکریم میں کمی نہ تھی، کوئی ان پر نقد نہیں کرسکتاتھا اور نہ محاسبہ کرسکتاتھا۔ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں فالودہ پیش کیاگیا، آپ نے اس فالودہ کو مخاطب کرکے فرمایا: تیری خوشبو اچھی ہے، رنگ حسین ہے، مزہ لذیذ ہے مگر میں نہیں چاہتا کہ نفس کو ایسی چیز کا عادی بنائوں جس کا وہ اب تک عادی نہیں ہے۔ایک بار حضرت سیدناعلی بن ابی طالبؓ نے خطبہ دیا، اس میں فرمایا:’’ لوگو! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے تمہارے مال سے نہ تھوڑا لیا ہے نہ بہت، سوائے اس شے کے اور جیب سے ایک چھوٹی سی شیشی نکال کر دکھائی جس میں عطر یا کوئی خوشبو تھی، حضرت علیؓ نے کہا مجھے ایک دہقان نے یہ ہدیہ دیا ہے پھر وہ بیت المال تشریف لائے اور کہا یہ لو( وہ شیشی بیت المال میں جمع کردی)۔٭٭٭مربی ومصلح امام: حضرت علیؓ شیخین(حضرت ابوبکر وعمرؓ) کے انداز ونہج کے خلیفۃ المسلمین تھے، مسلمانوں کے حقیقی معنوں میں ولی الامر، معلم، مربی اور عملی مثال قائم کرنے والے، اخلاقی و دینی امور کی نگرانی اور احتساب کرنے والے تھے، لوگوں کے رجحانات وخیالات اور تصرفات پر نظررکھتے کہ وہ کس حد تک اسلامی تعلیمات اور رسول اللہﷺ کے اسوہ کے مطابق ہیں ، آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے، ان کو نصیحتیں فرماتے، دین کے مسائل بتاتے اور دین کا فہم ان کے اندرپیدا کرتے، ان کو بتاتے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے کیا چاہتاہے اور کن باتوں کو ناپسند فرماتاہے، آپ مسجد میں بیٹھتے، لوگ آپ کے پاس آیاکرتے، اپنے معاملات میں مشورے لیتے، کوئی دینی مسئلہ پوچھتا تو اس کو بتاتے، دنیاوی امور میں صلاح و مشورہ دیتے، بازاروں میں چلتے پھرتے، کاروباری لوگوں کی نگرانی کرتے کہ کس طرح خریدوفروخت کرتے ہیں اور ان کو نصیحت فرماتے اور کہتے:’’ اللہ سے ڈرو اور ناپ تول کا پورا پورا لحاظ رکھو ، لوگوں کا حق نہ مارو‘‘۔٭٭٭اپنی ذات کے معاملہ میں انتہائی محتاط: اگربازار سے کوئی چیز خریدنا ہوتاتو دکانداروں اور بیچنے والوں میں سے ایسے دکاندار یا بائع کو تلاش کرتے جو آپ کو پہچانتا نہ ہو اور اسی سے سودا خریدتے ،اس کوسخت ناپسند کرتے کہ کوئی تاجر آپ کے ساتھ اس لئے رعایت کرے کہ آپ امیر المومنین ہیں۔اس بات کی پوری کوشش کرتے کہ لوگوں کے درمیان اپنے قول ، عمل اور برتائو میں اور اپنی مجلسوں میں مساوات قائم رکھیں اور اپنے کارندوں اور عالموں سے اس طرح کا مطالبہ کرتے اور علاقوں کے حاکموں سے بھی اسی کی توقع رکھتے، ان حکام کی سخت نگرانی کرتے اور کبھی کبھی اچانک معائنہ کرنے والوں کو بھیجتے کہ وہ جاکر دیکھیں کہ حکام کا عوام کے ساتھ کیاسلوک ہے اور عوام کی ان حکام کے بارے میں کیارائے ہے؟ آپ کے مقررکردہ کارندوں اور حکام پر آپ کی ہیبت تھی اور اگرضرورت پڑتی تو مجبوراً فہمائش اور عتاب سے بھی کام لیتے، آپ کے وہ مکاتیب جو ان حکام اور کارندوں کے نام ہیں، اس طرزعمل کے شاہد ہیں۔٭٭٭کتاب وسنت کے عالم جلیلابوعمر ابوطفیل کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا میں نے حضرت علیؓ کو اس وقت دیکھا جب لوگوں سے خطاب فرمارہے تھے اور کہہ رہے تھے ، کتاب اللہ کے بارے میں جو چاہو پوچھ لو، بخدا قرآن کریم میں کوئی بھی ایسی آیت نہیں ہے جس کے بارے میں مجھے یہ نہ معلوم ہو کہ یہ رات کو نازل ہوئی ہے یا دن کو (ہموار) راستے میں چلتے ہوئے نازل ہوئی ہے یا اس وقت جب آپﷺ کسی پہاڑی پر تھے۔ شریح بن ہانی سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے مسح علی الخفین کا مسئلہ دریافت کیا۔ انھوں نے کہا: علیؓ سے پوچھو، ان کو میری نسبت یہ مسئلہ زیادہ معلوم ہے، وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ سفر میں جایا کرتے تھے۔٭٭٭حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ کے بے مثال ساتھی حضرت علیؓ عین اپنی روایتی خاندانی شرافت، عالی ظرفی، بے نفسی، عالی نسبی اور بے داغ خلوص وصداقت کے حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے زمانہ میں ان کے معاون رہے، وہ ان کے بہترین مشیر اور سچے خیرخواہ تھے۔جب حضرت ابوبکرؓ کی وفات ہوئی، حضرت علی ؓ نے ان کی شان میں ایک طویل خطبہ دیا۔ سیدناعلیؓ حضرت عمرفاروقؓ کے (بھی) ایک خیرخواہ، قابل اعتماد رفیق ومشیرتھے، حکیمانہ اندازمیں مشکل سے مشکل مسئلہ کو اس طرح حل کردیتے کہ شک وشبہ کی گنجائش نہ رہتی ۔ ایک روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا’’ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔‘‘حضرت عمرؓ جب بیت المقدس کے سفر پر گئے تو اپنی جگہ پر قائم مقام حضرت علیؓ ہی کو بناگئے تھے۔جب حضرت عمرؓ کی شہادت ہوئی ، ان کا جسد مبارک ایک چادر سے ڈھکا ہواتھا، حضرت علیؓ آئے اور حضرت عمرؓ کے چہرہ کو کھولا ، پھر کہا’’ ابوحفص! آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں، اللہ کی قسم !! رسول اللہﷺ کے بعد آپؓ کے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ میں اللہ کے سامنے جاناپسند کروں‘‘۔ پھرفرمایا’’ عمر کی موت اسلام میں ایک ایسا شگاف ہے جو قیامت تک پرنہیں کیاجاسکے گا‘‘۔اور جب تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمانؓ کا محاصرہ ہوا توحضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کی طرف سے مدافعت اور باغیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اجازت طلب کی تو حضرت عثمانؓ نے کہا:’’ میں خدا کا واسطہ اس شخص کو دیتاہوں جو اللہ کو مانتا اور اس کو حق سمجھتااور اس بات کو تسلیم کرتاہے کہ میرا اس پر کوئی حق بھی ہے، ایک پچھنے کے لگانے بھر بھی میری خاطرخون نہ بہائے۔ حضرت علیؓ نے دوبارہ اجازت طلب کی اور انھوں نے دوبارہ یہی جواب دیا، پھر حضرت علیؓ مسجد میں آئے، اذان ہوئی، لوگوں نے کہا’’ ابا الحسن! آگے بڑھئے اور نمازپڑھائیے! حضرت علیؓ نے جواب دیا: امام جب کہ خانہ قید ہے میں نماز نہیں پڑھائوں گا لیکن میں تنہا اپنی نماز پڑھوں گا چنانچہ تنہا نماز پڑھ کر اپنے گھر واپس گئے۔٭٭٭نرم خو اور مونس انسانسیدنا علیؓ اپنی شجاعت، دلیری، دل کی مضبوطی اور ارادہ کی پختگی کے ساتھ ساتھ انتہائی نرم دلی اور انس ومحبت رکھنے والے انسان تھے، نازک انسانی احساسات کے مالک تھے، بہت ہی ملنسار، دلنواز، نرم خو طبیعت پائی تھی، انسان کی یہ خصوصیات اپنے تمام جمال وکمال کے ساتھ اس وقت نمایاں ہوتی ہیں جب اس کا قاتل اس کے روبرو کھڑا ہو۔ روایت ہے کہ ابن ملجم کے بارہ میں جواس نے زہر سے بجھی ہوئی تلوار سے آپ پر حملہ کیاتھا، آپ نے اپنے صاحبزادہ سیدنا حسنؓ سے فرمایا:’’ دیکھو حسن! اگرمیں اس کے حملہ میں جانبر نہ ہوسکوں تو اس پر ایک ہی وار کیاجائے، اس کا مثلہ ہرگز نہ کیاجائے۔ جب ابن ملجم کو آپؓ کے سامنے لایاگیاتوآپؓ نے فرمایا: اس کو گرفتار کرو اور اس سے نرمی کا معاملہ کرو، اگرمیں زندہ رہ گیا تو رائے قائم کروں گا کہ اس کو معاف کردوں یاقصاص لوں اور اگر میں مرجائوں تو ایک جان کا بدلہ صرف ایک جان ہے۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مریخ کے راز کھلنے لگے!

مریخ کے راز کھلنے لگے!

غیر متوقع دھات کی دریافت ،سرخ سیارے پر زندگی کے اشارےمریخ، جو صدیوں سے انسان کی جستجو اور تجسس کا مرکز رہا ہے، ایک بار پھر سائنس دانوں کی توجہ کا محور بن گیا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیقات میں مریخ کی چٹانوں میں ایک غیر متوقع دھات کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جس نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف اس سرخ سیارے کی ساخت کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ اس بات کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے کہ کسی زمانے میں وہاں زندگی کے آثار موجود ہو سکتے تھے۔سائنس دانوں کے مطابق اس غیر معمولی دھات کی موجودگی ایسے کیمیائی اور ماحولیاتی حالات کی طرف اشارہ کرتی ہے جو زندگی کیلئے سازگار ہو سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دریافت نے مریخ پر قدیم زندگی کے امکان سے متعلق جاری تحقیقات کو ایک نئی جہت عطا کر دی ہے، اور اب دنیا بھر کے ماہرین اس راز کو مزید گہرائی سے سمجھنے کیلئے کوشاں ہیں۔مریخ کے ایک ایسے خطے میں جہاں کبھی پانی موجود تھا، نکل (Nickel) کی وافر مقدار میں دریافت نے اس بات کے مزید شواہد فراہم کیے ہیں کہ سرخ سیارہ کبھی زندگی کیلئے سازگار حالات رکھتا تھا۔ محققین نے مریخ کے قدیمی راستے ''نیرتوا ویلس‘‘ (Neretva Vallis)، جہاں سے کبھی پانی بہہ کر جیزرو کریٹر (Jezero Crater) کے ڈیلٹا تک جاتا تھا،کی چٹانوں میں نکل کی وافر مقدار دریافت کی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اس دریافت کو جب وسیع تر ارضیاتی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اس علاقے کی کیمیائی تاریخ کے بارے میں اہم اشارے فراہم کرتی ہے اور مریخ پر ماضی میں زندگی کے امکانات کے معمہ کو سمجھنے میں ایک نیا پہلو سامنے لاتی ہے۔پرڈیو یونیورسٹی (Purdue University)کے سیاروی سائنس دان ہنری مینلسکی (Henry Manelski) نے سائنس الرٹ کو بتایا کہ اگرچہ مریخ پر پہلے بھی نکل کی موجودگی کا پتہ چل چکا ہے، لیکن یہ اب تک کی سب سے مضبوط دریافت ہے، جو لوہا نکل کے شہابیوں کے علاوہ مریخ کی سطح پر سامنے آئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر نکل زمین اور مریخ کی سطح پر ایک کم مقدار میں پایا جانے والا عنصر ہوتا ہے، کیونکہ اس کا زیادہ تر حصہ سیاروں کی تشکیل کے دوران ان کے مرکز (core) میں منتقل ہو جاتا ہے۔ سطح پر اس قدر زیادہ مقدار میں اس کی موجودگی اس بات کے منفرد اشارے دیتی ہے کہ یہ چٹانیں کیسے بنی تھیں اور بعد میں ان میں کس طرح تبدیلیاں آئیں۔مریخ پر نکل نایاب نہیں ہے، تاہم یہ عموماً سطح پر بکھرے ہوئے شہابیوں کے ٹکڑوں میں پایا جاتا ہے۔ 2024ء میں، جب ناسا کا ''پرسیویرنس روور‘‘ (Perseverance rover) خشک ہو چکی نیرتوا ویلس وادی میں سفر کر رہا تھا، تو اسے کچھ غیر معمولی چٹانیں ملیں۔ ان میں ایک خاص طور پر ہلکے رنگ کی نمایاں چٹان بھی شامل تھی، جسے سائنس دانوں نے ''برائٹ اینجل‘‘ (Bright Angel)کا نام دیا ہے۔ ''برائٹ اینجل‘‘ میں کچھ دلچسپ خصوصیات پائی گئیں جو زمین پر عموماً خرد حیاتیاتی سرگرمی (microbial activity) سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ان میں آئرن سلفائیڈ معدنیات شامل ہیں جو پائرائٹ (pyrite) سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ ایک ایسا معدنی مادہ ہے جو عموماً جرثوموں سے بھرپور ماحول میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نامیاتی مرکبات (organic compounds) بھی دریافت ہوئے۔اپنی تحقیق کے دوران ''پرسیویرنس روور‘‘ نے نیرتوا ویلس کی مختلف چٹانوں کی ساخت اور ترکیب کے بارے میں ڈیٹا جمع کیا، جسے ہنری مینلسکی اور ان کے ساتھیوں نے تفصیل سے جانچا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ چٹانیں کیسے بنی تھیں۔ اسی تجزیے کے دوران نکل کی غیر معمولی طور پر مضبوط موجودگی کا انکشاف ہوا، جو سائنس دانوں کیلئے حیران کن تھا۔''رسیویرنس روور‘‘ کی جانب سے زیر مطالعہ 126 تلچھٹی چٹانوں اور آٹھ چٹانی سطحوں میں سے، محققین نے 32 ایسی چٹانیں دریافت کیں جن میں نکل کی وافر مقدارموجود تھی۔ تاہم اصل اہمیت صرف نکل کی موجودگی کی نہیں، بلکہ ان چٹانوں میں موجود دیگر عناصر اور خصوصیات کی بھی ہے، جو اس کہانی کو مزید واضح کرتی ہیں۔ہنری مینلسکی نے کہا کہ زمین پر نکل سے بھرپور آئرن سلفائیڈ قدیم تلچھٹی چٹانوں میں پایا جاتا ہے۔ آکسیجن سے بھرپور ماحول میں آئرن سلفائیڈ جلدی تحلیل ہو جاتا ہے، اس لیے زمین کی قدیم چٹانوں میں اس کی موجودگی اس بات کا ایک ثبوت سمجھی جاتی ہے کہ زمین کا ابتدائی ماحول کبھی آکسیجن سے بہت کم تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال زمین کے ماحول سے بالکل مختلف ہے جہاں نکل پایا جاتا ہے۔ آئرن سلفائیڈ میں نکل کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ چٹانیں غالباً ایسے ماحول میں بنی تھیں جہاں آکسیجن بہت کم تھی۔ ان معدنیات کی موجودگی ایک متحرک آبی ماحول کی طرف اشارہ کرتی ہے۔محققین کا خیال ہے کہ نکل ممکنہ طور پر کسی شہابیے کے ذریعے مریخ تک پہنچا، جہاں بعد میں پانی نے اسے مختلف جگہوں پر پھیلا دیا۔ زمین پر نکل ایک اہم عنصر ہے جو بہت سے جانداروں، خصوصاً خوردبینی جانداروں کیلئے ضروری ہوتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق نکل کی جو مقدار دریافت ہوئی ہے، وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ عنصر ممکنہ طور پر جانداروں کے استعمال کیلئے دستیاب ہو سکتا تھا (اگرچہ انہوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہاں واقعی زندگی موجود تھی)۔''پرسیویرنس روور‘‘ کی جانب سے تجزیہ کی گئی چٹانوں میں نامیاتی مرکبات کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے۔ یہ وہ سالمات ہوتے ہیں جن میں کاربن شامل ہوتا ہے، اور زمین پر تمام زندگی کی بنیاد یہی عنصر ہے۔ اگرچہ کاربن غیر حیاتیاتی طریقوں سے بھی بن سکتا ہے، لیکن پانی کی طرح یہ بھی ایک ایسا عنصر ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔

گرینڈ کینین: قدرت کا عظیم شاہکار

گرینڈ کینین: قدرت کا عظیم شاہکار

دنیا میں قدرت کے بے شمار عجائبات موجود ہیں، مگر کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو اپنی وسعت، خوبصورتی اور پراسراریت کے باعث حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک عظیم قدرتی شاہکار گرینڈ کینین (Grand Canyon) ہے، جو امریکہ کی ریاست ایریزونا میں واقع ہے۔ یہ وادی نہ صرف اپنے سحر انگیز مناظر کے باعث مشہور ہے بلکہ زمین کی کروڑوں سال پرانی تاریخ کا جیتا جاگتا ثبوت بھی پیش کرتی ہے۔گرینڈ کینین دراصل ایک وسیع و عریض گھاٹی ہے جسے ''کولوراڈو ریور‘‘ (Colorado River)نے لاکھوں سال کے مسلسل بہاؤ کے ذریعے تراشا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 446 کلومیٹر، چوڑائی 29 کلومیٹر تک اور گہرائی تقریباً 1.6 کلومیٹر تک ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قدرت نے کس قدر عظیم پیمانے پر اس شاہکار کو تخلیق کیا ہے۔ جب کوئی شخص اس کے کنارے پر کھڑا ہوتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زمین کے کسی اور ہی جہان میں داخل ہو گیا ہو۔گرینڈ کینین کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی رنگ برنگی چٹانیں ہیں، جو سرخ، نارنجی، بھورے اور زرد رنگوں میں نظر آتی ہیں۔ یہ رنگ دراصل مختلف ادوار میں بننے والی چٹانی تہوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ماہرین ارضیات کے مطابق ان چٹانوں کی عمر کروڑوں سال پر محیط ہے، جو زمین کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یوں گرینڈ کینین نہ صرف ایک سیاحتی مقام ہے بلکہ ایک قدرتی عجائب گھر بھی ہے۔یہ مقام سیاحوں کیلئے بے شمار سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد یہاں آ کر قدرت کے اس حسین نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سیاح یہاں پیدل سفر (ہائیکنگ)، کیمپنگ، راک کلائمبنگ اور دریائے کولوراڈو میں کشتی رانی جیسے دلچسپ مشاغل میں حصہ لیتے ہیں۔ خاص طور پر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے کے مناظر دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت چٹانوں کے رنگ بدلتے ہوئے ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔گرینڈ کینین کی اہمیت صرف سیاحت تک محدود نہیں بلکہ یہ ماحولیاتی لحاظ سے بھی نہایت اہم ہے۔ یہاں مختلف اقسام کے پودے اور جانور پائے جاتے ہیں، جن میں سے کئی نایاب ہیں۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ ماہرین ماحولیات کیلئے تحقیق کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔ یہاں کے ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھنے کیلئے امریکی حکومت نے اسے قومی پارک کا درجہ دے رکھا ہے، جسے ''گرینڈ کینین نیشنل پارک‘‘ کہا جاتا ہے۔تاریخی طور پر بھی اس مقام کی بڑی اہمیت ہے۔ ہزاروں سال پہلے مقامی قبائل یہاں آباد تھے، جو اس علاقے کو مقدس سمجھتے تھے۔ ان قبائل کی ثقافت اور روایات میں گرینڈ کینین کا خاص مقام ہے۔ آج بھی ان کے آثار اور ثقافتی نشانات یہاں موجود ہیں، جو ماضی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ گرینڈ کینین قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے، مگر ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کے باعث اس کے حسن کو خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو اس قدرتی ورثے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاح اور حکومتیں مل کر اس کی حفاظت کو یقینی بنائیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم شاہکار سے لطف اندوز ہو سکیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ گرینڈ کینین صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ قدرت کی عظمت، زمین کی تاریخ اور انسان کیلئے غور و فکر کا ایک عظیم پیغام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری زمین کتنی خوبصورت اور قیمتی ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!غلام فرید صابری: ایک عظیم قوال (1994-1930ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!غلام فرید صابری: ایک عظیم قوال (1994-1930ء)

٭...1930ء میں ہندوستان کے علاقے روہتک میں پیدا ہوئے۔ ٭... ان کے والد عنایت حسین صابری بھی قوال تھے، جنہوں نے غلام فرید کو بچپن ہی سے اس فن کی تربیت دی۔٭...قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی آگیا۔٭... وہ اپنے بھائی مقبول صابری کے ساتھ مل کر قوالی گایا کرتے تھے، ان کی جوڑی صابری بردران کے نام سے مشہور ہوئی۔٭...ان کا پہلا البم 1958ء میں ریلیز ہوا، جس کی قوالی ''میرا کوئی نہیں تیرے سوا‘‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔٭...70ء اور 80ء کی دہائی ان کے عروج کا سنہری دور تھا، اسی زمانے میں انھوں نے ''بھر دو جھولی میری یا محمد‘‘ جیسی قوالی گا کر دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔1975ء میں گائی قوالی ''تاجدار حرم‘‘ نے ان کی شہرت کو دوام بخشا ۔ ٭...غلام فرید صابری نہ صرف پاکستان کے مقبول ترین قوال تھے بلکہ دنیا بھر میں قوالی کے کروڑوں چاہنے والوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔٭... انہوں نے قوالی کے صوفیانہ رنگ کو جدید موسیقی کے ساتھ ہم آہنگ کیا ۔٭...انہوں اپنی پرجوش آواز کے ذریعے سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ن کی قوالیوں کو سن کر لوگ وجد میں آجاتے اور روحانی سرور محسوس کرتے۔٭...ان کی قوالیوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بے حد پذیرائی ملی۔٭...انہوں نے فلموں کیلئے بھی قوالیاں ریکارڈ کروائیں، جن فلموں میں ان کی قوالیاں شامل کی گئیں ان میں ''عشق حبیب، چاند سورج، الزام، بن بادل برسات، سچائی‘‘ شامل ہیں۔٭...5 اپریل 1994ء کو کراچی میں غلام فرید صابری کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے۔مشہور قوالیاں٭...تاجدارِ حرم٭...بھر دو جھولی میری یا محمد٭...مریضِ محبت اْنہی کا فسانہ٭...خواجہ کی دیوانی٭...میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا٭...بالے بالے نی سوہنیا٭...محبت کرنے والوہم محبت اس کو کہتے ہیں٭...آئے ہیں تیرے در پہ تو...اعزازاتصابری بردران نے اپنے کریئر میں بیشمار نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈز اور اعزازات اپنے نام کئے جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔٭...1978ء میں صدر پاکستان نے غلام فرید صابری کے پورے گروپ کو ''تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا تھا۔٭...1981ء میں امریکی حکومت کی طرف سے صابری برادران (غلام فرید صابری اور مقبول صابری) کو ''سپرٹ آف ڈیٹرائٹ ایوارڈ‘‘ ملا تھا۔٭... 1977ء میں نظام الدین اولیاء کے مزار کی انتظامیہ نے انہیں ''بلبل پاک و ہند‘‘ کے اعزاز سے نوازا۔٭...1983ء میں انہیں فرانسیسی حکومت نے اپنے اعلیٰ ترین اعزاز ''چارلس ڈی گائولے ایوارڈ‘‘ دیا۔٭...آکسفورڈ یونیورسٹی نے صابری برادرز کو علامہ اقبالؒ کا کلام ''شکوہ جواب شکوہ‘‘ پڑھنے پر ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔

آج کا دن

آج کا دن

ویٹو پاور کا پہلا استعمال1792ء میں جارج واشنگٹن جو United States کے پہلے صدر تھے، نے اپنے آئینی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ایک بل کو ویٹو کیا۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ امریکہ میں صدر نے ویٹو پاور استعمال کی۔ اس اقدام نے صدارتی اختیارات کی اہمیت کو واضح کیا اور قانون سازی کے عمل میں توازن قائم کرنے کی بنیاد رکھی۔ ویٹو کا مقصد ایسے قوانین کو روکنا ہوتا ہے جو صدر کے نزدیک قومی مفاد کے خلاف ہوں۔ اس واقعے نے امریکی سیاسی نظام میں اختیارات کی تقسیم اور جمہوری اصولوں کو مزید مضبوط بنایا، جو آج بھی اسی طرح برقرار ہیں۔ ائیر بریک کی ایجادجارج ویسٹنگ ہاؤس جونیئر پنسلوانیا میں مقیم ایک امریکی تاجر اور انجینئر تھا۔ 1905ء میں آج کے دن اس نے ریلوے ایئر بریک بنائی اور برقی صنعت میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔اس نے 19 سال کی عمر میں اپنا پہلا پیٹنٹ اپنے نام رجسٹر کروایا۔ ویسٹنگ ہاؤس نے 1880ء کے اوائل میں الیکٹرک پاور کی تقسیم کے لیے متبادل کرنٹ کے استعمال کی صلاحیت کو دیکھا اور اپنے تمام وسائل کو اس کی ترقی اور مارکیٹنگ میں لگا دیا۔وہ جدیدصنعت کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔وینیرا پروگرام1991ء میں آج کے روز خلائی شٹل ''اٹلانٹس ‘‘ اپنے اہم خلائی مشن ''ایس ٹی ایس 37‘‘ پر روانہ ہوئی۔ اس مشن کا بنیادی مقصد ''Compton Gamma Ray Observatory‘‘ کو زمین کے مدار میں نصب کرنا تھا، جو کائنات میں خارج ہونے والی طاقتور گیما شعاعوں کا مشاہدہ کرنے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ یہ رصدگاہ جدید سائنسی آلات سے لیس تھی، جس نے بلیک ہولز، سپرنووا دھماکوں اور نیوٹران ستاروں جیسے پیچیدہ فلکیاتی مظاہر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔ اس مشن کی کامیابی نے خلائی تحقیق میں ایک نئی جہت پیدا کی ۔''اکاسی کائیکو ر ‘‘کا افتتاح5اپریل 1998 ء کو جاپان میں پل ''آکاشی کیکی ‘‘ کو باقاعدہ طور پر ٹریفک کیلئے کھولا گیا۔یہ دنیا کے طویل ترین معلق پلوں (سسپنشن برج) مین سے ایک ہے۔ یہ پل شہر کوبے کو جزیرہ آواجی سے ملاتا ہے اور شاندار انجینئرنگ کا عظیم نمونہ ہے۔ اس کی تعمیر میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا تاکہ زلزلوں اور تیز ہواؤں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس پل نے نہ صرف سفر کو آسان بنایا بلکہ جاپان کی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا، اور یہ دنیا بھر کے انجینئرز کیلئے ایک متاثر کن مثال بن گیا۔

ڈیجیٹل دنیا کے برے ایمو جیز

ڈیجیٹل دنیا کے برے ایمو جیز

''تھمز اپ‘‘سب سے زیادہ نا پسندیدہموجودہ دور کو اگر ڈیجیٹل عہد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس نے نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی کو تبدیل کر دیا ہے بلکہ ہمارے اظہارِ خیال کے انداز کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج الفاظ کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی تصویری علامتیں یعنی ''ایموجیز‘‘ ہماری گفتگو کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ یہ ایموجیز کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی مزاح اور کبھی طنز کے جذبات کو چند لمحوں میں بیان کر دیتی ہیں۔حال ہی میں سامنے آنے والے ایک سروے نے اس عام تاثر کو چیلنج کر دیا ہے کہ ایموجیز ہمیشہ مثبت اور خوشگوار اثر ہی رکھتی ہیں۔برطانیہ میں کیے گئے ایک حالیہ سروے نے اس دلچسپ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ ہر ایموجی ہر شخص کیلئے یکساں معنی نہیں رکھتی۔ اس تحقیق میں تقریباً دو ہزار افراد سے رائے لی گئی، جس کے نتیجے میں 20 ایسی ایموجیز کی فہرست سامنے آئی جنہیں لوگ سب سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔ حیران کن طور پر اس فہرست میں سرفہرست ''تھمز اپ‘‘ ایموجی ہے، جو عمومی طور پر تعریف، منظوری یا حوصلہ افزائی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ نتیجہ بظاہر حیرت انگیز ضرور ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی نفسیاتی اور سماجی وجوہات قابلِ غور ہیں۔ سروے میں شریک افراد کی ایک بڑی تعداد کے مطابق ''تھمز اپ‘‘ ایموجی بعض اوقات سرد مہری، بے رخی یا غیر مستقیم جارحیت کا تاثر دیتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل، جسے عام طور پر جنریشن زی (Gen Z) کہا جاتا ہے، اس ایموجی کو گفتگو ختم کرنے یا دلچسپی نہ لینے کی علامت سمجھتی ہے۔ یوں ایک سادہ سا مثبت اشارہ بعض افراد کیلئے منفی پیغام بن جاتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی صارفین نے اس رجحان پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صرف ''تھمز اپ‘‘ کے ساتھ جواب دے تو یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بات چیت کو اچانک ختم کر دیا گیا ہو۔ بعض نے تو اسے ''خاموشی سے دروازہ بند کرنے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔اس سروے میں دیگر ایموجیز بھی شامل ہیں جو لوگوں کیلئے ناگوار ثابت ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر بینگن ایموجی، جو عام طور پر سبزی کے طور پر استعمال ہونا چاہیے، لیکن ڈیجیٹل کلچر میں اسے ایک مخصوص اور غیر مہذب معنی دے دیا گیا ہے، دوسرے نمبر پر رہا۔ اس کے علاوہ عورت کے رقص کرنے والی ایموجی، انسانی فضلہ، کوبائے ہیٹ والا چہرہ اور چیک مارک بھی ان علامتوں میں شامل ہیں جو بعض صارفین کیلئے پریشان کن یا غیر موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ماہرین ابلاغ کے مطابق ایموجیز کے مختلف معانی کی ایک بڑی وجہ ان کا سیاق و سباق (context) ہے۔ہیریئٹ اسکاٹ (Harriet Scott)، جوپرسپیکٹس گلوبل (Perspectus Global) سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ایک ہی ایموجی مختلف لوگوں کیلئے مختلف مفہوم رکھ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر آنکھوں والا ایموجی کسی کیلئے تجسس یا دلچسپی کی علامت ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرے کیلئے یہ شک یا نگرانی کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح سوچنے والا چہرہ یا تھوک بہانے والا چہرہ بھی مختلف تشریحات کا باعث بنتے ہیں۔اس رجحان میں عمر کا عنصر بھی نہایت اہم ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے 81 فیصد افراد ایموجیز کو پریشان کن سمجھتے ہیں، اور ان میں سے بڑی تعداد ان کے معانی سے بھی مکمل طور پر واقف نہیں۔ اس کے برعکس، نوجوان نسل ایموجیز کو اپنی روزمرہ گفتگو کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔ 18 سے 30 سال کے تقریباً 93 فیصد افراد روزانہ ایموجیز کا استعمال کرتے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل زبان نسل در نسل تبدیل ہو رہی ہے۔یہ تبدیلی صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پالیسیوں میں بھی نظر آتی ہے۔ حال ہی میں Apple نے اپنے آپریٹنگ سسٹم ''iOS 26.4‘‘ میں 163 نئے ایموجیز شامل کیے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بڑی تعداد مختلف جلد کے رنگوں (Skin Tones) کی نمائندگی کرتی ہے، مگر 13 نئے ایموجیز بالکل نئے تصورات پر مبنی ہیں۔ ان میں ایک خاص ''مڑا ہوا چہرہ‘‘ ایموجی بھی شامل ہے، جس کے گلابی گال اور ابھری ہوئی آنکھیں صارفین میں خاصی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔یہ تمام پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایموجیز اب محض تفریحی علامتیں نہیں رہیں بلکہ ایک مکمل زبان کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ تاہم، اس زبان کی پیچیدگی بھی بڑھ رہی ہے، کیونکہ ہر علامت کا مطلب ہر فرد کیلئے یکساں نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک سادہ سا ایموجی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ڈیجیٹل گفتگو میں محتاط رویہ اختیار کریں۔ ایموجیز کا استعمال کرتے وقت نہ صرف اپنے جذبات بلکہ سامنے والے کے نقطۂ نظر کو بھی مدنظر رکھیں۔ خاص طور پر پیشہ ورانہ یا حساس گفتگو میں ایموجیز کے چناؤ میں احتیاط برتنا ضروری ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایموجیز جدید دور کی ایک اہم ایجاد ہیں، جو ہماری گفتگو کو آسان اور دلچسپ بناتی ہیں، مگر ان کے استعمال میں توازن اور سمجھ داری ناگزیر ہے۔ کیونکہ ایک ہی علامت، جو کسی کیلئے مسکراہٹ کا سبب بنتی ہے، دوسرے کیلئے الجھن یا ناراضی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یہی ڈیجیٹل دنیا کا وہ پہلو ہے جو ہمیں مسلسل سیکھنے اور خود کو ڈھالنے پر مجبور کرتا ہے۔

گھوڑ ے کی حیران کن پرفارمنس:تین منٹ میں تیس کرتب

گھوڑ ے کی حیران کن پرفارمنس:تین منٹ میں تیس کرتب

دنیا بھر میں جانوروں کی ذہانت اور ان کی تربیت کے حیرت انگیز مظاہرے ہمیشہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے رہے ہیں، مگر حال ہی میں ایک گھوڑے نے اپنے غیر معمولی کرتب دکھا کر سب کو حیران کر دیا۔ صرف تین منٹ کے مختصر وقت میں تیس سے زائد کرتب پیش کرنے والا یہ گھوڑا نہ صرف اپنی فطری صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ اس کے ٹرینر کی محنت، مہارت اور لگن کا بھی واضح ثبوت ہے۔ یہ شاندار مظاہرہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مناسب تربیت اور مثبت رویے کے ذریعے جانوروں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو کس حد تک نکھارا جا سکتا ہے۔امریکہ کی ریاست نارتھ کیرولائنا کے علاقے بولیویا میں ایک خوبصورت سفید گھوڑے نے اپنے باصلاحیت مالک کے ساتھ مل کر ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ اس گھوڑے نے صرف تین منٹ سے بھی کم وقت میں سب سے زیادہ کرتب دکھانے کا اعزاز حاصل کیا، جب اس نے بہترین تربیت کے ذریعے درجنوں کامیاب حرکات پیش کیں۔لورین زیپیڈا(Lauryn Zepeda) اور ان کے 19 سالہ گھوڑے گرینگو (Gringo)نے 5 مارچ کو یہ مشکل ریکارڈ توڑا۔ اس ذہین گھوڑے نے رقص کیا، گیند کو ٹھوکر ماری اور یہاں تک کہ سیلفی کیلئے پوز بھی دیا، جس کے نتیجے میں اس نے صرف 2 منٹ اور 47 سیکنڈ میں 38 حیرت انگیز کرتب مکمل کیے۔یہ جوڑی گزشتہ دس برسوں سے مختلف شوز میں ایک ساتھ حصہ لے رہی ہے، اور ان کے درمیان مضبوط ہم آہنگی برسوں کے اعتماد، محبت اور توجہ کا نتیجہ ہے۔ گرینگو دراصل جنگل میں پیدا ہوا تھا، مگر لورین نے اسے ایک سرکاری ادارے سے گود لے کر جدید انداز میں تربیت دی، جس میں انعامات کا استعمال کیا گیا،بالکل اسی طرح جیسے کتوں کو سکھایا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لورین نے ہمیشہ گھوڑے کو اپنی مرضی کا اختیار دیا، مگر گرینگو کو پرفارم کرنا واقعی پسند ہے، خاص طور پر جب اسے تعریف اور انعام ملے۔لورین نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈ ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ گھوڑوں کی دنیا میں ہمارا تربیتی طریقہ روایتی نہیں ہے۔ کلکر ٹریننگ اور مثبت حوصلہ افزائی کو عام طور پر کتوں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ گھوڑوں کے ساتھ بھی نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ جب ہم پرفارم کرتے ہیں تو ہم ایک اہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تربیت کے متبادل اور انسان دوست طریقے بھی موجود ہیں اور گھوڑے صرف سواری تک محدود نہیں، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر بھی بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ریکارڈ توڑنے کی تیاری کے دوران، لورین اور گرینگو نے کئی ماہ تک تربیت کی، ہر کرتب کو چھوٹے اور قابلِ انتظام حصوں میں سیکھا، اور آخرکار سب کو یکجا کیا۔لورین نے بتایاکہ گرینگو کیلئے یہ کبھی محنت محسوس نہیں ہوئی، یہ بس کھیل تھا۔ جبکہ مجھے اس کی ذمہ داری کا احساس ہوتا، اس کیلئے یہ صرف ساتھ گزارا گیا وقت تھا، کچھ ایسا جو اسے واقعی پسند ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی محنت کا ہمیشہ انعام ملتا ہے، جس سے یہ تجربہ اس کیلئے مزید خوشگوار بن جاتا ہے۔یہ بات بھی گرینگو کیلئے آسانی پیدا کرتی ہے کہ وہ ایک کھلے فارم میں مکمل آزادی کے ساتھ رہتا ہے،وہ ہر وقت باہر ہوتا ہے اور جب چاہے گھاس اور پناہ گاہ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ جب دل چاہتا ہے، وہ ایک''چھوٹے ریوڑ‘‘ کے دیگر جانوروں کے ساتھ کرتب پیش کرتا ہے، اور باقی وقت اپنی مرضی سے کیچڑ میں کھیلتا ہے اور لورین سے اپنا پسندیدہ انعام مانگتا ہے۔جب یہ جوڑی مقابلے کیلئے تیار ہوئی، تو لورین نے گرینگو کیلئے 36 کرتبوں کی فہرست تیار کی،ساتھ ہی آٹھ اضافی کرتب بھی شامل کیے تاکہ مقابلے کے دن سب کچھ منظم اور ترتیب وار ہو۔ ان کرتبوں میں حرکت کے اشارے شامل تھے، جیسے ایک ٹانگ اٹھانا یا سر جھکانا اور ساتھ ہی سامان کے ساتھ کرتب بھی، جیسے جھنڈا لہرانا یا گھنٹی بجانا۔ لورین نے کہاکہ ہمارے تربیتی سیشنز مختصر اور انعامات کے ساتھ رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ جوش اور دلچسپی کے ساتھ حصہ لے۔ میں یقین رکھتی ہوں کہ میں اس کی توجہ قائم رکھ سکتی ہوں کیونکہ وہ واقعی ہمارے کام سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ میں بہت سوچ سمجھ کر کبھی اسے زیادہ محنت نہیں کراتی۔