ختم نبوت : اسلام کا بنیادی عقیدہ
اسپیشل فیچر
عقیدئہ ختم نبوّت وتحفظ ناموسِ رسالتؐ سے نئی نسل کوآگاہ کرنا دینی اور ملّی فریضہ ہے*****فتحِ بابِ نبوّت پر بے حد درودختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلامعقیدئہ ختم نبوّت اسلام کا قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے اور اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے، جس پر ایمان رکھنا ہر مسلمان پرفرض ہے، یعنی ایک مسلمان اس بات پر ایمان رکھے کہ حضورتاج دار ختمِ نبوّت اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور سلسلۂ نبوّت و رسالت حضور نبی کریم ؐپر ختم ہو چکا ہے۔ اب آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گااورآپ ؐکی کتاب،شریعتِ مطہرہ اور تعلیمات تا قیامت ہدایت اور نجات کا آخری سرچشمہ ہیں، اگر کوئی شخص ہزار بار بھی کلمہ ٔ طیبہ پڑھے اور دن رات نماز وقیام میںگزارے، لیکن وہ آپؐ کو خاتم النبیین نہیں مانتا یا آپؐ کے بعد کسی اور کو بھی نبی مانتا ہے تو وہ بلاشبہ کافرہے، مرتد ہے اور واجب القتل ہے۔عقیدۂ ختم نبوّت اسلام کے بنیا د ی عقا ئدمیں سے ایک ہے اوراس عقیدے پر ا یمان لانا بھی فر ض ہے۔عقیدۂ ختم نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوّت و رسالت کا جو سلسلہ حضرت آدمؑ سے شروع کیا تھا وہ سلسلہ ٔ نبوّت آنحضرت محمدمصطفی صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر ختم کردیا ہے ،اب قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔رسولؐ اللہ کا خاتم الانبیاء ہونا، آپؐ کے بعد کسی رسول کا دُنیا میں مبعوث نہ ہونا اور ہر مدعیٔ نبوت (یعنی مسیلمہ کذاب سے مرزا غلام احمد قادیانی کذاب تک) کا جھوٹاو کذّاب اور کافر ومرتد ہو نا، ایک ایسا مسئلہ ہے، جس پر صحابۂ کرام علیہم الرحمتہ والرضوان سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کا قطعی اجماع اور اتفاق رہاہے۔کسی شخص کے مسلمان ہونے کے لیے جس قدر باتوں کا ماننا ضروری ہے، وہ سب اُمورقرآنِ مجید نے بڑی تفصیل سے بیان کر دیے ہیں، اگر حضور سیّدِدوعالمؐ کے بعد کسی نبی کی بعثت ہوتی تو قرآن میں اس کا بھی ذکر ہو تا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرمؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو سکتا۔آخر جن باتوںکے ماننے سے صحابہ کرام ؓاور بعد کے لوگ مومن ہو گئے تو ان چیزوں کاماننا آج کیسے ناکافی ہوگیا؟ ہمیں ماننا ہو گا کہ قرآنِ کریم نے جن چیزوں پر ایمان لانے کاحکم د یا ہے، اُن کے سوا کسی پر ایمان لانا ہرگز جائز نہیں ہے اور مرزاغلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوّت چوں کہ قرآن کا حکم اور مامور نہیں ہے،اس لیے اس کا نبی ماننا قرآن، ایمان اور اسلام سب کے خلاف ہے۔ حضور نبی کریم ؐپوری انسانیت کے لیے ابدی صحیفۂ ہدایت (قرآن حکیم) لے کر آئے۔ آپؐ کی تشریف آوری سے رُشد وہدایت اور نبوّت ورسالت کا عظیم سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ چناں چہ قرآنِ کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل و مکمل کر دیا ہے، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دِین (منتخب اور)پسند فرمایا ہے۔‘‘(سورۃ المائدہ: آیت3)اس آیتِ مبارکہ میںاللہ تعالیٰ نے اسلام کی تکمیل، منتخب دِین اوررسولؐ اللہ کے آخری نبی ورسول ہونے کا واضح اعلان فرمایا ہے اوراللہ تعالیٰ نے آپؐ کے دِین کو تمام اَدیانِ سابقہ کے لیے ناسخ قرار دیا اور فرمایا کہ جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو طلب یا قبول کیا تو وہ ہرگز قبول نہیں کیا جا ئے گا یعنی قیامت تک حضوراکرمؐ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔قربِ قیامت میںحضرت عیسیٰ ؑکا نزول ہو گا تو وہ بھی آپؐ کی شریعت کی پیروی اور اتباع کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے ختم نبوّت کو وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے: ’محمدؐ! تمہارے (بالغ)مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسولؐ ہیں اور تمام نبیوں میں سے آخری نبی ہیں۔‘‘(سورۃ الاحزاب:آیت40)آپؐ سے پہلے کے نبی اوررسول مختلف علاقوں،قبیلوں اور قوموں کی طرف مخصوص اوقات میںمبعوث فرمائے گئے لیکن آپ ؐ کی نبوّت ورسالت کسی خاص زمانے یا خاص قوم کے لیے محدودنہیں بلکہ قیامت تک ہرزمانے اورہرقوم کے لیے ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے آخری نبی کی سارے جہاں کے لیے نبوّت ورسالت کو یوں بیان فرماتا ہے۔ : ’’بڑابرکت والا ہے، وہ رَبّ جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب(قرآن ) اپنے بندے (حضرت محمد ؐ)پرنازل کی تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے (اللہ کے عذاب سے) ڈر انے والا ہو۔‘‘(سورۃ الفرقان:آیت1)اسی طرح ایک اور مقام پر حضوراکرمؐ کی ختمِ نبوّت اور رسالتِ عامہ کو اس طرح واضح کیا گیا ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’(اے رسولؐ!) آپ فرمادیجیے کہ اے لوگو!میں تم سب کی طرف اللہ کا رسولؐ (اورہادی )بن کرآیاہوں۔‘‘(سورۃ الاعراف: آیت158) یہ آیت مبارکہ حضورسیّددوعالم ؐکی رسالتِ عامّہ کی دلیل ہے کہ آپ ؐتمام مخلوقات (جنّ و انس وملائکہ ؑ وغیرہ) کے لیے اللہ کے رسولؐ ہیںاور کُل جہان آپ ؐ کی اُمّت میںداخل ہے ،چاہے وہ اُمّتِ اجابت ہو یا اُمّتِ دعوت ہو۔ احادیثِ مبارکہ میںبھی بے شمار مقامات پرعقیدہ ٔ ختمِ نبوّت کوواضح بیان کیاگیا ہے۔ حضر ت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا:’’بے شک، نبوّت اور رسالت میرے بعد منقطع (ختم)ہو چکی ہے،پس میرے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ کوئی رسول ہوگا۔‘‘(جامع ترمذی،مسندامام احمد )ایک مسلمان کے لیے آپؐ کی نبوّت پر ایمان لانا اور اس بات کا اقرار کرنا بھی فرض ہے کہ آپؐ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ حضور سیّدِدو عالمؐ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:’’قصرِ نبوّت میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی، میرے آنے سے وہ پوری ہوگئی ہے اور قصر(محلِ نبوّت)مکمل ہو گیا ہے۔‘‘(جامع ترمذی،مشکوٰۃ المصابیح،مسنداحمد)حضور اکرم ؐفرماتے ہیں: ’’ مجھے دیگر انبیائے علیہم السلام پر چھے چیزوں میں فضیلت (فوقیت )حاصل ہے ، مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ،میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی،میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں، میرے لیے (تمام) زمین اور مساجدپاک کرنے والی بنادی گئی ہے، میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کربھیجا گیا ہوںاور میری آمدسے انبیاء علیہم السّلام کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم،جامع ترمذی، مشکوٰۃالمصابیح)حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا: ’’عن قریب میری اُمّت میں تیس(30)کذّاب (بہت زیادہ جھوٹے) ظاہر ہوںگے، جن میں سے ہر ایک اپنے نبی ہونے کا (جھوٹا)دعویٰ کرے گا،حالاں کہ میں(اللہ کا) آخری نبیؐ ہوںاور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘(جامع ترمذی،مسند امام احمد)قرآن وحدیث کے بعد تیسرا بڑا درجہ صحابہ کرام ؓ کے اجماع کا ہے اور یہ بات تمام مستندو معتبر روایات سے ثابت ہے کہ حضور نبی کریمؐ کے ظاہری وصال کے بعد کچھ لوگوں(مثلاً مسیلمہ کذّاب)نے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیاتو ہزاروں صحابہ کرامؓ نے خلیفہ اوّل امیرالمومنین حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق ؓ کی قیادت میں ان سب کے خلاف جہاد اورقتال کیااوران کو کیفرِکردارتک پہنچایا۔ جلیل القدرتابعی امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ؓ (متوفی150ھ)کے زمانے میں ایک شخص نے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے موقع دیں کہ میں اپنی نبوّت کی علامات پیش کروں۔ اس پر حضرت امام اعظم ابو حنیفہؓ نے فرمایا:’’ جو شخص اس جھوٹے سے نبوّت کی علامت طلب کرے گا،وہ بھی کافر ہو جائے گا، کیوں کہ رسولؐ اللہ یہ فرما چکے ہیںکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘ (مناقب امامِ اعظم: جلد1، صفحہ61)ختمِ نبوّت کا عقیدہ مسلمانوں کا ایک متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے اور تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ ختم نبوّت کا انکارکرنے والا کا فر اور مرتد ہے۔ اس فتنۂ انکارِ ختم نبوّت اور دعویٔ نبوّت کرنے والے کو جڑ سے اُکھاڑنے والے سب سے پہلے خلیفۂ اوّل امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں،آپ ؓنے اس فتنے کی ہر طرح سے سرکوبی کی اور مسیلمہ کذّاب کے خلاف جنگِ یمامہ میں ہزاروں جلیل القدرصحابہ کرامؓ نے شرکت کی، جس میں سیکڑوں حفّاظ صحابۂ کرام شہید ہوئے،بالآخر مسیلمہ کذّاب کیفرِکردار کو پہنچ گیا۔اسی طرح برصغیر میں جب انگریزوں کی سرپرستی میں قادیانی فتنہ نمودار ہوااورمرزاغلام احمد قادیانی نے پہلے مصلح ،پھرمجدّد، پھر مسیح موعوداورآخر میں نبوّت کا دعویٰ کردیاتوعلمائے کرام اور مشائخ عظّام نے مرزا قادیانی اور قادیانیوں کے خلاف کفرو ارتداد کے فتاویٰ جاری کیے۔ ان میں علامہ فضل حق خیر آبادی، علامہ احمد اللہ شاہ مدراسی، مولانا کفایت علی کافی،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان فاضل بریلوی، مجدّد ِدین و ملّت حضرت پیر مہرعلی شاہ گولڑوی چشتی ، مولانا لطف اللہ علی گڑھی وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ علمائے حق نے مرزاقادیانی کی نہ صرف تکفیر کی بلکہ ہرممکن طورپراس کا تعاقب کرکے مناظرے اور مباہلے کے چیلنج بھی دیے اوراسے ہرطرح اور ہر سطح پرجھوٹا،کذّاب کافراورمرتدثابت کیا۔ قادیانی فتنے نے اہلِ ایمان کا امن ،سکون، چین اورآرام غارت کر کے اُمّت ِمسلمہ کی بنیادیں ہلا کررکھ دیں تو علمائے حق نے اُس کے کفریہ عقائد اور اسلام شکن سرگرمیوں کے خلاف تحریر، تقریر، جلسے اورجلوس کے ذریعے کتاب وسُنّت کے دلائل وشواہد کے ساتھ ہر محاذ پر مقابلہ کیا، فتنۂ قادیانیت کے مکروفریب اور دجل و کذب کے پردوں کو چاک کیا۔ علمائے حق نے فتنۂ قادیانیت کا شدید تعاقب کیا۔ حق گوئی اورجرأت و بہادری کی تاریخ رقم کی اور ہردور میں اس فتنے کے خلاف مومنانہ اورمجاہدانہ کردارادا کیا۔قادیانیوں کے کفریہ عقائد کی بنا پر امام اہل سُنّت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمدرضا خان بریلوی قدس سرہ نے مرزائی اور مرزائی نوازوں کے بارے میں تاریخی فتویٰ دیا۔ آپؒ فرماتے ہیں :’قادیانی ، مرتد ومنافق ہیں۔ وہ منافق ہے کہ کلمہ ٔ اسلام اب بھی پڑھتا ہے، اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے اور پھر اللہ عزّوجل یا رسولؐ اللہ یا اللہ کے کسی نبیؑ کی توہین کرنا یا ضروریاتِ دین میں سے کسی شے کا منکر ہے، اس کا ذبیح(ذبح کیا ہواجانور) نجس، مردار اور حرام قطعی ہے۔‘‘ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ’’ اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت وحیات کے تمام تعلقات اُن سے قطع(ختم)کر دیں، بیمار پڑے تو عیادت کے لیے جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام، اسے مسلمانوں کے گورستان(قبرستان) میں دفن کرنا حرام، اُس کی قبر پر جانا حرام ہے۔‘‘(احکامِ شریعت/ فتاویٰ رضویہ:جلد 51/6)تاج دار علم وعرفاںحضرت پیر مہرعلی شاہ گولڑوی چشتی قدس سرہ نے فرمایا : ’’ حضور خاتم النّبیینؐ نے مجھے خواب میں حکم فرمایا:’’ مرزاغلام احمد قادیانی غلط تاویلات کی قینچی سے میری احادیث کو ٹکڑے ٹکڑے کررہاہے اور تم خاموش بیٹھے ہو۔‘‘ چناں چہ پیرسیّد مہرعلی شاہؒ ، فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی وبیخ کنی کے لیے میدانِ عمل میں نکل آئے اور مسلمانوں کو اس فتنے کی شر انگیزیوں، ریشہ دوانیوں اور مکروفریب سے آگاہ کیا۔آپ کی کاوشوںسے بدحواس ہو کر قادیانی جماعت کے ایک وفد نے حضرت پیر مہرعلی شاہ چشتی ؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا:’’ آپ مرزا قادیانی سے مباہلہ و مجادلہ کر لیں۔آپ ایک اندھے اور لنگڑے کے حق میں دُعا کریں۔دوسرے اندھے اور لنگڑے کے حق میں مرزا قادیانی دُعا کرے۔جس کی دُعا سے اندھا اور لنگڑا ٹھیک ہو جائے وہ سچّا ہے، اس طرح حق و باطل کا فیصلہ ہو جائے گا۔‘‘ حضرت پیر سید مہرعلی شاہؒ نے بڑا تاریخی اور ایمان افروز جواب دیااورفرمایا: ’’مجھے یہ بھی منظور ہے اور جائو مرزاقادیانی سے یہ بھی کہہ دو کہ اگر مردے زندہ کرنے ہوں توآجائو ،مہرعلی شاہ مردے زندہ کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔‘‘ (ملفوظات طیبہ:صفحہ127) سچ ہے کہ جو شخص حضور نبی کریم ؐ سے متعلق عقیدۂ ختم نبوّت کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے تو اُس کی پشت پرحضور نبی کریمؐ کا دستِ مبارک ہو تا ہے۔ قادیانی وفد یہ جواب پا کر واپس چلا گیا اور کچھ پتا نہ چلا کہ مرزا قادیانی اور ان کے حواری کہاں گئے؟(تحریکِ ختم ِنبوّت: از شورش کاشمیری)ایک مرتبہ سیّدآغا صدر چیف جسٹس نے لاہور کے عمائدین اور مشاہیر کو کھانے پر مدعوکیا، جس میں علامہ محمداقبال بھی رونق افروز تھے۔ اس محفل میں مرزاقادیانی کا خلیفہ حکیم نور الدین بھی بن بلائے آٹپکا۔ جب عاشقِ رسولؐ علامہ اقبال کی نظر اس کذّاب پر پڑی توغیرتِ ایمانی سے اُن کی آنکھیں سرخ ہو گئیں ۔ فوراً اُٹھے اور کہا:’’آغا صاحب! آپ نے دشمنِ رسولؐ کو بھی مدعو کیا اور مجھے بھی، میں ایسی محفل میں ایک لمحے بھی نہیں بیٹھ سکتا۔ ‘‘حکیم نورالدین فوراً نودو گیارہ ہو گیا۔ میزبان نے علامہ اقبال سے معذرت کی اور کہا:’’ میں نے اُسے کب بلایا تھا ،وہ تو خود ہی گھس آیا تھا۔‘‘(بحوالہ: تحریکِ ختمِ نبوّت اورجے یوپی کا کردار)دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو راہِ حق یعنی صراطِ مستقیم پر چلائے ،اس پر قائم اوردائم رکھے تا کہ ہم اسلام کی تبلیغ واشاعت اور ناموس وعظمتِ رسالتؐ کی حفاظت وپاسبانی کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرتے رہیں اور یہ سب کچھ بارگاہِ خداوندی اوردربار ِمصطفویؐ میں قبول ہو جائے۔ (آمین)