جولاہے کی دانائی
اسپیشل فیچر
ایک جولاہے کا کسی حکیم کے پاس سے گزر ہوا۔ اس نے دیکھا کہ وہ حکیم کسی کے لیے نبیذ تشخیص کر رہا ہے، کسی کے لیے معجون فلاسفہ، کسی کے لیے اطریفل اسطو خودوس۔ جولاہے کو یہ پیشہ بہت پسند آیا۔ وہ کہنے لگے کہ کون شخص ہے جو ایسا کام نہیں کر سکتا۔ وہ گھر گیا اور اپنی بیوی سے کہا میرے لیے بڑی سی پگڑی تیا ر کرو۔ عورت نے کہا تیرا برا ہو، تیرے ذہن میں کیا سودا سما گیا ہے۔ اس نے کہا: میں حکیم بننا چاہتا ہوں۔ بیوی نے کہا ایسا نہ کرو، تم خواہ مخواہ لوگوں کی جانوں سے کھیلو گے اور ہلاکت کا سبب بنو گے۔ اس نے کہا: اس کے بغیر چارۂ کار نہیں ہے۔ چنانچہ اس نے ایک دکان کرائے پر لی اور شفا خانہ بنالیا۔ وہاں بیٹھ کر لوگوںکے لیے نسخے تجویز کرنے لگا۔ شام کو کافی آمدنی ہو گئی۔ وہ گھر آیااور بیوی سے کہنے لگا: میں ہر روز ایک جبہ سیتا تھا جس سے چند ٹکے حاصل ہوتے تھے۔لیکن اب دیکھو، کتنی آمدنی ہو گئی ہے۔ بیوی نے دوبارہ مشورہ دیا کہ یہ کام چھوڑ دو۔ لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہا اور دوسرے دن پھر دواخانہ پر جا بیٹھا۔ سامنے سے ایک لونڈی کا گزر ہوا۔ اس کی مالکہ جو شدید بیمار تھی اسے کہنے لگی میری خواہش ہے کہ یہ نیا حکیم آپ کا علاج کرے۔ اس نے کہا: بلا لائو جب وہ آیا تو مریضہ کی بیماری ختم ہو چکی تھی لیکن کمزوری ابھی باقی تھی۔ اس نے کہا ایک بھنی ہوئی مرغی لائو اور اس مریضہ کو کھلائو۔ مریضہ نے مرغی کھائی تو کمزوری جاتی رہی۔ آہستہ آہستہ حکیم کی شہرت ہو گئی۔ جب بادشاہ کو اس کا پتہ چلا تو حکیم کے پاس آیا اور اس سے دوا طلب کی۔ حسن اتفاق دیکھئے کہ اس نے بادشا ہ کے لیے بھی کوئی نسخہ تجویز کر دیا جس سے بادشاہ کو صحت ہو گئی۔ بادشاہ کے دربارمیں کچھ لوگ موجود تھے جو اس جولاہے کو پہچانتے تھے۔ انہوں نے کہا: بادشاہ سلامت! یہ بافندہ ہے اور کچھ نہیں جانتا۔ بادشاہ کہنے لگا کہ مجھے اور لونڈی کو اس کے ہاتھ سے شفا ہو گئی لہٰذا میںتمہاری بات کو تسلیم نہیں کرتا۔انہوں نے کہا: ہم اس کا امتحان لیں گے۔ بادشاہ نے اجازت دے دی۔ انہوں نے بطور آزمائش چند سوالات تیار کئے اور اس سے پوچھنا شروع کر دئیے۔ اس نے کہا: اگر میں ان سوالات کا جواب دے دوںتو تم نہیںسمجھ سکو گے۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات کو صرف حکیم حاذق ہی سمجھ سکتا ہے۔ کیا یہاں کوئی ہسپتال ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کیا اس میںکچھ دائمی مریض ہیں؟ انہوں نے کہا:ہاں۔ اس نے کہا: میں ان کا علاج کروں گایہاں تک کہ تمام بیک وقت صحت یاب ہو جائیں گے۔میرے علم پر اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوگی؟ انہوںنے کہا واقعی۔ اس نے کہا: تم یہیں بیٹھو، تم میں سے کوئی بھی میرے ساتھ ہسپتال کے اندر نہیں جائے گا۔ چنانچہ وہ اکیلا ہسپتال کے اندر داخل ہوا۔ وہاں انچارج کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔ اس نے اس سے کہا: اگر تم نے میری کارروائی کے متعلق کسی کو آگاہ کیا تو پھانسی دلا دوں گا، اور اگر خاموش رہے تو خوشحال کر دوں گا۔ اس نے کہا! میں خاموش رہوں گا۔ پھر اسے کہا، کیا ہسپتال میںتیل ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا کافی مقدارمیں تیل لے آئو۔ اس نے اس تیل کو ایک بڑی کڑاہی میں ڈالا پھر اس کے نیچے آگ جلا دی۔ جب تیل جوش مارنے لگا تو اس نے ایک مریض کو بلایا اور اسے کہا کہ تمہارے مرض کا یہی علاج ہے کہ تم اس گرم تیل میں بیٹھ جائو۔ مریض نے خدا کا واسطہ دیا، لیکن اس نے کہا کہ اس کے سوا تمہارا کوئی علاج نہیں۔ یہ بات سن کرمریض کہنے لگا: میں الحمد اللہ ٹھیک ہوں۔ مجھے سر درد تھا۔ اب بالکل ٹھیک ہو گیا ہوں۔ اس نے کہا: اگر ٹھیک ہو گئے ہو تو ہسپتال میں کیوں بیٹھے ہو؟ مریض کہنے لگا! جناب! ابھی چلا جاتا ہوں۔ اس مریض نے دوسرے مریضوں کو اس بات سے آگاہ کیا۔ اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے بھاگ گیا کہ میں اس حکیم کی برکت سے ٹھیک ہو گیا ہوں۔ اس طرح ہر مریض کے ساتھ یہ کارروائی کی۔ حتیٰ کہ ہر مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھر روانہ ہو گیا اور جولاہے کی حکمت عملی کے باعث ہسپتال مریضوں سے خالی ہو گیا۔ (تاریخ ِ عالم کی دلچسپ حکایات سے ماخوذ)