شکست سے بھی سیکھاجاسکتا ہے

شکست سے بھی سیکھاجاسکتا ہے

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی


الگ الگ فارمیٹ کے لئے ٹیمیں بنانے کا شوشا تباہ کن ثابت ہوگا، مصباح کو ورلڈ کپ تک ون ڈے کپتان رہنا چاہیے ***********ایشیا کپ نہ جیتنے کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں نے ثابت کر دیا کہ انہیں عالمی کرکٹ میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا*********** ایشیا کپ کا ٹورنامنٹ تمام ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں اگرچہ پاکستانی ٹیم فائنل نہیں جیت سکی،مگر بہرحال ان کی کارکردگی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت بہرحال یہ ہے کہ سری لنکا کی ٹیم یہ ٹورنامنٹ جیتنے کی مستحق تھی، اس نے تینوں شعبوں میں پاکستان سے اچھی کارکردگی دکھائی بلکہ اس ٹورنامنٹ کی ہر ٹیم سے بہت بہتر۔ ہر ٹورنامنٹ کی طرح اس میں بھی پاکستانی ٹیم کے لئے پلس مائنس موجود ہیں، کچھ مثبت چیزیں ظاہر ہوئی ہیں تو خاصی کمزوریاں بھی واضح ہوگئیں۔ ٹیم مینجمنٹ اور کرکٹ بورڈ کو ان تمام چیزوں کا جائزہ لینا ہوگا اور جلداز جلد بہتری لانی ہوگی، خوش قسمتی سے ہمارے پاس ابھی کچھ وقت ہے۔ چند دنوں بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ شروع ہونے والا ہے،تاہم ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضے قدرے مختلف ہیں ۔ اصل چیلنج ہمارے سامنے چار پانچ ماہ بعد آئے گا، جب عرب امارات میں آسٹریلوی ٹیم سے ٹاکرا ہوگا اور اس سے زیادہ بڑاا ور سخت چیلنج آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں کھیلے جانیوالاورلڈ کپ ہوگا۔ سب سے کمزورچیز اس ٹورنامنٹ میں سامنے آئی، وہ ہماری بائولنگ لائن ہے۔ ایک عرصے سے یہ تاثر عام تھاکہ پاکستان کی بائولنگ مضبوط ہے اور اسی کے ذریعے ہم میچز جیتتے ہیں۔افسوس کہ یہ اب ماضی کا قصہ ہوگیا۔ موجودہ پاکستانی بائولنگ اٹیک میں وہ قوت، تیزی اور ضرب لگانے کی صلاحیت نہیں ،جو ہمارے ماضی کے بائولروں کا خاصہ تھی۔ اگر سعید اجمل غیرمعمولی کارکردگی نہ دکھائیں تو بائولنگ مزید ایکسپوز ہوجائے۔ ہمارے سپنر پھر بھی نسبتاً بہتر ہیں، شاہد آفریدی بریک تھرو دینے کے ماہر ہیں ، سپن کے لئے موزوں وکٹ پر انہیں کھیلنا آسان نہیں ہوتا، اسی طرح محمد حفیظ بھی اکثر اوقات اپنی نپی تلی بائولنگ سے مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارا فاسٹ بائولنگ اٹیک البتہ خاصا مایوس کن ہے۔ بیٹنگ کے لئے موزوں وکٹوں پر تو وہ بالکل ہی غیر موثر ثابت ہوتے ہیں۔ عمر گل اپنا پرائم ٹائم گزار چکے ہیں، اب وہ سہیل تنویر کی طرح اوسط سے کم درجے کے بائولر بن گئے ہیں۔ مخالف بلے بازوں کی غلطی سے کوئی وکٹ مل جائے تو الگ بات ہے ، ورنہ وہ انہیں تنگ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں۔ وہ اتنی سادہ سی بات بھی نہیں جانتے کہ ان کی سپیڈ اب کم ہوچکی ہے اور شارٹ پچ کرانے سے خود ان کی پٹائی ہوگی۔ عمر گل کی اب ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ جنید خان نے بھی اپنے مداحین کو مایوس ہی کیا ہے، ان میں عمدہ کارکردگی دکھانے کی صلاحیت ہے، مگر انہوں نے شائد یہ طے کر رکھا ہے کہ سال میں ایک دو بار ہی میچ وننگ پرفارمنس دی جائے اور باقی میچوں میں اوسط درجے کی بائولنگ کرائی جائے۔ بلاول بھٹی نوجوان فاسٹ بائولر ہیں، ان کے پاس سپیڈ ہے ،مگر انہیں ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنا دماغ اور مہارت استعمال کئے بغیر پرفارم نہیں کیا جاسکتا،اگر محنت نہ کی تووہ ٹیم سے مستقل بنیادوں پر آئوٹ ہوجائیں گے۔ انور علی باصلاحیت کھلاڑی ہیں، مگر انہیں بھی سمجھنا ہوگا کہ صرف بطور آل رائونڈر ان کی جگہ نہیں بن سکتی، انہیں دس اوورز کرانے اور وکٹیں لینے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔محمد طلحہ بھی اس ٹورنامنٹ میں کچھ غیرمعمولی کارکردکی نہیں دکھا پائے،اس کی ایک وجہ تو سلو پچز بھی ہیں، مگر فاسٹ بائولرز کو ہرپچ کے حساب سے بائولنگ کرنی سیکھنا چاہیے۔ ڈیتھ اوورز میں پاکستان کے پاس کوئی موثر بائولر نہیں رہا۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس کا حل نکالنا ہوگا۔ سری لنکا کو اکیلے مالنگا نے دو تین اہم میچ جتوائے۔ ہمارے بائولرز لگتا ہے آخری اوورز میں یارکر کرانا بھول چکے ہیں، وہ شارٹ بالز کراتے اور مسلسل چوکے چھکے کھاتے ہیں۔ بائولنگ کوچ محمد اکرم کی صلاحیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان پیدا ہوچکا ہے۔ ان کی افادیت نظر نہیں آرہی۔ افسوس کی بات ہے کہ وقار یونس جیسا بائولر بنگلہ دیشی بائولروں کو سکھائے اور پاکستان اپنے قابل فخر فرزند سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اگر پاکستان نے ٹاپ تھری ٹیموں میں آنا ہے تو اچھے فاسٹ بائولر تلاش کرنے اور انہیں مواقع دینے ہوں گے۔ ہمارا ٹاپ آرڈر اس ٹورنامنٹ میں ایک بار پھر نہیں چل سکا۔ اوپنر کا مسئلہ دوبارہ سامنے آگیا۔ شرجیل خان کو تواتر کے ساتھ مواقع دئیے جا رہے ہیں، مگر محسوس ہوتا ہے کہ تکنیکی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ ان میں ٹمپرامنٹ کا بھی ایشو ہے۔ فائنل میں صہیب مقصود کو ڈراپ کر کے انہیں موقعہ دیا گیا اور انہوں نے غیرذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا۔ ایک کلب لیول کا اوپنر بھی ایسی غلطی نہیں کرے گا۔جب وہ مالنگا جیسے بائولر کو پانچ گیندوں میں دو چوکے مار چکے ہیں تو پھر ایک اورجارحانہ شاٹ کھیل کر وکٹ گنوانے کی کیا تک تھی؟ انہیں قطعی اندازہ نہیں تھا کہ یہ میچ کس قدر اہم ہے اور اچھا سٹارٹ ٹیم کی ضرورت ہے۔ جارحانہ کھیلنا ان کا نیچرل انداز ہے تو اپنی تکنیک بھی بہتر کریں، صرف خواہشات سے آدمی کرس گیل یا میکولم نہیں بن سکتا۔ احمد شہزاد نہایت باصلاحیت کھلاڑی ہیں، وہ اچھا کھیلتے بھی رہے ،مگر انہیں اپنی یکسوئی کو مزید بہتر کرنا ہوگا۔ محمد حفیظ کے حوالے سے ہمیں ایک بات اب واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ وہ ٹیسٹ فارمیٹ میں تو بالکل ہی مس فٹ ہیں،جبکہ ون ڈے فارمیٹ میں بھی وہ ٹاپ آرڈر پر کھیلنے کے قابل نہیں۔ موصوف کی تکنیک انتہائی کمزور ہے، وہ اکثر شاٹس کھڑے کھڑے پیر ہلائے بغیر کھیلتے ہیں، ذرا سا گیند سوئنگ ہو تو وہ سلپ میں کیچ تھما کر رخصت ہوجاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ عرب امارات جیسی سلو بیٹنگ پچز پر رنز کر لیتے ہیں،مگر پاکستان نے ہمیشہ یہیں تو نہیں کھیلنا۔ اگلا ورلڈ کپ آسٹریلیا میں ہے اوروہاں پروفیسر حفیظ کا جو حال بنے گا، وہ ابھی سے ہر ایک کو معلوم ہے۔ وہ اچھے فیلڈر اور اچھے پارٹ ٹائم بائولر ہیں، چھٹے بائولر کے طور پر ان کی جگہ بنتی ہے، مگر انہیں پانچویں یا چھٹے نمبر پر آنا چاہیے۔ مصباح الحق اگرچہ ٹورنامنٹ میں دو بار رن آئوٹ ہوئے بلکہ کرائے گئے ،مگر انہوں نے اپنی افادیت ثابت کی۔ فائنل میں وہ اگر وکٹ پر ٹھیر کر فواد عالم کے ساتھ اچھی پارٹنر شپ نہ بناتے تو ٹیم کا حال انڈر نائنٹین ورلڈ کپ کے فائنل جیسا ہوجانا تھا، جہاں پاکستانی ٹیم ڈیڑھ سو سے کم میں آئوٹ ہوگئی۔ مصباح کو اب نمبر تین کے لئے کوئی اچھا بلے باز ڈھونڈنا ہوگا۔ صہیب مقصود اس کے لئے فٹ ہیں کہ ان کی تکنیک اچھی ہے، آسٹریلیاکی پچوں پر وہ کامیاب ہوسکتے ہیں، انہیں اپنے ٹمپرامنٹ پر قابو پانا اور وکٹ پرٹھیرنا سیکھنا ہوگا۔ مصباح کو نمبر چار ہی پر کھیلنا چاہیے۔فواد عالم کے آنے سے مڈل آرڈر میں لیفٹ ہینڈڈ بلے باز کی کمی پوری ہوگئی۔ فواد نے بڑی محنت سے پرفارم کیا۔ ان کی تکنیک میں خاصی کمزوریاں تھیں، تین چار سال فرسٹ کلاس کھیل کر انہوں نے کچھ حد تک ان پر قابو پالیا ،مگر انہیں ابھی اچھی کوچنگ کی ضرورت ہے۔وہ شفل زیادہ کرتے ہیں، کسی تیز پچ پر اچھے فاسٹ بائولر کے سامنے یہ پریشان کن ثابت ہوگا، مچل جانسن، سٹین یا جیمز اینڈرسن جیسے فاسٹ بائولرز کو کھیلنے کے لئے انہیں اپنی تکنیک پر مزید کام کرنا ہوگا۔ فواد کی مضبوطی ان کا ٹمپرامنٹ اور سنگل ڈبل رنز لینے کی صلاحیت ہے، وہ وکٹ پر ٹھیر سکتے ہیں، پاکستان کو ایسے بلے بازوں کی ضرورت ہے۔ عمر اکمل نے عمدہ کارکردگی دکھائی، وکٹ کیپر کم بلے باز کا رول ان کے لئے انتہائی فٹ ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد کئی ماہ کا وقفہ ہے، اس دوران انہیں اپنی کیپنگ بہتر کرنی چاہیے، راشد لطیف جیسے کھلاڑی سے انہیں ٹپس لینے چاہئیں۔ عمر اکمل کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دونوں ذمہ داریاں انہیں ہی اٹھانی ہیں، جیسے راہول ڈریوڈ جیسے عظیم بلے باز نے اپنی ٹیم کے لئے برسوں ایسا کیا، یا ڈی ویلیئرزایسا کر رہے ہیں۔سنگا کارا اس عمر میں وکٹ کیپنگ کر سکتے ہیں تو عمر اکمل تو ان سے بہت چھوٹے اور ابھی نوجوان ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ ویسے شاہد آفریدی کا رہا، انہوں نے اپنی کرشمہ ساز بیٹنگ سے سب کو محظوظ کیا اور خاصے عرصے کے لئے اپنی جگہ مستحکم کر لی۔ آفریدی کوچاہیے کہ وہ اب صرف اپنے کھیل پر توجہ دیں اور باقاعدہ اعلان کر دیں کہ مجھے کپتانی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کے دوست ،خصوصاً میڈیا میں موجود ایک لابی بظاہر ان کے حق میں مگر حقیقتاً ان کو نقصان پہنچانے والی تحریک چلاتی ہے۔ جیسے ہی وہ کسی میچ میں اچھی کارکردگی دکھائیں، فوراً ہی ان کے دوست مہم چلانے لگتے ہیں کہ تینوں فارمیٹس کے لئے الگ الگ ٹیمیں بنائی جائیں۔ اس مطالبے کا واحد مقصد یہی ہوتا ہے کہ مصباح کو ون ڈے کپتانی سے ہٹایا جائے اور آفریدی کو کپتان بنایا جائے۔ مصباح نے اپنی کپتانی کو ثابت کیا ہے، وہ تسلسل سے رنز کر رہے ہیں، ٹیم کوا نہوں نے متحد کر دیا ہے، ان پر دفاعی کپتان کا الزام ہے ،مگر معین خان کے کوچ ہونے سے ٹیم کے مزاج میں خود بخود جارحیت آجائے گی۔ مصباح کو ون ڈے ٹیم کی کپتانی سے ہٹانے کا مطالبہ قومی ٹیم کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ آفریدی کو اپنی تمام تر توجہ کھیل پر لگانی چاہیے، انہیں قدرت نے کسی بھی کپتان سے زیادہ شہرت اور مقبولیت دے رکھی ہے، اپنے معیار کو برقرار رکھنا ہی ان کے لئے اصل چیلنج ہونا چاہیے۔ پاکستانی فیلڈنگ ہمیشہ کی طرح اس ٹورنامنٹ میں بھی ناقص رہی۔ نئے فیلڈنگ کوچ سے اتنا جلد کسی کرشمے کی توقع نہیں کرنی چاہیے، مگر پاکستان کو ورلڈ کپ کی تیاریوں میں سب سے زیادہ اہمیت فیلڈنگ کو دینی چاہیے۔ پاکستانی ٹیم کا ایک بڑا مثبت پہلو اس ٹورنامنٹ میں ایک بار پھر واضح ہوا ہے، وہ ہے فائیٹ بیک کرنے کی صلاحیت۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیم نے کئی میچز میں فائیٹ بیک کیا، دو ہارے ہوئے میچز جیتے اور فائنل کے سوا ہر میچ میںمخالف ٹیم کو ٹف ٹائم دیا۔ ٹیم کی لوئر مڈل آرڈر نے بھی دبائو میں رنز کئے، افغانستان کے خلاف میچ میں عمر اکمل نے شاندار سنچری بنائی ، فائنل میں مصباح، فواد عالم اور عمر اکمل نے اچھا پرفارم کیا اور فائٹنگ ٹوٹل دیا۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں شاہد آفریدی نے کرشمہ کر دکھایا، مگر بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں احمد شہزاد اور فواد عالم نے بھی اپنا پورا حصہ ڈالا۔ سری لنکا کے خلاف پہلے میچ میں ٹیم نے آخر تک فائٹ کی۔ یہ وہ چیز ہے جو پاکستانی ٹیم میں پہلے زیادہ نظر نہیں آتی تھی۔ اس کا کریڈٹ ٹیم،کپتان اور کوچ کو دینا چاہیے۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ریکارڈ ساز فیفا ورلڈ کپ 2026

ریکارڈ ساز فیفا ورلڈ کپ 2026

عالمی فٹ بال کی تاریخ میں کئی نئے ریکارڈ قائمفیفا ورلڈ کپ 2026ء کا میلہ اپنے اختتام کو پہنچا،فائنل میں اسپین نے دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو شکست دے کر نہ صرف ایک بڑا اپ سیٹ کیا بلکہ عالمی فٹ بال کی تاریخ میں کئی نئے ریکارڈ بھی قائم کر دیے۔امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے اس ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے گئے، جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ مقابلے ہیں۔ اسی لیے اس ایونٹ میں بے شمار نئے ریکارڈ قائم ہوئے اور کئی پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کی دوڑ سے لے کر ریکارڈ ساز کلین شیٹ تک، 2026ء کے اس عالمی ٹورنامنٹ نے کئی ایسے تاریخی کارنامے دیکھے جنہوں نے فٹ بال کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔میسی کے عالمی اعزازاگرچہ ارجنٹائن کی ٹیم فائنل میں شکست کے بعد رنر اپ رہی، تاہم اس کے اسٹار کپتان لیونل میسی نے اپنی انفرادی کارکردگی سے کئی یادگار ریکارڈ اپنے نام کئے۔ میسی نے مسلسل 9 فیفا ورلڈ کپ میچوں میں گول کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، یوں وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں لگاتار سب سے زیادہ میچوں میں گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ ان کا یہ شاندار سلسلہ 3 دسمبر 2022ء سے شروع ہوا اور 7 جولائی 2026ء تک جاری رہا۔ اس کے علاوہ لیونل میسی نے فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 34 میچ کھیلنے کا اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید بہتر بنایا۔ انہوں نے ایک اور منفرد اعزاز بھی حاصل کیا جب 38 سال اور 357 دن کی عمر میں الجزائر کے خلاف ہیٹ ٹرک اسکور کرکے ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے معمر ترین کھلاڑی بن گئے۔گولز کی بارشلیونل میسی اور فرانس کے کائلیان ایمباپے کے درمیان ورلڈ کپ کے دوران ریکارڈز کی دلچسپ دوڑ جاری رہی، لیکن آخرکار اس میدان میں کامیابی ایمباپے کے حصے میں آئی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 22 گول کر کے فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ ایمباپے نے یہ گول 2018ء، 2022ء اور 2026ء کے ورلڈ کپ مقابلوں میں اسکور کیے، جس سے انہوں نے عالمی فٹ بال کی تاریخ میں ایک اور شاندار سنگ میل عبور کر لیا۔ فرانس کے مائیکل اولیسے نے بھی اس ٹورنامنٹ میں اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 7 گول پاسز (اسسٹ) دے کر فیفا ورلڈ کپ کے ایک ہی ٹورنامنٹ میں کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے سب سے زیادہ اسسٹ کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی شاندار پاسنگ، بہترین کھیل اور ساتھی کھلاڑیوں کیلئے گول کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت نے انہیں ورلڈ کپ 2026ء کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا۔''کلین شیٹ‘‘ گول کیپر سیمون کا تاریخی ریکارڈورلڈ کپ 2026ء میں اسپین کے گول کیپر اونائی سیمون نے بھی ایک منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ انہوں نے یکم دسمبر 2022ء سے 10 جولائی 2026ء تک فیفا ورلڈ کپ کے مقابلوں میں مسلسل سب سے طویل عرصے تک اپنے خلاف کوئی گول نہ ہونے (کلین شیٹ) کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس شاندار کارکردگی کے دوران وہ حریف ٹیموں کو گول کرنے سے مسلسل روکے رکھنے میں کامیاب رہے، جس نے اسپین کی عالمی ٹائٹل جیتنے کی مہم میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔یہی مضبوط دفاع اسپین کی عالمی چیمپئن بننے کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ثابت ہوا۔عمر کامیابی میں رکاوٹ نہیںکیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا، جن کا اصل نام جوسیمار ڈیاس ہے، نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں ایک منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ وہ ورلڈ کپ میں اپنے پہلے ہی میچ میں کلین شیٹ رکھنے والے معمر ترین گول کیپر بن گئے۔ 15 جون کو اسپین کے خلاف مقابلے میں انہوں نے شاندار گول کیپنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو کوئی گول کرنے کا موقع نہ دیا۔ اس تاریخی کارکردگی کے وقت ان کی عمر 40 سال اور 12 دن تھی، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ کرسٹیانو رونالڈوکا اعزازپرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں ایک تاریخی اعزاز اپنے نام کیا۔ انہوں نے ورلڈ کپ کے چھ مختلف ٹورنامنٹس میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن کر اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید مستحکم کیا۔ رونالڈو نے 2006ء، 2010ء، 2014ء، 2018ء، 2022ء اور 2026ء کے ورلڈ کپ مقابلوں میں گول اسکور کیے، جو ان کی غیرمعمولی مستقل مزاجی، بہترین فٹنس اور طویل عرصے تک اعلیٰ معیار کی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ کارنامہ انہیں عالمی فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں نمایاں مقام دلاتا ہے۔فیفا ورلڈ کپ 2030ء فیفا ورلڈ کپ 2030ء کی مشترکہ میزبانی مراکش، پرتگال اور اسپین کریں گے۔ یہ ٹورنامنٹ اپنی نوعیت کا ایک تاریخی ایونٹ ہوگا کیونکہ یہ 1930ء میں منعقد ہونے والے پہلے فیفا ورلڈ کپ کی سوویں سالگرہ کی مناسبت سے کھیلا جائے گا۔ پہلے ورلڈ کپ کی میزبانی یوراگوئے نے کی تھی اور وہی اس افتتاحی عالمی مقابلے کا چیمپئن بھی بنا تھا۔

زمین کے آبی ذخائر میں آکسیجن کی کمی

زمین کے آبی ذخائر میں آکسیجن کی کمی

بڑھتا ہوا عالمی ماحولیاتی بحراندنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی جیسے مسائل پر مسلسل بات کی جا رہی ہے لیکن ایک اور خطرہ خاموشی سے بڑھ رہا ہے جس پر اب سائنسدانوں نے توجہ دلائی ہے۔ یہ خطرہ دنیا کے سمندروں، جھیلوں، دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں آکسیجن کی مقدار میں مسلسل کمی کا ہے۔ آکسیجن پانی میں موجود تمام جانداروں کی بقا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر اس کی مقدار کم ہو جائے تو نہ صرف آبی حیات متاثر ہوتی ہے بلکہ پورا ماحولیاتی نظام عدم توازن کا شکار ہونے لگتا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ مسئلہ اب ایک مقامی یا علاقائی نہیں بلکہ عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے اثرات مستقبل میں انسانی زندگی، خوراک کی فراہمی اور عالمی آب و ہوا پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔آبی ذخائر میں آکسیجن کیوں کم ہو رہی ہے؟سائنسدانوں کے مطابق پانی میں آکسیجن کی کمی کے پیچھے کئی عوامل بیک وقت کام کر رہے ہیں۔ سب سے اہم وجہ عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہے۔ جب پانی کا درجہ حرارت بڑھتا ہے تو وہ کم آکسیجن جذب کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گرم پانی میں آبی تہوں کی باہمی آمیزش بھی کم ہو جاتی ہے جس کے باعث گہرے پانی تک تازہ آکسیجن نہیں پہنچ پاتی۔دوسری بڑی وجہ زرعی زمینوں سے بہہ کر آنے والی کھادیں اور دیگر غذائی اجزاہیں۔ نائٹروجن اور فاسفورس کی زیادہ مقدار جھیلوں اور ساحلی علاقوں میں کائی (Algae) کی غیر معمولی افزائش کا باعث بنتی ہے۔ جب یہ کائی مر جاتی ہے تو اسے گلانے والے جراثیم بڑی مقدار میں آکسیجن استعمال کرتے ہیں جس سے پانی میں آکسیجن کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں بعض علاقوں میں آبی جانوروں کے لیے زندہ رہنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سمندری پانیوں کی گردش میں آنے والی تبدیلیاں، آلودگی اور انسانی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں آکسیجن کی کمی کے واقعات پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔آبی حیات اور انسانوں پر اس کے اثراتپانی میں آکسیجن کی کمی کا سب سے پہلا اثر مچھلیوں، جھینگوں، کیکڑوں، شارک اور دیگر آبی جانداروں پر پڑتا ہے۔ جب آکسیجن مطلوبہ سطح سے نیچے آ جاتی ہے تو بہت سے جانور یا تو ان علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا پھر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بعض حساس انواع تو معمولی کمی بھی برداشت نہیں کر پاتیں جس کے نتیجے میں ان کی تعداد مسلسل کم ہونے لگتی ہے۔اس صورتحال کا اثر صرف آبی حیات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری غذائی زنجیر متاثر ہوتی ہے۔ اگر چھوٹے جاندار ختم ہونے لگیں تو ان پر انحصار کرنے والی بڑی مچھلیاں اور دیگر شکاری جانور بھی متاثر ہوتے ہیں۔ بالآخر اس کا اثر ماہی گیری، ساحلی معیشت اور ان کروڑوں لوگوں پر پڑتا ہے جن کا روزگار سمندر اور دیگر آبی وسائل سے وابستہ ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آکسیجن کی کمی پانی کے اندر ہونے والے قدرتی حیاتیاتی اور کیمیائی عمل کو بھی بدل دیتی ہے۔ اس سے بعض نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہو سکتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اس طرح ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی آکسیجن کو کم کرتی ہے اور آکسیجن کی کمی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے سکریپس انسٹی ٹیوشن آف اوشینوگرافی کے ماہرین جنہوں نے یہ تحقیق کی ہے، کہتے ہیں کہ پانی میں آکسیجن کی کمی کو اب ایک الگ تھلگ مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے خیال میں یہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، سمندری تیزابیت، آلودگی اور دیگر عالمی ماحولیاتی مسائل سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے تجویز دی ہے کہ آبی ذخائر میں آکسیجن کی کمی کو بھیPlanetary Boundaries Framework میں شامل کیا جائے۔یہ فریم ورک ان ماحولیاتی حدود کی نشاندہی کرتا ہے جن کے اندر رہ کر زمین کا قدرتی نظام متوازن انداز میں کام کرتا ہے۔ اگر انسان ان حدود سے تجاوز کرے تو ایسے ناقابلِ تلافی نقصانات ہو سکتے ہیں جن کے اثرات کا ازالہ انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ آکسیجن کی مسلسل کمی اب اسی درجے کا ایک خطرہ بنتی جا رہی ہے اس لیے اس کی نگرانی اور تدارک کو عالمی ترجیح دی جانی چاہیے۔مسئلے کا حل اور مستقبل کی ذمہ داریاںماہرین کے مطابق اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف ایک اقدام کافی نہیں ہوگا بلکہ مختلف شعبوں میں بیک وقت عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لا کر عالمی حدت کو محدود کرنا ضروری ہے تاکہ پانی کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ روکا جا سکے۔ اسی طرح زرعی شعبے میں کھادوں کے محتاط استعمال، صنعتی فضلے کی بہتر صفائی اور دریاؤں و جھیلوں میں آلودگی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر پالیسیاں بھی ناگزیر ہیں۔اس کے علاوہ مختلف ممالک کو اپنے سمندروں، جھیلوں اور دریاؤں میں آکسیجن کی مسلسل نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ خطرناک تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ تحقیق اور بین الاقوامی تعاون میں اضافہ بھی اس مسئلے کے حل کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ یہ بحران کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

غلاموں کی آزادی کا مسودہ22 جولائی 1862ء کو امریکی صدر ابراہام لنکن نے اپنی کابینہ کے سامنے غلاموں کی آزادی کا ابتدائی مسودہ پیش کیا۔ اس وقت امریکہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھا جہاں شمالی اور جنوبی ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار تھیں۔ جنوبی ریاستوں کی معیشت غلامی پر قائم تھی جبکہ شمالی ریاستیں غلامی کے خاتمے کی حامی تھیں۔لنکن نے اپنے وزراکو بتایا کہ وہ غلامی کے خاتمے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں لیکن وزیر خارجہ ولیم سیورڈ کے مشورے پر فیصلہ کیا کہ اسے کسی بڑی فوجی کامیابی کے بعد جاری کیا جائے تاکہ اسے کمزوری کی علامت نہ سمجھا جائے۔ بعد ازاں ستمبر 1862ء میں اینٹیٹم کی جنگ کے بعد ابتدائی اعلان جاری ہوا اور یکم جنوری 1863ء کو باقاعدہ نافذ کیا گیا۔ پہلی کار ریس22 جولائی 1894ء کو فرانس میں پیرس سے روان تک دنیا کی پہلی باقاعدہ کار مقابلہ ریس منعقد ہوئی۔ اس مقابلے کا انعقاد فرانسیسی اخبار Le Petit Journalنے کیا تھا۔ اس ریس کا مقصد صرف رفتار کا مقابلہ نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا تھا کہ موٹرگاڑیاں گھوڑا گاڑیوں کا قابلِ اعتماد متبادل بن سکتی ہیں۔تقریباً 126 کلومیٹر طویل اس راستے میں مختلف قسم کی گاڑیاں شریک ہوئیں جن میں بھاپ، تیل اور دیگر ذرائع سے چلنے والی گاڑیاں شامل تھیں۔ اگرچہ تیز ترین گاڑی نے پہلے منزل حاصل کی لیکن انعام اس گاڑی کو دیا گیا جو محفوظ، قابلِ اعتماد اور روزمرہ استعمال کے لیے زیادہ موزوں سمجھی گئی۔یہ مقابلہ جدید آٹوموبائل صنعت کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوا۔ دنیا کا فضائی چکر 22 جولائی 1933ء کو امریکی ہوا بازWiley Post نے سات دن، 18 گھنٹے اور 49 منٹ میں تنہا دنیا کا فضائی چکر مکمل کر کے تاریخ رقم کی یوں دنیا کے پہلے شخص بن گئے جس نے اکیلے یہ کارنامہ انجام دیا۔اس سفر کے دوران انہوں نے جدید نیویگیشن آلات اور خودکار پائلٹ نظام کا استعمال کیا جو اُس دور میں ایک نئی ایجاد تھی۔ولی پوسٹ کی اس کامیابی نے عالمی ہوابازی میں انقلاب برپا کیا۔ بعد کے برسوں میں بین الاقوامی فضائی سفر، جدید نیویگیشن، اور مسافر بردار طیاروں کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔ ان کی پرواز نے انجینئروں اور ہوا بازوں کو نئی تحقیق پر آمادہ کیا اور عالمی فضائی رابطوں کو فروغ ملا۔ مجدانیک نازی کیمپ 22 جولائی 1944ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران سوویت فوجوں نے پولینڈ کے شہر لوبلن کے قریب واقع مجدانیک (Majdanek) نازی حراستی کیمپ کو آزاد کرایا۔ یہ پہلا بڑا نازی کیمپ تھا جو اتحادی افواج کے قبضے میں آیا اور جس کے ذریعے دنیا کو نازی جرائم کی ہولناک حقیقت کا براہِ راست ثبوت ملا۔کیمپ میں گیس چیمبرز، بھٹیاں، قیدیوں کا سامان اور دیگر شواہد تقریباً اصل حالت میں موجود تھے۔ یہاں ہزاروں افراد، خصوصاً یہودی، پولستانی، سوویت جنگی قیدی اور دیگر شہری قید رکھے گئے تھے اور بڑی تعداد میں قتل کیے گئے۔مجدانیک کی آزادی نے عالمی رائے عامہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

پلاسٹک کی سستی ری سائیکلنگ

پلاسٹک کی سستی ری سائیکلنگ

ماحول دوست مستقبل کی جانب پیش رفتدنیا بھر میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال ماحولیاتی آلودگی کے سب سے بڑے مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک استعمال کے بعد کچرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کا بڑا حصہ سمندروں، دریاؤں، جنگلات اور زمین میں جمع ہو کر ماحول، جنگلی حیات اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ لیکن پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے روایتی طریقے نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ ان میں توانائی کا زیادہ استعمال اور مختلف کیمیائی مادوں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ مگرایک نئی تحقیق نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے، جس میں صرف پانی، آکسیجن اور حرارت کی مدد سے پلاسٹک کو مفید کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنے کا ایک سادہ، کم خرچ اور ماحول دوست طریقہ پیش کیا گیا ہے۔جدید تحقیق کیا بتاتی ہے؟ چین کی Zhejiang یونیورسٹی کے پروفیسر یونگ وانگ کی قیادت میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس میں پلاسٹک کے فضلے کو پانی اور آکسیجن کی موجودگی میں مناسب درجہ حرارت پر مخصوص عمل سے گزار کر قیمتی نامیاتی مادوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں مہنگے یا زہریلے کیمیائی مادے استعمال نہیں کیے جاتے جس سے اس عمل کی لاگت نمایاں طور پر کم ہو گی۔تحقیق کے دوران پولی ایتھائلین (PE)، پولی پروپلین (PP) اور استعمال شدہ ربڑ جیسے ایسے مواد کو بھی کامیابی سے ری سائیکل کیا گیا جن کی ری سائیکلنگ ماضی میں خاصی مشکل سمجھی جاتی تھی۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کی بڑی مقدار انہی اقسام پر مشتمل ہوتی ہے۔ری سائیکلنگ کے اس نئے طریقہ کار سے حاصل ہونے والے نامیاتی مادے مختلف صنعتوں میں خام مال کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ادویات سازی، خوراک میں استعمال ہونے والے اجزا، زرعی مصنوعات، صنعتی کیمیکلز اور ماحول دوست بائیوڈیگریڈیبل مواد کی تیاری میں بھی ان مرکبات کی خاص اہمیت ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پلاسٹک کو صرف فضلہ سمجھ کر تلف کرنے کے بجائے اسے دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرنا ممکن اور نسبتاً آسان ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی صنعتی پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو پلاسٹک کا کچرا ایک قیمتی معاشی وسیلہ بن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس طریقے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ گندے یا مختلف اقسام کے ملے جلے پلاسٹک پر بھی مؤثر ثابت ہوا جبکہ روایتی ری سائیکلنگ میں پلاسٹک کی صفائی اور الگ الگ درجہ بندی پر کافی اخراجات آتے ہیں۔پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کی نئی امیداقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک ماحول میں شامل ہو جاتا ہے جس کا صرف ایک محدود حصہ ہی ری سائیکل ہو پاتا ہے۔ باقی کچرا لینڈ فل، دریاؤں اور سمندروں میں جمع ہو کر آبی حیات، پرندوں اور دیگر جانداروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔اگر پانی اور آکسیجن پر مبنی یہ نئی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اختیار کر لی جاتی ہے تو نہ صرف پلاسٹک کے ڈھیروں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی ممکن ہوگی۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم توانائی کا استعمال اس تحقیق کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں بھی اہم بنا دیتا ہے۔یہ پیش رفت سرکلر اکانومی (Circular Economy) کے تصور کو بھی فروغ دے سکتی ہے جس کے تحت استعمال شدہ اشیا کو دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کر کے قدرتی وسائل پر دباؤ کم کیا جاتا ہے۔پاکستان کیلئے اہمیتہمارا ملک بھی پلاسٹک آلودگی کے شدید مسائل سے دوچار ہے۔ شہروں میں شاپنگ بیگز، پلاسٹک کی بوتلیں، پیکنگ میٹریل اور دیگر فضلہ نالوں کی بندش، شہری آلودگی اور سیلابی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ اگرچہ بعض شہروں میں سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی عائد کی جا چکی ہے لیکن اس پر مکمل عمل درآمد اب بھی ایک چیلنج ہے۔اگر مستقبل میں یہ نئی ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی تجارتی سطح پر دستیاب ہو جائے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے پلاسٹک کے فضلے کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ماحول کو فائدہ ہوگا بلکہ ری سائیکلنگ کی صنعت میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ شہری اگر پلاسٹک کے استعمال میں احتیاط کریں، غیر ضروری پلاسٹک سے گریز کریں اور استعمال شدہ پلاسٹک کو مناسب طریقے سے جمع کریں تو ری سائیکلنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔بہرکیف پانی اور آکسیجن کی مدد سے پلاسٹک کو مفید کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنے کی یہ نئی تحقیق ماحولیات کے شعبے میں ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر مکمل طور پر نافذ ہونے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے لیکن ابتدائی نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید سائنس پلاسٹک آلودگی جیسے عالمی مسئلے کے لیے پائیدار اور کم خرچ حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز نہ صرف زمین کو صاف رکھنے میں مدد دیں گی بلکہ فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کر کے ماحول اور معیشت دونوں کے لیے نئے امکانات پیدا کریں گی۔

جنک فوڈ ڈے

جنک فوڈ ڈے

خوراک کا بدلتا رجحان ،صحت پر منفی اشراتہر سال 21 جولائی کو دنیا بھر میں جنک فوڈ ڈے (Junk Food Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف جنک فوڈ کا ذکر کرنا نہیں بلکہ عوام خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور صحت مند غذا کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔جنک فوڈ کی اصطلاح ایسے کھانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن میں کیلوریز تو بہت زیادہ پائی جاتی ہیں لیکن غذائیت بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ 1950ء کی دہائی میں امریکہ میں مقبول ہونے والا یہ لفظ بڑے پیمانے پر ان کھانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں شکر، چکنائی اور نمک کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔آج کے تیز رفتار دور میں برگر، پیزا، فرائز، کولڈ ڈرنکس، چپس اور دیگر فاسٹ فوڈ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا مسلسل استعمال کئی خطرناک بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔جنک فوڈ میں چکنائی، نمک، چینی اور کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ جبکہ وٹامنز، فائبر اور معدنیات نہایت کم ہوتے ہیں۔ اس کا مسلسل استعمال جسم میں چربی بڑھاتا ہے، وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور قوتِ مدافعت کو کمزور کرتا ہے۔ بچوں میں جسمانی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، دانت خراب ہوتے ہیں اور پڑھائی میں توجہ کم ہو جاتی ہے، جبکہ نوجوانوں میں تھکن، سستی، ذہنی دباؤ اور مختلف دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔جنک فوڈ کا رجحانپاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جنک فوڈ کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے قصبوں میں بھی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کی تعداد بڑھ رہی ہے اورنوجوان اپنے جیب خرچ کا بڑا حصہ فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں کھانے پر خرچ کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے ملک میں فاسٹ فوڈ کا کاروبار فروغ پا رہا ہے سکول کے بچے، کالج اور یونیورسٹی کے طلباکے ساتھ ساتھ نوجوان ملازمین بھی جنک فوڈ ریستورانوں میں لنچ کرنا پسند کرتے ہیں۔یہ ایک ایسی عادت ہے جس کا تعلق کبھی صرف بالائی متوسط طبقے یا اشرافیہ سے تھالیکن اب ایک نئی شہری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔ نوجوانوں کی بدلتی ہوئی عادات کے ساتھ فاسٹ فوڈکے کاروبار میں بھی تیزی آئی ہے اورمتعدد بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز بھی آچکی ہیں۔ یہ تبدیلی 1990ء کی دہائی کے آخر میں شروع ہوئی جب ہر طبقے کے لوگ خاص طور پر نوجوانوں میں فاسٹ فوڈ کے رجحان نے فروغ پایا۔حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے انقلاب نے اس رجحان میں مزید اضافہ کیا کیونکہ بہت سے سوشل میڈیا پروفائلز کو شیئر کرنے کے لیے ایسی تصویروں کی ضرورت ہوتی ہے جن میں انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتے یا کھانا کھاتے دیکھا جا سکے۔ آن لائن فوڈ ڈیلیوری، سوشل میڈیا اشتہارات اور بدلتا ہوا طرزِ زندگی نوجوان نسل کو غیر صحت بخش غذا کی طرف راغب کر رہا ہے مگر اس کے نتیجے میں موٹاپا، ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو مستقبل میں صحت کے نظام پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔اس صورتحال میں والدین کو چاہیے کہ بچوں کو شروع ہی سے متوازن غذا کی عادت ڈالیں۔ گھر میں تازہ کھانا، پھل، سبزیاں، دودھ، دہی اور دالوں کا استعمال بڑھائیں اور فاسٹ فوڈ کو صرف کبھی کبھار تک محدود رکھیں۔ نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ وقتی ذائقہ صحت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، پانی کا زیادہ استعمال اور صحت بخش خوراک ہی ایک توانا اور کامیاب زندگی کی ضمانت ہیں۔صحت مند پاکستان کی جانب ایک قدمحکومت، تعلیمی اداروں، میڈیا اور والدین کو مل کر جنک فوڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ سکولوں اور کالجوں میں غذائیت سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں، کینٹینوں میں صحت بخش غذائیں فراہم کی جائیں اور عوام کو متوازن خوراک کی اہمیت سے روشناس کرایا جائے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے،اگر ہم اپنی خوراک کے بارے میں درست فیصلے کریں، جنک فوڈ کے استعمال کو محدود کریں اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں تو نہ صرف اپنی بلکہ آنے والی نسلوں کی صحت بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

چاند پر پہلا قدم 21 جولائی 1969ء انسانی تاریخ کا ایک غیر معمولی دن تھا جب امریکی خلاباز نیل آرمسٹرانگ چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے اور چند منٹ بعد بز ایلڈرِن بھی ان کے ساتھ چاند پر اترے۔ یہ کامیابی ناسا کے اپالو 11 مشن کا حصہ تھی، جس کا آغاز 16 جولائی کو ہوا تھا۔ مشن کے تیسرے رکن مائیکل کولنز کمانڈ ماڈیول میں چاند کے مدار میں موجود رہے۔ آرمسٹرانگ کے مشہور الفاظ ''یہ انسان کا ایک چھوٹا سا قدم لیکن انسانیت کے لیے ایک عظیم چھلانگ ہے‘‘ دنیا میں براہِ راست نشر ہوئے اور کروڑوں لوگوں نے یہ تاریخی لمحہ دیکھا۔ اس مشن کے دوران خلابازوں نے چاند سے چٹانوں کے نمونے جمع کیے، سائنسی آلات نصب کیے اور کئی تجربات انجام دیے۔ آرٹیمس کے مندر کی تباہی21 جولائی 356 قبل مسیح کو قدیم شہر ایفیسس (موجودہ ترکی) میں واقع مندرِ آرٹیمس کو آگ لگا کر تباہ کر دیا گیا۔ یہ مندر قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہوتا تھا اور یونانی دیوی آرٹیمس کے نام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق ایک شخص ہیروسٹریٹس نے صرف اپنی شہرت حاصل کرنے کی خواہش میں اس مندر کو آگ لگا دی۔ اس مندر کی تعمیر میں کئی دہائیاں صرف ہوئی تھیں اور یہ اپنے عظیم ستونوں، نفیس سنگِ مرمر اور شاندار فنِ تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ آج اس مندر کے صرف کھنڈرات باقی ہیں لیکن آثارِ قدیمہ کے ماہرین اسے انسانی تاریخ کے عظیم تعمیراتی شاہکاروں میں شمار کرتے ہیں۔ کریٹ کا زلزلہ اور سونامی21 جولائی 365ء کو بحیرہ روم کے علاقے میں تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک آیا جس کا مرکز یونانی جزیرہ کریٹ تھا۔ اس زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے ایک تباہ کن سونامی کو جنم دیا جس نے مصر، لیبیا اور بحیرہ روم کے دیگر ساحلی علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ قدیم شہر سکندریہ خاص طور پر بری طرح متاثر ہوا جہاں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور بندرگاہیں، عمارتیں اور بحری جہاز تباہ ہو گئے۔ مؤرخین کے مطابق سمندر کا پانی پہلے غیر معمولی طور پر پیچھے ہٹا اور پھر ایک دیو ہیکل لہر آئی جس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس قدرتی آفت نے قدیم دنیا کی معیشت، تجارت اور آبادی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ سکوپس کا فیصلہ21 جولائی 1925ء کو امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں مشہور سکوپس مقدمہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس مقدمے میں حیاتیات کے استاد جان ٹی سکوپس پر الزام تھا کہ انہوں نے ریاستی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلبہ کو چارلس ڈارون کا نظریۂ ارتقا پڑھایا۔ عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے 100 ڈالر جرمانہ کیا، اگرچہ بعد میں یہ سزا قانونی بنیادوں پر ختم کر دی گئی۔ یہ مقدمہ سائنس،مذہب، تعلیم اور آزادی اظہار کے درمیان جاری بحث کی علامت بن گیا اور نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی اور جدید تعلیم میں سائنسی نظریات کی تدریس کے بارے میں اہم سوالات اٹھائے۔ آج بھی سکوپس مقدمے کو امریکی عدالتی اور تعلیمی تاریخ کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ جنیوا معاہدہ اور ویتنام کی تقسیم21 جولائی 1954ء کو جنیوا کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی اور اس کے نتیجے میں وہ معاہدہ طے پایا جس کے تحت ویتنام کو عارضی طور پر شمالی ویتنام اور جنوبی ویتنام میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ پہلی ہند۔چین جنگ کے خاتمے کے بعد کیا گیا جس میں فرانسیسی نوآبادیاتی حکومت کو شکست ہوئی تھی۔ اس تقسیم نے بعد میں ویتنام جنگ کی بنیاد رکھی جس میں امریکہ سمیت کئی عالمی طاقتیں کود پڑیں۔ اس جنگ نے لاکھوں افراد کی جانیں لیں اور بیسویں صدی کی اہم ترین بین الاقوامی جنگوں میں شمار ہوئی۔