شکست سے بھی سیکھاجاسکتا ہے

شکست سے بھی سیکھاجاسکتا ہے

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی


الگ الگ فارمیٹ کے لئے ٹیمیں بنانے کا شوشا تباہ کن ثابت ہوگا، مصباح کو ورلڈ کپ تک ون ڈے کپتان رہنا چاہیے ***********ایشیا کپ نہ جیتنے کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں نے ثابت کر دیا کہ انہیں عالمی کرکٹ میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا*********** ایشیا کپ کا ٹورنامنٹ تمام ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں اگرچہ پاکستانی ٹیم فائنل نہیں جیت سکی،مگر بہرحال ان کی کارکردگی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت بہرحال یہ ہے کہ سری لنکا کی ٹیم یہ ٹورنامنٹ جیتنے کی مستحق تھی، اس نے تینوں شعبوں میں پاکستان سے اچھی کارکردگی دکھائی بلکہ اس ٹورنامنٹ کی ہر ٹیم سے بہت بہتر۔ ہر ٹورنامنٹ کی طرح اس میں بھی پاکستانی ٹیم کے لئے پلس مائنس موجود ہیں، کچھ مثبت چیزیں ظاہر ہوئی ہیں تو خاصی کمزوریاں بھی واضح ہوگئیں۔ ٹیم مینجمنٹ اور کرکٹ بورڈ کو ان تمام چیزوں کا جائزہ لینا ہوگا اور جلداز جلد بہتری لانی ہوگی، خوش قسمتی سے ہمارے پاس ابھی کچھ وقت ہے۔ چند دنوں بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ شروع ہونے والا ہے،تاہم ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضے قدرے مختلف ہیں ۔ اصل چیلنج ہمارے سامنے چار پانچ ماہ بعد آئے گا، جب عرب امارات میں آسٹریلوی ٹیم سے ٹاکرا ہوگا اور اس سے زیادہ بڑاا ور سخت چیلنج آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں کھیلے جانیوالاورلڈ کپ ہوگا۔ سب سے کمزورچیز اس ٹورنامنٹ میں سامنے آئی، وہ ہماری بائولنگ لائن ہے۔ ایک عرصے سے یہ تاثر عام تھاکہ پاکستان کی بائولنگ مضبوط ہے اور اسی کے ذریعے ہم میچز جیتتے ہیں۔افسوس کہ یہ اب ماضی کا قصہ ہوگیا۔ موجودہ پاکستانی بائولنگ اٹیک میں وہ قوت، تیزی اور ضرب لگانے کی صلاحیت نہیں ،جو ہمارے ماضی کے بائولروں کا خاصہ تھی۔ اگر سعید اجمل غیرمعمولی کارکردگی نہ دکھائیں تو بائولنگ مزید ایکسپوز ہوجائے۔ ہمارے سپنر پھر بھی نسبتاً بہتر ہیں، شاہد آفریدی بریک تھرو دینے کے ماہر ہیں ، سپن کے لئے موزوں وکٹ پر انہیں کھیلنا آسان نہیں ہوتا، اسی طرح محمد حفیظ بھی اکثر اوقات اپنی نپی تلی بائولنگ سے مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارا فاسٹ بائولنگ اٹیک البتہ خاصا مایوس کن ہے۔ بیٹنگ کے لئے موزوں وکٹوں پر تو وہ بالکل ہی غیر موثر ثابت ہوتے ہیں۔ عمر گل اپنا پرائم ٹائم گزار چکے ہیں، اب وہ سہیل تنویر کی طرح اوسط سے کم درجے کے بائولر بن گئے ہیں۔ مخالف بلے بازوں کی غلطی سے کوئی وکٹ مل جائے تو الگ بات ہے ، ورنہ وہ انہیں تنگ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں۔ وہ اتنی سادہ سی بات بھی نہیں جانتے کہ ان کی سپیڈ اب کم ہوچکی ہے اور شارٹ پچ کرانے سے خود ان کی پٹائی ہوگی۔ عمر گل کی اب ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ جنید خان نے بھی اپنے مداحین کو مایوس ہی کیا ہے، ان میں عمدہ کارکردگی دکھانے کی صلاحیت ہے، مگر انہوں نے شائد یہ طے کر رکھا ہے کہ سال میں ایک دو بار ہی میچ وننگ پرفارمنس دی جائے اور باقی میچوں میں اوسط درجے کی بائولنگ کرائی جائے۔ بلاول بھٹی نوجوان فاسٹ بائولر ہیں، ان کے پاس سپیڈ ہے ،مگر انہیں ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنا دماغ اور مہارت استعمال کئے بغیر پرفارم نہیں کیا جاسکتا،اگر محنت نہ کی تووہ ٹیم سے مستقل بنیادوں پر آئوٹ ہوجائیں گے۔ انور علی باصلاحیت کھلاڑی ہیں، مگر انہیں بھی سمجھنا ہوگا کہ صرف بطور آل رائونڈر ان کی جگہ نہیں بن سکتی، انہیں دس اوورز کرانے اور وکٹیں لینے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔محمد طلحہ بھی اس ٹورنامنٹ میں کچھ غیرمعمولی کارکردکی نہیں دکھا پائے،اس کی ایک وجہ تو سلو پچز بھی ہیں، مگر فاسٹ بائولرز کو ہرپچ کے حساب سے بائولنگ کرنی سیکھنا چاہیے۔ ڈیتھ اوورز میں پاکستان کے پاس کوئی موثر بائولر نہیں رہا۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس کا حل نکالنا ہوگا۔ سری لنکا کو اکیلے مالنگا نے دو تین اہم میچ جتوائے۔ ہمارے بائولرز لگتا ہے آخری اوورز میں یارکر کرانا بھول چکے ہیں، وہ شارٹ بالز کراتے اور مسلسل چوکے چھکے کھاتے ہیں۔ بائولنگ کوچ محمد اکرم کی صلاحیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان پیدا ہوچکا ہے۔ ان کی افادیت نظر نہیں آرہی۔ افسوس کی بات ہے کہ وقار یونس جیسا بائولر بنگلہ دیشی بائولروں کو سکھائے اور پاکستان اپنے قابل فخر فرزند سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اگر پاکستان نے ٹاپ تھری ٹیموں میں آنا ہے تو اچھے فاسٹ بائولر تلاش کرنے اور انہیں مواقع دینے ہوں گے۔ ہمارا ٹاپ آرڈر اس ٹورنامنٹ میں ایک بار پھر نہیں چل سکا۔ اوپنر کا مسئلہ دوبارہ سامنے آگیا۔ شرجیل خان کو تواتر کے ساتھ مواقع دئیے جا رہے ہیں، مگر محسوس ہوتا ہے کہ تکنیکی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ ان میں ٹمپرامنٹ کا بھی ایشو ہے۔ فائنل میں صہیب مقصود کو ڈراپ کر کے انہیں موقعہ دیا گیا اور انہوں نے غیرذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا۔ ایک کلب لیول کا اوپنر بھی ایسی غلطی نہیں کرے گا۔جب وہ مالنگا جیسے بائولر کو پانچ گیندوں میں دو چوکے مار چکے ہیں تو پھر ایک اورجارحانہ شاٹ کھیل کر وکٹ گنوانے کی کیا تک تھی؟ انہیں قطعی اندازہ نہیں تھا کہ یہ میچ کس قدر اہم ہے اور اچھا سٹارٹ ٹیم کی ضرورت ہے۔ جارحانہ کھیلنا ان کا نیچرل انداز ہے تو اپنی تکنیک بھی بہتر کریں، صرف خواہشات سے آدمی کرس گیل یا میکولم نہیں بن سکتا۔ احمد شہزاد نہایت باصلاحیت کھلاڑی ہیں، وہ اچھا کھیلتے بھی رہے ،مگر انہیں اپنی یکسوئی کو مزید بہتر کرنا ہوگا۔ محمد حفیظ کے حوالے سے ہمیں ایک بات اب واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ وہ ٹیسٹ فارمیٹ میں تو بالکل ہی مس فٹ ہیں،جبکہ ون ڈے فارمیٹ میں بھی وہ ٹاپ آرڈر پر کھیلنے کے قابل نہیں۔ موصوف کی تکنیک انتہائی کمزور ہے، وہ اکثر شاٹس کھڑے کھڑے پیر ہلائے بغیر کھیلتے ہیں، ذرا سا گیند سوئنگ ہو تو وہ سلپ میں کیچ تھما کر رخصت ہوجاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ عرب امارات جیسی سلو بیٹنگ پچز پر رنز کر لیتے ہیں،مگر پاکستان نے ہمیشہ یہیں تو نہیں کھیلنا۔ اگلا ورلڈ کپ آسٹریلیا میں ہے اوروہاں پروفیسر حفیظ کا جو حال بنے گا، وہ ابھی سے ہر ایک کو معلوم ہے۔ وہ اچھے فیلڈر اور اچھے پارٹ ٹائم بائولر ہیں، چھٹے بائولر کے طور پر ان کی جگہ بنتی ہے، مگر انہیں پانچویں یا چھٹے نمبر پر آنا چاہیے۔ مصباح الحق اگرچہ ٹورنامنٹ میں دو بار رن آئوٹ ہوئے بلکہ کرائے گئے ،مگر انہوں نے اپنی افادیت ثابت کی۔ فائنل میں وہ اگر وکٹ پر ٹھیر کر فواد عالم کے ساتھ اچھی پارٹنر شپ نہ بناتے تو ٹیم کا حال انڈر نائنٹین ورلڈ کپ کے فائنل جیسا ہوجانا تھا، جہاں پاکستانی ٹیم ڈیڑھ سو سے کم میں آئوٹ ہوگئی۔ مصباح کو اب نمبر تین کے لئے کوئی اچھا بلے باز ڈھونڈنا ہوگا۔ صہیب مقصود اس کے لئے فٹ ہیں کہ ان کی تکنیک اچھی ہے، آسٹریلیاکی پچوں پر وہ کامیاب ہوسکتے ہیں، انہیں اپنے ٹمپرامنٹ پر قابو پانا اور وکٹ پرٹھیرنا سیکھنا ہوگا۔ مصباح کو نمبر چار ہی پر کھیلنا چاہیے۔فواد عالم کے آنے سے مڈل آرڈر میں لیفٹ ہینڈڈ بلے باز کی کمی پوری ہوگئی۔ فواد نے بڑی محنت سے پرفارم کیا۔ ان کی تکنیک میں خاصی کمزوریاں تھیں، تین چار سال فرسٹ کلاس کھیل کر انہوں نے کچھ حد تک ان پر قابو پالیا ،مگر انہیں ابھی اچھی کوچنگ کی ضرورت ہے۔وہ شفل زیادہ کرتے ہیں، کسی تیز پچ پر اچھے فاسٹ بائولر کے سامنے یہ پریشان کن ثابت ہوگا، مچل جانسن، سٹین یا جیمز اینڈرسن جیسے فاسٹ بائولرز کو کھیلنے کے لئے انہیں اپنی تکنیک پر مزید کام کرنا ہوگا۔ فواد کی مضبوطی ان کا ٹمپرامنٹ اور سنگل ڈبل رنز لینے کی صلاحیت ہے، وہ وکٹ پر ٹھیر سکتے ہیں، پاکستان کو ایسے بلے بازوں کی ضرورت ہے۔ عمر اکمل نے عمدہ کارکردگی دکھائی، وکٹ کیپر کم بلے باز کا رول ان کے لئے انتہائی فٹ ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد کئی ماہ کا وقفہ ہے، اس دوران انہیں اپنی کیپنگ بہتر کرنی چاہیے، راشد لطیف جیسے کھلاڑی سے انہیں ٹپس لینے چاہئیں۔ عمر اکمل کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دونوں ذمہ داریاں انہیں ہی اٹھانی ہیں، جیسے راہول ڈریوڈ جیسے عظیم بلے باز نے اپنی ٹیم کے لئے برسوں ایسا کیا، یا ڈی ویلیئرزایسا کر رہے ہیں۔سنگا کارا اس عمر میں وکٹ کیپنگ کر سکتے ہیں تو عمر اکمل تو ان سے بہت چھوٹے اور ابھی نوجوان ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ ویسے شاہد آفریدی کا رہا، انہوں نے اپنی کرشمہ ساز بیٹنگ سے سب کو محظوظ کیا اور خاصے عرصے کے لئے اپنی جگہ مستحکم کر لی۔ آفریدی کوچاہیے کہ وہ اب صرف اپنے کھیل پر توجہ دیں اور باقاعدہ اعلان کر دیں کہ مجھے کپتانی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کے دوست ،خصوصاً میڈیا میں موجود ایک لابی بظاہر ان کے حق میں مگر حقیقتاً ان کو نقصان پہنچانے والی تحریک چلاتی ہے۔ جیسے ہی وہ کسی میچ میں اچھی کارکردگی دکھائیں، فوراً ہی ان کے دوست مہم چلانے لگتے ہیں کہ تینوں فارمیٹس کے لئے الگ الگ ٹیمیں بنائی جائیں۔ اس مطالبے کا واحد مقصد یہی ہوتا ہے کہ مصباح کو ون ڈے کپتانی سے ہٹایا جائے اور آفریدی کو کپتان بنایا جائے۔ مصباح نے اپنی کپتانی کو ثابت کیا ہے، وہ تسلسل سے رنز کر رہے ہیں، ٹیم کوا نہوں نے متحد کر دیا ہے، ان پر دفاعی کپتان کا الزام ہے ،مگر معین خان کے کوچ ہونے سے ٹیم کے مزاج میں خود بخود جارحیت آجائے گی۔ مصباح کو ون ڈے ٹیم کی کپتانی سے ہٹانے کا مطالبہ قومی ٹیم کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ آفریدی کو اپنی تمام تر توجہ کھیل پر لگانی چاہیے، انہیں قدرت نے کسی بھی کپتان سے زیادہ شہرت اور مقبولیت دے رکھی ہے، اپنے معیار کو برقرار رکھنا ہی ان کے لئے اصل چیلنج ہونا چاہیے۔ پاکستانی فیلڈنگ ہمیشہ کی طرح اس ٹورنامنٹ میں بھی ناقص رہی۔ نئے فیلڈنگ کوچ سے اتنا جلد کسی کرشمے کی توقع نہیں کرنی چاہیے، مگر پاکستان کو ورلڈ کپ کی تیاریوں میں سب سے زیادہ اہمیت فیلڈنگ کو دینی چاہیے۔ پاکستانی ٹیم کا ایک بڑا مثبت پہلو اس ٹورنامنٹ میں ایک بار پھر واضح ہوا ہے، وہ ہے فائیٹ بیک کرنے کی صلاحیت۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیم نے کئی میچز میں فائیٹ بیک کیا، دو ہارے ہوئے میچز جیتے اور فائنل کے سوا ہر میچ میںمخالف ٹیم کو ٹف ٹائم دیا۔ ٹیم کی لوئر مڈل آرڈر نے بھی دبائو میں رنز کئے، افغانستان کے خلاف میچ میں عمر اکمل نے شاندار سنچری بنائی ، فائنل میں مصباح، فواد عالم اور عمر اکمل نے اچھا پرفارم کیا اور فائٹنگ ٹوٹل دیا۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں شاہد آفریدی نے کرشمہ کر دکھایا، مگر بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں احمد شہزاد اور فواد عالم نے بھی اپنا پورا حصہ ڈالا۔ سری لنکا کے خلاف پہلے میچ میں ٹیم نے آخر تک فائٹ کی۔ یہ وہ چیز ہے جو پاکستانی ٹیم میں پہلے زیادہ نظر نہیں آتی تھی۔ اس کا کریڈٹ ٹیم،کپتان اور کوچ کو دینا چاہیے۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چاند پر بسے گا انسانوں کا پہلا شہر!

چاند پر بسے گا انسانوں کا پہلا شہر!

20ارب ڈالر کا قمری شہر،ناسا کا انقلابی منصوبہامریکی خلائی ادارہ ناسا آئندہ چند برسوں میں چاند کی سطح پر ایک مستقل انسانی بستی یا ''قمری شہر‘‘ (Lunar City)بسائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد چاند پر طویل المدت انسانی موجودگی کو ممکن بنانا، سائنسی تحقیق کو فروغ دینا اور مستقبل میں مریخ سمیت مزید دور دراز خلائی مشنوں کیلئے بنیاد فراہم کرنا ہے۔ 2032ء تک 20 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا ناسا کا چاند پر اڈہ کیسا نظر آئے گا؟ اس منصوبے کے تحت چاند کی سطح پر رہائش، سائنسی تحقیق اور وسائل کے استعمال کیلئے جدید سہولیات پر مشتمل مستقل ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قمری بستی رہائشی ماڈیولز، تحقیقی لیبارٹریوں، توانائی کے مراکز اور زیر زمین محفوظ پناہ گاہوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ سائنس فکشن کی کسی کہانی کا حصہ محسوس ہوتا ہے، لیکن ناسا نے صرف چھ سال کے اندر چاند پر ایک شہر نما اڈہ تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین(Jarred Isaacman) نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ 20 ارب ڈالر مالیت کے اس قمری اڈے کے ابتدائی مشن رواں سال ہی شروع کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس منصوبے کو ''انسانی تاریخ کی سب سے جرات مندانہ انجینئرنگ اور تحقیقی کوششوں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دوبارہ چاند کی طرف لوٹ رہا ہے، لیکن اس بار وہاں مستقل قیام کیلئے۔آئزک مین نے قمری کالونی کے قیام کیلئے ایک تفصیلی لائحہ عمل بھی پیش کیا، جس میں تین مراحل پر مشتمل ٹائم لائن دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا ہدف 2032ء تک چاند پر ایک مستقل انسانی بستی قائم کرنا ہے۔ بالآخر اس اڈے میں متعدد عمارتیں شامل ہوں گی جو سیکڑوں مربع میل کے رقبے پر پھیلی ہوں گی۔ یہ سب کچھ ایسے ماحول میں تعمیر کیا جائے گا جسے دنیا کے انتہائی دشوار اور خطرناک ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔چاند جیسے غیر موافق حالات میں انسانی بستی تعمیر کرنے کے چیلنج پر بات کرتے ہوئے آئزک مین نے کہا کہ یہ قمری اڈہ جتنا خوبصورت ہو گا، اتنا ہی خطرناک بھی ہوگا۔ہم ایک ایسے سفر کا آغاز کر رہے ہیں جو غیر معمولی حد تک مشکل ہے۔ نصف صدی قبل اپالو مشنز کے دوران خلا بازوں نے چاند کی سطح پر مجموعی طور پر صرف 80 گھنٹے گزارے تھے، اس لیے ہم اب بھی چاند کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔پہلا مرحلہقمری اڈے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ، جسے ''سیکھو، آزماؤ اور تعمیر کرو‘‘کا نام دیا گیا ہے، رواں سال کے آخر میں شروع ہوگا اور 2029 ء تک جاری رہے گا۔آئندہ تین برسوں کے دوران ناسا کا ہدف تجارتی نوعیت کے قمری مشنز کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ممکنہ لینڈنگ مقامات کا جائزہ لیا جا سکے اور نئی ٹیکنالوجی کو آزمایا جا سکے۔قمری تحقیق کا یہ نیا دور اس سال خزاں کے موسم سے پہلے شروع نہیں ہوگا، جب جیف بیزوس کی کمپنی ''بلیو اوریجن‘‘ اپنا ''بلیو مون مارک1‘‘ لینڈر ''اینڈیورنس‘‘ (Endurance) چاند کی جانب روانہ کرے گی۔یہ لینڈر چاند کے جنوبی قطب کے قریب واقع شیکلٹن کریٹر کے کنارے پر اترے گا، جہاں یہ سائنسی آلات پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنی لینڈنگ صلاحیتوں کا بھی عملی امتحان دے گا۔اس کے بعد 2026ء کے آخری مہینوں میں ناساایک روور کو چاند پر بھیجے گا۔اس ابتدائی مرحلے کے اختتام تک ناسا کا منصوبہ ہے کہ مون فال ہیلی کاپٹر ڈرونز اور بغیر انسان کے چلنے والے روورز کے ایک بیڑے کو استعمال کرتے ہوئے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پانی، برف اور دیگر قدرتی وسائل کی تلاش کی جائے۔دوسرا مرحلہ2029ء سے 2032ء کے دوران ناسا منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گا، جسے ''ابتدائی رہائش‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں پہلی مرتبہ انسانی عملے کو چاند کی سطح پر رہنے کیلئے بھیجا جائے گا۔اس دوران 24 چکروں میں تقریباً 60 ٹن سامان اور آلات چاند تک پہنچائے جائیں گے، جن کی مدد سے مجوزہ قمری اڈے کے بنیادی ڈھانچے اور ابتدائی سہولیات کی تعمیر مکمل کی جائے گی، جو مستقبل میں انسانی بستی کی بنیاد بنیں گی۔ناسا کے مطابق قمری اڈے کو مستقل اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنے کیلئے وہاں ایٹمی پلانٹ بھی نصب کیے جائیں گے۔ یہ نظام چاند پر قائم ہونے والی بستی کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ خلا بازوں کو ایسی روورز بھی فراہم کی جائیں گی جن کی مدد سے وہ اپنے خلائی لباس اتار کر 30 دن تک آرام دہ ماحول میں رہتے ہوئے چاند کے جنوبی قطبی علاقے کی کھوج کر سکیں گے۔تیسرا مرحلہ2032ء میں ناسا منصوبے کے آخری مرحلے ''مستقل انسانی موجودگی‘‘ میں داخل ہوگا، جس کے تحت چاند پر ایک مستقل اڈہ قائم کیا جائے گا۔ جہاں باقاعدگی سے عملے کی تبدیلی، مستقل رہائش اور مکمل بنیادی ڈھانچہ موجود ہو گا۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ ہم مہارت، عزم اور واضح مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ وہ مشن مکمل کر سکیں جو صرف ناسا ہی انجام دے سکتا ہے۔ناسا کے مطابق چاند پر قائم کیا جانے والا یہ اڈہ آرٹیمس پروگرام کے خلا بازوں کیلئے مرکزی مرکز کی حیثیت رکھے گا، جہاں طویل مدت تک قیام، جدید روبوٹک اور انسانی سرگرمیوں کا فروغ اور چاند کی سطح پر مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔مون بیس کے قیام کے بعد آرٹیمس مشن کے خلا باز زیادہ عرصے تک چاند پر رہ سکیں گے، مزید دور دراز علاقوں کی کھوج کر سکیں گے اور ایسی سائنسی تحقیق انجام دے سکیں گے جو خود خلائی تحقیق کو نئی جہتیں فراہم کرے گی۔

عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں

عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں

ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں سمندروں کی اہمیت، ان کے تحفظ اور آبی ماحول کو درپیش خطرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے، جبکہ کرہ ارض پر موجود آکسیجن کا نصف سے زیادہ حصہ سمندری نباتات کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر انسانی زندگی، موسمی نظام اور عالمی معیشت کیلئے نہایت اہم حیثیت رکھتے ہیں۔سمندر صرف پانی کے وسیع ذخائر ہی نہیں بلکہ لاکھوں اقسام کے جانداروں کا مسکن بھی ہیں۔ مچھلیاں، وہیل، ڈولفن، کچھوے، مرجان اور بے شمار دیگر آبی مخلوقات سمندروں میں زندگی گزارتی ہیں۔ دنیا کے کروڑوں افراد اپنی خوراک، روزگار اور تجارت کیلئے سمندروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہی گیری، بحری نقل و حمل، سیاحت اور معدنی وسائل کی فراہمی میں سمندروں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔بدقسمتی سے آج سمندر متعدد خطرات سے دوچار ہیں۔ پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال سمندری حیات کیلئے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں جا پہنچتا ہے، جس سے آبی جانور متاثر ہوتے ہیں اور ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بہت سے سمندری پرندے اور مچھلیاں پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت واقع ہو جاتی ہے۔عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ بھی سمندروں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری پانی گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث مرجانی چٹانیں تباہ ہو رہی ہیں اور کئی آبی انواع کے قدرتی مسکن متاثر ہو رہے ہیں۔ سمندروں کی سطح بلند ہونے سے ساحلی علاقوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سمندروں کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ساحلوں کی صفائی، ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنا اور سمندری وسائل کا دانشمندانہ استعمال انفرادی سطح پر کیے جانے والے مؤثر اقدامات ہیں۔سمندروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف آج کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ اگر ہم نے ان کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ماحولیاتی توازن، انسانی صحت اور عالمی معیشت سب متاثر ہوں گے۔

برین ٹیومر کا عالمی دن

برین ٹیومر کا عالمی دن

دماغی رسولی: خاموش مگر سنگین بیماریجدید طبی سائنس کی بے شمار ترقیوں کے باوجود برین ٹیومر آج بھی ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ بیماری تصور کی جاتی ہے، جس کے علاج اور تشخیص کیلئے مسلسل تحقیق جاری ہے۔برین ٹیومر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے، اس بیماری کی بروقت تشخیص کی اہمیت اجاگر کرنے اور اس مرض میں مبتلا افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے کیلئے ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں برین ٹیومر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔برین ٹیومر دراصل دماغ یا اس کے ارد گرد موجود بافتوں میں غیر معمولی خلیات کی نشؤونما کو کہا جاتا ہے۔ یہ رسولی سومی (Benign) بھی ہو سکتی ہے اور سرطانی (Malignant) بھی۔ اگرچہ ہر برین ٹیومر کینسر نہیں ہوتا، تاہم دماغ کے حساس حصوں پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کا اثر نہ صرف مریض کی جسمانی صحت پر پڑتا ہے بلکہ اس کی ذہنی، جذباتی اور سماجی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔برین ٹیومر کی علامات رسولی کے سائز، نوعیت اور مقام کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ مسلسل یا شدید سر درد، بینائی میں دھندلا پن، چکر آنا، متلی، یادداشت کی کمزوری، بولنے میں دشواری، جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا سن ہونا اور دورے پڑنا اس بیماری کی نمایاں علامات میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے بعض اوقات لوگ ان علامات کو عام بیماریوں سے منسوب کر کے نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق برین ٹیومر کی بروقت تشخیص مریض کے علاج اور صحت یابی کے امکانات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ جدید دور میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور دیگر تشخیصی طریقوں کی مدد سے دماغی رسولیوں کا نسبتاً جلد پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ علاج کیلئے سرجری، ریڈی ایشن تھراپی، کیمو تھراپی اور بعض جدید ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ اگرچہ برین ٹیومر کی وجوہات مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم ماہرین بعض جینیاتی عوامل، تابکاری کے زیادہ اثرات اور خاندانی طبی تاریخ کو ممکنہ خطرات میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود زیادہ تر مریضوں میں بیماری کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی، جس کی وجہ سے اس شعبے میں مزید تحقیق کی ضرورت برقرار ہے۔برین ٹیومر کا عالمی دن اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو صرف طبی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی تعاون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بیماری کی تشخیص کے بعد مریض اکثر خوف، بے یقینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاندان، دوستوں اور معاشرے کی جانب سے حوصلہ افزائی اور تعاون ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔

ٹوکیو ٹاور:جاپان کا فلک بوس شاہکار

ٹوکیو ٹاور:جاپان کا فلک بوس شاہکار

ٹوکیو ٹاور مواصلاتی ذرائع کا ایک بلند ٹاور ہے جو ٹوکیو کے علاقے شیبا پارک میں بنایا گیا ہے۔ اس ٹاور کی تعمیر جون 1957ء میں شروع ہوئی اور 23 دسمبر 1958ء کو یہ ٹاور مکمل ہوا۔ اس کی بلندی 1091 فٹ ہے۔ یہ ٹاور جب مکمل ہوا تو جاپان کا بلند ترین ٹاور تھا اور دُنیا میں ماسکو ٹی وی ٹاور بننے کے بعد یہ دوسرے نمبر پر آگیا پھر جب ٹورنٹو کاٹی وی ٹاور مکمل ہوا تو یہ بلندی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آ گیا۔ اب بھی ٹوکیوٹاور جاپان میں دوسرے نمبر پر ہے کیونکہ ٹوکیو ہی میں سکائی ٹری ٹاور بھی ہے۔ جس کی بلندی 2080 فٹ ہے۔اس ٹاور کا ڈیزائن پیرس کے ایفل ٹاور کے ڈیزائن سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا اور یہ ٹاور ایفل ٹاور سے بھی سو فٹ بلند ہے۔ بین الاقوامی شہری ہوا بازی کے اُصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ٹاور کو سفید اور نارنجی سرخی مائل رنگوں سے روغن کیا گیا ہے۔ اس ٹاور کے دو پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں۔ پہلا پلیٹ فارم 490 فٹ کی بلندی پر بنایا گیا ہے۔ اس پر ریستوران، سٹور موجود ہیںجبکہ گرائونڈ پر میوزیم بھی بنایا گیا ہے۔ اسی فلور پر بار کا ماڈل بھی موجود ہے جسے راقم نے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ اس ٹاور کا دوسرا پلیٹ فارم 820 فٹ کی بلندی پر بنایا گیا ہے۔ جہاں پر شہر اور آسمان کا نظارہ کرنے کیلئے فلکیاتی رصد گاہ بنائی گئی ہے۔ راقم الحروف کو پہلی مرتبہ 1985ء میں اس ٹاور پر جانے کا موقع ملا۔ سارا شہر، پرانا ہوائی اڈا اور بندرگاہ نظروں کے سامنے تھے۔ یہاں سے مائونٹ فیوجی بھی نظر آتا ہے۔ اتنا مزہ آتا ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس ٹاور کو دیکھنے کیلئے آنے والے سیاحوں کا شوق دیدنی ہوتا ہے۔ صبح آٹھ بجے ہی ٹکٹ کے حصول کیلئے لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اس ٹاور کے بننے سے لے کر تاحال کوئی 20 کروڑ سے زائد سیاح اس ٹاور کو دیکھنے کیلئے آ چکے ہیں۔ اس ٹاور کا سب سے بڑا ذریعہ آمدنی سیاحوں ہی سے حاصل ہوتا ہے۔اس ٹاور کے اُوپر اور اطراف میں کئی درجن ریڈیو، ٹی وی، ٹیلی مواصلات، ٹریفک کنٹرول اور موسم کی دیکھ بھال کے آلات اور انٹینا نصب ہیں۔جو دور سے پرندوں کے گھونسلوں اور بھڑوں کے چھتوں کی مانند لگتے ہیں۔ یہاں پر لگے ہوئے آلات کی مدد سے شہر میں ٹریفک کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ شہر میں چلتی ہوئی سب وے ٹرینوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ ان انٹینوں اور آلات کی تنصیب سے بھی ٹاور کی انتظامیہ کو خاطر خواہ آمدنی ہوتی ہے۔ 1945ء میں جنگ عظیم دوم کی ہزیمت کے بعد جاپان کو یہ محسوس ہوا کہ جنگ سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ سرا سر نقصان ہی نقصان ہے۔ تو حکومت نے بعد میں سارے ٹینک اور توپوں کو فیکٹریوں میں ڈھال کر یہ یاد گاری ٹاور کھڑا کر دیا۔ لہٰذا اس ٹاور کو جنگ عظیم دوم کی ایک یاد گار بھی کہا جاسکتا ہے۔ 1958 ء میں جب ٹوکیوٹاور مکمل ہوا تو یقینا یہ شہر کی خوبصورتی میں ایک گرا نقدر اضافہ ثابت ہوا۔ اس ٹاور کی بناوٹ اس قدر مضبوط ہے کہ یہ بڑے سے بڑے زلزلے کو جس کی طاقت 10 ریکٹر سکیل سے اوپر ہو برداشت کر سکتا ہے اور 220 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائوں کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے۔ مختلف تہواروں پر مختلف رنگوں کی روشنیوں سے ٹاور کو منور کیا جاتاہے۔ جس سے اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس ٹاور کی خوبصورت تصویریں بنانے کے لیے راقم کو ٹاور سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر پیچھے ہٹنا پڑاتب جا کر کیمرے کے فوکس میں مکمل تصویر آسکی۔ اس کے اوپررنگ و روغن کیلئے 28ہزار لیٹر روغن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہالی وڈکی کئی فلموں کے علاوہ مشہور زمانہ فلم ''کنگ کانگ کی واپسی ‘‘ جیسی فلموں کی بھی اس ٹاور پر عکاسی کی جاچکی ہے۔

 چارپائی اور کلچر

چارپائی اور کلچر

چارپائی ایک ایسی خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہے جو نئے تقاضوں اور ضرورتوں سے عہدہ برا ہونے کیلئے نت نئی چیزیں ایجاد کرنے کی قائل نہ تھی۔ بلکہ ایسے نازک مواقع پر پرانی میں نئی خوبیاں دریافت کرکے مسکرا دیتی تھی۔ اس عہدکی رنگارنگ مجلسی زندگی کا تصور چارپائی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کا خیال آتے ہی ذہن کے اُفق پر بہت سے سہانے منظر ابھر آتے ہیں۔ اجلی اجلی ٹھنڈی چادریں، خس کے پنکھی، کچی مٹی کی سن سن کرتی کوری صراحیاں، چھڑکاؤ سے بھیگی زمین کی سوندھی سوندھی لپٹ اور آم کے لدے پھندے درخت جن میں آموں کے بجائے لڑکے لٹکے رہتے ہیں اور ان کی چھاؤں میں جوان جسم کی طرح کسی کسائی ایک چارپائی جس پر دن بھر شطرنج کی بساط یارمی کی پھڑجمی اور جو شام کو دسترخوان بچھاکر کھانے کی میز بنا لی گئی۔ذرا غور سے دیکھئے تو یہ وہی چارپائی ہے جس کی سیڑھی بناکر سگھڑ بیویاں مکڑی کے جالے اور چلبلے لڑکے چڑیوں کے گھونسلے اتارتے ہیں۔ اسی چارپائی کو وقت ضرورت پٹیوں سے بانس باندھ کر اسٹیریچر بنا لیتے ہیں اور بجوگ پڑ جائے تو انھیں بانسوں سے ایک دوسرے کو اسٹیریچر کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مریض جب کھاٹ سے لگ جائے تو تیماردار مؤخرالذِکر کے وسط میں بڑا سا سوراخ کرکے اول الذِکر کی مشکل آسان کر دیتے ہیں۔اسی پر بیٹھ کر مولوی صاحب قمچی کے ذریعہ اخلاقیات کے بنیادی اصول ذہن نشین کراتے ہیں۔ اسی پر نومولود بچے غاؤں غاؤں کرتی، چندھیائی ہوئی آنکھیں کھول کر اپنے والدین کو دیکھتے ہیں اور روتے ہیں اور اسی پر دیکھتے ہی دیکھتے اپنے پیاروں کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بعض حضرات اس مضمون کو چارپائی کا پرچہ ترکیب استعمال سمجھ لیں گے تو اس ضمن میں کچھ اور تفصیلات پیش کرتا۔ لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کر چکا ہوں، یہ مضمون اس تہذیبی علامت کا قصیدہ نہیں، مرثیہ ہے۔ تاہم بہ نظراحتیاط اتنی وضاحت ضروری ہے کہ:ہم اس نعمت کے منکر ہیں نہ عادینام کی مناسبت سے پائے اگر چار ہوں تو مناسب ہے ورنہ اس سے کم ہوں، تب بھی خلق خدا کے کام بند نہیں ہوتے۔ اسی طرح پایوں کے حجم اور شکل کی بھی تخصیص نہیں۔ انھیں سامنے رکھ کر آپ غبی سے غبی لڑکے کو اقلیدس کی تمام شکلیں سمجھا سکتے ہیں اوراس مہم کو سر کرنے کے بعد آپ کو احساس ہوگا کہ ابھی کچھ شکلیں ایسی رہ گئی ہیں جن کا صرف اقلیدس بلکہ تجریدی مصوری میں بھی کوئی ذکر نہیں۔ دیہات میں ایسے پائے بہت عام ہیں جو آدھے پٹیوں سے نیچے اور آدھے اوپر نکلے ہوتے ہیں۔ ایسی چارپائی کا الٹا سیدھا دریافت کرنے کی آسان ترکیب یہ ہے کہ جس طرف بان صاف ہووہ ہمیشہ ''اُلٹا‘‘ ہو گا۔ راقم الحروف نے ایسے انگھڑپائے دیکھے ہین جن کی ساخت میں بڑھئی نے محض یہ اصول مدنظر رکھا ہوگا کہ بسولہ چلائے بغیر پیڑ کو اپنی قدرتی حالت میں جوں کاتوں پٹیوں سے وصل کر دیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہماری نظر سے خراد کے بنے ایسے سڈول پائے بھی گزرے ہیں جنھیں چوڑی دار پاجامہ پہنانے کو جی چاہتا ہی۔ اس قسم کے پایوں سے نٹو مرحوم کو جو والہانہ عشق رہا ہوگا اس کا اظہار انھوں نے اپنے ایک دوست سے ایک میم کی حسین ٹانگیں دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں کیا۔ کہنے لگے ''اگر مجھے ایسی چار ٹانگیں مل جائیں تو انھیں کٹواکر اپنے پلنگ کے پائے بنوا لوں۔‘‘غور کیجئے تو مباحثے اور مناظرے کیلئے چارپائی سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ اس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ فریقین آمنے سامنے نہیں بلکہ عموماً اپنے حریف کی پیٹھ کا سہارا لے کر آرام سے بیٹھتے ہیں اور بحث وتکرار کیلئے اس سے بہتر طرزنشست ممکن نہیں، کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کی صورت نظر نہ آئے تو کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے۔ اسی بنا پر میرا عرصے سے یہ خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی مذکرات گول میز پرنہ ہوئے ہوتے تو لاکھوں جانیں تلف ہونے سے بچ جاتیں۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ لدی پھندی چارپائیوں پر لوگ پیٹ بھرکے اپنوں کی غیبت کرتے ہیں مگر دل برے نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ سبھی جانتے ہیں کہ غیبت اسی کی ہوتی ہے جسے اپنا سمجھتے ہیں اور کچھ یوں بھی ہے کہ ہمارے ہاں غیبت سے مقصود قطع محبت ہے نہ گزارش احوال واقعہ بلکہ محفل میں ''لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘‘۔لوگ گھنٹوں چارپائی پر کسمساتے رہتے ہیں مگر کوئی اٹھنے کا نام نہیں لیتا۔ اس لیے کہ ہر شخص اپنی جگہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر وہ چلا گیا تو فوراً اس کی غیبت شروع ہو جائے گی۔ چنانچہ پچھلے پہر تک مرد ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈالے بحث کرتے ہیں اور عورتیں گال سے گال بھڑائے کچر کچر لڑتی رہتی ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ مرد پہلے بحث کرتے ہیں، پھر لڑتے ہیں۔ عورتیں پہلے لڑتی ہیں اور بعدمیں بحث کرتی ہیں۔ مجھے ثانی الذکر طریقہ زیادہ معقول نظر آتا ہے، اس لیے کہ اس میں آئندہ سمجھوتے اور میل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

خلائی شٹل اٹلانٹس کی روانگی2007ء میں آج کے روز امریکی خلائی شٹل اٹلانٹس کو مشن '' ایس ٹی ایس 117‘‘ کے تحت خلا میں روانہ کیا گیا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک اہم سازوسامان پہنچانا اور اس کی تعمیر و توسیع کے کام میں حصہ لینا تھا۔ اٹلانٹس اپنے ساتھ دو ٹرس (Truss) حصے اور شمسی توانائی پیدا کرنے والے بڑے سولر پینل لے کر گیا، جنہیں خلائی اسٹیشن کے ڈھانچے میں نصب کیا گیا۔ ان اضافوں سے خلائی اسٹیشن کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور مجموعی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔کوئلے کی کان میں حادثہ8جون 2008ء کو مشرقی یوکرین کے شہر یناکائیو میں کوئلے کی کان گرنے کا خوفناک حادثہ پیش آیا ۔گیس پائپ میں دھماکے کی وجہ سے کان گری جس کے نتیجے میں37کان کن زمین سے533میٹر نیچے گہرائی میں پھنس گئے۔ اس حادثے نے کان میں موجود کان کنوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ کان کی سطح پر آگ بھڑکنے سے وہاں موجود افراد کو بھی نقصان پہنچا۔ اس واقعے کو یوکرین کے بدترین صنعتی حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔کراچی ائیر پورٹ پر حملہ8 جون 2014ء کو کراچی ائیر پورٹ پر دہشت گردوحملہ ہوا۔سکیورٹی فورسز نے 10 دہشت گردوں کو کارروائی کر کے ہلاک کر دیا جبکہ اس دوران26افراد شہید،18زخمی ہوئے۔ یہ پاکستان میںہونے والے بدترین دہشت گرو حملوں میں سے ایک تھا۔ اس کے بعد ملک بھر کے ائیر پورٹس کی سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیااور ائیر پورٹ پر آنے والوں کیلئے نئے قوانین کا اطلاق کیا گیا۔امیکسیل جنگ کے اثرات8جون1663ء کو امیکسیل کی جنگ پرتگالیوں اورہسپانیوں کے درمیان لڑی گئی۔ سپین میں اس جنگ کو ایسٹریموز کی لڑائی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سپین کا پرتگال پر یہ سب سے کامیاب حملہ تھاجس کے نتیجے میں سپین کی افواج نے پرتگال کا جنوب مغرب کا ایک بڑا حصہ حاصل کر لیا لیکن یہ قبضہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکا اور پرتگالیوں نے مزاحمت کرکے اسی جنگ کے نتیجے میں سپین سے آزادی حاصل کی۔برازیل :فضائی حادثہ فلائٹ 168، بوئنگ 727، ساؤپالو سے فورٹالیزا( برازیل) کیلئے ایک طے شدہ مسافر پرواز تھی جو 8 جون 1982ء کو فورٹالیزا میں اترتے ہوئے دھند کے باعث ایک پہاڑی کے کنارے سے ٹکرا گئی۔ جس کے نتیجے میں جہازمیں سوار تمام 137 افراد ہلاک ہو گئے۔ فلائٹ 168 کا حادثہ ہلاکتوں کے حساب سے 20 ویں صدی کے برازیل کے فضائی حادثات میں تیسرا بڑا حادثہ تھا۔''وینس ٹرانزٹ‘‘2004ء میں سیارہ زہرہ (وینس) کا سورج کے سامنے سے گزرنے کا نادر فلکیاتی منظر، جسے ''وینس ٹرانزٹ‘‘کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں دیکھا گیا۔ یہ واقعہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے بعد رونما ہوا، کیونکہ اس سے قبل آخری مرتبہ 1882ء میں وینس ٹرانزٹ دیکھا گیا تھا۔ اس دوران زہرہ ایک چھوٹے سیاہ نقطے کی صورت میں سورج کی قرص کے سامنے سے گزرتا ہوا دکھائی دیا۔