شکست سے بھی سیکھاجاسکتا ہے

شکست سے بھی سیکھاجاسکتا ہے

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد عامر خاکوانی


الگ الگ فارمیٹ کے لئے ٹیمیں بنانے کا شوشا تباہ کن ثابت ہوگا، مصباح کو ورلڈ کپ تک ون ڈے کپتان رہنا چاہیے ***********ایشیا کپ نہ جیتنے کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں نے ثابت کر دیا کہ انہیں عالمی کرکٹ میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا*********** ایشیا کپ کا ٹورنامنٹ تمام ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں اگرچہ پاکستانی ٹیم فائنل نہیں جیت سکی،مگر بہرحال ان کی کارکردگی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت بہرحال یہ ہے کہ سری لنکا کی ٹیم یہ ٹورنامنٹ جیتنے کی مستحق تھی، اس نے تینوں شعبوں میں پاکستان سے اچھی کارکردگی دکھائی بلکہ اس ٹورنامنٹ کی ہر ٹیم سے بہت بہتر۔ ہر ٹورنامنٹ کی طرح اس میں بھی پاکستانی ٹیم کے لئے پلس مائنس موجود ہیں، کچھ مثبت چیزیں ظاہر ہوئی ہیں تو خاصی کمزوریاں بھی واضح ہوگئیں۔ ٹیم مینجمنٹ اور کرکٹ بورڈ کو ان تمام چیزوں کا جائزہ لینا ہوگا اور جلداز جلد بہتری لانی ہوگی، خوش قسمتی سے ہمارے پاس ابھی کچھ وقت ہے۔ چند دنوں بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ شروع ہونے والا ہے،تاہم ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضے قدرے مختلف ہیں ۔ اصل چیلنج ہمارے سامنے چار پانچ ماہ بعد آئے گا، جب عرب امارات میں آسٹریلوی ٹیم سے ٹاکرا ہوگا اور اس سے زیادہ بڑاا ور سخت چیلنج آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں کھیلے جانیوالاورلڈ کپ ہوگا۔ سب سے کمزورچیز اس ٹورنامنٹ میں سامنے آئی، وہ ہماری بائولنگ لائن ہے۔ ایک عرصے سے یہ تاثر عام تھاکہ پاکستان کی بائولنگ مضبوط ہے اور اسی کے ذریعے ہم میچز جیتتے ہیں۔افسوس کہ یہ اب ماضی کا قصہ ہوگیا۔ موجودہ پاکستانی بائولنگ اٹیک میں وہ قوت، تیزی اور ضرب لگانے کی صلاحیت نہیں ،جو ہمارے ماضی کے بائولروں کا خاصہ تھی۔ اگر سعید اجمل غیرمعمولی کارکردگی نہ دکھائیں تو بائولنگ مزید ایکسپوز ہوجائے۔ ہمارے سپنر پھر بھی نسبتاً بہتر ہیں، شاہد آفریدی بریک تھرو دینے کے ماہر ہیں ، سپن کے لئے موزوں وکٹ پر انہیں کھیلنا آسان نہیں ہوتا، اسی طرح محمد حفیظ بھی اکثر اوقات اپنی نپی تلی بائولنگ سے مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارا فاسٹ بائولنگ اٹیک البتہ خاصا مایوس کن ہے۔ بیٹنگ کے لئے موزوں وکٹوں پر تو وہ بالکل ہی غیر موثر ثابت ہوتے ہیں۔ عمر گل اپنا پرائم ٹائم گزار چکے ہیں، اب وہ سہیل تنویر کی طرح اوسط سے کم درجے کے بائولر بن گئے ہیں۔ مخالف بلے بازوں کی غلطی سے کوئی وکٹ مل جائے تو الگ بات ہے ، ورنہ وہ انہیں تنگ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں۔ وہ اتنی سادہ سی بات بھی نہیں جانتے کہ ان کی سپیڈ اب کم ہوچکی ہے اور شارٹ پچ کرانے سے خود ان کی پٹائی ہوگی۔ عمر گل کی اب ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ جنید خان نے بھی اپنے مداحین کو مایوس ہی کیا ہے، ان میں عمدہ کارکردگی دکھانے کی صلاحیت ہے، مگر انہوں نے شائد یہ طے کر رکھا ہے کہ سال میں ایک دو بار ہی میچ وننگ پرفارمنس دی جائے اور باقی میچوں میں اوسط درجے کی بائولنگ کرائی جائے۔ بلاول بھٹی نوجوان فاسٹ بائولر ہیں، ان کے پاس سپیڈ ہے ،مگر انہیں ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنا دماغ اور مہارت استعمال کئے بغیر پرفارم نہیں کیا جاسکتا،اگر محنت نہ کی تووہ ٹیم سے مستقل بنیادوں پر آئوٹ ہوجائیں گے۔ انور علی باصلاحیت کھلاڑی ہیں، مگر انہیں بھی سمجھنا ہوگا کہ صرف بطور آل رائونڈر ان کی جگہ نہیں بن سکتی، انہیں دس اوورز کرانے اور وکٹیں لینے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔محمد طلحہ بھی اس ٹورنامنٹ میں کچھ غیرمعمولی کارکردکی نہیں دکھا پائے،اس کی ایک وجہ تو سلو پچز بھی ہیں، مگر فاسٹ بائولرز کو ہرپچ کے حساب سے بائولنگ کرنی سیکھنا چاہیے۔ ڈیتھ اوورز میں پاکستان کے پاس کوئی موثر بائولر نہیں رہا۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس کا حل نکالنا ہوگا۔ سری لنکا کو اکیلے مالنگا نے دو تین اہم میچ جتوائے۔ ہمارے بائولرز لگتا ہے آخری اوورز میں یارکر کرانا بھول چکے ہیں، وہ شارٹ بالز کراتے اور مسلسل چوکے چھکے کھاتے ہیں۔ بائولنگ کوچ محمد اکرم کی صلاحیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان پیدا ہوچکا ہے۔ ان کی افادیت نظر نہیں آرہی۔ افسوس کی بات ہے کہ وقار یونس جیسا بائولر بنگلہ دیشی بائولروں کو سکھائے اور پاکستان اپنے قابل فخر فرزند سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اگر پاکستان نے ٹاپ تھری ٹیموں میں آنا ہے تو اچھے فاسٹ بائولر تلاش کرنے اور انہیں مواقع دینے ہوں گے۔ ہمارا ٹاپ آرڈر اس ٹورنامنٹ میں ایک بار پھر نہیں چل سکا۔ اوپنر کا مسئلہ دوبارہ سامنے آگیا۔ شرجیل خان کو تواتر کے ساتھ مواقع دئیے جا رہے ہیں، مگر محسوس ہوتا ہے کہ تکنیکی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ ان میں ٹمپرامنٹ کا بھی ایشو ہے۔ فائنل میں صہیب مقصود کو ڈراپ کر کے انہیں موقعہ دیا گیا اور انہوں نے غیرذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا۔ ایک کلب لیول کا اوپنر بھی ایسی غلطی نہیں کرے گا۔جب وہ مالنگا جیسے بائولر کو پانچ گیندوں میں دو چوکے مار چکے ہیں تو پھر ایک اورجارحانہ شاٹ کھیل کر وکٹ گنوانے کی کیا تک تھی؟ انہیں قطعی اندازہ نہیں تھا کہ یہ میچ کس قدر اہم ہے اور اچھا سٹارٹ ٹیم کی ضرورت ہے۔ جارحانہ کھیلنا ان کا نیچرل انداز ہے تو اپنی تکنیک بھی بہتر کریں، صرف خواہشات سے آدمی کرس گیل یا میکولم نہیں بن سکتا۔ احمد شہزاد نہایت باصلاحیت کھلاڑی ہیں، وہ اچھا کھیلتے بھی رہے ،مگر انہیں اپنی یکسوئی کو مزید بہتر کرنا ہوگا۔ محمد حفیظ کے حوالے سے ہمیں ایک بات اب واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ وہ ٹیسٹ فارمیٹ میں تو بالکل ہی مس فٹ ہیں،جبکہ ون ڈے فارمیٹ میں بھی وہ ٹاپ آرڈر پر کھیلنے کے قابل نہیں۔ موصوف کی تکنیک انتہائی کمزور ہے، وہ اکثر شاٹس کھڑے کھڑے پیر ہلائے بغیر کھیلتے ہیں، ذرا سا گیند سوئنگ ہو تو وہ سلپ میں کیچ تھما کر رخصت ہوجاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ عرب امارات جیسی سلو بیٹنگ پچز پر رنز کر لیتے ہیں،مگر پاکستان نے ہمیشہ یہیں تو نہیں کھیلنا۔ اگلا ورلڈ کپ آسٹریلیا میں ہے اوروہاں پروفیسر حفیظ کا جو حال بنے گا، وہ ابھی سے ہر ایک کو معلوم ہے۔ وہ اچھے فیلڈر اور اچھے پارٹ ٹائم بائولر ہیں، چھٹے بائولر کے طور پر ان کی جگہ بنتی ہے، مگر انہیں پانچویں یا چھٹے نمبر پر آنا چاہیے۔ مصباح الحق اگرچہ ٹورنامنٹ میں دو بار رن آئوٹ ہوئے بلکہ کرائے گئے ،مگر انہوں نے اپنی افادیت ثابت کی۔ فائنل میں وہ اگر وکٹ پر ٹھیر کر فواد عالم کے ساتھ اچھی پارٹنر شپ نہ بناتے تو ٹیم کا حال انڈر نائنٹین ورلڈ کپ کے فائنل جیسا ہوجانا تھا، جہاں پاکستانی ٹیم ڈیڑھ سو سے کم میں آئوٹ ہوگئی۔ مصباح کو اب نمبر تین کے لئے کوئی اچھا بلے باز ڈھونڈنا ہوگا۔ صہیب مقصود اس کے لئے فٹ ہیں کہ ان کی تکنیک اچھی ہے، آسٹریلیاکی پچوں پر وہ کامیاب ہوسکتے ہیں، انہیں اپنے ٹمپرامنٹ پر قابو پانا اور وکٹ پرٹھیرنا سیکھنا ہوگا۔ مصباح کو نمبر چار ہی پر کھیلنا چاہیے۔فواد عالم کے آنے سے مڈل آرڈر میں لیفٹ ہینڈڈ بلے باز کی کمی پوری ہوگئی۔ فواد نے بڑی محنت سے پرفارم کیا۔ ان کی تکنیک میں خاصی کمزوریاں تھیں، تین چار سال فرسٹ کلاس کھیل کر انہوں نے کچھ حد تک ان پر قابو پالیا ،مگر انہیں ابھی اچھی کوچنگ کی ضرورت ہے۔وہ شفل زیادہ کرتے ہیں، کسی تیز پچ پر اچھے فاسٹ بائولر کے سامنے یہ پریشان کن ثابت ہوگا، مچل جانسن، سٹین یا جیمز اینڈرسن جیسے فاسٹ بائولرز کو کھیلنے کے لئے انہیں اپنی تکنیک پر مزید کام کرنا ہوگا۔ فواد کی مضبوطی ان کا ٹمپرامنٹ اور سنگل ڈبل رنز لینے کی صلاحیت ہے، وہ وکٹ پر ٹھیر سکتے ہیں، پاکستان کو ایسے بلے بازوں کی ضرورت ہے۔ عمر اکمل نے عمدہ کارکردگی دکھائی، وکٹ کیپر کم بلے باز کا رول ان کے لئے انتہائی فٹ ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد کئی ماہ کا وقفہ ہے، اس دوران انہیں اپنی کیپنگ بہتر کرنی چاہیے، راشد لطیف جیسے کھلاڑی سے انہیں ٹپس لینے چاہئیں۔ عمر اکمل کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دونوں ذمہ داریاں انہیں ہی اٹھانی ہیں، جیسے راہول ڈریوڈ جیسے عظیم بلے باز نے اپنی ٹیم کے لئے برسوں ایسا کیا، یا ڈی ویلیئرزایسا کر رہے ہیں۔سنگا کارا اس عمر میں وکٹ کیپنگ کر سکتے ہیں تو عمر اکمل تو ان سے بہت چھوٹے اور ابھی نوجوان ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ ویسے شاہد آفریدی کا رہا، انہوں نے اپنی کرشمہ ساز بیٹنگ سے سب کو محظوظ کیا اور خاصے عرصے کے لئے اپنی جگہ مستحکم کر لی۔ آفریدی کوچاہیے کہ وہ اب صرف اپنے کھیل پر توجہ دیں اور باقاعدہ اعلان کر دیں کہ مجھے کپتانی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کے دوست ،خصوصاً میڈیا میں موجود ایک لابی بظاہر ان کے حق میں مگر حقیقتاً ان کو نقصان پہنچانے والی تحریک چلاتی ہے۔ جیسے ہی وہ کسی میچ میں اچھی کارکردگی دکھائیں، فوراً ہی ان کے دوست مہم چلانے لگتے ہیں کہ تینوں فارمیٹس کے لئے الگ الگ ٹیمیں بنائی جائیں۔ اس مطالبے کا واحد مقصد یہی ہوتا ہے کہ مصباح کو ون ڈے کپتانی سے ہٹایا جائے اور آفریدی کو کپتان بنایا جائے۔ مصباح نے اپنی کپتانی کو ثابت کیا ہے، وہ تسلسل سے رنز کر رہے ہیں، ٹیم کوا نہوں نے متحد کر دیا ہے، ان پر دفاعی کپتان کا الزام ہے ،مگر معین خان کے کوچ ہونے سے ٹیم کے مزاج میں خود بخود جارحیت آجائے گی۔ مصباح کو ون ڈے ٹیم کی کپتانی سے ہٹانے کا مطالبہ قومی ٹیم کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ آفریدی کو اپنی تمام تر توجہ کھیل پر لگانی چاہیے، انہیں قدرت نے کسی بھی کپتان سے زیادہ شہرت اور مقبولیت دے رکھی ہے، اپنے معیار کو برقرار رکھنا ہی ان کے لئے اصل چیلنج ہونا چاہیے۔ پاکستانی فیلڈنگ ہمیشہ کی طرح اس ٹورنامنٹ میں بھی ناقص رہی۔ نئے فیلڈنگ کوچ سے اتنا جلد کسی کرشمے کی توقع نہیں کرنی چاہیے، مگر پاکستان کو ورلڈ کپ کی تیاریوں میں سب سے زیادہ اہمیت فیلڈنگ کو دینی چاہیے۔ پاکستانی ٹیم کا ایک بڑا مثبت پہلو اس ٹورنامنٹ میں ایک بار پھر واضح ہوا ہے، وہ ہے فائیٹ بیک کرنے کی صلاحیت۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیم نے کئی میچز میں فائیٹ بیک کیا، دو ہارے ہوئے میچز جیتے اور فائنل کے سوا ہر میچ میںمخالف ٹیم کو ٹف ٹائم دیا۔ ٹیم کی لوئر مڈل آرڈر نے بھی دبائو میں رنز کئے، افغانستان کے خلاف میچ میں عمر اکمل نے شاندار سنچری بنائی ، فائنل میں مصباح، فواد عالم اور عمر اکمل نے اچھا پرفارم کیا اور فائٹنگ ٹوٹل دیا۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں شاہد آفریدی نے کرشمہ کر دکھایا، مگر بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں احمد شہزاد اور فواد عالم نے بھی اپنا پورا حصہ ڈالا۔ سری لنکا کے خلاف پہلے میچ میں ٹیم نے آخر تک فائٹ کی۔ یہ وہ چیز ہے جو پاکستانی ٹیم میں پہلے زیادہ نظر نہیں آتی تھی۔ اس کا کریڈٹ ٹیم،کپتان اور کوچ کو دینا چاہیے۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 جدید ٹیکنالوجی کا کمال دنیا کا مضبوط ترین سوٹ کیس متعارف

جدید ٹیکنالوجی کا کمال دنیا کا مضبوط ترین سوٹ کیس متعارف

یہ بیگ ''الٹرا میٹرکس‘‘ نامی مادے سے تیار کیا گیا ہےجدید دور میں سفر محض ایک ضرورت نہیں بلکہ طرزِ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، تاہم مسافروں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ آج بھی خراب، ٹوٹے پھوٹے یا ضائع ہونے والے سامان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ آئے روز ایئرپورٹس پر مسافر اپنے نقصان زدہ سوٹ کیس دیکھ کر شکوہ کرتے نظر آتے ہیں، جس سے نہ صرف مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ سفر کی خوشی بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ ایسے میں ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے کہ معروف کمپنی ''ماؤس‘‘ (Mous) نے ایک ایسا سوٹ کیس متعارف کرایا ہے جو انتہائی سخت حالات میں بھی محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔''ماؤس‘‘ کا متعارف کرایا گیا سوٹ کیس سفر کے سخت ترین حالات میں برسوں تک قائم رہنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ جدید طرز کا سخت خول والا بیگ ''الٹرا میٹرکس‘‘ (UltraMatrix) نامی خاص مادے سے تیار کیا گیا ہے، جو ایک مضبوط پولی پروپلین کمپوزٹ ہے اور اصل میں ہوابازی کے شعبے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔کمپنی کے مطابق، پولی پروپلین کے ریشوں کو غیر معمولی مضبوطی کیلئے کھینچ کر سیدھا کیا جاتا ہے، پھر انہیں بُن کر اور حرارت کے ذریعے جوڑ کر ایک واحد کمپوزٹ شیٹ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس میں نہ کوئی گوند استعمال ہوتی ہے، نہ ریزن اور نہ ہی کوئی کمزور جوڑ ہوتا ہے۔یہ مضبوط ڈھانچہ دباؤ پڑنے پر ٹوٹنے کے بجائے لچک اختیار کرتا ہے، ضرب کی توانائی کو پھیلا دیتا ہے اور دوبارہ اپنی اصل شکل میں آ جاتا ہے۔یہ انتہائی درجہ حرارت میں بھی مضبوط رہتا ہے، سردی میں ٹوٹنے سے محفوظ اور گرمی میں نرم ہونے سے مزاحمت رکھتا ہے۔ اس سوٹ کیس کو آخری درجے کے امتحان سے گزارنے کیلئے ماؤس نے اسے ہوائی جہاز کی کھڑکی سے باہر پھینکا اور حیران کن طور پر یہ صرف چند خراشوں کے ساتھ محفوظ رہا۔ماؤس کمپنی عام طور پر اپنے مضبوط فون کیسز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے، تاہم حالیہ عرصے میں کمپنی نے بیگز اور سامانِ سفر کے شعبے میں بھی قدم رکھا ہے۔ پہلے بیک پیکس کی ایک رینج متعارف کرائی گئی اور اب سخت خول والا سوٹ کیس پیش کیا گیا ہے۔کمپنی کے مطابق، زیادہ تر ہارڈ شیل سوٹ کیس ایک ہی انداز میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ موٹے اور بھاری خول جو چند بار گرنے کے بعد پھٹ جاتے ہیں، ہلتے ڈولتے ہینڈلز، شور مچانے والے پہیے اور ایسے زِپ جو دباؤ برداشت نہیں کر پاتے۔ماؤس کا کہنا ہے کہ سفر ویسے ہی ایک مشکل عمل ہے، ایسے میں یہ مناسب نہیں کہ سوٹ کیس بھی ساتھ چھوڑ دے۔ اسی لیے کمپنی نے ہائی پرفارمنس فون کیسز اور دیگر سازوسامان کی تیاری سے حاصل ہونے والا تمام تجربہ استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا سوٹ کیس تیار کیا ہے جو مایوس نہ کرے۔ الٹرا میٹرکس خول نہ صرف انتہائی مضبوط ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر ہلکا بھی ہے۔ درحقیقت پورے سوٹ کیس کا وزن صرف چھ پاؤنڈ (تقریباً 2.8 کلوگرام) ہے۔اکثر مسافر جانتے ہیں کہ سوٹ کیس کے مرکزی جسم کے علاوہ پہیے اور ہینڈلز سب سے پہلے خراب ہوتے ہیں۔ اسی مسئلے سے بچنے کیلئے ماؤس نے اپنے سوٹ کیس میں اعلیٰ معیار کے ہینوموٹو پہیے اور 46 حصوں پر مشتمل مضبوط ٹیلی اسکوپک ہینڈل استعمال کیا ہے، جو کم شور، کم ہلچل اور ہموار چلنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔''ماؤس ‘‘کو اپنے اس سوٹ کیس کی مضبوطی پر اس قدر اعتماد ہے کہ کمپنی ابتدائی خریداروں کو تاحیات وارنٹی فراہم کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سوٹ کیس اس وقت کوڑے دان میں چلے جاتے ہیں جب ان کا کوئی پہیہ یا ہینڈل ٹوٹ جاتا ہے، لیکن ہمارا سوٹ کیس ایسا نہیں ہوگا۔ اہم حصے جیسے پہیے، ہینڈل، لاک اور بیج گھر پر ہی ایک سادہ پیچ کس کی مدد سے بدلے جا سکتے ہیں۔ دیگر بیشتر مسائل کیلئے کمپنی کی محدود تاحیات وارنٹی 25 سال تک مرمت یا تبدیلی کی سہولت فراہم کرے گی۔ ماؤس کا ہارڈ شیل کیبن سوٹ کیس اس وقت پری آرڈر کیلئے دستیاب ہے، جس کی قیمت 319.99 پائونڈ مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس کی ترسیل مئی 2026ء میں متوقع ہے۔یہ جدید سوٹ کیس اپنی مضبوطی، پائیداری اور انقلابی ڈیزائن کے باعث عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکا ہے، حتیٰ کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ہوائی جہاز سے باہر پھینکے جانے کے باوجود بھی نقصان سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف سفر کے تجربے کو محفوظ بنانے کی جانب اہم قدم ہے بلکہ سامان کی تیاری کے شعبے میں ایک نئی سوچ اور جدت کی عکاس بھی ہے۔

کریملن :روسی طاقت، تاریخ اور سیاست کا عظیم استعارہ

کریملن :روسی طاقت، تاریخ اور سیاست کا عظیم استعارہ

دنیا کے چند ایسے مقامات ہیں جو اپنی عظمت، تاریخی گہرائی اور سیاسی وقار کے باعث صدیوں سے عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اور کریملن ان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ماسکو کے قلب میں واقع یہ عظیم الشان قلعہ نما مجموعہ صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ روس کی تاریخ، اقتدار اور قومی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کریملن کا نام سنتے ہی ذہن میں روسی ریاستی طاقت، سیاسی فیصلوں اور عالمی سفارت کاری کی ایک طویل داستان ابھر آتی ہے۔کریملن کی بنیاد پندرھویں صدی میں رکھی گئی، جب ماسکو روسی ریاست کے مرکز کے طور پر ابھر رہا تھا۔ ابتدا میں یہ لکڑی کے قلعے کی صورت میں موجود تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسے پتھر اور اینٹوں سے مضبوط قلعے میں تبدیل کیا گیا۔ مختلف روسی بادشاہوں اور حکمرانوں نے اس کی توسیع اور آرائش میں اپنا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں آج یہ ایک شاندار تاریخی و ثقافتی ورثہ بن چکا ہے۔کریملن نامی شہر ماسکو کے اندر واقع ہے۔ اس کے نام کا مطلب ہے ''شہر کی حفاظت کرنے والا قلعہ‘‘۔یہ نام ان دنوں کی یاد دلاتا ہے جب شہروں کو ڈیزائن کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف دفاع کو مدنظر رکھنا ایک اہم نظریہ تصور کیا جاتا تھا۔ 14 ویں صدی میں جیسے ہی ماسکو کی اہمیت میں اضافہ ہوا ویسے ہی کریملن کی ا ہمیت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کی شاندار تعمیرات کا بیشتر حصہ 15ویں صدی کے اختتام پر منظر عام پر آیا جب تعمیر نو کا کام وسیع پیمانے پر شروع ہوا۔آج کا کریملن متوازی دیواروں کے اندر واقع ہے جن کی حفاظت میناروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اونچا ترین مینار 73.15 میٹر(240 فٹ) بلند ہے۔کریملن کے اندر کئی اہم عمارتیں واقع ہیں، جن میں عظیم کریملن محل، آرمری چیمبر اور متعدد گرجا گھر شامل ہیں۔ کیتھیڈرل اسکوائر میں موجود گرجا گھر روسی آرتھوڈوکس چرچ کی مذہبی تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں، جہاں صدیوں تک تاج پوشی کی تقریبات انجام دی جاتی رہیں۔ یہ عمارتیں نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ فن تعمیر کے لحاظ سے بھی بے مثال ہیں۔کریملن کا سیاسی کردار بھی غیر معمولی رہا ہے۔ زاروں کے دور سے لے کر سوویت یونین اور موجودہ روسی فیڈریشن تک، یہ مقام اقتدار کا مرکز رہا ہے۔ آج بھی روسی صدر کا سرکاری دفتر کریملن میں واقع ہے، جس کے باعث یہ عالمی سیاست کا ایک اہم محور بن چکا ہے۔ یہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف روس بلکہ دنیا بھر کے حالات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کریملن اپنی مضبوط دیواروں اور بلند و بالا برجوں کے باعث دفاعی نقطٔ نظر سے بھی ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے سرخ رنگ کے برج ماسکو کی پہچان بن چکے ہیں۔ سیاح جب ریڈ اسکوائر سے کریملن کی جانب نگاہ ڈالتے ہیں تو انہیں روسی تاریخ کی عظمت کا واضح احساس ہوتا ہے۔ یہاں موجود عجائب گھر، تاریخی ہتھیار، شاہی لباس اور قیمتی نوادرات روسی تہذیب و تمدن کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ آرمری چیمبر میں محفوظ تاج، تخت اور شاہی جواہرات سیاحوں کو ماضی کے شاہانہ دور میں لے جاتے ہیں۔کریملن کی عمارات میں زیادہ متاثر کن عمارت گرینڈ کریملن پیلس ہے جس کی تعمیر نو 1838-39ء میں سر انجام دی گئی تھی کیونکہ 1812ء کی آتشزدگی کے دوران یہ جل گیا تھا اور یہ وہ آتشزدگی تھی جس کی بنا پر اہل روس فرانسیسی حملہ آوروں کو اپنے ملک سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ محلات کے ہال زاروں کے دربار کی شان و شوکت کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ سینٹ جارج ہال میں روس کے عظیم ہیروجات کے نام پتھر کی میزوں پر کندہ ہیں۔ اس ہال کا فرش بیس مختلف اقسام کی لکڑیوں سے بنا ہوا ہے۔یوں کریملن محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخ ہے، جو روس کے عروج و زوال، اس کی جدوجہد اور اس کی عالمی حیثیت کی داستان سناتی ہے۔ یہ مقام آج بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے اور آنے والی نسلوں کو روسی تاریخ کی عظمت سے روشناس کرا رہا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے! غیور اختر ہر فن مولا اداکار (2014-1945ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! غیور اختر ہر فن مولا اداکار (2014-1945ء)

٭...5اکتوبر 1945ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔٭... فنی کریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے 1968ء میں کیا۔ ٭...ریڈیو پر ان کا پہلا ڈرامہ ''چھمکاں‘‘تھا جسے پروڈیوسر محمد اعظم خان نے ریکارڈ کیا تھا جو 17مئی 1968ء کو نشر کیا گیا۔٭...ریڈیو سے ان کا رشتہ تادم مرگ قائم رہا اور2011ء میں فالج کے حملے کے باوجود وہ ریڈیو پاکستان پر اپنی خدمات فراہم کرتے رہے۔ ٭... پی ٹی وی سکرین پر ان کی آمد مقبول ترین ڈرامہ سیریز ''الف نون‘‘ میں ایک کردار سے ہوئی۔ ٭...ٹی وی پر شہرت ڈرامہ سیریل ''سونا چاندی‘‘ سے ملی۔اس شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل میں انہوں نے ایک ڈرائیور کا کردار اس خوبصورتی سے نبھایا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا۔ ٭...بچوں کے کھیل ''عینک والا جن‘‘میں ان کے ''سامری جادوگر‘‘کے کردار کو بھی بے پناہ پذیرائی ملی۔ ٭...150 کے قریب ٹی وی ڈرامہ سیریلز اور 2000 کے قریب انفرادی ڈراموں میں کام کیا۔٭...ان کے مقبول ڈراموں میں ''خواجہ اینڈ سنز‘‘، ''افسر بے کار خاص‘‘، ''فری ہٹ‘‘ اور ''گھر آیا میرا پردیسی ‘‘ نمایاں ہیں۔ ٭... ان کے تکیہ کلام''او ہو ہو‘‘اور''اللہ خیر بیڑے پار‘‘ آج بھی لوگوں میں مقبول ہیں۔٭...1976ء میں اداکار عرفان کھوسٹ نے انہیں ڈرامہ ''حقہ پگ تے ریسٹورنٹ‘‘ سے تھیٹر پر متعارف کرایا۔٭...فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے، انہوں نے اپنے دور کے مایہ ناز ہدایتکاروں وحید ڈاراور شباب کیرانوی کے ساتھ فلمیں کیں۔ ٭... 2008ء میں انہیں صدارتی ایوارڈ ''تمغہ برائے حسن کارکردگی ‘‘ سے نوازا گیا۔٭...45سالہ کریئر میں نہ صرف اداکاری کی بلکہ بطور مصنف، ڈائریکٹر ، پروڈیوسراور صدا کار کے طور پر بھی کام کیا۔٭...2011ء میں ان پر فالج کا حملہ ہوا اور7فروری 2014ء میں ان کا انتقال ہوا، بلڈ پریشر کا مرض ان کی موت کی وجہ بنا۔

آج کا دن

آج کا دن

جبل الطارق کامحاصرہ 1783ء میں امریکی جنگ آزادی کے آخری مرحلے کے دوران فرانس اور اسپین کی مشترکہ افواج نے برطانیہ کے زیر قبضہ علاقے جبل الطارق کا طویل محاصرہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ محاصرہ تقریباً چار برس تک جاری رہا، جس کا مقصد برطانیہ کو کمزور کرناتھا۔ اگرچہ اتحادی افواج نے بھرپور کوششیں کیں، لیکن برطانوی دفاعی حکمت عملی، مضبوط قلعہ بندی اور بحری مدد کے باعث جبل الطارق ان کے ہاتھ میں ہی رہا۔ خلائی چہل قدمی7 فروری 1984ء کو ناسا کے خلائی شٹل پروگرام کے تحت ایس ٹی ایس41بی مشن کے دوران خلا باز بروس مکینڈلس دوم اور رابرٹ ایل اسٹیورٹ نے تاریخ کی پہلی کسی رسی یا تار کے بغیر خلائی چہل قدمی انجام دی۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے مینڈ مینیوورنگ یونٹ (MMU) نامی خصوصی جیٹ پیک استعمال کیا، جو خلا باز کو خلا میں سمت اور رفتار پر مکمل کنٹرول فراہم کرتا تھا۔ دنیا کے گرد چکر لگانے کا ریکارڈ2005ء میں برطانوی خاتون ایلن میک آرتھر نے سمندری بادبان کے ذریعے سب سے کم وقت میں دنیا کے گرد چکر لگا کر ریکارڈ قائم کیا۔ایلن نے 27 ہزار354 میل کا فاصلہ 71 دن، 14 گھنٹے ،18 منٹ اور 33 سیکنڈ میں طے کیا۔اس سے پہلے یہ ریکارڈ فرانس کے جویون نے 2004ء میں بنایا تھا انہوں مقررہ فاصلہ 72 دن ، 22 گھنٹے 54 منٹ، بائیس سیکنڈ میں مکمل کیا تھا۔ولادمیرنذر آتش ہوامنگولوں نے روسی شہر ولادمیر کو آگ لگا دی۔ منگول جنگجو یورپ کی طرف بڑھنے لگے توسب سے پہلے انہوں نے دریائے وُلگا کے علاقے پر حملہ کِیا۔ پھر انہوں نے دیگر روسی شہروں پر چڑھائی کی۔اس کے بعد منگولوں نے پیشکش کی کہ اگر انہیں روسی شہروں میں موجود تمام مال کا دسواں حصہ دیا جائے تو وہ اِن کو تباہ نہیں کریں گے لیکن روسیوں نے لڑنے کا فیصلہ کِیا۔ لہٰذا، منگولوں نے منجنیکوںکے ذریعے شہر پر پتھراور مٹی کا تیل برسایا۔ گریناڈاآزاد ہواکیریبین جزائر کا ملک گریناڈا نے 1974ء میں آج کے روز برطانیہ سے آزادی حاصل کی ۔اس کی سرکاری زبان انگریزی ہے جبکہ دارالحکومت سینٹ جارجز ہے جو اس ملک کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ یہ ملک 344 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔گریناڈا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے اپنی افواج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ گریناڈا کی کوئی فوج نہیں لیکن یہ دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک ہے اور یہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔یہاں کے شہری اکثر اپنے گھر کا دروازہ ہی لاک نہیں کرتے۔ گریناڈا کی پولیس ہے لیکن وہ بھی اسلحے کے بغیر گشت کرتی ہے۔ بلجئیم میں آئین کا نفاذبلجئیم شمال مغربی یورپ میں واقع ایک آزاد ملک ہے۔1831ء میں آج کے روز بلجئیم میں آئین کا نفاذ ہوا۔ اس کا سرکاری نام مملکت بلجئیم ہے۔ یورپی یونین کی یورپی پارلیمان اور نیٹو کے مرکزی دفاتر بلجئیم کے دارالحکومت برسلز میں قائم ہیں۔ اس کی شمالی سرحد نیدرلینڈز سے، مشرقی سرحد جرمنی سے، جنوب مشرقی سرحد لکسمبرگ سے اور جنوب مشرقی سرحد فرانس سے ملتی ہے۔ اس کے شمال مغرب میں بحیرہ شمال واقع ہے۔ یہ ایک خود مختار ریاست ہے جس میں آئینی بادشاہت قائم ہے اور اس کا طرز حکومت پارلیمانی ہے۔

50سال بعد انسان پھر چاند کی طرف گامزن

50سال بعد انسان پھر چاند کی طرف گامزن

ناسا کےArtemis IIمشن کی حتمی تیاریاںامریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 1972ء کے بعد پہلی مرتبہ انسانوں کو چاند کے قریب لے جانے والے تاریخی مشن کی عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ناسا نےArtemis II مشن کے لیے باقاعدہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دیا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ انسانوں کی چاند کی جانب واپسی اب محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ حقیقت کے قریب پہنچ چکی ہے۔یہ مشن نہ صرف امریکی خلائی تاریخ بلکہ پوری انسانیت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ اپالو پروگرام کے بعد پہلا موقع ہوگا جب انسان زمین کے مدار سے نکل کر چاند کے قریب پہنچیں گے۔ اپالو 17 کے بعد 1972ء میں چاند پر انسانی قدموں کا سلسلہ رک گیا تھا اور اب نصف صدی سے زائد عرصے بعد Artemis پروگرام اس خواب کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن کیوں ضروری ہے؟ناسا کی جانب سے شروع کیا گیا یہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن دراصل ایک مکمل ویٹ ڈریس ریہرسل ہے جس میں لانچ کے تمام مراحل کو اصل مشن کی طرح انجام دیا جاتا ہے۔ راکٹ کو انتہائی سرد ایندھن سے بھرا جاتا ہے، کاؤنٹ ڈاؤن گھڑی چلتی ہے اور صرف چند سیکنڈ پہلے اسے روکا جاتا ہے۔اس مشق کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ راکٹ اور سپیس کرافٹ کے تمام نظام درست کام کر رہے ہیں یا نہیں،عملہ، کنٹرول روم اور زمینی ٹیم میں ہم آہنگی موجود ہے یا نہیں،نیز یہ کہ کسی ممکنہ تکنیکی یا موسمی مسئلے کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ ناسا کے مطابق یہی مشقیں کسی بھی بڑے خلائی حادثے سے بچاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔Artemis پروگرام: چاند سے مریخ تکArtemis پروگرام دراصل ناسا کا وہ طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے مقاصد یہ ہیں کہ انسانوں کو چاند تک لے جایا جائے، وہاں مستقل انسانی موجودگی کی بنیاد رکھی جائے،اور پھر اسی تجربے کی بنیاد پر مریخ تک انسانی سفر ممکن بنایا جائے۔Artemis I ایک غیر انسانی مشن تھا جو 2022 ء میں کامیابی سے مکمل ہوا۔Artemis II پہلا مشن ہے جس میں انسان شامل ہوں گے، جبکہArtemis III میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔Artemis II مشن کیا کرے گا؟یہ مشن چاند پر لینڈنگ نہیں کرے گا بلکہ چار خلا باز Orion سپیس کرافٹ میں سوار ہوں گے،چاند کے گرد مخصوص مدار میں سفر کریں گے،خلامیں انسانی جسم، نظام اور آلات کی کارکردگی کو جانچا جائے گااور پھر زمین پر بحفاظت واپس آئیں گے۔ یہ مرحلہ اس لیے ضروری ہے تاکہ چاند پر اترنے سے پہلے تمام خطرات اور تکنیکی چیلنجز کو سمجھا جا سکے۔عملہ اور بین الاقوامی تعاونArtemis II کے عملے میں چار خلا باز شامل ہیں جن میں ایک کینیڈین خلا باز بھی ہے۔ یہ مشن بین الاقوامی خلائی تعاون کی علامت ہے جو مستقبل میں مزید عالمی شراکت داری کی راہیں ہموار کرے گا۔لانچ سے قبل خلا بازوں کو کوارنٹائن میں رکھا گیا ہے تاکہ وہ کسی بیماری یا انفیکشن سے محفوظ رہیں کیونکہ خلامیں معمولی صحت کا مسئلہ بھی بڑے خطرے میں بدل سکتا ہے۔موسمی چیلنجز اور ممکنہ تاخیرناسا نے واضح کیا ہے کہ فلوریڈا میں سرد موسم کے باعث لانچ شیڈول میں معمولی تبدیلی ممکن ہے۔ خلائی مشنز میں موسم نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ تیز ہوائیں، درجہ حرارت یا نمی لانچ کو خطرناک بنا سکتی ہے۔ اسی لیے ناساکسی بھی صورت میں جلد بازی کے بجائے محفوظ لانچ کو ترجیح دے رہا ہے۔دنیا کیلئے اس مشن کی اہمیتیہ مشن صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات عالمی سطح پر ہوں گے۔یہ جدید خلائی ٹیکنالوجی میں پیش رفت،سائنسی تحقیق کے نئے مواقع،چاند پر وسائل (پانی، معدنیات) کی تلاش اورمستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مشن اس بات کی بھی علامت ہے کہ انسان اب خلاء￿ کو صرف تحقیق نہیں بلکہ مستقبل کی بقا کے ایک راستے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔Artemis II مشن انسانیت کے خلائی سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف ماضی کے اپالو مشنز کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ مستقبل کے ان خوابوں کو بھی حقیقت کے قریب لاتا ہے جن میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور مریخ پر قدم رکھنا شامل ہے۔ اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو آنے والی دہائیوں میں خلاانسان کے لیے ایک نیا گھر بن سکتا ہے۔

میانی کا جنگل نوآبادیاتی دور کا خاموش گواہ

میانی کا جنگل نوآبادیاتی دور کا خاموش گواہ

حیدرآباد شہر سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع میانی کا جنگل سندھ کی تاریخ، فطری حسن اور نوآبادیاتی عہد کی یادوں کا ایک منفرد استعارہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 1843ء میں تالپرمیروں اور انگریزوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ لڑی گئی جو دوبے کی جنگ کے نام سے معروف ہے۔ یہ جنگ17 فروری سے 24مارچ تک جاری رہی۔ اس معرکے میں جنرل میر جان محمد خان تالپر کے ساتھ ہوش محمد شیدی اور دیگر سپاہیوں کی شہادت ہوئی ۔میجر جنرل سر چارلس نیپیئر نے یہاں بائیس فٹ بلند مینار بطورِ یادگار تعمیر کروایا جس پر جنگ میں مارے جانے والے برطانوی افسران اور سپاہیوں کے نام کی تفصیل بھی درج کروائی گئیں۔اس یادگار سے کچھ دور وہ قبرستان واقع ہے جہاں میر مسجد کے پاس میانی جنگ کے شہداآرام فرما ہیں۔ ان میں جنرل میر جان محمد خان تالپر کی قبر کے کتبہ پر شہادت کا سال 1843ء درج ہے۔ جنرل میر جان محمد خان تالپر کی شہادت کا دن 16 فروری کو بڑی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ہوش محمد شیدی کی اصل قبر جنرل میر جان محمد خان تالپر کے پہلو میں ہے اور اس پر کتبہ بھی لگا ہوا تھا ۔ نیپیئر نے اس علاقے میں ''جنگل میں گوشۂ نشینی‘‘ کے تصور کے تحت ایک پُرسکون مقام کی بنیاد رکھی جس کا مقصد فطرت سے قربت اور تنہائی میں سکون میسر آنا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ میانی کا جنگل برطانوی دورِ حکومت کا خاموش گواہ بن گیا۔ تقریباً ایک صدی تک یہ جنگل نوآبادیاتی اقتدار کے زیرِ سایہ پروان چڑھتا رہا۔ پھر 1947ء آیا جب برصغیر کی تاریخ نے نیا رخ لیا، یونین جیک اتار دیا گیا اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ مگر میانی کا جنگل ان تمام تبدیلیوں کے باوجود اپنے اندر بیتے ہوئے وقت کی داستانیں سموئے آج بھی قائم ہے۔یہ جنگل آج بھی سرکاری ملکیت ہے جہاں فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ویران کواٹر اور دفتر بیتے وقتوں کی یاد دلاتے ہیں۔ میانی کا جنگل نہ صرف تاریخی اہمیت کا حامل ہے بلکہ قدرتی حیات کے اعتبار سے بھی ایک بیش قیمت خزانہ ہے۔ یہاں آبی حیات کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ یہ علاقہ نقل مکانی کر کے آنے والے پرندوں کی ایک اہم آماجگاہ بھی ہے۔میانی کے جنگل میں موجود جھیلیں اور ان کے اطراف پھیلے سبزہ زار قدرتی حسن کی دلکش مثال ہیں۔ یہ مناظر نہ صرف آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں بلکہ ذہنی سکون کا بھی باعث بنتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک بار یہاں آتا ہے وہ بار بار آنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جنگل کے اطراف موجود چراگاہیں مقامی مویشیوں کے لیے چارے کا ذریعہ ہیں اور یہی مویشی اس قدرتی منظرنامے میں دیہی زندگی کی خوبصورت جھلک شامل کر دیتے ہیں۔ یہاں قائم واچ ٹاور سے جنگل اور اطراف کے مناظر کا مشاہدہ ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے، جہاں سے فطرت کی وسعت اور خاموشی کا احساس گہرا ہو جاتا ہے۔ اسی جنگل میں شہداء کی قبریں اور یادگاریں سندھ کی تاریخ میں رقم ہونے والی قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں۔یوں میانی کا جنگل محض ایک سیاحتی مقام ہی نہیں بلکہ تاریخ فطرت اور انسانی یادداشت کا سنگم ہے جہاں ماضی کی بازگشت اور حال کی زندگی ایک ساتھ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔