آخر23 مارچ کو ’’یومِ پاکستان‘‘ کیوں منایا جاتا ہے؟
اسپیشل فیچر
23 مارچ 1940ء کو لاہور کے وسیع میدان منٹو پارک میں ایک لاکھ انسانوں کے سامنے اور قائد اعظم کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے تقسیم ِ ہند کی وہ مشہور قرارداد منظور کی تھی، جس نے بعد میں قراردادِ پاکستان کا نام حاصل کیا تھا۔ اسی قرارداد کی رو سے پاکستان کی مملکت وجود میں آئی۔ آیئے آج جب ہم اس تقریب کی سالگرہ منارہے ہیں اس روز سعید کی یاد تازہ کریں جب اسلامیان ہند کے نمائندوں نے جمع ہوکر یہ مصمم بالشان عزم باندھا تھا کہ وہ برصغیر میں ایک آزاد و مقتدر سلطنت قائم کرکے رہیں گے۔21 مارچ کی صبح قائداعظم لاہورتشریف لائے، اسی شام غروب آفتاب کے بعد لیگ کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں جنرل سیکریٹری کی رسمی رپورٹ کے بعد ضابطے کے مطابق مجلس انتخابِ مضامین (سبجیکٹس کمیٹی)کے چند ارکان نامزد کیے گئے، اُن میں پنجاب سے ڈاکٹر محمد عالم اور میاں فیروزالدین احمد کو جگہ ملی، سر سکندر مرحوم اس جلسے میں شریک تو ہوئے ،لیکن خلاف معمول بہت پیچھے بیٹھے تھے۔اُن کی وجہ سے یونینسٹ پارٹی کے تمام ارکان بھی اُن کے ساتھ پچھلی کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔قائد اعظم نے لاہور پہنچتے ہی اخباری نمائندوں کو بیان دیا تھا کہ لیگ اس اجلاس میں ایک انقلاب آفرین اقدام کرے گی، اُن کے اس ارشاد پر طرح طرح کی چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں ہونے لگیں، ہندو اخباروں نے بھی بڑے بڑے حاشیے چڑھائے، لیکن بات کی تہہ تک کوئی نہ پہنچ سکا۔22 مارچ کی سہ پہر کو لیگ کا کھلا اجلاس ہوا، نواب شاہ نواز خان والئی ممدوٹ نے خطبہ استقبالیہ پڑھا، لوگ بڑے اطمینان اور سکون سے سنتے رہے۔ قائد اعظم صدارتی خطاب کے لیے کھڑے ہوئے ،تو ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ اُنھوں نے کچھ دیر اُردو میں خیالات کا اظہار فرمایا، پھر انگریزی میں بولنے لگے۔ گزشتہ دو سال کے واقعات کا خلاصہ بیان کیا، برطانوی حکومت، کانگریس اور دیگر مختلف عناصر میں سے ایک ایک کا تجزیہ کیا، پھر جنگ ِیورپ کے متعلق لیگ کی پالیسی کی وضاحت کی اور آخر میں دوقوموں کا نظریہ پیش کرتے ہوئے اُنھوں نے لالہ لاجپت رائے کا ایک خط پڑھ کر سنایا ،جو موصوف نے 1924 ء میں بنگال کے مشہور لیڈر سی آر داس کو لکھا تھا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں۔ان دونوں کو ایک دوسرے میں مدغم کرکے ایک قوم بنانا قطعاً ناممکن ہے۔ لالہ لاجپت رائے چونکہ ہندو قوم کی ذہنیت کے صحیح علمبردار سمجھے جاتے تھے۔ اُن کے اس خط نے لوگوں کو ششدر کردیا۔ ملک برکت علی مرحوم سٹیج پر بیٹھے تھے، اُن کے منہ سے نکل گیا کہ لاجپت رائے نیشنلسٹ ہندو تھے، قائد اعظم نے زور سے کہا کہ ہندو نیشنلسٹ نہیں ہوسکتا۔ اس پر پنڈال میں خوب تالیاں بجیں، پھر نواب زادہ لیاقت علی خان نے قرارداد پاکستان پیش کی، جس کا اہم جزو یہ تھا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی حصے میں اُن خطوں کو جو جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے متصل و ملحق ہیں اور جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، علاقائی ردوبدل کے ساتھ باقی ہندوستان سے الگ کرکے مقتدر و خود مختار مملکتوں میں تبدیل کر دیا جائے، لیکن حاضرین کی رائے تھی کہ قرارداد چونکہ بے حد اہم ہے، اُنھیں اس کے مختلف پہلوؤں پر سوچنے کا مزید موقع دیا جائے۔ اس کے علاوہ قرارداد کا متن انگریزی میں تھا اور بعض لوگ انگریزی نہیں جانتے تھے، چنانچہ مولانا ظفر علی خان نے وہیں قرارداد کا اُردو ترجمہ کیا اور مفصل بحث دوسرے دن پر ملتوی کردی گئی۔اس واقعہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب مولانا ظفر علی خان قرارداد کا ترجمہ کرنے لگے ،تو سرسکندر حیات خاں جو بہت پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، اپنی جگہ سے اُٹھ کر مولانا کے پاس آکر بیٹھ گئے اور جب تک مولانا ترجمے میں مصروف رہے سر سکندر برابر قرارداد کے انگریزی متن اور اُردو ترجمہ کے ایک ایک لفظ پر غور فرماتے رہے۔ مجھے ندامت سے اس بات کا اعتراف ہے کہ سر سکندر حیات خان کی زندگی میں اُن کے ساتھ میرے تعلقات کچھ ایسے اچھے نہیں تھے، ورنہ میں ضرور اُن سے پوچھتا کہ قرارداد کی ترتیب و تدوین میں اُن کا کتنا حصہ تھا اور عبارت کا کون کون سا جملہ اور لفظ اُن کا تجویز کردہ تھا، یہ صحیح ہے کہ سر سکندر مرحوم لفظ ’’پاکستان‘‘ سے ہمیشہ گھبراتے رہے اور اس کی بجائے قراردادِ لاہور کا لفظ استعمال کرتے تھے ،لیکن اس رات اُن کا یکایک پچھلی صفوں سے اُٹھ کر مولانا ظفر علی خاں کے پاس آکر بیٹھنا اور ترجمہ کے ایک ایک لفظ پر کڑی نگاہ رکھنا کہ آیا اُردو الفاظ انگریزی متن کا صحیح مفہوم ادا کرتے ہیں یا نہیں، اس بات کا بین ثبوت تھا کہ اُنھیں قرارداد کی ترتیب و تدوین میں یقیناً بڑا دخل تھا۔رات کے گیارہ بجے مجلس انتخاب ِمضامین کا اجلاس ختم ہوا، تو ملک برکت علی مرحوم اور میں ایک ہی موٹر میں واپس آئے۔ میَں اس زمانے میں ٹمپل روڈ پر ملک صاحب کے پڑوس میں رہتا تھا۔ راستے میں میَں نے اُن سے کہا کہ قرار داد کے الفاظ میں کچھ نقص ہے۔ آپ رفع کرادیجئے۔اُنھوں نے پوچھا ’’کیا نقص ہے ؟‘‘۔میَں نے عرض کیا کہ پہلے یہ بتائیے کہ ہندوستان کے شمال مغربی علاقے سے جس کو آپ اپنی مملکت میں شامل کرنا چاہتے ہیں ، آپ کی مراد کیا ہے ؟۔کہنے لگے ’’یہی پنجاب ، سرحد ، بلوچستان اور سندھ ‘‘۔میَں نے کہا ،تو پھر آپ قرار داد میں واضح طور پر ان صوبوں کے نام کیوں نہیں لیتے ؟۔ملک صاحب نے کہا’’اس سے کیا فائدہ ہو گا ؟‘‘۔میَں نے عرض کیا،آپ کو معلوم ہے ،پورے پنجاب میں ہماری اکثریت نہیں۔ دس گیارہ ضلعے ایسے ہیں ،جہاں ہم اقلیت میں ہیں۔ اگر آپ نے علاقائی ردوبدل کے ساتھ مسلمانوں کے اکثریتی حصے کو باقی ملک سے علیحدہ کیا، تو نصف پنجاب کٹ جائے گا۔ حالانکہ قرار داد مرتب کرتے وقت پورا پنجاب آپ کے ذہن میں تھا۔ اول تو جہاں آپ نے شمال مغربی ہند کا ذکر کیا ہے ،وہاں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سرحد کے نام صراحت سے لینے چاہئیں اور دوسرے علاقائی ردوبدل کے الفاظ حذف کردیجئے۔ملک صاحب آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے رکن تھے اور قرار داد کی ترتیب وتدوین میں اُن کا بھی ہاتھ تھا۔ اس لیے ضابطے کے مطابق وہ قرار داد پر اعتراض نہیں کرسکتے تھے، تاہم اُنھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ دوسرے روز اسی مضمون کی ترمیم پیش کردوں۔ دوسرے روز بحث شروع ہوئی ،تو میں نے قرار داد میں ترمیم پیش کی اور تفصیل سے اپنا نقطہ نگاہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ اگر آپ لوگ پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو مجوزہ مملکتوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں ،تو جہاں آپ نے ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں کا ذکر کیا ہے۔ وہاں صاف لفظوں میں اُن صوبوں کے نام لیجئے تاکہ ہمارے مخاطب اور مخالف دونوں ہمارے مطالبے کی حقیقت کو ابھی سمجھ جائیں۔ ورنہ علاقائی ردوبدل کے تحت پنجاب اور بنگال کا تقریباً نصف حصہ کٹ جائے گا۔ میری ترمیم کا جواب نواب زادہ لیاقت علی خاں نے دیا اور فرمایا کہ ’’ہم نے ایک مصلحت کی وجہ سے صوبوں کے نام نہیں لیے ، اگر ہم پنجاب کا نام لے دیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہماری مملکت کی سرحد گوڑہ گانوہ تک ہو گی حالانکہ ہم علاقائی ردوبدل کے تحت دہلی اور علی گڑھ کو جوہماری تہذیب وتعلیم کے مرکز ہیں، مجوزہ مملکت میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔آپ مطمئن رہیے علاقائی ردوبدل کا یہ مطلب نہیں کہ پنجاب کا کوئی حصہ ہاتھ سے دینا پڑے گا ‘‘۔نوابزادہ صاحب کے اس جواب پر ایوان میں خوب تالیا ں بجیں۔ مجلس ِ انتخابِ مضامین کے اس اجلاس میں دو ایک لطیفے بھی ہوئے۔ قائد اعظم تقریر کررہے تھے کہ باہر بہت شوراُٹھا۔ قائد اعظم نے پوچھا یہ شور کیسا ہے۔ ایک شخص اُٹھ کر باہر گیا اور واپس آکر انگریزی میں کہنے لگا کہ شیر بنگال آئے ہیں۔اتنے میں مولوی فضل الحق جھومتے ہوئے پنڈال میں داخل ہوئے، کلکتہ سے لاہور تک کے سفر کی کوفت چہرے سے عیاں تھی۔ سٹیشن سے سیدھے یہاں چلے آرہے تھے، شیو نہ بنانے کی وجہ سے داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور بغیر پھندنے کی ترکی ٹوپی پر حسب معمول ایک ایک انچ میل چڑھا ہوا تھا۔ چہرے کی سیاہ رنگت کے ساتھ سپید انگرکھا عجیب بہار دکھا رہا تھا۔ قائد اعظم نے اُن کو اس شان سے آتے دیکھا تو کہنے لگے ’’جب شیر آجائے تو میمنے کو چھپ جانا چاہیے ‘‘۔یہ کہہ کر کرسی پر بیٹھ گئے۔ جب مولوی صاحب کو جگہ مل گئی اور وہ اطمینان سے بیٹھ گئے ،تو قائد اعظم یہ کہہ کر پھر کھڑے ہو گئے کہ ’’اب شیر کو زنجیروں میں جکڑ دیاگیا ہے۔ اس لیے میمنا پھر باہر نکل آیا ہے ‘‘۔حاضرین ہنس ہنس کر بے حال ہو گئے۔ میرٹھ کے سریا مین خاں اور مدراس کے عبدالحمید خاں نے قرار داد کی حمایت میں بہت اچھی تقریر کی تھی۔ بریلی کے مولوی عزیز احمد خاں نے بھی حمایت کی تھی ،لیکن اُن کا نقطہ نگاہ بالکل مختلف تھا۔ جب یہ ہنگامہ ختم ہوگیا ،تو قائد اعظم نے پوچھا کہ کل کھلے اجلاس میں قرار داد پاکستان کو ن پیش کرے گا۔ متعدد نام سامنے آتے رہے۔ قائد اعظم نے چودھری خلیق الزماں سے فرمایا کہ یہ فرض ادا کریں، لیکن دوسرے روز جب اجلاس عام میں قرار داد پیش کرنے کا وقت آیا تو چودھری صاحب کے بجائے مولوی فضل الحق تشریف لائے۔ معلوم ہوا صبح فیصلے میں تبدیلی کی گئی ہے کہ قرار داد مولوی فضل الحق پیش کریں گے۔مولوی فضل الحق کی تائید میں چودھری خلیق الزمان نے خلاف معمول بہت پر جوش جذبات سے مرصع تقریر کی۔ قائد اعظم کا اصول تھا کہ لیگ کے سالانہ اجلاس پر اہم ترین تجویز کی حمایت میں ہندوستان کے ہر صوبے سے ایک ایک نمائندے کی تقریر کرایا کرتے تھے ، اس قرار داد کی حمایت کرنے والوں میں بمبئی سے ابراہیم اسمعٰیل چندریگر ، سی پی سے عبدالرؤف شاہ ، مدراس سے عبدالحمید خان ،سرحد سے اورنگزیب خاں، آسام سے عبدالمتین چودھری ، بہار سے نواب محمد اسمعیٰل خاں اور پنجاب سے مولانا ظفر علی خاں شامل تھے۔اجلاس ختم ہوا تو اکثر لوگوں کی زبان پر یہ فقرہ تھا کہ ’’تجویز تو منظور ہو گئی ہے ، دیکھیں پاکستان کب بنتا ہے ؟‘‘۔قلعہ لاہور نے بڑے بڑے تاریخی انقلاب دیکھے ہیں۔ بادشاہوں کا عروج وزوال ، شہزادوں کی بغاوتیں ، سلطنتوں کی تباہیاں ، حملہ آوروں کی خون ریزیاں، سبھی کچھ قلعہ کی دیواروں کے نیچے ہوتا رہا ہے، لیکن ایسا انقلاب اس نے آج تک نہ دیکھا تھا کہ برصغیر کے دس کروڑ مسلمانوں کے غیر مسلح ، امن پسند اور عافیت کیش نمائندے اس کی دیواروں کے سامنے جمع ہوکر یہ عہد باندھتے ہیں کہ اس سرزمین پر اپنے لیے ایک آزاد اور خود مختار مملکت بنا کر دم لیں گے (لندن1961ء) ۔ (نوٹ :1961ء میں لندن میں پاکستان ڈے کے موقع پر ایک بڑے جلسے میں پڑھے گئے عاشق حسین بٹالوی کے مضمون سے لیے گئے اقتباسات کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ وہ اُس وقت اجلاس میں موجود تھے، جب قراردادِ پاکستان پیش کی گئی )۔٭٭٭٭