آخر23 مارچ کو ’’یومِ پاکستان‘‘ کیوں منایا جاتا ہے؟

آخر23 مارچ کو ’’یومِ پاکستان‘‘ کیوں منایا جاتا ہے؟

اسپیشل فیچر

تحریر : عاشق حسین بٹالوی


23 مارچ 1940ء کو لاہور کے وسیع میدان منٹو پارک میں ایک لاکھ انسانوں کے سامنے اور قائد اعظم کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے تقسیم ِ ہند کی وہ مشہور قرارداد منظور کی تھی، جس نے بعد میں قراردادِ پاکستان کا نام حاصل کیا تھا۔ اسی قرارداد کی رو سے پاکستان کی مملکت وجود میں آئی۔ آیئے آج جب ہم اس تقریب کی سالگرہ منارہے ہیں اس روز سعید کی یاد تازہ کریں جب اسلامیان ہند کے نمائندوں نے جمع ہوکر یہ مصمم بالشان عزم باندھا تھا کہ وہ برصغیر میں ایک آزاد و مقتدر سلطنت قائم کرکے رہیں گے۔21 مارچ کی صبح قائداعظم لاہورتشریف لائے، اسی شام غروب آفتاب کے بعد لیگ کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں جنرل سیکریٹری کی رسمی رپورٹ کے بعد ضابطے کے مطابق مجلس انتخابِ مضامین (سبجیکٹس کمیٹی)کے چند ارکان نامزد کیے گئے، اُن میں پنجاب سے ڈاکٹر محمد عالم اور میاں فیروزالدین احمد کو جگہ ملی، سر سکندر مرحوم اس جلسے میں شریک تو ہوئے ،لیکن خلاف معمول بہت پیچھے بیٹھے تھے۔اُن کی وجہ سے یونینسٹ پارٹی کے تمام ارکان بھی اُن کے ساتھ پچھلی کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔قائد اعظم نے لاہور پہنچتے ہی اخباری نمائندوں کو بیان دیا تھا کہ لیگ اس اجلاس میں ایک انقلاب آفرین اقدام کرے گی، اُن کے اس ارشاد پر طرح طرح کی چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں ہونے لگیں، ہندو اخباروں نے بھی بڑے بڑے حاشیے چڑھائے، لیکن بات کی تہہ تک کوئی نہ پہنچ سکا۔22 مارچ کی سہ پہر کو لیگ کا کھلا اجلاس ہوا، نواب شاہ نواز خان والئی ممدوٹ نے خطبہ استقبالیہ پڑھا، لوگ بڑے اطمینان اور سکون سے سنتے رہے۔ قائد اعظم صدارتی خطاب کے لیے کھڑے ہوئے ،تو ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ اُنھوں نے کچھ دیر اُردو میں خیالات کا اظہار فرمایا، پھر انگریزی میں بولنے لگے۔ گزشتہ دو سال کے واقعات کا خلاصہ بیان کیا، برطانوی حکومت، کانگریس اور دیگر مختلف عناصر میں سے ایک ایک کا تجزیہ کیا، پھر جنگ ِیورپ کے متعلق لیگ کی پالیسی کی وضاحت کی اور آخر میں دوقوموں کا نظریہ پیش کرتے ہوئے اُنھوں نے لالہ لاجپت رائے کا ایک خط پڑھ کر سنایا ،جو موصوف نے 1924 ء میں بنگال کے مشہور لیڈر سی آر داس کو لکھا تھا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں۔ان دونوں کو ایک دوسرے میں مدغم کرکے ایک قوم بنانا قطعاً ناممکن ہے۔ لالہ لاجپت رائے چونکہ ہندو قوم کی ذہنیت کے صحیح علمبردار سمجھے جاتے تھے۔ اُن کے اس خط نے لوگوں کو ششدر کردیا۔ ملک برکت علی مرحوم سٹیج پر بیٹھے تھے، اُن کے منہ سے نکل گیا کہ لاجپت رائے نیشنلسٹ ہندو تھے، قائد اعظم نے زور سے کہا کہ ہندو نیشنلسٹ نہیں ہوسکتا۔ اس پر پنڈال میں خوب تالیاں بجیں، پھر نواب زادہ لیاقت علی خان نے قرارداد پاکستان پیش کی، جس کا اہم جزو یہ تھا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی حصے میں اُن خطوں کو جو جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے متصل و ملحق ہیں اور جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، علاقائی ردوبدل کے ساتھ باقی ہندوستان سے الگ کرکے مقتدر و خود مختار مملکتوں میں تبدیل کر دیا جائے، لیکن حاضرین کی رائے تھی کہ قرارداد چونکہ بے حد اہم ہے، اُنھیں اس کے مختلف پہلوؤں پر سوچنے کا مزید موقع دیا جائے۔ اس کے علاوہ قرارداد کا متن انگریزی میں تھا اور بعض لوگ انگریزی نہیں جانتے تھے، چنانچہ مولانا ظفر علی خان نے وہیں قرارداد کا اُردو ترجمہ کیا اور مفصل بحث دوسرے دن پر ملتوی کردی گئی۔اس واقعہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب مولانا ظفر علی خان قرارداد کا ترجمہ کرنے لگے ،تو سرسکندر حیات خاں جو بہت پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، اپنی جگہ سے اُٹھ کر مولانا کے پاس آکر بیٹھ گئے اور جب تک مولانا ترجمے میں مصروف رہے سر سکندر برابر قرارداد کے انگریزی متن اور اُردو ترجمہ کے ایک ایک لفظ پر غور فرماتے رہے۔ مجھے ندامت سے اس بات کا اعتراف ہے کہ سر سکندر حیات خان کی زندگی میں اُن کے ساتھ میرے تعلقات کچھ ایسے اچھے نہیں تھے، ورنہ میں ضرور اُن سے پوچھتا کہ قرارداد کی ترتیب و تدوین میں اُن کا کتنا حصہ تھا اور عبارت کا کون کون سا جملہ اور لفظ اُن کا تجویز کردہ تھا، یہ صحیح ہے کہ سر سکندر مرحوم لفظ ’’پاکستان‘‘ سے ہمیشہ گھبراتے رہے اور اس کی بجائے قراردادِ لاہور کا لفظ استعمال کرتے تھے ،لیکن اس رات اُن کا یکایک پچھلی صفوں سے اُٹھ کر مولانا ظفر علی خاں کے پاس آکر بیٹھنا اور ترجمہ کے ایک ایک لفظ پر کڑی نگاہ رکھنا کہ آیا اُردو الفاظ انگریزی متن کا صحیح مفہوم ادا کرتے ہیں یا نہیں، اس بات کا بین ثبوت تھا کہ اُنھیں قرارداد کی ترتیب و تدوین میں یقیناً بڑا دخل تھا۔رات کے گیارہ بجے مجلس انتخاب ِمضامین کا اجلاس ختم ہوا، تو ملک برکت علی مرحوم اور میں ایک ہی موٹر میں واپس آئے۔ میَں اس زمانے میں ٹمپل روڈ پر ملک صاحب کے پڑوس میں رہتا تھا۔ راستے میں میَں نے اُن سے کہا کہ قرار داد کے الفاظ میں کچھ نقص ہے۔ آپ رفع کرادیجئے۔اُنھوں نے پوچھا ’’کیا نقص ہے ؟‘‘۔میَں نے عرض کیا کہ پہلے یہ بتائیے کہ ہندوستان کے شمال مغربی علاقے سے جس کو آپ اپنی مملکت میں شامل کرنا چاہتے ہیں ، آپ کی مراد کیا ہے ؟۔کہنے لگے ’’یہی پنجاب ، سرحد ، بلوچستان اور سندھ ‘‘۔میَں نے کہا ،تو پھر آپ قرار داد میں واضح طور پر ان صوبوں کے نام کیوں نہیں لیتے ؟۔ملک صاحب نے کہا’’اس سے کیا فائدہ ہو گا ؟‘‘۔میَں نے عرض کیا،آپ کو معلوم ہے ،پورے پنجاب میں ہماری اکثریت نہیں۔ دس گیارہ ضلعے ایسے ہیں ،جہاں ہم اقلیت میں ہیں۔ اگر آپ نے علاقائی ردوبدل کے ساتھ مسلمانوں کے اکثریتی حصے کو باقی ملک سے علیحدہ کیا، تو نصف پنجاب کٹ جائے گا۔ حالانکہ قرار داد مرتب کرتے وقت پورا پنجاب آپ کے ذہن میں تھا۔ اول تو جہاں آپ نے شمال مغربی ہند کا ذکر کیا ہے ،وہاں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سرحد کے نام صراحت سے لینے چاہئیں اور دوسرے علاقائی ردوبدل کے الفاظ حذف کردیجئے۔ملک صاحب آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے رکن تھے اور قرار داد کی ترتیب وتدوین میں اُن کا بھی ہاتھ تھا۔ اس لیے ضابطے کے مطابق وہ قرار داد پر اعتراض نہیں کرسکتے تھے، تاہم اُنھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ دوسرے روز اسی مضمون کی ترمیم پیش کردوں۔ دوسرے روز بحث شروع ہوئی ،تو میں نے قرار داد میں ترمیم پیش کی اور تفصیل سے اپنا نقطہ نگاہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ اگر آپ لوگ پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو مجوزہ مملکتوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں ،تو جہاں آپ نے ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں کا ذکر کیا ہے۔ وہاں صاف لفظوں میں اُن صوبوں کے نام لیجئے تاکہ ہمارے مخاطب اور مخالف دونوں ہمارے مطالبے کی حقیقت کو ابھی سمجھ جائیں۔ ورنہ علاقائی ردوبدل کے تحت پنجاب اور بنگال کا تقریباً نصف حصہ کٹ جائے گا۔ میری ترمیم کا جواب نواب زادہ لیاقت علی خاں نے دیا اور فرمایا کہ ’’ہم نے ایک مصلحت کی وجہ سے صوبوں کے نام نہیں لیے ، اگر ہم پنجاب کا نام لے دیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہماری مملکت کی سرحد گوڑہ گانوہ تک ہو گی حالانکہ ہم علاقائی ردوبدل کے تحت دہلی اور علی گڑھ کو جوہماری تہذیب وتعلیم کے مرکز ہیں، مجوزہ مملکت میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔آپ مطمئن رہیے علاقائی ردوبدل کا یہ مطلب نہیں کہ پنجاب کا کوئی حصہ ہاتھ سے دینا پڑے گا ‘‘۔نوابزادہ صاحب کے اس جواب پر ایوان میں خوب تالیا ں بجیں۔ مجلس ِ انتخابِ مضامین کے اس اجلاس میں دو ایک لطیفے بھی ہوئے۔ قائد اعظم تقریر کررہے تھے کہ باہر بہت شوراُٹھا۔ قائد اعظم نے پوچھا یہ شور کیسا ہے۔ ایک شخص اُٹھ کر باہر گیا اور واپس آکر انگریزی میں کہنے لگا کہ شیر بنگال آئے ہیں۔اتنے میں مولوی فضل الحق جھومتے ہوئے پنڈال میں داخل ہوئے، کلکتہ سے لاہور تک کے سفر کی کوفت چہرے سے عیاں تھی۔ سٹیشن سے سیدھے یہاں چلے آرہے تھے، شیو نہ بنانے کی وجہ سے داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور بغیر پھندنے کی ترکی ٹوپی پر حسب معمول ایک ایک انچ میل چڑھا ہوا تھا۔ چہرے کی سیاہ رنگت کے ساتھ سپید انگرکھا عجیب بہار دکھا رہا تھا۔ قائد اعظم نے اُن کو اس شان سے آتے دیکھا تو کہنے لگے ’’جب شیر آجائے تو میمنے کو چھپ جانا چاہیے ‘‘۔یہ کہہ کر کرسی پر بیٹھ گئے۔ جب مولوی صاحب کو جگہ مل گئی اور وہ اطمینان سے بیٹھ گئے ،تو قائد اعظم یہ کہہ کر پھر کھڑے ہو گئے کہ ’’اب شیر کو زنجیروں میں جکڑ دیاگیا ہے۔ اس لیے میمنا پھر باہر نکل آیا ہے ‘‘۔حاضرین ہنس ہنس کر بے حال ہو گئے۔ میرٹھ کے سریا مین خاں اور مدراس کے عبدالحمید خاں نے قرار داد کی حمایت میں بہت اچھی تقریر کی تھی۔ بریلی کے مولوی عزیز احمد خاں نے بھی حمایت کی تھی ،لیکن اُن کا نقطہ نگاہ بالکل مختلف تھا۔ جب یہ ہنگامہ ختم ہوگیا ،تو قائد اعظم نے پوچھا کہ کل کھلے اجلاس میں قرار داد پاکستان کو ن پیش کرے گا۔ متعدد نام سامنے آتے رہے۔ قائد اعظم نے چودھری خلیق الزماں سے فرمایا کہ یہ فرض ادا کریں، لیکن دوسرے روز جب اجلاس عام میں قرار داد پیش کرنے کا وقت آیا تو چودھری صاحب کے بجائے مولوی فضل الحق تشریف لائے۔ معلوم ہوا صبح فیصلے میں تبدیلی کی گئی ہے کہ قرار داد مولوی فضل الحق پیش کریں گے۔مولوی فضل الحق کی تائید میں چودھری خلیق الزمان نے خلاف معمول بہت پر جوش جذبات سے مرصع تقریر کی۔ قائد اعظم کا اصول تھا کہ لیگ کے سالانہ اجلاس پر اہم ترین تجویز کی حمایت میں ہندوستان کے ہر صوبے سے ایک ایک نمائندے کی تقریر کرایا کرتے تھے ، اس قرار داد کی حمایت کرنے والوں میں بمبئی سے ابراہیم اسمعٰیل چندریگر ، سی پی سے عبدالرؤف شاہ ، مدراس سے عبدالحمید خان ،سرحد سے اورنگزیب خاں، آسام سے عبدالمتین چودھری ، بہار سے نواب محمد اسمعیٰل خاں اور پنجاب سے مولانا ظفر علی خاں شامل تھے۔اجلاس ختم ہوا تو اکثر لوگوں کی زبان پر یہ فقرہ تھا کہ ’’تجویز تو منظور ہو گئی ہے ، دیکھیں پاکستان کب بنتا ہے ؟‘‘۔قلعہ لاہور نے بڑے بڑے تاریخی انقلاب دیکھے ہیں۔ بادشاہوں کا عروج وزوال ، شہزادوں کی بغاوتیں ، سلطنتوں کی تباہیاں ، حملہ آوروں کی خون ریزیاں، سبھی کچھ قلعہ کی دیواروں کے نیچے ہوتا رہا ہے، لیکن ایسا انقلاب اس نے آج تک نہ دیکھا تھا کہ برصغیر کے دس کروڑ مسلمانوں کے غیر مسلح ، امن پسند اور عافیت کیش نمائندے اس کی دیواروں کے سامنے جمع ہوکر یہ عہد باندھتے ہیں کہ اس سرزمین پر اپنے لیے ایک آزاد اور خود مختار مملکت بنا کر دم لیں گے (لندن1961ء) ۔ (نوٹ :1961ء میں لندن میں پاکستان ڈے کے موقع پر ایک بڑے جلسے میں پڑھے گئے عاشق حسین بٹالوی کے مضمون سے لیے گئے اقتباسات کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ وہ اُس وقت اجلاس میں موجود تھے، جب قراردادِ پاکستان پیش کی گئی )۔٭٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مریخ کے راز کھلنے لگے!

مریخ کے راز کھلنے لگے!

غیر متوقع دھات کی دریافت ،سرخ سیارے پر زندگی کے اشارےمریخ، جو صدیوں سے انسان کی جستجو اور تجسس کا مرکز رہا ہے، ایک بار پھر سائنس دانوں کی توجہ کا محور بن گیا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیقات میں مریخ کی چٹانوں میں ایک غیر متوقع دھات کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جس نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف اس سرخ سیارے کی ساخت کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ اس بات کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے کہ کسی زمانے میں وہاں زندگی کے آثار موجود ہو سکتے تھے۔سائنس دانوں کے مطابق اس غیر معمولی دھات کی موجودگی ایسے کیمیائی اور ماحولیاتی حالات کی طرف اشارہ کرتی ہے جو زندگی کیلئے سازگار ہو سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دریافت نے مریخ پر قدیم زندگی کے امکان سے متعلق جاری تحقیقات کو ایک نئی جہت عطا کر دی ہے، اور اب دنیا بھر کے ماہرین اس راز کو مزید گہرائی سے سمجھنے کیلئے کوشاں ہیں۔مریخ کے ایک ایسے خطے میں جہاں کبھی پانی موجود تھا، نکل (Nickel) کی وافر مقدار میں دریافت نے اس بات کے مزید شواہد فراہم کیے ہیں کہ سرخ سیارہ کبھی زندگی کیلئے سازگار حالات رکھتا تھا۔ محققین نے مریخ کے قدیمی راستے ''نیرتوا ویلس‘‘ (Neretva Vallis)، جہاں سے کبھی پانی بہہ کر جیزرو کریٹر (Jezero Crater) کے ڈیلٹا تک جاتا تھا،کی چٹانوں میں نکل کی وافر مقدار دریافت کی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اس دریافت کو جب وسیع تر ارضیاتی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اس علاقے کی کیمیائی تاریخ کے بارے میں اہم اشارے فراہم کرتی ہے اور مریخ پر ماضی میں زندگی کے امکانات کے معمہ کو سمجھنے میں ایک نیا پہلو سامنے لاتی ہے۔پرڈیو یونیورسٹی (Purdue University)کے سیاروی سائنس دان ہنری مینلسکی (Henry Manelski) نے سائنس الرٹ کو بتایا کہ اگرچہ مریخ پر پہلے بھی نکل کی موجودگی کا پتہ چل چکا ہے، لیکن یہ اب تک کی سب سے مضبوط دریافت ہے، جو لوہا نکل کے شہابیوں کے علاوہ مریخ کی سطح پر سامنے آئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر نکل زمین اور مریخ کی سطح پر ایک کم مقدار میں پایا جانے والا عنصر ہوتا ہے، کیونکہ اس کا زیادہ تر حصہ سیاروں کی تشکیل کے دوران ان کے مرکز (core) میں منتقل ہو جاتا ہے۔ سطح پر اس قدر زیادہ مقدار میں اس کی موجودگی اس بات کے منفرد اشارے دیتی ہے کہ یہ چٹانیں کیسے بنی تھیں اور بعد میں ان میں کس طرح تبدیلیاں آئیں۔مریخ پر نکل نایاب نہیں ہے، تاہم یہ عموماً سطح پر بکھرے ہوئے شہابیوں کے ٹکڑوں میں پایا جاتا ہے۔ 2024ء میں، جب ناسا کا ''پرسیویرنس روور‘‘ (Perseverance rover) خشک ہو چکی نیرتوا ویلس وادی میں سفر کر رہا تھا، تو اسے کچھ غیر معمولی چٹانیں ملیں۔ ان میں ایک خاص طور پر ہلکے رنگ کی نمایاں چٹان بھی شامل تھی، جسے سائنس دانوں نے ''برائٹ اینجل‘‘ (Bright Angel)کا نام دیا ہے۔ ''برائٹ اینجل‘‘ میں کچھ دلچسپ خصوصیات پائی گئیں جو زمین پر عموماً خرد حیاتیاتی سرگرمی (microbial activity) سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ان میں آئرن سلفائیڈ معدنیات شامل ہیں جو پائرائٹ (pyrite) سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ ایک ایسا معدنی مادہ ہے جو عموماً جرثوموں سے بھرپور ماحول میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نامیاتی مرکبات (organic compounds) بھی دریافت ہوئے۔اپنی تحقیق کے دوران ''پرسیویرنس روور‘‘ نے نیرتوا ویلس کی مختلف چٹانوں کی ساخت اور ترکیب کے بارے میں ڈیٹا جمع کیا، جسے ہنری مینلسکی اور ان کے ساتھیوں نے تفصیل سے جانچا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ چٹانیں کیسے بنی تھیں۔ اسی تجزیے کے دوران نکل کی غیر معمولی طور پر مضبوط موجودگی کا انکشاف ہوا، جو سائنس دانوں کیلئے حیران کن تھا۔''رسیویرنس روور‘‘ کی جانب سے زیر مطالعہ 126 تلچھٹی چٹانوں اور آٹھ چٹانی سطحوں میں سے، محققین نے 32 ایسی چٹانیں دریافت کیں جن میں نکل کی وافر مقدارموجود تھی۔ تاہم اصل اہمیت صرف نکل کی موجودگی کی نہیں، بلکہ ان چٹانوں میں موجود دیگر عناصر اور خصوصیات کی بھی ہے، جو اس کہانی کو مزید واضح کرتی ہیں۔ہنری مینلسکی نے کہا کہ زمین پر نکل سے بھرپور آئرن سلفائیڈ قدیم تلچھٹی چٹانوں میں پایا جاتا ہے۔ آکسیجن سے بھرپور ماحول میں آئرن سلفائیڈ جلدی تحلیل ہو جاتا ہے، اس لیے زمین کی قدیم چٹانوں میں اس کی موجودگی اس بات کا ایک ثبوت سمجھی جاتی ہے کہ زمین کا ابتدائی ماحول کبھی آکسیجن سے بہت کم تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال زمین کے ماحول سے بالکل مختلف ہے جہاں نکل پایا جاتا ہے۔ آئرن سلفائیڈ میں نکل کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ چٹانیں غالباً ایسے ماحول میں بنی تھیں جہاں آکسیجن بہت کم تھی۔ ان معدنیات کی موجودگی ایک متحرک آبی ماحول کی طرف اشارہ کرتی ہے۔محققین کا خیال ہے کہ نکل ممکنہ طور پر کسی شہابیے کے ذریعے مریخ تک پہنچا، جہاں بعد میں پانی نے اسے مختلف جگہوں پر پھیلا دیا۔ زمین پر نکل ایک اہم عنصر ہے جو بہت سے جانداروں، خصوصاً خوردبینی جانداروں کیلئے ضروری ہوتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق نکل کی جو مقدار دریافت ہوئی ہے، وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ عنصر ممکنہ طور پر جانداروں کے استعمال کیلئے دستیاب ہو سکتا تھا (اگرچہ انہوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہاں واقعی زندگی موجود تھی)۔''پرسیویرنس روور‘‘ کی جانب سے تجزیہ کی گئی چٹانوں میں نامیاتی مرکبات کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے۔ یہ وہ سالمات ہوتے ہیں جن میں کاربن شامل ہوتا ہے، اور زمین پر تمام زندگی کی بنیاد یہی عنصر ہے۔ اگرچہ کاربن غیر حیاتیاتی طریقوں سے بھی بن سکتا ہے، لیکن پانی کی طرح یہ بھی ایک ایسا عنصر ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔

گرینڈ کینین: قدرت کا عظیم شاہکار

گرینڈ کینین: قدرت کا عظیم شاہکار

دنیا میں قدرت کے بے شمار عجائبات موجود ہیں، مگر کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو اپنی وسعت، خوبصورتی اور پراسراریت کے باعث حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک عظیم قدرتی شاہکار گرینڈ کینین (Grand Canyon) ہے، جو امریکہ کی ریاست ایریزونا میں واقع ہے۔ یہ وادی نہ صرف اپنے سحر انگیز مناظر کے باعث مشہور ہے بلکہ زمین کی کروڑوں سال پرانی تاریخ کا جیتا جاگتا ثبوت بھی پیش کرتی ہے۔گرینڈ کینین دراصل ایک وسیع و عریض گھاٹی ہے جسے ''کولوراڈو ریور‘‘ (Colorado River)نے لاکھوں سال کے مسلسل بہاؤ کے ذریعے تراشا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 446 کلومیٹر، چوڑائی 29 کلومیٹر تک اور گہرائی تقریباً 1.6 کلومیٹر تک ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قدرت نے کس قدر عظیم پیمانے پر اس شاہکار کو تخلیق کیا ہے۔ جب کوئی شخص اس کے کنارے پر کھڑا ہوتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زمین کے کسی اور ہی جہان میں داخل ہو گیا ہو۔گرینڈ کینین کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی رنگ برنگی چٹانیں ہیں، جو سرخ، نارنجی، بھورے اور زرد رنگوں میں نظر آتی ہیں۔ یہ رنگ دراصل مختلف ادوار میں بننے والی چٹانی تہوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ماہرین ارضیات کے مطابق ان چٹانوں کی عمر کروڑوں سال پر محیط ہے، جو زمین کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یوں گرینڈ کینین نہ صرف ایک سیاحتی مقام ہے بلکہ ایک قدرتی عجائب گھر بھی ہے۔یہ مقام سیاحوں کیلئے بے شمار سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد یہاں آ کر قدرت کے اس حسین نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سیاح یہاں پیدل سفر (ہائیکنگ)، کیمپنگ، راک کلائمبنگ اور دریائے کولوراڈو میں کشتی رانی جیسے دلچسپ مشاغل میں حصہ لیتے ہیں۔ خاص طور پر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے کے مناظر دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت چٹانوں کے رنگ بدلتے ہوئے ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔گرینڈ کینین کی اہمیت صرف سیاحت تک محدود نہیں بلکہ یہ ماحولیاتی لحاظ سے بھی نہایت اہم ہے۔ یہاں مختلف اقسام کے پودے اور جانور پائے جاتے ہیں، جن میں سے کئی نایاب ہیں۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ ماہرین ماحولیات کیلئے تحقیق کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔ یہاں کے ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھنے کیلئے امریکی حکومت نے اسے قومی پارک کا درجہ دے رکھا ہے، جسے ''گرینڈ کینین نیشنل پارک‘‘ کہا جاتا ہے۔تاریخی طور پر بھی اس مقام کی بڑی اہمیت ہے۔ ہزاروں سال پہلے مقامی قبائل یہاں آباد تھے، جو اس علاقے کو مقدس سمجھتے تھے۔ ان قبائل کی ثقافت اور روایات میں گرینڈ کینین کا خاص مقام ہے۔ آج بھی ان کے آثار اور ثقافتی نشانات یہاں موجود ہیں، جو ماضی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ گرینڈ کینین قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے، مگر ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کے باعث اس کے حسن کو خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو اس قدرتی ورثے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاح اور حکومتیں مل کر اس کی حفاظت کو یقینی بنائیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم شاہکار سے لطف اندوز ہو سکیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ گرینڈ کینین صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ قدرت کی عظمت، زمین کی تاریخ اور انسان کیلئے غور و فکر کا ایک عظیم پیغام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری زمین کتنی خوبصورت اور قیمتی ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!غلام فرید صابری: ایک عظیم قوال (1994-1930ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!غلام فرید صابری: ایک عظیم قوال (1994-1930ء)

٭...1930ء میں ہندوستان کے علاقے روہتک میں پیدا ہوئے۔ ٭... ان کے والد عنایت حسین صابری بھی قوال تھے، جنہوں نے غلام فرید کو بچپن ہی سے اس فن کی تربیت دی۔٭...قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی آگیا۔٭... وہ اپنے بھائی مقبول صابری کے ساتھ مل کر قوالی گایا کرتے تھے، ان کی جوڑی صابری بردران کے نام سے مشہور ہوئی۔٭...ان کا پہلا البم 1958ء میں ریلیز ہوا، جس کی قوالی ''میرا کوئی نہیں تیرے سوا‘‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔٭...70ء اور 80ء کی دہائی ان کے عروج کا سنہری دور تھا، اسی زمانے میں انھوں نے ''بھر دو جھولی میری یا محمد‘‘ جیسی قوالی گا کر دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔1975ء میں گائی قوالی ''تاجدار حرم‘‘ نے ان کی شہرت کو دوام بخشا ۔ ٭...غلام فرید صابری نہ صرف پاکستان کے مقبول ترین قوال تھے بلکہ دنیا بھر میں قوالی کے کروڑوں چاہنے والوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔٭... انہوں نے قوالی کے صوفیانہ رنگ کو جدید موسیقی کے ساتھ ہم آہنگ کیا ۔٭...انہوں اپنی پرجوش آواز کے ذریعے سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ن کی قوالیوں کو سن کر لوگ وجد میں آجاتے اور روحانی سرور محسوس کرتے۔٭...ان کی قوالیوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بے حد پذیرائی ملی۔٭...انہوں نے فلموں کیلئے بھی قوالیاں ریکارڈ کروائیں، جن فلموں میں ان کی قوالیاں شامل کی گئیں ان میں ''عشق حبیب، چاند سورج، الزام، بن بادل برسات، سچائی‘‘ شامل ہیں۔٭...5 اپریل 1994ء کو کراچی میں غلام فرید صابری کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے۔مشہور قوالیاں٭...تاجدارِ حرم٭...بھر دو جھولی میری یا محمد٭...مریضِ محبت اْنہی کا فسانہ٭...خواجہ کی دیوانی٭...میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا٭...بالے بالے نی سوہنیا٭...محبت کرنے والوہم محبت اس کو کہتے ہیں٭...آئے ہیں تیرے در پہ تو...اعزازاتصابری بردران نے اپنے کریئر میں بیشمار نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈز اور اعزازات اپنے نام کئے جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔٭...1978ء میں صدر پاکستان نے غلام فرید صابری کے پورے گروپ کو ''تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا تھا۔٭...1981ء میں امریکی حکومت کی طرف سے صابری برادران (غلام فرید صابری اور مقبول صابری) کو ''سپرٹ آف ڈیٹرائٹ ایوارڈ‘‘ ملا تھا۔٭... 1977ء میں نظام الدین اولیاء کے مزار کی انتظامیہ نے انہیں ''بلبل پاک و ہند‘‘ کے اعزاز سے نوازا۔٭...1983ء میں انہیں فرانسیسی حکومت نے اپنے اعلیٰ ترین اعزاز ''چارلس ڈی گائولے ایوارڈ‘‘ دیا۔٭...آکسفورڈ یونیورسٹی نے صابری برادرز کو علامہ اقبالؒ کا کلام ''شکوہ جواب شکوہ‘‘ پڑھنے پر ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔

آج کا دن

آج کا دن

ویٹو پاور کا پہلا استعمال1792ء میں جارج واشنگٹن جو United States کے پہلے صدر تھے، نے اپنے آئینی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ایک بل کو ویٹو کیا۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ امریکہ میں صدر نے ویٹو پاور استعمال کی۔ اس اقدام نے صدارتی اختیارات کی اہمیت کو واضح کیا اور قانون سازی کے عمل میں توازن قائم کرنے کی بنیاد رکھی۔ ویٹو کا مقصد ایسے قوانین کو روکنا ہوتا ہے جو صدر کے نزدیک قومی مفاد کے خلاف ہوں۔ اس واقعے نے امریکی سیاسی نظام میں اختیارات کی تقسیم اور جمہوری اصولوں کو مزید مضبوط بنایا، جو آج بھی اسی طرح برقرار ہیں۔ ائیر بریک کی ایجادجارج ویسٹنگ ہاؤس جونیئر پنسلوانیا میں مقیم ایک امریکی تاجر اور انجینئر تھا۔ 1905ء میں آج کے دن اس نے ریلوے ایئر بریک بنائی اور برقی صنعت میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔اس نے 19 سال کی عمر میں اپنا پہلا پیٹنٹ اپنے نام رجسٹر کروایا۔ ویسٹنگ ہاؤس نے 1880ء کے اوائل میں الیکٹرک پاور کی تقسیم کے لیے متبادل کرنٹ کے استعمال کی صلاحیت کو دیکھا اور اپنے تمام وسائل کو اس کی ترقی اور مارکیٹنگ میں لگا دیا۔وہ جدیدصنعت کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔وینیرا پروگرام1991ء میں آج کے روز خلائی شٹل ''اٹلانٹس ‘‘ اپنے اہم خلائی مشن ''ایس ٹی ایس 37‘‘ پر روانہ ہوئی۔ اس مشن کا بنیادی مقصد ''Compton Gamma Ray Observatory‘‘ کو زمین کے مدار میں نصب کرنا تھا، جو کائنات میں خارج ہونے والی طاقتور گیما شعاعوں کا مشاہدہ کرنے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ یہ رصدگاہ جدید سائنسی آلات سے لیس تھی، جس نے بلیک ہولز، سپرنووا دھماکوں اور نیوٹران ستاروں جیسے پیچیدہ فلکیاتی مظاہر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔ اس مشن کی کامیابی نے خلائی تحقیق میں ایک نئی جہت پیدا کی ۔''اکاسی کائیکو ر ‘‘کا افتتاح5اپریل 1998 ء کو جاپان میں پل ''آکاشی کیکی ‘‘ کو باقاعدہ طور پر ٹریفک کیلئے کھولا گیا۔یہ دنیا کے طویل ترین معلق پلوں (سسپنشن برج) مین سے ایک ہے۔ یہ پل شہر کوبے کو جزیرہ آواجی سے ملاتا ہے اور شاندار انجینئرنگ کا عظیم نمونہ ہے۔ اس کی تعمیر میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا تاکہ زلزلوں اور تیز ہواؤں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس پل نے نہ صرف سفر کو آسان بنایا بلکہ جاپان کی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا، اور یہ دنیا بھر کے انجینئرز کیلئے ایک متاثر کن مثال بن گیا۔

ڈیجیٹل دنیا کے برے ایمو جیز

ڈیجیٹل دنیا کے برے ایمو جیز

''تھمز اپ‘‘سب سے زیادہ نا پسندیدہموجودہ دور کو اگر ڈیجیٹل عہد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس نے نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی کو تبدیل کر دیا ہے بلکہ ہمارے اظہارِ خیال کے انداز کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج الفاظ کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی تصویری علامتیں یعنی ''ایموجیز‘‘ ہماری گفتگو کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ یہ ایموجیز کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی مزاح اور کبھی طنز کے جذبات کو چند لمحوں میں بیان کر دیتی ہیں۔حال ہی میں سامنے آنے والے ایک سروے نے اس عام تاثر کو چیلنج کر دیا ہے کہ ایموجیز ہمیشہ مثبت اور خوشگوار اثر ہی رکھتی ہیں۔برطانیہ میں کیے گئے ایک حالیہ سروے نے اس دلچسپ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ ہر ایموجی ہر شخص کیلئے یکساں معنی نہیں رکھتی۔ اس تحقیق میں تقریباً دو ہزار افراد سے رائے لی گئی، جس کے نتیجے میں 20 ایسی ایموجیز کی فہرست سامنے آئی جنہیں لوگ سب سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔ حیران کن طور پر اس فہرست میں سرفہرست ''تھمز اپ‘‘ ایموجی ہے، جو عمومی طور پر تعریف، منظوری یا حوصلہ افزائی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ نتیجہ بظاہر حیرت انگیز ضرور ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی نفسیاتی اور سماجی وجوہات قابلِ غور ہیں۔ سروے میں شریک افراد کی ایک بڑی تعداد کے مطابق ''تھمز اپ‘‘ ایموجی بعض اوقات سرد مہری، بے رخی یا غیر مستقیم جارحیت کا تاثر دیتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل، جسے عام طور پر جنریشن زی (Gen Z) کہا جاتا ہے، اس ایموجی کو گفتگو ختم کرنے یا دلچسپی نہ لینے کی علامت سمجھتی ہے۔ یوں ایک سادہ سا مثبت اشارہ بعض افراد کیلئے منفی پیغام بن جاتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی صارفین نے اس رجحان پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صرف ''تھمز اپ‘‘ کے ساتھ جواب دے تو یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بات چیت کو اچانک ختم کر دیا گیا ہو۔ بعض نے تو اسے ''خاموشی سے دروازہ بند کرنے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔اس سروے میں دیگر ایموجیز بھی شامل ہیں جو لوگوں کیلئے ناگوار ثابت ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر بینگن ایموجی، جو عام طور پر سبزی کے طور پر استعمال ہونا چاہیے، لیکن ڈیجیٹل کلچر میں اسے ایک مخصوص اور غیر مہذب معنی دے دیا گیا ہے، دوسرے نمبر پر رہا۔ اس کے علاوہ عورت کے رقص کرنے والی ایموجی، انسانی فضلہ، کوبائے ہیٹ والا چہرہ اور چیک مارک بھی ان علامتوں میں شامل ہیں جو بعض صارفین کیلئے پریشان کن یا غیر موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ماہرین ابلاغ کے مطابق ایموجیز کے مختلف معانی کی ایک بڑی وجہ ان کا سیاق و سباق (context) ہے۔ہیریئٹ اسکاٹ (Harriet Scott)، جوپرسپیکٹس گلوبل (Perspectus Global) سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ایک ہی ایموجی مختلف لوگوں کیلئے مختلف مفہوم رکھ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر آنکھوں والا ایموجی کسی کیلئے تجسس یا دلچسپی کی علامت ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرے کیلئے یہ شک یا نگرانی کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح سوچنے والا چہرہ یا تھوک بہانے والا چہرہ بھی مختلف تشریحات کا باعث بنتے ہیں۔اس رجحان میں عمر کا عنصر بھی نہایت اہم ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے 81 فیصد افراد ایموجیز کو پریشان کن سمجھتے ہیں، اور ان میں سے بڑی تعداد ان کے معانی سے بھی مکمل طور پر واقف نہیں۔ اس کے برعکس، نوجوان نسل ایموجیز کو اپنی روزمرہ گفتگو کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔ 18 سے 30 سال کے تقریباً 93 فیصد افراد روزانہ ایموجیز کا استعمال کرتے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل زبان نسل در نسل تبدیل ہو رہی ہے۔یہ تبدیلی صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پالیسیوں میں بھی نظر آتی ہے۔ حال ہی میں Apple نے اپنے آپریٹنگ سسٹم ''iOS 26.4‘‘ میں 163 نئے ایموجیز شامل کیے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بڑی تعداد مختلف جلد کے رنگوں (Skin Tones) کی نمائندگی کرتی ہے، مگر 13 نئے ایموجیز بالکل نئے تصورات پر مبنی ہیں۔ ان میں ایک خاص ''مڑا ہوا چہرہ‘‘ ایموجی بھی شامل ہے، جس کے گلابی گال اور ابھری ہوئی آنکھیں صارفین میں خاصی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔یہ تمام پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایموجیز اب محض تفریحی علامتیں نہیں رہیں بلکہ ایک مکمل زبان کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ تاہم، اس زبان کی پیچیدگی بھی بڑھ رہی ہے، کیونکہ ہر علامت کا مطلب ہر فرد کیلئے یکساں نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک سادہ سا ایموجی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ڈیجیٹل گفتگو میں محتاط رویہ اختیار کریں۔ ایموجیز کا استعمال کرتے وقت نہ صرف اپنے جذبات بلکہ سامنے والے کے نقطۂ نظر کو بھی مدنظر رکھیں۔ خاص طور پر پیشہ ورانہ یا حساس گفتگو میں ایموجیز کے چناؤ میں احتیاط برتنا ضروری ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایموجیز جدید دور کی ایک اہم ایجاد ہیں، جو ہماری گفتگو کو آسان اور دلچسپ بناتی ہیں، مگر ان کے استعمال میں توازن اور سمجھ داری ناگزیر ہے۔ کیونکہ ایک ہی علامت، جو کسی کیلئے مسکراہٹ کا سبب بنتی ہے، دوسرے کیلئے الجھن یا ناراضی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یہی ڈیجیٹل دنیا کا وہ پہلو ہے جو ہمیں مسلسل سیکھنے اور خود کو ڈھالنے پر مجبور کرتا ہے۔

گھوڑ ے کی حیران کن پرفارمنس:تین منٹ میں تیس کرتب

گھوڑ ے کی حیران کن پرفارمنس:تین منٹ میں تیس کرتب

دنیا بھر میں جانوروں کی ذہانت اور ان کی تربیت کے حیرت انگیز مظاہرے ہمیشہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے رہے ہیں، مگر حال ہی میں ایک گھوڑے نے اپنے غیر معمولی کرتب دکھا کر سب کو حیران کر دیا۔ صرف تین منٹ کے مختصر وقت میں تیس سے زائد کرتب پیش کرنے والا یہ گھوڑا نہ صرف اپنی فطری صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ اس کے ٹرینر کی محنت، مہارت اور لگن کا بھی واضح ثبوت ہے۔ یہ شاندار مظاہرہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مناسب تربیت اور مثبت رویے کے ذریعے جانوروں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو کس حد تک نکھارا جا سکتا ہے۔امریکہ کی ریاست نارتھ کیرولائنا کے علاقے بولیویا میں ایک خوبصورت سفید گھوڑے نے اپنے باصلاحیت مالک کے ساتھ مل کر ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ اس گھوڑے نے صرف تین منٹ سے بھی کم وقت میں سب سے زیادہ کرتب دکھانے کا اعزاز حاصل کیا، جب اس نے بہترین تربیت کے ذریعے درجنوں کامیاب حرکات پیش کیں۔لورین زیپیڈا(Lauryn Zepeda) اور ان کے 19 سالہ گھوڑے گرینگو (Gringo)نے 5 مارچ کو یہ مشکل ریکارڈ توڑا۔ اس ذہین گھوڑے نے رقص کیا، گیند کو ٹھوکر ماری اور یہاں تک کہ سیلفی کیلئے پوز بھی دیا، جس کے نتیجے میں اس نے صرف 2 منٹ اور 47 سیکنڈ میں 38 حیرت انگیز کرتب مکمل کیے۔یہ جوڑی گزشتہ دس برسوں سے مختلف شوز میں ایک ساتھ حصہ لے رہی ہے، اور ان کے درمیان مضبوط ہم آہنگی برسوں کے اعتماد، محبت اور توجہ کا نتیجہ ہے۔ گرینگو دراصل جنگل میں پیدا ہوا تھا، مگر لورین نے اسے ایک سرکاری ادارے سے گود لے کر جدید انداز میں تربیت دی، جس میں انعامات کا استعمال کیا گیا،بالکل اسی طرح جیسے کتوں کو سکھایا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لورین نے ہمیشہ گھوڑے کو اپنی مرضی کا اختیار دیا، مگر گرینگو کو پرفارم کرنا واقعی پسند ہے، خاص طور پر جب اسے تعریف اور انعام ملے۔لورین نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈ ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ گھوڑوں کی دنیا میں ہمارا تربیتی طریقہ روایتی نہیں ہے۔ کلکر ٹریننگ اور مثبت حوصلہ افزائی کو عام طور پر کتوں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ گھوڑوں کے ساتھ بھی نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ جب ہم پرفارم کرتے ہیں تو ہم ایک اہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تربیت کے متبادل اور انسان دوست طریقے بھی موجود ہیں اور گھوڑے صرف سواری تک محدود نہیں، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر بھی بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ریکارڈ توڑنے کی تیاری کے دوران، لورین اور گرینگو نے کئی ماہ تک تربیت کی، ہر کرتب کو چھوٹے اور قابلِ انتظام حصوں میں سیکھا، اور آخرکار سب کو یکجا کیا۔لورین نے بتایاکہ گرینگو کیلئے یہ کبھی محنت محسوس نہیں ہوئی، یہ بس کھیل تھا۔ جبکہ مجھے اس کی ذمہ داری کا احساس ہوتا، اس کیلئے یہ صرف ساتھ گزارا گیا وقت تھا، کچھ ایسا جو اسے واقعی پسند ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی محنت کا ہمیشہ انعام ملتا ہے، جس سے یہ تجربہ اس کیلئے مزید خوشگوار بن جاتا ہے۔یہ بات بھی گرینگو کیلئے آسانی پیدا کرتی ہے کہ وہ ایک کھلے فارم میں مکمل آزادی کے ساتھ رہتا ہے،وہ ہر وقت باہر ہوتا ہے اور جب چاہے گھاس اور پناہ گاہ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ جب دل چاہتا ہے، وہ ایک''چھوٹے ریوڑ‘‘ کے دیگر جانوروں کے ساتھ کرتب پیش کرتا ہے، اور باقی وقت اپنی مرضی سے کیچڑ میں کھیلتا ہے اور لورین سے اپنا پسندیدہ انعام مانگتا ہے۔جب یہ جوڑی مقابلے کیلئے تیار ہوئی، تو لورین نے گرینگو کیلئے 36 کرتبوں کی فہرست تیار کی،ساتھ ہی آٹھ اضافی کرتب بھی شامل کیے تاکہ مقابلے کے دن سب کچھ منظم اور ترتیب وار ہو۔ ان کرتبوں میں حرکت کے اشارے شامل تھے، جیسے ایک ٹانگ اٹھانا یا سر جھکانا اور ساتھ ہی سامان کے ساتھ کرتب بھی، جیسے جھنڈا لہرانا یا گھنٹی بجانا۔ لورین نے کہاکہ ہمارے تربیتی سیشنز مختصر اور انعامات کے ساتھ رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ جوش اور دلچسپی کے ساتھ حصہ لے۔ میں یقین رکھتی ہوں کہ میں اس کی توجہ قائم رکھ سکتی ہوں کیونکہ وہ واقعی ہمارے کام سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ میں بہت سوچ سمجھ کر کبھی اسے زیادہ محنت نہیں کراتی۔