کولہے کے درد سے بچائو کے قدرتی طریقے
اسپیشل فیچر
بدنِ انسانی میں عصبی نظام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ پورا جسم اور اس میں کار کردگی سر انجام دینے والے تمام نظام بالو استہ یا بلا واستہ عصبی نظام سے منسلک ہیں۔جب کسی بھی عصب میں خرابی پیدا ہو نے سے درد کا احساس ہوتا ہے ،تو پورا جسم ہی اس کی لپیٹ میں آجا تا ہے۔عام طور پر اعصاب میں درد کا احساس پیدا ہو نا کسی بھی قسم کے مرض کو ظاہر کر ناہو تا ہے۔اعصابی دردوں میں سے ایک کولہے کا درد بھی ہے، جسے عرق النساء،لنگڑی کا درد یا شاٹیکاپین کہا جاتا ہے۔ یہ درد کولہے سے محسوس ہو کر ران،گھٹنے اور ٹخنے تک جاتا ہے۔بسا اوقات یہ بحالت شدت پائوں کی انگلیوں میں بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔یہ دردزیادہ تر ایک ٹانگ میں ہی ہوا کرتا ہے، تاہم کبھی کبھار دونوں ٹانگوں میں بھی اس کا احساس ہونے لگتا ہے۔اسے ریگنی کا درد بھی کہا جاتا ہے کیونکہ جب یہ ریحی اسباب کے تحت لاحق ہوتا ہے، تو یہ ٹانگ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف حرکت کرتا رہتا ہے ۔کبھی کولہے کے جوڑ میں تو کبھی ران کی اگلی جانب ،کبھی گھٹنے میں توکبھی ران کی پچھلی طر ف اور کبھی نیچے ٹخنے اور پنڈلی میں سرایت کرنے لگتا ہے ۔اس درد کی انہی حرکات کی بنا پہ اسے رینگنی یا رینگنے والا درد کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں بعض علاقوں میں اسے لنگڑی کا درد بھی کہا جاتا ہے،چونکہ درد کی شدت کی وجہ سے مبتلائے مرض لنگڑا کر چلنے پہ مجبور ہوجاتا ہے ۔یوں لنگڑا کر چلنے کی وجہ سے ہی اسے لنگڑی کا درد کہا جاتا ہے۔کولہے کا دردہلکے درد کے احساس کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے اور بتدریج شدت اختیار کرتا جاتا ہے۔جب یہ پرانا ہو جائے تو ٹیس کے ساتھ چیرنے کا احساس لیے ہوتا ہے۔کبھی دورے کی شکل میں حملہ کرتا ہے، تو کبھی مسلسل جلن کا احساس دلاتا ہے۔زیادہ عرصہ مرض پر قابو نہ پانے کی صورت میں مریض کی ٹانگ کمزور ہو جاتی ہے اور وہ مریض چلنے پھرنے سے قاصر ہو جاتا ہے اور اگر چلے بھی تو لنگڑا کر چل سکتا ہے۔اس مرض کی ایک خاص علامت یہ بھی ہے کہ یہ اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے۔اس مرض کے لاحق ہونے کے اسباب درج ذیل ہیں:یورک ایسڈ میں غیر ضروری اضافہ،آتشکی مادے کی خون میں پیدائش یا شمولیت،نظام ہضم میں کمزوری واقع ہونا،دائمی قبض ہونا، گھنٹیا، بڑھاپا،موٹاپا،بیرونی چوٹ لگنا اور غیر متوازن غذا کا بکثرت استعمال بھی اس مرض کو لاحق کرنے والے اسباب میں شامل ہیں۔کمر درد ،کمر کے مہروں کا ٹلنا یا کولہے کی ڈسک کے مسائل پیدا ہونا بھی عرق النسا ء کا سبب ہو سکتے ہیں۔شاٹیکا پین سے نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غذائی پرہیز سختی سے اپنایا جائے۔ گوشت، دالیں، چاول، بینگن، مکئی، کولا مشروبات، بیکری مصنوعات،ترش اور بادی اشیا سے دور رہا جائے۔ بطور علاج میجک آئل اعصابی دردوں، جوڑوں کے درد اور رینگنی کے درد کا شافی اور فوری علاج ہے۔مقامِ مائوف پر چند قطرے لگا کر ہلکا سا مساج کرنے کے بعد گرم روئی سے ٹکور کریں یا نیم گرم روئی متاثرہ جگہ پہ باندھ دیں۔طبی مرکبات میں موثر اور قابلِ اعتماد دوائوں میں معجون سورنجاں،معجون فلاسفہ، معجون چوب چینی،حب آسگند اور حب سورنجاں وغیرہ شامل ہیں جو مارکیٹ میں بہ سہولت دستیاب ہیں اور اپنے معالج کے مشورے سے استعمال کی جا سکتی ہیں۔علا وہ ازیں گھریلو تراکیب کے طور پر درج ذیل طبی فارمولے نہایت مفید ثابت ہوا کرتے ہیں۔چوب چینی کا سفوف بنا کر نصف چمچ (چائے والا )رات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ پی لیں۔چند روزہ استعمال سے ہی افاقہ ہوگا۔اندر جو شیریں کا سفوف بنا کر دیسی گھی میں بھون کر رکھ لیں۔دن میں دو بار دو گرام کھا کر چائے پی لیں۔مرچ سیاہ،مرچ دراز اور اجوائن دیسی ہم و زن پیس کر ایک گرام دن میں دو بار کھانے کے بعد کھالیا کریں۔جسم کو گرم کرنے اور تقویت دینے والی غذائیں بکثرت کھائیں۔خشک میوہ جات میں پستہ،چلغوزہ،مونگ پھلی مغز بادام اور انجیر کا استعمال مفید رہے گا۔ مرض کے اسباب کے مطابق دوا اور غذا استعمال کیے جائیں۔قبض کی صورت میں پہلے قبض سے نجات حاصل کی جائے ورنہ آپ کی تمام تر کوششیں بے سود ہونگی۔انجیر کے سات دانے رات کو عرقِ گلاب میں بھگو کر نہار منہ انجیر کھا کر عرق پی لینے سے قبض سے مستقل طور پہ چھٹکارا حاصل ہوگا۔یورک ایسڈ کی زیادہ ہونے کی کیفیت میں عرق سونف نصف کپ دن میں دو بار روزانہ پینا شروع کر دیںاور پروٹین والی غذا ئوں کو ترک کردیں اورروز مرہ پون گھنٹہ تیز قدموں کی سیر شروع کردیں۔اپنی خوراک میں ریشے دار غذا ئیں ،پھل،کچی سبزیاں،جو کا دلیہ اور دودھ وغیرہ کا استعمال قدرے بڑھا دیں۔انشا ء اللہ ہفتے عشرے میں ہی مرض کی علامات میں کمی واقع ہوکر آپ صحت مندہو جائیں گے۔hk.niaz@yahoo.com ٭…٭…٭