پاکستان کا ہالینڈ... گہلن : (تحصیل پتوکی میں نرسری کا کاروبار)
اسپیشل فیچر
تعارف: پودے گھر کی سجاوٹ میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آج کل اس رجحان میں کچھ زیادہ ہی اضافہ ہوگیا ہے۔ پوش علاقوں میں واقع گھروں میں انواع و اقسام کے پودے نظر آتے ہیں جنہیں بہت ہی خوبصورتی سے لگایا گیا ہوتا ہے۔ پودوں کے شوقین اس کام پر بھاری رقم بھی خرچ کرتے ہیں۔ پودوں کے شوقین افراد کا اس بارے کہنا ہے کہ ہم گھر کی تعمیر پر تو لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں لیکن اس کی اصل خوبصورتی پودوں اور لینڈ سکیپنگ پر کنجوسی کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ اس کام کے لئے اگر بیرون ممالک سے بھی پودے منگوانے پڑیں تو وہ یہ کام بھی کر گزرتے ہیں۔آغاز:یہ نرسریاں آج سے تیس سال قبل لاہور ملتان روڈ کے بننے کے فوری بعد عبدالواحد، یحییٰ، عبدالغنی، اکبر ممبر اور شریف نے شروع کی تھیں ۔اس کے بعد اس کاروبار نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ یہ ہاتھ سے کام کرنے میں عار نہ سمجھنے والے کم پڑھے لکھے لیکن لینڈ سکیپنگ اور حس لطافت سے بہرہ ور لوگ ہر پودے کو دل و جان سے سینچتے ہیں اور ہر روز انکی دیکھ بھال کرتے ہیں۔دیہہ جہاں عروج ہے:گہلن، 22 چک سر یسر، رکن پورہ، نظام پورہ اور سہجوال، سے تعلق رکھنے والے 4 ہزار مالکان اور 12تا15 ہزارمزدوروں کا روز گاران ہی نر سریوں سے جڑاہواہے جو پشاور تا کراچی، دبئی، عرب ریاستوں، تک پودوں کی فراہمی یقینی بنائے ہوئے ہیں۔لینڈ سکیپنگ:امراء میںپودوں کے بڑھتے ہوئے شوق سے پتوکی میں نرسریوں کا کاروبار بھی بہت پھیل گیا ہے۔ آج سے دس پندرہ برس قبل یہاں چند ایک ہی نر سریاں دیکھنے میں آتی تھیں۔ لیکن لینڈ سکیپنگ کو فروغ حاصل ہونے کی وجہ سے اب ہر چند قدم کے فاصلے پر ضرورسینکڑوں نرسریاں نظر آجاتی ہیں۔پودے:اِن نرسریوں میں ملکی اور غیر ملکی دونوں قسم کے پودے فروخت ہوتے ہیں۔ تھائی لینڈ ، ہالینڈ سے در آمد کئے جانے والے پودوں کی بہت زیادہ ورائٹی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی سے بھی زیادہ قیمتی پودے گہلن منگوائے جاتے ہیں۔ اس کام کو شائد اس وجہ سے بھی فروغ حاصل ہوا ہے کہ اب یہاں غیر ملکی بیجوں کے ساتھ بھی پودے اُگائے جارہے ہیں۔امریکہ کی گولڈ سمتھ کمپنی کے بیج پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ یہاں بھی ان بیجوں سے پودے اُگا کر فروخت کیے جاتے ہیں۔پتوکی میںایک نرسری کے مالک نے بتایا کہ جتنی بھی نرسریاں ہیں ان کے مالکان کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔ اس وجہ سے بھی یہ کام زیادہ پھیل گیا ہے۔ پودوں کی اقسام:گہلن میں ہر قسم کے پھل دار پودے دستیاب ہیں۔ مثلا آم، امرود، مالٹا، کینو، چکوترا، گریپ فروٹ، لیچی، انار، آڑو، بادام، جاپانی پھل ، ناشپاتی، لوکاٹ، بیری، کیلا، کجھور، لیموں، نارنجی وغیرہ۔ اسی طرح خوشبودار پودوں میں فرانسیا، سفورا، کینڈی فلاور، ٹروواٹر، کار ڈینا، فلوریڈا پلانٹس، نرگس، مراوی، موسمری، گل چرا، چمبیلی، رات کی رانی، دن کار اجا، انٹییم اہم ہیں۔الغرض دنیا کا کون سا پودا ہے جو اس نرسری سے دستیاب نہیں ہوتا۔ چند عام دستیاب ورائٹیاں ذیل ہیں: چاننا، چاننی، کچنار، کنیر، پاپیتا، سکھ چین، لاجسٹونیا، سیلس کس، سپاراگراس، ٹی فن، کڑاھی پام، پروٹین، لمنڈابیل، لمبی کریپر، کہرابیل، نسیحیریا بیل، ہار شنگھار، عشق پیچا، لیلی، سفید سرخ، پیلی بیل، فارموسا، یوکا، ایرو کیریا، کنگھی پام، واشٹونیا، فونکس پام، بوتل پام، گولڈن پام، بسمار کیا، لیڈی پام، گلاب، گمی دھریک، یوفور بیا، سلوری فیکس(گولڈن اورکالی)، گولڈن سٹار لائٹ، لال جھاڑی، زیمکا، ڈرونیا، مروی، مروا، (چائنہ کا) ایسٹونیا، کونو، ٹیبل پام، زیمبیا پام، نگنڈرا، بید پام، کین پام، فونیکس پام، کیکٹائی، ایکسرنیا، گھوبھی پھول، جی لسنیم، پے ناری، الٹا شوخ، سیدھا شوخ لال جھاڑی، لال ٹہنی،(سیاہ، سفید)، گلاب (انگلش)، دیسی گلاب، (پیلا، لال، گلابی، بلیک ٹائیگر) بروجن۔(سید ظفر عباس نقوی کی تصنیف ’’ سیاحت ِضلع قصور‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭