مکلی شہرِ خاموشاں

مکلی شہرِ خاموشاں

اسپیشل فیچر

تحریر :


مکلی تقریباً 50فٹ بلند ایک پہاڑی اور اس کے اطراف کے علاقے کے نام ہے جو ٹھٹھہ شہر سے مغربی طرف ہے ۔12 میل لمبی اس پہاڑی پردنیا کا سب سے بڑا قبرستان واقع ہے۔ ٹھٹھہ شہر سے کراچی جانے والی نیشنل ہائی وے اس پہاڑی کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے ۔جنوبی حصہ میں حضرت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی، مخدوم ابو القاسم نقشبندی، مخدوم آدم نقشبندی کے مزارات ہیں جبکہ شمالی حصہ میں شہنشاہ مکلی سید عبداللہ شاہ صحابی، حضرت شاہ مراد شیرازی، شیخ جیئہ چراغ مکلی اور شکر الٰہی سادات کے مزارات ہیں، اس پہاڑی کا نام مکلی کیسے پڑا؟ اس کے متعلق تحفۃالکرام کے مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹھوی نے تحریر کیا ہے۔’’ ایک بزرگ حج کے ارادے سے جا رہے تھے کہ ایک شب انہیں اس پہاڑی پر رات بسر کرنے کا اتفاق ہوا رات کو خواب میں خداوند قدوس کے انوارو تجلیات کا غیر معمولی مشاہدہ ہوا جس کے باعث چونک اٹھے اس وقت ان کی زبان پر عربی جملہ جاری تھا جس کے معنی ہیں ’یہ میرے لیے مکہ ہے‘‘ یہ الفاظ صبح تک ان کی زبان پر جاری رہے اس واقعہ کو اتنی شہرت ملی کہ پہاڑی کا نام مکتلی پڑ گیا پھر کثرت استعمال کی وجہ سے حرف ’’تا‘‘ گرِ گیا اور مکلی رہ گیا اور آج اسی نام سے مشہور و معروف ہے ایک دوسری روایت کے مطابق اس نام ’’مکلی‘‘ کی ایک پاک دامن خدا رسیدہ خاتون تھی ۔میر غلام شیر قانع ٹھٹھوی کے اجداد شاہ بیگ ارغون کے عہد 1520-21 ء میں شیراز سے سندھ آئے اور ٹھٹھہ میں آباد ہوئے، اُن کے والد کا نام میر عزت اللہ تھا علی شیر قانع نقشبندی سلسلے میں شیخ عبدالاحد سے بیت ہوئے۔ اُن کے والد بھی مخدوم ابوالقاسم نقشبندی کے مرید تھے۔ قانع 1727-28 میں میاں نور محمد کلہوڑی کے دور حکومت میں ٹھٹھہ میں پیدا ہوئے اور ٹھٹھہ ہی میں تعلیم پائی۔ وہ تمام علوم متداولہ معقول و منقول کے عالم تھے۔ وہ اپنے وقت کے عالم، فاضل، ادیب، شاعر، نثر نگار محقق، مورخ تذکرہ نگار اور وسیع النظر انسان اور صوفی تھے اُن کی 43 تصانیف کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ میرعلی شیر قانع کے اسلاف کا ذکر اہل علم بزرگوں میں کیا جاتا ہے مگر خود قانع وسیع النظر اور وسیع المشرب مسلمان تھے۔ ایک جانب اہل بیت کے ذکر اور غم سے متعلق ان کی تصانیف ’’اعلان غم‘‘ ، ’’مختار نامہ‘‘ اور زبدۃ المناقب ان سے اُن کی عقیدت و صحبت کی آئینہ دار ہے تو دوسری طرف وہ صحابہ کرامؓ اور اولیاء عظام ؒ کے بھی اتنے ہی محب دکھائی دیتے ہیں۔ آپ نے اپنے مشہور تذکرے معیار سالکان طریقت، میں بارہ اماموں اور اہل بیت کے ذکر کے پہلو بہ پہلو صحابہ کرامؓ اور صوفیائے عظام ؒ کا تذکرہ بھی اسی عقیدت و صحبت سے کیا ہے۔ معیار سالکان طریقت، کا ایک قلمی نسخہ برٹش میوزیم لندن میں محفوظ ہے۔ مصنف کا اصل نسخہ دستیاب نہیں اس لیے اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ میر علی شیر قانع نے 64 سال کی عمر میں رحلت فرمائی اور مکلی کے قبرستان میں دفن ہوئے۔ مکلی کے اس پہاڑی سلسلے پر لاکھوں اولیاء اکرام، شہداء اور شاہان سلف کے مزارات ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
نیوجی مسجد

نیوجی مسجد

چین میں اسلام کی قدیم اور روشن علامتچین کا دارالحکومت بیجنگ صدیوں پرانی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کا امین شہر ہے۔ اسی تاریخی شہر میں واقع نیوجی(niujie) مسجد چین کی قدیم ترین اور اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ مسجد نہ صرف چینی مسلمانوں کیلئے ایک روحانی مرکز ہے بلکہ چین میں اسلام کی قدیم موجودگی اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال بھی ہے۔ اپنی منفرد تعمیر، تاریخی اہمیت اور مذہبی تقدس کی وجہ سے نیوجی مسجد کو چین میں اسلامی ورثے کی نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔نیوجی مسجد کی تعمیر تقریباً ایک ہزار سال قبل 996ء میں عمل میں آئی۔ اس زمانے میں چین کے مختلف علاقوں میں مسلمان تاجروں اور مبلغین کی آمد و رفت جاری تھی، جس کے نتیجے میں اسلام یہاں پھیلتا گیا۔ بیجنگ میں آباد مسلمان تاجروں اور مقامی مسلمانوں کی عبادت کیلئے اس مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔وقت کے ساتھ ساتھ مختلف چینی سلطنتوں کے ادوار میں اس مسجد کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی۔ خصوصاً ''منگ ڈائنیسٹی‘‘(Ming Dynasty)اور چنگ ڈائنیسٹی (Qing Dynasty) کے زمانے میں اس مسجد کی عمارت کو مزید وسعت دی گئی اور اس کی تزئین و آرائش کی گئی۔ اس طرح نیوجی مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ چین میں اسلام کی تاریخی یادگار بھی بن گئی۔بیجنگ میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ نیوجی مسجد ان مسلمانوں کیلئے نہ صرف عبادت کا مرکز ہے بلکہ ایک مذہبی، ثقافتی اور سماجی مرکز کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔یہاں باقاعدگی سے نمازِ جمعہ، عیدین کی نمازیں اور دیگر دینی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران مسجد میں خصوصی عبادات اور افطار کے اجتماعات بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں اسلامی تعلیمات کی ترویج اور مذہبی رہنمائی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔منفرد طرزِ تعمیراس مسجد کا کل رقبہ ڈیڑھ ایکڑ ہے جبکہ اندرونی رقبہ64600مربع فٹ ہے۔ اس میں ایک ہی وقت میں ایک ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔نیوجی مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا منفرد فن تعمیر ہے۔ بظاہر یہ مسجد ایک روایتی چینی عمارت کی طرح دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس کی تعمیر میں چینی طرزِ تعمیر کے اصولوں کو اختیار کیا گیا ہے۔ مسجد کی چھتیں خمیدہ انداز میں بنی ہوئی ہیں، لکڑی کی نفیس نقاشی اور سرخ ستون چینی فن تعمیر کی جھلک پیش کرتے ہیں۔تاہم اندر داخل ہونے پر اسلامی فن تعمیر کے نمایاں عناصر نظر آتے ہیں۔ مسجد کے اندرونی حصے میں عربی خطاطی، قرآنی آیات اور اسلامی نقش و نگار موجود ہیں۔ قبلہ کی سمت میں محراب نہایت خوبصورت انداز میں بنائی گئی ہے، جبکہ نماز کیلئے وسیع ہال بھی موجود ہے جہاں سینکڑوں نمازی بیک وقت عبادت کرسکتے ہیں۔ اس طرح یہ مسجد چینی اور اسلامی فن تعمیر کے حسین امتزاج کی مثال ہے۔ثقافتی اور سیاحتی اہمیتنیوجی مسجد مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاحتی لحاظ سے بھی خاصی شہرت رکھتی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس تاریخی مسجد کو دیکھنے اور اس کے منفرد فن تعمیر کا مشاہدہ کرنے کیلئے بیجنگ کا رخ کرتے ہیں۔ مسجد کے اطراف کا علاقہ بھی مسلمانوں کی ثقافت اور طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حلال کھانوں کے ریستوران اور اسلامی مصنوعات کی دکانیں موجود ہیں۔یہ مسجد اس حقیقت کی علامت ہے کہ مختلف تہذیبیں اور مذاہب ایک ہی معاشرے میں باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ چینی طرزِ تعمیر اور اسلامی روحانیت کا امتزاج اس مسجد کو دنیا کی منفرد مساجد میں شامل کرتا ہے۔نیوجی مسجد بیجنگ نہ صرف چین کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے بلکہ اسلام کے عالمی تاریخی ورثے کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال سے یہ مسجد مسلمانوں کی عبادت، روحانیت اور اجتماعیت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس کی تاریخی عظمت اور فن تعمیر کی خوبصورتی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اسلام نے دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی اقدار اور ثقافت کے ساتھ مقامی تہذیبوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی ہے۔

عباس ابن فرناس

عباس ابن فرناس

عظیم مسلم سائنسدان جس نے انسانی پرواز کا تجربہ کیاابوالقاسم عباس ابن فرناس نویں صدی عیسوی کے مسلم سپین سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے انسانی پرواز کا تجربہ کیا، وہ دور جب انسانی پرواز کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ عباس ابن فرناس نے اس زمانے میں اڑنے کی کوشش کی۔ اس نے اڑنے کیلئے ایک غلاف تیار کیا جس میں پراور متحرک بازو لگے ہوئے تھے۔ عباس ابن فرناس نے اپنے تیار کردہ پروں والے اس غلاف کی مدد سے خود اڑنے کا خطرہ مول لیا اور مصنوعی پروں کے ساتھ ایک بلند چٹان سے کود پڑا۔ تھوڑی دیر ہوا میں رہنے کے بعد وہ نیچے اترنے لگا تو سنبھل نہ سکا اور زخمی ہو گیا۔ پرواز میں اترتے ہوئے ابن فرناس کی ناکامی کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس نے پرندوں کی اڑان کا مطالعہ کرتے وقت اس چیز پر غور نہیں کیا کہ وہ نیچے آتے ہوئے اپنی دم سے بھی مدد لیتے ہیں۔عباس ابن فرناس کے حالات زندگی کے متعلق کوئی تاریخی مواد نہیں ملتا۔ اس کے بارے میں صرف یہی معلومات میسر ہیں کہ وہ بربرالاصل اور بنو امیہ کا آزاد کردہ غلام تھا اور رندہ(Ronda)کے علاقے کا رہنے والا تھا۔ بلور بھی اسی کی ایجاد ہے۔ اس نے ایک میقات (گھڑی) اور چوڑی وار گولا'' کرۂ فلکی‘‘ بھی ایجاد کیا۔ ابو القاسم عباس ابن فرناس اندلس کا شاعر، ادیب تھا۔ وہ اموی امراء قرطبہ، الحکم الاول، عبدالرحمن ثانی اور محمد اول کے دربار سے وابستہ رہا اور اپنی قصیدہ گوئی کی بدولت متواتر تین بادشاہوں کے عہد حکومت میں دربار سے منسلک رہا۔نویں صدی کے آخری عشروں میں قرطبہ میں وہ تنہا شخص تھا جو خلیل بن احمد کی کتاب کے مضامین کی تشریح کر سکتا تھا۔ اس نے 887ء میں وفات پائی۔

رمضان کے پکوان

رمضان کے پکوان

اریبین رائساجزاء: چاول آدھا کلو، شملہ مرچ دو عدد، چکن پیس ایک کپ،نمک ایک چائے کا چمچ، چکن پاؤڈر ایک کھانے کا چمچ،سفید مرچ ایک چائے کا چمچ، سرکہ چار کھانے کے چمچ،پیلا رنگ، کشمش ایک چوتھائی کپ۔ترکیب:چاول ابال لیں۔اب ایک پین میں چار کھانے کے چمچ آئل لیں اور اس میں شملہ مرچ ،ابلی ہوئی چکن پیس، نمک اور چکن پاؤڈر سفید مرچ سرکہ کشمش ڈال کر فرائی کریں اور پھر ابلے ہوئی چاول ڈال کر مکس کریں اور پیلا رنگ ڈال کر پانچ منٹ دم دیں۔عربی بریڈ پڈنگ اجزاء :ڈبل روٹی کے توس چھ عدد (چاروں طرف کے کنارے کاٹ لیں)۔سوکھی خوبانی ایک پیالی( گٹھلی نکال کر باریک باریک کاٹ لیں)، سنگترے کے چھلکے چار عدد ( سفید والا حصہ نکال کر باریک کاٹ لیں )،کنڈینس ملک ایک ٹن۔ کارن فلور ایک چائے کا چمچ،بادام دس عدد (باریک کاٹ لیں)۔ تلنے کیلئے کوکنگ آئل۔ ترکیب: سب سے پہلے ایک فرائنگ پین میں کوکنگ آئل گرم کریں۔ توس گولڈن برائون تل کر نکال لیں۔ ایک اخبار پر پھیلا دیں تاکہ چکنائی جذب ہو جائے۔ ایک الگ فرائنگ پین لیں۔ دودھ ڈال کر ذرا پکالیں اور کارن فلور ملاکر گاڑھا گاڑھا کرلیں۔ پھر سے ایک فرائنگ پین لے لیں اس میں چینی پگھلا کر خوبانی کے ٹکڑے ، سنگترے کے چھلکے اور بادام ڈال کر پکالیں۔ چینی جب شیرا بن جائے تو اتارلیں۔ تلے ہوئے توس کے اوپر سب سے پہلے اچھی طرح گاڑھا کیا ہوا دودھ لگا لیں پھر تینوں چیزیں لگاکر ایک ڈش میں رکھتے جائیں۔ چاہیں تو ٹھنڈا پیش کریں یا گرم گرم پیش کریں۔ دونوں طرح سے مزے دار لگیں گے۔ یہ ڈش پانچ افراد کیلئے کافی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

جوہری ہتھیار بردارامریکی طیارہ حادثے کا شکار14فروری 1961ء میں امریکی فضائیہ کا ایک بمبار طیارہ بی 52 جو جوہری ہتھیار لے کر پرواز کر رہا تھا، امریکی ریاست کیلیفورنیا میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ طیارہ معمول کی فوجی پرواز کر رہا تھا کہ اچانک فنی خرابی کے باعث زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں موجود عملے کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ چونکہ طیارہ جوہری ہتھیار لے جا رہا تھا، اس لیے اس واقعے نے امریکی حکام میں شدید تشویش پیدا کر دی۔ خوش قسمتی سے جوہری ہتھیار محفوظ رہے اور کسی بڑے ایٹمی حادثے سے ملک محفوظ رہا۔10ہزار کلوگرام کا بمدوسری عالمی جنگ کے اختتام کے قریب14مارچ1945ء کو RAFکی جانب سے جرمن اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے ایک بم کا استعمال کیا گیا جسے ''گرینڈ سلام‘‘ (Grand Slam)کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جرمنی کے خلاف استعمال ہونے والے اس بم کا وزن تقریبا10ہزار کلو گرام تھا۔ابتدائی طور پر اس بم کا نام''Tallboy Large‘‘ رکھا گیا تھا لیکن میڈیا میں اس بم کے متعلق خبریں آنے کے بعد اس کا خفیہ نام تبدیل کر کے Grand Slamرکھ دیا گیا۔اس بم کی صلاحیت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کے پھٹنے سے ایک زلزلے جیسی کیفیت پیدا ہوگئی۔میانمار میں قتل عام14 مارچ 2021 ء کو ''ہلائینگتھایا‘‘ ٹاؤن شپ ینگون، میانمار میں عام شہریوں کا قتل عام تھا۔ اس قتل عام کے دوران، میانمار کی فوج کے دستوں اور میانمار پولیس فورس کے اہلکاروں نے کم از کم 65 افراد کو ہلاک کیا۔ یہ قتل عام 2021ء میں میانمار کی بغاوت کے بعد رونما ہونے والے سب سے مہلک واقعات میں سے ایک تھا۔ اس واقعہ نے شہریوں کے خلاف فوج کے تشدد میں سنگین اضافہ کیا۔ پرتشدد کریک ڈاؤن نے ملک کے ایک بڑے تجارتی مرکزہلائینگتھایا سے فیکٹری ورکرز، رہائشیوں اور کاروباری افراد کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنے پر مجبور کردیا۔ٹراپیکل طوفانشدید ٹراپیکل طوفان کو افریقہ اور نصف جنوبی کرہ کو متاثر کرنے والے نہایت بدترین طوفانوں میں شمار کیا جاتاہے۔طویل عرصہ تک جاری رہنے والے اس تباہ کن طوفان نے موزمبیق، زمبابوے اور ملاوی میں شدید نقصان پہنچایا لیکن اس کی شدت میں اضافہ14مارچ2019ء ہوا۔طوفان کی وجہ سے 1500سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور صورتحال ایک انسانی بحران میں تبدیل ہو گئی۔یہ جنوب مغربی بحرہ ہند میں ریکارڈ کیا گیا سب سے مہلک ٹراپیکل طوفان تھا۔اس خوفناک طوفان میں جتنے افراد ہلاک ہوئے ان سے کہیں زیادہ لوگ لاپتہ ہو گئے۔سٹرلنگ ایئر لائن حادثہ 1972ء میں آج ہی کے دن سٹرلنگ ائیر لائن کا طیارہ دبئی کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ فلائٹ296نے کولمبو سے اڑان بھری، ممبئی، دبئی اورانقرہ سے ہوتے ہوئے کوپن ہیگن پہنچنا تھا لیکن دبئی کے قریب بدقسمتی سے حادثے کا شکار ہو گئی۔جہاز میں موجود 112 مسافر حادثے میں لقمۂ اجل بنے۔ تحقیقات میں یہ بتایا گیا کہ یہ خوفناک حادثہ جہاز کے پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے پیش آیا۔اس حادثے کو ایوی ایشن اور متحدہ عرب امارات کی تاریخ کا بد ترین حادثہ قرار دیا جاتا ہے۔

چنیوٹ کی شاھی مسجد

چنیوٹ کی شاھی مسجد

شاہ جہاں کے عہد کی یادگارچنیوٹ شہر اپنی تاریخی عمارتوں، لکڑی کے نفیس کام اور قدیم طرزِ تعمیر کی وجہ سے برصغیر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ دریائے چناب کے کنارے آباد اس شہر میں مغلیہ دور کی کئی یادگاریں موجود ہیں مگر ان میں سب سے نمایاں اور اہم عمارت چنیوٹ کی شاہی مسجد ہے۔چنیوٹ کی شاہی مسجد کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ اس مسجد کی نسبت مغل دربار کے طاقتور وزیرِاعظم سعد اللہ خان (1595ء تا 1655ء ) سے کی جاتی ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق مسجد کی تعمیر کا آغاز 1646ء میں ہوا اور یہ تقریباً 1655ء تک مکمل ہوئی۔ اس دور میں مغل سلطنت اپنے عروج پر تھی اور فنِ تعمیر میں خوبصورتی، توازن اور شان و شوکت کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ یہی خصوصیات اس مسجد میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہیں۔سعد اللہ خان چنیوٹ کے رہنے والے تھے اور مغل دربار میں ان کا شمار انتہائی بااثر شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے آبائی شہر کی ترقی اور مذہبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کروائی۔ اس طرح یہ مسجد نہ صرف عبادت گاہ بلکہ ایک فلاحی اور سماجی مرکز کے طور پر بھی قائم کی گئی۔چنیوٹ کی شاہی مسجد شہر کے وسط میں واقع ہے اور قدیم بازاروں کے درمیان بلند مقام پر واقع ہے۔ مسجد کا مقام اس طرح منتخب کیا گیا تھا کہ یہ شہر کی مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بن سکے۔مسجد کے اردگرد تاریخی بازار موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس علاقے میں صدیوں سے تجارتی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ مغل دور میں مذہبی عمارتوں کو اکثر ایسے مقامات پر تعمیر کیا جاتا تھا جہاں لوگ آسانی سے جمع ہو سکیں، چنیوٹ کی شاہی مسجد بھی اسی روایت کی عکاسی کرتی ہے۔فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیاتچنیوٹ کی شاہی مسجد کا فنِ تعمیر مغل طرزِ تعمیر کی بہترین مثال ہے۔ مسجد کی مجموعی ساخت مغل دور میں رائج سات محرابی یا سات خانے (Seven Bay) طرز پر مبنی ہے۔ اس طرز میں مرکزی عبادت گاہ کے سامنے محرابوں کی ایک قطار ہوتی ہے جو عمارت کو متوازن اور خوبصورت بناتی ہے۔مسجد کے مرکز میں ایک کشادہ صحن ہے۔ مغل مساجد میں کشادہ صحن ایک اہم عنصر ہوتا تھا کیونکہ جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے تھے۔صحن کے چاروں طرف محرابی برآمدے بنائے گئے ہیں جو نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ عمارت کو ایک خاص جمالیاتی حسن بھی دیتے ہیں۔ ان برآمدوں کی محرابیں مغل فنِ تعمیر کی روایتی سادگی اور وقار کی نمائندگی کرتی ہیں۔اس مسجد کی ایک اہم خصوصیت اس کا بلند چبوترہ ہے۔ اس بلند بنیاد کے اندر دکانیں بنائی گئی ہیں۔ دکانوں کا مقصد مسجد کے اخراجات کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ فراہم کرنا تھا۔ اس طرح مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ ایک خود کفیل ادارہ بھی تھی۔ مغل دور میں مذہبی عمارتوں کے ساتھ ایسی معاشی سرگرمیوں کا انتظام عام تھا تاکہ ان کی دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ستونوں کا منفرد استعمالچنیوٹ کی شاہی مسجد کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ محرابِ قبلہ کے سامنے بنے برآمدوں کو سہارا دینے کے لیے ستونوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ مغل مساجد میں عام طور پر دیواروں اور محرابوں کے ذریعے چھت کو سہارا دیا جاتا تھا لیکن اس مسجد میں ستونوں کا استعمال نسبتاً غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس طرز کی ایک مثال لاہور کے قلعہ میں موجود موتی مسجد میں بھی ملتی ہے جو شاہ جہاں کے دور ہی میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں معمار مختلف تجربات کے ذریعے عمارتوں میں نئے انداز متعارف کروا رہے تھے۔سادگی اور وقار کا امتزاجچنیوٹ کی شاہی مسجد کا ڈیزائن اگرچہ شاندار ہے لیکن اس میں غیر ضروری تزئین و آرائش کم نظر آتی ہے۔ یہ سادگی مغل فنِ تعمیر کے اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں حسن اور توازن کو نمایاں رکھا جاتا تھا۔مسجد کی محرابیں، گنبد اور برآمدے نہایت متناسب انداز میں بنائے گئے ہیں۔ اینٹوں اور چونے کے استعمال سے بنائی گئی یہ عمارت آج بھی اپنی مضبوطی اور خوبصورتی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس کی اصل ساخت بڑی حد تک محفوظ ہے۔تاریخی اور ثقافتی اہمیتچنیوٹ کی شاہی مسجد صرف ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے جو مغل دور کی تہذیب، مذہبی زندگی اور شہری منصوبہ بندی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ مسجد صدیوں سے شہر کے لوگوں کے لیے عبادت، تعلیم اور سماجی رابطے کا مرکز رہی ہے۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مغل دور میں مقامی اشرافیہ اور درباری شخصیات اپنے آبائی علاقوں میں عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرتی تھیں۔ سعد اللہ خان کی جانب سے اس مسجد کی تعمیر اسی روایت کی ایک نمایاں مثال ہے۔آج بھی چنیوٹ کی شاہی مسجد شہر کی اہم تاریخی یادگاروں میں شمار ہوتی ہے۔ مقامی لوگ اسے عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ تاریخ اور فنِ تعمیر سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہ ایک اہم مقام ہے۔اگر اس مسجد کی مناسب دیکھ بھال اور تاریخی حیثیت کے مطابق تحفظ کیا جائے تو یہ نہ صرف پاکستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

رمضان کےمشروب و پکوان

رمضان کےمشروب و پکوان

ڈھاکہ چکن اجزاء:چکن: 500 گرام ،دہی: آدھا کپ ادرک لہسن پیسٹ: 1 کھانے کا چمچ،لال مرچ پاؤڈر: 1 چائے کا چمچ،ہلدی: آدھا چائے کا چمچ،نمک: حسبِ ذائقہ،گرم مصالحہ: آدھا چائے کا چمچ،لیموں کا رس: 1 کھانے کا چمچ،بیسن: 2 کھانے کے چمچ،انڈا: 1 عدد،ہری مرچ: 2 باریک کٹی ہوئی،تیل: تلنے کے لیےترکیب:چکن کو اچھی طرح دھو کر ایک برتن میں رکھیں۔اس میں دہی، ادرک لہسن پیسٹ، لال مرچ، ہلدی، نمک، گرم مصالحہ اور لیموں کا رس شامل کریں۔پھر بیسن اور انڈا ڈال کر اچھی طرح مکس کریں تاکہ چکن پر اچھی کوٹنگ ہو جائے۔آخر میں ہری مرچ ڈال دیں اور 30 منٹ کے لیے میرینیٹ ہونے دیں۔کڑاہی میں تیل گرم کریں اور چکن کو درمیانی آنچ پر سنہری ہونے تک فرائی کریں۔گرم گرم چٹنی اور سلاد کے ساتھ پیش کریں۔شاہی ٹکڑےاجزاء :ڈبل روٹی کے سلائس: 6،دودھ: 1 لیٹر،چینی: آدھا کپ،گھی یا تیل: فرائی کرنے کے لیے،الائچی پاؤڈر: آدھا چائے کا چمچ،بادام، پستہ: سجاوٹ کے لیے،کیوڑہ یا گلاب جل: چند قطرے (اختیاری)ترکیب: ڈبل روٹی کے سلائس کو تکون شکل میں کاٹ کر گھی میں سنہری ہونے تک تل لیں۔ایک پتیلی میں دودھ ابالیں اور اس میں چینی اور الائچی ڈال دیں۔دودھ کو تھوڑا گاڑھا ہونے تک پکائیں۔تلی ہوئی بریڈ کو ایک ڈش میں رکھ کر اوپر سے گاڑھا دودھ ڈال دیں۔بادام اور پستے سے سجا کر ٹھنڈا کر لیں۔