الفت کی نئی منزل کو چلا…
اسپیشل فیچر
برصغیر کی فلمی موسیقی کی تاریخ کا اگر غور سے جائزہ لیا جائے توہم اس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ کچھ سنگیت کاروں نے بہت زیادہ فلموں میں موسیقی نہیں دی لیکن جتنا کام بھی کیا بہت اعلیٰ درجے کا کیا اور آج بھی موسیقی کے دلدادہ لوگ ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔ بھارت میں ایک موسیقار ہوتے تھے جن کا نام سجاد حسین تھا۔ انہوںنے غالباً 20 فلموں کی موسیقی دی تھی لیکن ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک شاندار سنگیت کار تھے اور انہوں نے لاثانی دھنیں تخلیق کیں۔ پاکستان میں بھی ایک ایسے موسیقار تھے جنہوں نے بہرحال سجاد حسین سے کافی زیادہ کام کیا لیکن ان کی موسیقی کو بھی بہت اعلیٰ مقام ملا۔ یہ موسیقار تھے ماسٹر عنایت حسین۔ماسٹر صاحب نے 62 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ یہ تعداد اتنی کم بھی نہیں اور اور اگر ان کی ترتیب دی گئی موسیقی کو سنا جائے تو منہ سے بے ساختہ واہ نکلتی ہے۔1916ء میں اندرون بھاٹی دروازہ لاہور میں جنم لینے والے ماسٹر عنایت حسین کا گھرانہ موسیقی سے تعلق رکھتا تھا۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں موسیقی ورثے میں ملی۔ واجبی سی تعلیم حاصل کرنے کے بعدماسٹر عنایت حسین نے خاندانی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے موسیقی کی تعلیم شروع کی۔ انہوںنے کلاسیکل موسیقی کی باقاعدہ تعلیم استاد بڑے غلام علی خان سے حاصل کی جبکہ ان کے ماموں استاد بہار بخش نے انہیں ہارمونیم کی تعلیم دی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ استاد بڑے غلام علی خان نے موسیقی کے تمام اسرار ورموز ماسٹر عنایت حسین کے سپرد کردیئے۔ اور ان کی خصوصی توجہ نے ماسٹر عنایت کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ یہ استاد بڑے غلام علی خان کی تربیت کا اعجاز تھا کہ ماسٹر عنایت حسین کے اندر سے روشنی کا وہ فوارہ پھوٹا جس نے اہل موسیقی کو ایک طویل عرصے تک فیض یاب کیا۔ ابتدائی دنوں میںماسٹر عنایت حسین نے گلوکاری کے ساتھ اداکاری بھی کی۔ انہوں نے ممبئی اور کولکتہ کے مختلف تھیٹروں میں کام کیا۔ نیم کلاسیکی گائیکی میں ان کا نام بڑے ادب سے لیا جاتا تھا۔ نواب آف رام پور نے ان کی شہرت کے پیش نظر انہیں اپنے دربار سے منسلک کردیا۔ماسٹر صاحب نے اپنے دور کی باکمال گلوکارہ زینت بیگم سے ایسے اردو اور پنجابی گیت گوائے جن کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے ایک گراموفون کمپنی کے ساتھ نوبرس تک کام کیا۔1946ء میں انہیں ایک پنجابی فلم ’’کملی‘‘ کی موسیقی ترتیب دینے کیلئے کہا گیا۔ یہ فلم لاہور ہی میں تیار ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ فلم باکس آفس پر ناکامی سے دوچار ہوئی لیکن اس کی موسیقی کو بہت پسند کیا گیا۔ اس فلم میں ماسٹر عنایت حسین نے استاد برکت علی خان سے بھی گیت گوایا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ماسٹر عنایت حسین کی پہلی فلم ’’ہچکولے‘‘ تھی جو 1949ء میں ریلیزہوئی۔ انہوں نے 36 برس تک پاکستانی فلمی صنعت میں کام کیا۔ بعض اوقات کئی کئی برس گزر جاتے تھے اور ان کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ماسٹر صاحب فلموں کا انتخاب بڑا سوچ سمجھ کر کرتے تھے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ ان کی موسیقی فلم کے سکرپٹ اور اس کے مزاج سے ہم آہنگ ہو۔ اس لحاظ سے وہ بڑے (Choosy) تھے۔ ایک وجہ اور بھی تھی اور وہ یہ کہ ماسٹر صاحب بڑی لگن سے دھنیں بناتے تھے۔ اور وہ زیادہ تر گیت راگوں میں بناتے تھے جس کیلئے وقت بھی چاہیے اور محنت بھی۔ انور کمال پاشا ’’انارکلی‘‘ بنا رہے تھے تو انہوں نے تین گانوں کا میوزک دیا اور پھر کام چھوڑ دیا کیونکہ انور کمال پاشا جلدی کام چاہتے تھے۔ دوسری طرف ماسٹر صاحب اپنے مزاج کے مطابق کام کرنا چاہتے تھے۔ ’’انارکلی‘‘ کے باقی گیتوں کا میوزک اس دور کے نامور موسیقار رشیدعطرے نے مرتب کیا۔’’انارکلی‘‘ میں ان کا ترتیب دیا گیا میوزک بہت ہٹ ہوا۔ 1954ء میں ریلیز ہونے والی انورکمال پاشا کی فلم ’’گمنام‘‘ کی موسیقی بھی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی تھی۔ سیف الدین سیف کا لکھا ہوا یہ گیت ’’پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے‘‘ زبان زد عام ہوا۔ اسے اقبال بانو نے گایا تھا۔ اس کے بعد 1955ء میں ’’قاتل‘‘ ریلیز ہوئی جس کے لافانی گیتوں کی موسیقی بھی ماسٹر عنایت حسین نے دی۔ قتیل شفائی کے لکھے گئے اس لاثانی گیت کو ماسٹر عنایت حسین کی موسیقی نے امر بنا دیا۔ ’’الفت کی نئی منزل کو چلا‘‘ اس شہرہ آفاق گیت کو بھی اقبال بانو نے گایا۔ پھر ان کی ایک اور یادگار فلم ’’عذرا‘‘ ریلیز ہوئی جس میں تنویر نقوی نے معرکۃ آلاراء گیت لکھے۔ ماسٹر صاحب کی موسیقی میں سلیم رضا نے ایسا شاہکارگیت گایا کہ جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس گیت کے بول کچھ یوں تھے۔ ’’جان بہاراں، رشک چمن، غنچہ دہن، سیمیں بدن‘‘ اس گیت نے سلیم رضا کو شہرت کے آسمان پر پہنچا دیا۔1965ء میں پاکستان کی پہلی رنگین فلم ’’نائیلہ‘‘ ریلیزہوئی تو اس کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ یہ فلم رضیہ بٹ کے ناول پر بنائی گئی تھی۔ یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم میں ماسٹر عنایت حسین نے مالا سے ایسے شاندار گیت گوائے جو اس گلوکارہ کی شناخت بن گئے۔ ان گیتوں میں مالا اپنے فن کے عروج پر نظر آتی ہیں۔ اس فلم کے یہ دو گیت ملاحظہ کیجئے۔’’دور ویرانے میں اک شمع ہے روشن کب سے‘‘’’اب ٹھنڈی آہیں بھر پگلی‘‘ اس فلم کے نغمات قتیل شفائی اور حمایت علی شاعر کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ آج بھی نائیلہ کے نغمات روح میں اتر جاتے ہیں۔ ماسٹر صاحب نے اس فلم کے گیت راگ ملہار، راگ پہاڑی، راگ درباری اور راگ جے ونتی میں کمپوز کیے۔ ان کی دیگر فلموں میں ’’شمی، آنکھ کا نشہ، عشق پر زور نہیں، اک تیرا سہارا، دیور بھابی، دل میرا دھڑکن تیری، آنسو بن گئے موتی، پہلی نظر، باغی شیراور حق مہر‘‘ شامل ہیں۔انہوں نے 43 اردو اور 19 پنجابی فلموں میں موسیقی ترتیب دی۔ مشہور زمانہ فلم ’’مولا جٹ‘‘ کی موسیقی بھی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی۔ انہوں نے غیر فلمی غزلیں اور گیت بھی کمپوز کیے اور عنایت حسین بھٹی، منور سلطانہ، ملکہ پکھراج، دلشاد بیگم اور ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم سے گوایا۔ ذیل میں ان کے کچھ مشہور گیتوں کا تذکرہ کیا جا رہاہے۔-1 نی سوہے جوڑے والئے…شمی-2 الفت کی نئی منزل کو چلا…قاتل-3 پائل ہیںگیت میں چھم چھم کے…گمنام-4 جان بہاراں رشک چمن…عذرا-5اے دل کسی کی یاد میں… اک تیرا سہارا-6 اب ٹھنڈی آہیں بھر پگلی… نائیلہ-7 دل دیتا ہے رو رو دہائی…عشق پر زور نہیں-8 یہ کاغذی پھول جیسے چہرے… دیور بھابی-9 جھوم اے دل وہ میرا جان بہار…دل میرادھڑکن تیری-10 دنیا کیا کچھ کہتی ہے… پہلی نظرزندگی کے آخری دس برسوں میں انہیں مختلف امراض نے گھیر لیا۔24 مارچ1993ء کو یہ عظیم سنگیت کار اس جہان فانی سے رخصت ہوگیا۔ ان جیسے موسیقار روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ موسیقی سے شغف رکھنے والے انہیں کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔٭…٭…٭