الفت کی نئی منزل کو چلا…

الفت کی نئی منزل کو چلا…

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


برصغیر کی فلمی موسیقی کی تاریخ کا اگر غور سے جائزہ لیا جائے توہم اس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ کچھ سنگیت کاروں نے بہت زیادہ فلموں میں موسیقی نہیں دی لیکن جتنا کام بھی کیا بہت اعلیٰ درجے کا کیا اور آج بھی موسیقی کے دلدادہ لوگ ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔ بھارت میں ایک موسیقار ہوتے تھے جن کا نام سجاد حسین تھا۔ انہوںنے غالباً 20 فلموں کی موسیقی دی تھی لیکن ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک شاندار سنگیت کار تھے اور انہوں نے لاثانی دھنیں تخلیق کیں۔ پاکستان میں بھی ایک ایسے موسیقار تھے جنہوں نے بہرحال سجاد حسین سے کافی زیادہ کام کیا لیکن ان کی موسیقی کو بھی بہت اعلیٰ مقام ملا۔ یہ موسیقار تھے ماسٹر عنایت حسین۔ماسٹر صاحب نے 62 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ یہ تعداد اتنی کم بھی نہیں اور اور اگر ان کی ترتیب دی گئی موسیقی کو سنا جائے تو منہ سے بے ساختہ واہ نکلتی ہے۔1916ء میں اندرون بھاٹی دروازہ لاہور میں جنم لینے والے ماسٹر عنایت حسین کا گھرانہ موسیقی سے تعلق رکھتا تھا۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں موسیقی ورثے میں ملی۔ واجبی سی تعلیم حاصل کرنے کے بعدماسٹر عنایت حسین نے خاندانی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے موسیقی کی تعلیم شروع کی۔ انہوںنے کلاسیکل موسیقی کی باقاعدہ تعلیم استاد بڑے غلام علی خان سے حاصل کی جبکہ ان کے ماموں استاد بہار بخش نے انہیں ہارمونیم کی تعلیم دی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ استاد بڑے غلام علی خان نے موسیقی کے تمام اسرار ورموز ماسٹر عنایت حسین کے سپرد کردیئے۔ اور ان کی خصوصی توجہ نے ماسٹر عنایت کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ یہ استاد بڑے غلام علی خان کی تربیت کا اعجاز تھا کہ ماسٹر عنایت حسین کے اندر سے روشنی کا وہ فوارہ پھوٹا جس نے اہل موسیقی کو ایک طویل عرصے تک فیض یاب کیا۔ ابتدائی دنوں میںماسٹر عنایت حسین نے گلوکاری کے ساتھ اداکاری بھی کی۔ انہوں نے ممبئی اور کولکتہ کے مختلف تھیٹروں میں کام کیا۔ نیم کلاسیکی گائیکی میں ان کا نام بڑے ادب سے لیا جاتا تھا۔ نواب آف رام پور نے ان کی شہرت کے پیش نظر انہیں اپنے دربار سے منسلک کردیا۔ماسٹر صاحب نے اپنے دور کی باکمال گلوکارہ زینت بیگم سے ایسے اردو اور پنجابی گیت گوائے جن کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے ایک گراموفون کمپنی کے ساتھ نوبرس تک کام کیا۔1946ء میں انہیں ایک پنجابی فلم ’’کملی‘‘ کی موسیقی ترتیب دینے کیلئے کہا گیا۔ یہ فلم لاہور ہی میں تیار ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ فلم باکس آفس پر ناکامی سے دوچار ہوئی لیکن اس کی موسیقی کو بہت پسند کیا گیا۔ اس فلم میں ماسٹر عنایت حسین نے استاد برکت علی خان سے بھی گیت گوایا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ماسٹر عنایت حسین کی پہلی فلم ’’ہچکولے‘‘ تھی جو 1949ء میں ریلیزہوئی۔ انہوں نے 36 برس تک پاکستانی فلمی صنعت میں کام کیا۔ بعض اوقات کئی کئی برس گزر جاتے تھے اور ان کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ماسٹر صاحب فلموں کا انتخاب بڑا سوچ سمجھ کر کرتے تھے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ ان کی موسیقی فلم کے سکرپٹ اور اس کے مزاج سے ہم آہنگ ہو۔ اس لحاظ سے وہ بڑے (Choosy) تھے۔ ایک وجہ اور بھی تھی اور وہ یہ کہ ماسٹر صاحب بڑی لگن سے دھنیں بناتے تھے۔ اور وہ زیادہ تر گیت راگوں میں بناتے تھے جس کیلئے وقت بھی چاہیے اور محنت بھی۔ انور کمال پاشا ’’انارکلی‘‘ بنا رہے تھے تو انہوں نے تین گانوں کا میوزک دیا اور پھر کام چھوڑ دیا کیونکہ انور کمال پاشا جلدی کام چاہتے تھے۔ دوسری طرف ماسٹر صاحب اپنے مزاج کے مطابق کام کرنا چاہتے تھے۔ ’’انارکلی‘‘ کے باقی گیتوں کا میوزک اس دور کے نامور موسیقار رشیدعطرے نے مرتب کیا۔’’انارکلی‘‘ میں ان کا ترتیب دیا گیا میوزک بہت ہٹ ہوا۔ 1954ء میں ریلیز ہونے والی انورکمال پاشا کی فلم ’’گمنام‘‘ کی موسیقی بھی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی تھی۔ سیف الدین سیف کا لکھا ہوا یہ گیت ’’پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے‘‘ زبان زد عام ہوا۔ اسے اقبال بانو نے گایا تھا۔ اس کے بعد 1955ء میں ’’قاتل‘‘ ریلیز ہوئی جس کے لافانی گیتوں کی موسیقی بھی ماسٹر عنایت حسین نے دی۔ قتیل شفائی کے لکھے گئے اس لاثانی گیت کو ماسٹر عنایت حسین کی موسیقی نے امر بنا دیا۔ ’’الفت کی نئی منزل کو چلا‘‘ اس شہرہ آفاق گیت کو بھی اقبال بانو نے گایا۔ پھر ان کی ایک اور یادگار فلم ’’عذرا‘‘ ریلیز ہوئی جس میں تنویر نقوی نے معرکۃ آلاراء گیت لکھے۔ ماسٹر صاحب کی موسیقی میں سلیم رضا نے ایسا شاہکارگیت گایا کہ جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس گیت کے بول کچھ یوں تھے۔ ’’جان بہاراں، رشک چمن، غنچہ دہن، سیمیں بدن‘‘ اس گیت نے سلیم رضا کو شہرت کے آسمان پر پہنچا دیا۔1965ء میں پاکستان کی پہلی رنگین فلم ’’نائیلہ‘‘ ریلیزہوئی تو اس کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ یہ فلم رضیہ بٹ کے ناول پر بنائی گئی تھی۔ یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم میں ماسٹر عنایت حسین نے مالا سے ایسے شاندار گیت گوائے جو اس گلوکارہ کی شناخت بن گئے۔ ان گیتوں میں مالا اپنے فن کے عروج پر نظر آتی ہیں۔ اس فلم کے یہ دو گیت ملاحظہ کیجئے۔’’دور ویرانے میں اک شمع ہے روشن کب سے‘‘’’اب ٹھنڈی آہیں بھر پگلی‘‘ اس فلم کے نغمات قتیل شفائی اور حمایت علی شاعر کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ آج بھی نائیلہ کے نغمات روح میں اتر جاتے ہیں۔ ماسٹر صاحب نے اس فلم کے گیت راگ ملہار، راگ پہاڑی، راگ درباری اور راگ جے ونتی میں کمپوز کیے۔ ان کی دیگر فلموں میں ’’شمی، آنکھ کا نشہ، عشق پر زور نہیں، اک تیرا سہارا، دیور بھابی، دل میرا دھڑکن تیری، آنسو بن گئے موتی، پہلی نظر، باغی شیراور حق مہر‘‘ شامل ہیں۔انہوں نے 43 اردو اور 19 پنجابی فلموں میں موسیقی ترتیب دی۔ مشہور زمانہ فلم ’’مولا جٹ‘‘ کی موسیقی بھی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی۔ انہوں نے غیر فلمی غزلیں اور گیت بھی کمپوز کیے اور عنایت حسین بھٹی، منور سلطانہ، ملکہ پکھراج، دلشاد بیگم اور ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم سے گوایا۔ ذیل میں ان کے کچھ مشہور گیتوں کا تذکرہ کیا جا رہاہے۔-1 نی سوہے جوڑے والئے…شمی-2 الفت کی نئی منزل کو چلا…قاتل-3 پائل ہیںگیت میں چھم چھم کے…گمنام-4 جان بہاراں رشک چمن…عذرا-5اے دل کسی کی یاد میں… اک تیرا سہارا-6 اب ٹھنڈی آہیں بھر پگلی… نائیلہ-7 دل دیتا ہے رو رو دہائی…عشق پر زور نہیں-8 یہ کاغذی پھول جیسے چہرے… دیور بھابی-9 جھوم اے دل وہ میرا جان بہار…دل میرادھڑکن تیری-10 دنیا کیا کچھ کہتی ہے… پہلی نظرزندگی کے آخری دس برسوں میں انہیں مختلف امراض نے گھیر لیا۔24 مارچ1993ء کو یہ عظیم سنگیت کار اس جہان فانی سے رخصت ہوگیا۔ ان جیسے موسیقار روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ موسیقی سے شغف رکھنے والے انہیں کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!

خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!

2030ء تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو محفوظ طریقے سے تباہ کرنے کا منصوبہدو دہائیوں سے زائد عرصے تک انسان کی خلائی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کی علامت رہنے والا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں میں خلائی اسٹیشن میں ہونے والی ایک نئی لیک کے بعد اس کی سلامتی اور مستقبل کے حوالے سے خدشات نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ انہی خدشات کے درمیان امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2030ء تک آئی ایس ایس کو باقاعدہ طور پر مدار سے نکال کر زمین کے ماحول میں تباہ کرنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جس پر تقریباً ایک ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی آپریشن ہو گا، جس کا مقصد خلائی اسٹیشن کے ملبے کو محفوظ انداز میں زمین کے ایک دور افتادہ سمندری علاقے میں گرانا ہے تاکہ انسانی آبادی اور ماحول کو کسی قسم کے خطرے سے بچایا جا سکے۔بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہلے خلابازوں کی آمد کو 25 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اور اب زمین کے گرد مدار میں گردش کرنے والی اس خلائی چوکی کیلئے وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ناسا کے خلابازوں کو ہنگامی انخلا کی تیاری کا حکم دیا گیا، جبکہ روسی خلانورد نے لیک کو درست کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ بالآخر کسی ہنگامی فرار کی ضرورت پیش نہیں آئی، تاہم اس خطرناک صورتحال نے یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ خلائی سٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔خلائی ماہرین نے اس ایک ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کی تفصیلات بیان کی ہیں جس کے تحت خلائی اسٹیشن کو زمین پر واپس لا کر تباہ کیا جائے گا۔ فضائی و خلائی شعبے کی کانفرنس ''ایسنڈ 2026ء‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ناسا کے آپریشنز ڈائریکٹر ریان لینڈن نے کہا کہ آئی ایس ایس کو 2028ء کے دوران بتدریج زمین کی جانب دھکیلا جائے گا۔4لاکھ 50ہزار کلوگرام وزن رکھنے والے اس خلائی اسٹیشن کو اگر وقتاً فوقتاً اوپر کی جانب دھکیلا نہ جائے تو یہ آہستہ آہستہ اپنے مدار سے نیچے آنے لگتا ہے۔ خلائی اسٹیشن کو قدرتی طور پر مدار سے خارج ہونے دینا ایک بے قابو واپسی کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کا ملبہ زمین کے مختلف حصوں میں بکھرنے سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔اسی لیے ناسا منصوبہ بندی کے تحت خلائی اسٹیشن کو مدار سے باہر دھکیلے گا، تاکہ اس کا ملبہ بحرالکاہل کے دور افتادہ اور غیر آباد سمندری علاقے میں گرایا جا سکے۔بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور اس میں موجود سات خلاباز زمین سے تقریباً 250 میل (400 کلومیٹر) کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہے ہیں۔اس نسبتاً کم بلندی والے مدار کو برقرار رکھنے کیلئے خلائی اسٹیشن کو انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرنا پڑتی ہے۔ یہ تقریباً 28ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور روزانہ 16 مرتبہ زمین کا چکر لگاتا ہے۔ اس دوران اسے مدار میں رکھنے کیلئے کئی بار اوپر کی جانب دھکیلا جاتا ہے تاکہ وہ نیچے نہ گرنے لگے۔ تاہم ناسا کا منصوبہ ہے کہ 2028ء سے اس عمل کو قدرتی انداز میں جاری رہنے دیا جائے۔ اگر اس عمل کو بغیر مداخلت کے جاری رہنے دیا جائے تو بالآخر خلائی اسٹیشن زمین کی فضا میں داخل ہو جائے گا، جہاں رگڑ کے باعث پیدا ہونے والی شدید حرارت اس کے بیشتر حصوں کو جلا کر ختم کر دے گی۔لیکن آئی ایس ایس جیسے بڑے حجم کے حامل خلائی ڈھانچے کیلئے اس قسم کی بے قابو واپسی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔برطانیہ میں قائم خلائی مشاورتی ادارے بیلسٹیڈ ریسرچ (Belstead Research) کے ڈائریکٹر اور خلائی ملبے کے ماہر ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق یہ یقینی ہے کہ اس کے کچھ حصے زمین کی سطح تک پہنچ جائیں گے، اور غالب امکان ہے کہ ایسے حصوں کی تعداد خاصی زیادہ ہو گی۔اب بھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ خلائی اسٹیشن کے کتنے حصے زمین تک پہنچیں گے اور آیا ان پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے گا یا نہیں۔ ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق خلائی جہازوں کی زمین پر واپسی کیلئے بین الاقوامی سطح پر حادثاتی جانی نقصان کے خطرے کی ایک حد مقرر ہے، جو دس ہزار میں ایک سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ عام طور پر یہ حد اس وقت اہم ہو جاتی ہے جب کسی خلائی جہاز یا مصنوعی سیارے کا وزن تقریباً 500 سے ایک ہزارکلوگرام کے درمیان ہو، جبکہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا وزن تقریباً 450 ٹن ہے۔ڈاکٹر بیک کا کہنا ہے کہ یہ توقع کی جانی چاہیے کہ اس عمل کے نتیجے میں چند سو ایسے ٹکڑے پیدا ہوں گے جو زمین پر گرنے کی صورت میں جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ چونکہ خلائی ادارے اس بات کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتے کہ کتنا ملبہ زمین تک پہنچے گا، اس لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ملبہ کس مقام پر گرے، اس پر مکمل اور درست کنٹرول رکھا جائے تاکہ کسی انسان کو نقصان نہ پہنچے۔اسی مقصد کیلئے خلائی اسٹیشن کو اس کے مدار میں ایک مخصوص مقام پر پیچھے کی جانب دھکا دیا جائے گا، جس سے اس کی رفتار کم ہو جائے گی اور وہ بتدریج زمین کی طرف اترتے ہوئے بحرالکاہل کے ایک غیر آباد اور دور افتادہ علاقے میں جا گرے گا۔آئی ایس ایس کو زمین پر واپس کیسے لایا جائے گا؟٭...2028ء سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کو بتدریج اپنے مدار سے نیچے آنے دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس کی بلندی زمین سے 250 میل سے کم ہو کر تقریباً 200 میل رہ جائے گی۔٭...2029ء میں خلائی اسٹیشن پر موجود آخری انسانی عملہ اسے چھوڑ دے گا اور اپنے ساتھ وہ تمام اشیا لے جائے گا جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوں اور جنہیں لے جانا ممکن ہو۔٭...اس کے بعد جب آئی ایس ایس کی بلندی 200 میل سے کم ہو کر 175 میل تک پہنچ جائے گی تو اسپیس ایکس کے ترمیم شدہ ڈریگن (Dragon) خلائی کیپسول کو اسٹیشن کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔٭...جب خلائی اسٹیشن 175 میل کی اس بلندی پر پہنچ جائے گا، جسے واپسی کے ''ناقابلِ واپسی مرحلے‘‘(Point Of No Return) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تو ڈریگن کیپسول آئی ایس ایس کو ایک بیضوی (Elliptical) مدار میں لے جانے کا عمل شروع کرے گا۔٭...مناسب وقت آنے پر یہ خلائی گاڑی خلائی اسٹیشن کو آخری طاقتور دھکا دے گی، جس کے نتیجے میں یہ نصف مدار سے بھی کم وقت میں زمین کی فضا کی جانب بڑھنے لگے گا۔٭...آخرکار آئی ایس ایس اور اسے نیچے لانے والی خلائی گاڑی تقریباً 17ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی فضا میں داخل ہوں گے، جہاں شدید حرارت اور رگڑ کے باعث دونوں بڑی حد تک تباہ ہو جائیں گے۔

مقبرہ جہانگیر۔۔ مغلیہ سلطنت کا خاموش امین

مقبرہ جہانگیر۔۔ مغلیہ سلطنت کا خاموش امین

لاہور کے نواح میں واقع مقبرہ جہانگیر مغلیہ دور کی عظمت، شان و شوکت اور فن تعمیر کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ صدیوں پر محیط تاریخ کا یہ خاموش امین آج بھی اپنے بلند و بالا میناروں، نفیس سنگِ مرمر کی نقش و نگاری اور دلکش باغات کے ذریعے ماضی کی داستانیں سناتا دکھائی دیتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی آخری آرام گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا یہ مقبرہ نہ صرف ایک تاریخی یادگار ہے بلکہ برصغیر کی تہذیبی اور ثقافتی وراثت کا قیمتی سرمایہ بھی شمار ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس کی دلکشی اور تاریخی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی، یہی وجہ ہے کہ یہ مقام ملکی و غیر ملکی سیاحوں، محققین اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا۔ 1605ء میں تخت نشین ہوا اورتقریباً ساڑھے اکیس سال حکومت کر کے8 نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا۔ اُسے دریائے راوی کے کنارے واقع ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا کے وسط میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو باغ دلاآمیز بھی کہا جاتاہے۔ جہانگیر کا مقبرہ اُس کے بیٹے شاہجہاں نے بنوایا تھا۔مقبرہ جہانگیر کو مغلیہ عہد میں تعمیر کئے گئے مقابر میں اہم مقام حاصل ہے۔ دریائے راوی کے دوسرے کنارے یعنی شاہدرہ کی طرف سے لاہور آئیں تو مغلیہ دور کی تعمیرات میں سے مقبرہ جہانگیر، مقبرہ آصف جاہ اور ملکہ نور جہاں کا مقبرہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کا شمار مغلوں کی تعمیر کردہ حسین یادگاروں میں ہوتا ہے۔مقبرہ جہانگیر باغ ''دلکشا‘‘ میں واقع ہے۔ باغ دلکشا نواب مہدی قاسم کی ملکیت تھا جو اکبر بادشاہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔ اس نے یہ باغ 1556ء میں دریائے راوی کے پار بنوایا تھا۔ نواب مہدی خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اب لوگ باغ دلکشا کا نام بھول چکے ہیں اور اس ساری جگہ کو مقبرہ جہانگیر ہی کہا جاتا ہے۔ مقبرہ جہانگیر کی تعمیر کا آغاز ملکہ نور جہاں نے کیا تھا اور شاہ جہاں نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ شہنشاہ اکبر کی وفات 1605ء میں ہوئی تو اس کا بیٹا جہانگیر ''نور الدین جہانگیر‘‘ کے لقب کے ساتھ تخت نشیں ہوا۔ اس نے کئی اصلاحات کیں۔ فریادیوں کی داد رسی کیلئے اپنے محل کی دیوار کے ساتھ ایک زنجیر لگوا دی جسے '' زنجیرِ عدل‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس کے ذریعے ہر کوئی اپنی شکایت باآسانی بادشاہ تک پہنچا سکتا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر نے حکم دیا کہ شاہراہوں پر سرائے، کنویں اور مساجد تعمیر کی جائیں۔شہنشاہ جہانگیر کو بھی اپنے باپ اکبر کی طرح لاہور سے بہت زیادہ لگائو تھا۔ 1624ء میں جب کشمیر کے سفر کے دوران اس کی وفات ہوئی تو اس نے وفات سے قبل لاہور میں دفن کیے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی چنانچہ اسے چہیتی بیگم ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا میں دفن کیا گیا۔ شاہ جہاں نے مقبرے کی تعمیر پر دس لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔ قرآن پاک پڑھنے کیلئے حفاظ مقرر کئے گئے جو باری باری ہر وقت مزار پر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ مقبرہ جہانگیر کی حدود میں ملکہ نور جہاں نے ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔ یہاں نور جہاں نے کافی عرصہ رہائش بھی اختیار کی اس لیے یہاں رہائشی عمارات بھی تعمیر کی گئی تھیں۔ ملکہ نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے ایک ہی رقبے میں تھے لیکن جب انگریزوں نے ان کے درمیان ریلوے لائن بچھائی تو مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔مقبرہ جہانگیر کے چاروں کونوں پر خوبصورت مینار موجود ہیں۔ ہر مینار سو فٹ بلند ہے اور اس کی اکسٹھ سیڑھیاں ہیں۔ مقبرہ کی عمارت ایک مربع نما چبوترے پر ہے۔ قبر کا تعویز سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گلکاری کی گئی ہے۔ دائیں اور بائیں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام کندہ ہیں۔ سرہانے کی طرف بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہے۔ مزار کے چاروں جانب سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں۔ مقبرے کا اندرونی فرش سنگ مرمر، سنگ موسیٰ اور سنگ ابری جیسے مختلف قیمتی پتھروں سے مزین ہے۔ مقبرہ جہانگیر کا غربی دروازہ جس میں سے ہاتھی بمعہ سوار کے گزر سکتا تھا اور چار دیواری کے باہر جو کنویں تھے دریا برد ہو چکے ہیں صرف ایک کنواں موجود ہے۔ باغ کے اندر آج بھی کھجور کے قدیم درخت موجود ہیں۔ باغ کی دیواروں کے ساتھ کمروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے جہاں شاہی محافظ، سپاہی اور خدام رہا کرتے تھے۔نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں اور سکھوں کے دور میں مقبرہ جہانگیر کو بہت نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود یہ عمارت آج بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنی عہدِ رفتہ کی یاد دلاتی ہے۔

بیمار غوطہ خور نے تاریخ رقم کر دی

بیمار غوطہ خور نے تاریخ رقم کر دی

ایک سانس میں پانی کے اندر طویل ترین چہل قدمیاپنی جسمانی کمزوری اور بیماری کے باوجود ایک غوطہ خور نے انسانی حوصلے اور عزم کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ اس نے ایک ہی سانس میں پانی کے اندر طویل ترین پیدل چہل قدمی کا اپنا ہی سابقہ عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ یہ کارنامہ نہ صرف اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ مسلسل محنت اور مضبوط ارادے کے ذریعے ناممکن دکھائی دینے والے ہدف بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس حیران کن کامیابی نے عالمی سطح پر کھیلوں کے شائقین اور ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والے غوطہ خور سٹانسلاء اوبڈیزیلک (Stanislaw Odbiezalek) نے ایک ہی سانس میں پانی کے اندر طویل ترین چہل قدمی کا اپنا سابقہ ریکارڈ 110.70 میٹر (363.18 فٹ) سے بڑھا کر 120.10 میٹر (394 فٹ) کر دیا۔یہ کارنامہ اس وقت اور بھی زیادہ متاثر کن ہو جاتا ہے جب معلوم ہو کہ سٹانسلاء اس وقت برونکائٹس (bronchitis) جیسے مرض میں مبتلا ہیں۔انہوں نے مارچ میں اپنی تازہ کوشش کی تیاری کے دوران کہا تھا کہ میں خود کو 100 فیصد ٹھیک محسوس نہیں کر رہا لیکن اتنی زیادہ تیاری کے بعد میں اس موقع کو ضائع نہیں کر سکتا۔ میرا خیال ہے کہ جسم اس برونکیل انفیکشن پر قابو پانے کیلئے کافی مضبوط ہے، اور ہم بس جا کر یہ کر دیں گے۔ مجھے یہ کرنا ہے۔ سٹانسلاء نے بتایا کہ وہ تقریباً ڈیڑھ سال سے اس مقابلے کی تیاری کر رہے تھے اور اس دوران وہ سخت محنت کرتے رہے تاکہ اپنے پھیپھڑوں کی صلاحیت کو مزید بڑھا سکیں اور ایک سانس میں زیادہ طویل فاصلہ طے کر سکیں۔اس ریکارڈ کو حاصل کرنے کیلئے سٹانسلاء کو ایک سوئمنگ پول کی تہہ تک ڈوبنا پڑتا ہے اور ایک ہی سانس روک کر زیادہ سے زیادہ لمبائی تک چلنا ہوتا ہے۔ جس لمحے وہ سانس لینے کیلئے پانی کی سطح پر واپس آتا ہے اور سانس لیتا ہے، اسی وقت اس کی کوشش ختم ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریننگ ضرورت سے زیادہ سخت تھی اور یہ ایک اچھی بات ثابت ہوئی، کیونکہ معلوم ہوا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے سے ایک ہفتہ پہلے مجھے برونکائٹس ہو گیا تھا۔ اس لیے مجھے یہ کوشش اب اسی وقفے میں کرنی ہے جب مجھے کھانسی نہیں آ رہی۔ یہ مشکل ہوگا، لیکن میں کوشش کروں گا۔ میں خوش ہوں کیونکہ آج جو کچھ ہوا وہ واقعی ناقابلِ یقین ہے۔ غوطہ لگانے سے بہت پہلے میں توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا اور اس بات کیلئے جدوجہد کر رہا تھا کہ کھانسی کچھ دیر کیلئے رک جائے اور گلے میں ہونے والی خراش کا احساس ختم ہو۔ جب ایسا مختصر وقفہ آیا اور سب کچھ تھوڑا بہتر ہوا تو میں نے کہا ''یہی لمحہ ہے‘‘۔ میں نے جا کر یہ کر دکھایا، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ میرے پاس تھوڑا سا اضافی مارجن موجود تھا۔ میں اس سے بھی آگے جا سکتا تھا، لیکن کون جانتا ہے، شاید ہم اگلے سال اس میں مزید بہتری لے آئیں۔اس نے وہی تکنیک استعمال کی جو اس نے پہلی بار ریکارڈ بنانے کیلئے اپنائی تھی، یعنی کولہوں سے جھک کر اپنے دھڑ کو افقی (horizontal) حالت میں رکھنا جب وہ چل رہا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے پر رکھ کر آگے کی طرف پھیلائے رکھے تاکہ پانی کی مزاحمت کم ہو سکے۔ اور وہ اپنے گھٹنوں کو موڑ کر پوری طاقت سے دھکا لگاتا تھا تاکہ آگے بڑھ سکے، اور ہر بار جب وہ پول کی دیوار تک پہنچتا تو اپنے ہاتھوں کی مدد سے خود کو موڑ لیتا تھا۔ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی ایک اسکوبا غوطہ خور ہر وقت اس کے ساتھ پانی کے اندر موجود تھا تاکہ اس کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کی کوشش کی ویڈیو بھی ریکارڈ کر سکے۔

اتوار

اتوار

وہ مبارک ومسعود دن جس کی قدر شاہ داند یا بداندجوہری ''یعنی یا تو عیسائی سمجھ سکتے ہیں یا ہمارے ایسے ملازمت پیشہ ان لوگوں کا یہاں ذکر ہی نہیں جو گھر بیٹھے شنبہ دوشنبہ‘‘ سب کو ایک ہی لاٹھی ہانکا کرتے ہیں اور ان کو خبربھی نہیں ہوتی کہ ہفتہ کے بعد کون سا دن آنے والا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ لوگ اتوار کی کیا قدر کرسکتے ہیں۔ ان کے نزدیک جیسے بدھ اور منگل ویسے ہی اتوار۔ اس اتوار کی قدر تو کوئی ہمارے دل سے پوچھے کہ یہی وہ دن ہے: ''دن گنے جاتے تھے جس دن کیلئے‘‘یقین کیجئے کہ اس دن کا انتظار پیر کے دن سے شروع ہوجاتا ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ہمارے ایسے بیچارے ملازمت پیشہ خدا کے بندے اپنی ذاتی زندگی کا دن تمام ہفتہ صرف اتوار ہی کو سمجھتے ہیں، اس کے علاوہ باقی تمام دن کی بندگی اوربیچارگی میں اس طرح گزارتے ہیں کہ ہم کو اپنے انسان ہونے کا ایک دفعہ بھی احساس نہیں ہوتا، معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مشین ہے، اگر لکھنے والا بٹن دبا دیا گیا تو لکھ رہے ہیں، اگر بیٹھنے والا پرزہ چلا گیا تو بیٹھے ہوئے ہیں، مختصر یہ کہ صبح ہوتے ہیں دفتر آنا، دفتر میں ایک مقررہ خدمت انجام دینا شام کو دفتر سے جانا سب کچھ اس طرح ہوتا ہے کہاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلےکی ایک متحرک تصویر معلوم ہوتے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ غور نہیں کیا کہ علاوہ اتوار کے ہم انسان بھی رہتے ہیں یا نہیں اور نہ اس مسئلہ پر غور کرنے کا موقع ملا لیکن جب کبھی اتوار کے دن ہم نے اپنی زندگی پر غور کیا تو یہی نتیجہ نکلا کہ ہماری زندگی کے دن شمار کرنے والے جو چاہیں شمار کریں لیکن ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ بس اتوار کا دن تو ہماری زندگی کے دنوں میں شمار کئے جانے کے قابل ہے اس کے علاوہ باقی دن تو خدا جانے ہم زندگی بسرکرتے ہیں یا زندگی ہم کو بسر کرتی ہے اب اس سے اندازہ فرمائیے اگر بجائے بہادر شاہ ظفر کے آپ کے جناب غالب صاحب قبلہ ہم کو یہ دعا دیتے ہیں کہتم سلامت رہو ہزار برسہر برس کے ہوں دن پچاس ہزارتو یا تو ہم ان سے کہتے کہ قبلہ عالم یہ دعا آپ ہی کو مبارک رہے۔ ہم کو تو ایسی دعا دیجئے کہ ہماری جتنی زندگی بھی ہے اس میں چاہے کچھ تخفیف کردی جائے لیکن ہر دن اتوار بن جائے یا کم از کم ہفتہ میں دوتین مرتبہ تو اتوار آیا کرے۔ذرا غور تو فرمائیے کہ ایک اتوار کا دن ہفتہ بھر کے بعد آتا ہے جس میں معمولی دنوں کی طرح بارہ گھنٹے ہوتے ہیں۔ ان ہی بارہ گھنٹوں میں اپنی خوشی کھانا کھائے، اپنی خوشی نہائے، اپنی خوشی بال بنوائے، اپنی خوشی سیر کو جائیے اوراگر کہیں اپنی خوشی سے سو رہے تو تمام کام آئندہ اتوار تک ملتوی یا اگر بیگم صاحبہ نے موقع غنیمت جان کر اور وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنی خوشیاں پوری کرانا شروع کر دیں تو بس دن بھر گھر سے بزاز کی دکان، گھر سے اناج کی منڈی، گھر سے جوتے والے کی دکان، گھر سے گوٹا کناری، لیس، بانکڑی والے کی دکان کے سو سو چکر کاٹنے اور چورن چٹنی دال کا مسالہ فراہم کرتے کرتے شام کو اس طرح تھک کر پڑے رہیے گویا دن بھر ہل جوتا ہے۔ قصہ یہ کہ ہمارا تمام پروگرام ہفتہ بھر اتوار کے دن کیلئے ملتوی رہتا ہے اور اسی طرح بیگم صاحبہ بھی اتوار کی تاک میں لگی رہتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اتوار کے دن ہمارا ذاتی پروگرام ایسا ہوجاتا ہے کہ ہفتہ بھرکا کھایا یا پیا نکلوا کر چھوڑتا ہے۔ ہم تو تمام ہفتہ یہ کرتے ہیں کہ بالوں پر ہاتھ پھیرا اور زیر لب کہہ دیا اب کی اتوار کو بنوائیں گے، جوتے پرنظر پڑی اور طے کر لیا اب کی اتوار کو پالش ہوگی، کپڑوں کو دیکھا اور ارادہ کرلیا کہ ''اب کی اتوار کو نہا کر بدلیں گے‘‘۔ کسی نے نہ ملنے کی شکایت کی تو وعدہ کر لیا کہ اب کی اتوار کو حاضر ہوں گا، کوئی مر گیا تو تعزیت کیلئے بھی اتوار کا دن مقرر کیا گیا، کسی نے ہم سے ملنے کو کہا تو اتوار کا دن دیا، کہیں سفر کو جانا ہے تو اتوار کے دن کی سفر کی ٹھہری، شکار کو دل چاہا تو اتوار پر اٹھا رکھا۔غرضیکہ تمام ہفتہ جو جو باتیں ہم کو اپنی زندگی کے متعلق یاد آئیں ہم نے سب کو اتوار کے سپرد کردیا لیکن ہم کو یہ خبر نہیں ہوتی کہ اسی طرح بیگم صاحبہ نمک ختم ہونے پر، کپڑے پھٹنے پر، زیور ٹوٹنے پر، غرضیکہ ہر بات پر اتوار کو یاد کیا کرتی ہیں اور اتوارکے دن ان کووہ باتیں سوجھتی ہیں کہ ہمارے فرشتوں کو بھی نہیں سوجھ سکتیں۔ وہ تو کہئے اس دن ہمارے دفتر کی طرح ہسپتال کچہریاں، ڈاک خانہ، مدرسے وغیرہ سب بند ہوتے ہیں ورنہ بچوں کو ہسپتال لے جانا، سکول میں نام لکھوانا وغیرہ بھی اسی دن پر اٹھا رکھا جاتا اور اب شکر ہے کہ ہم کو اس سے ایک طرح کی یکسوئی حاصل ہے اس میں شک نہیں کہ اتوار کے دن کی مشغولتیں معمولی دنوں سے دگنی اور چوگنی ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اتوار کے عاشق صرف اس لئے ہیں کہ وہ تمام مشغولتیں ہم کو اپنی او ر اپنی ذاتی زندگی سے متعلق معلوم ہوتی ہیں اور باقی دنوں میں تو نہیں معلوم ہم کس طرح اور کس کیلئے جیتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

یورپ کا خلائی کارنامہ15جون 1988ء کو یورپی خلائی پروگرام کیلئے ایک اہم سنگِ میل اس وقت عبور کیا گیا جب اریانے 4 راکٹ نے اپنی پہلی کامیاب پرواز بھری۔ یہ راکٹ مصنوعی سیاروں کو مدار میں پہنچانے کیلئے تیار کیا گیا تھا اور اس کی لانچنگ نے یورپ کی خلائی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ پہلی پرواز کی کامیابی نے اریانے 4 کو دنیا کے قابلِ اعتماد ترین تجارتی خلائی راکٹوں میں شامل ہونے کی راہ ہموار کی۔ بعد ازاں اس راکٹ نے متعدد مواصلاتی، سائنسی اور موسمیاتی سیارچوں کو خلا میں پہنچایا۔فلپائن:قدرتی آفت کی ہولناکی1991ء میں آج کے روز فلپائن میں واقع ماؤنٹ پیناٹوبو آتش فشاں اچانک دھماکے کے ساتھ پھٹ پڑا۔ یہ بیسویں صدی کے دوسرے بڑ ے آتش فشانی دھماکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تباہ کن قدرتی آفت سے 800 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ، دھواں اور گرم مادے نے قریبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ جاپان میں زلزلہ15جون 1896ء میں جاپان کی تاریخ کے مہلک ترین سونامیوں میں سے ایک نے ملک کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں کو شدید تباہی سے دوچار کر دیا۔ زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی دیوقامت سمندری لہریں تیزی سے ساحلوں سے ٹکرائیں اور اپنے راستے میں آنے والی بستیوں، گھروں اور کشتیوں کو بہا لے گئیں۔ اس ہولناک قدرتی آفت کے نتیجے میں 22 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ہزاروں زخمی اور بے گھر ہوئے۔یہ واقعہ آج بھی تاریخ کے المناک ترین سونامیوں میں شمار ہوتا ہے۔پیٹرز برگ کی جنگ1864ء میں آج کے روز امریکی خانہ جنگی کے دوران پیٹرزبرگ کی دوسری جنگ کا آغاز ہوا، جو جنگ کے اہم ترین معرکوں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ لڑائی ریاست ورجینیا کے شہر پیٹرزبرگ کے قریب لڑی گئی، جہاں وفاقی (یونین) افواج نے کنفیڈریٹ فوج کے مضبوط دفاعی مورچوں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ اس جنگ کا مقصد پیٹرزبرگ کی اہم رسد گاہوں اور ریلوے رابطوں پر قبضہ حاصل کرنا تھا۔ اوریگون معاہدہ15جون1846ء کو برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جسے اوریگون معاہدہ کہا جاتا ہے۔ اوریگون کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی تھی ۔اس معاہدے میں دونوں ممالک نے مشترکہ حل تلاش کیا اور تنازع ختم کر لیا۔اس علاقے پر1818ء کے معاہدے کے بعد سے برطانیہ اور امریکہ دونوں نے مشترکہ قبضہ کر رکھا تھا۔عثمانی تاریخ کا سنگ میل1826ء میں سلطنتِ عثمانیہ میں ایک اہم تاریخی واقعہ پیش آیا۔ جسے ''Auspicoius Incident‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس دوران عثمانی فوج کے طاقتور دستے نے سلطان محمد دوم کی اصلاحات کے خلاف بغاوت کر دی۔ سلطان نے اس بغاوت کو کچلنے کیلئے وفادار افواج اور توپ خانے کا استعمال کیا۔ بغاوت کی ناکامی کے بعد جنیسری فوج کو مکمل طور پر تحلیل کر دیا گیا، جس سے ان کی صدیوں پر محیط سیاسی و عسکری طاقت کا خاتمہ ہوگیا۔

 عمر بڑھانے کا راز ویٹ لفٹنگ میں پوشیدہ

عمر بڑھانے کا راز ویٹ لفٹنگ میں پوشیدہ

ہفتہ میں ایک بار وزن اٹھانے سے قبل از وقت موت کے خطرہ کم ہوجاتاہے: ماہرینصحت مند اور طویل عمر کی خواہش رکھنے والے افراد کیلئے نئی سائنسی تحقیق نے ایک اہم اور حوصلہ افزا نکتہ سامنے رکھا ہے۔ حالیہ مطالعات کے مطابق ہفتے میں کم از کم ایک بار وزن اٹھانے (ویٹ لفٹنگ)کی ورزش کرنے کا تعلق لمبی عمر کے امکانات میں نمایاں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت نہ صرف جسمانی طاقت کو برقرار رکھتی ہے بلکہ دل، ہڈیوں اور مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ یہ تحقیق اس خیال کو مزید تقویت دیتی ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی صحت مند زندگی کی کلید ہے۔ایک نئی تحقیق کے مطابق ہر ہفتے 90 سے 120 منٹ تک وزن اٹھانے یا طاقت بڑھانے والی ورزش کرنے سے قبل از وقت موت کے خطرے میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے امریکہ میں ایک لاکھ 47ہزار 373 افراد کا 30 سال تک جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ جو لوگ ہفتے میں تقریباً دو گھنٹے ویٹ لفٹنگ کرتے تھے، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 13 فیصد کم تھا۔یہ شرح 19 فیصد تک بڑھ گئی جب دل کی بیماری یا فالج سے موت کے خطرے کو مدنظر رکھا گیا۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ وزن اٹھانے کی ورزش یا مزاحمتی پٹیاں(resistance bands)استعمال کرنے والے افراد میں اعصابی بیماریوں سے موت کا خطرہ 27 فیصد کم تھا۔تاہم محققین نے یہ بات بھی دریافت کی کہ ہفتے میں دو گھنٹے سے زیادہ ویٹ لفٹنگ کرنے سے اضافی صحت بخش فوائد حاصل نہیں ہوتے۔یہ نتائج ''برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن‘‘ میں شائع ہوئے، جن میں سفارش کی گئی کہ لمبی اور صحت مند زندگی کیلئے ایروبک ورزش اور طاقت بڑھانے والی مشقوں کا امتزاج اختیار کرنا چاہیے۔ٹام برٹن جو سپورٹ انگلینڈ میں صحت اور فلاح و بہبود کی پالیسی کے اسٹریٹجک سربراہ ہیں، نے بھی اس خیال کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ طاقت پر مبنی جسمانی سرگرمیاں صحت مند بڑھاپے کیلئے ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ یہ نہ صرف خراب صحت کو روکنے یا اس میں تاخیر کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ ہمیں متحرک اور خودمختار رکھنے کے ساتھ ساتھ صحت اور نگہداشت کی خدمات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو بھی کم کرتی ہیں۔اسپورٹ انگلینڈ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فعال طرزِ زندگی ہر سال دائمی بیماریوں کے تقریباً 33 لاکھ کیسز کی روک تھام کرتا ہے، جبکہ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات پر آنے والے اخراجات میں سالانہ 8 ارب پاؤنڈ کی بچت بھی ممکن بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن یہ ہے کہ جسمانی سرگرمی کو ہر فرد کیلئے قابلِ رسائی بنایا جائے، کیونکہ یہی صحت مند، خوشحال اور زیادہ مسرور معاشروں کی بنیاد ہے۔ماہرین کی موجودہ ہدایات کے مطابق بالغ افراد کو چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم دو دن ایسی طاقت والی ورزشیں کریں جو جسم کے تمام بڑے عضلاتی حصوں، یعنی ٹانگوں، کولہوں، کمر، پیٹ، سینے، کندھوں اور بازوؤں کو متحرک اور مضبوط بنائیں۔بالغ افراد کو یہ بھی چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل شدت کی جسمانی سرگرمی یا 75 منٹ زیادہ شدت کی جسمانی سرگرمی انجام دیں۔معتدل شدت کی سرگرمیوں میں تیز رفتاری سے چہل قدمی (فی گھنٹہ 4 میل یا اس سے زیادہ)، 10 سے 12 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سائیکل چلانا، یا بیڈمنٹن کھیلنا شامل ہیں۔زیادہ شدت کی سرگرمیوں میں پہاڑی علاقوں میں پیدل سفر (ہائیکنگ)، 6 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے دوڑنا یا جاگنگ کرنا، تیز رفتار سائیکل چلانا، باسکٹ بال اور ٹینس کھیلنا شامل ہیں۔نئی تحقیق میں شرکاء سے ہر دو سال بعد یہ سوال کیا گیا کہ وہ طاقت بڑھانے والی ورزشوں اور ایروبک ورزشوں کیلئے کتنا وقت صرف کرتے ہیں۔اس تحقیق میں ایروبک ورزشوں میں تیز چہل قدمی، دوڑنا، جاگنگ، تیراکی، سائیکلنگ، ٹینس اور اسکواش شامل تھے، جبکہ طاقت بڑھانے والی ورزشوں میں وزن اٹھانے یا جسمانی وزن کے ذریعے کی جانے والی مشقیں، مثلاً ڈمبل ورزش، اسکواٹس اور لنجز شامل تھیں۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ بیماریوں اور قبل از وقت موت کے سب سے کم خطرات اُن افراد میں دیکھے گئے جو ایروبک سرگرمیوں اور طاقت بڑھانے والی ورزشوں، دونوں میں زیادہ سرگرم تھے۔ سب سے زیادہ متحرک افراد میں یہ خطرات 58 فیصد تک کم ہو گئے۔جدید تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ طویل اور صحت مند زندگی کیلئے صرف دوڑنا یا چہل قدمی ہی کافی نہیں، بلکہ عضلات کو مضبوط بنانے والی ورزشیں بھی یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔ ہفتے میں محض ایک یا دو بار ویٹ لفٹنگ یا طاقت بڑھانے والی مشقیں نہ صرف جسمانی قوت اور توازن کو بہتر بناتی ہیں بلکہ دل کے امراض، فالج اور قبل از وقت موت کے خطرات میں بھی نمایاں کمی لاتی ہیں۔ مصروف طرزِ زندگی میں اگر ہم ورزش کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلیں تو بڑھتی عمر کے باوجود صحت، توانائی اور خود اعتمادی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند بڑھاپا کسی جادو کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل جسمانی سرگرمی اور متوازن طرزِ زندگی کا ثمر ہے، اور ویٹ لفٹنگ اس سفر کا ایک مؤثر اور قابلِ عمل ذریعہ ثابت ہو رہی ہے۔