مقبول راہنما کیسے ہوتے ہیں؟
اسپیشل فیچر
لیڈرز وہ ہوتے ہیں جو اپنی ذات کی آگہی کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔انہیں اپنی اقدار کا اندازہ ہوتا ہے اور ان اقدار کی تحریم کے لیے وہ بڑے سے بڑے نقصان کی پرواہ کئے بغیر ایک خاص مقصد کے لیے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ کچھ ایسی خوبیاں جو انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہیں خدا کی طرف سے تحفہ ہوتی ہیں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لیڈر پیدائشی ہوتے ہیں اور ان کی جبلت میں ایسی خوبیاں فطری طور پر پائی جاتی ہیں جن کی بنا پر وہ اپنے لوگوں کو لے کر آگے بڑھتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ محرومیوں اور ناانصافیوں کے حالات میں پلنے والے کئی لوگ آزادی کی جنگ اور ظلم کی دنیا کے خلاف باغیانہ سوچ لے کر معاشرے کو سدھارنے کے لیے اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کر لیتے ہیں کہ لوگ ان پر یقین کرنے لگتے ہیںاور وہ لیڈر بن کر ابھرتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف معاشروں اور ثقافتوں میں الگ الگ خوبیوں سے مزین ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود کچھ خوبیاں ایسی ہیں جو دنیا بھر کے ممتازرہنمائوں میں مشترک ہوتی ہیں۔ آئیے چند ایسی ہی خوبیوں کا جائزہ لیتے ہیں جن کے بل بوتے پر وہ ممتاز رہنما بن جاتے ہیں۔1۔ ایمانداری متوازن کامیابی کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ستون ایمانداری ہوتا ہے۔ یہ خوبی رہنمائوں کا طرہ امتیاز ہوتی ہے جس کے تحت وہ نہ صرف سچ بولنے میں اور اپنی قوم کو ہمیشہ دھوکے سے دور رکھتے ہوئے حقائق سے آگاہ رکھتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں دہرا پن نہیں ہوتا۔ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں اسی کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ان کے کردار وگفتار میں جھول نہیں ہوتا۔ ایک آئیڈیل لیڈر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اقدار کی روشنی میں اپنی قوم کو لے کر آگے بڑھے ان اقدار میں عظمت‘ ایمانداری اور راست بازی شامل ہوتی ہیں۔2۔ابلاغایک مبلغ بہرحال ایک عظیم رہنما ہوتا ہے اور ابلاغ کے حسن کو پانے کے لیے جو مہارتیں درکار ہوتی ہیں ان کا سفر بچپن سے ہی شروع ہوتا ہے۔ ایسے بچوں کو ابتدا سے ہی ایسی تربیت دی جاتی ہے جس کے تحت وہ بات کرنا سیکھتے ہیں ۔ اچھے لب و لہجے کو اپناتے ہیں اور ان کی گفتگوعام لوگوں سے بہت بہتر ہوتی ہے۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ بڑے لیڈر اچھے مبلغ واقع ہوئے ہیں۔ ان کی زبان سے نکلنے والا ایک ایک لفظ اپنی قوم کے لیے قانون کا درجہ پا جاتا ہے۔ ایسے رہنما اپنے لوگوں کے لیے صحت مند پیغام چھوڑتے ہیں۔ اور قوم اسی بات پر متحد ہوجاتی ہے جو ان کے رہنما کی ہوتی ہے۔-3قابل اعتبارلیڈر وہی جو قابل اعتبار ٹھہرا۔ ایک لیڈر اور پیرو کار میں سب سے مضبوط رشتہ اعتبار کا ہوتا ہے۔ ایک اچھا اور دوستانہ ماحول بنانے کے لیے لیڈر ایسی صورتحال بنا دیتا ہے کہ پیرو کار خوشی خوشی اپنے رہنما پر اعتبار کرتے ہیں۔ یہ خوبی اس کے ذاتی کردار کے ساتھ ساتھ قومی کردار میں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے اعتبار کے قابل رہنما کو یہ ترجیح ہوتی ہے کہ اس کے خلاف ہونے والے منفی پروپیگنڈے کو اس کے پیرو کار اپنے تئیں غلط ثابت کرتے ہیں اور تاریخ میں وہ لکھا جاتا ہے جو سچ ہوتا ہے۔ جیسے کسی آمرانہ حکومت میں صحیح اور سچے لیڈروں کی کردار کشی کی مہم تو زورں سے چلتی ہے لیکن آمرانہ حکومتوں کے خاتمے پر پیروکار اپنے رہنمائوں کے سچ کا پرچار کرتے ہیں اور اس طرح آمر مرکر گمنامی کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ سچا لیڈر ہمیشہ کے لیے آمر ہو جاتا ہے۔4۔ مصمم ارادے کا حامللیڈر وہ جس کا وژن ہو اور ویژنری رہنما ہمیشہ راج کرتے ہیں ۔محبوب رہنما مصمم ارادوں سے لبریز ہوتے ہیں۔ وہ پختہ ارادوں سے اپنی قوم کے لیے اچھی راہوں کا تعین کرتا ہے۔ اس کے لیے اس کا اعصابی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھر پور دبائو کے باوجود لیڈر اپنے ارادے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹتا۔ وہ لیڈر محبوب نہیں ہو سکتا جو ہر پل اپنی بات کو بدلے اور ارادے تبدیل کرے۔ اچھے لیڈر ہی اپنی قوم کو نامساعد حالات میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس ضمن میں کئی ممتاز رہنمائوں میں سے ایک مائوزے تنگ کی مثال دی جا سکتی ہے جس نے قوم کی تعمیر اپنے ارادوں سے کی تھی۔5۔ ذمہ داریرہنما ہمیشہ ذمہ داریاں لیتے ہیں اور ان سے بھاگتے نہیں۔ دراصل لیڈر کا ذمہ دار ہونا ہی بنیادی بات ہے۔ وہ نہ شکایت کرتا ہے اور نہ ہی کوئی بہانے بناتا ہے اس کی نظر میں مسائل کا حل اولین ترجیح ہوتی ہے۔ مشکل سے مشکل وقت میں بھی وہ اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بھاگتا۔ دوسروں پر تنقید کرنے اور کیڑے نکالنے کی بجائے اپنی سوچ پر کاربند نظر آتا ہے اور ہر مسئلے کو حل کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ اچھے رہنمائوں کی بنیادی خوبی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں۔6۔ صبر و شکرصبر اور شکر اچھے رہنما کی ذات کی خوبی ہوتی ہے۔ وہ اپنی قوم اور لوگوں سے بات کرتے ہوئے خود کو انتہائی صابر کا پیکر ثابت کرتا ہے ہجوم میں کھڑے ہر شخص کی اپنی زبان اور سوچ ہوتی ہے اور اس مختلف الخیال کے لوگوں کی مختلف سوچ کو ایک نکتے پر لا کر کھڑے کر دینا محبوب رہنما کا کام ہے اور اس کے حصول کے لیے اس کا صابر ہونا ضروری ہے۔ مضبوط اعصاب کا مالک یہ رہنما انتہائی صبر سے سب کی سنتا ہے اور پھر اسی جذبے سے سب کی داد رسی کرتا ہے۔7۔ وفاداریایک رہنما اپنی قوم کے بغیر کچھ بھی نہیں اور قوم اپنے رہنمائوں سے وفاداری کے علاوہ کچھ بھی توقع نہیں کرتے۔ وفاداری سے مراد رہنما کا وہ کردار ہے جس کے تحت ہر حال اور ہر صورتحال میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ وفاداری کا یہ بھی مطلب ہے کہ وہ اپنے ذاتی مقاصد اور خواہشات کو قربان کر دے۔ وفاداروں کا ایک پہلو یہ ہے کہ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا بچہ جب لیڈر بنتا ہے تو اسے پھانسی کی کال کوٹھری میں پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے لیکن وہ ہر طرح کی پیش کشوں کو رد کرتے ہوئے صرف اور صرف اپنی قوم کی بات کرتا ہے اور پھرغربا کی وکالت کرتے کرتے پھانسی کے پھندے پر جھول کر اپنی وفاداری ثابت کر کے خود کو امر کر جاتا ہے۔8۔متاثر کرنے کی صلاحیتمحبوب رہنما اپنی قوم کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے اسے وہ سب کچھ نظر آ رہا ہوتا ہے جو ایک قوم کے کسی فرد کی نظر سے نہیں گزرتا لیکن رہنما اپنے لوگوں کو بہتری کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرتا۔ سچ تو یہ ہے کہ کچھ کرنے کے لیے وہ راستہ نکالتا ہے اسی رائے پر اپنی قوم کو بھی ڈالنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتا ہے، فیصلوں سے اپنے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے اور جواب میں قوم اسے سب کرنے کا کلی اختیار دے دیتی ہے۔ مختصر یہ کہ اچھے لیڈر ہمیشہ لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔9۔ تخلیقی صلاحیتایک اچھا رہنما اپنی قوم کی نسبت زیادہ دور اندیش ہوتا ہے۔ وہ کئی برسوں بعد پیش آنے والے مسائل سے پیشگی آگاہ ہوتا ہے اور ان کے تدارک کے لیے منصوبہ سازی بھی کرتا ہے۔ اس کا ذہن تخلیقی ہوتا ہے ۔ وہ جو خواب بنتا ہے ان کی عملی تعبیر کے لیے ماحول کو کارساز بناتا ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے اس میں تعمیر کرنے کی اضافی خوبی ہی ایسے ممتاز بناتی ہے مثلاً ایک لیڈر کے دور حکومت میں پاور جنریشن کے معاملات درست انداز میں چل رہے ہیں لیکن اسے نظر آ رہا ہے کہ بڑھتی آبادی کی بنا پر بیس برس بعد یہ معاملات بگڑ سکتے ہیں چنانچہ وہ بیس برس ہی ان معاملات کو درست کرنے کا سامان پیدا کرنے لگتا ہے ۔ یہی تخلیقی صلاحیت اسے تاریخ کا ہیرو بنا دیتی ہے۔10۔ مثبت رویہہم دیکھتے ہیں کہ اقتدار میں آ کر رہنما مخالفین کا ناطقہ بند کرنے کی ہر کوشش کرتے ہیں۔ ان کی سیاست ختم کرنے کے لیے گھٹیا سے گھٹیا حربے استعمال کرتے ہیں۔ یہ مثبت رویہ نہیں ہوتا بلکہ اس منفی رویے کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں کمی ہوتی ہے۔ اچھا لیڈر مثبت رویے کو اپنا کر بہت سے مسائل حل کر سکتا ہے۔٭…٭…٭