پتھروں کا نگر . . . ٹیکسلا
اسپیشل فیچر
ٹیکسلا کا اصل نام ’’ٹکا شسلا‘‘ ہے جس کے معنی ہیں ’’تراشیدہ پتھروں کا شہر‘‘ ٹکا شسلا گندھارا دور کا ایک اہم علمی مرکز ،شہر اور تاریخ کے عہد عتیق کی یادگار ہے۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں اس کا ذکر ایران کے بادشاہ دارا کے عہد کی کتب میں ملتا ہے جب یہ ایرانی سلطنت کا حصہ تھا۔ لوہے کا استعمال بھی اس عہد میں شروع ہوا۔ ایرانیوں نے ٹیکسلا میں ایک ’’دارالضرب‘‘ کھولا جہاں مقامی ڈھنگ میں ایرانی معیار کے مطابق سکے ڈھالے گئے۔ اس حقیقت کا اشارہ بدھ مت کی کتابوں میں بھی ملتا ہے کہ ٹیکسلا کو صدیوں علوم و فنون کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی تاہم سکندرِ اعظم کے حملے سے قبل اس کی تاریخ کچھ زیادہ واضح نہیں۔ سونے چاندی کے یہ زیورات اس عہد عتیق کی خوشحالی ہی نہیں ذوق جمال و نظر کا پتہ بھی دیتے ہیں۔ ان میں ہلکی پھلکی انگشتریاں بھاری بھرکم جھل جھل کرتی پازیبیں بھی شامل ہیں۔ ٹیکسلا کی وادی میں ساڑھے تین میل کے رقبے پر پھیلے 3پرانے شہروں کے کھنڈرات دریافت ہوئے۔ جنوب کی طرف قدرے بلند مگر ہموار ’’بھیر پہاڑی‘‘ کا شہرملا۔ شہر ’’سر سکھ‘‘ دریافت ہوا جبکہ مارگلہ کے مغربی کنارے پر بتبال کے کھنڈر ات ہیں۔ یونانیوں کی آمد سے پہلے دوسری صدی عیسوی کے لگ بھگ اسی شہر کو دارالحکومت کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے بعد کم و بیش ہر عہد میں یہی دارالحکومت رہا۔ شہر کے اندر محلات، مندر اور رہائشی مکانات تھے۔ فصیل کے مشرق میں وہ اسٹوپا ہے جسے ہیون سانگ نے ’’کنال کنڈل‘‘ کا نام دیا اور جسے اشوک نے اپنے بیٹے کنال کی یاد میں اس مقام پر بنوایا جہاں اس کی آنکھیں نکالی گئی تھیں۔ کنال کنڈل کی دیو مالائی کتھا کچھ یوں ہے۔ اشوک کے بیٹے کنال کی خوبصورت اور مدبھری آنکھوں پر اس کی سوتیلی ماں فر یفتہ ہو گئی۔ پاک باز راج کمار کے انکار پر رانی کی سلگتی محبت نفرت اور انتقام کے شعلوں میں بدل گئی۔ اس نے سازش تیار کی جس کے تحت کنال کو ٹیکسلا کا گورنر بنا کر بھیج دیا گیا۔ اشوک نے چلتے وقت کنال سے کہا کہ وہ مرکز سے جاری ہونے والے تمام احکامات کی صحت جانچنے کیلئے مہر پر دانتوں کے نشان ضرور دیکھ لیا کرے۔ چند ماہ بعد رانی اشوک کی طرف سے کنال کے سرکاری مشیروں کے نام یہ جعلی مراسلہ بھیجا گیاکہ کنال کی آنکھیں پھوڑ کر بیوی سمیت اسے پہاڑوں کی طرف دھکیل دیا جائے تاکہ وہ دونوں وہاں سسک سسک کر مر جائیں۔ اس مراسلہ پر رانی نے سرخ لاکھ کی مہر لگانے کے بعد اشوک کے دانتوں کا نشان اس وقت لگایا جب وہ سو رہا تھا۔ راج کمار نے حکم کی تعمیل کی اور اپنی آنکھیں نکلوا دیں۔ کنال اپنی بیوی کو لیکر ٹیکسلا سے نکلا نگر نگر بھیک مانگتا ہوا پاٹلی تیر کی راج دھانی پہنچا اور شاہی محل کے باہر ایک نوحہ الاپنا شروع کیا۔ اشوک اس وقت ایوان شاہی کی بالائی منزل پر تھا اس نے راج کمار کی آواز پہچان لی۔ اپنے بیٹے کی بصارت سے محروم آنکھیں دیکھ کر بے حد ملول ہوا۔ سازش کا احوال کھلتے ہی اس نے اپنی رانی کو آگ کے الائو میں جھونکنے کا حکم صادر کیا۔ گندھارا 5 سے700سال قبل مسیح کی ایک سلطنت کا نام تھا جو شمالی پاکستان، کشمیر اور افغانستان کے بعض علاقوں پر مشتمل تھی۔ اس ریاست کی زیادہ تر آبادی سطح مرتفع پوٹھوہار، پشاور اور دریائے کابل سے متصل علاقوں میں تھی۔ اس کے اہم شہروں میں پروشا پورہ (موجودہ پشاور) اورٹکا شسلا (موجودہ ٹیکسلا) زیادہ اہم تھے۔ تاریخی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ گندھارا 600سال قبل مسیح سے گیارہویں صدی بعد عیسوی تک قائم رہا۔ اپنی تمدنی زندگی کا عروج اس علاقے کو پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی میں ملا جب یہاں ’’کشن‘ ‘بادشاہت کا راج تھا۔ کشن بدھ مت سے تعلق رکھتے تھے۔1021ء میں یہ علاقہ سلطان محمود غزنوی نے فتح کر لیا۔ سلطان محمود غزنوی کے دور میں گندھارا کا نام رفتہ رفتہ محو ہوتا گیا۔ بعد میں مغلیہ دور میں یہ علاقہ کابل کے صوبے میں شامل کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ افغان صوبہ کندھار کا نام گندھارا کی ہی بدلی ہوئی شکل ہے۔انیسویں صدی میں انگریز فوج نے برصغیر کی قدیم تاریخ میں دلچسپی لینا شروع کی۔ 1830ء میں یہاں سے اشوکا کے دور کے چند سکے دریافت ہوئے۔ بعض چینی تاریخی کتابوں اور ان سکوں کی تحقیقات نے 1860ء میں ٹیکسلا کے نواح میں آثار قدیمہ کا سراغ لگانے میں مدد دی۔ 1912ء سے 1934ء تک کی کھدائیوں نے زمینوں میں دفن رازوں سے پردہ ہٹایا۔ کھدائی کے دوران بڑی تعداد میں قدیم شہروں،ا سٹوپا اور عبادت گاہوں کا انکشاف ہوا۔ ان انکشافات کی روشنی میں گندھارا، یہاں کے علوم و فنون اور تاریخ کا تعین ممکن ہوا۔آج ٹیکسلا میں گندھارا کی ان تمام آبادیوں، تعمیرات اور مذہبی زیارتوں کے آثاروباقیات ہیں۔کھدائی کے بعد مختلف جگہوں سے جو آثار قدیمہ برآمد ہوئے ان میں بعض نہایت بوسیدہ حال دیواروں پر مشتمل ہیں جبکہ کئی مقامات پر قدیم تعمیرات کا اندازہ کر کے ماہرین نے تعمیرات کی ہیں۔ٹیکسلا کے کھنڈرات یوں تو کئی کلومیٹر کے رقبے میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن ان میں سے مشہور نام بھڑماونڈ، سرکپ، جولیاں، موہڑہ مرادو اور سرسکھ قابل ذکر ہیں۔بھڑماونڈ کے کھنڈرات تقریباً ایک کلومیٹر کے رقبے میں ہیں۔ کھدائی سے ظاہر ہوا کہ یہاں چار تہوں میں مختلف ادوار کے آثارموجود ہیں۔ تنگ گلیاں اور مکانات کی ساخت بتاتی ہے کہ یہ کسی خاص ترتیب سے نہیں بنائے جاتے تھے۔ ان مکانات میں کھڑکیاں باہر کے رخ کی بجائے اندرونی صحن میں کھلتی تھیں اور تمام کمرے صحن کے گرد بنائے جاتے تھے۔سرکپ کے کھنڈرات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ شہر ایک مرکزی شاہراہ کے گرد تعمیر کیا گیا تھا جس سے15 ذیلی راستے نکلتے تھے۔ ان کھنڈرات کویونانی طرز تعمیر کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں کی خاص بات بدھا کے ا سٹوپا ہیں جو جابجا پائے جاتے ہیں۔ ایک ہندو مندر کی موجودگی ان مذاہب کے مابین روابط کا ثبوت پیش کرتی ہے۔جولیاں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک مرکزی اسٹوپا اور دوسرا مذہبی عبادت گاہ اور درسگاہ۔ یہ کھنڈرات ایک بلند ٹیلے پر واقع ہیں۔ مرکزی ا سٹوپا بری طرح تباہی کا شکار ہے البتہ اس کے کچھ حصوں کو اصلی حالت میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔اس بڑے ا سٹوپا کے اردگرد 21چھوٹے ا سٹوپا ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اصل میں یہ چھوٹے سٹوپے بھکشوئوں کے مقبرے ہیں۔ عبادت گاہ مرکزی تالاب کے گرد قائم کی گئی تھی۔ اس تالاب کو نہانے دھونے اور دیگر ضروریات کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ تالاب کے گرد 28 کمرے ہیں جن میں طلبا قیام کیا کرتے تھے۔موہڑہ مرادو کے کھنڈرات بھی جولیاں کے کھنڈرات سے مشابہہ ہیں ۔یہاں بھی ایک ا سٹوپا اور عبادت گاہ کے آثار پائے جاتے ہیں۔ یہ جولیاں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ سرسکھ کے کھنڈرات میں اہم چیز یہاں موجود ایک طویل دیوار ہے جو پانچ کلومیٹر لمبی ہے۔ اس دیوار کی موٹائی ساڑھے پانچ میٹر ہے۔ یہ دیوار شہر کی حفاظت کیلئے تعمیر کی گئی تھی۔ اس کی تعمیر میں چھوٹے اور بڑے پتھروں کی اینٹیں استعمال کی گئی ہیں۔گندھارا میں انسانی دلچسپی کا اہم سبب یہاں کا مخصوص آرٹ بھی ہے۔