دیوہیکل بچھوؤں کی پراسرار دنیا بے نقاب

دیوہیکل بچھوؤں کی پراسرار دنیا بے نقاب

اسپیشل فیچر

تحریر : جاوید اقبال


سائنسدانوں کے مطابق یہ جاندار زمین کی ابتدائی حیاتیاتی تاریخ کا حصہ تھے
زمین کی تاریخ کروڑوں برس پر محیط حیرت انگیز رازوں سے بھری پڑی ہے۔ سائنسدان جب قدیم فوسلز اور چٹانوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ماضی کی ایسی دنیائیں سامنے آتی ہیں جو آج کے انسان کیلئے ناقابلِ یقین محسوس ہوتی ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 41کروڑ 50 لاکھ سال قبل موجودہ برطانیہ کے علاقے میں لیبرا ڈور (Labrador) کتے کے برابر جسامت رکھنے والے دیو ہیکل بچھو پائے جاتے تھے۔ یہ خوفناک جاندار اپنے دور کے طاقتور شکاریوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس دریافت نے نہ صرف سائنسدانوں کو حیران کیا ہے بلکہ زمین پر زندگی کے ارتقا اور قدیم جانداروں کے بارے میں نئی معلومات بھی فراہم کی ہیں۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ سال قبل ایک خوفناک دیوہیکل بچھو جس کی لمبائی 3.2 فٹ (ایک میٹر) تھی، موجودہ برطانیہ کے علاقے میں گھومتا پھرتا تھا۔ یہ بچھو جس کی جسامت لیبراڈور کتے کے برابر تھی اور جس کے طاقتور پنجے 6.3 انچ (16 سینٹی میٹر) سے زیادہ لمبے تھے، ایک انتہائی خطرناک اعلیٰ درجے کا شکاری تھا۔
یہ اس وقت کے سیلابی میدانوں میں، جو آج کے انگلینڈ اور ویلز ہیں، اس دور میں موجود تھا جب زمین پر ابھی درخت بھی وجود میں نہیں آئے تھے۔ لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے اسے اپنی نوعیت کا اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا بچھو قرار دیا ہے۔ اس کی جسمانی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خشکی اور پانی دونوں میں آسانی سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ میوزیم کے فوسل آرتھروپوڈز کے کیوریٹر ڈاکٹر رچرڈ جے ہاورڈ کے مطابق جب ہم دیوہیکل آرتھروپوڈز کے بارے میں سوچتے ہیں تو لوگ عموماً بعد کے ادوار کے کاربونی فیرس جنگلات میں پائے جانے والے بڑے ملی پیڈز یا ڈریگن فلائی جیسے کیڑوں کا تصور کرتے ہیں، لیکن یہ اس سے کم از کم 50 ملین سال پہلے موجود تھا، جب زمینی حیات ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جانور کو بچھو کے طور پر تصدیق کرنا ہماری اس سمجھ کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتا ہے کہ یہ جاندار کب اور کس طرح اتنے بڑے سائز تک پہنچے۔
جن فوسلز کی بنیاد پر ان بچھوئوں کی شناخت کی گئی ہے، وہ دراصل میوزیم میں 150 سال سے زائد عرصے سے محفوظ تھے۔ سائنسدانوں نے جدید سائنسی تجزیاتی طریقوں اور نئے دریافت شدہ فوسل انواع سے موازنہ کر کے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ قدیم جاندار واقعی ایک بچھو ہے اور اپنی نوعیت کی ایک الگ قسم بھی ہے۔
یہ جاندار ابتدائی ڈیوونین دور میں جب خشکی پر زندگی ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ اس وقت چھوٹے پودے اور فنگس زمین پر پھیلنا شروع ہوئے تھے، جبکہ پیچیدہ زمینی ماحولیاتی نظام جیسے جنگلات ابھی وجود میں نہیں آئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے دیوہیکل آرتھروپوڈز کے برعکس،یہ قدیم جاندار کو اس بلند ماحولیاتی آکسیجن کی سطح سے فائدہ نہیں ملا جو بعد میں جنگلات کے پھیلاؤ سے منسلک تھی۔ اس کے بجائے، اس کی غیر معمولی جسامت ممکنہ طور پر اس ماحول کی عکاسی کرتی ہے جہاں بڑے شکاری جانوروں کی تعداد بہت کم تھی، جس کی وجہ سے یہ بچھو اپنے ماحول میں غالب حیثیت اختیار کر سکتا تھا۔ ماہرین کے مطابق، اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یہ جاندار اس وجہ سے اتنا بڑا ہوا کیونکہ اس وقت مقابلہ کرنے والے بڑے شکاری کم تھے، جس نے اسے اپنے ماحول میں برتری حاصل کرنے کا موقع دیا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس قدیمی جاندار کے پیٹ پر فلیپ نما ساختیں موجود تھیں، جو آج کے کچھ آبی جانداروں جیسے لابسٹر میں پائی جاتی ہیں۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ قدیم جاندار زمین کی تاریخ کے اس اہم دور سے تعلق رکھتا ہے جب جانور پہلی بار سمندر سے باہر خشکی پر زندگی گزارنے کے تجربات کر رہے تھے۔
ڈاکٹر گریگ ایجکومب (Dr Greg Edgecombe)، جو نیچرل ہسٹری میوزیم کے ایک ممتاز محقق اور اس تحقیق کے شریک مصنف ہیں، نے کہا کہ اس دور میں خشکی اور سمندر کے درمیان سرحد بہت واضح نہیں تھی۔ ان کے مطابق یہ قدیم جاندار ہمیں یہ سمجھنے میں ایک دلچسپ جھلک فراہم کرتا ہے کہ ابتدائی جاندار بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات کے مطابق کس طرح ڈھل رہے تھے۔ حتیٰ کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کسی ایسی نسل سے تعلق رکھتا ہو جو ابتدائی طور پر خشکی پر زندگی گزارنے کے بعد دوبارہ پانی میں واپس چلی گئی ہو۔
اس جاندار کو پہلی بار 1871ء میں بیان کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر اسے ایک دیوہیکل کرسٹیشین (crustacean) سمجھا گیا تھا، جو کسی لکڑی کے کیڑے (woodlouse) سے مشابہ تھا۔ تاہم، دستیاب فوسلز میں دم جیسے اہم اعضاء کی عدم موجودگی کے باعث ایک صدی سے زائد عرصے تک اس کی درست درجہ بندی ممکن نہ ہو سکی۔ اصل پیش رفت حالیہ برسوں میں دریافت ہونے والے فوسلز کے تقابلی مطالعے سے ہوئی، جس میں بچھوؤں سے متعلق مخصوص جسمانی خصوصیات سامنے آئیں۔ ڈاکٹر رچرڈ نے مزید کہا کہ ایک صدی سے زیادہ پرانے نمونے بھی آج نئے سائنسی انکشافات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید تکنیکوں کے ذریعے ان فوسلز کا دوبارہ مطالعہ زمین پر زندگی کی تاریخ کے بارے میں ہماری سمجھ کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
درختوں کا عاشق، زمین کا محافظ

درختوں کا عاشق، زمین کا محافظ

اکیلے شخص کا ایک دن میں 45 ہزار سے زائد پودے لگا نے کا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور ماحولیاتی آلودگی آج دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز میں شامل ہیں۔ ایسے حالات میں وہ افراد امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں جو ماحول کے تحفظ کیلئے غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔ حال ہی میں کینیڈا کے ایک شہری نے ایک ہی دن میں 45 ہزار سے زائد مینگروو پودے لگا کر نیا ریکارڈ قائم کیا اور درختوں سے اپنی بے مثال محبت کا عملی ثبوت دیا۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ماہر ماحولیات انٹوئن موزیس (Antoine Moses ) کینیا کے ساحلی شہر ممباسا کے کیچڑ زدہ ساحلی علاقے میں تقریباً 24 گھنٹے مسلسل مینگروو کے پودے لگانے میں مصروف رہے۔ وہ جھکی ہوئی کمر اور تھکے ہوئے جسم کے باوجود ایک کے بعد ایک پودا زمین میں نصب کرتے رہے۔ سخت مشقت اور تھکا دینے والے کام کے باوجود ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ ہاتھوں میں مینگروو کے ننھے پودے اور سر پر دھوپ سے بچاؤ کیلئے ٹوپی سجائے، انہوں نے صبح سے رات تک مسلسل محنت جاری رکھی۔ انہوں نے 24 گھنٹوں کے دوران 47,460 مینگروو پودے لگا کر ایک فرد کے ہاتھوں سب سے زیادہ مینگروو درخت لگانے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔قدرت اور ماحول سے گہری محبت رکھنے والے انٹوئن موزیس کیلئے یہ گنیز ورلڈ ریکارڈز کا دوسرا اعزاز ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 2021ء میں بھی ایک منفرد عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جب انہوں نے کینیڈا کے صوبے البرٹا کے علاقے لاکریٹ میں 24 گھنٹوں کے دوران 23,060 درخت لگا کر ایک فرد کے ہاتھوں سب سے زیادہ درخت لگانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اب انہوں نے مینگروو کے 47,460 پودے لگا کر اپنا ہی ریکارڈ مزید شاندار انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ ان کی یہ کامیابی ماحولیات کے تحفظ، شجرکاری کے فروغ اور زمین کو سرسبز بنانے کیلئے ان کی غیر معمولی وابستگی اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اپنی دوسری عالمی کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انٹوئن موزیس نے گنیز ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو میں کہا کہ دوسرا عالمی اعزاز حاصل کرنا میرے لیے انتہائی خوشی اور اطمینان کا باعث ہے، خاص طور پر یہ جانتے ہوئے کہ اس منصوبے کے مقامی ساحلی آبادیوں، سمندری ماحولیاتی نظام اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ میرے لیے اس کامیابی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک ریکارڈ تک محدود نہیں بلکہ ایک بہت بڑے ماحولیاتی مشن کا حصہ ہے۔انٹوئن موزیس کے مطابق ان کا مقصد محض عالمی ریکارڈ قائم کرنا نہیں بلکہ شجرکاری اور مینگروو جنگلات کے فروغ کے ذریعے ماحولیات کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی اور ساحلی علاقوں کے قدرتی نظام کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ ان کا یہ کارنامہ دنیا بھر کے لوگوں کیلئے ایک مثبت پیغام ہے کہ انفرادی کوششیں بھی ماحول کے تحفظ میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتی ہیں۔انٹوئن موزیس گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے شجرکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق عالمی ریکارڈ قائم کرنے کیلئے درکار رفتار اور مہارت حاصل کرنے میں انہیں چار سے پانچ سال لگے۔ انہوں نے 2023ء میں گنیز ورلڈ ریکارڈز کو بتایا کہ کینیڈا میں شجرکاری ایک بڑی صنعت کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے کاٹے جانے والے ہر درخت کے بدلے نیا درخت لگانا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے ان کے اندر فطرت اور ماحولیات سے محبت کو پروان چڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ 2021ء میں اپنی زندگی میں 15 لاکھ سے زائد درخت لگانے اور اپنی تکنیک، رفتار اور جسمانی برداشت کو بہتر بنانے کیلئے برسوں محنت کرنے کے بعد عالمی ریکارڈ توڑنا ایک ناقابلِ یقین احساس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں تھا کہ میں نے ایسا کارنامہ انجام دیا جو اس سے پہلے کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ درخت لگانا جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی مشقت طلب کام ہے، میری محنت، لگن اور عزم کو عالمی سطح پر سراہا جانامیرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔اپنا پہلا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد انٹوئن موزیس نے سوشل میڈیا پر اپنی شجرکاری کی سرگرمیوں اور سفر کی ویڈیوز شیئر کرنا شروع کیں۔ ان کے بقول لوگوں کی جانب سے ملنے والا ردِعمل ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔ آج انسٹاگرام پر ان کے 16 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں جو ان کے مشن، طرزِ زندگی اور ماحولیات کے تحفظ کیلئے کی جانے والی کاوشوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ انٹوئن کا کہنا ہے کہ لوگوں کی زبردست پذیرائی نے مجھے احساس دلایا کہ میں اس کام کو کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر آگے بڑھا سکتا ہوں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ''انٹوموس‘‘ (Antomos) کے نام سے ایک منصوبے کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے وہ وہ مختلف اداروں اور برانڈز کو دنیا بھر میں شجرکاری اور ماحولیاتی بحالی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد حقیقی ماحولیاتی بہتری کو مؤثر ابلاغ اور مکمل شفافیت کے ساتھ جوڑنا ہے، تاکہ لوگ نہ صرف درخت لگانے کے عمل میں شریک ہوں بلکہ اس کے مثبت اثرات کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔انٹوئن موزیس کی یہ کوشش اس بات کی مثال ہے کہ جدید سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مثبت سماجی اور ماحولیاتی تبدیلی کیلئے کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ان کا یہ کارنامہ نہ صرف ایک عالمی ریکارڈ ہے بلکہ ماحول کے تحفظ، ساحلی علاقوں کی بقا اور آنے والی نسلوں کیلئے سرسبز و شاداب زمین چھوڑنے کے عزم کی بھی روشن مثال ہے۔انٹوئن موزیس کی داستان اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مستقل مزاجی، محنت اور ماحول سے محبت انسان کو غیر معمولی کامیابیوں تک پہنچا سکتی ہے، جبکہ شجرکاری نہ صرف زمین کو سرسبز بناتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر اور محفوظ ماحول بھی فراہم کرتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

پاکستانی راکٹ ''رہبر1‘ 6 جون 1962ء کو پاکستان نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے پہلا راکٹ ''رہبر1‘‘ کامیابی سے لانچ کیا۔ یہ تجربہ بلوچستان کے ساحلی علاقے سے انجام دیا گیا۔ اس کامیاب لانچ کے ساتھ پاکستان نہ صرف مسلم دنیا بلکہ جنوبی ایشیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے خلائی تحقیق کے میدان میں عملی پیش رفت کی۔ اس منصوبے کی قیادت ممتاز سائنس دان ڈاکٹر طارق مصطفی نے کی۔رہبر1 کی کامیابی نے پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور ملک میں خلائی سائنس و تحقیق کے نئے دور کا آغاز کیا۔ پہلا ڈرائیو اِن تھیٹر6جون1933ء کو دنیا کا پہلا ''ڈرائیو اِن تھیٹر‘‘ نیو جرسی میں کھولا گیا۔ ڈرائیو اِن تھیڑ ایک ایسا سینما گھر ہوتا ہے جس میں گاڑیوں کی پارکنگ کے سامنے سکرین نصب کی جاتی ہے جس سے لوگ اپنی کاروں میں رہتے ہوئے فلم دیکھ سکتے ہیں۔ڈرائیو اِن تھیٹر کا افتتاح کیا گیا تو یہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ اس سے قبل لوگوں کے دماغ میں صرف ایسے سینما کا ہی تصور تھا جس میں اندھیرے ہال میں کرسیوں پر بیٹھ کر فلم دیکھی جاتی تھی ۔ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر فلم سے لطف اندوز ہونا لوگوں کیلئے منفرد چیز تھی۔''دی گریٹ سیٹل فائر‘‘6جون 1889ء کو سیٹل شہر میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جسے ''دی گریٹ سیٹل فائر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس آگ نے واشنگٹن کے پورے کاروباری مرکز اور ضلع کو تباہ کر کے رکھ دیا۔آگ دوپہر میں لگی اور رات گئے اس پر قابو پایا گیا۔ آ گ ایک ترکھان کی دکان سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے بعد ہنگامی بنیادوں پر شہر کی دوبارہ تعمیر کی گئی تاکہ معمولات زندگی بحال کئے جا سکیں۔ آج بھی اس آگ کو سیٹل شہر کے بدترین حادثے کی طور پر یاد کیا جاتا ہے۔طیاروں کا تصادم6 جون 1971ء کو امریکہ میں ایک ہولناک فضائی حادثہ پیش آیا۔ہیوز ایئرویسٹ فلائٹ 706‘‘امریکی ریاست کیلیفورنیا کے سان گیبریئل مائونٹینز کے اوپر پرواز کے دوران امریکی میرین کور کے ایک جنگی طیارے سے ٹکرا گئی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ دونوں طیارے تباہ ہو گئے۔ مسافر بردار طیارے میں سوار تمام افراد اور جنگی طیارے کے ایک پائلٹ سمیت مجموعی طور پر 50 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حادثہ امریکی فضائی تاریخ کے المناک فضائی تصادم میں شمار کیا جاتا ہے۔اس سانحے کے بعد فضائی ٹریفک کنٹرول اور فوجی و سول پروازوں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کیے گئے۔آپریشن اوورلورڈآپریشن اوورلورڈ نارمینڈی میں لڑی جانے والی جنگ کا کوڈ نام نام تھا۔یہ دوسری عالمی جنگ کے دوران اتحادی افواج کی جانب سے کیا جانے والا آپریشن تھاجس میں جرمنی کے زیر قبضہ مغربی یورپ پر کامیاب حملے کا آغاز کیا گیا۔آپریش کا آغاز6جون1944ء کو نارمینڈی لینڈنگ کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ آپریشن میں5ہزار سے زائد بحری جہازوں نے حصہ لیا۔6جون کوایک لاکھ60ہزار فوجیوں نے انگلش چینل عبور کیا اور20لاکھ اتحادی افواج فرانس میں موجود تھیں۔

کوارٹر ہارس ایم کے-1

کوارٹر ہارس ایم کے-1

کیا دنیا میک 5 کی رفتار سے سفر کے دور میں داخل ہو رہی ہے؟امریکی ایرو سپیس کمپنی Hermeus کے تجرباتی طیارے Quarterhorse Mk 1کی پہلی کامیاب پرواز نے فضائی سفر کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ یہ طیارہ ابھی ابتدائی آزمائشی مراحل میں ہے لیکن اس کی کامیاب پرواز کو مستقبل کے ایسے مسافر بردار جہازوں کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیز یعنی میک 5 (Mach5) کی رفتار سے سفر کر سکیں گے ۔کوارٹر ہارس ایم کے1 کی پہلی کامیاب پروازگزشتہ برس 21 مئی کو ریاست کیلیفورنیا میں امریکی فضائیہ کے ایڈورڈز ایئر فورس بیس سے ہوئی۔پرواز کا مقصد طیارے کے ٹیک آف، لینڈنگ، کنٹرول سسٹمز، ایویونکس اور ایروڈائنامکس کی جانچ کرنا تھا۔ کوارٹر ہارس ایم کے1 مستقبل کے ہائپر سانک طیاروں کی تیاری کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔کمپنی کا بنیادی مقصد ایسا مسافر بردار طیارہ تیار کرنا ہے جو میک 5 کی رفتار سے پرواز کر سکے۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت صرف ایک نئے طیارے کی آزمائش نہیں بلکہ فضائی نقل و حمل میں ایک ممکنہ انقلاب کی بنیاد ہے۔ اگر اس منصوبے میں کامیابی ہو جاتی ہے تو اس صلاحیت کا حامل مسافر بردار طیارہ لندن سے نیویارک کا سفر محض ڈیڑھ گھنٹے کے قریب مکمل کر سکے گا جبکہ موجودہ طیاروں کو یہی فاصلہ طے کرنے میں سات سے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔پہلی پرواز کیوں اہم ہے؟کوارٹر ہارس ایم کے 1نے اپنی پہلی پرواز امریکی فضائیہ کے مشہور تجرباتی مرکز ایڈورڈز ایئر فورس بیس سے کی۔ اس پرواز کا بنیادی مقصد انتہائی تیز رفتار پرواز سے پہلے طیارے کے بنیادی سسٹمز، ایویونکس، لینڈنگ گیئر، کنٹرول سسٹمز اور فضائی استحکام کا جائزہ لینا تھا۔کمپنی کے مطابق ایم کے1 ماڈل کو محض 19 ماہ میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا،جو جدید ہوابازی کی صنعت میں غیر معمولی رفتار سمجھی جاتی ہے۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ تھی کہ کمپنی روایتی انداز میں کئی سال تحقیق کرنے کے بجائے ''تیار کرو، آزماؤ اور سیکھو‘‘ کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔رفتار اور تکنیکی خصوصیاتبنیادی طور پرایم کے 1 میک 5 کی رفتار کے لیے نہیں بنایا گیا مگر یہ مستقبل میں برق رفتار طیارے بنانے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرنا ہے۔ موجودہ آزمائشی طیارہGE J85 ٹربوجیٹ انجن کا حامل ہے جو بنیادی پرواز اور سسٹمز کی جانچ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔تاہمHermeus کا اصل ہدف ایسے انجن تیار کرنا ہے جو کم رفتار پر عام جیٹ انجن کی طرح کام کریں اور پھر انتہائی تیز رفتار پر رام جیٹ (Ramjet) نظام میں تبدیل ہو جائیں۔ اس ٹیکنالوجی کوTurbine Based Combined Cycle (TBCC) کہا جاتا ہے۔میک 5 کی رفتار تقریباً 6,100 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے اور اس رفتار پر پرواز کرنے والا طیارہ شدید حرارت اور فضائی دباؤ کا سامنا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہائپرسانک طیاروں کی تیاری دنیا کے مشکل ترین انجینئرنگ منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔سب سے بڑا چیلنجہائپرسانک رفتار پر پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ انجن نہیں بلکہ حرارت ہوتی ہے۔ جب کوئی طیارہ میک 5 کی رفتار سے فضا میں سفر کرتا ہے تو اس کے اگلے حصے کا درجہ حرارت کئی سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔اس صورتحال میں عام ایلومینیم یا روایتی دھاتی ڈھانچے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لیے انجینئرز کو خصوصی دھاتوں، جدید کمپوزٹس اور حرارت برداشت کرنے والے مواد کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ کوارٹر ہارس پروگرام انہی مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ مستقبل کا مسافر بردار طیارہکوارٹر ہارس پروگرام کا حتمی مقصد Halcyon نامی ایک ہائپرسانک مسافر بردار طیارہ تیار کرنا ہے۔ کمپنی کے ابتدائی تصورات کے مطابق یہ طیارہ تقریباً 20 مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہو گا اور میک 5 کی رفتار سے بین الاقوامی سفر کو موجودہ دور کے مقابلے میں کئی گنا مختصر بنا دے گا۔اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو نیویارک، لندن، ٹوکیو اور سنگاپور جیسے بڑے شہروں کے درمیان سفر کے اوقات نمایاں طور پر کم ہو جائیں گے۔تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ تجارتی سطح پر ہائپرسانک پروازیں شروع ہونے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں کیونکہ رفتار کے ساتھ ساتھ حفاظت، ایندھن کی لاگت، شور، ماحولیاتی اثرات اور سرکاری منظوری جیسے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔مستقبل کی سمتکوارٹر ہارس ایم کے1 کی پہلی پرواز اگرچہ ابتدائی قدم ہے لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آنے والے برسوں میں سپرسانک اور پھر ہائپرسانک رفتار کے حامل مسافر طیارے بنانے میں کامیابی ہو سکتی ہے اور دنیا ایک بار پھر فضائی سفر کے ایسے انقلاب کی گواہ بن سکتی ہے جس کا خواب کانکورڈ کے دور کے بعد تقریباً ختم ہو چکا تھا۔اب نظریں Quarterhorse کے اگلے ماڈلز پر مرکوز ہیں کیونکہ انہی کی کامیابی یا ناکامی مستقبل کے میک 5 مسافر بردار جہاز Halcyon کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔

ورلڈ بائیسکل ڈے

ورلڈ بائیسکل ڈے

صحت مند معاشرے اور صاف ماحول کی جانب ایک قدم 3 جون کو دنیا بھر میں ورلڈ بائیسکل ڈے منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 2018ء میں اس دن کو عالمی سطح پر تسلیم کیا تاکہ سائیکل کی اہمیت، افادیت اور پائیدار نقل و حمل کے طور پر اس کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ بائیسکل صرف ایک سواری نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی، ماحولیاتی تحفظ اور معاشی بچت کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں سائیکل کے استعمال کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ یہ نہ صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ اس کا کم خرچ ہونا ایک الگ خصوصیت ہے۔سائیکل انسانی تاریخ کی سب سے کامیاب اور ماحول دوست ایجادات میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً نیدرلینڈز، ڈنمارک اور جرمنی میں لاکھوں افراد روزانہ دفتر، تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات تک پہنچنے کے لیے آج بھی سائیکل استعمال کرتے ہیں۔پاکستان میں بھی چند دہائیاں قبل سائیکل عام سواری سمجھی جاتی تھی اور طلبہ، مزدور، کسان اور سرکاری ملازمین بڑی تعداد میں سائیکل پر سفر کیا کرتے تھے۔ پھر ہمارے ہاں موٹر سائیکل انقلاب آیا اور سائیکل قصہ پارینہ بن گئی۔ آج ورلڈ بائیسکل ڈے ہمیں اس مفید روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔صحت مند زندگی کے لیے بہترین انتخابجدید دور میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی کے باعث موٹاپا، دل کے امراض، ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ سائیکل چلانا ایک مکمل جسمانی ورزش ہے جو جسم کے مختلف حصوں کو متحرک کرتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق روزانہ 30 سے 45 منٹ سائیکل چلانے سے دل مضبوط ہوتا ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور جسمانی وزن متوازن رہتا ہے۔سائیکلنگ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ ورزش کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ، بے چینی اور تھکن کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صحت کے ماہرین سائیکلنگ کو ایک آسان اور مؤثر ورزش قرار دیتے ہیں۔ہمارے ہاں نوجوان نسل کا زیادہ وقت موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں گزرتا ہے۔ اگر بچے اور نوجوان روزانہ کچھ وقت سائیکل چلانے کے لیے مختص کریں تو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بہتر ہو سکتی ہے۔ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا ذریعہدنیا اس وقت ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے خارج ہونے والی گیسیں فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ بڑے شہروں میں دھواں، شور اور ٹریفک جام روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔سائیکل ایک ماحول دوست سواری ہے جو کسی طرح بھی ماحول پر منفی اثر نہیں ڈالتی۔ اگر شہری علاقوں میں مختصر فاصلے طے کرنے کے لیے سائیکل کے استعمال کو فروغ دیا جائے تو فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا اور ایندھن کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ہمارے ملک کے بڑے شہروں جیسا کہ لاہور، کراچی، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں کو فضائی آلودگی کے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں سائیکلنگ کلچر کو فروغ دینا ماحول دوست مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ سائیکل کلچر کے فروغ کی ضرورتاگرچہ سائیکل کے بے شمار فوائد موجود ہیں لیکن اس کے استعمال میں کئی رکاوٹیں بھی ہیں۔مثال کے طور پر شہروں میں سائیکل سواروں کے لیے مخصوص لینز کی کمی، سڑکوں کی نامناسب حالت اور ٹریفک کے مسائل لوگوں کو سائیکل استعمال کرنے سے روکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں اور مقامی ادارے سائیکل دوست پالیسیاں متعارف کرائیں۔ تعلیمی اداروں، پارکوں اور عوامی مقامات پر سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ شہری منصوبہ بندی میں سائیکل ٹریکس شامل کیے جائیں تاکہ لوگ محفوظ انداز میں سفر کر سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ والدین بھی اپنے بچوں کو سائیکلنگ کی طرف راغب کریں۔ سکولوں میں سائیکلنگ کے مقابلے، آگاہی مہمات اور کھیلوں کی سرگرمیاں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ورلڈ بائیسکل ڈے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ایک سادہ سی سائیکل صحت مند زندگی، صاف ماحول اور معاشی بچت کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی، ٹریفک کے مسائل اور صحت کے چیلنجز کے پیش نظر سائیکلنگ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے اور عوام مل کر سائیکل کے استعمال کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں تو نہ صرف انفرادی صحت بہتر ہوگی بلکہ ایک صاف، صحت مند اور پائیدار معاشرہ بھی تشکیل پائے گا۔ یہی ورلڈ بائیسکل ڈے کا اصل پیغام ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

3 جون پلان3 جون 1947ء برصغیر کی تاریخ کا ایک نہایت اہم دن ہے کیونکہ اس روز برطانوی حکومت نے ہندوستان کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا تھا جسے 3 جون پلان کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا اعلان برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کیا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی حکومت کمزور ہو چکی تھی اور ہندوستان میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔3 جون کے منصوبے کے مطابق پنجاب اور بنگال کی تقسیم، عوامی نمائندوں کی رائے اور سرحدوں کے تعین کیلئے خصوصی کمیشن قائم کرنے کی تجاویز دی گئیں۔اسی فیصلے کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان اور 15 اگست 1947ء کو بھارت آزاد ہوئے۔ انطاکیہ کی فتح3 جون 1098ء کو پہلی صلیبی جنگ کے دوران صلیبی افواج نے انطاکیہ کے عظیم اور تاریخی شہر پر قبضہ کر لیا۔ انطاکیہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کا ایک اہم فوجی، تجارتی اور مذہبی مرکز تھا۔ یہ شہر موجودہ ترکی کے جنوبی حصے میں واقع تھا اور اس پر سلجوقی مسلمانوں کی حکومت تھی۔صلیبی افواج نے تقریباً آٹھ ماہ تک انطاکیہ کا محاصرہ کیے رکھا۔آخرکار شہر کے ایک محافظ کی مدد سے صلیبی فوج شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی اور 3 جون 1098ء کو انطاکیہ پر قبضہ کر لیا گیا۔انطاکیہ کی فتح پہلی صلیبی جنگ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی کیونکہ اس سے صلیبی افواج کا حوصلہ بلند ہوا اور انہیں بیت المقدس کی جانب پیش قدمی کا موقع ملا۔ پہلی امریکی خلائی چہل قدمی3 جون 1965ء کو امریکہ نے ناسا کے تحت جیمنی 4 (Gemini 4) مشن کا آغاز کیا جو خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا کیونکہ اسی مشن کے دوران امریکی خلانورد نے پہلی مرتبہ خلا میں چہل قدمی کی۔ جیمنی 4 میں دو خلانورد شامل تھے۔ مشن کے دوران ایک خلا نورد خلائی جہاز سے باہر نکلا اور تقریباً 20 منٹ تک خلا میں رہا۔ یہ منظر پوری دنیا میں براہِ راست نشر کیا گیا اور لاکھوں لوگوں نے اسے دیکھا۔۔ جیمنی 4 مشن نے خلائی تحقیق میں نئی راہیں کھولیں اور امریکہ کی سائنسی ترقی کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ آپریشن بلیو سٹار3 جون 1984ء کو بھارتی حکومت نے پنجاب میں آپریشن بلیو سٹار کا آغاز کیا۔ اس فوجی کارروائی کا مقصد امرتسر میں واقع سکھوں کے مقدس ترین مقام، گولڈن ٹیمپل، میں موجود مسلح افراد کو نکالنا تھا۔ 3 جون کو علاقے کا محاصرہ کیا گیا ۔ اس آپریشن میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور ہزاروں فوجی شامل تھے۔کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے اور گولڈن ٹیمپل کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا جس پر دنیا بھر کی سکھ برادری نے شدید ردِعمل ظاہر کیا۔ اس واقعے کے چند ماہ بعد بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے قتل کر دیا۔فرانس پر جرمن فضائی حملے3 جون 1940ء دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایک اہم دن تھا جب نازی جرمنی نے فرانس کے مختلف شہروں خصوصاً پیرس، پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ اس وقت جرمن افواج مغربی یورپ میں تیزی سے پیش قدمی کر رہی تھیں اور فرانس کو شکست کے قریب پہنچا چکی تھیں۔ جرمن فضائیہ نے فرانسیسی دفاع کو کمزور کرنے کے لیے شدید بمباری کی۔ پیرس سمیت کئی شہروں میں تباہی پھیلی، عمارتیں منہدم ہوئیں اور بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے۔ ان فضائی حملوں نے جرمن زمینی افواج کی پیش قدمی کو مزید آسان بنا دیا اور بالآخر 22 جون 1940ء کو فرانس نے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

80 سال پرانا مسئلہ اور مصنوعی ذہانت کا حیران کن حل  جس نے ریاضی دانوں کو حیران کر دیا

80 سال پرانا مسئلہ اور مصنوعی ذہانت کا حیران کن حل جس نے ریاضی دانوں کو حیران کر دیا

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ تو کر ہی رہی ہے لیکن گزشتہ ہفتے OpenAI کے اس انکشاف نے دنیا بھر کے ریاضی دانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا کہ اس کے ایک AI ماڈل نے معروف ریاضی دان پال ایرڈوش کے اُس مسئلے کا نیا حل تجویز کیا ہے جوتقریباً 80 سال سے ریاضی دانوں کے لیے معمہ بنا ہوا تھا۔ اس پیش رفت کو بعض ماہرین مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ محض تیز رفتار حساب کتاب ہی نہیں بلکہ ایک نئے ریاضیاتی ماڈل کی دریافت سے متعلق ہے۔یہ مسئلہ ہنگری کے معروف ریاضی دان پال ایرڈوش (Paul Erdos) نے 1946ء میں پیش کیا تھا۔ ایرڈوش بیسویں صدی کے عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار ہوتے ہیں اور انہوں نے ہزاروں ریاضیاتی مسائل اور نظریات پر کام کیا۔تاہم ان کا مذکورہ مسئلہ کئی دہائیوں تک دنیا بھر کے ریاضی دانوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔مسئلہ کیا تھا؟ایرڈوش نے سوال اٹھایا تھا کہاگر ایک ہموار سطح پر بہت سے نقطے لگائے جائیں تو ان نقطوں کے درمیان ایسے نقطوں کی جوڑیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کتنی ہو سکتی ہے جن کا باہمی فاصلہ بالکل ایک یونٹ ہو۔ ایسے دو نقاط جن کے درمیان فاصلہ ایک یونٹ ہو، یونٹ ڈسٹنس جوڑی (Unit Distance Pair) کہلاتے ہیں۔اس مسئلے کو Planar Unit Distance Problem کہا جاتا ہے اور بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے موجود ریاضی انتہائی پیچیدہ ہے۔ کئی دہائیوں تک ریاضی دان مختلف جیومیٹریکل ترتیبوں یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ زیادہ سے زیادہ کتنے نقاط اس انداز میں رکھے جا سکتے ہیں کہ ان کے درمیان ایک یونٹ فاصلے والے جوڑوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو۔وقت گزرنے کے ساتھ ایک عمومی تصور قائم ہو گیا کہ سکوئر گرڈ (Square Grid)اس مسئلے کے لیے تقریباً بہترین حل فراہم کرسکتا ہے، اگرچہ اس تصور کو مکمل طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا لیکن بیشتر ماہرین اسے درست مانتے تھے۔بہرکیف اس مسئلے سے متعلق کئی دہائیوں تک تحقیق جاری رہی۔مصنوعی ذہانت نے کیا نیا دریافت کیا؟ جب ایک جدید AI ماڈل کے ذریعے ریاضی کے اس مسئلے پر غور کیا گیا تو حیران کن طور پر اس ماڈل نے ایک ایسی نئی جیومیٹریکل شکل (Construction) تجویز کی جو مروجہ نظریات سے مختلف تھی۔اس نئی جیومیٹریکل شکل نے اس بات کے شواہد فراہم کیے ہیں کہ کئی دہائیوں سے رائج گرڈ سکوئر کا تصور مکمل طور پر درست نہیں تھا۔ دوسرے الفاظ میں AI نے ایک ایسا حل دریافت کیا جس نے پرانے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے اس حل تک پہنچنے کے لیے ریاضی کے ایک نسبتاً غیر متوقع شعبے، Algebraic Number Theory، سے تعلق رکھنے والے خیالات استعمال کیے ہیں۔ عام طور پر اس مسئلے کے بارے میں سوچتے وقت ریاضی دان جیومیٹری پر زیادہ توجہ دیتے تھے لیکن AI نے مختلف ریاضیاتی شعبوں کے درمیان تعلق تلاش کرتے ہوئے ایک نئی راہ دریافت کی۔یہی وہ پہلو ہے جس نے ماہرین کو سب سے زیادہ متاثر کیا کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت بعض اوقات ایسے راستے تلاش کر سکتی ہے جن کے بارے میں انسانوں نے پہلے غور نہ کیا ہو۔ماہرین ِ ریاضی کا ردِعملاس پیش رفت پر دنیا کے کئی ممتاز ریاضی دانوں نے مثبت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ معروف برطانوی ریاضی دان ٹموتھی گوورز (Timothy Gowers) جو فیلڈز میڈل حاصل کر چکے ہیں، نے کہا کہ اگر یہی نتیجہ کسی انسانی محقق کی جانب سے پیش کیا جاتا تو میں اسے اعلیٰ درجے کے جرنل میں شائع کرنے کی سفارش کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتا۔اسی طرح دیگر ماہرین نے بھی اس کام کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔ بعض ریاضی دانوں کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ایسا ریاضیاتی نتیجہ پیش کیا ہے جو اپنی ذات میں تحقیقی اہمیت رکھتا ہے اور جسے صرف کمپیوٹر کی حسابی طاقت کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگرچہ بعد میں انسانی محققین نے اس دریافت کا تفصیلی جائزہ لیا اور مزید بہتریاں بھی تجویز کیں لیکن بنیادی خیال مصنوعی ذہانت کی جانب سے سامنے آیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کامیابی کو AI اور انسانی تحقیق کے اشتراک کی ایک اہم مثال سمجھا جا رہا ہے۔کیا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گیا؟یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ AI نے پورے Planar Unit Distance Problemکا مکمل حل پیش نہیں کیا اور مسئلہ اب بھی ریاضی دانوں کے لیے ایک چیلنج ہے اور اس کے کئی پہلو ابھی تحقیق طلب ہیں۔البتہ مصنوعی ذہانت نے اس مسئلے سے متعلق ایک معروف اندازے کو غلط ثابت کر کے تحقیق کا رخ موڑ دیا ہے۔ ریاضی کی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلے کا مکمل حل حاصل ہونے سے پہلے کئی اہم جزوی نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ دریافت بھی انہی اہم سنگِ میل میں سے ایک تصور کی جا رہی ہے۔مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا کرداراس پیش رفت نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت سائنسی اور ریاضیاتی تحقیق میں ایک فعال معاون بن سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ AI انسانی محققین کی جگہ نہیں لے گی لیکن یہ پیچیدہ مسائل میں نئی راہیں اور غیر متوقع خیالات ضرور فراہم کر سکتی ہے۔ریاضی، فزکس ، بیالوجی اور دیگر سائنسی شعبوں میں ایسے بے شمار مسائل موجود ہیں جن پر کئی دہائیوں سے تحقیق جاری ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ نئی دریافتوں اور نظریات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے۔