دیوہیکل بچھوؤں کی پراسرار دنیا بے نقاب
اسپیشل فیچر
سائنسدانوں کے مطابق یہ جاندار زمین کی ابتدائی حیاتیاتی تاریخ کا حصہ تھے
زمین کی تاریخ کروڑوں برس پر محیط حیرت انگیز رازوں سے بھری پڑی ہے۔ سائنسدان جب قدیم فوسلز اور چٹانوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ماضی کی ایسی دنیائیں سامنے آتی ہیں جو آج کے انسان کیلئے ناقابلِ یقین محسوس ہوتی ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 41کروڑ 50 لاکھ سال قبل موجودہ برطانیہ کے علاقے میں لیبرا ڈور (Labrador) کتے کے برابر جسامت رکھنے والے دیو ہیکل بچھو پائے جاتے تھے۔ یہ خوفناک جاندار اپنے دور کے طاقتور شکاریوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس دریافت نے نہ صرف سائنسدانوں کو حیران کیا ہے بلکہ زمین پر زندگی کے ارتقا اور قدیم جانداروں کے بارے میں نئی معلومات بھی فراہم کی ہیں۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ سال قبل ایک خوفناک دیوہیکل بچھو جس کی لمبائی 3.2 فٹ (ایک میٹر) تھی، موجودہ برطانیہ کے علاقے میں گھومتا پھرتا تھا۔ یہ بچھو جس کی جسامت لیبراڈور کتے کے برابر تھی اور جس کے طاقتور پنجے 6.3 انچ (16 سینٹی میٹر) سے زیادہ لمبے تھے، ایک انتہائی خطرناک اعلیٰ درجے کا شکاری تھا۔
یہ اس وقت کے سیلابی میدانوں میں، جو آج کے انگلینڈ اور ویلز ہیں، اس دور میں موجود تھا جب زمین پر ابھی درخت بھی وجود میں نہیں آئے تھے۔ لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے اسے اپنی نوعیت کا اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا بچھو قرار دیا ہے۔ اس کی جسمانی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خشکی اور پانی دونوں میں آسانی سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ میوزیم کے فوسل آرتھروپوڈز کے کیوریٹر ڈاکٹر رچرڈ جے ہاورڈ کے مطابق جب ہم دیوہیکل آرتھروپوڈز کے بارے میں سوچتے ہیں تو لوگ عموماً بعد کے ادوار کے کاربونی فیرس جنگلات میں پائے جانے والے بڑے ملی پیڈز یا ڈریگن فلائی جیسے کیڑوں کا تصور کرتے ہیں، لیکن یہ اس سے کم از کم 50 ملین سال پہلے موجود تھا، جب زمینی حیات ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جانور کو بچھو کے طور پر تصدیق کرنا ہماری اس سمجھ کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتا ہے کہ یہ جاندار کب اور کس طرح اتنے بڑے سائز تک پہنچے۔
جن فوسلز کی بنیاد پر ان بچھوئوں کی شناخت کی گئی ہے، وہ دراصل میوزیم میں 150 سال سے زائد عرصے سے محفوظ تھے۔ سائنسدانوں نے جدید سائنسی تجزیاتی طریقوں اور نئے دریافت شدہ فوسل انواع سے موازنہ کر کے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ قدیم جاندار واقعی ایک بچھو ہے اور اپنی نوعیت کی ایک الگ قسم بھی ہے۔
یہ جاندار ابتدائی ڈیوونین دور میں جب خشکی پر زندگی ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ اس وقت چھوٹے پودے اور فنگس زمین پر پھیلنا شروع ہوئے تھے، جبکہ پیچیدہ زمینی ماحولیاتی نظام جیسے جنگلات ابھی وجود میں نہیں آئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے دیوہیکل آرتھروپوڈز کے برعکس،یہ قدیم جاندار کو اس بلند ماحولیاتی آکسیجن کی سطح سے فائدہ نہیں ملا جو بعد میں جنگلات کے پھیلاؤ سے منسلک تھی۔ اس کے بجائے، اس کی غیر معمولی جسامت ممکنہ طور پر اس ماحول کی عکاسی کرتی ہے جہاں بڑے شکاری جانوروں کی تعداد بہت کم تھی، جس کی وجہ سے یہ بچھو اپنے ماحول میں غالب حیثیت اختیار کر سکتا تھا۔ ماہرین کے مطابق، اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یہ جاندار اس وجہ سے اتنا بڑا ہوا کیونکہ اس وقت مقابلہ کرنے والے بڑے شکاری کم تھے، جس نے اسے اپنے ماحول میں برتری حاصل کرنے کا موقع دیا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس قدیمی جاندار کے پیٹ پر فلیپ نما ساختیں موجود تھیں، جو آج کے کچھ آبی جانداروں جیسے لابسٹر میں پائی جاتی ہیں۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ قدیم جاندار زمین کی تاریخ کے اس اہم دور سے تعلق رکھتا ہے جب جانور پہلی بار سمندر سے باہر خشکی پر زندگی گزارنے کے تجربات کر رہے تھے۔
ڈاکٹر گریگ ایجکومب (Dr Greg Edgecombe)، جو نیچرل ہسٹری میوزیم کے ایک ممتاز محقق اور اس تحقیق کے شریک مصنف ہیں، نے کہا کہ اس دور میں خشکی اور سمندر کے درمیان سرحد بہت واضح نہیں تھی۔ ان کے مطابق یہ قدیم جاندار ہمیں یہ سمجھنے میں ایک دلچسپ جھلک فراہم کرتا ہے کہ ابتدائی جاندار بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات کے مطابق کس طرح ڈھل رہے تھے۔ حتیٰ کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کسی ایسی نسل سے تعلق رکھتا ہو جو ابتدائی طور پر خشکی پر زندگی گزارنے کے بعد دوبارہ پانی میں واپس چلی گئی ہو۔
اس جاندار کو پہلی بار 1871ء میں بیان کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر اسے ایک دیوہیکل کرسٹیشین (crustacean) سمجھا گیا تھا، جو کسی لکڑی کے کیڑے (woodlouse) سے مشابہ تھا۔ تاہم، دستیاب فوسلز میں دم جیسے اہم اعضاء کی عدم موجودگی کے باعث ایک صدی سے زائد عرصے تک اس کی درست درجہ بندی ممکن نہ ہو سکی۔ اصل پیش رفت حالیہ برسوں میں دریافت ہونے والے فوسلز کے تقابلی مطالعے سے ہوئی، جس میں بچھوؤں سے متعلق مخصوص جسمانی خصوصیات سامنے آئیں۔ ڈاکٹر رچرڈ نے مزید کہا کہ ایک صدی سے زیادہ پرانے نمونے بھی آج نئے سائنسی انکشافات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید تکنیکوں کے ذریعے ان فوسلز کا دوبارہ مطالعہ زمین پر زندگی کی تاریخ کے بارے میں ہماری سمجھ کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔