سن تزو دنیا کی اولین جنگی حکمت ساز منصف کی کتھا
اسپیشل فیچر
سن تزو چینی فوجی رہنما، جنگی حکمت ساز اور فلسفی تھے، جنہوںنے اپنی جنگی پالیسیوں اور تحریروں سے چینی تاریخ پر ہی نہیں بلکہ مشرقی اقوام کی جنگی حکمت سازی کی تاریخ پر بھی غیر معمولی اثرات مرتب کیے۔ ان کی کتاب ’فن حرب‘ آج بھی ایک اہم حوالہ جاتی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے اور دنیا بھر میں جنگی حکمت عملی کی نصاب میں تجویز کردہ کتابوں کی فہرست میں شامل ہوتی ہے، تاہم اس کتاب کے علاوہ خود سن تزو کی شخصیت بھی اپنی جنگی فتوحات اور جنگی و انتظامی پالیسیوں کی بنا پر انتہائی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔سن تزو قدیم چین کے ’بہار اور خزاںدور‘سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا خاندانی نام سن وُو تھا ،لیکن عام طورپر اس خاندان کو چانگ چنگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان کی زندگی کے بارے میںجو معلومات حاصل ہوئی ہیں،ان کے مطابق وہ چین کے ایک قصبے ’چی‘ میں 544قبل مسیح میں پیدا ہوئے جبکہ ان کی وفات 496قبل مسیح میں ہوئی ، وہ ’وُو‘ خاندان کے بادشاہ ہیلیو کے وزیر بھی رہے۔ وہ نہ صرف ایک فوجی رہنما تھے بلکہ ایک نہایت کامیاب اور مؤثر جنگی حکمت ساز بھی تھے۔ چھٹی صدی قبل مسیح کی آخری دہائیوں میں سن تزو نے اپنی پالیسیوں اور اصولوں کی مدد سے وُو خاندان کو بہت سی کامیابیوں کے اہل بنایا۔ مختلف جنگوں میں اپنی حکمت عملیوں کی کامیابی کے بعد انہیں تحریری صورت میں محفوظ کرنے کے لیے سرکاری سطح پر انتظامات کیے گئے۔ سن تزو کی نسل میں سن بن بھی شامل تھے، جنہوں نے فوجی حکمت سازی پر ’فن حرب‘ ہی کے نام سے ایک مقالہ تحریر کیاتھا۔ سن بن کو بھی ایک جنگی حکمت ساز کی حیثیت سے چین کی تاریخ میں بہت نمایاں مقام حاصل ہے۔ان کی کتاب ’فن حرب‘ طویل صدیوں تک تاریخ کے حافظے سے محو رہی۔ اس کتاب کو چین میں 1972میں ازسر نو دریافت کیا گیا۔ یہ دونوں مقالہ جات چینی تاریخ میں نہایت اہمیت کے حامل مانے جاتے ہیں۔ یہ دونوں چونکہ جنگی حکمت عملیوں سے متعلق ہیں اور ان میں گہری مماثلتیں بھی موجود ہیں، اس لیے چند ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دونوں مقالہ جات ایک ہی مصنف کے لکھے ہوئے ہیں۔ سن تزو کے بعد چین کی تاریخ کے اہم دور ’جنگجو ریاستوں کے دور‘ میں جو جنگوں اور غارت گری سے عبارت ہے، اسی کتاب ’فن حرب‘ کو بنیاد بنا کر جنگی حکمت عملیاں تیار کی جاتی رہی تھیں۔ یہ دور سات چینی ریاستوں کی باہمی چپقلش پر مبنی تھا، جس کا سبب مشرقی چین میں زرخیز علاقوں پر قبضہ جمانے کی ان ریاستوں کی خواہش تھی۔اس خواہش نے بہت سی جنگی مہمات کا جنم دیا اور لاکھوں انسان ان جنگوں کی نذر ہوئے۔ بیسویں صدی میں اس کتاب کا مسودہ دریافت ہوا اور اس کے انگریزی اور دیگر زبانوں میں تراجم ہوئے تو ان کے ذریعے یورپ اور باقی دنیا اس عظیم دستاویز سے شناسا ہوئی۔ بہت تھوڑے عرصے میں اس کتاب نے یورپی اقوام میں بھی مقبولیت حاصل کی، تاہم اس مقالے کا دائرہ کار محض جنگی حکمت عملی تک محدود نہیں۔ ایک کامیاب جنگ لڑنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ انتظامی و سیاسی محاذوں پر بھی محتاط انداز میں منصوبہ بندی کی جائے۔ ’فن حرب‘ میں جنگی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں، سماجی اصلاح کاروں اور منتظمین کے لیے بھی مؤثر منصوبندی سے متعلق سفارشات موجود ہیں۔ یوں اس کتاب کے تمدن، سیاست، کاروبار اور کھیلوں وغیرہ کے شعبوں پر بھی واضح اثرات مرتب ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ سن تزو کو اپنی فوج کا سپہ سالار بنانے سے پہلے وُو کے بادشاہ نے انہیں کڑی آزمائش سے گزارا تاکہ ان کی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔ اس نے سن تزو کو 180طائفوں کی ٹولی کو فوجی تربیت دینے کی ذمہ داری سونپی۔ سن تزُو نے ان طائفوں کو دو جتھوں میں تقسیم کردیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنی ساتھیوں کو فوجی قواعد کے لیے آمادہ کریں گی اور ان میں نظم و ضبط کو یقینی بنائیں گی۔ یہ بھی کہا کہ یہ حکم شاہی حکم سے بھی زیادہ ضروری ہے اور یہ کہ اس کے مطابق عمل پیرا نہ ہونے کی صورت میں سزا موت ہی ہے۔ ان کی ٹولیوں میں شامل کوئی طائفہ فوجی قواعد کی پابندی کرنے اور مارچ جیسی کٹھن مشق پر آمادہ نہیں ہوئی۔ اس ناکامی پر سن تزو نے بادشاہ کے احتجاج کے باوجود دونوں طائفوں کے سربراہوں کو سزائے موت دی۔یہ ایسی سخت سزا تھی کہ سبھی دہل گئے اور انہیں خوف ہوا کہ ااگر انہوں نے آئندہ کوئی حکم عدولی کی تو انہیں بھی اسی سزا کا حق دار قرار دیا جائے گا۔ دستوں کے نئے سربراہ متعین کیے گئے۔ان سربراہوں کو پھر سے یہی احکامات جاری کیے گئے ،جو گذشتہ سربراہان کو دئیے گئے تھے، لیکن اس بار نہ صرف سربراہان کا رویہ مختلف تھا بلکہ سپاہیوں نے بھی زیادہ ذمہ داری اور پابندی کا مظاہرہ کیا۔بادشاہ نے سن تزو سے اختلاف کے باوجود ان کی پالیسی کو تسلیم کیا کیونکہ نتائج اس پالیسی سے غیر معمولی برآمد ہوئے تھے۔ اس نے سن تزو کو اپنا خصوصی جنگی مشیر بنالیا۔ سن تزو کی کتاب ’فن حرب‘ کو ’آقا سن کے جنگی قوانین‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس میں جنگیں جیتنے ہی کی تراکیب نہیں بتائی گئی ہیں بلکہ معاملات اور تنازعات کو کیسے حل کیا جانا چاہئے، اس بارے میں بھی مفید مشورے اور حکمت عملیاں پیش کی گئی ہیں جبکہ کتاب کا ایک بڑا حصہ فوجیوں اور سپہ سالاروں کی کرداری تربیت سے متعلق کارآمد مشوروں کے لیے مختص ہے۔ دوسری صدی قبل مسیح میں شہنشاہ شی ہیونگدی نے چین کے متحد ہونے کے واقعے سے پہلے تمام اہم دستاویزات جلا دی تھیں، جن سے گذشتہ بادشاہ رہنمائی حاصل کرتے رہے۔وہ ایک نئے آغاز کے لیے نئی فکر کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتا تھا۔ تب جنگی حکمت عملی پر لکھی جانے والی دستاویزات میں سے بس چھ ہی اس آتش زدگی سے بچ پائی تھیں، جن میں سن تزو کی ’فن حرب‘ بھی شامل تھی۔ ان کتابوں کو تانگ خاندان میں لکھی جانے والی جنگی حکمت عملی کی کتاب کے ساتھ ملا کر ’سات عسکری کلاسیکی کتابیں‘ کے عنوان سے ایک جلد میں محفوظ کیا گیا۔ سن تزو کی کتاب طویل عرصے تک فوج میں بھرتی کے لیے مروج امتحانات کے نصاب کا اہم حصہ رہی۔ ’فن حرب‘ سن تزو نے تاؤ مت کے تناظر میں تحریر کی۔ مذہبی تناظر میں سپہ سالار کی شخصیت کے معیارات کا تعین مغربی قارئین کے لیے اجنبی تھا، لیکن مشرق میں مذہب، جنگ اور سلطنت کو علیحدہ کرکے تاریخ کو سمجھنا دشوار ہے۔ اپنی کتاب کے گیارہویں باب میں وہ ایک رہنما کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اسے ’سنجیدہ اور راز دار‘ ہونا چاہئے تاکہ اس کے منصوبوں کی کوئی بھنک بھی نہ پاسکے۔ یونہی اسے اپنی شخصیت میں ایسا پختہ اور گہرا ہونا چاہئے کہ وہ دشمن کے پیچیدہ منصوبوں کا ادراک کرسکے اور ایسے منصوبے خود سے بنا سکے، جو دشمن کی فہم سے ماورا ہوں۔ ’فن حرب‘ نہ صرف چین میں جنگی رہنماؤں میں مقبول ہوئی بلکہ سیاسی رہنماؤں اور کاروباری افراد میں بھی اس نے ہمہ گیر مقبولیت حاصل کی۔ ’فن حرب‘ میں ایسی جنگی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے بنیادیں استوار کی گئیں، جو وسیع تر تناظر میں عوامی فلاح کے انتظامات اور منصوبہ بندی کا بھی احاطہ کرتی ہیں۔ جنگ صرف میدان ہی میں نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کی منصوبہ بندی کا احاطہ سفارت کاری کے شعبے تک دراز ہوتا ہے۔ ملکی خارجہ پالیسی بھی اسی زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ یوں جنگی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں کے لیے بھی اس میں رہنما اصول بیان کیے گئے ہیں۔ طویل زمانوں تک یہ مشہور و مقبول کتاب ماضی کے دھندلکوں میں اوجھل رہی۔ 1972ء میں ینکیوشان ہان کے مقبرہ جات کی کھدائی کی گئی، تو اس میں سے چند مسودات بانس کی لکڑی پر لکھے ہوئے ملے جن میں سن تزو کی نسل کے ایک ماہر فن سن بن کی کتاب ’فن حرب‘ کا مسودہ بھی موجود تھا۔ اس کتاب کوسن تزو کی کتاب کی توسیع مانا جاتا ہے اور اس کا تذکرہ چین کے قدیم تذکروں میں متعدد بار آیا۔اس کتاب کی دریافت نے سن تزو کی کتاب کو ایک بار پھر ماہرین کی بحثوں کا موضوع بنادیا، نیز اس میں سن تزو کی کتاب میں کئے گئے اضافے بھی موجود ہیں۔معروف چینی ’جنگی ریاستوں‘کی جنگی حکمت عملیوں کی تفہیم سن تزو اور سن بن کی کتابوں کے مطالعے کے بغیر ممکن نہیں۔ چینی تاریخ کا ایک باب ان کتابوں کے ذریعے ہم پر اپنے معنی وَا کرتا ہے۔(کتاب ’’دانش ِ مشرق‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭