سن تزو دنیا کی اولین جنگی حکمت ساز منصف کی کتھا

سن تزو دنیا کی اولین جنگی حکمت ساز منصف کی کتھا

اسپیشل فیچر

تحریر :


سن تزو چینی فوجی رہنما، جنگی حکمت ساز اور فلسفی تھے، جنہوںنے اپنی جنگی پالیسیوں اور تحریروں سے چینی تاریخ پر ہی نہیں بلکہ مشرقی اقوام کی جنگی حکمت سازی کی تاریخ پر بھی غیر معمولی اثرات مرتب کیے۔ ان کی کتاب ’فن حرب‘ آج بھی ایک اہم حوالہ جاتی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے اور دنیا بھر میں جنگی حکمت عملی کی نصاب میں تجویز کردہ کتابوں کی فہرست میں شامل ہوتی ہے، تاہم اس کتاب کے علاوہ خود سن تزو کی شخصیت بھی اپنی جنگی فتوحات اور جنگی و انتظامی پالیسیوں کی بنا پر انتہائی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔سن تزو قدیم چین کے ’بہار اور خزاںدور‘سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا خاندانی نام سن وُو تھا ،لیکن عام طورپر اس خاندان کو چانگ چنگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان کی زندگی کے بارے میںجو معلومات حاصل ہوئی ہیں،ان کے مطابق وہ چین کے ایک قصبے ’چی‘ میں 544قبل مسیح میں پیدا ہوئے جبکہ ان کی وفات 496قبل مسیح میں ہوئی ، وہ ’وُو‘ خاندان کے بادشاہ ہیلیو کے وزیر بھی رہے۔ وہ نہ صرف ایک فوجی رہنما تھے بلکہ ایک نہایت کامیاب اور مؤثر جنگی حکمت ساز بھی تھے۔ چھٹی صدی قبل مسیح کی آخری دہائیوں میں سن تزو نے اپنی پالیسیوں اور اصولوں کی مدد سے وُو خاندان کو بہت سی کامیابیوں کے اہل بنایا۔ مختلف جنگوں میں اپنی حکمت عملیوں کی کامیابی کے بعد انہیں تحریری صورت میں محفوظ کرنے کے لیے سرکاری سطح پر انتظامات کیے گئے۔ سن تزو کی نسل میں سن بن بھی شامل تھے، جنہوں نے فوجی حکمت سازی پر ’فن حرب‘ ہی کے نام سے ایک مقالہ تحریر کیاتھا۔ سن بن کو بھی ایک جنگی حکمت ساز کی حیثیت سے چین کی تاریخ میں بہت نمایاں مقام حاصل ہے۔ان کی کتاب ’فن حرب‘ طویل صدیوں تک تاریخ کے حافظے سے محو رہی۔ اس کتاب کو چین میں 1972میں ازسر نو دریافت کیا گیا۔ یہ دونوں مقالہ جات چینی تاریخ میں نہایت اہمیت کے حامل مانے جاتے ہیں۔ یہ دونوں چونکہ جنگی حکمت عملیوں سے متعلق ہیں اور ان میں گہری مماثلتیں بھی موجود ہیں، اس لیے چند ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دونوں مقالہ جات ایک ہی مصنف کے لکھے ہوئے ہیں۔ سن تزو کے بعد چین کی تاریخ کے اہم دور ’جنگجو ریاستوں کے دور‘ میں جو جنگوں اور غارت گری سے عبارت ہے، اسی کتاب ’فن حرب‘ کو بنیاد بنا کر جنگی حکمت عملیاں تیار کی جاتی رہی تھیں۔ یہ دور سات چینی ریاستوں کی باہمی چپقلش پر مبنی تھا، جس کا سبب مشرقی چین میں زرخیز علاقوں پر قبضہ جمانے کی ان ریاستوں کی خواہش تھی۔اس خواہش نے بہت سی جنگی مہمات کا جنم دیا اور لاکھوں انسان ان جنگوں کی نذر ہوئے۔ بیسویں صدی میں اس کتاب کا مسودہ دریافت ہوا اور اس کے انگریزی اور دیگر زبانوں میں تراجم ہوئے تو ان کے ذریعے یورپ اور باقی دنیا اس عظیم دستاویز سے شناسا ہوئی۔ بہت تھوڑے عرصے میں اس کتاب نے یورپی اقوام میں بھی مقبولیت حاصل کی، تاہم اس مقالے کا دائرہ کار محض جنگی حکمت عملی تک محدود نہیں۔ ایک کامیاب جنگ لڑنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ انتظامی و سیاسی محاذوں پر بھی محتاط انداز میں منصوبہ بندی کی جائے۔ ’فن حرب‘ میں جنگی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں، سماجی اصلاح کاروں اور منتظمین کے لیے بھی مؤثر منصوبندی سے متعلق سفارشات موجود ہیں۔ یوں اس کتاب کے تمدن، سیاست، کاروبار اور کھیلوں وغیرہ کے شعبوں پر بھی واضح اثرات مرتب ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ سن تزو کو اپنی فوج کا سپہ سالار بنانے سے پہلے وُو کے بادشاہ نے انہیں کڑی آزمائش سے گزارا تاکہ ان کی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔ اس نے سن تزو کو 180طائفوں کی ٹولی کو فوجی تربیت دینے کی ذمہ داری سونپی۔ سن تزُو نے ان طائفوں کو دو جتھوں میں تقسیم کردیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنی ساتھیوں کو فوجی قواعد کے لیے آمادہ کریں گی اور ان میں نظم و ضبط کو یقینی بنائیں گی۔ یہ بھی کہا کہ یہ حکم شاہی حکم سے بھی زیادہ ضروری ہے اور یہ کہ اس کے مطابق عمل پیرا نہ ہونے کی صورت میں سزا موت ہی ہے۔ ان کی ٹولیوں میں شامل کوئی طائفہ فوجی قواعد کی پابندی کرنے اور مارچ جیسی کٹھن مشق پر آمادہ نہیں ہوئی۔ اس ناکامی پر سن تزو نے بادشاہ کے احتجاج کے باوجود دونوں طائفوں کے سربراہوں کو سزائے موت دی۔یہ ایسی سخت سزا تھی کہ سبھی دہل گئے اور انہیں خوف ہوا کہ ااگر انہوں نے آئندہ کوئی حکم عدولی کی تو انہیں بھی اسی سزا کا حق دار قرار دیا جائے گا۔ دستوں کے نئے سربراہ متعین کیے گئے۔ان سربراہوں کو پھر سے یہی احکامات جاری کیے گئے ،جو گذشتہ سربراہان کو دئیے گئے تھے، لیکن اس بار نہ صرف سربراہان کا رویہ مختلف تھا بلکہ سپاہیوں نے بھی زیادہ ذمہ داری اور پابندی کا مظاہرہ کیا۔بادشاہ نے سن تزو سے اختلاف کے باوجود ان کی پالیسی کو تسلیم کیا کیونکہ نتائج اس پالیسی سے غیر معمولی برآمد ہوئے تھے۔ اس نے سن تزو کو اپنا خصوصی جنگی مشیر بنالیا۔ سن تزو کی کتاب ’فن حرب‘ کو ’آقا سن کے جنگی قوانین‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس میں جنگیں جیتنے ہی کی تراکیب نہیں بتائی گئی ہیں بلکہ معاملات اور تنازعات کو کیسے حل کیا جانا چاہئے، اس بارے میں بھی مفید مشورے اور حکمت عملیاں پیش کی گئی ہیں جبکہ کتاب کا ایک بڑا حصہ فوجیوں اور سپہ سالاروں کی کرداری تربیت سے متعلق کارآمد مشوروں کے لیے مختص ہے۔ دوسری صدی قبل مسیح میں شہنشاہ شی ہیونگدی نے چین کے متحد ہونے کے واقعے سے پہلے تمام اہم دستاویزات جلا دی تھیں، جن سے گذشتہ بادشاہ رہنمائی حاصل کرتے رہے۔وہ ایک نئے آغاز کے لیے نئی فکر کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتا تھا۔ تب جنگی حکمت عملی پر لکھی جانے والی دستاویزات میں سے بس چھ ہی اس آتش زدگی سے بچ پائی تھیں، جن میں سن تزو کی ’فن حرب‘ بھی شامل تھی۔ ان کتابوں کو تانگ خاندان میں لکھی جانے والی جنگی حکمت عملی کی کتاب کے ساتھ ملا کر ’سات عسکری کلاسیکی کتابیں‘ کے عنوان سے ایک جلد میں محفوظ کیا گیا۔ سن تزو کی کتاب طویل عرصے تک فوج میں بھرتی کے لیے مروج امتحانات کے نصاب کا اہم حصہ رہی۔ ’فن حرب‘ سن تزو نے تاؤ مت کے تناظر میں تحریر کی۔ مذہبی تناظر میں سپہ سالار کی شخصیت کے معیارات کا تعین مغربی قارئین کے لیے اجنبی تھا، لیکن مشرق میں مذہب، جنگ اور سلطنت کو علیحدہ کرکے تاریخ کو سمجھنا دشوار ہے۔ اپنی کتاب کے گیارہویں باب میں وہ ایک رہنما کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اسے ’سنجیدہ اور راز دار‘ ہونا چاہئے تاکہ اس کے منصوبوں کی کوئی بھنک بھی نہ پاسکے۔ یونہی اسے اپنی شخصیت میں ایسا پختہ اور گہرا ہونا چاہئے کہ وہ دشمن کے پیچیدہ منصوبوں کا ادراک کرسکے اور ایسے منصوبے خود سے بنا سکے، جو دشمن کی فہم سے ماورا ہوں۔ ’فن حرب‘ نہ صرف چین میں جنگی رہنماؤں میں مقبول ہوئی بلکہ سیاسی رہنماؤں اور کاروباری افراد میں بھی اس نے ہمہ گیر مقبولیت حاصل کی۔ ’فن حرب‘ میں ایسی جنگی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے بنیادیں استوار کی گئیں، جو وسیع تر تناظر میں عوامی فلاح کے انتظامات اور منصوبہ بندی کا بھی احاطہ کرتی ہیں۔ جنگ صرف میدان ہی میں نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کی منصوبہ بندی کا احاطہ سفارت کاری کے شعبے تک دراز ہوتا ہے۔ ملکی خارجہ پالیسی بھی اسی زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ یوں جنگی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں کے لیے بھی اس میں رہنما اصول بیان کیے گئے ہیں۔ طویل زمانوں تک یہ مشہور و مقبول کتاب ماضی کے دھندلکوں میں اوجھل رہی۔ 1972ء میں ینکیوشان ہان کے مقبرہ جات کی کھدائی کی گئی، تو اس میں سے چند مسودات بانس کی لکڑی پر لکھے ہوئے ملے جن میں سن تزو کی نسل کے ایک ماہر فن سن بن کی کتاب ’فن حرب‘ کا مسودہ بھی موجود تھا۔ اس کتاب کوسن تزو کی کتاب کی توسیع مانا جاتا ہے اور اس کا تذکرہ چین کے قدیم تذکروں میں متعدد بار آیا۔اس کتاب کی دریافت نے سن تزو کی کتاب کو ایک بار پھر ماہرین کی بحثوں کا موضوع بنادیا، نیز اس میں سن تزو کی کتاب میں کئے گئے اضافے بھی موجود ہیں۔معروف چینی ’جنگی ریاستوں‘کی جنگی حکمت عملیوں کی تفہیم سن تزو اور سن بن کی کتابوں کے مطالعے کے بغیر ممکن نہیں۔ چینی تاریخ کا ایک باب ان کتابوں کے ذریعے ہم پر اپنے معنی وَا کرتا ہے۔(کتاب ’’دانش ِ مشرق‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
انٹارکٹکا کی برف میں خطرناک کمی  دنیا کیلئے نیا موسمیاتی خطرہ

انٹارکٹکا کی برف میں خطرناک کمی دنیا کیلئے نیا موسمیاتی خطرہ

دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں قدرتی نظام تیزی سے بدل رہے ہیں۔ کہیں شدید گرمی کی لہریں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہیں، کہیں بے وقت بارشیں اور سیلاب تباہی مچا رہے ہیںجبکہ قطبی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق نے انٹارکٹکا کے سمندری برفانی علاقے کے بارے میں ایک نہایت تشویشناک انکشاف کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق انٹارکٹکا کی سمندری برف میں اچانک اور غیر معمولی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے جس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے۔ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ شمالی قطب یعنی آرکٹک کے مقابلے میں انٹارکٹکا کی برف نسبتاً مستحکم ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھ رہا تھا لیکن جنوبی قطب کے گرد موجود سمندری برف کئی دہائیوں تک زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔ تاہم 2015ء کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہونا شروع ہوگئی۔ چند ہی برسوں میں برف کا رقبہ تیزی سے کم ہونے لگا اور 2023ء میں یہ کمی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔سائنسدانوں کے مطابق اس اچانک تبدیلی کی بڑی وجہ سمندر کی گہرائی میں موجود گرم پانی ہے۔ عام حالات میں انٹارکٹکا کے اردگرد سطح پر ٹھنڈا اور نسبتاً کم نمکین پانی موجود رہتا ہے جو نیچے موجود گرم پانی کو اوپر آنے سے روکے رکھتا ہے لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ مسلسل بدلتے موسمی نظام، تیز ہواؤں اور سمندری طوفانوں نے اس قدرتی رکاوٹ کو کمزور کر دیا ہے جس کے باعث گہرائی میں موجود گرم پانی سطح تک پہنچنے لگا ہے۔جب یہ گرم پانی سطح کے قریب آیا تو اس نے سمندری برف کو نیچے سے پگھلانا شروع کر دیا۔ نتیجتاً برف کی موٹائی اور پھیلاؤ کم ہونے لگے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ایک خطرناکFeedback Loop شروع ہو چکا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی زیادہ برف پگھلے گی اتنا ہی سمندر سورج کی حرارت جذب کرے گا اور جتنی زیادہ حرارت جذب ہوگی، اتنی ہی مزید برف پگھلے گی۔ یوں یہ عمل خود کو مسلسل تیز کرتا چلا جائے گا۔یہ صورتحال صرف انٹارکٹکا تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔قطبی برف زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سفید برف سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرتی ہے جس سے زمین نسبتاً ٹھنڈی رہتی ہے۔ لیکن جب برف کم ہو جاتی ہے تو نیچے موجود گہرا سمندر زیادہ حرارت جذب کرنے لگتا ہے جس سے عالمی حدت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔انٹارکٹکا کی سمندری برف سمندری حیات کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ یہاں موجود برفانی ماحول لاکھوں جانداروں کی زندگی کا حصہ ہے۔ خاص طور پر کرِل نامی چھوٹے سمندری جاندار اس نظام کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ مچھلیاں، سیل، وہیل اور پینگوئن انہی پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر برف کم ہوتی رہی تو یہ پورا ایکو سسٹم متاثر ہو سکتا ہے۔تحقیق میں پینگوئنز کی مثال بھی دی گئی ہے جن کی افزائش نسل سمندری برف پر ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی مقامات پر برف وقت سے پہلے ٹوٹ گئی جس کے نتیجے میں ہزاروں پینگوئن بچے سمندر میں گر کر ہلاک ہو گئے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو مستقبل میں بعض اقسام کے پینگوئن شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔اس تحقیق کا سب سے پریشان کن پہلو یہ ہے کہ سائنسدانوں کے بہت سے موسمیاتی ماڈلز بھی اس تیز رفتار تبدیلی کی پیش گوئی نہیں کر سکے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا موسمی نظام شاید ہماری توقعات سے کہیں زیادہ حساس اور غیر مستحکم ہو چکا ہے۔ اگر انٹارکٹکا میں برف پگھلنے کا عمل اسی رفتار سے جاری رہا تو عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔سمندری برف میں کمی کا ایک بڑا نتیجہ سمندری سطح میں اضافے کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ اگرچہ سمندری برف خود پانی میں تیر رہی ہوتی ہے اور اس کے پگھلنے سے فوری طور پر سمندر کی سطح زیادہ نہیں بڑھتی لیکن یہ برف زمینی گلیشیئرز کے لیے حفاظتی دیوار کا کردار ادا کرتی ہے۔ جب سمندری برف کمزور پڑتی ہے تو انٹارکٹکا کے بڑے برفانی تودے زیادہ تیزی سے سمندر کی طرف بڑھ سکتے ہیں جس سے دنیا بھر کے ساحلی علاقے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔پاکستان جیسے ممالک بھی اس عالمی تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ اگرچہ انٹارکٹکا ہم سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے لیکن موسمیاتی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ پاکستان میں شدید گرمی، غیر متوقع بارشوں، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور زرعی مسائل کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ جنوبی ایشیا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔اس تمام صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں کو کاربن کے اخراج میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کے استعمال، جنگلات کے تحفظ اور ماحول دوست پالیسیوں پر سنجیدگی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو زیادہ گرم،غیر مستحکم اور خطرناک دنیا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انٹارکٹکا کی برف میں اچانک کمی پوری انسانیت کے لیے ایک انتباہ ہے کہ قدرتی توازن بگڑ رہا ہے۔

 شہد کی مکھیوں کا عالمی دن

شہد کی مکھیوں کا عالمی دن

ہر سال 20 مئی کو دنیا بھر میں شہید کی مکھیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد شہد کی مکھیوں اور دیگر پولینیٹرز یعنی پولن افشانی کرنے والے کیڑوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔یہ دن اینٹون جانشا کے یوم پیدائش کی مناسبت سے منتخب کیا گیا تھا‘ جو جدید مگس بانی کے اولین علمبردار وں میں شمار ہوتے ہیں۔ جانشا 1734ء میں سلووینیا میں پیدا ہوئے جہاں شہد کی مکھیوں کو پالنا ایک اہم زرعی سرگرمی ہے جس کی ایک طویل روایت ہے۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک (ایف اے او) کے مطابق شہد کی مکھیاں دنیا کے غذائی نظام، زرعی پیداوار اور حیاتیاتی تنوع کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر شہد کی مکھیوں کی تعداد میں کمی جاری رہی تو اس کے اثرات پوری دنیا کی خوراک، معیشت اور ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔سائنسی تحقیق کے مطابق شہد کی مکھیاں پھولوں سے رس جمع کرتے وقت ایک پودے سے دوسرے پودے تک پولن منتقل کرتی ہیں۔ یہی عمل پھلوں، سبزیوں، بیجوں اور کئی فصلوں کی افزائش کے لیے ضروری ہے۔ایف اے او کے مطابق دنیا کی تقریباً 75 فیصد غذائی فصلیں کسی نہ کسی حد تک پولینیٹرز پر انحصار کرتی ہیں۔ ان میں سیب، آم، بادام، سورج مکھی، ٹماٹر، کھیرا، تربوز اور کافی جیسی فصلیں شامل ہیں۔ اگر شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو ان فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پھلوں اور تیل دار فصلوں کی بہتر پیداوار میں شہد کی مکھیوں کا اہم کردار ہے۔ خاص طور پر آم، کینو، سورج مکھی اور سرسوں کی فصلیں پولینیشن سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں۔شہد کی صنعت اور پاکستانپاکستان میں شہد کی پیداوار گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے۔ پوٹھوہار، چکوال، سوات، گلگت بلتستان اور کشمیر کے علاقے قدرتی شہد کے لیے مشہور ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں موجود مختلف اقسام کے جنگلی پودے شہد کی اعلیٰ کوالٹی پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔شہد کی مکھی پالنے کوApiculture کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی صنعت ہے جس میں کم سرمایہ کاری کے ساتھ اچھا منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں نوجوان اس شعبے میں دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔سائنسی ماہرین کے مطابق شہد کی مکھیوں کی موجودگی صرف شہد تک محدود نہیں بلکہ یہ زرعی پیداوار میں 20 سے 40 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں کسان فصلوں کے قریب شہد کی مکھیاں رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔شہد کی مکھیوں کو درپیش خطراتدنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کی تعداد کم ہونے پر سائنسدان تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کی کئی بڑی وجوہات ہیں مثال کے طور پرزرعی ادویات،موسمیاتی تبدیلی،جنگلات کی کمی اورآلودگی۔فصلوں پر استعمال ہونے والے کیمیکل اور جراثیم کش ادویات شہد کی مکھیوں کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ بعض زہریلے سپرے ان کی موت کا سبب بھی بنتے ہیں۔درجہ حرارت میں اضافہ، بے وقت بارشیں اور خشک سالی پھولوں کے موسم کو متاثر کرتی ہیں۔ جس سے شہد کی مکھیوں کو خوراک کم ملتی ہے۔شہروں اور دیہات میں درختوں اور پھولدار پودوں کی کمی نے ان کے قدرتی ماحول کو محدود کر دیا ہے۔فضائی آلودگی بعض اوقات پھولوں کی خوشبو کو متاثر کرتی ہے جس سے شہد کی مکھیاں خوراک تلاش کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں شہد کی مکھیوں کے تحفظ کے لیے زرعی سپرے کے محفوظ استعمال کی تربیت،پھولدار درختوں اور پودوں کی شجرکاری،شہد کی مکھی پالنے والوں کو جدید تربیت ،قدرتی جنگلات اور سبز علاقوں کا تحفظ اورسکولوں اور کالجوں میں ماحولیاتی آگاہی پروگرام کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ زرعی تحقیقاتی اداروں کو نئی اقسام کی شہد کی مکھیوں اور بہتر پولینیشن ٹیکنالوجی پر کام کر نا چاہیے تاکہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔شہد کی مکھی ایک چھوٹا سا جاندار ضرور ہے لیکن اس کا کردار پوری دنیا کے غذائی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے ان کا تحفظ نہایت اہم ہے۔ اگر شہد کی مکھیاں محفوظ رہیں گی تو زرعی پیداوار، ماحول اور معیشت بھی مضبوط ہوں گے۔عالمی یومِ شہد کی مکھی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قدرتی ماحول کی حفاظت صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سوال بھی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

کیوبا کی آزادی20 مئی 1902ء کو کیوبا نے باضابطہ طور پر آزادی حاصل کی۔ اس سے پہلے کیوبا پر سپین کی حکومت تھی، لیکن امریکی ہسپانوی جنگ کے بعد امریکہ نے وہاں کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ کئی برسوں کی سیاسی کشمکش اور جدوجہد کے بعد آخرکار کیوبا ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔کیوبا کی آزادی لاطینی امریکہ کی تاریخ میں اہم سنگِ میل تھی۔ اگرچہ آزادی کے بعد بھی امریکہ کا اثر و رسوخ کافی عرصے تک برقرار رہا لیکن اس واقعے نے کیوبا کے عوام میں قومی شناخت اور خودمختاری کا جذبہ مستحکم کیا۔ بعد میں یہی سیاسی حالات 1959ء کے کیوبن انقلاب کی بنیاد بنے، جس کی قیادت فیڈل کاسترو نے کی۔کیوبا کی آزادی کے بعد وہاں جمہوری حکومت قائم کی گئی مگر بیرونی مداخلت کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کے مسائل موجود رہے۔ 20 مئی کو کیوبا کی تاریخ میں آزادی اور قومی خودمختاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ واسکو ڈے گاما کی ہندوستان آمد 20 مئی 1498ء کو پرتگالی مہم جو واسکو ڈے گاما سمندری راستے سے ہندوستان کے شہر کالی کٹ پہنچا۔ یہ واقعہ دنیا کی تاریخ میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ پہلی مرتبہ یورپ سے ہندوستان تک براہ راست سمندری راستہ دریافت ہوا۔ اس سے پہلے یورپی تاجر ایشیا تک زمینی راستوں یا عرب تاجروں کے ذریعے پہنچتے تھے جس میں بہت وقت اور خرچ آتا تھا۔ واسکو ڈے گاما کے اس سفر نے عالمی تجارت، سیاست اور نوآبادیاتی نظام کو مکمل طور پر بدل دیا۔واسکو ڈے گاما جولائی 1497ء میں پرتگال سے روانہ ہوا تھا۔ اُس نے افریقہ کے جنوبی کنارے راس امید (Cape of Good Hope) کو عبور کیا اور بحرِ ہند کے ذریعے ہندوستان پہنچا۔ اس کامیابی کے بعد پرتگال کو مصالحہ جات کی تجارت میں بے پناہ فائدہ حاصل ہوا۔ یورپی طاقتیں براہِ راست ہندوستان اور ایشیا سے تجارت کرنے لگیں۔ بعد میں پرتگالیوں نے گوا سمیت کئی علاقوں میں اپنی حکومت بھی قائم کی۔اس واقعے کے بعد یورپی اقوام مثلاً برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ بھی ایشیا کی طرف متوجہ ہوئیں۔ اس طرح نوآبادیاتی دور کا آغاز ہوا جس نے آنے والی کئی صدیوں تک ایشیا اور افریقہ کی سیاست پر اثر ڈالا۔ مورخین کے مطابق 20 مئی 1498ء عالمی تاریخ میں تجارت، بحری سفر اور بین الاقوامی تعلقات کے نئے دور کی شروعات تھی۔ نیلی جینز کا پیٹنٹ 20 مئی 1873ء کو Levi Strauss اور Jacob Davisنے نیلی جینز کے ڈیزائن کا باقاعدہ پیٹنٹ حاصل کیا۔ یہ بظاہر ایک سادہ تجارتی واقعہ تھا لیکن بعد میں یہ دنیا کی سب سے مشہور لباس صنعتوں میں شمار ہونے لگا۔ ابتدا میں یہ پتلون مزدوروں، کان کنوں اور کسانوں کے لیے تیار کی گئی تھی کیونکہ انہیں مضبوط اور دیرپا لباس کی ضرورت تھی۔جیکب ڈیوس نے خیال پیش کیا کہ پتلون کے کمزور حصوں، خاص طور پر جیبوں کے کناروں، پر تانبے کے Rivets لگائے جائیں تاکہ کپڑا جلد نہ پھٹے۔ لیوائی سٹراس نے اس خیال کو مالی مدد فراہم کی اور دونوں نے مل کر پیٹنٹ حاصل کیا۔ یہی ڈیزائن بعد میں بلو جینزکے نام سے پوری دنیا میں مقبول ہوگیا۔اب جینز صرف مزدوروں کا لباس نہیں رہی بلکہ نوجوانوں اور عوام کا پسندیدہ لباس بن گئی، جس نے ایک کلچر کو جنم دیا۔ ہالی وڈ فلموں اور امریکی ثقافت نے بھی اس لباس کو عالمی شہرت دی۔ آج دنیا بھر میں مختلف رنگوں اور انداز کی جینز پہنی جاتی ہے لیکن اس کی اصل بنیاد 20 مئی 1873ء کے اسی پیٹنٹ میںہے۔ یہ واقعہ صنعتی ترقی، فیشن اور عالمی ثقافت کی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔ ایک عام کام کے لباس نے بعد میں فیشن کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ آشوٹز کیمپ میں قیدیوں کی آمد20 مئی 1940ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے حراستی کیمپ آشوٹز میں پہلے قیدی لائے گئے۔ یہ کیمپ پولینڈ میں قائم کیا گیا تھا جہاںلاکھوں افراد خصوصاً یہودیوں کو قید کیا گیا اور قتل کیا گیا۔آشوٹز کیمپ ابتدا میں سیاسی قیدیوں کے لیے بنایا گیا تھا لیکن جلد ہی یہ نازی نسل پرستانہ پالیسیوں کا مرکز بن گیا۔ یہاں گیس چیمبرز بھی بنائے گئے جہاں قیدیوں کو اجتماعی طور پر قتل کیا جاتا تھا۔ اندازوں کے مطابق تقریباً گیارہ لاکھ افراد اس کیمپ میں مارے گئے جن میں زیادہ تر یہودی تھے۔ اس کے علاوہ پولش شہری، خانہ بدوش، معذور افراد اور جنگی قیدی بھی اس حراستی مرکز میں قید رہے۔20 مئی 1940ء کی تاریخ اس لیے اہم ہے کیونکہ اسی دن سے آشوٹز کے ظلم و بربریت کا باقاعدہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ بعد میں اتحادی افواج نے 1945ء میں اس کیمپ کو آزاد کروایا، اور دنیا کے سامنے نازی مظالم کی ہولناک حقیقت آئی۔یہ واقعہ انسانیت کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔ چارلس لنڈبرگ کی تاریخی پرواز20 مئی 1927ء کو امریکی ہوا باز چارلس لنڈ برگ نے دنیا کی پہلی اکیلی اور بغیر رکے بحرِ اوقیانوس عبور کرنے والی پرواز شروع کی۔ وہ نیویارک سے ایک چھوٹے جہاز میں روانہ ہوا اور تقریباً 33 گھنٹے بعد پیرس پہنچا۔ یہ ہوا بازی کی تاریخ کا ایک عظیم کارنامہ تھا۔اس زمانے میں ہوائی سفر ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا اور طویل فاصلے کی پروازیں انتہائی خطرناک سمجھی جاتی تھیں۔ لنڈبرگ نے اکیلے سفر کرکے یہ ثابت کیا کہ طویل فضائی سفر ممکن ہے۔ اس کامیابی کے بعد پوری دنیا میں ہوائی سفر کے شعبے میں زبردست ترقی ہوئی۔ لوگوں کا اعتماد بڑھا اور نئی ایئر لائنز قائم ہونے لگیں۔لنڈبرگ کی کامیابی نے امریکہ کو بھی عالمی سطح پر سائنسی اور تکنیکی طاقت کے طور پر نمایاں کیا۔ اسے عالمی شہرت ملی اور وہ قومی ہیرو بن گیا۔ اس کے جہاز کو آج بھی امریکہ کے عجائب گھر میں محفوظ رکھا گیا ہے۔20 مئی 1927ء کی یہ پرواز جدید فضائی سفر کی بنیادوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ آج ہوائی سفر عام بات ہے، لیکن اس کامیابی نے اس میدان میں نئی راہیں کھولیں اور دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

پراسرار کوانٹم مادہ کی حقیقت

پراسرار کوانٹم مادہ کی حقیقت

سائنسدانوں کو نئی دنیا کا سراغ مل گیاسائنس کی دنیا میں بعض اوقات ایسی دریافتیں سامنے آتی ہیں جو نہ صرف موجودہ نظریات کو چیلنج کرتی ہیں بلکہ انسان کے علم کی نئی راہیں بھی کھول دیتی ہیں۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے ایک ایسے پراسرار مادے کا مطالعہ کیا جسے پہلےQuantum Spin Liquid سمجھا جا رہا تھا مگر مزید تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ مادہ حقیقت میں کچھ اور ہی ہے۔ اس حیران کن انکشاف نے طبیعیات کے ماہرین کو نئی سوچ پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ یہ دریافت مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مادے کی بنیادی ساخت کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔کوانٹم سپن لیکوئیڈ کیاہے؟عام طور پر جب کسی مادے کو بہت زیادہ ٹھنڈا کیا جاتا ہے تو اس کے ذرات ایک منظم ترتیب اختیار کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مقناطیسی مادوں میں ایٹموں کے چھوٹے مقناطیسی حصے، جنہیں ''سپن ‘‘کہا جاتا ہے، ایک خاص سمت میں ترتیب پا لیتے ہیں۔ لیکن کوانٹم سپن لیکوئیڈ ایک ایسی عجیب حالت ہے جس میں یہ سپن کبھی مکمل طور پر منظم نہیں ہوتے چاہے درجہ حرارت مطلق صفر کے قریب ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔اس حالت میں ذرات مسلسل حرکت اور تبدیلی میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اس مادے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں کیونکہ اس میں موجود کوانٹم خصوصیات مستقبل کے طاقتور کوانٹم کمپیوٹروں کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ کئی برسوں سے دنیا بھر کے سائنسدان ایسے مادوں کی تلاش میں ہیں جو حقیقی کوانٹم سپن لیکوئیڈ ثابت ہو سکیں۔سائنسدانوں کی ابتدائی غلط فہمیحالیہ تحقیق میں جس مادے کا مطالعہ کیا گیا اس میں ابتدا میں وہ تمام نشانیاں موجود تھیں جو ایک کوانٹم سپن لیکوئیڈ میں پائی جاتی ہیں۔ اس مادے میں مقناطیسی ترتیب موجود نہیں تھی، اس کے سپن مسلسل تبدیل ہو رہے تھے اور اس کی توانائی کے نمونے بھی غیر معمولی تھے۔ انہی خصوصیات کی بنیاد پر سائنسدانوں نے اسے ایک نایاب کوانٹم مادہ قرار دیا۔لیکن جب اس مادے کا مزید باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، خاص طور پر جدید نیوٹران تجربات کے ذریعے، تو نتائج نے سب کو حیران کر دیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس مادے کی پراسرار خصوصیات دراصل خالص کوانٹم اثرات کی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ یہ مادہ کئی مختلف مقناطیسی حالتوں کے درمیان ایک پیچیدہ الجھن میں پھنسا ہوا تھا۔یوں سائنسدانوں کو احساس ہوا کہ وہ جسے کوانٹم سپن لیکوئیڈ سمجھ رہے تھے وہ دراصل مادے کی ایک بالکل نئی قسم ہو سکتی ہے، جس کے بارے میں پہلے کوئی واضح تصور موجود نہیں تھا۔نئی دریافت کیوں اہم ہے؟یہ دریافت اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے طبیعیات کے کئی پرانے نظریات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر کچھ مادے صرف بظاہر کوانٹم سپن لیکوئیڈ جیسے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کی نوعیت مختلف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنسدانوں کو اپنی تحقیق کے طریقوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔اس نئی حالتِ مادہ کی دریافت سے یہ امکان بھی پیدا ہوا ہے کہ کائنات میں ایسے کئی اور مادے موجود ہو سکتے ہیں جنہیں ابھی تک صحیح طور پر سمجھا نہیں جا سکا۔ یہ تحقیق مستقبل میں نئی ٹیکنالوجیز کی راہ ہموار کر سکتی ہے خاص طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ کے میدان میں۔کوانٹم کمپیوٹر عام کمپیوٹروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔ اگر سائنسدان ایسے مادوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو غیر معمولی کوانٹم خصوصیات رکھتے ہیں تو اس سے ایسے کمپیوٹر بنانا ممکن ہو سکتا ہے جو پیچیدہ مسائل کو چند سیکنڈ میں حل کر سکیں۔مستقبل کی سائنس کیلئے نیا دروازہسائنس میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک دریافت کئی نئے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہی معاملہ اس پراسرار مادے کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔ اب سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ واقعی مادے کی ایک نئی حالت ہے یا پھر پہلے سے موجود نظریات کی کوئی غیر متوقع شکل۔اس تحقیق نے ایک اور اہم حقیقت بھی واضح کی ہے کہ قدرت کے راز ہماری توقعات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ بعض اوقات جو چیز ہمیں ایک خاص شکل میں نظر آتی ہے وہ حقیقت میں اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہی حیرت اور تجسس سائنس کو آگے بڑھاتے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں مزید تجربات اور جدید آلات کی مدد سے اس نئی دریافت کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔ اگر یہ تحقیق کامیاب رہی تو ممکن ہے کہ انسان مادے اور توانائی کی دنیا کو ایک بالکل نئے زاویے سے دیکھنے لگے۔پراسرار کوانٹم مادّے کے بارے میں حالیہ تحقیق نے سائنس دانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ جس مادّے کو پہلے ایک نایاب کوانٹم اسپن لیکوئیڈ سمجھا جا رہا تھا، وہ اب ایک نئی اور پیچیدہ حقیقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف طبیعیات کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت ہے بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی، خصوصاً کوانٹم کمپیوٹنگ، کے لیے بھی امید کی نئی کرن بن سکتی ہے۔سائنس کی خوبصورتی یہی ہے کہ ہر نئی تحقیق انسان کے علم میں اضافہ کرتی ہے اور ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ کائنات ابھی تک بے شمار راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔

4 ہفتوں کا غذائی پلا ن زندگی بدل سکتا ہے  نئی تحقیق نے ماہرین کو حیران کر دیا

4 ہفتوں کا غذائی پلا ن زندگی بدل سکتا ہے نئی تحقیق نے ماہرین کو حیران کر دیا

دنیا بھر میں بڑھتی عمر کو سست کرنے، جسم کو تندرست رکھنے اور لمبی زندگی پانے کے طریقوں پر مسلسل تحقیق جاری ہے۔ کبھی ورزش کو اس کا راز قرار دیا جاتا ہے، کبھی اچھی نیند کو اور کبھی ذہنی سکون کو۔ لیکن اب ایک نئی تحقیق نے یہ دلچسپ دعویٰ کیا ہے کہ صرف چار ہفتوں تک غذا میں تبدیلی لا کر انسانی جسم کی بیالوجیکل عمر کم کی جا سکتی ہے۔ یہ خبر نہ صرف طبی ماہرین بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی حیرت اور دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے۔یہ تحقیق اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس میں یہ اشارہ ملا ہے کہ بڑھاپا صرف وقت گزرنے کا نام نہیں بلکہ انسان کے روزمرہ طرزِ زندگی، خصوصاً خوراک، سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنی غذا کو بہتر بنا لے تو ممکن ہے کہ اس کے جسم کے اندر ہونے والی عمر رسیدگی کی رفتار بھی کم ہو جائے۔بیالوجیکل عمر کیا ہوتی ہے؟عام طور پر انسان کی عمر سالوں میں ناپی جاتی ہے، جسےChronological Age کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص 70 سال کا ہے تو یہی اس کی اصل یا کیلنڈر عمر ہے، لیکن سائنسدان ایک اور اصطلاح بھی استعمال کرتے ہیں جسےBiological Age یعنی حیاتیاتی عمر کہا جاتا ہے۔حیاتیاتی عمر دراصل اس بات کا اندازہ لگاتی ہے کہ انسان کا جسم اندر سے کس حد تک صحت مند یا کمزور ہو چکا ہے۔ بعض لوگ عمر میں زیادہ ہونے کے باوجود جسمانی طور پر جوان اور توانا دکھائی دیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ نسبتاً کم عمر ہو کر بھی بیمار اور کمزور محسوس ہوتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ حیاتیاتی عمر سمجھی جاتی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اگر کسی شخص کی حیاتیاتی عمر اس کی اصل عمر سے کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا جسم نسبتاً بہتر حالت میں ہے۔اس نئی تحقیق میں 65 سے 75 سال کی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا۔ ماہرین نے ان افراد کو مختلف غذائی منصوبوں پر رکھا تاکہ دیکھا جا سکے کہ خوراک میں تبدیلی جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔تحقیق کے دوران شرکاکو چار ہفتوں تک مختلف قسم کی غذائیں دی گئیں۔ کچھ افراد کو کم چکنائی والی غذا دی گئی جبکہ کچھ کو پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین پر مشتمل خوراک فراہم کی گئی۔ اس دوران ان کی صحت کے مختلف اشاریوں کا مسلسل جائزہ لیا گیا۔ماہرین نے تقریباً 20 مختلف بائیومارکرز کی مدد سے ان افراد کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگایا۔ ان بائیومارکرز میں کولیسٹرول، بلڈ پریشر، انسولین، جسمانی سوزش اور خون کے مختلف اجزا شامل تھے۔تحقیق مکمل ہونے کے بعد نتائج حیران کن تھے۔صرف چار ہفتوں میں نمایاں تبدیلی۔تحقیق میں شامل کئی افراد میں صرف چار ہفتوں کے اندر صحت کے مختلف اشاریوں میں واضح بہتری دیکھی گئی۔ خاص طور پر وہ افراد جنہوں نے کم چکنائی اور زیادہ پودوں پر مبنی غذا استعمال کی ان کے جسم میں سوزش کم ہوئی، کولیسٹرول کی سطح بہتر ہوئی اور انسولین کے اثرات میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کی بنیاد پر ایسا محسوس ہوا جیسے ان افراد کی حیاتیاتی عمر میں کمی آئی ہو۔ یعنی ان کا جسم پہلے کے مقابلے میں نسبتاً جوان انداز میں کام کرنے لگا۔یہ نتائج اس لیے اہم ہیں کیونکہ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ بڑھاپا ایک ایسا عمل ہے جسے روکا نہیں جا سکتا۔ لیکن اس تحقیق سے اشارہ ملا ہے کہ صحت مند غذا کے ذریعے اس عمل کی رفتار کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔غذا کا جسم پر اثر ؟ماہرین کے مطابق ہماری خوراک براہِ راست جسم کے خلیوں، ہارمونز اور مدافعتی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر غذا میں زیادہ چکنائی، چینی اور مصنوعی اجزا شامل ہوں تو جسم میں سوزش بڑھنے لگتی ہے جو مختلف بیماریوں اور تیزی سے بڑھاپے کا سبب بنتی ہے۔اس کے برعکس اگر انسان سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین استعمال کرے تو جسم کے خلیے بہتر انداز میں کام کرتے ہیں۔ اس سے دل، دماغ اور دیگر اعضا صحت مند رہتے ہیں۔ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ صحت مند غذا صرف وزن کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ پورے جسم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔کیا واقعی بڑھاپا کم ہو سکتا ہے؟اگرچہ اس تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں لیکن سائنسدانوں نے احتیاط کا مشورہ بھی دیا ہے۔ ان کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صرف چار ہفتوں کی غذا انسان کو حقیقت میں جوان بنا سکتی ہے یا اس کی عمر بڑھا سکتی ہے۔تحقیق محدود پیمانے پر کی گئی تھی اور اس میں شامل افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں تھی۔ اس لیے مزید طویل اور بڑی تحقیقات کی ضرورت ہے تا کہ یہ واضح ہو سکے کہ ان نتائج کے اثرات کتنے دیرپا ہوتے ہیں۔تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ صحت مند غذا انسان کی مجموعی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ضرور ادا کرتی ہے۔صحت مند زندگی کیلئے پیغامیہ تحقیق دراصل ایک اہم سبق دیتی ہے کہ بہتر صحت کے لیے تبدیلی شروع کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ یہ سوچ کر اپنی عادات تبدیل نہیں کرتے کہ اب عمر گزر چکی ہے، لیکن سائنسدانوں کے مطابق عمر کے آخری حصے میں بھی مثبت تبدیلیاں فائدہ دے سکتی ہیں۔اگر انسان متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش اور ذہنی سکون کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف بیماریوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے بلکہ جسمانی توانائی اور زندگی کا معیار بھی بہتر ہو سکتا ہے۔جدید سائنس مسلسل یہ ثابت کر رہی ہے کہ انسانی صحت کا تعلق روزمرہ عادات سے بھی ہے۔ نئی تحقیق نے امید دلائی ہے کہ غذا میں معمولی مگر درست تبدیلیاں جسم پر حیرت انگیز اثرات ڈال سکتی ہیں۔اگرچہ ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ صحت مند خوراک صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بہتر زندگی کی بنیاد بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ماہرین ہمیشہ کہتے ہیں کہ آپ جیسی غذا کھاتے ہیں، ویسے ہی بن جاتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

ترکی کی جنگِ آزادی کا آغاز19 مئی 1919ء جدید ترکی کی تاریخ کا ایک اہم دن سمجھا جاتا ہے۔ اسی روزمصطفی کمال اتا ترک سامسون شہر پہنچے اور ترکی کی جنگِ آزادی کی عملی بنیاد رکھی۔ پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کی شکست کے بعد اتحادی طاقتوں نے ترک علاقوں پر قبضے شروع کر دیے تھے۔مصطفی کمال اتاترک کو ابتدا میں عثمانی حکومت نے علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے بھیجا تھا مگر انہوں نے اس موقع کو قومی مزاحمت میں بدل دیا۔ سامسون پہنچنے کے بعد انہوں نے ترک قوم کو متحد کرنے، مقامی مزاحمتی تحریکوں کو منظم کرنے اور بیرونی قبضے کے خلاف جدوجہد شروع کی۔ یہی تحریک بعد میں ترکی کی جنگِ آزادی میں تبدیل ہوئی۔اس جدوجہد کے نتیجے میں 1923ء میں جدید جمہوریہ ترکی قائم ہوئی اور خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔ این بولین کی پھانسی19 مئی 1536ء انگلستان کی شاہی تاریخ کے سب سے متنازع واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اسی روز انگلستان کے بادشاہ ہنری ہشتم کی دوسری ملکہ این بولین کو ٹاور آف لندن میں سزائے موت دی گئی۔ این بولین پر غداری اور ناجائز تعلقات جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم کئی مؤرخین ان الزامات کو سیاسی سازش قرار دیتے ہیں۔ہنری ہشتم پہلے کیتھرین آف آراگون سے شادی شدہ تھا مگر اس سے مرد وارث نہ ملنے کے باعث وہ این بولین سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ جب پوپ نے پہلی شادی ختم کرنے کی اجازت نہ دی تو ہنری نے رومن کیتھولک چرچ سے علیحدگی اختیار کر لی اور چرچ آف انگلینڈ قائم کر دیا۔این بولین ملکہ تو بن گئیں مگر وہ بھی بادشاہ کو مطلوب مرد وارث نہ دے سکیں۔ جان فرینکلن کی قطبی مہم 19 مئی 1845ء کو برطانوی مہم جو جان فرینکلن اپنی مشہور مگر المناک آرکٹک مہم پر روانہ ہوئے۔ ان کا مقصد شمال مغربی بحری راستہ تلاش کرنا تھا جو بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کو شمالی امریکہ کے اوپر سے ملاتا تھا۔ اس مہم کے لیے دو جہاز، ایریبس اور ٹیریر استعمال کیے گئے۔اس دور میں برطانیہ دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت تھا اور نئی تجارتی گزرگاہوں کی تلاش انتہائی اہم سمجھی جاتی تھی۔ فرینکلن کی مہم کو جدید سازوسامان سے لیس کیا گیا تھا اور ابتدا میں اسے ایک عظیم سائنسی مہم قرار دیا گیا۔ تاہم کچھ عرصے بعد ان دونوں جہازوں کا رابطہ دنیا سے منقطع ہوگیا۔کئی سال تک ان جہازوں اور عملے کی تلاش جاری رہی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جہاز برف میں پھنس گئے تھے اور شدید سردی، بھوک اور بیماری نے پورے عملے کو ہلاک کر دیا۔ آسکر وائلڈ کی رہائی19 مئی 1897ء کو آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے مشہور ادیب، شاعر اور ڈرامہ نگار آسکر وائلڈ کو برطانیہ کی ریڈنگ جیل سے رہائی ملی۔آسکر وائلڈ نےThe Importance of Being Earnest اورThe Picture of Dorian Gray جیسی شاہکار تخلیقات لکھیں۔ ان کی تحریروں میں طنز، ذہانت اور سماجی منافقت پر گہری تنقید پائی جاتی تھی۔ 1895ء میں ان پر غیراخلاقی رویے کے الزامات لگائے گئے، جو اُس زمانے میں برطانیہ کے سخت سماجی اور قانونی نظام کے تحت جرم تصور کیے جاتے تھے۔ مقدمے کے بعد انہیں دو سال قیدِ مشقت کی سزا سنائی گئی۔جیل میں ان کی زندگی انتہائی مشکل رہی۔ اسی دوران انہوں نے اپنی مشہور تحریرDe Profundis لکھی جس میں انہوں نے اپنے دکھ، روحانی خیالات اور انسانی رویوں پر گہری گفتگو کی۔مارلن منرو کی تاریخی پرفارمنس19 مئی 1962ء کو امریکی اداکارہ مارلن منرو نے امریکی صدرجے ایف کینیڈی کی سالگرہ کی تقریب میںHappy Birthday, Mr. President گا کر ایک ایسا لمحہ پیدا کیا جو امریکی ثقافت کی تاریخ میں امر ہوگیا۔یہ تقریب نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن میں منعقد ہوئی جہاں ہزاروں افراد موجود تھے۔ مارلن منرو نے چمکتے ہوئے مخصوص لباس میں انتہائی منفرد انداز میں یہ گیت پیش کیا۔ ان کی آواز، انداز اور پرفارمنس نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی۔ یہ تقریب محض ایک سالگرہ نہیں رہی بلکہ امریکی پاپ کلچر کی علامت بن گئی۔اس واقعے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں مارلن منرو اور جان ایف کینیڈی کے تعلقات کے بارے میں افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ اسی لیے یہ پرفارمنس سیاسی اور سماجی حلقوں میں مزید مشہور ہوگئی۔