خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ

خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالوحید مزاج میانوالی


عالمِ اسلام کی عظیم علمی وروحانی شخصیت خواجہ خواجگان قطب الاقطاب حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ 1920ء کو موضع ڈنگ ضلع میانوالی میں خواجہ عمر صاحب ؒ کے ہاں پیدا ہوئے آپ کے والد محترم خواجہ عمر انتہائی شریف النفس ،نیک سیرت اور خدا ترس انسان تھے۔آپ نے چھٹی جماعت تک اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد قرآن پاک اور ابتدائی دینی کتب کی تعلیم خانقاہ سراجیہ میں حاصل کی۔پھر آپ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل تشریف لے گئے۔جہاںآپ نے\" مولانا بدرعالم میرٹھی ـــ\"مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، مولانا حافظ عبدالرحمن امروہویؒ جیسے عالم دین سے مشکو ۃ شریف سمیت دیگر کتب کا مطالعہ کیااور اسطرح پھر برصغیر کی مشہور دینی وروحانی درس گاہ ،درالعلوم دیوبند پہنچ گئے جہاں آپ نے مولانا اعزاز علی، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، تلمذ کا اعزاز حاصل کیا۔1941میں درالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث کرتے ہوئے سند فراغت حاصل کرکے آپ واپس خانقاہ سراجیہ (کندیاں) تشریف لے آئے اور دینی کتب پڑھانے میں مشغول ہوگئے جہاں علامہ انور شاہ کشمیری، امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ مولانا مفتی محمود ؒ علامہ سید یوسف ،حضرت عبدالقادر رائے پوری سمیت اپنے دور کے اکابر علماء وملحا ء تشریف لاتے رہے مولانا ابو سعد احمد خان ؒ نے 30سال تک لوگوں کے دلوں کو ذکر الٰہی سے منورکیا اور ساتھ ہی حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ پر بھی خصوصی توجہ فرمانے کے ساتھ ساتھ اپنی صاحبزادی سے انکا نکاح بھی فرمایا۔آپؒ حضرت مولانا سید یوسف بنوریؒ کی 1977میں وفات کے بعد عالمی مجلس تحفظ نبوت کے مرکزی امیر کے منصب پر فائز ہوئے اور وفات تک اس منصب پر رہے امریکہ وبرطانیہ سمیت کئی ممالک کا سفر کرتے ہوئے لاکھوں مسلمانوںکے ایمان کی حفاظت کا ذریعے بنے آپ کی عمر مبارک 90سال تھی۔اور آپ نے 65کے نزدیک حج کئے ۔آپ ؒ نے 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں بھر پور حصہ لیتے ہوئے میانوالی جیل ،بورسٹل جیل اور سنٹر جیل لاہور میں قیدوبند کی صعوبتوں کا مقابلہ کیا۔علما ء قائدین خانقاہ سراجیہ میں مولانا خواجہ خان محمد ؒ کے پاس مشورے اور دعاوئں کے لئے حاضری دیتے اور اپنے لئے سعادت سمجھتے ۔آپؒ نے انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کی منظوری مکہ مکرمہ میں د ی او ر پھر 10 اکتوبر 1985ء کو کندیاں میں ایک اجلاس بلا کراس فیصلے کی توثیق فرمائی۔آپ آخر وقت تک فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے سرگرم عمل رہے اور علالت کے باوجود تحفظ ختم نبوت کے لئے سفر فرماتے ،جلسوں اور کانفرنسوں میں شرکت کرتے شرکاء آپ کی دعا کے انتظار میں گھنٹوں کھڑے رہتے تاکہ سعادت حاصل ہوجائے آپ دیگر مسالک کے لوگوں کے لئے بھی قابلِ احترام تھے۔وفات کے وقت آپ ؒ کی عمر 90سال تھی 5مئی 2010 بعد نمازِ مغرب وہ اس دارِفانی سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کوچ کرگئے آپ ؒ کی نمازِجنازہ صاحبزادہ اور جانشین مولانا خلیل احمدنے پڑھائی جس میں لاتعداد لوگوں نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد آپؒ کو آپکے مرشد مولانا عبداللہ لدھیانوی ؒ کے پہلو میں خانقاہ سراجیہ کے قبرستان میں دفن کیاگیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
پراسرار ذرات کی کھوج

پراسرار ذرات کی کھوج

فرانسس ہالزن کی تحقیق، کائنات کو سمجھنے کی کوشش 2026 ء کا فزکس کانوبل انعام امریکی یونیورسٹی وسکانسن میڈیسن سے وابستہ بیلجیئم نژاد پروفیسر فرانسس ہالزن کو دیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز انٹارکٹیکا میں قائم آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی تیاری اور کائناتی ماخذ رکھنے والے انتہائی توانائی کے حامل نیوٹرینو ذرات کی دریافت میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے پر دیا گیا۔ ان کی تحقیق نے سائنسدانوں کو کائنات کے ان گوشوں کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جہاں تک روایتی دوربینوں کی رسائی محدود ہے۔ اس تحقیق کے ذریعے انسان نے کائنات کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے دور دراز علاقوں سے آنے والے انتہائی چھوٹے ذرات کا سراغ لگانے کا ایک نیا طریقہ حاصل کیا ہے۔ نیوٹرینو کیا ہیں اور ان کی دریافت کیوں اہم ہے؟نیوٹرینو انتہائی چھوٹے بنیادی ذرات ہیں جو برقی چارج نہیں رکھتے اور ان کی کمیت بھی نہایت معمولی ہوتی ہے۔ یہ ذرات سورج، دوسرے ستاروں اور کائنات میں ہونے والے انتہائی توانائی بخش واقعات کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ہر لمحے کھربوں نیوٹرینو ذرات ہمارے جسم اور زمین میں سے گزرتے ہیں لیکن ہمیں ان کا احساس نہیں ہوتا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیوٹرینو عام مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ روشنی کے ذرات یا برقی چارج رکھنے والے ذرات کے برعکس نیوٹرینو کائنات میں طویل فاصلے طے کرتے ہوئے گیس، گردوغبار اور دوسرے مادے سے تقریباً غیر متاثر رہ سکتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں سائنسی تحقیق کے لیے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔مثال کے طور پر اگر کسی دور دراز کہکشاں کے مرکز میں بلیک ہول کے گرد مادہ انتہائی تیزی سے حرکت کر رہا ہو تو وہاں پیدا ہونے والی روشنی اور دوسری شعاعیں گردوغبار یا گرم مادے میں جذب ہو سکتی ہیں۔ اس کے برعکس وہاں پیدا ہونے والے نیوٹرینو نسبتاً آسانی سے باہر نکل کر زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے منبع اور وہاں ہونے والے طبیعی عمل کے بارے میں معلومات اپنے ساتھ لاتے ہیں۔تاہم ان ذرات کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہ شاذونادر ہی کسی دوسرے ذرے سے ٹکراتے ہیں۔ اسی لیے سائنسدانوں کو ایسے غیر معمولی بڑے آلات کی ضرورت پڑی جو بہت بڑی مقدار میں مادے کے اندر ان کے انتہائی نایاب تعاملات کو ریکارڈ کر سکیں۔ آئس کیوب آبزرویٹری، برف میں چھپی ہوئی ایک عظیم تجربہ گاہفرانسس ہالزن کی نمایاں سائنسی بصیرت یہ تھی کہ انٹارکٹیکا کے جنوبی قطب پر موجود صاف اور گہری برف کو نیوٹرینو کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 1980 ء کی دہائی کے آخر میں اس تصور پر کام شروع کیا۔ بعد ازاں اس خیال کو عملی شکل دینے کے لیے بین الاقوامی سطح پر طویل تحقیق، انجینئرنگ اور مالی وسائل درکار ہوئے۔اس منصوبے کا نتیجہ آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی صورت میں سامنے آیا جس کی تعمیر 2011ء میں مکمل ہوئی۔ یہ دنیا کے منفرد ترین سائنسی آلات میں سے ایک ہے۔ اس کے تقریباً ایک مکعب کلومیٹر کے حجم میں پھیلی ہوئی برف کے اندر پانچ ہزار سے زیادہ حساس سینسر نصب ہیں۔ یہ سینسر سطح زمین سے تقریباً 1450 سے 2450 میٹر کی گہرائی میں موجود ہیں۔ برف نیوٹرینو کو کیسے پکڑ سکتی ہے؟جب کوئی نیوٹرینو انتہائی کم امکان کے باوجود برف میں موجود کسی ایٹمی نیوکلیس یا دوسرے ذرے سے تعامل کرتا ہے تو اس عمل کے نتیجے میں دوسرے چارج شدہ ذرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرات برف میں سفر کرتے ہوئے ایک مخصوص قسم کی نیلی روشنی خارج کرتے ہیں جسے چیرینکوف روشنی کہا جاتا ہے۔ آبزرویٹری میں نصب سینسر اس روشنی کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ سائنسدان ان روشنی کے سگنلز کے وقت، سمت اور شدت کا تجزیہ کرکے اندازہ لگاتے ہیں کہ نیوٹرینو کہاں سے آیا، اس کی توانائی کتنی تھی اور اس نے کس قسم کا تعامل کیا۔ نیوٹرینو کی دریافت نے کیا بدلا؟آئس کیوب آبزرویٹری نے 2013ء میں دور دراز کائناتی ذرائع سے آنے والے انتہائی توانائی کے حامل نیوٹرینو کی موجودگی کے شواہد پیش کیے۔ یہ کامیابی نیوٹرینو فلکیات کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس کے بعد سائنسدانوں کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ صرف روشنی یا دوسری برقی مقناطیسی شعاعوں کی مدد سے نہیں بلکہ نیوٹرینو کے ذریعے بھی کائنات کا مطالعہ کریں۔ 2026ء کا نوبل انعام اسی سائنسی بصیرت، قیادت اور نیوٹرینو فلکیات کے میدان میں ان کے فرانسس ہالزن کے کردار کا اعتراف ہے۔یہ دریافت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کائنات کے راز صرف روشنی سے نہیں کھلتے۔ نیوٹرینو کی مدد سے سائنسدان اب ان دور دراز مقامات کا مطالعہ کر سکتے ہیں جہاں کائنات کے انتہائی توانائی بخش واقعات جنم لیتے ہیں۔ مستقبل میں یہ تحقیق بلیک ہولز، کہکشاؤں اور کائنات کی بنیادی طبیعیات کے بارے میں ہماری سمجھ کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔

قدرتی آفات کے خطرے میں کمی کا عالمی دن

قدرتی آفات کے خطرے میں کمی کا عالمی دن

محفوظ پاکستان کی جانب ایک قدمہر سال 13 اکتوبر کو قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کا عالمی دن(International Day for Disaster Risk Reduction) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں عوام، حکومتوں اور اداروں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں لیکن بہتر منصوبہ بندی، بروقت اقدامات اور عوامی آگاہی کے ذریعے ان سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس دن کی اہمیت دوچند ہے جہاں سیلاب، زلزلے، شدید گرمی، خشک سالی، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی خطرات لاکھوں افراد کی زندگیوں، روزگار اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع، موسمیاتی حالات اور آبادی میں تیز رفتار اضافہ اسے مختلف قدرتی آفات کے حوالے سے غیر معمولی طور پر حساس بناتے ہیں۔ شمالی علاقوں میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے، گلیشیئر پگھلنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے جبکہ پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں کو دریاؤں میں طغیانی اور شہری سیلاب کا سامنا رہتا ہے۔ بلوچستان اور تھر جیسے علاقوں میں خشک سالی اور پانی کی قلت انسانی زندگی اور زراعت کے لیے بڑے مسائل پیدا کرتی ہے۔2022 ء کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کو ایک تلخ حقیقت سے دوچار کیا۔ بڑے پیمانے پر آبادی متاثر ہوئی، گھر تباہ ہوئے، فصلوں اور مویشیوں کو نقصان پہنچا اور بنیادی سہولتوں کا نظام شدید متاثر ہوا۔ اس سانحے نے واضح کیا کہ قدرتی آفت صرف بارش یا سیلاب کا نام نہیں بلکہ اس کے اثرات کا انحصار غربت، کمزور تعمیرات، نکاسی آب، صحت کی سہولتوں اور حکومتی تیاری پر بھی ہوتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے ان خطرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ شدید بارشوں، گرمی کی لہروں اور غیر معمولی موسمی واقعات کے باعث ایسے علاقوں میں بھی خطرات بڑھ سکتے ہیں جہاں پہلے ان کی شدت نسبتاً کم تھی، لہٰذا پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی محض ہنگامی امداد تک محدود نہ رہے ۔ ناقص منصوبہ بندی اور عوامی مسائلپاکستان کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور میں شدید بارش کے بعد سڑکوں پر پانی جمع ہونابار بار پیش آنے والا مسئلہ ہے۔ اس کی وجوہات میں نکاسی آب کے ناکافی انتظامات، نالوں پر تجاوزات، کوڑا کرکٹ، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور قدرتی آبی گزرگاہوں میں رکاوٹیں شامل ہیں۔جب بارش کا پانی گھروں، دکانوں اور سڑکوں میں داخل ہوتا ہے تو صرف ٹریفک ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ بجلی کے نظام، کاروبار، تعلیمی سرگرمیوں اور صحت عامہ کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ کھڑا پانی مچھروں کی افزائش اور مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ غریب اور کم آمدنی والے خاندان جو عموماً غیر محفوظ علاقوں میں رہتے ہیں ان نقصانات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔اس صورت حال کا حل صرف بارش کے بعد پانی نکالنے میں نہیں بلکہ مؤثر شہری منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہے۔ حکومتوں کو نکاسی آب کے نظام کی باقاعدہ صفائی، نالوں کی بحالی، تجاوزات کے مؤثر انتظام، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور تعمیرات کے لیے حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔ شہریوں کو بھی کچرا نالیوں میں پھینکنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اجتماعی غفلت ایک معمولی بارش کو بھی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے خطراتپاکستان زلزلوں کے خطرے سے بھی دوچار ہے۔ 2005ء کا تباہ کن زلزلہ آج بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ غیر محفوظ عمارتیں اور ناقص تعمیراتی معیار کسی قدرتی واقعے کو بڑے انسانی المیے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ بالخصوص زلزلے کے خطرے والے علاقوں میں عمارتوں کے نقشوں، تعمیراتی معیار اور حفاظتی ضابطوں پر سختی سے عمل ضروری ہے۔ سکولوں، ہسپتالوں اور عوامی عمارتوں کی حفاظت کو خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ دوسری جانب، شدید گرمی کی لہریں پاکستان میں انسانی صحت کے لیے ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہیں۔ شمالی پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب کا خطرہ بھی موجود ہے۔ ایسے واقعات پہاڑی آبادیوں، پلوں، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید نگرانی، موسم کی درست پیش گوئی، خطرے سے دوچار آبادیوں کی نشاندہی اور بروقت انخلا کے انتظامات ضروری ہیں۔محفوظ پاکستان کیلئے مشترکہ ذمہ داریقدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کم کرنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو چاہیے کہ وہ خطرات سے متعلق معلومات عوام تک بروقت پہنچائیں، مقامی سطح پر تربیتی پروگرام منعقد کریں اور امدادی ٹیموں کو ضروری وسائل فراہم کریں۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں اور سرکاری انتباہات کو مؤثر انداز میں عام کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔اس سلسلے میں شہری چند بنیادی اقدامات سے اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت یقینی بنا سکتے ہیں۔ خاندان کے افراد کے ساتھ ہنگامی صورتحال میں رابطے اور محفوظ مقام تک پہنچنے کا منصوبہ بنائیں۔سکولوں اور کالجوں میں فرضی مشقیں، آگاہی لیکچرز اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت نوجوان نسل کو زیادہ ذمہ دار اور تیار بنا سکتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

نائٹس ٹیمپلرز کی گرفتاریاں13 اکتوبر 1307ء کو فرانس کے بادشاہ فلپ چہارم کے حکم پر نائٹس ٹیمپلر نامی مذہبی و عسکری تنظیم کے متعدد ارکان کو گرفتار کیا گیا۔ یہ تنظیم صلیبی جنگوں کے زمانے میں قائم ہوئی تھی اور اس کے ارکان عیسائی زائرین کی حفاظت اور مشرقِ وسطیٰ میں صلیبی ریاستوں کی معاونت کے لیے مشہور تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تنظیم نے بڑی دولت، زمینیں اور مالیاتی وسائل حاصل کر لیے تھے۔ فرانسیسی بادشاہ فلپ چہارم کو تنظیم کی طاقت اور مالی حیثیت پر اعتراضات تھے جبکہ اسے اپنی حکومت کے مالی مسائل کا بھی سامنا تھا۔ گرفتار کیے گئے ارکان پر بدعنوانی، مذہبی بے حرمتی اور دیگر سنگین الزامات لگائے گئے۔ بعد کے برسوں میں پوپ کلیمنٹ پنجم کے دور میں تنظیم کے خلاف کارروائی جاری رہی اور 1312ء میں اسے باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا۔ امریکی بحریہ کی بنیاد13 اکتوبر 1775ء کو امریکی کانٹی نینٹل کانگریس نے فلاڈیلفیا میں ایک بحری کمیٹی قائم کی جسے جنگی جہازوں کی تیاری اور بحری کارروائیوں کے انتظام کی ذمہ داری دی گئی۔ یہ فیصلہ برطانیہ کے خلاف جاری امریکی جنگِ آزادی کے ابتدائی مرحلے میں کیا گیا تھا۔ اس وقت امریکی نوآبادیات کو برطانوی فوج کے ساتھ ساتھ طاقتور برطانوی بحریہ کا بھی سامنا تھا۔ کانگریس نے دو مسلح بحری جہاز تیار کرنے اور ایسے برطانوی جہازوں کو روکنے کا منصوبہ بنایا جو برطانوی فوج کے لیے اسلحہ اور رسد لے کر آتے تھے۔ اس اقدام نے امریکی بحری طاقت کی منظم تشکیل کی بنیاد رکھی۔ اسی وجہ سے امریکی بحریہ ہر سال 13 اکتوبر کو اپنا یومِ تاسیس مناتی ہے۔وائٹ ہاؤس کا سنگ ِبنیاد 13 اکتوبر 1792ء کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں اس عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا جو بعد میں وائٹ ہاؤس کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ عمارت امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور انتظامی دفتر ہے۔ امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے نئے وفاقی دارالحکومت کے قیام اور اس کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ عمارت کے ڈیزائن کے لیے آئرش نژاد معمار جیمز ہوبن کا منصوبہ منتخب کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کی تعمیر ایک طویل منصوبہ تھا اور عمارت مکمل ہونے سے پہلے ہی امریکہ کا دارالحکومت فلاڈیلفیا سے واشنگٹن منتقل کیا جانے لگا۔ صدر جان ایڈمز اور ان کی اہلیہ ابیگیل ایڈمز یکم نومبر 1800ء کو اس نامکمل عمارت میں منتقل ہوئے۔ اٹلی کا اعلان جنگ13 اکتوبر 1943ء کو اٹلی کی حکومت نے نازی جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے دوران یورپی سیاست میں ایک اہم تبدیلی تھی کیونکہ اٹلی اور جرمنی اس سے پہلے محوری طاقتوں (Axis Powers) کے اتحادی تھے۔ اٹلی میں مسولینی کی حکومت نے کئی برس تک جرمنی کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ لیا تھا تاہم جولائی 1943ء میں اتحادی افواج نے سسلی پر حملہ کیا جس کے بعد اٹلی میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا۔ مسولینی کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور پیٹرو بادولیو کی قیادت میں نئی حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ جنگ بندی کی راہ اختیار کی۔ اس صورتِ حال میں اٹلی کی نئی حکومت نے 13 اکتوبر کو جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ چلی، کان کنوں کی بازیابی13 اکتوبر 2010ء کو چلی میں سان ہوزے کی تانبے اور سونے کی کان میں پھنسے تمام 33 کان کنوں کو کامیابی سے باہر نکال لیا گیا۔ یہ واقعہ جدید تاریخ کے نمایاں ترین امدادی اور انسانی بقا کے واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ 5 اگست 2010ء کو کان کے اندر چٹانیں گرنے کے باعث کان کن تقریباً 700 میٹر زیرِ زمین پھنس گئے تھے۔ چلی کی حکومت نے ماہرین، انجینئروں اور بین الاقوامی معاونت سے امدادی کارروائی شروع کی۔ کان کنوں تک خوراک، پانی اور ضروری سامان پہنچانے کے لیے تنگ سوراخ استعمال کیے گئے جبکہ انہیں باہر نکالنے کے لیے خصوصی کیپسول تیار کیا گیا۔ 13 اکتوبر کو ایک ایک کرکے تمام 33 افراد کو سطحِ زمین پر لایا گیا۔ وہ تقریباً 69 دن زیرِ زمین گزار چکے تھے۔

217 سال بعد نپولین کا راز فاش

217 سال بعد نپولین کا راز فاش

مصنوعی ذہانت نے صدیوں پرانے پراسرار خط کا معمہ حل کر دیاتاریخ کے اوراق میں بعض راز ایسے ہیں جو صدیاں گزرنے کے باوجود انسان کیلئے معمہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ایک پراسرار راز کا تعلق فرانس کے مشہور شہنشاہ نپولین بوناپارٹ سے ہے، جس نے 1809ء میں ایک ایسا خط تحریر کیا جس کا متن طویل عرصے تک ماہرین کیلئے ناقابلِ فہم رہا۔ اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے 217 سال پرانے اس خط کے پوشیدہ الفاظ پڑھنے اور اس کے پیغام کو سمجھنے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ نپولین بوناپارٹ کا تحریر کردہ یہ خط 1809ء میں نپولین کے سوتیلے بیٹے یوجین نے فرانسیسی جنرل آگست دی مارمون کو بھیجا تھا۔ یوجین اس وقت اٹلی کے نائب بادشاہ کے منصب پر فائز تھا۔خط کی پہلی سطر فرانسیسی زبان میں لکھی گئی ہے، تاہم اس کے بعد آنے والی 24 سطروں میں دو ہندسوں کے اعداد، بکھرے ہوئے حروف اور خود ساختہ علامتیں استعمال کی گئی ہیں۔اگرچہ یہ خط اصل میں ایک ایسی کلید (Key) کے ساتھ بھیجا گیا ہوگا جس کی مدد سے اس کے رموز کو سمجھا جا سکتا تھا، لیکن وہ کلید طویل عرصہ قبل گم ہو چکی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ خط کا متن ایک معمہ بنا رہا۔ اب سائبر سکیورٹی کمپنی '' SentinelO ne‘‘ کے انجینئر کارٹر چرچ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اس خفیہ کوڈ کو توڑ لیا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس‘‘ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جی پی ٹی آسٹرا کی مدد سے نپولین کے ایک جنرل کے نام لکھے گئے ایسے ناقابلِ حل خفیہ کوڈ کو توڑ دیا، جو 217 سال سے پڑھا نہیں جا سکا تھا۔ اس کامیابی کی خاص بات دراصل کوڈ توڑنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ Astra نے صرف ایک تصویر اور دیے گئے مقصد کی بنیاد پر مکمل ملٹی ماڈل عمل چھ گھنٹے میں مکمل کر لیا۔16 مارچ 1809ء کو نپولین نے پیرس سے اپنے سوتیلے بیٹے یوجین کے نام خط لکھا اور اس سے کہا کہ وہ ایک خط آگست دی مارمون کو پہنچائے۔ مارمون نپولین کے دوست تھے اور ان کی فوجیں بحیرہ ایڈریاٹک کے دوسری جانب ڈالمیشیا میں تعینات تھیں۔چونکہ مارمون کی فوج اور فرانس کی دیگر تمام افواج کے درمیان آسٹریا کا علاقہ حائل تھا، اس لیے جنگ چھڑنے کی صورت میں وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کر سکتے تھے۔خط کی پہلی سطر فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی، جس کا مفہوم تھا: ''جنرل مارمون، آپ کو رواں ماہ کی 8، 14 اور 20 تاریخ کو میرے بھیجے گئے خطوط موصول ہو چکے ہوں گے‘‘۔تاہم خط کا باقی حصہ خفیہ کوڈ میں تحریر تھا، اس لیے اس کا مفہوم طویل عرصے تک واضح نہ ہو سکا۔اس کوڈ کو توڑنے کیلئے مسٹر چرچ نے ''جی پی ٹی 6 آسٹرا‘‘ سے مدد لی، جو اوپن اے آئی کا تیار کردہ مصنوعی ذہانت کا ماڈل ہے۔چھ گھنٹے کی مسلسل کارروائی کے دوران اے آئی ماڈل خط کے پیغام کو ڈی کوڈ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔چرچ نے ایک بلاگ پوسٹ میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ Astra نے تصویر کو قطاروں میں تقسیم کیا، علامات کو پڑھا، پھر یہ تعین کیا کہ ہاتھ سے بنائے گئے 175 مختلف نشانات میں سے کون سے دراصل ایک ہی علامت کو دوبارہ لکھنے کی صورتیں ہیں، اور اس کے بعد ہی خفیہ کوڈ توڑنے کا عمل شروع کیا۔ ڈی کوڈ کیے گئے خط میں اس وقت موجود فرانس اور اس کے اتحادیوں کی دیگر تمام فوجوں کے مقامات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور مارمون کو ان کی الگ تھلگ پوزیشن سے ''مرعوب نہ ہونے‘‘ کی تاکید کی گئی ہے۔چرچ کے مطابق، خود اس خفیہ کوڈ کو توڑنا دراصل زیادہ مشکل نہیں تھا۔ انسانوں کو یہ کام مکمل کرنے میں مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا، جبکہ اے آئی نے صرف چھ گھنٹوں میں یہ کام مکمل کرلیا۔ انہوں نے کہاکہ ''خفیہ کوڈ خود زیادہ مشکل نہیں ہے اور اگر خفیہ تحریروں کے ماہرین کو مناسب وقت اور توانائی میسر ہوتی تو وہ اسے آسانی سے حل کر سکتے تھے۔ لیکن خط کو نقل کرنے، علامات کو ترتیب دینے اور درج کرنے، ترجمہ کرنے اور پھر کوڈ توڑنے کا پورا عمل پیچیدہ اور مختلف شعبوں کے علم کا متقاضی ہے۔ہر شعبے میں ایسے بہت سے مخصوص اور حل طلب مسائل موجود ہیں جن پر ماہرین کے پاس کام کرنے کیلئے مناسب وقت اور وسائل نہیں ہوتے۔اس معاملے سے حاصل ہونے والا اہم سبق یہ ہے کہ ایسے حل طلب مسائل کی فہرست کو مختصر کرنے والے افراد مستقبل میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہوں گے جو متعلقہ شعبے کے ماہر نہ ہونے کے باوجود محض تجسس کی وجہ سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔نپولین کا ڈی کوڈ کیا گیا پیغامان خطوط میں وہ احکامات اور ہدایات شامل تھیں جو جلالت مآب نے مجھے آپ تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ میں آج ہی آپ کو فرانسیسی اور اتحادی افواج کی تعیناتی سے آگاہ کرنے کیلئے بے تاب ہوں۔ ڈیوک آف ڈانزگ 40 ہزار فوجیوں کے ساتھ میونخ اور پاساؤ پر قابض ہے۔ شہزادہ پونیاتووسکی 30 ہزار پولش فوجیوں کے ساتھ دریائے وسٹولا کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے اور کراکوف کو خطرہ لاحق ہے۔ شہزادہ پونتے کورفو سیکسونی کی فوج کی کمان کر رہا ہے، جو ڈریسڈن کے سامنے خیمہ زن ہے، جبکہ ڈیوک آف آؤرشٹیڈ 80 ہزار فرانسیسی فوجیوں کے ساتھ بائروئتھ میں موجود ہے۔ ڈیوک آف ریولی 60 ہزار فوجیوں کی کمان کر رہا ہے جو اولم اور ڈوناوورتھ میں تعینات ہیں۔ جنرل اوڈینو 40 ہزار فوجیوں پر مشتمل اشرافیائی دستے کے ساتھ آگسبرگ اور دریائے لیک کے اطراف موجود ہے۔روسی آسٹریا کے خلاف پیش قدمی کر رہے ہیں اور آج فریولی کی فوج کی تعداد 80 ہزار ہے۔ اس میں ڈالمیشیا کے فوجی دستے بھی شامل کرلیں، جبکہ عقب میں ہر جگہ منظم کیے جانے والے اضافی دستوں کو شمار نہ کریں، تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آسٹریا پر بیک وقت ہر جانب سے حملہ ہونے والا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی تباہی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جب آپ کو پیش قدمی کا حکم ملے تو چند فوجیوں یا جمع ہونے والے ہجوم کو دیکھ کر خود کو مرعوب نہ ہونے دیں۔ میں اب بھی آپ کی خبروں کا بے صبری سے منتظر ہوں۔ آسٹریائی فوجیں بدستور لائباش، کلاگنفرٹ، ولاخ اور سالزبرگ میں موجود ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لنز کے راستے ٹائرول کو خطرے میں ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ تاہم ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ روسیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے گالیشیا میں فوجیں بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کی یہ تعیناتیاں ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ کا باقاعدہ اعلان ہونے سے پہلے ہی ان کی جنگی حکمت عملی متاثر ہو چکی ہے۔ تاہم ابھی کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ ملیشیا کو فعال خدمت کیلئے طلب کر لیا گیا ہے اور اگرچہ عوام میں جوش پیدا کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں، تاہم ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان بھرتیوں سے فوج کو خاطر خواہ کمک حاصل ہوگی۔

آرتھرائٹس: خاموش تکلیف، بڑا مسئلہ

آرتھرائٹس: خاموش تکلیف، بڑا مسئلہ

''حرکت کے ذریعے خوابوں کی تکمیل میں معاونت‘‘ ہر سال 12 اکتوبر کو جوڑوں کے درد کیخلاف آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہےجوڑوں کا درد، اکڑاؤ اور سوجن اکثر بڑھتی عمر کی معمولی تکلیف سمجھ کر نظر انداز کر دی جاتی ہے، حالانکہ آرتھرائٹس ایسی بیماریوں کا مجموعہ ہے جو انسان کی نقل و حرکت، روزمرہ سرگرمیوں اور معیارِ زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ ہر سال 12اکتوبر کو عالمی یومِ آرتھرائٹس منانے کا مقصد اس مرض اور دیگر ریمیٹک و عضلاتی بیماریوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق آرتھرائٹس صرف بزرگوں تک محدود نہیں بلکہ مختلف عمروں کے افراد اس کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت طبی مشورہ اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا ضروری ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 12اکتوبر کو آرتھرائٹس یا جوڑوں کے درد کے خلاف آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں اس مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا اور صحت کے اداروں کو اس بیماری کے تدارک کیلئے اقدامات پر آمادہ کرنا ہے۔ اس سال یہ دن ''حرکت کے ذریعے خوابوں کی تکمیل میں معاونت‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔ہمارے معاشرے میں لاکھوں افراد جوڑوں کے درد کے مسائل سے دوچار ہیں، جوڑوں کے درد کے بارے میں عالمی مہم 1996ء میں ''آرتھرائٹس اینڈ ریو میٹزل انٹرنیشنل‘‘ تنظیم کی جانب سے شروع کی گئی تھی، اس کے بعد سے ہر سال ورلڈ آرتھرائٹس ڈے منایا جاتا ہے۔آرتھرائٹس محض ایک عارضی تکلیف نہیں بلکہ ایک ایسا موذی مرض ہے جو وقت کے ساتھ جوڑوں کو متاثر کر کے انسان کی نقل و حرکت، روزمرہ سرگرمیوں اور معیارِ زندگی پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس بیماری سے متاثر ہیں اور ان میں اکثریت خواتین اور عمر رسیدہ افراد کی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں آگاہی کی کمی، بروقت تشخیص کا فقدان اور علاج کے مہنگے اخراجات اس مرض کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے آرتھرائٹس کا عالمی دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جوڑوں کی بیماری کو نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ ابتدائی توجہ اور بروقت علاج ہی صحت مند زندگی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔آرتھرائٹس دراصل کوئی ایک مخصوص بیماری نہیں بلکہ 200 سے زائد اقسام کے عوارض کا مجموعہ ہے جو جسم کے جوڑوں، ہڈیوں، عضلات اور بافتوں کو متاثر کرتے ہیں۔سب سے عام اقسام میں ''آسٹیو آرتھرائٹس‘‘ (Osteoarthritis) اور ''رمیٹائیڈ آرتھرائٹس‘‘ (Rheumatoid Arthritis) شامل ہیں۔ ''آسٹیو آرتھرائٹس‘‘ عموماً بڑھتی عمر، زیادہ وزن یا جسمانی دباؤ کے باعث ہوتی ہے، جبکہ ''رمیٹائیڈ آرتھرائٹس‘‘ ایک خودکار مدافعتی بیماری (Autoimmune Disorder) ہے جس میں جسم کا دفاعی نظام خود اپنے جوڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 35کروڑ افراد آرتھرائٹس کے کسی نہ کسی درجے میں مبتلا ہیں۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، ہر چوتھا بالغ شخص کسی نہ کسی مرحلے پر جوڑوں کے درد یا سوزش کا شکار ہوتا ہے، جبکہ خواتین میں یہ مرض مردوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ پایا جاتا ہے۔خاص طور پر 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں رمیٹائیڈ آرتھرائٹس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ترقی پذیر ممالک میں اس بیماری کی تشخیص میں تاخیر، مناسب علاج کی کمی اور معاشرتی عدم آگاہی کی وجہ سے مریض اکثر دیر سے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جوڑوں کو مستقل نقصان پہنچتا ہے۔پاکستان میں بھی آرتھرائٹس کا مرض عام ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ملک کی بالغ آبادی کا 15 سے 20 فیصد حصہ کسی نہ کسی درجے میں جوڑوں کے درد یا سوزش کا شکار ہے۔خاص طور پر خواتین، گھریلو خواتین، مزدور طبقہ، اور بزرگ افراد اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔پاکستان میں زیادہ تر لوگ ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لوگ اسے عام جسمانی درد یا تھکن سمجھ کر وقتی درد کش ادویات پر اکتفا کرتے ہیں، جس سے مرض مزید بڑھ جاتا ہے۔گرم و مرطوب موسم، غذائی کمی اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی بھی اس بیماری کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر جوڑوں میں مسلسل درد، سوجن یا سختی محسوس ہو تو فوراً ماہر امراضِ جوڑ سے رجوع کرنا چاہیے۔ تشخیص کیلئے عام طور پر خون کے ٹیسٹ، ایکس رے، یا ایم آر آئی کی مدد لی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آرتھرائٹس کا مکمل علاج ممکن نہیں، لیکن ابتدائی تشخیص، محتاط طرزِ زندگی، اور درست علاج سے مریض ایک فعال اور خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔آرتھرائٹس کے عالمی دن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ''درد کو تقدیر نہیں سمجھنا چاہیے ،علاج، آگاہی اور امید سے بہت کچھ بدلا جا سکتا ہے‘‘۔ اس دن مختلف ممالک میں آگاہی واکس، سیمینار، اور مفت طبی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کو بیماری کی وجوہات، علامات اور علاج کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو صرف ایک رسمی تقریب کے طور پر نہیں بلکہ ایک عزمِ نو کے طور پر منائیں۔ آرتھرائٹس کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شعور، ہمدردی اور عمل ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔

چار سُو بازار

چار سُو بازار

تاشقند کی تہذیب و ثقافت کا آئینہوسطی ایشیا کی سرزمین صدیوں پرانی تہذیب، شاندار فن تعمیر، روایتی دست کاری اور رنگا رنگ ثقافتی ورثے کے حوالے سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس خطے کے قدیم بازار نہ صرف تجارت کے مراکز رہے ہیں بلکہ انہوں نے مختلف تہذیبوں، معاشرتی روایات اور انسانی میل جول کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں واقع چار سُو بازار بھی اسی تاریخی اور ثقافتی ورثے کی ایک نمایاں علامت ہے، جہاں مشرقی معاشرت کی روایتی دلکشی، مقامی ذائقوں کی خوشبو اور صدیوں پرانی تجارتی روایات آج بھی زندہ دکھائی دیتی ہیں۔چار سُو بازار تاشقند کے قدیم اور معروف تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ شہر کی مرکزی شاہراہ کے قریب، تاریخی مدرسہ ککلداش اور معروف ہوٹل چار سُو کے آس پاس واقع ہے۔ اپنی تاریخی اہمیت اور منفرد طرزِ تعمیر کے باعث یہ بازار مقامی باشندوں کے علاوہ سیاحوں کی بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ بازار کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا وسیع گنبد ہے، جس کی ساخت اور آرائش مشرقی فن تعمیر کی مہارت کا پتا دیتی ہے۔ گنبد کے اوپری حصے پر ہلکے فیروزی رنگ کی ٹائلوں سے بنائے گئے خوبصورت نقش و نگار عمارت کے حسن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ ان بیل بوٹوں اور دلکش آرائشی نمونوں میں کاریگروں کی باریک بینی اور جمالیاتی ذوق نمایاں نظر آتا ہے۔بازار کی عمارت میں کشادگی، ترتیب اور روایتی تعمیراتی انداز کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اس کا گنبد خریداروں اور سیاحوں کو دور سے اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، جبکہ اندر داخل ہونے پر دکانوں کی ترتیب، اشیا کی رنگا رنگی اور لوگوں کی چہل پہل ایک زندہ مشرقی بازار کا منظر پیش کرتی ہے۔چار سْو بازار کی اصل رونق اس کی دکانوں میں سجی اشیا ہیں۔ یہاں تازہ سبزیاں، پھل، گوشت، دودھ، دہی، پنیر اور روزمرہ استعمال کی دیگر غذائی مصنوعات دستیاب ہوتی ہیں۔ مقامی کھانوں میں استعمال ہونے والے گرم مصالحوں کی خوشبو بازار کے ماحول کو مزید دلکش بنا دیتی ہے۔ تازہ تیار ہونے والے گرم نان، خالص شہد اور مختلف روایتی غذائی اشیا خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔بازار کے بالائی حصوں میں خشک میوہ جات کی دکانیں خصوصی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔ کشمش، خشک خوبانیاں، بادام، اخروٹ اور پستہ مختلف ڈھیروں کی صورت میں سجے ہوتے ہیں۔ ان کی رنگا رنگی اور ترتیب دیکھنے والوں کو رک کر خریداری کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہاں آنے والے سیاح مقامی ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عزیزوں کیلئے روایتی تحائف بھی خرید سکتے ہیں۔چار سُو بازار محض پھلوں، سبزیوں اور غذائی اشیا کی خریداری تک محدود نہیں، بلکہ یہاں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق مصنوعات بھی دستیاب ہیں۔ بازار کے اندر اور اطراف میں بڑی تعداد میں دکانیں موجود ہیں، جہاں فرنیچر، ملبوسات، قالین، بچوں کے جھولے اور دیگر گھریلو اشیا فروخت ہوتی ہیں۔ شادی بیاہ کے روایتی ملبوسات، بالخصوص دلہا اور دلہن کے عروسی لباس، بھی خریداروں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔اگر کوئی سیاح مشرقی بازاروں کی حقیقی روح، مقامی لوگوں کے رہن سہن، روایتی ذائقوں اور ثقافتی ورثے کو ایک ہی جگہ دیکھنا چاہتا ہو تو چار سُو بازار اس کیلئے ایک دل چسپ مقام ہے۔ یہ بازار ماضی کی تجارتی روایات اور جدید شہری زندگی کے درمیان ایک خوبصورت رابطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چار سُو بازار تاشقند کی سیر کا محض ایک پڑاؤ نہیں، بلکہ ازبکستان کی تہذیب، ثقافت اور روزمرہ زندگی کو سمجھنے کا ایک منفرد تجربہ بھی ہے۔