ہسٹیریا بیماری اور علاج
اسپیشل فیچر
’’نوجوان لڑکی زور زور سے چیخیں مار رہی تھی اور ہذیان میں بولے جا رہی تھی‘‘پیر صاحب دھونی رمائے ڈنڈا گھمانے اور کچھ عمل کرنے میں مصروف تھے۔ گھر کے سار لوگ پریشان کھڑے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ آخر بولتے بولتے اور دھونی سے گھبرا کر لڑکی گر پڑی۔ ہاتھ پائوں ڈھیلے پڑ گئے اور بے ہوش ہو گئی۔ پیر صاحب نے نعرہ بلند کیا کہ اب جن قابو میں آگیا ہے۔یہ جن اصل میں ہسٹیریا کی بیماری ہے، جس میں دراصل بنیادی وجہ کوئی محرومی، ذہنی پریشانی یا اعصابی تنائو ہوتا ہے۔ اس طرح کے مریض کو معاشرے میں صحیح مقام نہیں ملتا۔ زیادہ تر یہ جوان لوگوں میں ہوتی ہے اور نوجوان لڑکیاں اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ گھریلو پریشانیاں، شادی میں ناکامی، شادی کا وقت پہ نہ ہونا یا پسند کی شادی نہ ہونا وغیرہ ،اس کی بڑی وجوہات ہیں۔علاماتہسٹیریا کی بیماری میں مریض زو زور سے چلاتا ہے۔ اسے دورے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں اپنے آپ پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔ دورے میں پہلے جھٹکے لگتے ہیں۔ دورہ مرگی کی طرح کا ہوتا ہے۔ دورے میں ہونٹ پیلے ہو جاتے ہیں۔ پیشاب نکل آتا ہے۔ منہ سے جھاگ نکلتی ہے اور آنکھیں پتھرا سی جاتی ہیں۔ دورے کو کنٹرول کرنے کے لیے مریض کی آنکھ کے اوپر والے پپوٹے پر دبائو دیا جائے تو درد کی وجہ سے مریض چلا کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ دورے کے علاج کے دوران مریض کی یادداشت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کو باتیں بالکل یاد نہیں رہتیں۔ کوئی بات پوچھنے پر وہ گھنٹوں سوچتا رہتا ہے اور ہر بات کا الٹ جواب دیتا ہے۔ ان علامات کے علاوہ ہسٹیریا کے مریض مختلف قسم کی جسمانی علامات مثلاً نظام ہضم کی خرابی، جسمانی کمزوری وغیرہ میں بھی مبتلا رہتے ہیں۔علاج اور بچائوہسٹیریا ہو یا کوئی اور نفسیاتی بیماری، اس کے علاج کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے مریض کو مکمل اعتماد میں لیا جائے اور اسے اس بات کا یقین دلایا جائے کہ اسے جو بھی پرابلم ہے، اس کا حل موجود ہے اور صحیح علاج اور تھراپی سے اس پہ قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر مریض کا اعتماد حاصل کر لیا جائے، تو پھر بیماری پہ قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ آج کے مادی دور میں نفسیاتی الجھنیں اور ہسٹیریا جیسے مرضوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مادیت پرستی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بندے کا اللہ پہ مکمل ایمان ہو اور یہ یقین ہو کہ بیماری، دکھ سکھ، غمی اور خوشی سب اسی کی طرف سے ہیں۔ اسی سے مدد مانگی جائے اور اسی کا سہارا تلاش کیا جائے، جو لوگ اللہ پہ مکمل یقین رکھتے ہیں وہ بہت کم بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ اپنے یقین کو مضبوط کریں۔ اللہ پہ پورا ایمان رکھیں۔ اپنا کام دل جمعی سے کریں۔ انشاء اللہ سارے مسائل بدرجہ احسن حل ہوں گے اور کبھی فکر و پریشانی یا ہسٹیریا جیسی تکالیف آپ کو تنگ نہیں کریں گی۔ہسٹیریا کے مرض میں مختلف قسم کی دوائوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو بیماری کو کنٹرول کرنے میں بہت مدد کرتی ہیں۔ ان دوائوں کے لاتعداد مضر اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کسی اچھے ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ صحیح دو اور اس کی مناسب خوراک کے بارے میں وہی آپ کی صحیح رہنمائی کر سکتا ہے۔٭…٭…٭