وطن ِ عزیز کی چند مشہور بندرگاہیں

وطن ِ عزیز کی چند مشہور بندرگاہیں

اسپیشل فیچر

تحریر : شیخ نوید اسلم


سون میانییہ بندرگاہ ضلع لسبیلہ کے ساحل پر واقع ہے، جو کراچی سے بذریعہ خشکی 45میل کے فاصلے پر ہے۔ انگریزوں سے پہلے پورے وسط ایشیاء میں اس کا شہرہ تھا۔ یہاں سے بڑی بڑی بادبانی کشتیاں جن کو بلوچی میں ’’بوجھی‘‘ کہتے ہیں، ہندوستان، عرب، افریقا اور خلیج فارس کی بندرگاہوں تک جاتی آتی تھیں۔ راجہ داہر کے خلاف کارروائی کے لیے عربوں نے اسی بندرگاہ پر اپنا لشکر اتارا تھا۔ 19ویں صدی کے آغاز تک بلخ و بخارا افغانستان و ایران کا تجارتی مال کا رواں کے ذریعے اس بندرگاہ میں آتا اور یہاں سے ترکمان اور بلوچی گھوڑے بردباری اور اونٹ سبھی سونمیانی سے باہر بھیجے جاتے۔ اُندنوں، بولان اور مولہ کے راستے غیر محفوظ خیال کیے جاتے تھے۔1805ء میں پرتگالی بحری قزاقوں نے یہ بندرگاہ لوٹ کر اسے آگ لگا دی۔گل جنید نے جو کلمتی ہوت بلوچوں کا سردار اور ماہر جہاز ران تھا، ان بحری قزاقوں سے یہاں کئی لڑائیاں لڑی۔ برطانوی تسلط کے بعد اس بندرگاہ کی اہمیت ختم ہوگئی۔ انگریزوں نے کراچی کی بندرگاہ کو جدید بنیادوں پر ترقی دی اور ریل کے ذریعے اسے اندرون ملک بڑے بڑے شہروں سے ملا دیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی سرحدوں کا تعین ہوا، جس سے کارواں کی آمدروفت رک گئی، جس کے نتیجے میں بندرگاہ آہستہ آہستہ اُجڑ گئی ۔آج کل سون میانی ماہی گیری کے لیے مشہور ہے۔ یہاں بڑے بحری جہاز لنگر انداز نہیں ہوسکتے کیونکہ ساحل کے نزدیک پانی کی گہرائی کم ہے۔اورماڑا یہ بندرگاہ پہلے ریاست لسبیلہ میں شامل رہی ہے، مگر آج کل مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔ 1938ء تک برٹش انڈیا سٹیم نیو یگشین کمپنی کے جہاز ہر پندرھواڑ لے یہاں ساحل سے قریباً تین میل کے فاصلے پر لنگر انداز ہوتے تھے۔ بیرون ممالک خصوصاً سری لنکا اور جاپان سے تجارتی سامان آتا اور یہاں سے زیادہ تر خشک مچھلی اور پیش کی چٹائیاں دساور کو جاتیں ،مگر اب وہ صورتحال باقی نہیں رہی ہے۔پسنی بندریہ بندرگاہ کراچی سے براستہ خشکی دو سو میل کے فاصلے پر ہے، پہلے یہ ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی تھی، لیکن 1931ء میں خان قلات میر محمود خان دوم کی وفات کے بعد ان کے جانشین میر احمد یار خان کو اپنے اختیارات کا علم ہوا، تو انہوں نے بیرون ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لیے پسنی کی بندرگاہ قلات کی دوسری بندرگاہوں کے مقابلے میں زیادہ کار آمد ثابت ہوئی چنانچہ سندھ اور بلوچستان کے تاجروں جن میں اکثریت ہندوؤں کی تھی، یہاں سے تجارتی مال درآمدو برآمد کرنے کی طرف توجہ دی اور دیکھتے ہی دیکھتے ماہی گیروں کی یہ چھوٹی سی گمنام بستی وسط ایشیاء میں شہرت حاصل کر گئی۔ جاپان سے ریشمی سوتی اور اونی کپڑے اور کیوبا سے چینی بڑی مقدار میں درآمد ہونے لگی اور یہاں سے خشک مچھلی اور پیش کی چٹائیاں وغیرہ ہندوستان کی بندرگاہ اور کولمبو کو برآمد کی جانے لگی۔ اس درآمد و برآمد سے ریاست قلات کی آمدنی میں چار پانچ لاکھ روپے سالانہ کا اضافہ ہوگیا۔ اس کے علاوہ پسنی سے درآمد شدہ مال مکران، ساراوان، جھالاوان اور کچھی کے علاقوں میں راہداری اور سنگ بھی وصول کیا جانے لگا ،جس کی مجموعی آمدنی پندرہ بیس لاکھ روپے سالانہ سے کم نہ تھی۔ان دنوں 1939ء میں پسنی کی آبادی دس ہزا ر نفوس پر مشتمل تھی، جن میںاکثریت ’’میلا‘‘ شاہی بلوچوں کی تھی۔ 1898ء میں مکران کی بغاوت فرو کرنے کے لیے انگریزی فوج کرنل مین کے زیر کمان اس بندرگاہ میں اتری تھی۔ یہ فوج ذحانی جہاز میں کراچی سے روانہ ہو کر پسنی پہنچی اور پھر یہاں سے کوچ کرکے 30جنوری 1898ء کو کپروش کے مقام پر بلوچ مجاہدوں سے جا ٹکرائی۔ اس لڑائی میں میر بلوچ خان نو شیروانی اور کئی دوسرے نامی گرامی بلوچ شہید ہوئے۔ 1942ء میںپسنی میں ایک شدید زلزلہ آیا۔ سمندری موجوں نے تمام شہر تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ قیام پاکستان کے بعد ون یونٹ قائم ہوا، تو پسنی بھی دوسری بندرگاہوں کی طرح مرکزی حکومت کی تحویل میں چلی گئی۔جیونی بندر یہ بندرگاہ خلیج گوادر کے دائیںکنارے واقع ہے۔ دشت ندی یہاں سمندر میں گرتی ہے۔ اس کے بیس میل شمال مغرب سے ایرانی بلوچستان کی سرحد شروع ہوتی ہے۔جیونی، بلوچستان کی موزوں ترین بندرگاہ ہے۔ اس بندرگاہ پر چودھویں صدی عیسوی تک جدگالوں کا قبضہ رہا ہے۔ اس کے شمال مغرب میں ایرانی بلوچستان کا علاقہ دشتواری ہے،جہاں جدگال قبائل آباد ہیں۔ سردار جیون خان جدگال کا صدر مقام ہونے کی مناسبت سے ان کا نام جیونی پڑگیا۔کلمت بندر پسنی اور اورماڑا کے درمیان یہ بندرگاہ یعنی خلیج کے سرے پر واقع ہے اور ماکولہ کی شمالی پہاڑیوں کے ذریعے طوفانی ہواؤں سے محفوظ ہے۔ بڑے بڑے جہاز یہاں لنگر انداز نہیں ہوسکتے، لیکن ماہی گیر کشتیوں کے لیے ساحل بلوچستان پر یہ محفوظ ترین ٹھکانہ ہے۔ شکار کے خاص موسم، آڑنگا میں کراچی اور خلیج فارس کی دوسری بندرگاہوں سے ماہی گیر یہاں آکر کھر ماہی یعنی کاڈ کا شکار کرتے ہیں۔ کلمت بندر کے مغرب میں گزدان کی مشہور چراگاہ ہے، جہاں ایک خاص قسم کی گھاس بکثرت اُگتی ہے اور مقامی آڑنگا کے دنوں میں خشکی سے آنے والی شمالی ہوائیں اس گھاس کا بیج سمندر میں پھیلا دیتی ہیں جو کچھ مچھلیوں کی من بھاتی خوراک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مچھلیاں غول در غول سمندر کے اس حصے میں آپہنچتی ہیں اور انہیں شکار کرنے کے لیے ماہی گیروں کے جتھے ادھر اُمنڈ آتے ہیں۔ سُر بندربلوچستان کی جنوبی پٹی پر ساحل مکران، بحیرہ عرب کے ساتھ 754کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے ۔گو ساحلی آبادیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے کوئی پختہ سڑک موجود نہیں ،لیکن روزانہ کی پروازوں کی بدولت ان دیہاتوں اورڈیروں کا آپس میں رابطہ قائم رہتا ہے۔ بحیرۂ عرب کا نیلگوں پانی جب گوادر، پسنی اور ارماوا کے چمکتے ریتلے ساحلوں سے ٹکراتا ہے، تو یہ منظر بے حد خوبصورت ہوتا ہے ۔اس ساحلی پٹی پر الگ تھلگ ساحلی علاقے میلوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ علاقے اپنی خوبصورتی اور قدیم روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ جب کوئی سیاح ان علاقوں میں آنکلتا ہے تو وہ ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ آوارہ پھرتے ہوئے اونٹ کھجور کے درختوں کے خوبصورت جھنڈ، چھوٹی چھوٹی ندیاں اور ٹھنڈی گدگداتی اور آلودگی سے پاک ہوا یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان صدیوں پہلے کی کسی الف لیلیٰ کی داستان کا حصہ ہے۔ اس علاقے کو قدرت کے کئی قسم کے امتزاج کی سر زمین کہا جاسکتا ہے۔ اس علاقے میں صحرا اور بنجر پہاڑ بھی ہیں اور ندی نالے بھی۔ یہاںکے لوگ بے حد جفاکش اور محنتی ہیں۔ یہاں ان کی قدیم تہذیبی روایات بے حد مشہور ہیں گوادرکی پر اسرار پہاڑیوں سے پرے کھجور کے درختوں کے جھرمٹ میں گھرا گرم چشموں کے قریب ایک غیر معمولی اور انوکھا قصبہ سربندر ہے، جو اپنی مثال آپ ہے۔ گوادر کی سڑک پندرہ میل دور رہ جاتی ہے اور قصبے تک پہنچنے کے لیے بلند و بالا پہاڑیوں کے پر پیچ اور خم کھانے والے راستے سے آنا پڑتا ہے، جو بے حد شکستہ اور خراب ہے ۔جیپ بے حد آہستگی سے یہ خطرناک راستہ طے کرتی ہے۔(پاکستان کی سیر گاہیں سے مقتبس)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چین کا جدید ٹیکنالوجی پارک

چین کا جدید ٹیکنالوجی پارک

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں قائم ''ایمبو ڈائیڈ انٹیلی جنس انویشن انڈسٹریل پارک‘‘ (embodied intelligence innovation industrial park) جدید ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اہم عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف صنعتی ترقی کی نئی سمتوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ مستقبل کی معیشت اور صنعت کا انحصار ذہین مشینوں اور خودکار نظاموں پر بڑھتا جا رہا ہے۔ اس جدید صنعتی پارک میں مختلف ادارے اور ماہرین ایک ہی پلیٹ فارم پر کام کرتے ہوئے ایسی ٹیکنالوجیز کو فروغ دے رہے ہیں جو انسان اور مشین کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر اور عملی بنا رہے ہیں۔یہ صنعتی پارک نہ صرف تحقیق اور ترقی کا مرکز ہے بلکہ اسے مستقبل کی اس ٹیکنالوجی کا عملی نمونہ بھی سمجھا جا رہا ہے جہاں مشینیں انسانی ماحول میں خودمختار انداز میں کام کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔اس پارک میں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں کو ایک ہی جگہ پر جمع کیا گیا ہے تاکہ ایمبو ڈائیڈ انٹیلی جنس یعنی جسم میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے جدت لائی جا سکے۔ اس ماڈل کے ذریعے تحقیق، تجربات اور صنعتی پیداوار کے درمیان فاصلہ کم کر دیا گیا ہے، جس سے نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری کی رفتار نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔پارک کے اندر جدید ہیومنائیڈ روبوٹس نے حقیقی ماحول میں مختلف کام انجام دیئے۔ یہ روبوٹس نہ صرف اشیاء کو اٹھانے، منتقل کرنے اور ترتیب دینے جیسے کام کرتے ہیں بلکہ ٹیلی آپریشن کے ذریعے پیچیدہ صنعتی عمل بھی انجام دیتے ہیں۔ بعض مظاہروں میں انہیں انسانی حرکات کی نقل کرتے، کھیل کھیلتے اور مختلف انٹرایکٹو سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت ''ہائی ڈینسٹی انوویشن کلچر‘‘ ہے، جس کے تحت مختلف ادارے ایک ہی جگہ پر موجود ہونے کی وجہ سے باہمی تعاون، ڈیٹا شیئرنگ اور تجرباتی ترقی کا عمل تیز ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ماڈل نے روایتی تحقیقاتی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا ہے، جہاں ہر مرحلہ الگ تھلگ ہوتا تھا۔چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ''embodied intelligence‘‘ مستقبل کی صنعت کا بنیادی ستون بن سکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے روبوٹس کو صرف ڈیجیٹل سطح تک محدود رکھنے کے بجائے حقیقی دنیا میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے بلکہ لاجسٹکس، صحت، اور خدمات کے شعبوں میں بھی بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔مجموعی طور پر یہ صنعتی پارک اس بات کی واضح مثال ہے کہ چین مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں عالمی قیادت حاصل کرنے کیلئے کس قدر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ ترقی اسی رفتار سے جاری رہی تو مستقبل میں انسان اور مشین کے درمیان تعاون کا نیا دور شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے، جہاں روبوٹس روزمرہ زندگی اور صنعتی نظام کا لازمی حصہ بن جائیں گے۔

فریج یا الماری:چاکلیٹ کیلئے بہترین جگہ کونسی؟

فریج یا الماری:چاکلیٹ کیلئے بہترین جگہ کونسی؟

ماہرین نے چاکلیٹ کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ بتادیاچاکلیٹ دنیا بھر میں پسند کی جانے والی غذاؤں میں شمار ہوتی ہے، مگر اس کی حفاظت اور ذخیرہ کرنے کے طریقے پر عرصہ دراز سے بحث جاری ہے۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ چاکلیٹ کو گرمی سے بچانے کیلئے فریج میں رکھنا ضروری ہے، جبکہ دوسرے اسے الماری یا کمرے کے درجہ حرارت پر محفوظ رکھنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اب اس دلچسپ بحث میں سائنسدانوں نے بھی حصہ لیا ہے اور تحقیق کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ چاکلیٹ کے ذائقے، خوشبو، ساخت اور معیار کو برقرار رکھنے کیلئے کونسا طریقہ زیادہ موزوں ہے۔ ان کی رائے نے نہ صرف چاکلیٹ کے شوقین افراد کی توجہ حاصل کی ہے بلکہ خوراک کے ماہرین میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔یہ ایک ایسی بحث ہے جس نے لوگوں کو دو مختلف گروہوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اگرچہ بہت سے افراد کا خیال ہے کہ چاکلیٹ کمرے کے درجہ حرارت پر زیادہ لذیذ لگتی ہے، لیکن دوسرے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فریج میں رکھی ہوئی چاکلیٹ زیادہ مزے دار اور اطمینان بخش محسوس ہوتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر چارلس سپینس کے مطابق چاکلیٹ فریج میں رکھنے کے بعد زیادہ مزیدار محسوس ہوتی ہے۔چاکلیٹ کو ٹھنڈا کرنے سے نہ صرف اس کا ذائقہ بہتر ہوتا ہے بلکہ اس کی ساخت بھی زیادہ دلکش ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عموماً ایسی غذاؤں کو پسند کرتے ہیں جو کھاتے وقت کچھ آواز پیدا کریں۔ چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جب آپ ٹھنڈی چاکلیٹ کی بار توڑتے ہیں تو اس سے زیادہ واضح اور خوشگوار ''چٹخنے‘‘ کی آواز آتی ہے۔یہ مشورہ بہت سے لوگوں کیلئے حیران کن نہیں ہوگا، کیونکہ وہ سوشل میڈیا پر اکثر چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کے حق میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک ٹک ٹاک صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ میں کسی کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر آپ چاکلیٹ فریج میں نہیں رکھتے تو پھر میں آپ سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔پروفیسر چارلس سپینس کے مطابق چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کے فوائد تین جہتوں پر مشتمل ہیں۔خوشگوار ''چٹخنے‘‘کی آواز کے علاوہ، وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ٹھنڈی چاکلیٹ منہ میں نسبتاً آہستہ آہستہ پگھلتی ہے۔ اس کے نتیجے میں چاکلیٹ کا ذائقہ اور لطف زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے اور اسے کھانے کا تجربہ زیادہ خوشگوار، پرلطف اور تسکین بخش محسوس ہوتا ہے۔یعنی فریج میں رکھی گئی چاکلیٹ نہ صرف بہتر ساخت اور آواز فراہم کرتی ہے بلکہ اس کے آہستہ پگھلنے کی وجہ سے اس کے ذائقے سے لطف اندوز ہونے کا وقت بھی بڑھ جاتا ہے۔مزید یہ کہ چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کے پیچھے ایک نفسیاتی پہلو بھی کارفرما ہوتا ہے۔ پروفیسر چارلس کے مطابق ''فریج سے نکالی گئی غذائیں عموماً تازگی کا احساس دلاتی ہیں، اور ہم سب تازہ خوراک پسند کرتے ہیں‘‘۔پروفیسر چارلس سپینس کا یہ مشورہ ان 80 فیصد چاکلیٹ شائقین کیلئے خوش آئند ہے جو ایک حالیہ سروے کے مطابق گرمیو ں میں اپنی چاکلیٹ پہلے ہی فریج میں رکھتے ہیں۔چاکلیٹ کمپنی کی جانب سے کرائے گئے سروے میں 2ہزار برطانوی شہریوں سے رائے لی گئی۔ نتائج کے مطابق 69 فیصد افراد چاکلیٹ کو اس لیے فریج میں رکھتے ہیں تاکہ وہ بہت جلد نہ پگھلے، جبکہ 51 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں ٹھنڈی چاکلیٹ کی کرکری ساخت اور اسے توڑنے پر پیدا ہونے والی خوشگوار ''چٹخ‘‘ کی آواز بے حد پسند ہے۔کیا چاکلیٹ صحت کیلئے مفید ہے؟چاکلیٹ بلاشبہ لوگوں کی پسندیدہ غذائی کمزوریوں میں سے ایک ہے، لیکن گزشتہ کئی برسوں میں ہونے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ہماری صحت کیلئے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتی ہے۔چاکلیٹ میں 300 سے زائد کیمیائی اجزا پائے جاتے ہیں، اسی لیے سائنسدان اس سے وابستہ مختلف طبی فوائد پر تحقیق کر رہے ہیں۔ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے 65 سال سے زائد عمر کے 8ہزارافراد کا مطالعہ کیا اور معلوم کیا کہ جو افراد معتدل مقدار میں چاکلیٹ کھاتے تھے، وہ چاکلیٹ نہ کھانے والوں کے مقابلے میں تقریباً ایک سال زیادہ زندہ رہے۔ ڈاکٹر نیل مارٹن نے مختلف خوشبوؤں کے ذریعے لوگوں کے دماغی ردعمل کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ چاکلیٹ کی خوشبو میں موجود کیمیائی مرکبات ناک کے حسّی خلیات پر اس قدر اثر انداز ہوتے ہیں کہ انسان خوشی اور سرشاری محسوس کرنے لگتا ہے۔100 گرام ڈارک چاکلیٹ میں 2.4 ملی گرام آئرن اور 90 ملی گرام میگنیشیم موجود ہوتا ہے، جو روزانہ درکار مقدار کا تقریباً ایک تہائی ہے۔اس کے برعکس، وائٹ چاکلیٹ میں کوکو کے ٹھوس اجزا موجود نہیں ہوتے، صرف کوکو بٹر شامل ہوتا ہے، اور اس میں چکنائی کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ 100گرام وائٹ ٹوبلیرون بار میں تقریباً 540 کیلوریز اور 30.7 گرام چکنائی موجود ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دانتوں کے ماہرین کے مطابق چاکلیٹ، زیادہ تر دوسری مٹھائیوں کے مقابلے میں دانتوں کیلئے کم نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ اسے عام طور پر جلدی چبا کر کھا لیا جاتا ہے، جبکہ دیگر مٹھائیاں دیر تک منہ میں رکھی جاتی ہیں۔ چاکلیٹ میں قدرتی طور پر پائے جانے والے اجزاء دانتوں پر پلاک (جراثیمی تہہ) بننے کے عمل کو سست کرنے میں مدد دیتے ہیں۔چاکلیٹ میں فینائل ایتھائل امین (PEA) نامی مادہ بھی پایا جاتا ہے، جو دماغ میں قدرتی طور پر بننے والے مادے سے مشابہت رکھتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سیروٹونن اور اینڈورفنز جیسے خوشی پیدا کرنے والے کیمیکلز کی سطح بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔اسی طرح تھیوبرومین کیمیائی طور پر کیفین سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ مرکزی اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے اور مزاج کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

 شادی حماقت ہے!

شادی حماقت ہے!

شادی کے بعد سے اس بات پر غور کرنے کی کچھ عادت سی ہو گئی ہے کہ شادی کرنا کوئی دانشمدانہ فعل ہے یا حماقت! یعنی اگر یہ دانشمندی ہے تو پھر بعض اوقات اپنے بے وقوف ہونے کا بے ساختہ احساس کیوں ہونے لگتا ہے اور اگر یہ حماقت ہے تو اس حماقت میں دنیا کیوں مبتلا نظر آتی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ کوئی غور کرنے کی بات تھی تو شادی سے پہلے غور کیا ہوتا۔ مگر میرا خیال یہ ہے کہ غور کرنے کا شعور عام طور پر شادی کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے۔ ورنہ اس دنیا سے شادی کی رسم کب فنا ہو چکی ہوتی۔ یہاں تک پہنچنے کے بعد ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ شادی ہو چکنے کے بعد اس پر غور کرنے سے فائدہ ہی کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا فائدہ ایک شادی شدہ انسان کو تو خیر نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن خلق اللہ کو فائدہ پہنچنے کا قوی امکان موجود ہے۔ جس طرح دنیا کے تمام تجربے حاصل کرنے والے بنی نوع انسان کے محسن ہیں۔ اسی طرح ہم شادی شدہ لوگ بھی آئندہ نسلوں کے محسن ہو سکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ نسلیں،دیکھیں ہمیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔ یقیناً وہ عظیم المرتبت شخص ہم سب کا محسن تھا جس نے سب سے پہلے زہر کھاکر مرنے کا تجربہ کیا اور دنیا کو زہر کے متعلق یہ شعور عطا کیا کہ اس کے کھانے سے آدمی مرجاتا ہے۔ چنانچہ ہم نے بھی شادی اس لیے کی ہے کہ غیر شادی شدہ ہم کو دیکھیں کہ شادی کرنے کے بعد انسان وہ ہوجاتا ہے جو ہم ہو گئے ہیں۔شادی تو خیر ایک مستقل مبحث بلکہ ایک فن مکمل ہے۔ اس صحرا کا صرف ایک ذرّہ اور اس قلزم کا صرف قطرہ اس وقت موضوع بحث ہے۔ یعنی بیوی بھی نہیں بلکہ بیوی کے رشتہ دار، اب اگر آپ اس ذرّے کی وسعتوں اور اسی قطرہ کی گہرائیوں پر غور کریں تو چیخ اُٹھیں گے۔اسی قطرہ میں دریا ہے اسی ذرّے میں صحرا ہے۔ بیوی کے رشتہ دار ایک شادی شدہ انسان کیلئے عام طور پر سانپ کے منہ والی چھچھوندر ثابت ہوتے ہیں جن کو نہ اگلا جائے نہ نگلا جاسکتا کہ وہ بیوی کے رشتہ دار ہیں۔ اور نگلا اس لئے نہیں جاسکتا کہ اپنے رشتہ دار نہیں ہیں۔ اپنے رشتہ داروں کے متعلق ایک آدمی کو ہر وقت اگلنے یا نگلنے کااختیار حاصل رہتا ہے۔ ان سے دل خوش ہے، طبیعت میل کھا رہی ہے۔ دل قبول کر رہا ہے تو تعلقات قائم ہیں، ورنہ بہانہ ڈھونڈھ کر لڑ لئے۔ وہ اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش، لیکن بیوی کے رشتہ داروں کے متعلق تو یہ گویا ایک طے شدہ بات ہے کہ ان سے ہر حال میں تعلقات رکھنا ہیں۔ ان سے خلوص کا اظہار کرنا ہے، ان کی مدارات میں دل، جگر اور آنکھوں کے فرش بچھاکر ان پر جذبات کے گاؤ تکیے لگانا ہیں۔ اگر وہ بڑے ہیں تو سعادت مندی کے ان کو وہ جوہر دکھانا ہیں جو خود ان کی ذاتی اولاد سے ممکن نہ ہوں۔ اگر برابر کے ہیں تومحبت کا وہ اظہار کرنا ہے کہ وہ بھی منافقت کے قائل ہو جائیں۔ اگر چھوٹے ہیں تو اس قسم کی شفقت کرنا ہے جس میں گستاخی کا کوئی امکان نہ ہو۔البتہ اگر ادب کا پہلو نمایاں ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس قسم کی زبردستی اور نفس کشی سے ایک انسان کس حد تک جرائم پیشہ ہو جاتا ہے۔ یعنی اس کی اخلاقی جرات فوت ہو جاتی ہے، ضمیر کی زبان پر فالج گر جاتا ہے۔ ایمانداری اختلاج میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بحیثیت مجموعی وہ انسان اگرکچھ باقی رہ جاتا ہے توصرف منافق، دروغ باف اور ایک حد تک ڈرپوک بھی۔ کچھ بھی ہو بیوی کے رشتہ داروں سے اچھے تعلقات رکھنا ہی پڑتے ہیں۔ خواہ دل ہی دل میں وہ خودکشی یا فرار کے امکانات پر کتنا ہی غور کیوں نہ کرے۔ بیوی کے رشتہ داروں کی بھی عجیب عجیب قسموں سے ایک بیوی والے کو دوچار ہونا پڑتاہے۔ ان میں سے موت کا درجہ تو کم وبیش سب ہی کو حاصل ہوتا ہے۔بعض ہوتے ہیں محض موت، بعض ناگہانی موت، بعض غریب الوطنی کی موت اور بعض ہر حال میں ملک الموت، محض موت تو خاص خاص لوگ ہوتے ہیں جن کا ایک انسان تقریباً عادی ہو جاتا ہے مثلاً بیوی کے والد، بھائی، ماں، خالہ، چچا، چچی، ماموں اور ممانی وغیرہ۔ ناگہانی موت وہ رشتہ دار ہوتے ہیں جن کا کوئی علم ہی نہیں ہوتا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!عبیداللہ بیگ: ہمہ جہت شخصیت (2012-1936ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!عبیداللہ بیگ: ہمہ جہت شخصیت (2012-1936ء)

٭...یکم اکتوبر 1936ء کو رام پور (ہندوستان)میں پیدا ہونے والے عبید اللہ بیگ کا اصل نام حبیب اللہ بیگ تھا۔٭...ان کا خاندان 1951ء میں ہجرت کر کے پاکستان آیا، اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔٭...ان کے والد محمود علی بیگ بھی علم دوست شخصیت تھے اور یوں گھر ہی میں مطالعے کی طرف رجحان ہوا اور کتابیں پڑھنے کا شوق پروان چڑھا۔٭...1951ء میں ان کا خاندان بھارت کے شہر رام پور سے نقل مکانی کر کے پاکستان آیااورکراچی میں سکونت اختیار کی۔ ٭...انھیں پاکستان کے علمی و ادبی حلقوں اور ذرائع ابلاع میں وہ احترام حاصل تھا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔٭...وہ صحافی، مدیر، ایڈورٹائزر، براڈ کاسٹر، دستاویزی فلم ساز، ٹی وی رپورٹر، شکاری، سیاح، ناول نگار، ڈرامہ نگار، سکرپٹ و فیچر رائٹر اور ماہر ماحولیاتی ابلاغِ عامّہ بھی تھے۔٭...ہمہ جہت شخصیت کے مالک عبید اللہ بیگ علم و ادب کے شیدائیوں کیلئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے۔ ٭...عبید اللہ بیگ فارسی، عربی اور انگریزی زبانیں بھی جانتے تھے۔٭...متعدد پروگراموں کی کمپیئرنگ بھی کی، جن میں پگڈنڈی، منزل، میزان، ذوق آگہی اور جواں فکر کے علاوہ اسلامی سربراہ کانفرنس بھی شامل ہیں۔٭...ٹیلی ویژن کے بعد وہ ماحولیات کے تحفظ کی غیر سرکاری تنظیم سے منسلک ہوئے اور بقائے ماحول کیلئے رپورٹنگ کے ساتھ بطور ماہر ابلاغ تربیت دینے کا کام کیا۔ ٭... ایک جریدہ ''ٹی وی نامہ‘‘ بھی جاری کیا۔ ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔٭...فلسفہ، تاریخ، تہذیب و تمدن، سیاحت، ماحولیات، ادب کے ہر موضوع پر عبیداللہ بیگ کے بات کرنے کا انداز بھی منفرد اور دلچسپ تھا۔٭...وہ ایک ادیب بھی تھے جن کا پہلا ناول ''اور انسان زندہ ہے‘‘ 60ء کی دہائی میں شائع ہوا۔ دوسرا ناول ''راجپوت‘‘ 2010ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد نے شائع کیا۔٭... ایک بہترین مترجم بھی تھے۔ انہوں نے کئی اہم کتابوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا، جن میں تاریخ، فلسفہ، نفسیات، سوشیالوجی اور سائنسی موضوعات شامل تھے۔٭...حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں ان کی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازاگیا۔٭...22 جون 2012ء کو عبید اللہ بیگ نے دارِ فانی کو خیرباد کہا ۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور وفات سے چند ماہ پہلے پیٹ کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔عبیداللہ بیگ کی دستاویزی فلمیںعبید اللہ بیگ کی ایک پہچان دستاویزی فلمساز کی بھی ہے ۔سرکاری ٹی وی پر ''کسوٹی‘‘ سے پہلے ''سیلانی‘‘ بھی ان کا ایک فلمی دستاویزی سلسلہ تھا جو بہت مشہور ہوا۔ سرکاری ٹی وی کیلئے تین سو سے زائد دستاویزی فلمیں بنائیں جن کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور انہیں ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ 1982ء میں ان کی فلم ''وائلڈ لائف اِن سندھ‘‘ کو 14 بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔ عورتوں کے مسائل پرمبنی فلم کو 18 زبانوں میں ڈھال کر پیش کیا گیا۔ سندھ میں قدرتی حیات اور ماحول سے متعلق ان کی دستاویزی فلمیں بہت شاندار ہیں اور اس کام پر انھیں ایوارڈ بھی دیئے گئے۔

آج کا دن

آج کا دن

ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ22جون 2025ء کو امریکہ نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات، فورڈو، نطنز اور اصفہان پر فضائی حملے کیے۔ یہ کارروائی امریکی فوج کی ایک بڑی عسکری مہم کے تحت انجام دی گئی، جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اہم مراکز کو نشانہ بنانا تھا۔ اس حملے نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ کیا۔ فیفا ورلڈ کپ میں متنازع گول 1986ء کے فیفا ورلڈ کپ کے 22جون کو کھیلے گئے ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے کوارٹر فائنل کے یادگار مقابلے میں میراڈونا نے متنازعہ ''ہینڈ آف گاڈ‘‘گول اسکور کیا، جس نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی۔ اسی میچ میں انہوں نے بعد ازاں شاندار انفرادی کوشش سے ''گول آف دی سنچری‘‘ بھی کیا۔ ارجنٹائن نے یہ میچ 1-2 سے جیتا اور بعد میں ورلڈ کپ کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔ گلیلیو پر مقدمہ ختم ہوا1633ء میں آج کے روز مشہور اطالوی ماہر فلکیات و ریاضی دان گلیلیو گلیلی پر قائم مقدمہ ختم ہوا۔ گلیلیو نے کاپر نیکس کے اس نظریے کی حمایت کی تھی کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے، نہ کہ سورج زمین کے گرد۔ یہ نظریہ اس وقت کے رومن کیتھولک چرچ کے تعلیمات کے برخلاف تھا، جو زمین کو کائنات کا مرکز تصور کرتا تھا۔ افغان پارلیمنٹ پر حملہ22جون 2015ء کو کابل میں افغان پارلیمنٹ پر حملہ ہوا،دہشت گردوں نے قومی اسمبلی کے باہر کار بم دھماکہ کیا اور اس کے بعد جدید اسلحے کی مدد سے پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ آور ہوئے۔اس حملے میں دو شہری جبکہ سات حملہ آور مارے گئے۔حملہ آور سکیورٹی کو چکمہ دے کر بارود سے بھری گاڑی پارلیمنٹ ہاؤس تک لے گئے۔ایران میں شدید زلزلہ 22جون2002ء کوایران میں شدید زلزلہ آیا۔اس کا مرکز صوبہ قزوین کے شہر بوئن زہرا کے قریب تھا ۔یہ علاقہ فالٹ لائن پر موجود ہے۔ زلزلے کی شدت6.5تھی اور اس کے بعد 20سے زیادہ آفٹر شاکس محسوس کئے گئے۔اس خوفناک زلزلے میں230افراد ہلاک جبکہ1500سے زائد زخمی ہوئے۔ٹرین حادثہہیمنڈ سرکس ٹرین حادثہ 22 جون 1918ء کو پیش آیا اور یہ امریکی تاریخ کے بدترین حادثات میں سے ایک تھا۔ اس حادثے میں86افراد ہلاک جبکہ127زخمی ہوئے۔ٹرین حادثے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کا ڈرائیور سو گیا تھاجس کی وجہ سے سامنے کھڑی ٹرین کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا۔ اس ٹرین میں سرکس کے400سے زیادہ فنکار موجود تھے۔تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کا ذمہ دار انسانی لاپرواہی کو ٹھہرایا گیا۔آپریشن بارباروسانازی جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے دوران 22جون1941ء کو اپنے اتحادیوں سمیت سوویت یونین پر حملہ کیا۔اس حملے کو ''آپریشن بارباروسا‘‘ کا نام بھی دیا گیا۔اس حملے کا مقصدمغربی سوویت یونین کو دوبارہ جرمنی کے ساتھ آباد کرنا تھا۔ جرمن جنرل پلان اوسٹ کا مقصد قفقاز کے تیل کے ذخائر کے ساتھ مختلف سوویت علاقوں کے زرعی وسائل کو حاصل کرتے ہوئے لوگوں کو جبری مشقت کے طور پر استعمال کرنا بھی تھا۔

ڈی ہائیڈریشن کی علامات !جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں

ڈی ہائیڈریشن کی علامات !جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں

گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ اور بدلتے ہوئے موسمی حالات انسانی صحت کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر موسمِ گرما میں جسم میں پانی کی کمی، جسے طبی اصطلاح میں ''ڈی ہائیڈریشن‘‘ کہا جاتا ہے، ایک عام مگر خطرناک مسئلہ بن چکا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق بہت سے لوگ پانی کی کمی کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور انہیں محض گرمی کے اثرات سمجھ کر اہمیت نہیں دیتے۔ حالیہ طبی مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ تھکن، چکر آنا، سر درد، بے چینی اور غیر معمولی کمزوری جیسی علامات دراصل جسم میں پانی کی کمی کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان علامات پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ کیفیت سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں پانی کے مناسب استعمال اور جسمانی کیفیت پر نظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔جون سخت گرمی کا مہینہ مانا جاتا ہے، اس لیے جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کی علامات جاننے کا اس سے بہتر وقت اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بالغ فرد روزانہ تجویز کردہ مقدار کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم پانی پیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ پانی کی کمی اور اس سے جڑے متعدد صحت کے مسائل کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ڈی ہائیڈریشن اس کیفیت کو کہتے ہیں جب جسم سے خارج ہونے والے سیال کی مقدار، جسم میں داخل ہونے والے سیال سے زیادہ ہو جائے۔ یہ حالت اسہال، زیادہ پسینہ آنے، تیز بخار یا طویل وقت تک دھوپ میں رہنے کے باعث پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پانی کی کمی کئی خطرناک طبی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس کی علامات کو پہچانا جائے اور بروقت احتیاط کی جائے۔ آئیے جسم میں پانی کی کمی کی ان اہم علامات پر نظر ڈالتے ہیں جن میں سے بعض آپ کو حیران بھی کر سکتی ہیں۔پیاس لگناڈی ہائیڈریشن کی سب سے واضح اور عام علامت سادہ سی ہے، پیاس۔ہم سب نے کبھی نہ کبھی طویل وقت تک پانی نہ پینے کے بعد شدید پیاس کا احساس ضرور کیا ہوگا اور یہی کیفیت جسم میں پانی کی کمی کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق جسم کے پانی میں صرف دو فیصد کمی دماغ کو پیاس کا سگنل دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ گرم موسم میں پسینہ زیادہ آنے کے باعث گرمیوں کے دنوں میں پیاس کا احساس زیادہ عام ہو جاتا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنا نسبتاً آسان ہے۔ پانی اس مقصد کیلئے سب سے بہتر اور سادہ انتخاب ہے۔تناؤ محسوس ہوناڈی ہائیڈریشن کے اثرات ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد جو مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے، ان میں تناؤ (stress) کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ محققین نے دریافت کیا کہ جو افراد روزانہ تجویز کردہ تقریباً 1.5 لیٹر پانی پیتے ہیں، ان کے جسم میں کورٹیسول (cortisol) یعنی تناؤ کے ہارمون کی سطح ان افراد کے مقابلے میں کم ہوتی ہے جو اس مقدار تک نہیں پہنچ پاتے۔اس سے قبل ایک تحقیق نے بھی یہ اشارہ دیا تھا کہ پانی کی مقدار اور خوشی کے احساس کے درمیان تعلق موجود ہے۔اس تحقیق کے مطابق کم پانی پینے والے افراد نے خود کو زیادہ بے چین، کم اطمینان اور زیادہ تناؤ کا شکار محسوس کیا۔ اس کے برعکس جن افراد نے پانی کی مقدار میں اضافہ کیا، انہوں نے خود کو نسبتاً زیادہ خوش اور بہتر مزاج کا حامل بتایا۔سر میں درد ہوناجب کسی شخص کو سر درد ہو تو سب سے عام مشورہ یہی دیا جاتا ہے کہ پانی پی لیا جائے اور اس کی ایک واضح طبی وجہ بھی موجود ہے۔ انسانی جسم روزانہ تقریباً 2 سے 2.5 لیٹر پانی مختلف طریقوں سے ضائع کرتا ہے، اور اگر یہ سیال مناسب مقدار میں پورا نہ کیا جائے تو شدید سر درد پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جسم میں پانی کی کمی دماغ پر دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے درد کے احساس سے متعلق اعصاب اور ریسیپٹرز متاثر ہوتے ہیں، جبکہ پانی پینے سے یہ دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق پانی کا استعمال مائیگرین (شدید سر درد) کی شدت کو بھی کم کر سکتا ہے۔پیشاب کا گہرا یا بدبودار ہوناجسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کو جانچنے کا ایک آسان طریقہ پیشاب کا رنگ اور بو ہے۔ ہلکا پیلا یا تقریباً شفاف پیشاب عام طور پر مناسب مقدار میں پانی پینے کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ گہرا پیلا یا بھورا رنگ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جسم کو مزید پانی کی ضرورت ہے۔ توجہ مرکوز نہ کر پاناانسانی جسم کا تقریباً 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ دماغ میں پانی کی مقدار اس سے بھی زیادہ یعنی اندازاً 75 فیصد تک ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ جسم میں پانی کی کمی ذہنی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی کی معمولی کمی بھی ذہنی صلاحیتوں جیسے یادداشت، توجہ اور ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے۔یہ کیفیت بعض اوقات روزمرہ فیصلوں تک کو متاثر کر سکتی ہے، حتیٰ کہ اس حد تک کہ انسان یہ فیصلہ کرنے میں بھی مشکل محسوس کرے کہ سڑک کب پار کرنا محفوظ ہے۔