نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- این اے 133 ضمنی الیکشن،101پولنگ اسٹیشنزکاغیرسرکاری نتیجہ
  • بریکنگ :- مسلم لیگ(ن)کی شائستہ پرویزملک 19ہزار472ووٹ لےکرآگے
  • بریکنگ :- لاہور:پیپلزپارٹی کےاسلم گل 12 ہزار161ووٹ لےکرپیچھے
Coronavirus Updates

یونس ایمرے

یونس ایمرے

اسپیشل فیچر

تحریر :


باتوں کی بحث میں اچانک یونس ایمرے Yunus Emre کا ذکر آگیا۔خاتون نے اناطولیہ کے اس درویش، صوفی اور خداداد صلاحیتوں کے حامل شاعر کا ذکرجس محبت اور شوق سے کیا اُس نے آتش شوق کو گویا بھڑکا سا دیا۔انہوںنے ان کی عوامی اور وحدت میں ڈوبی ہوئی شاعری کے چند ٹکڑے سُنائے اور ایک دلچسپ واقعہ بھی۔زمانہ تو مولانا جلال الدین رومیؒ کا ہی تھا۔کہتے بھی انہیں رومی ثانی ہے، مگر دونوں عظیم شاعروں میں فرق ذریعہ اظہار کا تھا۔مولانا رومی کا کلام اُس وقت ترکی کی شہری اشرافیہ کی مروجہ ادبی زبان فارسی میں ہونے کی و جہ سے خاص الخاص تھا جبکہ یونسEmre کے ہاں ذریعہ اظہار اُن کی عام لوگوں کی، یعنی دیہی علاقوں میں بولی جانے والی ترکی زبان میں ہی تھا۔زبان سادہ ،مفہوم واضح، تشبہات، استعارے عام فہم اور زبان زد عام ہونے والے کلام میں غنائیت اور نغمگی کا بہائو اس درجہ تھا کہ صوفیاء کی محفلوں میں جب گایا جاتا تھا، تو لوگ و جد میں آجاتے تھے۔یونس ایمرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت شریں گفتار اور لحن دائودی کا سا کمال رکھتے تھے۔کبھی اگر دریا کے کنارے قرأت سے قرآن پاک پڑھتے تو بہتا پانی رک جاتا تھا۔بہت دلچسپ ایک واقعہ بھی سُن لیجیے، یونس اُمرے کے قونیہ سفر کے دوران کہیں مولانا رومیؒ سے ملاقات ہوئی تو مولانا نے اُن سے اپنی مثنوی کے بارے میں دریافت کیا۔یونس ایمرے نے کہا ’’بہت خوبصورت ،بہت عظیم ،بہت اعلیٰ شاہکار ۔میں مگر اسے ذرا مختلف طریقے سے لکھتا ۔‘‘مولانا نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا’’بتائو ذرا کیسے۔‘‘یونس بولے ’’میں آسمان سے زمین پر آیا ۔گوشت پوست کا لباس پہنا اور خود کو یُونس ایمرے کا نام دیا۔‘‘ترکی کے اس مقبول اور اہم ترین شاعر کا زمانہ لگ بھگ1238ء تا 1320 ء کا ہے۔مقام پیدائش صاری کوئے نامی گائوں میں ہوئی۔اس زمانے میں قونیہ پرسلجوق ترکوں کی حکومت تھی۔مولانا رومی شمس تبریزؒ سے متاثر تھے۔ایسے ہی یونس ایمرے نے چالیس سال اپنے استاد شیخ تاپدوک ایمرے Tapduk Emre کے قدموں میں گزار دئیے۔اُن کی زیر نگرانی انہوںنے قرآن و حدیث کے علم میں کمال حاصل کیا۔طریقت کے اسرار و رموز سے شناسا ہوئے۔ اُن کے کلام میں رباعی،گیت،نظمیں ،غزلیں سبھی نظر آتی ہیں۔ذرا دیکھئے کلام کی سادگی اور حُسن۔ایک لفظ ہی چہرے کو روشن بنا سکتا ہے اُس شخص کیلئے جو لفظوں کی قدرو منزلت جانتا ہےجان لو کہ لفظ کب بولنا ہے اور کب نہیںایک اکیلا لفظ دنیا کی دوزخ کو آٹھ بہشتوں میں بدل سکتا ہےیونس ایمرے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو زندگی محبت و پیار کے اصولوں پر گزارنی چاہیے۔ان کی فلاسفی میں اُونچ نیچ او ر تفریق کہیں نہیں۔یہ صرف انسانوں کے اعمال ہیںجو انہیں اچھا یا بُرا بناتے ہیں۔زندگی عفو ودرگزر ،حلیمی اور رواداری جیسے جذبات کے تابع ہونی چاہیے۔ان کا عقیدہ تھا کہ خدا تک پہنچنے اور بخشش کا راستہ اکابرین دین،مختلف مذہبی اور مسلکی فرقوں کے اماموں کے ذریعے نہیں بلکہ یہ انسان دوستی اور احترام انسانیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ہر مذہب اور ہر مذہبی فرقے کا دوسرے کو جہنمی کہنا اور سمجھنا بہت غلط ہے۔دنیا کا ہر مذہب انسانیت کی بھلائی کا درس دیتا ہے۔ان مذاہب اور انسانوں کے احترام سے خدا سے سچا عشق پیدا ہوتا ہے۔ان کا یہ کہنا کتنا خوبصورت ہے۔دین حق سر میں ہے سر پر رکھی جانے والی پگڑیوںاور دستاروںمیں نہیں۔یونس ایمرے عشق حقیقی کے پرستار اور اسیر تھے۔شاعری میں صوفیانہ علم، عجزو انکسار اور انسانیت کا بے پناہ جذبہ نظرآتا ہے۔یونس ایمرے ترکوں میں بہت ہر دل عزیز ہیں۔دراصل اُن کی شاعری ترکوں کے قومی مزاج کی خوبصورت عکاس ہے۔ترک قوم کی دلیری اور خودداری کا اظہار ہے۔یہی و جہ ہے کہ ان کے اشعار خاص و عام کی زبانوں پر ہیں۔بیرونی دنیا میں اب ان پہچان ہورہی ہے۔ اس کی و جہ دراصل اُن کا کلام اپنی مادری ترکی زبان میں ہے۔ان کے ہم عصر مولانا رومیؒ کا کلام فارسی میں ہونے کی و جہ سے وہ برصغیر اور وسط ایشیا کی ریاستوں میں بہت زیادہ ہر دل عزیز ہیں،تاہم اب انگریزی ترجمے کی و جہ سے یونس ایمرے کے قارئین ان کی خداداد صلاحیتوں سے آگاہ ہورہے ہیں۔اُن کے فن اور کلام کی سادگی،برجستگی اور فلسفے سے واقف ہو رہے ہیں۔ہم بھی شکر گزار ہوئے کہ انہوںنے ہمیں وقت دیا اور ہمیں ایک عظیم ہستی سے ملوایا۔(سلمیٰ اعوان کے سفر نامے ’’ استنبول کہ عالم میں منتخب‘‘ سے مقتبس)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
یادرفتگان،پطرس بخاری :مزاح نگاری کا بڑا نام، ان کے مضامین میں کمال کی نکتہ آفرینی اور بذلہ سنجی ہے

یادرفتگان،پطرس بخاری :مزاح نگاری کا بڑا نام، ان کے مضامین میں کمال کی نکتہ آفرینی اور بذلہ سنجی ہے

''ہاسٹل کے چوکیدار سے ہم نے کہا کہ ہمیں کل علی الصبح جگا دینا۔ اگلے دن صبح ہوتے ہی اس نے اتنی زور سے ہمارے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ ہم تو کیا ہماری قسمتِ خوابیدہ تک جاگ اٹھی‘‘۔یہ پطرس بخاری کے ایک مزاحیہ مضمون کی وہ شگفتہ تحریر ہے جس سے ایک مزاح نگار کے طور پر ان کے مقام اور مرتبے کا پتہ چلتا ہے۔ اُردو کے مزاحیہ ادب میں پطرس بخاری کے علاوہ کرنل محمد خان، شفیق الرحمان، ابن انشاء، حاجی لق لق اور مشتاق احمد یوسفی نے بہت نام کمایا۔ یوسفی صاحب کی مزاحیہ تحریروں میں جو نکتہ آفرینی ملتی ہے اس میں پطرس بخاری کی جھلک موجودہے۔یکم اکتوبر 1898ء کو پشاور میں پیدا ہونے والے پطرس بخاری کا اصل نام سید احمد شاہ بخاری تھا۔وہ صرف مزاح نگار ہی نہیں بلکہ انہوں نے کئی دوسرے موضوعات پر بھی کتابیں لکھیں۔ وہ ایک صداکار اور سفارتکار بھی تھے۔ یہ ان کا اعزاز تھا کہ وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے مستقل مندوب کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ان کے مزاحیہ مضامین کی کتاب ''پطرس کے مضامین‘‘ نے زبردست مقبولیت حاصل کی۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتب میں ''کلیات پطرس‘‘،'' پطرس کے خطوط‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔''پطرس کے مضامین‘‘ میں ان کے 11مزاح پارے ہیں جو اعلیٰ درجے کے ہیں اور اس میں ان کا مشاہدہ اور نکتہ آفرینی عروج پر ہے۔ ان کے مضامین ''مرزا کی بائیسکل‘‘،''کتے‘‘ اور'' سویرے جو کل میری آنکھ کھلی‘‘ اُردو کے مزاحیہ ادب میں شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پطرس بخاری آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔پطرس بخاری ایک کشمیری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے پشاور کے ایڈورڈ مشن سکول سے تعلیم حاصل کی اور پھر وہ لاہور آ گئے جہاں انہوں نے گورنمنٹ کالج (اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی) میں انگریزی ادب پڑھا۔ پطرس بخاری برطانیہ چلے گئے جہاں انہوں نے ایمانول کالج کیمرج سے تعلیم حاصل کی۔پھر وہ لاہور آ گئے اور 1927ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی پڑھاتے رہے۔ پطرس بخاری گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل بھی رہے۔ وہ بڑے ذہین اور قابل آدمی تھے۔ ان کے بھائی زیڈ اے بخاری پاکستان کے نامور صدا کار تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور میں فیض احمد فیضؔ، ن م راشد اور کنہیا لال کپور بھی ان کے شاگردوں میں شامل تھے۔ 1950ء میں جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکہ کا دورہ کیا تو پطرس بخاری بھی ان کے ہمراہ تھے۔ لیاقت علی خان کی تمام تقریریں اور عوامی اعلانات پطرس بخاری کے زورِ قلم کا نتیجہ تھے۔ نیویارک میں بخاری صاحب ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے۔ وہ گھر میں چار زبانیں بولتے تھے جن میں مقامی بولی، فارسی، اُردو اور پشتو شامل ہیں۔''پطرس کے مضامین‘‘ کو اردو کے مزاحیہ ادب کا اثاثہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مضامین 1927ء میں شائع ہوئے۔ اگرچہ یہ بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں منظر عام پر آئے لیکن ان کی تازگی اور شگفتگی آج تک قائم ہے۔پطرس بخاری کو یونانی فلسفے پر بھی عبور حاصل تھا۔ انہوں نے ایک معرکہ آرا مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ''قدیم یونانی بادشاہ اور ان کے افکار‘‘ ۔یہ مضمون 1919ء میں لاہور کے ایک جریدے میں شائع ہوا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 21برس تھی۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں اپنے وطن کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ اس وقت اقوام متحدہ کا ادارہ اپنے قیام کے ابتدائی سالوں میں تھا۔ انہوں نے جس طرح یونیسف کا کیس لڑا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دراصل یونیسف کو بند کرنے کیلئے اجلاس منعقد کئے جا رہے تھے کیونکہ بظاہر یہی لگتا تھا کہ یونیسف نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں لیکن پطرس بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یونیسف کی ضرورت ترقی پذیر ملکوں میں یورپی ممالک سے زیادہ ہے اور خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی پذیر ملکوں میں یونیسف کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان کے مؤثر دلائل نے امریکی صدر روز ویلٹ کو بھی متاثر کیا اور وہ بھی یونیسف کے حوالے سے اپنے ملک کا موقف بدلنے پر مجبور ہو گئے۔ اُس وقت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل رالف جے بنچے تھے۔ انہوں نے پطرس کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ احمد بخاری درحقیقت ایک لیڈر اور فلسفی تھے۔ اگرچہ ان کی عمر زیادہ نہیں تھی لیکن لگتا تھا کہ وہ ایک کمال کے مدبر ہیں۔ وہ دنیا بھر میں امن کے متلاشی لوگوں کی اُمنگوں کی ترجمانی کرتے تھے۔اب ذرا پطرس بخاری کے مزاح کے کچھ رنگ دیکھئے جن میں انفرادیت ، نفاست اور سلاست کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ ''میرا بھتیجا دیکھنے میں عام بھیتجوں سے مختلف نہیں میری تمام خوبیاں اس میں موجود ہیں‘‘۔''لاہور لاہور ہے۔ اگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہیں مل سکتا تو آپ کی تعلیم ناقص اور ذہن فاتر ہے‘‘۔'' خدا کی قسم ان کتوں میں وہ شائستگی دیکھی کہ عش عش کر کے لوٹ آئے۔ جونہی ہم بنگلے کے دروازے میں داخل ہوئے، کتے نے برآمدے میں کھڑے ہو کر ہلکی سی ''بخ‘‘ کردی۔ چوکیداری کی چوکیداری، موسیقی کی موسیقی‘‘۔ایسے مزاحیہ فقرے پڑھ کر مسکراہٹ کی کیا مجال کہ وہ آپ کے لبوں سے نہ ٹکرائے۔ یہ عظیم مزاح نگار5دسمبر1958ء کو امریکہ میں انتقال کر گئے اور ان کی تدفین بھی وہیں ہوئی۔ اُردو کا مزاحیہ ادب پطرس بخاری کا ہمیشہ ممنون رہے گا۔(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘ سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں)

انسانیت کے سفیر۔۔۔رضاکاروں کے عالمی دن پر خصوصی تحریر

انسانیت کے سفیر۔۔۔رضاکاروں کے عالمی دن پر خصوصی تحریر

معاشرے کا ایسا فرد جو کسی لالچ یا مالی مفاد کے بغیر دوسرے لوگوں کی مدد کرتا ہے/کرتی ہے،رضاکار کہلاتا ہے۔ ایک لمحہ کے لئے اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑائیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ آج کل کے خود غرض،مفاد پرست ،اقرباء پروری ، رشوت ستانی، نااہلی،کام چوری اور بھی بے تحاشہ معاشرتی برائیوں کی موجودگی میں ایسا کوئی بھی شخص جو رضاکار کی تعریف پر پورا اترے تو اس کو بلند و بالا مقام ملنا چاہیے۔ لیکن کیا ایسا ہے؟ اگر ہم پاکستانی معاشرے کا بہ نظر غائر جائزہ لیں تو ہمیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نظر آئے گی کہ ہم من حیث القوم اوپر بیان کی گئی برائیوں کے گڑھے میں غرق ہونے کے قریب قریب ہیں۔کیا ہمیں اس گڑھے سے نکلنے کے لئے کچھ کرنا چاہئے تو ہمیں اپنی دینی اساس کو سامنے رکھنا ہوگا۔ اس سلسلے میں،میں ہجرت مدینہ کے موقع پر کئے گئے رضاکاری اور بھائی چارے کے مظاہرے کا ذکر ضرور کروںگا، جب مہاجرین کا قافلہ ہمارے نبی مکرم رسول اکرم رحمتہ اللعالمین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی قیادت میں مکہ سے مدینہ پہنچا تو مہاجرین کے حالات سب کے سامنے تھے اور ہمارے رسولﷺ اس وقت صرف اور صرف انصار مدینہ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنے مسلمان مہاجر بھائیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اور پھر زمانے نے بھی دیکھا اور انسانی آنکھ سے بھی یہ چیز پوشیدہ نہیں رہی کہ انصار مدینہ نے رضاکاری اور بھائی چارے کی ایسی مثال قائم کی جو تا قیامت دوبارہ نہیں ہو سکتی۔ انصار مدینہ نے اپنی ملکیت میں موجود ہر چیز میں مہاجر بھائی کو حصہ دار بنایا ، یہاں تک کہ جس انصار مدینہ کی دو بیویاں تھیں(عرب میں ایک سے زائد شادیوں کا رواج عام تھا)ا س نے اپنی ایک بیوی کو طلاق دی تا کہ مہاجر بھائی اس کے ساتھ نکاح ثانی کر سکے (یہاں اس مثال کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ اگرانصار مدینہ نے اس حد تک مہاجرین کے ساتھ نباہ کیا تو باقی مالی او ر دنیاوی چیزوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے)۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رضاکاری اور دوسروں کی بے لو ث مدد بھی مومن کی گمشدہ میراث ہے۔اگر ہماری قوم میں یہ جذبہ مکمل طور پر بیدار ہوجائے تو ہمارے 95فیصد معاشرتی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔اب ہم آجاتے ہیں5دسمبر کے دن کی طرف ۔ یہ دن ہر سال رضاکاروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس کی منظوری اقوام متحدہ نے 1985میں دی تھی۔ لیکن اس کو عالمی منظر نامہ پر اس وقت جانا اور مانا گیا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس منعقدہ 20نومبر 1997ء میں ایک قرارداد اس حوالے سے منظور کی گئی جس میں 2001ء کو رضاکاروں کا سال بھی قراردیا گیا۔اس کے بعد سے ہر سال یہ دن 5دسمبر کو رضاکاروں کے عالمی دن (International Volunteer Day) کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ آج کل کے تیز رفتار دور میں جب سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے چند سر پھرے ایسے ہوتے ہیں جو بے لوث کسی کی مدد کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی پوری دنیا کی طرح اس عالمی دن کو منایا جاتا ہے اور مٹھی بھر افراد حتی المقدور کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ رضاکاری کا جذبہ معاشرے میں پروان چڑھ سکے اور حیران کن حد تک یہ بات دیکھی گئی ہے کہ یہ جذبہ 10سے 14سال کی عمر کے بچوں میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ (Boys Scouts) (Girls Guide)ان ناموں سے کچھ ادارے پاکستان میں رضاکاری کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن (مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سمت میں ہماری سوسائٹی کا رجحان بہت کم ہوتا جا رہاہے۔ شائد پچھلے کچھ سالوں سے ملکی اور بین الاقوامی حالات نے معاشرے کو کافی حد تک خود غرض بنا دیاہے۔پاکستان میں ''پاکستان گرلزگائیڈ ایسوسی ایشن‘‘اس سلسلے میںکام کررہی ہے اور اسی سال4فروری کو ٖPGGA میں منعقدہ ایک تقریب میں بیگم ثمینہ عارف علوی( بیگم صدرپاکستان) نے چیف گائیڈ پاکستان کا حلف اٹھایا اور اس سلسلے میں ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ اگر ہمارے لیڈران اور ان کے اہل خانہ ایکٹیو رول پلے کریںتو کوئی ایسی بات نہیں کہ پاکستان میں بھی رضاکارانہ خدمت کا جذبہ پروان چڑھ سکتا ہے۔ معاشرے میں اس چیز کوپروموٹ کرنے کیلئے اداروں کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔ایک تحقیق کے مطابق پوری دنیا میں 70فیصدرضاکارانہ کاموں کا کریڈٹ کسی ادارے کو نہیں لیکن معاشرے کے افراد کو انفرادی طور پر جاتا ہے کیونکہ لوگ ایسے کاموں کی شہرت بھی پسند نہیں کرتے۔ اقوام متحدہ کی ایک اور تحقیق کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکہ اور یورپ میں جو افرادرضاکارانہ کاموں میں زیادہ شرکت کرتے ہیں ان کی آمدنی میں دوسرے لوگوں کی نسبت 5%زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ اس سلسلے میں یہاں ایک اسلامی بات کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ''رزق کی کشادگی بچت میں نہیں بلکہ سخاوت میں ہے‘‘2021ء میں اس عالمی دن کے حوالے سے پاکستان میں منسٹری آف سوشل ویلفیئر اینڈ سپیشل ایجوکیشن نے نیشنل کونسل آف سوشل ویلفیئر کے ذریعے بھی کچھ پروگرامز کا انعقاد کیا ہے جو کہ درج ذیل ہیں۔٭رضاکار غریبوں کی مدد کریں گے۔٭رضاکار ایسی ایکٹویٹیز کا انتخاب کریں جن میں مرد و عورت میں تفاوت کم سے کم ہو۔٭رضا کار مختلف بیماریوں مثلاً ایڈز، کروناء، ملیریا اور ڈینگی کی معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔اس سلسلے میں ایک لمبے عرصے کے بعد نیشنل کونسل آف سوشل ویلفیئر کے ذریعے بہت زیادہ رضاکاروں نے خود کو رجسٹرڈ کروایا ہے اور عالمی سطح پر بھی پاکستان میں (2005ء کے زلزلے اور 2010ء کے سیلاب میں )جو خدمات رضاکارانہ طور پر انجام دی گئیں ان کو بہت زیادہ سراہا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ان پچاس ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جن کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ رضاکار موجود ہیں۔اللہ پاک ہمارے نوجوانوں اور رضاکاروں کو ہمت اور حوصلہ عطا کرے تاکہ وہ اسی طرح پاکستان کی خدمت کرتے رہیںخدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترےوہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

حکائیت ِ سعدیؒ، راز آخر کب تک راز؟

حکائیت ِ سعدیؒ، راز آخر کب تک راز؟

ترک بادشاہ تکش اپنے ایک غلام پر بہت اعتماد کرتا تھا۔ ایک دن اس نے اس غلام سے کوئی بات کہی اور تاکید کی کہ یہ بات کسی کو نہ بتائے۔ غلام نے وعدہ کیا، لیکن وہ اپنا یہ وعدہ نبھا نہ کر سکا۔ ایک سال کے بعد بادشاہ کا راز اپنے ایک معتمد ساتھی کو بتا دیا۔ اس نے کسی اور سے ذکر کیا اور یوں وہ بات جسے سلطان تکش چھپانا چاہتا تھا، سارے شہر میں مشہور ہو گئی۔بادشاہ اس بات سے آگاہ ہوا تو اسے غلام پر بہت غصہ آیا۔ اس نے حکم دیا کہ نہ صرف اس غلام کو بلکہ ان سارے غلاموں کو قتل کر دیا جائے جنہوں نے افشائے راز میں حصہ لیا ہے۔ بادشاہ کے حکم کی دیر تھی۔ جلا و تلواریں سونت کر غلاموں کو قتل کرنے کیلئے پہنچ گئے۔موت سر پر منڈلانے لگی تو ایک دانا غلام نے بادشاہ سے کہا حضور والا! ہم سب یقیناً گناہ گار ہیں۔ شاہی راز کی حفاظت میں ناکام رہے لیکن اصل میں تو سب سے پہلے یہ گناہ خود حضور سے سرزد ہوا ہے۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ جس راز کی حفاظت خود حضور نہ کر سکے اس کی حفاظت ہم ادنیٰ غلام کس طرح کر سکتے تھے۔دانائوں کا قول ہے کہ اپنے دل کا راز بہترین دوست پر بھی ظاہر نہ کرو ورنہ وہ بری طرح دوسروں سے کہتا پھرے گا۔ راز اسی وقت تک راز ہے جب تک تیرے دل میں ہے۔ یہ دیو آزاد ہو جائے تو اسے دوبارہ قید نہیں کیا جا سکتا۔ مضبوط گھوڑے کی رسی ایک کمزور بچہ بھی کھول سکتا ہے لیکن جب وہ آزاد ہو کر سر پٹ بھاگے تو بہت سے پہلوان بھی اسے نہیں پکڑ سکتے۔کامیاب زندگی گزارنے کیلئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ انسان ''تھوتھا چنا باجے گھنا‘‘ کی مثال نہ ہو بلکہ دل و دماغ پر اس کا ایسا قابو ہو کہ تفریحاً بھی کوئی فالتو بات اس کی زبان پر نہ آئے۔ خاص طور پر اہم راز تو کسی پر ظاہر ہونے ہی نہ دے اور اس کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ ایسی بات زبان پر آئے ہی نہیں۔

یادرفتگان،عمر خیام:عظیم مسلمان سائنسدان، علم نجوم ، ریاضی اور فلسفہ کے استاد، رباعیاں وجہ شہرت بنیں

یادرفتگان،عمر خیام:عظیم مسلمان سائنسدان، علم نجوم ، ریاضی اور فلسفہ کے استاد، رباعیاں وجہ شہرت بنیں

عمر خیام کا جب بھی نام لیا جاتا ہے تو ان کی شاعری اور رباعیاں سامنے آ جاتی ہیں جبکہ وہ صرف ایک شاعر نہ تھے، مصنف اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک ماہر علم نجوم، ریاضی دان اور ماہر فلکیات بھی تھے۔عمر خیام کا ایک کارنامہ رصدگاہ میں تحقیقات کر کے مسلمانوں کو ایک نیا کیلنڈر بنا کر دینا بھی ہے۔عمر خیام نے 18 مئی 1048ء میں نیشا پورکے ایک خیمہ سینے والے گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کاپورا نام ابو الفتح عمر خیام بن ابرھیم نیشاپوری تھا۔ انھوں نے اپنے زمانے کے نامور اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ان کے استادوں میں عبدالرحمن الخازنی ،قاضی ابو طاہر اور مصطفی نیشا پوری قابل ذکر ہیں۔ فلسفہ میں وہ مشہور فلسفی بوعلی سینا کے ہم عصر تھے۔ ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے سلجوقی سلطان ، ملک شاہ نے انہیں اپنے دربار میں طلب کر لیااور انہیں اصفہان کے اندر ایک عظیم الشان رصدگاہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔اس کی تعمیر 1073 ء میں شروع ہوئی اور ایک سال بعد یعنی 1074ء میں اس رصد گاہ کی تعمیر مکمل ہوگئی۔ عمر خیام کو یہاں کا انچارج مقرر کر دیا گیا جبکہ ان کے علاوہ چند مشہور سائنس دانوں نے بھی یہاں کام کیا جن میں ابوالغفار الاسفیزاری، میمن ابن نجیب الوسیطی اور محمد بن عماد البیہقی کے نام زیادہ مشہور ہیں۔سلطان ملک شاہ نے عمر خیام کو ایک نیا کیلنڈر بنانے کا حکم دیا۔ملک شاہ کے کہنے پر انھوں نے جو کیلنڈر تیار کیا اسے جلالی کیلنڈر کہا جاتا ہے اور جو ایک زمانے تک رواج میں رہا اور آج کا ایرانی کلینڈر بھی بہت حد تک اسی پر مبنی ہے۔ جلالی کیلنڈر شمسی کیلنڈر ہے اور سورج کے مختلف برجوں میں داخل ہونے پر شروع ہوتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ رائج انگریزی یا گریگورین کیلنڈر سے زیادہ درست ہے اور اسے آج تک سب سے زیادہ درست کیلنڈر کہا جاتا ہے۔ اس میں 33 سال پر لیپ ایئر آتا ہے جبکہ گریگوین میں ہر چار سال پر اضافی دن والا سال آتا ہے جب فروری 29 دنوں کا ہوتا ہے۔اس کے بعد وزیر نظام الملک نے اصفہان مدعو کیا جہاں کی لائبریری سے انھوں نے استفادہ کیا اور اقلیدس اور اپولینیس کے علم الحساب کا بغور مطالعہ شروع کیا اور انھوں نے اس سلسلے میں کئی اہم تصانیف چھوڑیں۔ریاضی کے میدان میں مکعب اور متوازی کے نظریے پر ان کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ انھیں اقلیدس میں جو اشکالات نظر آئیں ان پر عربی زبان میں ایک کتاب تحریر کی، جس کا عنوان''رسالہ فی شرح اشکال من مصدرات کتاب اقلیدس‘‘ تھا۔عمر خیام کا اصل میدان علم ہیت یا علم نجوم، ریاضی اور فلسفہ رہا لیکن ان کی عالمی شہرت کی واحد وجہ ان کی شاعری ہے جو گاہے بگاہے لوگوں کی زبان پر آ ہی جاتی ہے۔ ان کی شاعری کو زندہ کرنے کا کارنامہ انگریزی شاعر اور مصنف ایڈورڈ فٹزجیرالڈ کا ہے جنھوں نے 1859ء میں عمرخیام کی رباعیات کا انگریزی میں ترجمہ پیش کیا اور اس کا عنوان ''رباعیات آف عمر خیام‘‘ رکھا اور عمر خیام کو فارس کا نجومی شاعر کہا۔اردو میں تو بہت سے لوگوں نے ان کی رباعیوں کا منظوم ترجمہ بھی کیا ہے۔عمر خیام کی پذیرائی مختلف ادوار میں ہوتی رہی ہے ۔ 1970ء میں چاند کے ایک گڑھے کا نام عمر خیام رکھا گیا۔ یہ گڑھا کبھی کبھی زمین سے بھی نظر آتا ہے۔1980ء میں ایک سیارچے ''3095‘‘ کو عمر خیام کا نام دیا گیا۔اس عظیم مسلمان سائنسدان کا انتقال 4دسمبر 1131ء کو ایران میں ہوا، آج ان کی برسی ہے۔

دریائی گھوڑا:دنیا کا تیسرا بڑا زمینی جانور

دریائی گھوڑا:دنیا کا تیسرا بڑا زمینی جانور

کرہ ارض پر قدرت نے انواع و اقسام کی مخلوق چارسو پھیلا رکھی ہے۔ زمین، سمندر غرضیکہ دنیا کا کون سا کونا ہے جہاں چرند، پرند، کیڑے مکوڑے نہ پائے جاتے ہوں۔ جیسے زمین کا کونا کونا جانداروں سے بھرا پڑا ہے ایسے ہی سمندر کا کونا کونا بھی عجیب و غریب جانداروں سے بھرا پڑا ہے۔ اگر بات زمینی جانوروں کی ہو رہی ہوتو ہاتھی کرہ ارض کا سب سے بڑا جانور شمار کیا جاتا ہے۔ ہاتھی کا وزن 11000 کلو گرام تک ہوتا ہے جبکہ اس کی اونچائی 13فٹ تک ہوتی ہے۔ہاتھی کے بعد ہپپو Hippopotamus (دریائی گھوڑا) کرہ ارض پر تیسرا بڑا زمینی جانور ہے جس کا وزن 4000کلو گرام تک جبکہ اس کی اونچائی چھ فٹ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ایک رپورٹ میں جینیاتی سائنس کا مطالعہ کرنے والوں کا یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اس قیاس کے کافی امکانات ہیں کہ یہ چونکہ جسامت اور ڈیل ڈول میں وہیل کے بھی کسی حد تک قریب ہے اس لئے یہ وہیل کے خاندان سے ہو سکتا ہے۔ہپپوززیادہ تر افریقہ میں پائے جاتے ہیں جبکہ ماضی میں یہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی کثرت سے پائے جاتے تھے۔طرز زندگی اور خوراک: ہپپوز سبزی مائل بھوری رنگت کے بھاری بھر کم ممالیہ جانور ہیں۔ یہ بہت بڑے سر، چھوٹی سی گردن اور چھوٹی چھوٹی آنکھوں کے ساتھ ساتھ خطرناک حد تک تیز اور نوکیلے دانتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کی جلد بہت مضبوط اور چار سنٹی میٹر تک موٹی ہوتی ہے۔ پانی کے اندر موجودگی کے دوران سانس لینے کیلئے یہ اپنا ناک لمحہ بھر کیلئے پانی سے اوپر اٹھاتا ہے۔ یہ صوتی اشاروں کے ذریعے ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں۔ اگرچہ بھاری بھر کم جسامت کی وجہ سے ان پر حملوں کا چانس کم ہوتا ہے تاہم شکار کی صورت میں یہ اپنے خطرے کی اطلاع اپنے ساتھیوں کو مخصوص انداز میں دھاڑ کر دیتے ہیں۔یہ بیک وقت پانی اور زمین پر تیز رفتاری سے بھاگ سکتے ہیں۔ یہ زمین پر صرف رات کا مختصر سا وقت گزارتے ہیں اور وہ بھی صرف خوراک کی تلاش کے دوران۔ ان کی خوراک جڑی بوٹیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کا زیادہ وقت پانی کے اندر یا اس کے آس پاس گزرتا ہے۔ان کا مکمل جسم پانی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے ماسوائے نتھنوں کے جو پانی سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ ہوا کے بغیر باآسانی 10منٹ تک پانی کے اندر رہ سکتے ہیں۔ اگرچہ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ پانی میں گزرتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ اچھے تیراک نہیں ہوتے۔ان جانوروں کی ایک عادت مشترک ہے کہ یہ سرشام ہی ریوڑ کی شکل میں چرنے نکل پڑتے ہیں اور کھانا کھا لینے کے بعد یہ ایک لمحہ بھی زمین پر نہیں ٹھہرتے بلکہ پانی میں آ جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ چرنے کیلئے جس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں وہ ان کی دن بھر کی خوراک کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بھی خوراک کی طلب باقی رہ جائے تو یہ کئی کئی کلومیٹر دور تک بھی چلے جاتے ہیں۔ خوراک کے بارے ان کی ایک اور عادت ہے کہ یہ دن بھر کی خوراک کا کچھ حصہ اپنے منہ کے اندر محفوظ کر لیتے ہیں جسے رفتہ رفتہ چباتے رہتے ہیں۔ایک دریائی گھوڑے کی دن بھر خوراک کی ضرورت اوسطاً 40 سے 45 کلو گرام کے درمیان ہوتی ہے جبکہ وافر خوراک دستیابی کی صورت میں یہ 65 سے 70 کلو گرام خوراک باآسانی کھا لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کا نظام انہضام اپنے ہم جسامت جانوروں سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ان کا موازنہ عام طور پر ہاتھی اور گینڈے سے کیا جاتا ہے۔ جن کے مقابلے میں یہ ان سے بہتر خوراک ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ خوراک کی مقدار ہو جو یہ ان دونوں جانوروں کے مقابلے میں خاصی کم کھاتے ہیں۔یہ صورت حال اس وقت بڑی دلچسپ ہوتی ہے جب پانی میں بیٹھے ہپپو جس کا صرف سر باہر ہوتا ہے اور اس کے سر کے عین اوپر پرندوں نے بسیرا کر رکھا ہوتا ہے بالکل ایسے جیسے سمندر کے آس پاس ساحل پر پرندوں نے پڑاؤ کر رکھا ہوتا ہے۔ دراصل سمندر میں اڑتے پرندے اس کے بھاری بھر کم سر کو ماہی گیری کیلئے استعمال کرتے ہیں لیکن اسی پر ہی بس نہیں،اس کے خاموشی سے ان پرندوں کو برداشت کرنے کے پس پردہ بھی اس کا اپنا مفاد کارفرما ہوتا ہے۔ دراصل ہپپو کی جلد بالخصوص اس کی آنکھوں کے آس پاس مختلف اقسام کے کیڑے چمٹے ہوتے ہیں جو اس کی پلکوں کے نیچے گھس جاتے ہیں جس سے اسے کوفت ہوتی رہتی ہے اور یہ بیچارہ انہیں ہٹانے یا بھگانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اس صورت حال میں یہ پرندے یوں اس کیلئے باعث رحمت ہوتے ہیں کہ وہ ان کیڑے مکوڑوں کو بطور خوراک استعمال کرتے رہتے ہیں جس سے اسے ان کیڑوں سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔اگرچہ دریائی گھوڑے کے اس رویے سے یہ تاثر ذہن میں آتا ہے کہ یہ بہت ہی معصوم اور بے ضرر جانور ہے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔ اگر اس کا مخالف اس کو تنگ کرے تو یہ اچانک حملہ آور بھی ہو سکتا ہے، اسے گھسیٹ کر پانی کی گہرائی میں بھی لے جا سکتا ہے اور اسے چیر پھاڑ کر کھا بھی سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ اس وقت اپنے مخالف کو پل بھر میں اپنے حصار میں لے لیتا ہے جب بالغ نر یا مادہ ہپپو کی موجودگی میں کوئی ان کے بچوں سے چھیڑ خانی کر بیٹھے۔وہ ننھے ہپپوز کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔لاحق خطرات:ایک تحقیق کے مطابق 30 سے 40 فیصد ہپپوز پیدائش کے پہلے سال کے دوران ہی مختلف بیماریوں کے باعث مر جاتے ہیں جبکہ زندہ رہ جانے والے باقی ہپپوز کی زندگی کو عام طور پر دو طرح کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ایک انہیں جنگل کے اندر سے جو صرف شیر کے حملے کی وجہ سے ہو سکتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے جبکہ اس نسل کو اصل خطرہ شکاریوں سے ہوتا ہے۔ ایک قسم کے شکاری وہ ہوتے ہیں جن کی فصلوں کو ان سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ دوسری قسم کے شکاری پیشہ ور شکاری ہوتے ہیں۔ ایک ہپپوز سیکڑوں کلو گوشت کا ذریعہ ہوتا ہے اور اس کا گوشت غذائیت اور لذت میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی جو اسے دوسری اقسام کے گوشت سے ممتاز کرتی ہے وہ چکنائی کا کم ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا گوشت عام جانوروں کے گوشت سے کئی گنا زیادہ مہنگا ہونے کے سبب عموماً نایاب ہوتا ہے۔اگرچہ افریقہ اور دیگر ممالک میں جہاں یہ کثرت سے پائے جاتے ہیں ان کے شکار پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے قیمتی گوشت اور اس کی نایاب ہڈیوں کی بدولت شکاری موقع پا کر اس کے شکار سے باز نہیں آتے۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس کی ہڈیاں ہاتھی کی ہڈیوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہیں ۔ کیونکہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ پیلی نہیں ہوتیں۔ ان کی ہڈیاں فرنیچر سے لیکر آرائشی سامان بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں جس کے سبب بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی زبردست مانگ رہتی ہے۔خاورنیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں

 اقتباسات ،چارپائی

اقتباسات ،چارپائی

چارپائی ایک ایسی خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہے جو نئے تقاضوں اور ضرورتوں سے عہدہ برا ہونے کیلئے نِت نئی چیزیں ایجادکرنے کی قائل نہ تھی۔ بلکہ ایسے نازک مواقع پر پْرانی میں نئی خوبیاں دریافت کر کے مسکرا دیتی تھی۔ اس عہدکی رنگارنگ مجلسی زندگی کا تصّور چارپائی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کاخیال آتے ہی ذہن کے افق پر بہت سے سہانے منظر اْبھر آتے ہیں۔ اْجلی اْجلی ٹھنڈی چادریں، خس کے پنکھی، کچّی مٹّی کی سن سن کرتی کوری صُراحیاں، چھڑکاؤ سے بھیگی زمین کی سوندھی سوندھی لپٹ اور آم کے لدے پھندے درخت جن میں آموں کے بجائے لڑکے لٹکے رہتے ہیں۔ اور اْن کی چھاؤں میں جوان جسم کی طرح کسی کسائی ایک چارپائی جس پر دِن بھر شطرنج کی بساط یا رمی کی پھڑجمی اور جو شام کو دستر خوان بچھا کر کھانے کی میزبنالی گئی۔ ذرا غور سے دیکھئے تو یہ وہی چارپائی ہے جس کی سیڑھی بنا کر سْگھڑ بیویاں مکڑی کے جالے اور چلبلے لڑکے چڑیوں کے گھونسلے اتارتے ہیں۔ اسی چارپائی کو وقتِ ضرورت پٹیوں سے بانس باندھ کر سٹریچر بنا لیتے ہیں اور بجوگ پڑ جائے تو انھیں بانسوں سے ایک دْوسرے کوسٹریچر کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مریض جب کھاٹ سے لگ جائے تو تیمار دار مؤخرالذِکر کے وسط میں بڑا سا سوراخ کر کے اوّل الذِکر کی مشکل آسان کر دیتے ہیں۔ جب ساون میں اْودی اْودی گھٹائیں اْٹھتی ہیں تو ادوان کھول کر لڑکیاں دروازے کی چوکھٹ میں جْھولتی ہیں۔ اسی پر بیٹھ کر مولوی صاحب قمچی کے ذریعہ اخلاقیات کے بنیادی اْصول ذہن نشین کراتے ہیں۔ اسی پر نومولود بچّے غاؤں غاؤں کرتی، چْندھیائی ہْوئی آنکھیں کھول کر اپنے والدین کو دیکھتے ہیں اور روتے ہیں اور اسی پردیکھتے ہی دیکھتے اپنے پیاروں کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔کھاٹ، کھٹا، کھٹیا، کھٹولہ، اڑن کھٹولہ، کھٹولی، کھٹ ، چھپرکھٹ، کھرّا، کھری، جِھلگا، پلنگ، پلنگڑی، ماچ، ماچی، ماچا، چارپائی، نواری، مسہری، منجی۔ یہ نامکمل سی فہرست صرف اردوکی وسعت ہی نہیں بلکہ چارپائی کی ہمہ گیری پر دال ہے اور ہمارے تمّدن میں اس کا مقام ومرتبہ متّعین کرتی ہے۔( مشتاق احمد یوسفی کے ایک خاکے ''چارپائی اور کلچر‘‘ سے اقتباس)