سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد , مسرور انور کے فلمی نغمات ہمیشہ یار رہیں گے
اسپیشل فیچر
یوں تو پاکستانی فلمی صنعت میں کئی ایک نغمہ نگاروں نے ایسے نغمات لکھے جن کی یاد اب بھی تازہ ہے۔ بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ قتیل شفائی، سیف الدین سیف، تنویر نقوی، تسلیم فاضلی اور فیاض ہاشمی کے تخلیق کیے ہوئے فلمی گیت فراموش کر دیئے جائیں۔ ان نابغہ روزگار گیت نگاروں نے یادگار نغمات لکھے اور پھر ان کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں موسیقار بھی بہت زبردست ملے۔ ایک سے بڑھ کر ایک۔ ماسٹر عنایت حسین،رشید عطرے، نثار بزمی، خواجہ خورشید انور، سلیم اقبال اور ایسے کئی اور موسیقار تھے جنہوں نے اپنی لازوال دھنوں سے ان گیتوں کو شاہکار بنادیا۔فلمی گیت نگاری میں ایک اور نام بڑا اہم ہے جس کا نام ہے مسرور انور۔ مسرور انور نے صرف فلمی گیت ہی نہیں لکھے بلکہ ملی نغمات بھی تخلیق کیے۔ ان کی شہرت کا ڈنکا پورے ملک میں بجنے لگا۔ 1965ء کی جنگ میں بھی ان کے نغمات نے دھوم مچائی۔پاکستان کے معروف فلمی ہدایتکار پرویز ملک جب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے واپس آئے تو انہوں نے اپنے بچپن کے دوست وحید مراد سے مل کر یہ منصوبہ بندی کی کہ پاکستان میں نئی طرز کی فلمیں بنائی جائیں۔ یہ فلمیں سماجی اور رومانی موضوعات پر ہونی چاہئیں۔ انہوں نے اپنے پروڈکشن ہائوس کا نام فلم آرٹس رکھا۔ مسرور انور بھی اس گروپ کا حصہ بن گئے۔ اس پروڈکشن ہائوس نے جو پہلی فلم بنائی اس کا نام تھا ’’ہیرا اور پتھر‘‘ ۔ مسرور انور اس فلم کے سکرپٹ رائٹر اور مکالمہ نگار تھے۔ یہ ایک بڑا شاندار سکرپٹ تھا جو شروع سے ہی بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے فلم آرٹس کی دو اور فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں جن میں ’’ارمان‘‘ اور ’’ احسان‘‘ شامل ہیں۔ ’’ارمان ‘‘ میں مسرور انور کی صلاحیتیں اور بھی نکھر کر سامنے آئیں۔ اس فلم کے گیت بھی مسرور انور نے تحریر کیے تھے۔ ’’ارمان‘‘ کے گیتوں نے پورے ملک میں دھوم مچا دی تھی، خاص طور پر اس فلم کے یہ نغمات ’’اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم‘‘ اور ’’ بے تاب ہیں ادھر ہم‘‘ ۔ان فلموں کی موسیقی سہیل رعنا نے دی تھی۔ اور ان کی موسیقی کو بھی شائقین فلم نے بہت پسند کیا۔ انہوں نے ’’صاعقہ، انجمن، پہچان، قربانی، سوغات، بیوی ہو تو ایسی، بلندی، عندلیب‘‘ اور کئی دوسری فلموں کے لیے گیت لکھے۔ ان تمام فلموں کے گیت لکھنے پر انہیں نگار ایوارڈدیا گیا۔ یہ گیت کچھ یوں تھے۔-1 اک ستم اور میری جان ابھی جاں باقی ہے (صاعقہ)-2 دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں (انجمن)-3 اے دل اپنا درد چھپا کے(پہچان)-4 یہ زندگی کبھی کبھی اجنبی سی لگتی ہے (قربانی)-5 دنیا والو تمہاری دنیا میں (سوغات)-6 پلکوں کی چلمن میں بسا کے تجھے (بلندی)مسرور انور نے غزلیں بھی بہت اچھی لکھیں اور ان کی غزلوں کو بھی بہت پسند کیا گیا۔ ذیل میں ان کی ایک مشہور غزل کے کچھ اشعار پیش کیے جا رہے ہیں۔ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہیکس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہیدل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنےنام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہینفرتوں کے تیر دیکھ کر دوستوں کے شہر میںہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہیمسرورانور کی دیگر مشہور فلموں میں ’’مشکل، آندھی، ہم سے ہے زمانہ، خوشبو، شمع محبت، اک گناہ اور سہی، عندلیب، دامن اور چنگاری، انمول، الزام، جلتے سورج کے نیچے، نصیب اپنا اپنا اور دوراہا‘‘ شامل ہیں۔ ان فلموں کے نغمات نے بھی بہت شہرت حاصل کی بلکہ ابھی تک یہ گیت کانوں میں رس گھولتے ہیں۔مسرور انور کی حب الوطنی بھی قابل رشک تھی۔ انہوں نے کئی ملی نغمے لکھے، 1965ء کی جنگ میں ان کا لکھا ہوا یہ گیت ’’اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں‘‘ آج تک مقبول ہے اور اس کی شہرت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ یہ ملی نغمہ مہدی حسن نے گایا تھا جسے گا کر ان کو بھی بہت شہرت ملی۔مسرور انور کو سب سے زیادہ شہرت ان کے اس قومی نغمے سے ملی‘‘ سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے‘‘۔ اس قومی نغمے کو پڑھ کر ہی یہ احساس پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ مسرورانور کا دل حب الوطنی کے جذبے سے کس قدر معمور تھا۔ آج بھی مسرور انور کے مداح انہیں اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے بڑی بھرپور زندگی گزاری اور پھریکم اپریل 1996ء کو فرشتہ اجل آن پہنچا اوریہ لاجواب نغمہ نگار عالم جاوداں کوسدھار گیا۔