افلاطون کا فلسفہ اخلاقیات
اسپیشل فیچر
اخلاقیات کے حوالے سے سو فسطائیوں کا نظریہ یہ تھا کہ ’’فرد کا ذاتی یا شخصی مفاد ہی انسانی اخلاقیات کی بنیاد ہے۔ اخلاق بذات خود ایک مقصد نہیں بلکہ کسی اورمقصد کے حصول کا ذریعہ ہے اور وہ مقصد کسی فرد کا ذاتی مفاد یا ذاتی خوشی ہے۔‘‘ سقراط کا نظریہ یہ تھا کہ ’’بنیادی طورپر نیکی ایک علم ہے اورایک ایسا عالم یادانا جونیکی کا فہم وشعور رکھنے کے باوجود نیک یادرست عمل کرنے سے گریزاں ہے وہ اس بے علم یا نادان سے پھر بھی بہتر ہے جسے نیکی کا فہم و شعور تک نہیں۔‘‘نیکی سچائی ہے:افلاطون نے اخلاقیات کے بارے میں سقراط کے خیال کی تائید و حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اخلاقیات کسی فرد کے ذاتی مفاد کے پیش نظر قائم ہونے والے ذاتی تاثر یا ذاتی رائے سے ہٹ کرایک الگ حیثیت کی حامل سچائی ہے اورنیکی یا اخلاقیت کسی مقصد کے حصول کاذریعہ نہیں بلکہ بذات خود ایک مقصد ہے اورنیکی اوراخلاق کا حصول ہی انسانی زندگی کا نصب العین ہے ہمیں نیک اوراچھا کام صرف اس لیے کرنا چاہیے کہ وہ نیکی اور اچھائی کا کام ہے۔ اصل نیکی اس درست عمل کا نام ہے جس کی بنیاد یا جس کا محرک نیکی کا وہ فہم ہو جس کی بنیاد عقلی استدال پر ہو۔ روایتی یا رسمی نیکی کے اعمال اس صورت میں اچھے ہوسکتے ہیں جب ان کے ماخذ عقلی اور اخلاقی استدلال ہو ورنہ ان کی حیثیت ضمنی نیکی جیسی ہوگی۔نیکی میں دکھاوا:افلاطون کے نزدیک کچھ لوگ دوسروں کو دیکھ کرنیک یا اچھا کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ نیکی کے نقال اورمعمولی درجے کے ایماندار ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کی مثال شہد کی مکھیوں اور چیونٹیوں جیسی ہے کہ ان دونوں کی صفت یہ ہے کہ وہ اس انداز میں اپنا کام کرتی ہیں کہ وہ واقعی عقلمند نظرآتی ہیں لیکن درحقیقت وہ کام کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہیں ہوتیں۔نیکی کا اثر خوشی ہے:افلاطون کے نزدیک نیکی کا اثر اورنتیجہ خوشی ہے لیکن یہ وہ خوشی نہیں جو ایک بے ایمان شخص کو کسی کا استحصال کر کے یا کسی کودھوکے سے لوٹ کریا اپنی طاقت کے باعث کسی کمزور سے اس کا حق چھین کرحاصل ہوتی ہے بلکہ یہ وہ خوشی ہے جوایک اچھے انسان کو کسی کمزور یا مظلوم کی مدد کرکے یا حق بات کے لیے جان و مال کی قربانی دے کر حاصل ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک اچھے کاموں سے حاصل ہونے والی خوشی سچی اورحقیقی ہے جبکہ برے کاموں سے حاصل ہونے والی خوشی منافقانہ لذت ہے۔نظریہ نیکی کے 4عناصر:افلاطون کانظریہ چارعناصر پرمشتمل ہے۔1۔سب سے اہم آفاقی تصور کا علم ہے جو بذات خود فلسفہ ہے۔2۔دنیاوی چیزوں کی وضاحت کرنے والے آفاقی تصورات پرغور خوض3۔تمام اعلیٰ درجے کی علوم و فنون کی ترویج4۔پاکیزہ اور معصوم انداز میں دنیاوی خوشیوں میں شرکتمتذکرہ چارعناصر میں پہلے تین حصے انسانی روح کے اچھے حصوں سے مماثل ہیں جبکہ چوتھاعناصر پہلے تین عناصر کو متحد کرتا ہے۔ پہلے تین عناصر دانائی، بہادری اور اعتدال ہیں جبکہ چوتھا عنصر جو ان کو متحد کرتا ہے وہ انصاف ہے۔اچھا انسان وہ ہے جو بھلائی کرے: افلاطون کے خیال میں انسان کے اعمال کا ہر پہلو اہمیت کاحامل ہے اوران اعمال کا امتزاج ہی سماجی نیکی کی اصل بنیاد ہے۔ ان نظریات میں افلاطون نے اگرچہ نیکی کومعلوم کرنے کے اس ذریعے یا اصول کی وضاحت کی ہے کہ نیکی کو عقلی استدلال کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے لیکن نیکی یا ورچو(Virtue) کی وضاحت نہیں کی ہے اور نہ ہی سماجی نیکی اورسماجی انصاف کی کوئی حتمی وضاحت کی ہے۔مادیت اخلاق سوز ہے:افلاطون نے اپنے استاد کے اخلاقیاتی اصولوں کو اپنی مابعد الطبیعیات اورالٰہیات کے ساتھ وابستہ کر کے اس کو علمی سانچہ میں ڈھالا ہے چونکہ روح محسوسات سے بالاتر علم سے تعلق رکھتی ہے اوراس کا حقیقی اور غیر قانونی وجود اسی کے اندر ہوسکتاہے اسی لیے جو خیروسعادت انسانی مساعی کا صحیح نصب العین ہوسکتی ہے وہ بھی روح کواسی عالم کی طرف رجوع کرنے سے میسر آسکتی ہے جسمانی زندگی روح کا زنداں اوراس کی قبر ہے اسی کی وجہ سے غیرعقلی عناصر روح کے ساتھ چمٹ گئے ہیں اوریہی عقل کے اندر ہیجانات کو پیدا کرتی اورشمولیت کوابھارتی ہے۔ فطرات کو خطرات الٰہی کے مطابق بنانا:افلاطون کے نزدیک انسان کی زندگی کا صحیح مقصد یہی ہوسکتا ہے کہ وہ اس عالم محسوسات سے گریز کرے اوراپنی فطرت کوالٰہی فطرت کے مطابق بنائے۔ فلسفی کو چاہیے کہ وہ قبل ازمرگ اس عالم میں سے مرجائے لیکن چونکہ مرئی زندگی غیرمرئی زندگی کا ایک عکس ہے اس لیے یہ بھی فرض ہے کہ انسان بظا ہر محسوس کو تصورات کے ادراک کا ذریعہ بنائے اور تصورات کو معروضات حواس میںداخل کرے۔