رولٹ ایکٹ اور مزاحمت
اسپیشل فیچر
ہندوستان کے لوگوں کو یہ امید تھی کہ عالمی جنگ ختم ہو گی تو حکومت کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کر کے سارے اختیارات ہمارے حوالے کر دیے جائیں گے۔ لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ کہ حکومت نے سیاسی مجرموں کو سز ا دینے کے لیے ایک قانون منظور کر لیا۔ جس نے سارے ملک میں آگ سی لگا دی۔ اس قانون کا مسودہ بنانے کے لیے جو کمیٹی بنی اس کے صدر سر سڈنی رولٹ تھے۔ اس لیے یہ قانون رولٹ ایکٹ کہلاتا ہے۔ امپیریل کونسل میں جب رولٹ ایکٹ کا مسودہ پیش ہوا تو محمدعلی جناحؒ نے اس کی مخالفت میں ایک پرزور تقریر کی لیکن حکومت نے پروا نہ کی، اور یہ قانون منظور کر لیا گیا محمدعلی جناحؒ نے وہی کیا جو ان جیسے خوددار شخص کو کرنا چاہیے تھا۔ یعنی امپیریل کونسل کی ممبری سے استعفیٰ دے دیا۔ گاندھی جی جو مدت تک جنوبی افریقہ کے ہندوستانیوں کی رہنمائی کرتے رہے تھے، وہ ان دنوں ہندوستان میں تھے۔ رولٹ ایکٹ کے خلاف جو تحریک شروع ہوئی تھی اس کے لیڈر وہی تھے۔ لیکن تحریک نے ایسا زور پکڑا کہ اسے قابو میں رکھنا ناممکن ہو گیا۔ مارچ کے اخیر میں فوج نے ایک مجمع پر گولی چلا دی۔ گاندھی جی نے دعا کے لیے ایک دن مقرر کیا لیکن دلی کے حادثہ سے تیرھویں دن ایک اکھڑ فوجی افسر جنرل ڈائر نے جلیانوالہ باغ میں نہتے ہجوم پر گولی چلا دی۔ اور گھر گھر میں کہرام مچ گیا۔ حکومت پنجاب نے مارشل لاء نافذ کر دیا ،یعنی شہروں کے شہر فوج کے حوالے کر دیے گئے۔ گوروں نے جی بھر کے ظلم کیے لیکن اس طرح لوگ زیادہ بھڑک اٹھے ۔ رولٹ ایکٹ کی مخالفت اس طرح پھیلی کہ جس طرح سوکھے بن میں آگ پھیلتی ہے۔ اس تحریک میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے لیکن انہی دنوں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے مسلمانوں کو زیادہ مشتعل کر دیا۔ یورپ کی جنگ میں ترک جرمنی کے ساتھ تھے۔ جرمنی کے ساتھ ترکی کو بھی شکست ہوئی اور بہت سا علاقہ چھن گیا۔ انگریز چاہتے تھے کہ یورپ سے ترکوں کو بالکل ہی بے دخل کر دیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کاپیشوا یعنی خلیفہ المسلمین کہلاتا تھا۔ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے یہ سہارا مٹتے دیکھ کر وہ بے چین ہو گئے۔ ایک تو رولٹ ایکٹ کی وجہ سے پہلے ہی ملک بھر میں شور مچاہوا تھا، خلافت کے قصے نے جلتی آگ پر تیل کا کام دیا اور خلافت کی حمایت میں ملک کے ہر گوشے سے صدائیں بلند ہونے لگیں۔ انہیں دنوں مولانا محمد علی اور ان کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی جنہیں جنگ کے زمانے میں نظر بند کر دیا گیا تھا ،رہا ہوئے اور ان کی رہنمائی میں خلافت کی تحریک نے بڑا زور پکڑا۔اس زمانے میں مجلس خلافت اور نیشنل کانگریس دونوں کی تحریکیں ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ اور مسلم لیگ ان کے سامنے بالکل ماند ہو کے رہ گئی تھی۔ ہندو لیڈر مسلمانوں کے جلسوں میں تقریریں کرتے تھے مسلمان رہنما ہندوئوں کے جلسوں میں شامل ہوتے تھے۔ گاندھی جی اور علی برادران ہندو مسلمان دونوں کے لیڈر تھے۔ اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اپنائیت اور اتحاد کا یہ رشتہ ایسا پکا ہے کہ جو کسی طرح ٹوٹ نہیں سکتا۔ لیکن یہ اتحاد جس تیزی سے ہواتھا۔ اسی تیزی سے مٹ گیا۔ اور ہندو مسلمان پہلے سے بھی زیادہ ایک دوسرے سے دورہو گئے۔غیر ملکی کپڑے کے بائیکاٹ کی تحریک تو پہلے ہی چل رہی تھی۔ اب کانگریس اور خلافت کے لیڈروں نے مل کر یہ تحریک چلائی کہ سرکاری نوکریوں بلکہ سرکاری مدرسوں اور کالجوں کا بائیکاٹ کر دیا جائے۔ بہت سے لوگوںنے نوکریاں چھوڑ دیں۔ طالب علموں نے سرکاری کالجوں اور مدرسوں کے بائیکاٹ کی تحریک میں بڑا حصہ لیا۔ اسی زمانے میں حکومت کے پرانے طریقوںمیں کچھ ادل بدل ہوا تھا۔ قانون بنانے کے لیے کونسلیں قائم کی گئی تھیں، جن کے نمائندوں میںزیادہ لوگ ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوتے تھے جو لوگ اس طرح چنے جاتے تھے۔ ان سے وزیر چن کے خاص خاص محکمے ان کے سپرد کر دیے جاتے تھے۔ کانگریس اور خلافت نے کونسلوں کا بھی بائیکاٹ کیا اور یہ تحریک جسے ترک موالات یا عدم تعاون کی تحریک کہتے ہیں، خوب چلی۔حضرت قائد اعظمؒ نے اس تحریک میں کوئی حصہ نہ لیا۔ انہیں خلافت کی تحریک سے ہمدردی تھی، وہ رولٹ ایکٹ کے تو اتنے پر زور مخالف تھے کہ انہوںنے امپیریل کونسل کی ممبری ہی سے استعفیٰ دے دیا۔ پھر بھی وہ سمجھتے تھے کہ کونسلوں اور نوکریوں کے بائیکاٹ سے لوگوں کو نقصان پہنچے گا۔ کونسلوں سے الگ رہنے کے بجائے یہ اچھا ہے کہ لوگ کونسلوں میں جائیں اور ڈٹ کے حکومت کا مقابلہ کریں۔ علامہ اقبالؒ اگرچہ ابھی تک سیاسی جھگڑوں میں نہیںپڑے تھے لیکن وہ بھی اس معاملہ میں حضرت قائد اعظم کے ہم خیال تھے۔ہندو مسلم اتحاد پر خود ہندوئوں ہی نے کاری ضرب لگائی یعنی ادھر تو ہندو مہا سبھا نے یہ نعرہ لگایا کہ ہندوستان ہندوئوں کا ہے۔ دوسری طرف آریہ سماج نے ملکانہ راجپوتوں کو جن کے باپ دادا ہندو دھرم چھوڑ کے مسلمان ہو گئے تھے پھر اپنے مذہب میں شامل کرنا چاہا۔ اس پر جھگڑے ہوئے فسادات کاطوفان امڈا جگہ جگہ ہندئوں اور مسلمانوںمیں لڑائیاں ہونے لگیں۔ اور سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کو صاف نظر آ گیا کہ سیاسیات میں ہندو مسلمانوں کے راستے الگ الگ ہیں۔٭…٭…٭