کیا ادب جنگ آزادی سے متاثر ہوا؟
اسپیشل فیچر
غدر یا 1857 ء کی جنگ آزادی سے پہلے اردو ادب کا اور اردودانوں کا ایک دوسراہی ماحول تھا۔ شاعروں اور ادیبوں کے سرپرست عام طور پر امرا و روسا ہوا کرتے تھے۔ سماج میں نرمی، شیرینی اور آسودگی تھی۔ اسی لیے اس وقت کے ادب میں بھی ہمیں یہی عناصر ملتے ہیں۔ پھر جب سے انگریز حاکم ہوئے رفتہ رفتہ ظلم و جبر کا دور دورہ ہونے لگا۔ اس کے جواب میں بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی۔ ساراشیرازہ بکھر گیا۔ ہر شے میں ایک انقلاب آ گیا۔ بقول پروفیسر احتشام حسین:بغاوت رونما ہوئی۔ پیہم غیر معین۔ غیر منظم۔ لیکن شدید قومی جذبے کی سلگتی ہوئی آگ بھڑک اٹھی۔ چھوٹے بڑے بہت سے دربار جو شاعروں کے سرپرست تھے برباد ہو چکے تھے۔ اودھ کو جو فن تہذیب کا بڑا مرکز تھا 1856ء میں انگریزوں نے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ دہلی میں مغل حکومت صرف نام کی رہ گئی۔ ایک نئی سلطنت وجود میں آ گئی جس کی جڑیں سرزمین ہند میں نہ تھیں اور جو ہندوستانی تمدن سے بیگانہ تھی۔یہ تضاد، یہ انتشار، پورے ہندوستانی سماج میں پھیلتا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے ظلم کا شکنجہ کستی چلی گئی۔ امتیازات بڑھنے لگے۔ دہلی اجڑ چکی تھی۔ لکھنوی تہذیب انگریزوں کے پیروں تلے روندی جاچکی تھی۔ ایسی حالت میں ادب کیسے بچ سکتا تھا۔ وہ بھی لپیٹ میں آیا۔ ادیب بھی پریشانی اور خستہ حالی کے بھنور میں پھنسے اور یہی خستہ حالی اور افسردگی ہمیں اس وقت کے ادب میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔مرزا اسداللہ خاں غالب اس دور کے ادبی اور تمدنی روایات کے بہترین پیکر سمجھے جاتے ہیں اور جو بعض مقامات میں انگریزی پالیسی کے معترف بھی تھے۔ لیکن جب بغاوت امڈی تو یہ بھی اس میں پسے بغیر نہ رہ سکے اور اس کے نمایاں اثرات ان کے خطوط اور ان کی شاعری میں نظر آتے ہیں۔ مثلاً اردوئے معلی و عود ہندی(خطوط کے مجموعے) میں اس وقت کے حالات کی صحیح تصویر نظر آتی ہے۔ محمد حسین آزاد کے والد مولانا محمد باقر کو گولی سے ہلاک کر دیا گیا۔ مشہور شاعر امام بخش صہبائی کو ان کے دو بیٹوں سمیت گولی سے اڑا دیا گیا۔ مصطفی خاں شیفتہ کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس عہد کے مشہور و معروف عالم مولانا فضل حق کو جلا وطن کر کے انڈمان بھیج دیا گیا، جہاں ان کا بعد میں انتقال ہو گیا۔ منیر شکوہ آبادی کی نظموں میں اس وقت کے حالات کا پتہ چلتا ہے۔ ان کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلا یا گیا۔ ان سب کی تخلیقات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک ایک شعر میں اس عہد کی تصویر نظر آئے گی۔ افسرد گی کا یہ مزاج اس وقت کی پوری شاعری میں سما گیا تھا۔ غزل نے ایک الگ روپ اختیار کر لیا۔ اشارے و کنایے کی زبانیں تیز ہو چلیں۔ امیر مینائی کے مطابق:بہادر شاہ ظفر آخری تاجدار مغلیہ حکومت جو شاعر بھی تھے، ان کی لَے میں کس قدر آہ و درد ہے۔ ظالموں نے ان کے ساتھ بڑا ظلم کیا۔ ان کی ایک غزل سے آنسو ٹپکتے ہیں۔واجد علی شاہ اختر جو اپنی عملی و ادبی صلاحیتوں کے لیے مشہور تھے اور ایک خاص مزاج، نفاست، لطافت کے مالک تھے، اپنی تباہ حالی کا بیان اپنی مثنوی ’’حزن اختر‘‘ میں بڑے درد کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کی بعض غزلیں بھی سوزوگداز سے پُر ہیں۔ شیفتہ اپنے زمانہ کے مشہور شاعر تھے۔ اردو شاعری کے یہ چند موتی جواس آگ کی لپیٹ سے بچ سکے اس دور کی خستہ حالی، پریشانی اور مصیبتوں کے مظہر ہیں۔ ورنہ زیادہ تر سرمایہ تو برباد ہو گیا اور محفوظ نہ رہ سکا۔ پھر بھی جو تصانیف مل جاتی ہیں وہ ذیل ہیں :خطوط غالب، داستان غدر، مصنف ظہیر دہلوی، تاریخ سرکشی بجنور اور اسباب بغاوت ہند از سرسید، تاریخ ہند از ذکا اللہ، روزنامچہ غدر۔ مترجمہ نذیر احمد، فغان دہلی۔ آغا ہجو شرف، واجد علی شاہ، منیر شکوہ آبادی، بہادر شاہ ظفر، غالب، شیفتہ وغیرہ کی نظمیں جو دوران بغاوت لکھی گئی تھیں اہم ہیں۔یہ سچ ہے کہ بغاوت اچانک اٹھی اور دب گئی۔ ہنگامے ہوئے اور سردپڑ گئے۔ لیکن بغاوت کے بعد جو اہمیت تسلیم اور اس کی باریکیوں، نزاکتوں اور دور سے نظر آنے والے فائدوں کو پڑھا اور سمجھا گیا۔ 1857ء میں اس کی اصلی شکل نہ سمجھی جا سکی تھی۔ وہ تو بس ہندوستان کی بدنصیبی، لاپروائی، اپنی کمزوری اور انگریزوں کی طاقت کی علامت سمجھی گئی۔ بقول احتشام حسین:’’بیشتر حالتوں میں اسے قہر الہٰی، فریبِ تقدیر، آسمان کی چشمِ بد، انقلابِ زمانہ اور اعمالِ بدکی سزاتصور کیا گیا۔‘‘ابتدا میں بغاوت کا صحیح تصور ذہن میں نہ تھا لیکن جب بغاوت سردپڑی تب عوام کا ذہن جاگا۔ دل و دماغ میں بیداری آئی۔ اپنے آپ کو پہچاننے کی سمجھ آئی اور جب ان سب کے باوجود انگریزوں کے ظلم و زیادتی میں کسی طرح کی کمی نہ آئی توساری بیداریاں متحد ہو گئیں اور اپنے آپ کو ایک سنجیدہ اور روشن راہ پر گامزن کر دیا۔ ذہن جاگا۔ فکر نے کروٹ لی۔ خیالات روشن ہوئے۔ اور ان سب کے نتائج جنگ آزادی کے بعد رفتہ رفتہ نمایاں طور پر نظر آنے لگتے ہیں۔ ادب میں بھی اسی طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ہنگامے سے ذرا پہلے اور ہنگامے کے وقت جوافسردگی، بے بسی، تاریکی اور ویرانی ادب میں ملتی ہے، بغاوت کے بعد اس میں بھی تبدیلی آنے لگتی ہے۔ ظ۔ انصاری کا خیال بالکل درست ہے:1857ء کے ہنگامے سے اس کے پہلے اور اس کے بعد کے احساس پس ماندگی اور شکست مکمل کے جو منفی اثرات اردو ادب میں نظر آتے ہیں، وہ تصویر کا ایک دردناک رخ ہے۔ لیکن دوسرا رْخ اس قدر تابناک بھی ہے۔ اس تاریخی واقعہ کی جدلیات کا سراغ ملتا ہے۔ جب ہم شعرا اور ادیبوں کی تباہ حالی، عام لوگوں کے احساس، بے بسی، ادبی مرکزوں کی سراسیمگی، کلیات، دیوانوں اور تصنیفوں کی تلخی، بے باک اہل قلم کی زبان بندی، قتل، پھانسی اور کالے پانی کی سزاؤں کے ساتھ ادب کے سرپرستوں کی پریشان زندگی کے ان گھپ اندھیروں میں نئے تصورات، عقلیت پسندی، نئی آگاہی اور نئے قومی ذہن کی بیداری کو اونچے ہوتے دیکھتے ہیں۔ 1857ء کے بعد اردو ادب میں ایک نئی فکر، ایک نئے جوش، ایک نئی تبدیلی، ایک نئی تحریر کا آغاز ہونے لگا۔ بقول احتشام حسین:اس کے بعد کے شاعروں اور ادیبوں کو نئے اندازِ فکر کے راہی قرار دیا جا سکتا ہے، جنھوں نے ادب کو قوم کے ارتقا میں ایک تعمیری عمل تصور کیا۔ ان میں اہم ترین شخصیتوں کے نام یہ ہیں : سرسیداحمدخاں، خواجہ الطاف حسین حالی، مولانا محمد حسین آزاد، ڈاکٹر نذیر احمد، مولانا شبلی، مولانا ذکا اللہ، چراغ علی، محسن الملک اور وقار الملک۔ ان سب کا عقیدہ یہ تھا کہ ادب زندگی کے مطابق بھی ہو اور اس کے لیے فائدہ مند بھی۔٭…٭…٭