سرسید احمد خان اور ایم اے او کالج
اسپیشل فیچر
سرسید احمد خان کادوسرا اہم کارنامہ ایم اے او کالج کا قیام ہے۔ سرسید کے خیال میں قوم کو اعلیٰ مرتبہ بخشنے کا واحد علاج صرف تعلیم تھا۔ اسی کے خیال تحت سرسید نے ایک کالج قائم کرنے کا خاکہ اپنے ذہن میں بنایا۔ سرسید کے بیٹے سید محمود نے باقاعدہ اس کے اصول و ضوابط تیار کیے۔ اور 1875ء میں یہ مدرسہ کی شکل میں علی گڑھ میں قائم کیا گیا، جس کا نام مدرسۃ العلوم محمڈن اینگلو اورینٹل کالج رکھا گیا۔ اس کالج کو کھولنے سے قبل سرسید اپنا معرکہ آرا اخبار ’’ تہذیب الاخلاق’’ نکالتے تھے۔ لیکن اس کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد انھوں نے اپنے اس محبوب اخبار کو بند کر دینے کا اعلان کر دیا اور نوکری سے پنشن لے کر مستقل طور پر علی گڑھ میں آ کر بس گئے۔ اگرچہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ نے دم توڑنے کے بعد پھر سانس لینے کی کوشش کی، لیکن سرسید کی دلچسپی اس کالج کی طرف ہو جانے کی وجہ سے اس اخبار کو حیات نہ مل سکی۔ دوسرے کام بھی بے توجہی سے ہونے لگے۔ اس کی وجہ صرف یہ کالج تھی۔ ڈاکٹر سیدعابدحسین لکھتے ہیں :’’غرض اصلاح و تجدید کی جو تحریک سرسید احمد خان نے بائبل کی تفسیر لکھ کر ’’سائنٹیفک سوسائٹی‘‘ قائم کر کے اور ’’تہذیب الاخلاق‘‘ نکال کر کم و بیش بارہ برس سے شروع کر رکھی تھی اور جس نے مسلمانوں کے ایک سمجھدار طبقے کے ذہن میں ہل چل پیدا کر دی تھی، ان کے پنشن لے کر علی گڑھ میں قیام کرنے کے بعد کچھ ٹھنڈی سی پڑ گئی۔ اس کی وجہ صرف اتنی نہیں تھی کہ اب اس تحریک کوسرسید کے وقت اور توجہ کا بہت تھوڑا حصہ نصیب ہوتا تھا، بلکہ یہ بھی تھی کہ ان ذی اقتدار مسلمانوں خصوصاً بڑے زمینداروں کی خاطر جن کی مددسے انھوں نے ایم اے او کالج قائم کیا تھا۔‘‘یہی ایم اے او کالج آگے چل کرمسلم یونیورسٹی کی شکل اختیار کر گیا۔ سرسید نے اس کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔(1)پہلا مدرسہ انگریزی کاہو گا۔ اس میں بالکل انگریزی پڑھائی جائے گی اور تمام علوم و فنون کی تعلیم انگریزی میں ہو گی۔(2)دوسرا مدرسہ ایسا ہو گا جس میں تمام علوم و فنون بہ زبان اردو پڑھائے جائیں گے۔ اور جو کچھ اس میں تعلیم ہو گی سب اردو میں ہو گی۔(3)عربی وفارسی کامدرسہ جن میں ان انگریزی اور اردومدرسوں کے فارغ التحصیل طلبہ کو، جنھوں نے علوم و فنون پڑھ لینے کے بعد عربی فارسی کے لٹریچر و علوم میں کمال حاصل کرنے کا ارادہ کیا ہو گا، ان کی پڑھائی فارسی، عربی میں اعلیٰ درجہ تک کی اس مدرسہ میں ہو گی۔نتیجہ کے طور پریہ کالج اپنے انھیں مقاصد کو پورا کرتا ہوا 1920ء میں مسلم یونیورسٹی کے اسٹیج پر پہنچ گیا لیکن ڈاکٹر عابد حسین کے خیال کے مطابق یہ کالج آگے بڑھ کر سرسید کے منشا کو پورا نہیں کرتا۔ اس وجہ سے کہ سرسید احمد خاں اپنے اس کالج سے چار قسم کے تعلیم یافتہ پیدا کرنا چاہتے تھے۔(الف) وہ جو انگریزی کے ذریعہ تعلیم حاصل کر کے سرکاری عہدے اور عزتیں پائیں۔(ب) وہ جو انگریزی کے ذریعہ تعلیم حاصل کر کے مغربی علوم کو اردو میں منتقل کریں۔(ج)وہ جو اردو تعلیم پا کر لیاقت کامل حاصل کریں جس کا معیار انگلستان کے کالجوں کے برابر ہوتاکہ ان کو ہر وقت اور ہر عمل پر اپنے علم کی ترقی کا موقع ہو۔(د)وہ جو عربی فارسی میں کمال حاصل کریں، تاکہ مسلمانوں کے قدیم مذہبی اور تہذیبی سرمایہ کو موجودہ انسانوں تک پہنچا سکیں۔لیکن ان میں سے دو نکات دوسرا(ب) اور چوتھا(د) مقصد سرسید خاص طور پر پورا کرنا چاہتے تھے اور اس میں بھی دوسرامقصد سب سے اہم تھا۔ لیکن ایک پیچیدگی یہ تھی کہ جن سے معاشی امداد حاصل کر کے اس کالج کوچلا رہے تھے، ان حضرت کودلچسپی صرف پہلے مقصد سے تھی۔ یعنی تنہا انگریزی تعلیم حاصل کر کے اچھی نوکری اور عزت حاصل کرسکیں۔ نتیجہ کے طور پر ابتداسے ہی اس مقصد پر زیادہ زور دیا گیا اور کالج ان سے عطیہ لے کر آگے بڑھتا رہا۔ ایک ہی طبقہ زیادہ تر تعلیم حاصل کرنے لگا اور سرسید کے دوسرے مقاصد تقریباً بے تعلق سے ہو گئے، عربی فارسی اور مذہبی افکار تواس کالج کے ذریعہ مسلمانوں کے کسی طبقہ میں مقبول نہ ہوسکے۔ لیکن پھر بھی مجموعی اعتبار سے اس کالج نے قوم کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔٭…٭…٭