جامعہ الازہر , عالم اسلام کی قدیم یونیورسٹی

جامعہ الازہر , عالم اسلام کی قدیم  یونیورسٹی

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالوحید


مصر کی الازہر یونیورسٹی اپنے علمی و ادبی معیار کی بدولت عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں شہرت رکھتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ الازہر یونیورسٹی کی بنیاد ایک مسجد پر رکھی گئی جس کا نام مسجد الازہر ہے۔ جب فوج کے ایک کمانڈر نے خلیفہ المعز کے حکم پر مصر کو فتح کیا تو اس نے 969ء بمطابق358ھ میں قاہرہ کی بنیاد رکھی جس میں الازہر نامی مسجد بھی تعمیر کی گئی۔ مسجد کی تعمیر میں دو سال کا عرصہ لگا۔ اس مسجد میں پہلی نماز سات رمضان المبارک 361ھ کو پڑھائی گئی۔ اس مسجد کو بعد میں یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا گیا جو بعد ازاں جامعہ الازہر کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔ جامعہ الازہر اس وقت عالم اسلام کی سب سے قدیم یونیورسٹی ہے۔ تاریخ دان اس کا نام الازہر رکھے جانے میں اختلاف کرتے ہیں۔ کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اس کا نام الازہر اس لیے رکھا گیا کیونکہ جس وقت اس شہر کی بنیاد رکھی گئی اس جگہ پر خوبصورت مکانات بنے ہوئے تھے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ اس کانام حضرت فاطمہ الزہرہؓ سے عقیدت و محبت کی بنا پر رکھا گیا۔ یہی توجیح زیادہ درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس وقت کے مسلمان حکمران حضرت فاطمہ الزہرہؓ کے خاندان سے خصوصی عقیدت رکھتے تھے۔ مسجد کی تعمیر کے ساڑھے تین سال بعد یہاں مختلف علوم کی باقاعدہ کلاسز شروع کی گئیں۔ جامع الازہر میں ہونے والے سیمینار مذہبی موضوعات پر ہوتے تھے۔ تاہم ان پر سیاسی رنگ نمایاں نظر آتا تھا۔ خلیفہ العزیز باللہ کے دور حکومت میں جامعہ الازہر میں تعلیمی اصلاحات کی گئیں۔ جامعہ میں خواتین کی اخلاقی تربیت کے لیے بھی سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ جامعہ کو دو سو سال تک عدالتی کارروائیوں اور ٹیکسوں کے نظام کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اور اس سلسلے میں جامعہ سے ہر قسم کی رہنمائی حاصل کی جاتی رہی۔ بغداد اور اندلس میں اسلامک کلچرل مراکز کی تباہی تک جامعہ کو اسلامی دنیا کے تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل رہی۔ جامعہ میں ہونے والے سیمینار پہلے دن سے ہی خالصتاً تعلیمی و ادبی نوعیت کے تھے۔ ان سیمینارز میں شرکت بالکل مفت تھی اور بعض افراد کو وظائف بھی دیے جاتے۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے جامعہ کے باقاعدہ اساتذہ کے علاوہ مختلف علوم کے ماہرین کو بھی لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا جاتا۔ سیاحتی اساتذہ کے ذریعے تعلیم دینے کا یہ نظام اتنا کامیاب ہوا کہ بعد میں مشرق و مغرب کے دیگر تعلیمی اداروں نے بھی اپنا لیا۔مملوکوں کے دور اقتدار میں جامعہ الازہر نے بہت ترقی کی۔ انہوں نے جامعہ کی بہتری کے لیے بہت سے اقدامات کیے۔ وسط ایشیا پر مغلوں کے حملے اور اندلس میں مسلمانوں کے زوال کے بعد عالموں اور دانشوروں کے لیے زمین تنگ پڑ گئی۔ اس دوران زیادہ تر دانشوروں نے جامعہ الازہر میں پناہ لی۔ ان علما کے آنے سے جامعہ نے بہت زیادہ ترقی کی۔ 8 ویں اور 9 ویں صدی ہجری میں جامعہ اپنے علمی معیار کی وجہ سے عروج پر تھی۔ جامعہ نے سائنسی علوم کی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ جامعہ کے کچھ دانشوروں اور اساتذہ نے علم الادویات، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ اور تاریخ کی ترقی کے لیے بہت محنت کی۔ جامعہ ،مصر میں سیاسی انتشار کے باوجود علمی و ادبی خدمات سر انجام دیتی رہی۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں جامعہ الازہر کو ملنے والے عطیات کی وجہ سے جامعہ خودمختار ادارے کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ علما کو نئے نئے موضوعات پر تحقیق کرنے کے لیے بھرپور مواقع میسر آئے۔ اس طرح جامعہ اسلامی اور عربی علوم کا مرکز بن گئی۔ عثمانی حکمرانوں نے جامعہ معاملات میں مداخلت نہ کی اور نہ ہی جامعہ کے بڑے \"امام\" پر اپنی مرضی کے آدمی لانے کی کوشش کی۔ اس بڑے عہدے کو مصریوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا تاکہ کوئی باہر کا آدمی جامعہ پر اپنا حق نہ جتا سکے۔ جولائی 1789ء میں جب نپولین بونا پارٹ نے مصر پر حملہ کیا تو وہ جامعہ کے تعلیمی معیار اور نظم و نسق سے بہت متاثر ہوا۔ نپولین نے اپنی ذاتی ڈائری میں جامعہ الازہر کے تعلیمی معیار کو پیرس کی سوربون یونیورسٹی کے معیار کے برابر قرار دیا اور وہاں کے اساتذہ اور طالب علموں کو عوام اور ملک کے لیے عظیم سرمایہ قرار دیا۔ نپولین نے مصر پر قبضہ کرنے کے بعد دیوان کے نام سے ایک مشاورتی کونسل بنائی جو حکومتی معاملات میں مشورے دیتی تھی۔ اس کونسل میں نو علما شامل تھے جس کے چیئرمین شیخ عبداللہ تھے جو الازہر یونیورسٹی کے بڑے امام تھے۔ دیگر نو علما جامعہ میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نپولین کی نظر میں جامعہ کے علما کی کیا وقعت تھی۔ 1805ء میں مصر میں محمد علی پاشا کی حکومت قائم ہوئی تو اس نے مصر کو جدید ریاست بنانے کا ارادہ کیا۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اسے جامعہ الازہر پر انحصار کرنا پڑا۔ اس نے جامعہ کے طلبا کو وظائف پر پڑھنے کے لیے یورپی ممالک میں بھیجا۔ یہ ادارہ پوری شان و شوکت کے ساتھ آپ بھی قائم دائم ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کیا بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے ؟

کیا بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے ؟

کائنات کے راز ہمیشہ سے انسان کے لیے تجسس کا باعث رہے ہیں۔ انہی رازوں میں بلیک ہولز اور زمین سے باہر ذہین مخلوق (Extraterrestrial Intelligence) کا موضوع بھی شامل ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے معروف ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں سائنسدانوں کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں اس غیر معمولی سوال پر غور کیا گیا کہ کیا ممکن ہے کہ انتہائی ترقی یافتہ خلائی مخلوقات بلیک ہولز کے گرد اپنی جدید ٹیکنالوجی قائم کر چکی ہوں؟ اس نشست میں کسی دریافت کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ یہ اس بات پر سائنسی غور و فکر تھا کہ اگر ایسی ٹیکنالوجی موجود ہو تو اسے دریافت کرنے کے لیے کن طریقوں سے تحقیق کی جا سکتی ہے۔بلیک ہولز کیوں اہم ہیں؟بلیک ہولز کائنات کے وہ اجسام ہیں جن کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہو سکتی۔ سائنسدانوں کے مطابق خاص طور پر گھومنے والے بلیک ہولز اپنے اردگرد بے پناہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ نظریاتی طور پر اگر کوئی مخلوق انسانوں سے لاکھوں یا کروڑوں گنا زیادہ ترقی یافتہ ہو تو وہ اس توانائی کو استعمال کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔یہ تصور محض سائنسی تخیل نہیں بلکہ طبیعیات کے بعض اصولوں پر مبنی ایک نظریاتی امکان ہے۔ اسی وجہ سے محققین نے اس موضوع کو سنجیدگی سے زیرِ بحث لایا۔ایم آئی ٹی کی نشست کا سوال؟اس سال جون میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں فلکیات، طبیعیات، بلیک ہولز اور SETI (Search for extraterrestrial intelligence) کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد ماہرین شریک ہوئے۔ ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ خلائی مخلوق کے وجود کو ثابت کریں بلکہ یہ جاننا تھا کہ اگر ایسی تہذیبیں واقعی موجود ہوں تو ان کے آثار کیسے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔سائنسدانوں نے مختلف نظریات، مشاہداتی طریقوں اور مستقبل کی تحقیق کے امکانات پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق جدید دوربینیں اور فلکیاتی مشاہدات اب اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ پہلے سے جمع شدہ ڈیٹا کو بھی نئے زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ٹیکنوسگنیچر کیا ہوتے ہیں؟روایتی طور پر خلائی مخلوق کی تلاش میں ریڈیو سگنلز پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی ہے لیکن اب سائنس دان ٹیکنوسگنیچر (Technosignatures) کے تصور پر زیادہ کام کر رہے ہیں۔ٹیکنوسگنیچر سے مراد ایسے غیر معمولی آثار یا اشارے ہیں جو قدرتی فلکیاتی عمل سے مطابقت نہ رکھتے ہوں اور جنہیں کسی ذہین تہذیب کی ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا سکے۔مثال کے طور پر غیر معمولی روشنی کے نمونے، غیر متوقع انفرا ریڈ شعاعیں یا بلیک ہول کے گرد ایسے ڈھانچے یا سرگرمیاں جو قدرتی قوانین سے مختلف نظر آئیں۔اگر مستقبل میں ایسے شواہد ملتے ہیں تو ان کا انتہائی احتیاط سے تجزیہ کیا جائے گا تاکہ پہلے تمام قدرتی وضاحتوں کو جانچا جا سکے۔کیا بلیک ہول توانائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟طبیعیات کے بعض نظریات کے مطابق گھومنے والے بلیک ہولز سے توانائی حاصل کرنا اصولی طور پر ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی انتہائی ترقی یافتہ تہذیب اس قابل ہو تو وہ ایسی ٹیکنالوجی بنا سکتی ہے جو بلیک ہول سے توانائی حاصل کر کے اپنی ضروریات پوری کرے۔یہ تصور انسانی ٹیکنالوجی سے بہت آگے ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ناممکن اور غیر دریافت شدہ چیز میں فرق ہوتا ہے۔ آج کی بہت سی سائنسی حقیقتیں بھی کبھی صرف نظریات سمجھی جاتی تھیں۔موجودہ مشاہدات سے کیا معلوم ہو سکتا ہے؟ایم آئی ٹی کے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ کیا موجودہ فلکیاتی مشاہدات خصوصاً ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ اور دیگر رصدگاہوں کا ڈیٹا دوبارہ جانچنے سے کوئی غیر معمولی اشارہ سامنے آ سکتا ہے۔محققین کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی عجیب یا غیر متوقع مشاہدہ سامنے آئے تو اس کا مطلب فوری طور پر خلائی مخلوق نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے اس کی قدرتی وجوہات تلاش کی جائیں گی اور صرف تمام سائنسی امکانات ختم ہونے کے بعد ہی کسی غیر معمولی وضاحت پر غور کیا جائے گا۔کیا خلائی مخلوق دریافت ہو گئی ہے؟اس سوال کا واضح جواب نہیں ہےایم آئی ٹی کی اس نشست میں ایسی کوئی دریافت یا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ یہ صرف ایک تحقیقی اور فکری نشست تھی جس کا مقصد مستقبل کی تحقیق کے نئے راستے تلاش کرنا تھا۔سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ غیر معمولی دعووں کے لیے غیر معمولی اور مضبوط شواہد درکار ہوتے ہیں۔ جب تک قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہ ہوں، کسی بھی امکان کو حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔مستقبل کی تحقیقکائنات کے بارے میں ہماری معلومات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ نئی دوربینیں، طاقتور کمپیوٹرز اور مصنوعی ذہانت فلکیاتی ڈیٹا کے تجزیے کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنا رہے ہیں۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں سائنس دان بلیک ہولز، کہکشاؤں اور دیگر فلکیاتی اجسام میں ایسے اشارے تلاش کر سکیں جو آج ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔اگرچہ خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی ثبوت ابھی تک نہیں ملا، لیکن سائنس کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر قابلِ آزمائش امکان کی تحقیق کی جائے۔ اسی سوچ کے تحت ایم آئی ٹی کی یہ نشست منعقد ہوئی، جس نے سائنس دانوں کو نئی تحقیق، نئے سوالات اور نئی حکمتِ عملیوں پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ایم آئی ٹی میں ہونے والی اس سائنسی نشست نے یہ واضح کیا کہ جدید سائنس صرف معلوم حقائق تک محدود نہیں بلکہ نامعلوم امکانات کی بھی منظم اور منطقی تحقیق کرتی ہے۔ بلیک ہولز کے گرد ممکنہ خلائی ٹیکنالوجی کا تصور فی الحال ایک نظریاتی امکان ہے،حقیقت۔ تاہم اس موضوع پر ہونے والی گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ مستقبل میں اگر کوئی غیر معمولی ثبوت سامنے آتا ہے تو وہ سائنسی دنیا کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی، لیکن فی الحال یہ موضوع تحقیق، تجسس اور سائنسی جستجو کا حصہ ہے۔

قلعہ روہتاس کی بحالی اور یونیسکو کے تحفظات

قلعہ روہتاس کی بحالی اور یونیسکو کے تحفظات

قومی ورثے کے تحفظ کا اہم امتحان قلعہ روہتاس پاکستان کے تاریخی ورثے کی ایک عظیم علامت ہے، جو ضلع جہلم میں واقع ہے۔ یہ قلعہ سولہویں صدی میں شیر شاہ سوری نے تعمیر کروایا تھا اور اپنی منفرد فوجی تعمیر، بلند فصیلوں، عظیم الشان دروازوں اور مضبوط دفاعی نظام کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ 1997ء میں یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرلیا جس کے بعد اس کی حفاظت اور بحالی عالمی اصولوں کے مطابق کرنا پاکستان کی ذمہ داری بن گئی۔مگر حالیہ دنوں قلعے میں جاری مرمتی کاموں پر یونیسکو کی جانب سے اظہارِ تشویش نے اس تاریخی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے۔یونیسکو کے تحفظات کی وجہخبروں کے مطابق یونیسکو کو اطلاع ملی کہ قلعہ روہتاس میں ہونے والے بعض بحالی کے کام عالمی معیار کے مطابق نہیں۔ اس اطلاع کے بعد یونیسکو کے نمائندوں نے وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے تعاون سے قلعے کا معائنہ کیا۔ معائنے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ مرمت کے دوران استعمال ہونے والے تعمیراتی طریقے، مواد اور تکنیک عالمی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر جدید تعمیراتی مواد استعمال کیے جانے اور اصل تاریخی ساخت میں تبدیلی کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق کسی بھی عالمی ثقافتی ورثے کی بحالی اس انداز میں ہونی چاہیے کہ اس کی اصل شناخت، تاریخی اہمیت اور قدامت برقرار رہے۔ اگر غیر موزوں مواد یا جدید تعمیراتی انداز اختیار کیا جائے تو یادگار کی تاریخی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔تاریخی ورثے کی بحالی کے اصولدنیا بھر میں تاریخی عمارتوں کی مرمت کے کچھ اصول ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق مرمت صرف اتنی ہی کی جاتی ہے جتنی عمارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہو۔ اس دوران اصل پتھر، اینٹ، چونا یا دیگر روایتی مواد کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ عمارت کی تاریخی حیثیت برقرار رہے۔ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی تاریخی عمارت میں جدید سیمنٹ، نئی اینٹیں یا مختلف طرزِ تعمیر استعمال کی جائے تو اس سے اس کی اصل تاریخی اہمیت کم ہو سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ یونیسکو ہر مرمتی منصوبے پر گہری نظر رکھتا ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہوں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں کسی تاریخی مقام کی بحالی پر سوالات اٹھے ہوں۔ اس سے قبل ٹیکسلا کے بعض آثارِ قدیمہ پر بھی یونیسکو نے غیر معیاری مرمت کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے تھے اور متعلقہ اداروں کو اصلاحی اقدامات کی سفارش کی تھی۔ قلعہ روہتاس کی تاریخی اہمیت قلعہ روہتاس برصغیر میں فوجی فنِ تعمیر کا ایک بے مثال نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً چار کلومیٹر طویل فصیل، بارہ عظیم الشان دروازے، متعدد برج، شاہی مسجد، باؤلی اور دیگر تاریخی عمارتیں اس قلعے کی شان میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ قلعہ نہ صرف شیر شاہ سوری کی عسکری حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس دور کی تعمیراتی مہارت کا بھی زندہ ثبوت ہے۔ہر سال ملک و بیرونِ ملک سے ہزاروں سیاح اس تاریخی مقام کی سیر کے لیے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اصل ساخت کو محفوظ رکھنا نہ صرف تاریخی اعتبار سے بلکہ سیاحتی اور معاشی لحاظ سے بھی بے حد اہم ہے۔ اگر بحالی کا عمل عالمی معیار کے مطابق نہ ہو تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔مستقبل کیلئے ضروری اقدامات قلعہ روہتاس کے حوالے سے سامنے آنے والے تحفظات متعلقہ اداروں کے لیے ایک اہم موقع ہیں کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ طریقہ کار کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ ضروری ہے کہ مستقبل میں ہر بحالی منصوبہ بین الاقوامی اصولوں، ماہرین آثارِقدیمہ کی سفارشات اور یونیسکو کی ہدایات کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے۔اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں، آثارِ قدیمہ کے ماہرین، انجینئرز اور تحفظِ آثار قدیمہ کے بین الاقوامی ماہرین میں قریبی رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ ہر مرمتی مرحلے کی مکمل دستاویزات، تصاویر اور تکنیکی رپورٹس بھی محفوظ رکھی جائیں تاکہ کسی بھی وقت اس عمل کا جائزہ لیا جا سکے۔ قلعہ روہتاس صرف ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیبی شناخت، تاریخی عظمت اور ثقافتی ورثے کی علامت ہے۔ یونیسکو کے تحفظات کو تنقید کے بجائے اصلاح کا موقع سمجھنا چاہیے تاکہ اس عالمی ورثے کی اصل حیثیت محفوظ رہے۔ اگر عالمی معیار کے مطابق بحالی کو یقینی بنایا جائے تو قلعہ روہتاس آنے والی نسلوں کے لیے بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ محفوظ رہے گا اور ملک عزیز کا ثقافتی تشخص عالمی سطح پر مزید مستحکم ہوگا۔

آج کا دن

آج کا دن

آرک دے تریومف کا افتتاح29 جولائی 1836ء کوپیرس میں مشہور یادگار، آرک دے تریومف کا افتتاح کیا گیا۔ اس یادگار کی تعمیر کا حکم 1806ء میں نپولین بوناپارٹ نے آسٹرلٹز کی جنگ میں فتح کے بعد دیا تھا۔ اگرچہ نپولین اپنی زندگی میں اس کی تکمیل نہ دیکھ سکا لیکن تقریباً تیس سال بعد یہ عظیم الشان یادگار مکمل ہوئی۔ اس کی دیواروں پر فرانسیسی جرنیلوں اور اہم جنگوں کے نام کندہ کیے گئے ہیں۔ بعد میں پہلی جنگِ عظیم کے نامعلوم سپاہی کی قبر بھی اسی یادگار کے نیچے بنائی گئی جہاں آج بھی شمع روشن رہتی ہے۔ آرک دے تریومف نہ صرف فرانس کی قومی شناخت کی علامت ہے بلکہ آزادی، حب الوطنی اور قومی اتحاد کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ لندن اولمپکس 29 جولائی 1948ء کو لندن میں چودہویں جدید اولمپک کھیلوں کا افتتاح ہوا۔ یہ مقابلے دوسری جنگِ عظیم کے بعد منعقد ہونے والے پہلے اولمپکس تھے کیونکہ 1940ء اور 1944ء کے اولمپکس جنگ کی وجہ سے منسوخ کر دیے گئے تھے۔ جنگ کے بعد بیشتر ممالک معاشی مشکلات کا شکار تھے اسی لیے ان کھیلوں کو سادگی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ تقریباً ساٹھ ممالک کے چار ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے مختلف کھیلوں میں حصہ لیا۔ لندن اولمپکس نے بین الاقوامی کھیلوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا اور بعد کے اولمپکس کے لیے نئی امید پیدا کی۔The Lord of the Rings29 جولائی 1954ء کو برطانوی ادیب جے آر آر ٹولکین کے شہرہ آفاق ناول The Lord of the Rings کی پہلی جلد شائع ہوئی۔ یہ کتاب جدید فینٹسی ادب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔ ٹولکین نے کئی برسوں کی محنت سے ایک مکمل خیالی دنیا تخلیق کی جہاں انسان، ہوبٹ، ایلف، بونے اور دیگر مخلوقات خیر و شر کی عظیم جنگ میں شریک ہوتی ہیں۔ اس ناول کی کہانی ایک طاقتور انگوٹھی کے گرد گھومتی ہے جسے تباہ کرنا دنیا کو تاریکی کی قوتوں سے بچانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ 2001ء سے 2003ء کے درمیان اسی ناول پر بننے والی فلمی سیریز نے عالمی سطح پر بے مثال کامیابی حاصل کی اور متعدد آسکر ایوارڈز جیتے۔آئی اے ای اے کا قیام29 جولائی 1957ء کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کا قیام عمل میں آیا۔ اس ادارے کا مقصد دنیا بھر میں ایٹمی توانائی کے پرُامن استعمال کو فروغ دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ IAEA مختلف ممالک کے جوہری پروگراموں کا معائنہ کرتی ہے، حفاظتی معیارات مقرر کرتی ہے اور عالمی جوہری سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اس کے رکن ہیں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام میں اس کا بنیادی کردار ہے۔ شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی29 جولائی 1981ء کو شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی لندن کے سینٹ پال کیتھیڈرل میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب بیسویں صدی کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔ اندازاً دنیا بھر میں 70 کروڑ سے زائد افراد نے اسے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ اگرچہ یہ شادی بعد میں کامیاب نہ رہی اور 1996ء میں طلاق ہو گئی لیکن اس تقریب کو آج بھی برطانوی شاہی تاریخ کا ایک اہم واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس نے برطانوی شاہی خاندان کی عالمی مقبولیت میں اضافہ کیا اور شاہی تقریبات کی بین الاقوامی نشریات کا ایک نیا معیار قائم کیا۔ 

ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے

ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے

محتاط رہیں،محفوظ رہیںہر سال 28 جولائی کو دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس ڈے منایا جاتا ہے جس کا مقصد عوام میں ہیپاٹائٹس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور احتیاطی تدابیر کو فروغ دینا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 30 کروڑ 40 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ 2022ء میں تقریباً 13 لاکھ افراد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ صحت کے ایک خوفناک بحران کی صورت اختیار کر چکاہے۔پاکستان کے لیے یہ دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہمارا ملک دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد تقریباً ایک کروڑ 38 لاکھ ہے جبکہ ان میں سے صرف 25 سے 30 فیصد افراد ہی اپنی بیماری سے آگاہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں افراد انجانے میں بیماری کو دوسروں تک منتقل بھی کر رہے ہیں اور خود بھی علاج سے محروم ہیں۔ہیپاٹائٹس ، تشویشناک پھیلاؤ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پھیلنے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جن میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار سب سے نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر ضروری انجکشن لگانے کا رجحان، استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر معیاری کلینکس، دانتوں کے علاج میں جراثیموں سے پاک کئے بغیر آلات کا استعمال اور حجام کی دکانوں پر ایک ہی بلیڈ کا بار بار استعمال اس بیماری کے پھیلاؤ کے بڑے اسباب ہیں۔ عالمی ادارہ صحت بھی انہی عوامل کو پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات قرار دیتا ہے۔حالیہ طبی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ عمر کے ساتھ ہیپاٹائٹس کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ایسے افراد جن کے خاندان میں جگر کی بیماری کی تاریخ موجود ہو یا جو بار بار حجام سے شیو کرواتے ہوں ان میں خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سطح پر سکریننگ‘ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد اور بروقت علاج ہی اس جان لیوا مرض سے بچاؤکا مؤثر ذریعہ ہے۔خاموش بیماری مہلک نتائجہیپاٹائٹس کو اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدائی علامات بہت کم یا بالکل ظاہر نہیں ہوتیں۔ بہت سے مریض برسوں تک معمول کی زندگی گزارتے رہتے ہیں لیکن اس دوران وائرس مسلسل جگر کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ جب علامات ظاہر ہوتی ہیں تو اکثر بیماری خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔عام علامات میں مسلسل تھکن، کمزوری، بھوک میں کمی، متلی، بخار، پیٹ کے دائیں حصے میں درد، جلد اور آنکھوں کا پیلاپن، پیشاب کی گہری رنگت اور وزن میں غیر معمولی کمی شامل ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو ہیپاٹائٹس جگر کے سکڑنے (سروسس) جگر کے سرطان اور جگر کے مکمل ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ویکسین دستیاب ہے جبکہ ہیپاٹائٹس سی کا جدید ادویات کے ذریعے کامیاب علاج بھی ممکن ہے بشرطیکہ بیماری کی بروقت تشخیص ہو جائے۔احتیاط ہی مؤثر دفاعہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔سب سے پہلے انجکشن صرف ضرورت کے وقت اور نئی، سیل بند سرنج سے لگوائیں۔ خون لینے دینے کا عمل ہمیشہ مستند بلڈ بینک سے کروائیں اور اس کی مکمل سکریننگ یقینی بنائیں۔ دانتوں کا علاج صرف ایسے کلینکس سے کروائیں جہاں جراثیم سے پاک آلات استعمال کیے جاتے ہوں۔ حجام کی دکان پر ہر مرتبہ نیا بلیڈ استعمال کرنے پر اصرار کریں۔ ریزر، نیل کٹر، ٹوتھ برش اور دیگر ذاتی استعمال کی اشیاکسی کے ساتھ مشترک استعمال نہ کریں۔ کان یا ناک چھدوانے کی صورت میں صرف جراثیم سے پاک آلات استعمال کیے جائیں۔اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین ہر بچے اور خطرے سے دوچار بالغ افراد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جن افراد کو شک ہو کہ وہ متاثرہ خون یا غیر محفوظ طبی آلات کے ذریعے وائرس کے رابطے میں آئے ہیں انہیں فوری طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔قومی سطح پر مشترکہ جدوجہد کی ضرورتہیپاٹائٹس کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غیر معیاری کلینکس اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، محفوظ خون کی فراہمی کو یقینی بنائے، عوامی آگاہی مہمات کو وسعت دے اور مفت سکریننگ اور علاج کی سہولیات میں اضافہ کرے۔عالمی ادار صحت نے 2030ء تک ہیپاٹائٹس کو صحتِ عامہ کے بڑے خطرے کے طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اگر ہم قومی سطح پر بروقت اور ضروری اقدامات کریں، عوام احتیاطی اصولوں پر عمل کریں اور ہر مشتبہ فرد اپنا ٹیسٹ کروائے تو اس خاموش قاتل کے پھیلاؤ کو نمایاں حد تک روکا جا سکتا ہے۔عالمی یومِ ہیپاٹائٹس ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ آگاہی، احتیاط، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج ہی اس مہلک بیماری کے خلاف ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ایک صحت مند پاکستان کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری اپنی اور دوسروں کی صحت کے تحفظ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھے۔

ملکی وے

ملکی وے

کہکشاں کا براعظموں کی تشکیل میں کردار؟جرمنی اور جاپان کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں حیران کن امکان پیش کیا ہے کہ ہماری کہکشاں 'ملکی وے‘ نے اربوں سال پہلے زمین پر براعظموں کی تشکیل میں بالواسطہ کردار ادا کیا ہو گا ۔ اگرچہ یہ نظریہ ابھی ابتدائی تحقیقی مرحلے میں ہے تاہم اس نے ماہرینِ فلکیات اور ارضیات کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اگر مستقبل کی تحقیقات اس مفروضے کی تائید کرتی ہیں تو زمین کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں ہماری موجودہ سمجھ میں ایک اہم تبدیلی آ سکتی ہے۔زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے جبکہ سورج اپنے تمام سیاروں سمیت ملکی وے کے مرکز کے گرد مسلسل سفر کر رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ہمارا نظامِ شمسی تقریباً ہر 15 سے 20 کروڑ سال بعد ملکی وے کے ان حصوں سے گزرتا ہے جہاں ستاروں کی تعداد زیادہ اور کششِ ثقل نسبتاً طاقتور ہوتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں سے گزرتے ہوئے ملکی وے کی اضافی کششِ ثقل نظامِ شمسی کے انتہائی بیرونی حصے میں موجود اوورٹ کلاؤڈ کو متاثر کر سکتی ہے۔ اوورٹ کلاؤڈ برفیلے اجسام اور دمدار ستاروں کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو سورج سے انتہائی فاصلے پر موجود ہے۔جب اس خطے میں کششِ ثقل کا توازن بگڑتا ہے تو بعض دمدار ستارے اپنے اصل مدار سے ہٹ کر اندرونی نظامِ شمسی کی جانب سفر شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا رخ زمین کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔دمدار ستاروں کا تصادم اور براعظموں کی تشکیلزمین کی ابتدائی تاریخ میں بڑے شہابی پتھروں اور دمدار ستاروں کا ٹکراؤ عام تھا اورجرمنی کی جولیس میکسیملین یونیورسٹی کے محقق تھامس سیگرٹ اور جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے ہیروکی یونیڈا کی تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ انہی میں سے کچھ بڑے تصادم ملکی وے کی کششِ ثقل کے نتیجے میں رونما ہوئے ہوں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جب ایسے اجرام زمین سے ٹکراتے تھے تو ان سے پیدا ہونے والی بے پناہ حرارت اور دباؤ زمین کی بیرونی پرت میں بڑی تبدیلیاں لاتے تھے۔ اس عمل سے ایسی چٹانیں وجود میں آئیں جو بعد میں براعظمی پرت کی بنیاد بنیں۔ یہی پرت لاکھوں ، کروڑوں برسوں کے ارتقائی عمل سے گزر کر آج کے براعظموں کی شکل اختیار کرتی گئی۔اس تحقیق کا مقصد یہ نہیں کہ زمین کے اندرونی ارضیاتی عوامل جیسے ٹیکٹونکس پلیٹ یا آتش فشانی سرگرمی کی اہمیت کو کم کیا جائے بلکہ یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ ان عوامل کے ساتھ ساتھ ملکی وے کا بالواسطہ اثر بھی براعظموں کی تشکیل میں شامل رہا ہو سکتا ہے۔قدیم زرکون کرسٹل نے کیا راز کھولا؟اس نظریے کو جانچنے کے لیے محققین نے زمین کی قدیم ترین چٹانوں میں موجود زرکون نامی معدنی کرسٹل کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ زرکون کو ارضیات میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ اربوں سال پرانی معلومات کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائنسدانوں نے ان کرسٹلز کی عمر اور کیمیائی خصوصیات کا موازنہ ایسے فلکیاتی ماڈلز سے کیا ہے جن میں نظامِ شمسی کے ملکی وے میں سفر کو ظاہر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض ادوار میں بڑے دمدار ستاروں کے ممکنہ تصادم اور ابتدائی براعظمی چٹانوں کی تشکیل کے درمیان ایک دلچسپ مماثلت پائی گئی۔اگرچہ یہ شواہد اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں سال پرانے فلکیاتی اور ارضیاتی واقعات کو مکمل یقین کے ساتھ ثابت کرنا آسان نہیں اس لیے مزید تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔ دلچسپ مفروضہیہ تحقیق کرنے والے جرمن سائنسدان تھامس سیگرٹ اور جاپان کے ہیروکی یونیڈا خود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ابھی ایک سائنسی مفروضہ ہے، ممکن ہے مستقبل میں مزید شواہد اس نظریے کی تائید کریں، اس میں ترمیم کریں یا اسے مسترد کر دیں۔ یہی سائنسی تحقیق کا بنیادی اصول ہے کہ ہر نئی تجویز کو بار بار جانچا جاتا ہے۔تاہم اگر آنے والے برسوں میں یہ نظریہ درست ثابت ہو جاتا ہے تو یہ دریافت ہماری زمین کی تاریخ کو سمجھنے کے انداز کو بدل سکتی ہے۔ اس سے یہ تصور مزید مضبوط ہوگا کہ زمین کی تشکیل صرف اس کے اندرونی عوامل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اربوں کلومیٹر دور موجود ملکی وے میں ہونے والے فلکیاتی عمل بھی بالواسطہ طور پر ہماری دنیا کی تشکیل پر اثر انداز ہوئے۔ملکی وے اور زمین کے براعظموں کے درمیان ممکنہ تعلق پر ہونے والی یہ تحقیق سائنس کی ان دلچسپ کوششوں میں سے ایک ہے جو کائنات اور ہماری زمین کے درمیان پوشیدہ روابط کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اس مفروضے کو ابھی مزید شواہد درکار ہیں، لیکن اس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ شاید ہماری زمین کی تاریخ کا تعلق صرف زمین تک محدود نہیں، بلکہ پوری کائنات سے جڑا ہوا ہے۔ آنے والے برسوں کی تحقیق ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا واقعی ملکی وے نے زمین کے براعظموں کی تشکیل میں کوئی کردار ادا کیا تھا یا نہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

پیرو کی آزادی28 جولائی 1821 کو جنوبی امریکہ کے ملک پیرو نے ہسپانوی سلطنت سے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ اس تاریخی اعلان کی قیادت جنرل خوسے دے سان مارٹن نے لیما میں کی۔ اگرچہ آزادی کی جدوجہد کئی برس پہلے شروع ہو چکی تھی لیکن 28 جولائی کو پہلی مرتبہ پیرو کو آزاد ریاست قرار دیا گیا۔ پیرو کی آزادی صرف ایک ملک کی کامیابی نہیں تھی بلکہ پورے لاطینی امریکہ میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی تحریک کا اہم حصہ تھی۔ اس کے نتیجے میں ہسپانوی اقتدار بتدریج جنوبی امریکہ سے ختم ہونے لگا اور متعدد نئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں۔ 28 جولائی پیرو میں یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کا آغاز28 جولائی 1914ء کو آسٹریا۔ہنگری نے سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جسے پہلی جنگِ عظیم کا باقاعدہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اس سے ایک ماہ قبل 28 جون 1914ء کو آسٹریا کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کو بوسنیا کے شہر سرائیوو میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کے بعد آسٹریا۔ہنگری نے سربیا کو سخت شرائط پر مشتمل الٹی میٹم دیا۔ اگرچہ سربیا نے بیشتر شرائط قبول کر لیں لیکن تمام مطالبات نہ ماننے پر آسٹریا۔ہنگری نے 28 جولائی کو جنگ چھیڑ دی۔ جلد ہی یورپ کے مختلف ممالک اس تنازع میں شامل ہو گئے۔ جرمنی آسٹریا۔ہنگری کے ساتھ جبکہ روس، فرانس اور بعد میں برطانیہ سربیا کے حامی بن گئے۔ یہ علاقائی تنازع چند ہی دنوں میں عالمی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ ناسا کا قیام 28 جولائی 1958ء کو امریکی کانگریس نے نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایکٹ منظور کیا جس کے تحت بعد میں ناساکا قیام عمل میں آیا۔ یہ اقدام سوویت یونین کی جانب سے 1957ء میں سپوتنک سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ کے بعد کیا گیا۔ اس قانون کے ذریعے مختلف سرکاری اداروں کی خلائی تحقیق کو ایک مرکزی ادارے کے تحت منظم کیا گیا۔ ناسا نے یکم اکتوبر 1958 ء سے باضابطہ کام شروع کیا۔ آنے والے برسوں میں ناسا نے مرکری، جیمینائی اور اپولو پروگرام شروع کیے جن کی بدولت 1969 میں انسان پہلی مرتبہ چاند پر پہنچا۔ بعد ازاں خلائی شٹل پروگرام، ہبل خلائی دوربین، مریخ پر بھیجے گئے متعدد مشنز، جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جیسے منصوبوں میں بھی ناسا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ایمسٹرڈیم اولمپکس 28 جولائی 1928 کو نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم میں نویں جدید اولمپک کھیلوں کا افتتاح ہوا۔ یہ اولمپکس کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلی مرتبہ خواتین کو ایتھلیٹکس اور جمناسٹکس کے کئی مقابلوں میں باقاعدہ شرکت کا موقع ملا۔ اسی اولمپکس میں پہلی مرتبہ افتتاحی تقریب کے دوران اولمپک مشعل روشن رکھنے کی روایت بھی اختیار کی گئی۔ ایمسٹرڈیم اولمپکس نے یہ ثابت کیا کہ کھیل مختلف قوموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر امن، دوستی اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1928 کے اولمپکس جدید اولمپک تاریخ کا ایک اہم سنگ میل تصور کیے جاتے ہیں۔ آئرش مسلح جدوجہدکا خاتمہ28 جولائی 2005ء کو آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط اپنی مسلح جدوجہد ختم کرنے اور صرف پرامن و جمہوری ذرائع اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ شمالی آئرلینڈ میں کئی برس تک جاری رہنے والے تشدد، بم دھماکوں اور مسلح کارروائیوں نے ہزاروں افراد کی جانیں لیں۔ 1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے کے بعد امن عمل کا آغاز ہو چکا تھا لیکن 2005ء کا یہ اعلان اس عمل میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ تنظیم نے اپنے ارکان کو ہدایت دی کہ وہ ہتھیاروں کے استعمال سے مکمل اجتناب کریں اور تمام سیاسی مقاصد صرف جمہوری طریقوں سے حاصل کیے جائیں۔ بعد ازاں بین الاقوامی مبصرین نے IRA کے ہتھیار ناکارہ بنانے کے عمل کی تصدیق بھی کی۔