ہسٹیریا کیا ہے؟
اسپیشل فیچر
ہسٹیریا نامی بیماری کے بارے یقیناً سب نے سن رکھا ہو گا عام طور پر تصور یہ ہے کہ اس بیماری کا تعلق عورت کے رحم سے ہے اور صرف خواتین ہی اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ اسے خواتین کے غیر شادی شدہ ہونے سے جوڑتے ہیں اور کچھ تو اسے جن بھوت اور آسیب کا سایہ تشخیص کہتے ہیں۔جدید میڈیکل سائنس ان سب باتوں کی نفی کرتی ہے، بلکہ ہسٹیریا لفظ اب میڈیکل کی زبان میں استعمال نہیں ہوتا اور اس بیماری کوConversion disorder کہتے ہیں۔یہ بیماری نا صرف خواتین بلکہ مردوں اور ٹین ایجرز میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ ہمارے ملک میں چونکہ خواتین میں نفسیاتی بیماریوں کا تناسب مردوں کی نسبت زیادہ ہے اس لئے اس بیماری کا شکار بھی زیادہ خواتین ہی ہوتی ہیں۔ انسان کی ذہن میں کاپی کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے اس لئے یہ کسی ایسی بیماری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جو اس مریض نے کبھی دیکھ رکھی ہو۔ اکثر لوگ مرگی اور کنورژن ڈس آرڈر کو ایک ہی بیماری سمجھتے ہیں۔میڈیکل کی زبان میں میں ذہنی امراض کے ایک گروپ کوSomatization کہتے ہیں جس میں ذہنی کشیدگی اوردبائو جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی گروپ میںConversion disorderبھی شامل ہے۔عام طور پر اس مرض میں مبتلا مریض ذہنی دبائو یا کسی پریشانی کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا ذہن نہ حالات کو قبول کرتا ہے اور نا ہی اس صورتحال سے بچنے کا کوئی راستہ ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی واقعہ یا کوئی اچانک جذباتی دھچکا اس بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی سادہ مثال یوں سمجھ لیں جیسے بہت تیز وولٹیج سے اچانک کسی مشین کا فیوز اڑ جائے۔ بظاہر مشین بھی اپنی جگہ ٹھیک ہو گی اور کرنٹ بھی متواتر آ رہا ہو گا۔ بالکل ایسے ہی اس صورتحال میں نروس سسٹم یا جسمانی اعضاء میں کوئی خرابی نہیں ہوتی۔ اسکی وجہ ذہنی اور جذباتی دبائو ہوتا ہے۔ اور علاج بھی یہی ہے کہ مریض کو اس ذہنی دبائو سے نکالا جائے۔ مریض کسی ایسی ذہنی اذیت یا تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہا ہوتا ہے جسے برداشت کرنے کی صلاحیت اس کے اعصاب میں نہیں ہوتی اور یوں یہ ذہنی کشیدگی جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہرہوتی ہے۔ یہ دونوں الگ ہیں۔ان دونوں بیماریوں کی وجوہات اور علاج مختلف ہے۔ یہ سب ایک مستند معالج تشخیص کر سکتا ہے۔یہ بیماری ہر مریض میں مختلف انداز سے ظاہر ہوتی ہے کچھ لوگوں کو جھٹکے لگتے ہیں۔ کوئی کھڑے کھڑے ہو گر جاتا ہے اور بظاہر بیہوش لگتا ہے۔ کسی مریض میں اچانک کوئی جسمانی اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ کسی کی اچانک بینائی چلی جاتی ہے تو کسی کا جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ایسی کسی صورتحال میں جعلی پیروں ،فقیروں کے چکر میں پڑنے کی بجائے کسی اچھے معالج سے رابطہ کریں۔ ایک اچھا نفسیاتی معالج دوا دینے کے ساتھ ساتھ کونسلنگ بھی کرے گا۔ ارد گرد جو مریض نظر آتے ہیں ان میں سے چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔ ایک ایسا طالبعلم جو اسکول میں سزا سے خوفزدہ ہو اور ساتھ ہی اس کے والدین نے پوزیشن لینے کو زندگی موت کا مسئلہ بنا رکھا ہو گویا وہ اس خوف کی کیفیت میں پڑ سکتا ہے۔ نہ پڑنے کی صورت میں والدین اور اساتذہ کی سزا سے اپنے آپ کو بچا بھی نہیں سکتا ۔ کسی امتحان میں ناکامی کے بعد اس کا ذہن بیماری میں جائے پناہ ڈھونڈے گا۔ یہ سب وہ غیر شعوری طور پر کرے گا۔خواتین میں شادی نہ ہونے سے یہ بیماری نہیں ہوتی۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اس صورتحال میں لڑکیوں کو جس تکلیف دہ رویوں اور باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ان کا ذہن برداشت نہیں کر سکتا اور صرف معاشرتی رویوں کی وجہ سے ایک صحت مند شخص ایک مریض بن جاتا ہے۔اگر مریض خود اور مریض کے گھر والے مرض کو اچھی طرح سمجھ لیں تو علاج کا مرحلہ آسان ہو جاتا ہے۔اپنے پیاروں کو تکلیف نہ دیں کسی کے لئے زندگی اتنی مشکل نہ بنائیں کہ وہ بیماری ہو جائیں اور جائے پناہ ڈھونڈے۔علاج کی ذمہ داری معالج کی ہے لیکن بحیثیت ایک انسان ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے ارد گرد رہنے والوں اور اپنے پیاروں کو اپنے الفاظ اور رویوں سے تکلیف نہ دیں ۔کسی کے لئے زندگی اتنے مشکل نہ بنائیں کہ وہ بیماری میں جائیں پناہ ڈھونڈے۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی ذہنی صحت کا بھی اتنا ہی خیال رکھیں جتنا جسمانی صحت کا رکھتے ہیں۔ والدین اولاد کی تربیت کریں لیکن انہیں بے مقصد مقابلہ بازی کی دوڑ میں نہ ہانکیں ۔زوجین ایک دوسرے کے جذبات اور احساسات کا خیال کریں ۔ایک دوسرے سے اپنے احساسات شیئر کریں۔ کوشش کریں کہ اپنے ارد گرد کوئی اپنی ذہنی اذیت اور تکلیف میں جذباتی طور پر اتنا تنہا نہ رہ جائے کہ اسے ایسی کسی بیماری کا سامنا کرنا پڑے۔٭…٭…٭