آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم نو اور خواتین
اسپیشل فیچر
1934ء میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انگلستان سے واپسی کے بعد برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کی ازسرنو تنظیم کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی کوششوں سے مسلم لیگ بتدریج آگے بڑھنے لگی لیکن اس کی سب سے زیادہ مخالف سیاسی جماعت آل انڈیا نیشنل کانگریس نے اس کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کر لیا۔ ہندو رہنما مسلم لیگ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ماننے کو تیار نہ تھے جبکہ قائداعظمؒ نے ان پر یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں اور آل انڈیا مسلم لیگ برصغیر کے مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت ہے۔ 1937ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے حصہ لیا لیکن نتائج حوصلہ افزا نہ تھے اور کانگریس نے لیگ کی نسبت بہتر کامیابی حاصل کی اور مسلم لیگ سے عدم تعاون کرتے ہوئے اپنے اکثریتی صوبوں میں کانگریسی حکومتیں قائم کر لیں جن کی مسلمانوں پر مظالم کی داستان تاریخ میں رقم ہے۔ قائداعظمؒ نہایت ثابت قدمی سے مسلمانان ہند کی نمائندہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کو منظم کرنے کی طرف متوجہ رہے اور مسلمانوں کو لیگی جھنڈے تلے متحد کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ ان کی جدوجہد کا مثبت نتیجہ اس وقت نکلا جب 1937ء میں معروف مسلم رہنماؤں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ ان حضرات میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سر سکندر حیات خان، بنگال کے وزیر اعلیٰ مولوی اے کے فضل الحق اور آسام کے وزیر اعلیٰ محمد سعد اللہ کے نام خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم نو کے موقع پر برصغیر کی مسلمان خواتین کو فراموش نہیں کیا جا سکتا تھا جو اس وقت اگرچہ بہت فعال تو نہ تھیں پھر بھی انہوں نے اپنے طور پر سیاسی سرگرمیوں میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ اس سلسلے میں محترمہ فاطمہ جناح، بیگم مولانا محمد علی جوہر، بیگم جہاں آرا شاہ نواز، بیگم نواب اسماعیل خان، بیگم شائستہ اکرام اللہ، محترمہ فاطمہ بیگم اور دیگر مسلم خواتین میدان عمل میں اتر چکی تھیں جن کی وجہ سے مسلمان خواتین میں بیداری کی لہر پیدا ہونے لگی تھی۔ قائداعظمؒ نے سنجیدگی سے محسوس کیا کہ قوم کی خواتین کو بھی مسلمانوں کی جدوجہد میں شامل کرنا ضروری ہے۔ آپ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ خواتین کو بھی سیاست میں حصہ لینا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ایما پر مسلم لیگی خواتین کی مرکزی سب کمیٹی کی تشکیل کی گئی جس کی سرکردگی میں برصغیر پاک و ہند کی مسلمان خواتین نے مسلم لیگ کی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ایک حوالے کے مطابق 14 ستمبر 1948ء کو لندن کے کیکسٹن ہال میں قائداعظمؒ کی یاد میں ایک بڑا تعزیتی جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت سیکرٹری آف سٹیٹ سر پیتھک لارنس نے کی۔ اس اجلاس میں جن مقررین نے خطاب کیا ان میں مشہور خاتون لیڈر مس اگیتھا ہیریسن نے بھی خطاب کیا تھا۔ اس خاتون نے قائداعظمؒ کے لندن میں تعلیمی دور کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے ایسے واقعات کا ذکر کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قائداعظمؒ مسلم لیگ کی تنظیم نو کے دور سے بہت پہلے خواتین کی سیاسی تربیت کے حامی تھے۔ اس دور کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اگیتھا ہیریسن نے کہا:’’جب قائداعظمؒ لندن میں زیرتعلیم تھے اس وقت خواتین کے لیے حق رائے دہی کی تحریک زور پکڑتی جا رہی تھی لیکن ہمارے ہمدردوں اور معاونوں کی تعداد محدود تھی۔ تاہم نوجوان جناح ہمیشہ ہمارے جلسوں میں شرکت کرتے۔ انہوں نے ہمیشہ خواتین کے حق رائے دہی کے دفاع میں تقریریں کیں، اس وقت بھی انہیں اس بات کا ڈر نہ تھا کہ وہ ایک غیر مقبول مقصد کی پرزور حمایت کر رہے ہیں… نہیں انہوں نے کبھی حق بات کہنے سے گریز نہیں کیا۔ طالب علمی کے زمانے میں بھی اور زندگی کی معراج پر پہنچنے کے بعد بھی۔‘‘