بابا بلھے شاہؒ
اسپیشل فیچر
حضرت بابا بلھے شاہؒ کی پیدائش 1680ء بمطابق1091ھ میں ہوئی۔ آپؒ کے والدین نے آپ کا نام عبداللہ شاہ رکھا اورموضع اوچ گیلانیہ میں آپؒ نے ابتدائی عمر کے چھ سال گزارے۔ آپ کی شاعری اور عارفانہ کلام کو ساری دنیا میں لوگ ذوق و شوق سے سنتے ہیں اور آج بھی آپؒ کے کلا م میں وہ اثر ہے کہ سننے والے کو بے خود کر دیتا ہے۔ روایت میں اس عظیم ولیٔ کامل کے بچپن کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ آپؒ اپنے دوستوں کے ہمراہ کھیل کود میں مشغول تھے کہ آپؒ کے والد سخی شاہ محمد آپؒ کو ڈھونڈتے ہوئے اس جگہ آ پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ معصوم بیٹا ہاتھ میں تسبیح لئے پنجابی اشعار پڑھ رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا مال کھاتے رہے اور ایسی حالت میں تسبیح پھیرتے رہے اور کچھ حاصل نہ ہوا یعنی اللہ کی رضا حاصل نہ کر سکے۔ آپؒ کے والد آپؒ کی اس بات سے بہت متاثر ہوئے کہ ان کا بیٹا بچپن سے عارفانہ ذوق رکھتا ہے۔ اسی طرح روایت میں لڑکپن کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ آپؒ اپنے مویشی چرا رہے تھے کہ سستانے کے لئے ایک درخت کے نیچے آرام کرنے لگے۔ آپؒ کی آنکھ لگ گئی اور مویشی برابر والے کھیتوں میں چلے گئے اور فصلیں اجاڑنے لگے۔ یہ دیکھ کر فصلوں کا مالک غصے سے آپؒ کے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک ناگ آپؒ کے قریب بیٹھا ہے اور آپؒ آرام سے سو رہے ہیں۔ وہ خوف زدہ ہو گیا اور سمجھا کہ شائد ناگ نے آپؒ کو کاٹ لیا ہے۔ اس نے فوراً آپؒ کے والد سخی شاہ محمد کو بلایا۔ جیسے ہی وہ آئے ناگ بھاگ گیا۔ آپ نے اپنے بیٹے کو جگایا اور کہا کہ تم سو گئے اور ہمسائیوں کی فصلیں تباہ ہو گئیں تو آپؒ کہنے لگے کہ فصلیں تو بالکل ٹھیک ہیں جیسے خود دیکھ رہے ہوں اور پھر کہا کہ آئیں دیکھ لیتے ہیں۔ جب سب وہاں گئے تو فصلیں پہلے سے بھی زیادہ شاداب تھیں۔ فصلوں کا مالک حیرت زدہ ہو گیا۔ وہ ناگ کی موجودگی کی وجہ سے بھی حیرت زدہ تھا۔ بہرحال بچپن سے آپؒ کی کرامات کا صدور ہونے لگا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ آپؒ علاقہ پانڈومیں رہائش پذیر تھے کہ وہاں قحط آگیا لوگ تنگ دست ہو گئے تو آپؒ نے خلق خدا کی مشکل کو دیکھتے ہوئے یہ اعلان کر دیا کہ وہ اپنے ڈیرے کا فرش اونچا کرنا چاہتے ہیں جو دن بھر مٹی ڈالے گا اسے دو آنے یومیہ اجرت ملے گی۔ چنانچہ بہت سے لوگ یہ کام کرنے لگے اور سب کو روزگار مل گیا۔ آپؒ روزانہ شام کو اپنے مصلے کے نیچے سے رقم نکالتے اور لوگوں کو دے دیتے۔ ایک رات دو مزدوروں کی نیت خراب ہو گئی اور انہوں نے مصلے کے نیچے سے ساری رقم چوری کرنے کا ارادہ کیا۔ اسی خیال سے وہ رات بھر آپ کے مصلے کے نیچے رقم تلاش کرتے رہے لیکن انہیں کچھ نہ ملا اور مایوس لوٹ گئے۔ اگلے دن انہوں نے پھر مزدوری کی۔ جب آپؒ سے مزدوری لینے آئے تو آپؒ نے اُنہیں دگنی اجرت دی۔ انہوں نے پوچھا کہ انہیں کیوں زیادہ اجرت دی گئی ہے تو آپؒ نے فرمایا کہ یہ بیچارے رات کو بھی مزدوری کرتے رہے ہیں، اس لئے انہیں دُگنی اجرت دے رہا ہوں۔ یہ سن کر وہ دونوں مزدور سخت شرمندہ ہوئے۔ اسی طرح مجھے بھی اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے کہ ایک دفعہ دل میں بہت شدت سے خواہش پیدا ہو ئی کہ قصور جائوں بابا بلھے شاہؒ کے مزار پر، لیکن اپنی مصروفیات ذہن میں آئیں اور یہ بھی مسئلہ ذہن میں آیا کہ وہاں تو کوئی عزیز بھی نہیں ہے ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔ انہی وجوہات کی بنا پر ارادہ ترک کر دیا۔ پھر اچانک چند روز میں ایک ضروری کام سے لاہور جانا پڑ گیا بلکہ ٹھہرنا بھی پڑا، تو ایک عزیز سے رابطہ کیا تاکہ اُن کے گھر ٹھہرا جا سکے۔ معلوم ہوا کہ وہ فیروزپور روڈ پر کافی آگے کسی علاقے میں شفٹ ہو گئے ہیں۔ بہرحال وہاں جانا پڑا۔ میزبانوں سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ قصور اور بابا بلھے شاہؒ کا مزار تو تھوڑے ہی فاصلے پر ہے۔ جیسے ہی میں نے یہ سنا تو ایک لمحے کے لئے مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ اس لئے کہ ابھی دوتین دن پہلے ہی تو میرا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ بابا جیؒ کے مزار پر حاضری دوں اور فوراً ہی انہوں نے بلا لیا۔ پھر رات گزارنے کے بعد صبح صبح ہی پہلے میں نے با با جیؒ کے مزار پر حاضری دی اور جو محسوس کیا وہ نا قابل بیان ہے۔ بہرحال آپؒ کی کرامات اور کمالات آج بھی جاری و ساری ہیں، لیکن اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کے ولیوں کا یہ کردار تھا جس کی وجہ سے دین پھیلا اور وہ اپنے عمل سے لوگوں کو دین کی دعوت دیتے رہے اور یہ بھی سمجھاتے رہے کہ اللہ کے بندوں سے محبت کرنا ہی اسلام کی عین تعلیمات ہیں اور جب کوئی بندہ اللہ کی عبادت اور اس کے بندوں کی خدمت میں لگ جاتا ہے تو پھر اللہ بھی اسے اپنا ولی اور دوست بنا لیتا ہے۔ پھر اس کے ہاتھ سے کرامات کا صدور بھی ہوتا ہے اور اس کی نظر بھی تیز ہو جاتی ہے۔ آپؒ کا وصال 1181ء میں ہوا اور آپؒ کا مزار قصور میں مرجع خلائق ہے۔٭…٭…٭