عربی خط کی ابتدا
اسپیشل فیچر
عربی خط کے ماخذ اور سرچشمے کے متعلق قدیم علما، جدید محققین اور مستشرقین کے درمیان بڑا اختلاف ہے۔ ساری بحث و تحقیق کا خلاصہ ڈاکٹر صلاح الدین المنجد نے یہ بیان کیا ہے۔ عربی خط کے ماخذ کے متعلق تین نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ ۱۔ عربی خط سریانی خط سے ماخوذ ہے ۔ ۲۔ خط عربی انبار سے حیرہ اور پھر وہاں سے مکہ پہنچا ہے۔ ۳۔ خط عربی خط مسند سے مشق ہے۔ اسلام سے قبل کے تحریر کردہ عربی خط کے جو کتبات اب تک دریافت ہو چکے ہیں ان کے مطالعے اور تجزیے سے ہی یہ ممکن ہے کہ مذکورہ بالا نظریات کی صحت و سقم کے متعلق کوئی رائے قائم کی جائے۔ کسی نظریے کی تائید میں محض کسی قدیم کتاب کا حوالہ کافی ثبوت نہیں ہے۔ عربی قدیم کے کتبات بترا (Petra) میں نبطیوں کے علاقے سے ملے ہیں۔ اس زمانے میں وہاں سریانی کا اثر بالکل نہیں تھا۔ سریانی کا غلبہ حیرہ کی ریاست میںتھا۔ وہ ایک عیسائی ریاست تھی۔ مگر وہاں سے کوئی عربی کتبہ دریافت نہیں ہوا۔ خط مسند اور خط عربی میں بڑا فرق ہے۔ الفہرست کے صفحہ ۸ پر ابن ندیم لکھتا ہے!’’اہل یمن کے عمر رسیدہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ خط مسند میں الف با تا عربی الف با تا سے مختلف تھی۔‘‘اس جملے سے یہ فرق واضح ہے، اب واضح نظریہ یہ باقی بچا کہ عربی نبطی خط سے ماخوذ ہے، قدیم عربی خط کے نمونے بھی نبطی خط کے علاقے سے ہی دریافت ہوئے۔ موجودہ اردن کے علاقے میں قدیم زمانہ میں ایک عربی ریاست قائم تھی۔ یونانی اس کو Petra، عربی بترا اور تدمر کہتے تھے۔ یہ ریاست پہلی صدی قبل عیسوی میں قائم ہوئی تھی۔ اس ریاست کے بانی نبطی تھے جو نسلاً عرب ہی تھے اور عربی زبان کا ایک خاص لہجہ بولتے تھے۔ ان کے دو مرکزی شہر تھے۔ سلع یا بترا شمال میں اور حجر اور مدائن صالح جنوب میں۔ سنہ ۸۵ ق م میں انہوں نے سلوقیوں سے دمشق کا تاریخی شہر بھی حاصل کر لیا تھا۔ تجارتی شاہراہ پر واقع بصریٰ ان کی تجارتی منڈی تھا۔ یہ ایک سرسبز اور شاداب علاقہ تھا۔ یمن سے روم (ترکی) جانے والی بین الاقوامی تجارتی شاہراہ یہاں سے گزرتی تھی۔ ہندوستان وغیرہ سے آمدہ مال اسی راستے سے یورپ منتقل ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے یہاں تجارت کو بڑا فروغ حاصل تھا۔ تجارت کی برکت سے یہ قوم بڑی آسودہ حال تھی۔ تہذیب و تمدن نے بھی یہاں ترقی کی تھی۔ ۱۰۶ء میں یہ ریاست رومی سلطنت میں ضم ہو گئی تھی مگر اس کے بعد بھی وہاں تمدن کو فروغ حاصل ہوتا رہا۔ فن تعمیر میں بھی انہوں نے بڑی مہارت حاصل کی تھی۔ پہاڑوں کو کاٹ کر یہ مکانات بناتے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ تجارتی ضروریات نے ان کو تحریر کی ضرورت کا احساس دلایا۔ پہلے تو انہوں نے اپنے علاقے میں رائج آرامی خط کو استعمال کیا۔ پھر کچھ مدت کے بعد انہوں نے ایک نیا خط اختراع کر لیا۔ اس کو خط نبطی کہتے ہیں۔ نبطی خط کی بعض خصوصیات بڑی نمایاں ہیں:۱۔ نبطی حروف تہجی کے چند حروف پوری ترکیب قبول کرتے ہیں، یعنی واصل بھی ہوتے ہیں اور موصول بھی۔ جیسے ب، ک، م وغیرہ۔ ۲۔ بعض حروف جزئی ترکیب قبول کرتے ہیں یعنی صرف موصول بنتے ہیں جیسے دال، ذ، ر، ز، و وغیرہ۔ ۳۔ بعض حروف کی شکل لفظ کے آغاز میں ایک ہوتی ہے اور آخر میں دوسری ہوتی ہے جیسے مہم، مہ، یہ، ہی وغیرہ۔ ۴۔ تائے تانیث کو بھی تائے مبسوطہ لکھتے ہیں۔ امۃ کو امت لکھتے ہیں۔ ۵۔ الف کے اسفل میں داہنی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں۔ ۶۔ بعض الفاظ میں سے الف کو حذف کر دیتے ہیں جیسے رحمن، اسمٰعیل۔ نبطیوں کے تجارتی قافلے اندرون عرب میں جاتے تھے۔ عرب قبائل سے ان کے گہرے رابطے تھے۔ ان کی اپنی زبان بھی عربی کا ہی ایک لہجہ تھی۔ ان اسباب کی بنا پر عربی زبان کے لیے نبطیوں کا خط اختیار کیا گیا۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت تو یہ ہے کہ نبطی خط کی امتیازی خصوصیات عربی خط میں موجود ہیں۔ دوئم، عربی تحریر کا انتہائی قدیم کتبہ ام الجمال کا کتبہ ہے جس کا زمانہ تحریر ۲۵۰ عیسوی ہے اور آخری کتبہ چھٹی صدی عیسوی کا ہے۔ یہ دونوں کتبے نبطیوں کے علاقے سے دستیاب ہوئے ہیں۔ ان شواہد کی بنا پر یہ رائے قرین صواب ہے کہ عربی خط درحقیقت نبطی خط سے ماخوذ ہے۔ عربی خط کا مولد و منشا نبطیوں کا علاقہ ہے۔ بہت ممکن ہے کہ نبطی عربوں نے ہی حجازی عربی کو تحریر میں لانے میں سبقت لی ہو۔ قدیم مؤرخ بلاذری نے لکھا ہے کہ عربی خط حیرہ سے دومۃ الجندل آیا۔ وہاں سے حرب بن امیہ کے ذریعے مکہ میں داخل ہوا۔ اس بیان کو آثار کی تائید حاصل نہیں ہے۔ حیرہ کے علاقے میں آج تک عربی زبان کا کوئی کتبہ نہیں ملا۔ بہرکیف اتنی بات یقینی ہے کہ عربی خط مکہ میں رسول اللہؐ کی بعثت سے قبل داخل ہو چکا تھا۔ ۱۷،۱۹ افراد وہاں لکھنا پڑھنا جانتے تھی۔ ابن ندیم نے الفہرست میں اس خط کو مکی خط کا نام دیا ہے۔