ورزش کی 4 اہم اقسام

ورزش کی 4 اہم اقسام

اسپیشل فیچر

تحریر : رضوان عطا


ورزش اچھی صحت کی کلید ہے لیکن ہم اکثر ایک یا دو اقسام کی ورزشوں تک خود کو محدود کر لیتے ہیں۔ لوگ اسی ورزش کو کرتے رہتے ہیں جو انہیں پسند ہو یا فائدہ مند لگے۔ اس سے ورزش اور فٹنس کے بعض پہلو نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ دراصل ہمیں ایروبکس، لچک، مضبوطی اور توازن چاروں اقسام کی ورزشیں کرنی چاہئیں۔ ذیل میں ان اقسام کے بارے میں اہم باتیں بتائی گئی ہیں۔ 
ایروبک ورزش
ایروبک ورزش دل کی دھڑکن اور سانسوں کی رفتار کو تیز کرتی ہے۔ یہ جسم کے بہت سے افعال کے لیے اہم ہے۔ یہ آپ کے دل اور پھیپھڑوں میں قوت برداشت پیدا کرتی ہے۔ یہ دل اور پھیپھڑوں کو خاطر خواہ خون پہنچانے میں معاون ہوتی ہے۔
ایروبک ورزش سے شریانوں کی دیواروں کو آرام ملتا، فشار خون کم ہوتا ہے، جسم کی چربی گھلتی، خون میں شکر کی سطح میں کمی ہوتی ہے، سوزش گھٹتی ہے، موڈ بہتر ہوتا ہے اور ''اچھے‘‘ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے۔ وزن میں کمی سے ''برے‘‘ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح بھی گھٹ جاتی ہے۔ طویل المدت عرصے میں ایروبک ورزش سے دل کے امراض، فالج، ٹائپ 2 ذیابیطس، سینے اور کولون کے سرطان، یاسیت اور کام کرتے ہوئے گرنے کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ آپ ہفتے میں اس قسم کی درمیانی شدت کی 150 منٹ کی سرگرمی کو مقصد بنائیں۔ تیز چہل قدمی، تیراکی، جاگنگ اور سائیکلنگ کریں یا رقص اور سٹیپ ایروبک جیسی سرگرمی کی کلاسیں لیں۔ 
مثال: اس قسم کی ورزش کی ایک مثال ایک جگہ پر مارچ کرنا ہے۔ یہ ورزش کچھ یوں ہو گی۔ 
پاؤں ملا کر اور ہاتھوں کو اطراف میں چھوڑ کر سیدھے کھڑے ہوں۔ اپنی کہنیوں کو خم دیں اور گھٹنوں کو اٹھاتے ہوئے بازوؤں کو ہلائیں، یوں آپ کی حرکت مارچ جیسی ہو جائے گی۔ ایک جگہ کھڑے ہو کر مارچ کریں، یا مارچ کرتے ہوئے چار قدم آگے بڑھائیں اور پھر چار قدم پیچھے آئیں۔ مارچ کے دوران پاؤں کو کبھی کھولتے اور کبھی ملاتے جائیں۔ اس دوران نظر سامنے رہے اور پیٹ کو کس کر رکھیں۔ سانس آرام سے لیں اور مٹھیوں کو زیادہ مت دبائیں۔ 
اگر آسان ورزش کرنی ہے تو آہستہ سے مارچ کریں اور اپنے گھٹنوں کو زیادہ اوپر مت اٹھائیں۔ اگر سخت ورزش کرنی ہے تو گھٹنوں کو زیادہ اوپر اٹھائیں، تیز مارچ کریں اور ہاتھوں کو بھی زیادہ اوپر لائیں۔ 
مضبوطی کی ورزش
جوں جوں ہماری عمر بڑھتی جاتی ہے ہمارے پٹھوں کا حجم کم ہوتا جاتا ہے۔ مضبوطی کی ورزش اس کا ازالہ کرتی ہے۔ باقاعدگی سے مضبوطی کی ورزش سے آپ کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ باغبانی کرنے اور سامان اٹھانے جیسے روزمرہ کے کاموں کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے کرسی اور فرش سے اٹھنے اور سیڑھیاں چڑھنے کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ 
پٹھوں کی مضبوطی نہ صرف آپ کو طاقت دیتی ہے بلکہ اس سے ہڈیوں کی نمو کو تحرک ملتا ہے، خون میں شکر کم ہوتی ہے، وزن مناسب رہتا ہے، توازن اور جسمانی وضع قطع بہتر ہوتی ہے، کمر کے نیچے اور جوڑوں پر دباؤ اور درد میں کمی آتی ہے۔ 
فزیکل تھراپسٹ آپ کو مضبوطی کی ورزش کا منصوبہ بنا کر دے سکتا ہے جس پر آپ جم، گھر یا کام کی جگہ پر ہفتے میں دو سے تین بار عمل کر سکتے ہیں۔ اس میں عموماً جسمانی وزن اٹھانے والی ورزشیں جیسا کہ ''سکواٹ‘‘، پُش اپ، اور ''لنجز‘‘ (lunges) شامل ہوتی ہیں۔ نیز بیرونی وزن اٹھانے اور لچکدار رسیاں کھینچنے کی ورزشیں بھی اس کا حصہ ہیں۔
یاد رکھیں کہ ان سے ورزش کے اختتام پر پٹھوں میں تھکان کا احساس ہونا اہم ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے پٹھوں کی مؤثر انداز میں ورزش ہو رہی ہے۔ 
مثال: مضبوطی کی ایک ورزش ''سکواٹ‘‘ ہے۔ یہ کچھ یوں کی جاتی ہے۔ 
اپنے پاؤں کندھوں کے برابر پھیلا کر اور بازوؤں کو کندھوں کے ساتھ نیچے لٹا کر کھڑے ہوں۔ آہستہ آہستہ اپنے کولہوں اور گھٹنوں کو آٹھ انچ تک نیچے لائیں۔ آپ کی حالت ایسے ہو جائے گی جیسے آپ کرسی پر بیٹھے ہوں۔ توازن قائم کرنے کے لیے اپنے بازوؤں کو آگے لے جائیں۔ اپنی کمر سیدھی رکھیں۔ آہستہ آہستہ اپنی ابتدائی حالت میں واپس آ جائیں۔ اسے آٹھ سے 12 بار دہرائیں۔ اس دوران اپنا وزن ایڑیوں پر منتقل کریں۔
آسان ورزش کے لیے کرسی کے آخری حصے پر بیٹھیں۔ ٹانگیں قدرے کھلی ہوں اور بازو سینے پر بندھے ہونے چاہئیں۔ پیٹ کے پٹھوں کو کَس کر رکھیں اور اوپر اٹھیں۔ پھر خود کو سنبھالتے ہوئے آہستہ آہستہ بیٹھ جائیں۔ سخت ورزش کے لیے زیادہ نیچے تک جائیں لیکن اتنا نہیں کہ آپ کی رانیں فرش کے مساوی زاویے پر آ جائیں۔ 
لچک کی ورزش
ایسی ورزشیں جسمانی لچک پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔ ہم نوجوانی میں، جب پٹھے صحت مند ہوتے ہیں، اس قسم کی ورزشوں کو اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں اور ٹینڈنز کی لچک میں کمی ہو جاتی ہے، پٹھے سکڑ جاتے ہیں اور اپنے افعال درست طور پر انجام نہیں دیتے۔ اس سے پٹھوں کی اکڑن، تکلیف اور موچ کے علاوہ جوڑوں کے درد اور گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے روزمرہ کے امور مثلاً جھک کر جوتوں کے تسمے باندھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ 
ورزش کے ذریعے باقاعدگی سے پٹھوں کا کھچاؤ انہیں زیادہ لمبا اور لچکدار بناتا ہے جس سے حرکت کرنے کا دائرہ بڑھ جاتا ہے، تکلیف اور انجری کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ لچک کی ورزشوں سے قبل پٹھوں کو وارم اپ کریں۔ ایک جگہ کھڑے ہو کر مسلسل ''چلنے‘‘ یا ہاتھوں کو دائروں میں بار بار گھمانے سے ایسا کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پٹھوں کو خون اور آکسیجن دونوں ملتے ہیں اور وہ تبدیلی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد لچک کی جامد ورزشیں کریں (مثلاً 60 منٹ تک کسی عضو میں کھچاؤ لانا اور اسے اسی حالت میں رکھنا)۔ پنڈلی، کولہا، ران، کندھے، گردن اور کمر کے نچلے حصے کے لیے ایک ہی حالت میں رہ کر کھچاؤ لانے والی ورزشیں کریں۔ اتنا کھچاؤ نہ لائیں کہ درد ہونے لگے۔ ایسا کرنے سے پٹھے سخت ہو جاتے ہیں اور اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ 
مثال: اس قسم کی ایک ورزش گھٹنے گھمانا ہے جو کچھ یوں کی جاتی ہے۔ 
اپنی کمر کے بل لیٹ جائیں اور ٹانگوں کو فرش پر پھیلا دیں۔ اپنے کندھوں کو فرش پر ڈھیلا چھوڑ دیں۔ بائیں گھٹنے کو خم دیں اور بایاں پاؤں دائیں پاؤں کی ران پر رکھیں۔ پیٹ کے پٹھوں کو کَس لیں۔ اب دائیں ہاتھ سے بائیں گھٹنے کو پکڑیں اور آہستہ سے اسے دائیں جانب کھینچیں۔ 10 سے 30 سیکنڈ تک اسی حالت میں رہیں۔ پھر ابتدائی حالت میں واپس آ جائیں اور پھر دوسرے پاؤں کے ساتھ یہی ورزش کریں۔ گھٹنے میں ہاتھ سے اس درجے تک کھچاؤ لائیں کہ درد نہ ہو۔ دونوں کندھے فرش پر سیدھے رکھیں۔ لچک میں اضافے کے لیے گھٹنے کو کھینچتے وقت مخالف سمت میں دیکھیں۔ 
توازن کی ورزش
توازن کی ورزش سے آپ کے پاؤں جمے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور آپ کاموں کے دوران گرنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ بڑھاپے میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جب توازن قائم کرنے کا نظام...نظر، کان کا اندرونی حصہ، ٹانگوں کے پٹھے اور جوڑ... ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ توازن کی ورزش سے ان نقصانات کا ازالہ ہوتا ہے۔ بہت سے معیاری مراکز اور جم توازن پر مبنی ورزش کی کلاسز، مثلاً تائی جی یا یوگا، کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایسی ورزشیں عمر کے کسی بھی حصے میں شروع کی جا سکتی ہیں۔ اگر آپ کو توازن برقرار رکھنے کا مسئلہ نہ ہو تب بھی انہیں کرنا چاہیے۔ توازن قائم رکھنے کی استعداد کو جانچنے یا اس میں کمزوری کی صورت میں آپ کسی فزیکل تھراپسٹ کی مدد لے سکتے ہیں بالخصوص تب جب آپ گر جائیں یا گرتے گرتے بچ جائیں یا آپ کو گرنے کا خوف رہتا ہو۔ توازن بہتر بنانے کی روایتی ورزشوں میں ایک پاؤں پر کھڑا ہونا یا ایڑی اور پنجے کو آگے پیچھے رکھ کر چلنا شامل ہیں۔ 
مثال: توازن کے لیے ایک ورزش کھڑے ہو کر گھٹنے اٹھانا ہے۔ 

ٹانگیں جوڑ کر سیدھے کھڑے ہو جائیں اور ہاتھوں کو کولہے پر رکھ لیں۔ گھٹنوں کو اتنا اوپر اٹھائیں جتنا بآسانی اٹھا سکیں، یا اتنا کہ ران فرش کے مساوی ہو جائے۔ اسی حالت میں رکیں اور پھر آہستہ آہستہ ابتدائی حالت میں آ جائیں۔ یہ ورزش تین سے پانچ بار کریں۔ پھر تین سے پانچ مرتبہ دوسرے پاؤں کے ساتھ یہ ورزش کریں۔ سینہ اوپر، کندھے نیچے اور پیچھے کی طرف رکھیں۔ اگر ضرورت پڑے تو توازن کے لیے ہاتھوں کو باہر کی جانب پھیلا لیں۔ ورزش کے دوران پیٹ کے پٹھوں کو کَس کر رکھیں۔ سانس آرام سے لیں۔ آسان ورزش کرنا چاہیں تو کرسی کی پشت وغیرہ کو ایک ہاتھ سے پکڑ لیں۔ اگر سخت کرنا چاہیں تو فرش کے قریب آنے پر پاؤں سے اسے چھوئیں نہیں اور ٹانگ کو پھر اٹھا دیں۔ (ماخذ: ہارورڈ میڈیکل سکول)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
نیند سے بیماریوں کی پیشگوئی AI پروگرام ’’سلیپ ایف ایم ‘‘ متعارف

نیند سے بیماریوں کی پیشگوئی AI پروگرام ’’سلیپ ایف ایم ‘‘ متعارف

ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیتایک خراب رات کی نیند کا مطلب صرف اگلے دن تھکن اور آنکھوں کی سْستی نہیں ہے، بلکہ یہ مستقبل میں آنے والی بعض بیماریوں کے بارے میں بھی اشارے دے سکتی ہے۔ جدید سائنس نے نیند کے رازوں کو سمجھنے میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایک ایسا پروگرام تیار کیا گیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر آپ کے ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے، وہ بھی تشخیص سے سالوں قبل۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق، یہ ماڈل نیند کے دوران دماغی لہروں، دل کی دھڑکن، سانس اور دیگر حیاتیاتی عوامل کا تجزیہ کر کے مستقبل کی ممکنہ بیماریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔سائنسدانوں نے ایک نیا مصنوعی ذہانت (AI) پروگرام تیار کیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے ۔اس ماڈل کو ''سلیپ ایف ایم‘‘ (SleepFM) کا نام دیا گیا ہے اور اسے 65ہزار شرکاء کے 5لاکھ 85ہزارگھنٹوں کے نیند کے ڈیٹا پر تربیت دی گئی ہے۔یہ ڈیٹا پولیسومنوگرافی (polysomnography) نامی نیند کے جائزے سے حاصل کیا گیا، جو دماغی لہروں، آنکھوں کی حرکت، پٹھوں کی سرگرمی، دل کی دھڑکن، سانس لینے اور آکسیجن کی سطح کو ریکارڈ کرتا ہے۔اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے پولیسومنوگرافی کے ڈیٹا کا موازنہ الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز سے کیا، جن میں سے کچھ 25 سال پر محیط تھے۔انہوں نے دریافت کیا کہ 130 مختلف بیماریوں کا اندازہ مریض کے نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر معقول درستگی کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے۔ماڈل کی پیش گوئیاں خاص طور پر کینسر، حمل کے دوران پیچیدگیاں، گردش خون کی بیماریاں اور ذہنی عوارض کیلئے درست ثابت ہوئیں۔مصنف جیمز زو(James Zou) کے مطابق ''سلیپ ایف ایم‘‘ بنیادی طور پر نیند کی زبان سیکھ رہا ہے۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ مختلف بیماریوں کیلئے یہ ماڈل معلوماتی اور کارآمد پیش گوئیاں کر سکتا ہے۔یہ پروگرام ہر بیماری کے زمرے کیلئے ایک عددی قدر دیتا ہے جو ''سی انڈکس‘‘ (C-index ) کہلاتا ہے۔ڈاکٹر زو کے مطابق تمام ممکنہ افراد کے جوڑوں کیلئے، ماڈل یہ درجہ بندی کرتا ہے کہ کون کس مرض کا پہلے شکار ہو گا۔''سلیپ ایف ایم‘‘ کو پارکنسن کی بیماری کی پیش گوئی میں 89 فیصد درست، ڈیمینشیا میں 85 فیصد درست اور دل کے دورے میں 81 فیصد درست پایا گیاہے۔ یہ ماڈل چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کی پیش گوئی میں بالترتیب 87 اور 89 فیصد درست نکلا، اور موت کے خطرے کی پیش گوئی میں بھی 84 فیصد درستگی حاصل کی گئی۔اگرچہ موجودہ نیند کے مطالعات میں خصوصی طبی آلات کی ضرورت ہوتی ہے، ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں پولیسومنوگرافی ایک طاقتور ابتدائی تشخیص کا آلہ بن سکتی ہے۔ ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگرچہ دل کی علامات گردش خون کی بیماریوں کیلئے سب سے زیادہ معلوماتی تھیں، دماغی سرگرمی کے سگنلز ذہنی اور عصبی حالات کیلئے بہتر تھے اور سانس کے سگنلز تنفسی عوارض کی پیش گوئی میں زیادہ معاون ثابت ہوئے۔ تاہم، بہترین مجموعی نتائج وہی آئے جو تمام اقسام کے سگنلز کو ملا کر استعمال کیے گئے۔ڈاکٹر زو نے کہاکہ اس تحقیق میں ہماری تکنیکی پیش رفت یہ ہے کہ ہم نے مختلف ڈیٹا ماڈالٹیز ( data modalities )کو ہم آہنگ کرنا سیکھا تاکہ یہ سب ایک زبان سیکھ کر ایک ساتھ کام کر سکیں۔ہم مصنوعی ذہانت (AI) کی پیش گوئیوں کو مزید بہتر بنانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، ممکن ہے کہ اس میں ویئر ایبل آلات جیسے ایپل واچ کا ڈیٹا بھی شامل کیا جائے۔جریدے Nature Medicine میں لکھتے ہوئے محققین نے کہا کہ نیند ایک بنیادی حیاتیاتی عمل ہے جس کے جسمانی اور ذہنی صحت پر وسیع اثرات ہیں، تاہم بیماریوں کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کو ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا۔ایک رات کی نیند کے ڈیٹا سے ''سلیپ ایف ایم‘‘130 مختلف حالتوں کی درست پیش گوئی کرتا ہے، جس کا ''سی انڈکس‘‘ کم از کم 0.75 ہے۔یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ فاؤنڈیشن ماڈلز ملٹی ماڈل نیند کے ریکارڈنگز سے نیند کی زبان سیکھ سکتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر، کم لیبل والے تجزیے اور بیماری کی پیش گوئی کو ممکن بناتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی نہ صرف بیماریوں کی بروقت شناخت ممکن بناتی ہے بلکہ علاج اور احتیاطی تدابیر کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ 

سکندریہ کا روشن مینار، انسانی تاریخ کا عظیم شاہکار

سکندریہ کا روشن مینار، انسانی تاریخ کا عظیم شاہکار

قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہونے والا اسکندریہ کا روشن مینار انسانی ذہانت، فنی مہارت اور سائنسی شعور کی شاندار علامت تھا۔ بحیرہ روم کے ساحل پر قائم یہ عظیم الشان مینار صرف جہاز رانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ یہ قدیم مصری اور یونانی تہذیب کے علمی و تعمیری کمالات کا بھی عکاس تھا۔ اس کی بلند و بالا ساخت، دور تک نظر آنے والی روشنی اور مضبوط تعمیر نے صدیوں تک اسکندریہ کی بندرگاہ کو دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل رکھا اور آج بھی یہ مینار تاریخ کے اوراق میں انسانی تخلیقی صلاحیت کا درخشاں استعارہ بن کر جگمگاتا ہے۔جب سکندراعظم نے 331 قبل مسیح میں مصر فتح کیا تو اس نے بحیرہ روم کے ساحل پر نئے شہر کی بنیاد رکھی جسے اس نے اپنے نام سے منسوب کرتے ہوئے سکندریہ کا نام دیا۔ سکندر کی موت کے بعد اس کے جرنیل بطلیموس اوّل نے مصر کا تخت سنبھالا۔ اس نے سکندریہ کو علم، تجارت اور طاقت کا مرکز بنانے کا عزم کیا۔ چونکہ سکندریہ کی بندرگاہ بہت مصروف تھی اور وہاں کا ساحلی علاقہ کافی خطرناک تھا، اس لیے بحری جہازوں کو چٹانوں سے بچانے کیلئے بلند و بالا مینار کی ضرورت محسوس کی گئی۔اس مینار کی تعمیر کا آغاز بطلیموس اوّل کے دور میں ہوا اور یہ اس کے بیٹے بطلیموس دوم کے دور 280 قبل مسیح میں مکمل ہوا۔ اس کی تعمیر کا ذمہ یونانی انجینئر سوسٹراٹس کے سپرد تھا۔ اس عظیم الشان عمارت کی تعمیر میں تقریباً 800 ٹیلنٹ (قدیم یونانی چاندی کی کرنسی) خرچ ہوئے، جو اس دور کے حساب سے ایک خطیر رقم تھی۔قدیم مؤرخین کے مطابق، سکندریہ کا روشن مینار اہرام مصر کے بعد دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک تھا۔ اس کی اونچائی 330 سے 450 فٹ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس کی تعمیر میں سفید سنگ مرمر اور بڑے پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس مینار کی بناوٹ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ نچلا حصہ چوکور تھا اور اس میں ملازمین کے رہنے کے کمرے اور سامان رکھنے کے گودام تھے۔ درمیانی حصہ ہشت پہلو تھا جو خوبصورتی کے ساتھ اوپر کی طرف جاتا تھا۔ اوپری حصہ گول تھا جہاں روشنی کا انتظام کیا گیا تھا۔مینار کے بالکل اوپر یونانی دیوتاؤں زیوس اور پوسائڈن کا مجسمہ نصب تھا۔اس مینار کی سب سے خاص بات اس کا روشنی کا نظام تھا۔ دن کے وقت سورج کی روشنی کو منعکس کرنے کیلئے بڑے بڑے کانسی کے آئینے استعمال کیے جاتے تھے، جن کی چمک میلوں دور سے نظر آتی تھی۔ رات کے وقت مینار کی چوٹی پر بہت بڑی آگ جلائی جاتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی روشنی 30 سے 50 میل کی دوری سے دیکھی جا سکتی تھی، جس کی بدولت جہاز ران بحفاظت بندرگاہ تک پہنچ پاتے تھے۔سکندریہ کا روشن مینار 1600 سال تک قائم رہا۔ اس دوران اس نے کئی جنگیں اور طوفان دیکھے۔ اسے سب سے زیادہ نقصان زلزلوں نے پہنچایا۔ 956ء میں آنے والے ایک زلزلے نے اس کی اوپری ساخت کو نقصان پہنچایا۔ 1303ء اور 1323ء کے شدید زلزلوں نے اسے کھنڈر میں بدل دیا۔ مشہور سیاح ابنِ بطوطہ نے 14ویں صدی میں جب یہاں کا دورہ کیا تو اس نے لکھا کہ مینار اتنی بری حالت میں ہے کہ اب اس کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں۔بالآخر 1480ء میں مصر کے سلطان قایتبائی نے اس کے بچے کھچے ملبے اور پتھروں کو استعمال کرتے ہوئے وہیں قلعہ تعمیر کروایا، جسے آج قلعہ قایتبائی کہا جاتا ہے۔سکندریہ کا مینار یونانیوں کے سائنسی اور ریاضیاتی کمال کا ثبوت تھا۔ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا زاویوں کا علم اور آئینے کا استعمال اس وقت کی بلند پایہ انجینئرنگ کو ظاہر کرتا ہے۔1994ء میں غوطہ خوروں اور ماہر آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے سکندریہ کی بندرگاہ کے قریب سمندر کی تہہ سے اس مینار کے وزنی پتھر اور مجسمے دریافت کیے۔ ان دریافتوں نے مؤرخین کو اس عظیم عمارت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی۔سکندریہ کا روشن مینار انسانی عقل اور ضرورت کے تحت تخلیق پانے والا ایسا شاہکار تھا جس نے انسانی جانیں بچائیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے فن تعمیر کے نئے راستے کھولے۔ اگرچہ آج یہ مینار موجود نہیں لیکن قدیم دنیا کے عجائبات میں اس کا مقام ہمیشہ بلند رہے گا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان جب علم اور ہنر کو یکجا کرتا ہے تو وہ ایسی چیزیں تخلیق کر سکتا ہے جو صدیوں تک دنیا کو متحیر کرتی رہتی ہیں۔ 

خلا کی حیرت انگیز تصویر!

خلا کی حیرت انگیز تصویر!

ستارے بنانے والی ''فیکٹری‘‘ کا انکشافکائنات کی وسعت اور اس کے اندر جاری تخلیقی عمل انسان کو ہمیشہ حیرت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک شاندار فلکیاتی تصویر نے اس حیرت کو مزید بڑھا دیا ہے، جس میں لارج میجیلانک کلاؤڈ (Magellanic Cloud) کے اندر موجود ایک عظیم الشان ستارہ ساز خطہ نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ علاقہ دراصل ایک ایسی ''فیکٹری‘‘ کی مانند ہے جہاں نئے ستارے جنم لے رہے ہیں اور کائناتی ارتقا کا عمل پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ یہ تصویر نہ صرف جدید سائنسی آلات کی ترقی کا ثبوت ہے بلکہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ہماری کائنات مسلسل تخلیق اور تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اس دریافت نے فلکیات کے شائقین اور سائنس دانوں دونوں میں گہری دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والی ایک نئی تصویر نے اس ہفتے کائنات کی گہرائیوں میں موجود ایک خوبصورت ''ستارے بنانے والی فیکٹری‘‘ کو آشکار کیا ہے۔ یہ تصویر لارج میجیلانک کلاؤڈ میں موجود خلا کے ایک ایسے حصے پر مرکوز ہے جو زمین سے تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ستارہ ساز فیکٹری سے نکلنے والی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سال لگے، یعنی ہم دراصل اسے ویسا ہی دیکھ رہے ہیں جیسا یہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سال قبل دکھائی دیتا تھا۔زمین پر اس وقت نیئنڈرتھل (Neanderthals) انسان تقریباً چالیس ہزار سال قبل ناپید ہوئے تھے، یعنی اس فیکٹری سے روشنی خارج ہونے کے بعد وہ مزید ایک لاکھ بیس ہزار سال تک ہماری زمین پر موجود رہے۔ یہ پیمانہ اس قدر وسیع اور ناقابلِ تصور ہے کہ خود یہ ستارہ ساز علاقہ بھی تقریباً ایک سو پچاس نوری سال تک پھیلا ہوا ہے۔سرد ہائیڈروجن کی گھنی گیسیں جو ستاروں کا ایندھن سمجھی جاتی ہیں، اس عظیم خطے میں بل کھاتی ہوئی پھیلی نظر آتی ہیں، اور جہاں نئے ستارے جنم لے رہے ہیں وہاں یہ گیسیں گہرے سرخ رنگ میں چمک رہی ہیں۔ کچھ بے قابو ستاروں نے طاقتور ستاروی ہواؤں کے ذریعے اپنے گرد و نواح کو جھنجھوڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں گیس کے اندر عظیم الجثہ بلبلے بن گئے ہیں۔ لارج میجیلانک کلاؤڈ ایک قریبی بونا، بے قاعدہ کہکشاں ہے جو ہماری کہکشاں ملکی وے کی ساتھی کہکشاں ہے اور آہستہ آہستہ اس کے گرد گردش کر رہی ہے۔ خود ملکی وے کی وسعت تقریباً ایک لاکھ نوری سال ہے۔ یہ کہکشاں زمین کے جنوبی نصف کرے میں ڈوراڈو اور مینسا کے ستاروں کے جھرمٹوں میں نظر آتی ہے اور تاریک آسمان میں ننگی آنکھ سے بھی ایک بڑے دھندلے بادل کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ گزشتہ تین دہائیوں سے زمین کے نچلے مدار میں گردش کر رہا ہے اور اس عرصے کے دوران کائنات کے دور دراز حصوں کو انسان کے سامنے آشکار کرتا رہا ہے۔ یہ منصوبہ ناسا اور یورپی خلائی ادارے (ESA) کا مشترکہ سائنسی منصوبہ ہے۔مزید یہ کہ اس طرح کی فلکیاتی تصاویر سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ ستاروں کی پیدائش کن مراحل سے گزرتی ہے اور کن حالات میں یہ عمل تیز یا سست ہو جاتا ہے۔ گیس اور گردوغبار کے یہی بادل بالآخر نئے شمسی نظاموں کی بنیاد بنتے ہیں، جن میں سیارے، چاند اور دیگر فلکی اجسام وجود میں آ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان خطوں کا مطالعہ ہمیں اپنے نظامِ شمسی کی ابتدائی تاریخ کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ یوں ہبل کی ہر نئی تصویر نہ صرف بصری حسن رکھتی ہے بلکہ انسانی علم میں ایک قیمتی اضافہ بھی ثابت ہوتی ہے۔ 

طنزومزاح: نجات کا طالب غالب

طنزومزاح: نجات کا طالب غالب

''ہاہاہا۔ میرا پیارامیر مہدی آیا۔ غزلوں کا پشتارہ لایا۔ ارے میاں بیٹھو، شعر و شاعری کا کیا ذکر ہے۔ یہاں تو مکان کی فکر ہے۔ یہ مکان چار روپے مہینے کا ہر چند کہ ڈھب کا نہ تھا لیکن اچھا تھا۔ شریفوں کا محلہ ہے۔ پہلے مالک نے بیچ دیا۔ نیا مالک اسے خالی کرانا چاہتا ہے۔ مدد لگا دی ہے۔ پاڑ باندھ دی ہے۔ اسی دوگز چوڑے صحن میں رات کو سوتا ہوں۔ پاڑ کیا ہے۔ پھانسی کی کٹکر نظر آتی ہے۔ منشی حبیب اللہ ذکا نے ایک کوٹھی کا پتہ دیا تھا جو شہر سے باہر ہے۔ سوار ہوا۔ گیا۔ مکان تو پر فضا تھا۔ احاطہ بھی، چمن اور گل بوٹے بھی۔ لیکن حویلی اور محل سرا الگ الگ نہ تھے۔ ڈیوڑھی بھی نہ تھی۔ بس ایک پھاٹک تھا۔ کمرے اور کوٹھریاں خاصی۔ کمروں کے ساتھ کولکیوں میں چینی مٹی کے چولہے سے بھی بنے تھے۔ معلوم ہوا بیت الخلاء ہیں۔ صاحبان انگریزان پر چڑھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک زنجیر کھینچتے ہی پانی کا تریڑا آتا ہے۔ سب کچھ بہالے جاتا ہے۔عجیب کارخانہ ہے۔ میں نے کرایہ پوچھا اور جھٹ کہا پانچ روپے منظور۔ ایک روپیہ زائد کی کچھ ایسی بات نہیں۔ لیکن مالک مکان کا کارندہ ہنسا اور بولا۔ پانچ روپے نہیں مرزا صاحب! پانچ سوروپے۔ میں نے کہا۔ خریدنا منظورنہیں۔ کرائے پر لینا ہے۔ وہ مردک سر ہلا کر کہنے لگا۔ پانچ سو کرایہ ہے اور دوسال کا پیشگی چاہیے یعنی بارہ ہزار دو اور آن اترو۔ یہاں چتلی قبر کے پاس دھنا سیٹھ نے حویلی ڈھاکر اونچا اونچا ایک مکان بنایا ہے۔ دو دو تین تین کمرے کے حصے ہیں۔ کلیان کو بھیجا تھا۔ خبر لایا کہ وہ پگڑی مانگتے ہیں۔ میں حیران ہوا۔ تمہیں معلوم ہے، میں پگڑی عمامہ کچھ نہیں باندھتا۔ ٹوپی ہے ورنہ ننگے سر۔ لوہارو والوں کے ہاں سے جو پگڑی پارسال ملی تھی، وہ نکلوا کے بھجوادی کہ دیکھ لیں اور اطمینان کرلیں کہ مکان ایک مرد معزز کو مطلوب ہے۔ وہ الٹے پاؤں آیا کہ یہ دستار نہیں چاہیے رقم مانگتے ہیں دس ہزار۔ کرایہ اس کے علاوہ ساٹھ روپے مہینہ۔ بڑے بدمعاملہ لوگ ہیں۔ آخر پگڑی پھر صندوق میں رکھوا دی۔ یہ مالک مکان کل آتا ہے۔ دیکھیے کیا کہتا ہے۔میرن صاحب آئیں۔ شوق سے آئیں۔ لیکن یہ گانے بجانے والوں میں نوکری کا خیال ہمیں پسند نہیں۔ میں نے دیکھا نہیں لیکن معلوم ہوا ہے کہ ایک کوٹھی میں مشینیں لگا کر اس کے سامنے لوگ گاتے ناچتے ہیں۔ شعر پڑھتے ہیں۔ تقریریں کرتے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں ایک ڈبا سامنے رکھ کر سن لیتے ہیں بلکہ اب تو اور ترقی ہوئی ہے۔ ایک نیا ڈبہ انگریز کاریگروں نے نکالا ہے۔ اس میں ایک گھنڈی ہے، اسے مروڑنے پر سننے کے علاوہ ان ارباب نشاط کی شکلیں بھی گھر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں۔ایک خط ان میں سے ایک جگہ سے میرے پاس بھی آیا تھا۔ آدمی تو یہیں کے ہیں لیکن انگریزی میں لکھتے ہیں۔ بہت دنوں رکھا رہا۔ آخر ایک انگریزی خواں سے پڑھوایا۔ مشاعرے کادعوت نامہ تھا۔ کچھ حق الخدمت کا بھی ذکر تھا۔ میں تو گیا نہیں۔ دوبارہ انہوں نے یاد کیا نہیں۔ چونکہ پیسے دیتے ہیں۔ سرکاروں درباروں کی جگہ ان لوگوں نے لے لی ہے۔ جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں۔ میرن صاحب مجھے جان سے عزیز لیکن ان لوگوں سے سفارش کیا کہہ کر کروں کہ سید زادہ ہے؟ اردو فارسی کا ذوق رکھتا ہے؟ اسے نوکر رکھو۔ اچھا رکھ بھی لیا تو کاپی نویسوں میں رکھیں گے۔ میر مہدی یہ وہ زمانہ نہیں۔ اب تو انگریز کی پوچھ ہے یا پھر سفارش چاہیے۔خط لکھ لیا۔ اب محل سرا میں جاؤں گا۔ ایک روٹی شوربے کے ساتھ کھاؤں گا۔ شہر کا عجب حال ہے۔ باہر نکلنا محال ہے۔ ابھی ہرکارہ آیا تھا۔ خبر لایا کہ ہڑتال ہو رہی ہے۔ ہاٹ بازار سب بند۔ لڑکے جلوس نکال رہے ہیں۔ نعرے لگا رہے ہیں۔ کبھی کبھی لڑکوں اور برقندازوں میں جھڑپ بھی ہوجاتی ہے۔ میر مہدی معلوم نہیں اس شہر میں کیا ہونے والا ہے۔ میرن کو وہیں روک لو۔ میر سرفراز حسین اور میر نصیر الدین کو دعا۔

حکایت سعدیؒ :درویش کی دعا

حکایت سعدیؒ :درویش کی دعا

بیان کیا جاتا ہے کہ زمانے کا ستایا ہوا ایک درویش ایک امیر کے دروازے پر گیا اور صدا لگائی۔ یہ امیربہت کنجوس اور مغرور تھا۔ درویش کی صدا سن کر اس نے اسے خیرات کی جگہ جھڑکیاں دیں۔اس امیر کے ہمسائے میں ایک غریب نابینا شخص رہتا تھا۔ درویش امیر کی ڈیوڑھی سے مایوس لوٹا تو نابینا نے اسے اپنا مہمان بنا لیا اور جو کچھ میسر تھا۔ درویش کے سامنے رکھ دیا۔ مروت کی باتوں سے اس کا دل خوش کیا۔ درویش اس حسن سلوک سے بہت خوش ہوا۔ ہاتھ اٹھا کر اس کی خیرو برکت کیلئے دعا مانگی اور رخصت ہو گیا۔ نابینا شخص نے درویش کے ساتھ یہ اچھا سلوک لالچ کی وجہ سے نہیں بلکہ محبت سے کیا تھا۔ ایک وقت کھانا کھلا دینا کوئی ایسی بڑی بات نہ تھی لیکن خدا کو اس کی یہ نیکی پسند آئی۔ اس کے حق میں درویش کی دعا قبول ہوئی اس کی آنکھوں سے پانی کے چند قطرے ٹپکے اور اس کی اندھی آنکھیں روشن ہو گئیں۔ لوگوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو سب حیران ہوئے اور چند دن کے بعد درویش کی کرامت کا سارے شہر میں چرچا ہو گیا۔ یہ خبر اس کنجوس اور مغرور امیر نے سنی تو حسرت سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا افسوس !اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ یہ دولت تو میرے لئے تھی جو اسے مل گئی۔ حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ بات بیان کی ہے کہ انسان کو ہر وقت بھلائی پر آمادہ رہنا چاہیے۔ نہ جانے کب اور کس رنگ میں خدا کی رحمت اس کے دروازے پر آجائے۔ اگر اس کا رویہ درست نہ ہوا تو وہ فیض یاب نہ ہو سکے گا۔ ٭...٭...٭ 

آج کا دن

آج کا دن

ہیٹی کا تباہ کن زلزلہ12 جنوری 2010ء کو ہیٹی میں ایک ہولناک زلزلہ آیا جس کی شدت 7ریکارڈ کی گئی۔ یہ زلزلہ ملک کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے گردونواح میں آیا اور بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنا۔تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک، لاکھوں زخمی اور بے گھر ہوئے۔ سکولوں اورہسپتالوں سمیت سیکڑوں عمارات کو شدید نقصان پہنچا۔ہیٹی جو پہلے ہی معاشی اور سیاسی مشکلات کا شکار تھا، اس سانحہ کے بعد مزید بحرانوں میں گھر گیا۔یہ زلزلہ دنیا کی تاریخ کے مہلک ترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔استنبول دھماکہ2016ء میں ترکی کے شہر استنبول میں تاریخی نیلی مسجد کے قریب ایک خوفناک بم دھماکہ ہوا۔ اس دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق، 15 افراد شدید زخمی ہوئے۔ دھماکہ ایک مصروف سیاحتی علاقے میں ہوا جہاں بڑی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی سیاح موجود تھے۔اس حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور ترکی میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔پاکستان :مردم شماریپاکستان کی دوسری مردم شماری 12 جنوری سے یکم فروری 1961ء تک ہوئی تھی۔ جس کے مطابق پورے ملک کی کل آبادی 9 کروڑ ، 28 لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔ اس میں سے موجودہ پاکستان کی آبادی 4 کروڑ، 28 لاکھ، 80 ہزار افراد پر مشتمل تھی جبکہ پانچ کروڑ کی آبادی مشرقی پاکستان کی تھی جہاں شرح خواندگی 21.5 فیصد اور مغربی پاکستان میں 17 فیصد تھی۔انسانی کلوننگ پر پابندییورپی ممالک نے 12 جنوری 1998ء کو انسانی کلوننگ پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد انسانی زندگی کے وقار اور اخلاقی اصولوں کی حفاظت کرنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت انسانی جنین کی کلوننگ کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا۔یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب ڈولی نامی بھیڑ کی کامیاب کلوننگ (1996ء) کے بعد انسانی کلوننگ کے خدشات بڑھ گئے تھے۔خلائی مشن کی روانگی1997ء میں آج کے روز ناسا کا خلائی شٹل مشن ''ایس ٹی ایس81‘‘ لانچ کیا گیا۔ یہ مشن ناسا اور روسی خلائی ایجنسی کے درمیان تعاون کی علامت تھا، جس نے بعد میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے قیام کی بنیاد رکھی۔اس مشن کے دوران ''شٹل‘‘ اور ''میر‘‘ کے درمیان تقریباً 3ہزار کلوگرام سامان کا تبادلہ کیا گیا۔یہ مشن 10 دن، 4 گھنٹے، 56 منٹ کے دوارنئے پر محیط تھا۔ مشن میں 5 خلاباز شامل تھے۔مِنی پِٹ حادثہمِنی پِٹ حادثہ ایک کوئلہ کی کان کا المناک سانحہ تھا جو 12 جنوری 1918ء کو ہالمر اینڈ، اسٹافورڈشائر میں پیش آیا۔ اس حادثے میں 155 کان کن جان کی بازی ہار گئے۔ یہ سانحہ فائرڈیمپ کے باعث ہونے والے دھماکے کی وجہ سے رونما ہوا اور اسے نارتھ اسٹافورڈشائر کوئلہ فیلڈ کی تاریخ کا بدترین حادثہ قرار دیا جاتا ہے۔تحقیقات کے باوجود یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آتش گیر گیسوں کو بھڑکانے کا اصل سبب کیا تھا۔