پلندری اور رانی کی باؤلی
اسپیشل فیچر
کہوٹہ کی وادی پنجاڑ سے کشمیر کی طرف نکلیں تو نگاہیں بار بار فلک بوس پلندری سے ٹکراتی ہیں۔ پرفضا پلندری ڈوگرہ راج کے خلاف مزاحمت کی علامت، تحریکِ حریت کا سرِ آغاز، آزاد کشمیر کا پہلا کیپٹل اور ضلع سندھوتی کا مرکز ہے۔ لیکن اس کے باوجود کشمیر کی تاریخ میں سندھوتی کبھی قابلِ ذکر نہیں رہی۔ فاہیان سے لے کر آئین سٹیفن تک کسی ٹریولر نے ادھر کا رخ نہیں کیا۔ کسی تاریخی ٹریول گائیڈ میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ فریڈرک ڈریو کی ارضیاتِ جموں کشمیر (1875) میں کشمیر کے جن تیس (30) راستوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے ایک بھی اس علاقے سے نہیں گزرتا۔ سدھنوتی پونچھ کا حصہ ضرور ہے لیکن ہیون تسانگ اور کلہن نے جس پرونوٹاس یا پونچھ کا ذکر کیا ہے وہ اب خار دار حصار میں ہے۔
پلندری کو قابلِ ذکر بنانے کا سہرا بابائے پونچھ کے سر ہے۔ وہ اس علاقے کا پہلا شعور، پہلا سکول اور پہلی سڑک تھے۔ ان کی لگائی ہوئی پنیری اب تناور درخت بن چکی ہے۔میرا خیال تھا کہ بائولی کسی باغ میں ہو گی۔۔۔ لان، روشیں، راہداریاں، قطار در قطار سرو و صنوبر۔۔۔ لیکن کچھ بھی نہیں تھا۔ باؤلی شہر سے باہر حسرت و یاس کی تصویر بنی کھڑی تھی۔ سیم زدہ چھت اور در و دیوار پہ اگا سبزہ بتا رہا تھا کہ یہ دلربا جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی۔ تب سے یہ اکیلی نامراد موسموں، زمینی لرزشوں اورناروا رویوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ مدت سے اس کی منڈیروں نے پائل کی جھنکار سنی، نہ اس کی جالیوں سے جادوئی آنکھوں نے جھانکا۔ استقبالیہ دیوار جو سب سے پہلے رانی کے قدموں کی چاپ سنتی تھی، اب اس پر مقامی رانیاں کپڑے خشک کرتی ہیں۔
رانی کی بائولی سیڑھیوں سے بے نیاز ہے۔ اس کا حوض تقریباً تین فٹ گہرا ہے۔ اس کی ہشت پہلو منڈیر بتدریج کم ہوتے ہوتے چشمے تک چلی گئی ہے۔ اس کی عمارت بھی مختصر اور بے ستون ہے۔ دیواروں کی چوڑائی اڑھائی فٹ جبکہ لمبائی دس فٹ ہے۔ دو دیواری پشتوں سے اس عمارت کو مضبوط سہارا دیا گیا ہے۔ وسطی کمرے، صحن اور باہر دیوار کے ساتھ حوض بنے ہیں۔ یہ اہتمام پینے، نہانے اور جانوروں کے لیے کیا گیا ہے۔
رانی کی بائولی اپنی وضع قطع، دھج اور چھب میں یکتا ہے۔ کشمیر کی یہ رانی سمارٹنس میں ہند و پاک میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ سرمئی چٹانی سلوں کی دل آویز تراش اور تعمیر نے اسے لافانی بنا دیا ہے۔ دہلیز سے درو بام تک یہی پتھر ہے۔ کہیں کوئی مرمر کا ٹکڑا نہیں لگا ہوا۔ چلمن کے کنڈے بھی پتھر کے بنے ہوئے ہیں۔ محرابی دروازوں، نفیس سنگی جالیوں اور خوشمنا آتش دان کی ہر سل دھڑک رہی ہے۔
بائولی کے کسی پتھر پر کوئی تحریر، ہندسہ یا نشان نہیں ہے جس سے اس کے عہد وغیرہ کا اندازہ لگایا جا سکے۔ مقامی پروفیسر مسعود احمد خان کے مطابق بلاس پور کی رانی سفر میں بیمار ہو گئی تھی۔ اس چشمے کا پانی پینے سے صحت یاب ہوئی اور اس نے مسافروں کے لیے یہ جگہ تعمیر کرائی۔عام خیال یہ ہے کہ یہ ہری سنگھ عہد کی تعمیر ہے۔ جب کہ یہ تعمیر اتنی نئی نہیں ہے۔ بلکہ یہ رنبیر سنگھ یا پرتاب سنگھ (1857 تا 1925) نے بنوائی ہو گی۔قیاس یہی ہے کہ یہ بائولی ''جاگیر دور'' کی یادگار ہے۔ جب راجہ گلاب سنگھ کی جاگیر راوی سے سندھ تک پھیلی ہوتی تھی تواعلی ریاستی اہلکاروں کے سفری پڑاؤ کے لیے پونچھ ہاؤسوں اور شاہی بائولیوں کی ضرورت پڑی۔بائولی کی تعمیر میں جیومیٹری کی مختلف اشکال کو فنکارانہ مہارت سے ابھارا گیا ہے۔ دائرہ، مثلث، مربع، مستطیل، مثمن وغیرہ۔ پلندری کے دم سردار ایک زمانہ ڈوگروں اور سکھوں سے برسرِ پیکار رہے ہیں۔ یہ ان کی اعلی ظرفی ہے کہ انہوں نے ستم رانیوں کے دور کے اس نقش کو نہیں چھیڑا۔
آزادکشمیر میں سکھ دور کی کئی بائولیاں بھی موجود ہیں جو اس دور کے فن تعمیر اور تاریخ کا بڑا حوالہ ہیں۔(''باولی '' پانی کے چشمے کو کہا جاتا ہے۔ سکھوں کی بائولیوں کی خاص بات یہ ہے کہ مخصوص طرز پر تعمیر کی گئیں ہیں جو اب بھی منفرد نظارہ رکھتی ہیں۔آزاد کشمیر میں موجود ان بائولیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے تاہم کئی مشہور بائولیاں ہیں جن میں ٭رانی کی بائولی تیتری نوٹ( یہ ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے یہاں سے آج بھی اہل محلہ پانی بھرتے ہیں)، ٭رانی بلاس پوری کی باولی (رانی بلاس پوری کی بائولی کے نام سے مشہور عمارت پلندری شہر سے نصف کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔٭رانی کی بائولی اور چھپر بھمبر،٭سیتا بائولی بھمبر،٭برنا باولی ،٭ چڑھوئی بائولی ،٭ سیری بائولی ،٭ چوخ بائولی ،٭ منڈھول بازار بائولی ،٭ رکھنتری بائولی ،٭ شمس آباد بائولی ،٭ آرارہ بائولی ،٭ اپر کوئیاں بائولی (راولاکوٹ کے نواحی علاقے کھائیگلہ کے قریب پائی جاتی ہے) ، ٭خوشیانی بہک بائولی (راولاکوٹ سے براستہ دھمنی تولی پیر جاتے ہوئے راستے میں ہے) ، ٭نالہ بائولی ،٭ دحیرہ باغ بائولی ،٭ بھگت کیر بائولی ،٭ ناوان بائولی،٭ طلب رام سنگھ بائولی میرپور ،اور ناوان ویل میرپور شامل ہیں۔