سیلاب کے آفٹر شاکس
اسپیشل فیچر
اس سال مون سون کی بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب نے پاکستانی لائیو سٹاک کو بری طرح متاثرکیا ہے۔ محکمہ لائیو سٹاک کی آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر 5کروڑ 34 لاکھ گائے، بچھڑے ، 4 کروڑ 37 لاکھ بھینسیں اور 8کروڑ 25لاکھ بکرے موجود تھے۔جن میں سے 10 لاکھ 17 ہزار 423 مویشی سیلاب کی نذرہو چکے ہیں۔ بلوچستان میں 5 لاکھ، سندھ میں 2لاکھ 90 ہزار 197 ، پنجاب میں 2 لاکھ5 ہزار 106، خیبر پختونخواہ میں 21ہزار 328 جبکہ آزاد جموںو کشمیر میں 792 مویشی شامل ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ لاکھوں جانوروں کی ہلاکت سے آنے والے مہینوں میں دودھ اور گوشت کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک گائے یومیہ 14 لیٹر جبکہ ایک بھینس یومیہ 10 لیٹر دودھ دیتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ پاکستان اکنامک سروے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 1 لاکھ 80 ہزار 123 ٹن سے زائد دودھ کی پیداوار ہوتی ہے۔ اس سیلاب کے باعث ہونے والے نقصان سے یومیہ 11 ہزار 993 ٹن دودھ کی قلت کا خدشہ ہے جو کہ یومیہ پیداوار کا تقریباً 7 فیصد حصہ بنتا ہے۔
پاکستانی معیشت میں لائیو سٹاک کااہم کردارہے جو کہ جی ڈی پی کا 11.2 فیصد حصہ ہے۔ اس شعبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ نہ صرف زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہے بلکہ 80 لاکھ سے زائد دیہی خاندانوں کی آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔ لائیو سٹاک کے شعبے میں دودھ سب سے بڑی واحد اجناس ہے۔
پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔اکنامک سروے 2019 ء کے مطابق تقریباً 80فیصد دودھ چھوٹے پیمانے پر دیہی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے۔ 15فیصد چھوٹے بڑے قصبوں میں جبکہ 5فیصد شہری علاقوں میںپیدا ہوتا ہے۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں دودھ کی اوسط پیداوار بالترتیب 66لاکھ ٹن سے 81 لاکھ ٹن تک تھی۔ 1985ء میں یہ ایک کروڑ بیس لاکھ ٹن سے بڑھنا شروع ہوئی اور 2019ء میں 4کروڑ 80 لاکھ ٹن ہو گئی جو تین دہائیوں میں چار گنا زیادہ تھی۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے سروے کے مطابق 2020 ء میں پاکستان کی دودھ کی پیداوار 61 ملین ٹن ہو گئی تھی۔ پاکستان میں چھوٹے بڑے پیمانے پر مویشی رکھے جاتے ہیں ۔ ماہرین لائیو سٹاک کے مطابق مویشی بردار آبادی میں84 فیصد گھرانے ایسے ہیں جنہوں نے 2 یا 3 بھینسیں یا بکریاں اپنی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے پیمانے پر دودھ فروخت کرنے کیلئے رکھی ہوئی ہیں۔ 14 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کے پاس 10 جانوروں تک کا ڈیری سیٹ اپ ہے، جسے وہ تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ 2 فیصد لوگ ایسے ہیں جنہوں نے 10 سے زائد جانوروں پر مبنی ڈیری کا بڑا سیٹ اپ لگایا ہوا ہے اور وہ دودھ کو بین الاقوامی سطح پر بھی فروخت کرتے ہیں۔
محکمہ لائیو سٹاک کے مطابق صوبہ پنجاب میں بھینسوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے، جو بھینسوں کی کُل آبادی کا 64 فیصد ہے، اس کے بعد سندھ میں 26 فیصد، خیبرپختونخوا (کے پی کے) میں 7 فیصد اور بلوچستان میں صرف 1.2 فیصد ہے۔ پنجاب میںمویشیوں کی آبادی بھی سب سے زیادہ ہے، جو کل کا 48 فیصد ہے، اس کے بعد سندھ میں 23 فیصد، کے پی کے میں 20 فیصد، اور بلوچستان میں 7 فیصد ہے۔ پنجاب اور سندھ دودھ پیدا کرنے والے بڑے صوبے ہیں جہاں کی سالانہ پیداوار بالترتیب 2 کروڑ 56 لاکھ اور 93 لاکھ 50 ہزار لیٹر ہے۔ خیبر پختونخواہ ایک اندازے کے مطابق 48 لاکھ 80 ہزار لیٹر سالانہ پیدا کرتا ہے اور بلوچستان کی پیداوار 8 لاکھ 10 ہزار لیٹرہے۔
فکر کی بات یہ ہے کہ دودھ کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے پاکستان میں سنتھیٹک دودھ بنانے والے چھوٹے بڑے پیمانے کے پلانٹ طول نہ پکڑ لیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے شہری علاقوں میں دودھ کی کل سپلائی کا 15 سے 20 فیصدحصہ مصنوعی دودھ سے ہوتا ہے، یعنی 20 لاکھ لیٹر یومیہ۔ سب سے خراب صورتحال یہ ہے کہ مصنوعی دودھ کی تیاری کا یہ رجحان دیہاتوں میںبھی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اس مصنوئی دودھ کو سرکاری ادارے فیٹ ٹیسٹ کے ذریعے جانچتے ہیں تو یہ دودھ کے اصل پیرامیٹرز کے مطابق ہوتا ہے۔یہ دودھ چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ یہ آہستہ آہستہ جسم کو کئی بیماریوں کا شکار بناتا ہے۔