مائوزے تنگ جدید چین کا بانی
اسپیشل فیچر
ماوزے تنگ نے اشتراکیت پسند جماعت کو چین میں اقتدار دلایا اور اگلے ستائیس برس وہ اس بڑی قوم کی غیر معمولی اور دور رس تبدیلیوں کا نگران رہا۔وہ ایک آسودہ حال کسان کے گھر ہونان صوبے میں ''شائو شان‘‘ کے قبضہ میں 1893ء میں پیدا ہوا۔1911ء میں جب وہ اٹھارہ سالہ طالب علم تھا ''چنگ‘‘ خاندان کی بادشاہت کے خلاف بغاوت نے سر اٹھایا۔ یہ خاندان سترہویں صدی سے ملک پر حکمران تھا۔ چند ماہ میں ہی شاہی حکومت کا تخت الٹ دیا گیا۔ چین ایک جمہوری ریاست بن گیا۔ بدقسمتی سے انقلابی رہنما ایک مستحکم اور متحد حکومت قائم کرنے کے اہل نہیں تھے۔انقلاب کے بعد غیر استحکام پذیری اور خانہ جنگی کا ایک طویل دور شروع ہوا، جو 1949ء تک جاری رہا۔نوجوانی میں مائو اپنے سیاسی نظریات میں بائیں نقطۂ نظر کی طرف جھکائو رکھتا تھا۔ 1920ء تک وہ ایک کٹر مار کسی بن گیا۔1921ء میں وہ چین کی اشتراکیت پسند تنظیم کے بارہ بانی رہنمائوں میں شامل تھا۔ تاہم وہ آہستگی کے ساتھ تنظیم کی سربراہی کی طرف بڑھا۔1935ء میں کہیں جا کر وہ تنظیم کا سربراہ بن گیا۔
اس دوران میں چین کی اشتراکی جماعت اقدار کیلئے آہستگی سے طویل جدوجہد میں مصروف رہی۔1927ء اور 1934ء میں جماعت کو بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس نے خود کو فنا ہونے سے بچا لیا۔ 1935ء کے بعد مائو کی قیادت میں جماعت کی طاقت میں بتدریج اضافہ ہوا۔ 1947ء تک یہ قومیت پسند حکومت کے خلاف، جس کا سربراہ چیانگ کائی شیک تھا، ایک مکمل جنگ لڑنے کیلئے تیار تھی۔ 1949 ء میں ان کی فوجوں نے فتح حاصل کی اور اشتراکیت پسندوں نے چین کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے مائو، کو چین کی قیادت سونپی گئی، وہ اڑتیس سالہ جنگ سے کٹ پھٹ چکا تھا۔ وہ مفلسی کا شکار ایک ترقی پذیر ملک تھا، جس کی روایت کے غلام لاکھوں کسان ان پڑھ تھے۔ خود مائو چھتیس سال کا تھا، جبکہ ابھی اسے بہت کچھ کرنا تھا۔
دراصل مائو کا اصل کام ہی اب شروع ہوا تھا۔ اس کی وفات (1976ء) تک اس کی پالیسیوں نے چین کی حالت کو بدل کر رکھ دیا۔ اس تبدیلی کا ایک پہلو ملک کا جدید بن جانا تھا۔ خاص طور پر صنعت سازی میں بڑی ترقی ہوئی، جس کے ساتھ عوامی صحت اور تعلیم کا معیار بھی بلند ہوا۔ یہ تبدیلیاں اگرچہ بہت اہم تھیں، لیکن ایسی تبدیلیاں قریب اسی دور میں دیگر ممالک میں بھی رونما ہو رہی تھیں۔صرف یہی تبدیلیاں مائو کو اس فہرست میں جگہ پانے کا استحقاق نہیں دیتی ہیں۔ مائو کی حکومت کا دوسرا بڑا کارنامہ چین کے معاشی نظام کا سرمایہ داری سے بدل کر اشتراکی ہو جانا تھا۔ مائو کی وفات کے چند سال بعد اس کے جانشین''تنگ زیائوینگ ‘‘ نے چین میں کھلی منڈی کی معاشیات کے متعدد اصولوں کو ملک میں متعارف کروانا شروع کردیا۔
مائو کا اعتقاد تھا کہ شہروں میں موجود صنعتی مزدور اشتراکی جماعت کی اصل طاقت ہیں۔ یہ خیال مارکس کے نظریات کے عین مطابق ہے۔ تاہم قریب 1925ء میں مائو اس نتیجہ پر پہنچا کہ کم از کم چین میں جماعت کی اصل طاقت کسانوں پر منحصر ہے۔ اس خیال کے مطابق اس نے مختلف اقدامات کئے۔ قومیت پسندوں کیخلاف ، اپنی طویل جدوجہد کے دوران مائو کی طاقت کی بنیاد مضافات کے کسان ہی رہے۔ اسی خیال کو اس نے اپنے اقتدار کے دور میں بھی اپنا رہنما بنایا۔ مثال کے طور پر روس میں سٹالن نے صنعتی ترقی پر زور دیا۔مائو کی توجہ عمومی طور پر زرعی اور دیہاتی اصلاح کی طرف مبذول رہی۔ تاہم مائو کی قیادت کے دوران چین نے صنعتی اعتبار سے بھی روز افزوں ترقی پائی۔
سیاسی اعتبار سے مائو نے ایک مکمل مطلق العنان نظام اختیار کیا۔ مائو کے دور میں کم از کم بیس ملین یا 30 ملین سے بھی زائد شہری موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔یوں اس کا دور اقتدار انسانی تاریخ میں خونیں ترین سیاسی دور مانا جاتا ہے۔
بلاشبہ مائوزے تنگ ہی تھا، جو اس اشتراکی حکومت کی تمام پالیسیاں وضع کرتا تھا۔تاہم اس نے فرد واحد کی حکومت کو اس طرح ملک پر منطبق نہیں کیا، جیسا وطیرہ سٹالن نے اپنے دور میں اپنایا۔ تاہم یہ امر واضح ہے کہ 1949ء سے مائو کی موت (1976ء) تک، چینی حکومت میں مائو ایک نہایت اہم اور بااثر شخصیت رہا۔ایک منصوبہ جس کی بنیادی ذمہ داری اسی کے سر آتی ہے، وہ 1950ء کی دہائی کا ''عظیم پیشرفت‘‘ کا منصوبہ تھا۔ متعدد ناقدین کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ جو چھوٹی سطح پر زیادہ پیداوار کے طریقہ ہائے کار کے اطلاق پر مشتمل تھا، جو دیہاتی علاقوں میں قابل عمل ہو سکتا تھا، تاہم یہ ناکام ثابت ہوا(ایک اور منصوبہ جس پر مائو نے متعدد چینی رہنمائوں کی مخالفت کے باوجود نہایت اصرار کیا، وہ''عظیم پرولتاریہ کا تہذیبی انقلاب‘‘ کا منصوبہ تھا۔ جس پر 1960ء کی دہائی کے اواخر میں عمل درآمد کیا گیا۔ یہ ایک بڑی تبدیلی تھی۔ ایک اعتبار سے تو یہ مائو اور اس کے حامیوں کے بیچ ایک خانہ جنگی کی صورت اختیار کر گیاتھاجبکہ دوسری طرف اشتراکیت پسند جماعت کی نوکر شاہی اس کے دبائو تلے آ گئی۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ جب ''عظیم پیشرفت‘‘ کا آغاز ہوا تو مائو اپنی عمر کی چھٹی دہائی میں تھا، اور جب ثقافتی انقلاب کا اجراء ہوا، تو وہ ستر برس کا ہو چکا تھا اور تب وہ قریب 80برس کا تھا، جب اپنی پالیسی میں ایک ڈرامائی تبدیلی کرکے اس نے امریکہ سے دوستانہ تعلقات کا آغاز کیا۔
مائو کی زندگی میں یہ واضح ہو گیا تھا کہ وہ ایسی اثر انگیز شخصیت ہے جیسی عظیم ہستی''شی ہوانگ تی‘‘ کی تھی۔ دونوں چینی تھے اور دونوں نے اپنے ملک میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کی تھیں۔ تاہم چین پر ''شی ہوانگ تی‘‘ کے اثرات قریب بائیس صدیوں تک باقی رہے، جبکہ مائو کے اثرات تھوڑے ہی عرصہ میں ماند پڑ رہے ہیں۔ مائو کالینن سے موازنہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ دونوں کا زمانی دور ایک ہی ہے، جس طرح مائو نے چین میں مارکسیت کو قائم کیا، اسی انداز میں لینن نے روس میں اسی نظام کو رائج کیا۔ بادی النظر میں مائو دوسرے سے زیادہ اہم شخصیت معلوم ہوتا ہے۔ چین کی آبادی روس کی آبادی سے تین گنا زیادہ ہے۔ تاہم لینن مائو سے پہلے ظاہر ہوا، اور اس نے مائو کیلئے ایک مثال قائم کی اور مائو کی فکر کو متاثر بھی کیا۔