عالمی جنگ ، اٹلی بڑی طاقتوں کی صف سے کیسے نکلا!
اسپیشل فیچر
انیسویں صدی کے ربع آخر میں ہی اٹلی عالمی منظر نامے پر ایک متحدہ ریاست کے طور پر ابھر آیا تھا۔ اسی صدی کے گزشتہ تین ربع کی طرح اب یہ چھوٹی چھوٹی جھگڑالو ریاستوں کا مجموعہ نہ تھا۔1890ء میں اٹلی 30 ملین اطالوی باشندوں پر مشتمل ایک طاقتور ریاست کے طور پر عالم شہود پر جلوہ افروز تھا۔ اس کی آبادی میں آئے روز تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ اطالوی ریاستوں پر سے بیرونی ممالک کے اثرات کا خاتمہ ہو چکا تھا اور مجموعی طور پر جذبہ حب الوطنی اور قومی یکجہتی کا احساس دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا تھا۔1914ء میں اٹلی کی آبادی بڑھ کر 35.3ملین ہو چکی تھی۔جس میں سے 11.6فیصد آبادی شہروں میں رہائش پذیر تھی۔
اٹلی کو اصل مقام اتحاد ثلاثہ 1886ء کے بعد حاصل ہوا جب اس کے دو دشمن پڑوسیوں آسٹریا، ہنگری اور فرانس میں سے ایک (آسٹریا، ہنگری) کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بہتری آئی اور احساس تحفظ نے اندرونی خلفشار کو کم کرنے اور عوامی یکجہتی کے حصول کو ممکن بنانے میں مدد دی۔ اس کے دشمنوں میں سے فرانس تنہا رہ جانے کے باعث شدید مشکلات کا شکار تھا، جبکہ اٹلی ایک بڑی طاقت تصور کیا جانے لگا۔ دیگر اہم ممالک کی جانب سے یہاں باقاعدہ سفیر تعینات کئے جانے لگے اور روم عالمی طاقتوں میں شامل ہو گیا۔اٹلی کے عالمی طاقت بن جانے کے باوجود صنعتی ترقی، زراعت، شرح خواندگی اور ذرائع نقل و حمل میں پسماندگی کے باعث اٹلی اقوام عالم میں اپنا اصل مقام برقرار نہ رکھ سکا۔ اس کی شرح خواندگی37.6فیصد تھی۔ زراعت کا نظام انتہائی پسماندہ اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے کھیت جہاں مشترکہ طور پر کھیتی باڑی کا نظام رائج تھا ملکی زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کے ہدف کو پورا کرنے میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔
تاہم یہ مقام اس وقت مشکوک ہو گیا جب اٹلی میدان کارزار میں 1896ء میں ایک افریقی بے سرو سامان قوم سے شدید شکست و تباہی کا شکار ہو گیا۔ پھر اٹلی کے اعلیٰ حکام کی سیاسی و عالمی بصیرت بھی ملکی وقار کو پستی کی طرف راغب کر رہی تھی1911-12ء میں لیبیا کے ساتھ اعلان جنگ کر دیا۔ اس طرح اٹلی کمزور سے کمزور ترین ہوتا چلا گیا۔ عالمی طور پر اس کی صنعتی شراکت پہلے سے مزید کم ہو گئی۔ اقتصادی اور سماجی حالات نے اٹلی کو بڑی طاقتوں کی صف سے کھینچ باہر کیا تھا اب اس ملک سے اس کے پڑوسی ملکوں کو کوئی خدشہ نہ تھا۔ اٹلی 1914ء میں 1871ء کے اٹلی کی سی حالت زار کو پہنچ چکا تھا۔ اس کی بحریہ کمزور اور جدید بحری آلات و اسلحہ سے محروم ہونے کے باعث اپنی حیثیت کھو چکی تھی۔
پورے یورپ میں سب سے زیادہ ان پڑھ آبادی اٹلی میں تھی۔1913ء میں اٹلی میں توانائی کا استعمال صرف 11ملین میٹرک ٹن تھا جو عالمی طاقتوں میں شمار ہونے والے ممالک میں سب سے کم تر تھا۔ عالمی صنعتی پیداوار میں کل حصہ 2.4فیصد رہ گیا تھا۔ لوہے اور فولاد سازی کی پیداوار 0.93ملین رہ گئی تھی۔
اٹلی کو 88فیصد ایندھن کیلئے کوئلہ برطانیہ سے درآمد کرنا پڑتا تھا۔ کوئلے کی درآمد کے باعث مجموعی آمدن اور اخراجات کا توازن بری طرح متاثر ہو رہا تھا۔ فوجی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے رقم کی دستیابی ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتا تھا۔ اکثر اوقات بڑھتی ہوئی آبادی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے مگر اٹلی میں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ پسماندہ نظام زراعت، عدم صنعت و حرفت، ذرائع ابلاغ و نقل و حمل کی کم یابی اور تعلیمی میدان میں درماندگی کے باعث اٹلی کی آئے روز بڑھتی ہوئی آبادی خود ایک زحمت بن رہی تھی۔
1914ء میں اٹلی کی بری اور بحری فوج مجموعی طور پر3لاکھ45ہزارتھی۔ جنگی جہازوں کا ٹن ماپ4لاکھ98ہزارتھا۔ اس کی بری و بحری فوج بھی بدحالی کا شکار تھی۔ یہ امریکہ اور جاپان سے زائد ہونے کے باوجود تکنیکی اورفنی اعتبار سے ایک ناکام فوج تھی۔ جس کے پاس نہ اعلیٰ ہتھیار تھے اور نہ ہی جنگ کیلئے درکار جذبہ رہ گیا تھا۔ فوج میں بھرتی کا طریقہ کار انتہائی مشکل اور کٹھن تھا۔ پھر جنوبی اٹلی اور کیتھولک چرچ کے درمیان کش مکش نے اس علاقے کے لوگوں کو سرکاری بھرتی اور ملکی ترقی سے بدظن کر رکھا تھا۔ مجموعی طور پر وہاں گروہی اور علاقائی رجحانات کار فرما تھے اور مجموعی قومی جذبے کا فقدان تھا۔
اس قدر فوجی اعداد و شمار بادی النظر میں مناسب معلوم ہوتے ہیں مگر جنگ صرف فوجی عددی قوت کے بل بوتے پر نہیں لڑی جاتی۔ اس کیلئے قومی جذبہ، مضبوط معیشت، مستحکم سیاسی و معاشرتی اساس، جدید بری بحری اور فضائی جنگی ضروریات اور صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ عالمی منظر نامے میں اعلیٰ سفارتی تعلقات کا ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ مگر اٹلی ان صفات سے محروم تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اٹلی نے پہلے پہل جنگ میں حصہ نہیں لیا۔
محمد فضل اللہ معروف لکھاری اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں،ان کے مضامین ملک کے مؤقر جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں