گرین ٹیکنالوجی
اسپیشل فیچر
ٹیکنالوجی جو دور حاضر کی اہم ضروریات میں سے ایک ہے کا نام سنتے ہی دماغ میں ٹیکنالوجی کی بڑی بڑی کمپنیوں کا تصور گھومنے لگتا ہے۔ان میں تیار ہونے والی جدید گاڑیاں، بحری جہاز، ہوائی جہاز،ٹرینیں ، انڈسٹریل مشینری اور سائنسی آلات کی تصویر سامنے آجاتی ہے۔موجودہ جدید سہولیات کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اورسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس ٹیکنالوجی کی ابتدا ہوئی کہاں سے ؟ اگر یہ کہا جائے کہ جب انسان نے شکار کرنے کیلئے پتھر اور اپنی حفاظت کیلئے ہتھیار بنایا تھا ٹیکنالوجی کی ابتداوہیں سے ہو گئی تھی تو بے جا نہ ہوگا۔ آج ائیر لیس ٹائرز بنانے کیلئے تجربات کئے جارہے ہیں۔ دنیا کا پہلا پہیہ جو پتھر سے تیار کیا گیا تھا میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج ہمارے روزمرہ استعمال کی 90فیصد چیزیں ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہم تک پہنچ پائی ہیں۔ٹیکنالوجی آخر ہے کیا؟ یہ ایسا سوال ہے جس پر جتنی بھی تحقیق کی جائے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی میں واضح فرق ہے ،یہ دو الگ چیزیں ہیں۔ سائنس مشاہدے اور حقائق کا نام ہے جبکہ صنعتی اور معاشی مسائل کو عملی طور پر حل کرنے کیلئے سائنسی معلومات کا استعمال ٹیکنالوجی کہلاتا ہے۔
ٹیکنالوجی لفظ دو یونانی الفاظ Techne اورLogiaکا مرکب ہے جس کے معنی مہارت اور فن کے ہیں۔ٹیکنالوجی کئی اقسام میں ہمیں نظر آتی ہے، مثلاً انفارمیشن ٹیکنالوجی ، کنسٹرکشن ٹیکنالوجی، میڈیکل ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی۔ موجودہ دور میں دو اقسام کی ٹیکنالوجی بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں، جن میں انفارمیشن اور نینو ٹیکنالوجی شامل ہے۔
نینوٹیکنالوجی
اس ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں اور طرز زندگی کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے جہاں انسان کیلئے سہولیات پیدا کی ہیں وہیں بہت سی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ماہرین نے ''نینو ٹیکنالوجی‘‘ ان ہی مشکلات کو حل کرنے کیلئے متعارف کروائی ہے۔ نینو ٹیکنالوجی کا تصور 1959ء میں امریکی ماہر طبیعیات رچرڈ فن مین کی جانب سے پیش کیا گیا۔نینو ٹیکنالوجی سائنس کی ہی ایک شاخ ہے اور اس میں مادے کی ان خصوصیات کو استعمال کیا جاتا ہے جو وہ اپنی نازک ساختوں میں ظاہر کرتے ہیں۔جوکچھ بھی ہم اپنے اطراف میں دیکھتے ہیں ان کے مقابلے میں نینو ذرات جسامت میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نینوٹیکنالوجی کا استعمال کرکے مکمل انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کی 35 جلدوں کو ایک پن کی نوک پر رکھا جاسکتا ہے۔انسانی تاریخ میں آج جتنا کچھ مواد شائع شدہ اور غیر شائع شدہ موجود ہے اسے اس تکنیک کے ذریعہ عام سائز کے 35 صفحات میں سمویا جاسکتا ہے۔ نینو ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور اس پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے سولڈ سٹیٹ فزکس اور اس سے منسلک سائنسی علوم کا بغور مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق نینو ٹیکنالوجی میں بعض ایسی خصوصیات اور صلاحتیں موجود ہیں جن کے استعمال سے ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے میں مددمل سکتی ہے۔
دنیا کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کسی ٹائم بم سے کم نہیں ۔اس کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ آبادی میں اضافے کے نتیجے میں ڈیمانڈ اور سپلائی کا فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ انسانی ضروریا ت میں غذا،پانی، مکان، ٹرانسپورٹ اور توانائی شامل ہیں۔ان اشیاء کے حصول کیلئے قدرتی وسائل کا تیزی سے استعمال کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ان وسائل کا خاتمہ ہو رہا ہے۔قدرتی وسائل اور ڈیمانڈ میں اضافے جیسے مسائل کا حل ''گرین نینو ٹیکنالوجی‘‘ کی صورت میں تلاش کیا جا رہا ہے۔یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں صاف پانی ،صحت مند ماحول اور توانائی فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔گرین نینو ٹیکنالوجی جن شعبہ جات میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ان میں سے ایک شعبہ پانی کا ہے۔پانی کا بڑھتا ہو ا استعمال پوری دنیا کیلئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔سمندر کے نمکین پانی کو قابل استعمال بنانے کیلئے ماہرین گرین نینو ٹیکنالوجی کو اپنی امیدوں کا مرکز سمجھ رہے ہیں اور اس پر تحقیق جاری ہے۔
پانی کو صاف کرنے کیلئے کئی طریقے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن کسی بھی طریقے سے پانی کو سو فیصد طور پر صاف نہیں کیا جا سکتا۔ گرین نینو ٹیکنالوجی اس مسئلہ کے حل کیلئے مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ پانی کی صفائی کیلئے گرین نینو ٹیکنالوجی، نینو اشیاء کا استعمال کرتی ہے۔ مثلاً کاربن نینو ٹیوبز اورایلومینیا فائبرز۔پانی کو صاف کرنے کیلئے استعمال ہونے والا یہ طریقہ ''نینو فلٹریشن‘‘ کہلاتا ہے۔ نینو فلٹریشن میں مخصوص جھلیوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے جنہیں ''زیو لائٹ فلٹریشن ممبرینز‘‘ کہا جاتا ہے۔ان جھلیوں میں نینو پورز ہوتے ہیں جن سے پانی گزر جاتا ہے مگر آلودگی وہیں رک جاتی ہے۔
نینو ٹیکنالوجی ندی کے پانی میں موجود بیکٹیریا اور امراض پیدا کرنے والے جراثیم اور زہریلے مادوں کو الگ کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ ندیوں، سمندروں اور دریاؤں کے پانی میں پائے جانے والے زہریلے مادے مثلاً آرسینک، سیسہ اور کیڈمیم وغیرہ کو بھی الگ کرنے کیلئے ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تیل سے لدے ٹینکر اکثر حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں اور سطح سمندر پر تیل کی تہہ جم جاتی ہے۔ کاربن نینو پائپ سے بنی جھلیاں چھلنی کی طرح کام کرتی ہیں اور سمندری پانی سے تیل کو الگ کردیتی ہیں۔
دنیا کے پیشتر ترقی یافتہ ممالک گرین نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیںجبکہ ترقی پذیر ممالک میں ابھی اس سلسلے میں معلومات ناکافی ہیں۔اس کے مکمل طور پر دنیا میں استعمال نہ ہونے کے پس پردہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ماہرین ابھی کچھ تحفظات کا شکار ہیں کہ اس کے استعمال سے ماحول پر کس قسم کے اثرات مرتب ہوں گے۔