نئے سال کا جشن کب اور کیسے شروع ہوا
اسپیشل فیچر
31 دسمبر 2022ء کی رات کو دنیا بھر میں نئے سال کو خوش آمدید کہنے کیلئے جشن اور آتش بازی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ انسان نے اپنے ارتقائی دور سے مختلف مراحل میں ایجادات اور تحقیق کے ذریعے زندگگی کو آسان اور آرام دہ کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ وقت کا تعین اور گزرے ہوئے عرصے کا حساب رکھنے کیلئے ایک ایسا چارٹ ترتیب دیا گیا جس میں وقت کو دن ، ہفتے ، مہینے اور سال میں ترتیب دیا گیا۔اس چارٹ کو کیلنڈر کا نام دیا گیا۔جس کے ذریعے ہم گزرے ہوئے اور آنے وقت کا درست تعین کرسکتے ہیں۔ مختلف ادوار میں عرصے کے تعین کیلئے مختلف طریقے اپنائے گئے اور تقریباً ہرتہذیب نے وقت کو ماپنے کیلئے شمسی، قمری اور موسمی لحاظ سے پیمانے طے کر رکھے تھے۔ اس دور جدید میں پوری دنیا گریگورین (عیسوی کیلنڈر) پر انحصار کرتی ہے۔ حالانکہ اس وقت قمری (اسلامی کیلنڈرجسے ہجری سال بھی کہا جاتا ہے)، بکرمی(جسے دیسی کیلنڈر بھی کہاجاتا ہے) اور لونر (چائنہ میں رائج علاقائی )کیلنڈر بھی رائج ہیں مگر ان کیلنڈروں کو مخصوص طورپر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے درست وقت کا تعین کرنا تھوڑا مشکل ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ منایا جانے والا جشن نئے سال کا ہے، جسے دنیامیں موجود ہر مذہب رنگ ونسل کے لوگ مل کر جوش وخروش سے مناتے ہیں۔ یہ جشن راتوں رات مقبول نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے۔ نئے سال کی تقریبات کا پہلا معروف ریکارڈ تقریباً 2000 قبل مسیح شروع ہوا۔ابتدائی رومن کیلنڈر میں صرف 10 مہینے یا 304 دن ہوتے تھے اور یکم مارچ سے نئے سال کا آغاز ہوتا تھا ۔میسوپوٹیمیا تہذیب میں مارچ کے شروع کے 11 روز تک تقریبات جاری رہتی تھیں اس گیارہ روزہ جشن کو ''اکیتو‘‘ کے نام سے تاریخی کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔یکم جنوری سے نئے سال کا آغاز 46 قبل مسیح سے ہوا، جب جولیس سیزر نے شمسی نظام پر مبنی جولین کیلنڈر تیار کیا۔ یہ پرانے قمری کیلنڈر کے غیر مؤثر ہونے کے بعد ہوا تھا۔ اس موقع کو منانے کیلئے، قدیم لوگ ابتدا کے دیوتا کیلئے قربانیاں پیش کرتے تھے، اپنے گھروں میں سجاوٹ کے طور پر لورل کی شاخیں لٹکاتے اور تحائف کا تبادلہ کرتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یکم جنوری کو سال کے آغاز کے طور پر ہٹا دیا گیا۔ 25دسمبر جس دن حضرت عیسیٰ ؑکی پیدائش ہوئی تھی، اسے نئے سال کا آغاز سمجھا جانے لگا مگر بعد ازاں 31 دسمبر کو ہی سال کا آخری دن اور یکم جنوری کو نئے سال کے پہلے دن کے طورپر منایا جانے لگا۔دنیا بھر میں مختلف تہذیبوں اورقوموں نے نئے سال الگ الگ طریقے سے منائے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
گڈ لک کھانا:نئے سال کی آمد پر مختلف ا قسام کے کھانے بنا کر ہمسائیوں، رشتہ داروں اور دوستوں میں بانٹنے کی روایت بہت سے ممالک میں آج بھی قائم ہے۔
12انگورکھانا :اسپین میں ایک مشہور روایت نئے سال کے موقع پر 12 انگور کھانے کی ہے۔ یہ انگور 12 مہینوں کی نمائندگی کرتے ہیںاور انہیں خوش قسمت سال سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔
گول کیک:یونان، میکسیکو، نیدرلینڈز سمیت متعدد ممالک میں گول کیک زندگی کی علامت ہے۔ نئے سال پریہ کیک خاص پر تیار کروایا جاتا ہے جس میں سکے بھی ڈالے جاتے ہیں۔یہ سکے جس کے حصہ میں آئیں اس کیلئے سال خوش قسمت تصور کیا جاتا ہے۔
نوڈلز:جاپان میں لوگ پرانے سال سے نئے سال تک کے سفر کی علامت کیلئے نیو ایئر پر سوبا نوڈلز کھاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پچھلے سال میں اپنے پچھتاوے کو پیچھے چھوڑ دیں۔
آتش بازی:نئے سال کی آمد کی خوشی میںآتش بازی کرنا یا مختلف قسم کے شور مچانے والے آلات کا استعمال بھی شامل ہے۔ آتش بازی کی روایت چین میں ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوئی ۔ قدیم چین میں آتش بازی کرنے کا مقصد بد روحوں کو ڈرانا تھا۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سی روایات ہیں جن کو نئے سال کے آنے کی خوشی سے منسوب کیا جاتا ہے۔جیسا کہ فلپائن میں آدھی رات کو کھڑکیاں کھلی رکھی جاتی ہیں۔ یونان میں دروازے پر پیاز لٹکا یا جاتا ہے۔لاطینی امریکی نئے سال پر روحوں کو بھگانے کیلئے کھڑکی سے پانی باہر پھینکتے ہیں، برازیل میں نئے سال کا جشن منانے کیلئے سفید کپڑے پہن کر ساحل سمندر پر جانا ہے۔
خاور گلزار ایک صحافی ہیں اور وہ
روزنامہ دنیا کے ساتھ وابستہ ہیں