19سالہ سکھ لاہور کا حاکم کیسے بنا!
اسپیشل فیچر
گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے سردار رنجیت سنگھ نے احمدشاہ درانی کے پوتے شاہ زمان سے سند ِ حکومت حاصل کرنے کے بعد لاہور پر قبضہ کرنے کے لیے کوشش شروع کردی۔رنجیت سنگھ کی لاہور کی طرف روانگی کی اطلاع پوشیدہ رکھی گئی اور یہ ظاہر کیا گیا کہ نوجوان سکھ سردار دربار صاحب امرتسر کی زیارت کے لیے جارہا ہے۔وہ راتوں رات سفر کرکے4 جولائی 1799ء کودہلی دروازہ لاہور کے باہرآپہنچا۔ دروازہ بند تھا اور وہاں مدافعت کا سخت انتظام تھا۔ اس پر رنجیت سنگھ پیچھے ہٹا اورکوٹ خواجہ سعید کے علاقہ میں شاہ بلاول کے مزار کے قریب خیمہ زن ہوگیا۔ آدھی رات کو وہ نواب وزیر خان کے باغ میں چلا آیا جس کی وسطی بارہ دری آج کل پنجاب پبلک لائبریری کی عمارات میں شامل ہے۔ یہاںاس نے لوہاری دروازے کے محافظ مہر محکم دین سے ملاقات کی۔ اس نے یکے از سہ حاکمان ِ شہر کو کہلا بھیجا کہ وہ گوجرانوالہ جارہا ہے اور راوی عبور کرنے کے لیے اسے کشتیاں مہیا کی جائیں۔ کشتیوں کا انتظام کر دیا گیامگر رنجیت سنگھ گھاٹ پرپہنچا اور ملاحوں کو انعام دے کر شام کو واپس لوٹ آیا۔
5جولائی کی صبح پو پھٹے اس کے سپاہیوں نے لوہاری دروازے پر ہلہ بول دیامگر ناکام رہااوروہ اپنی فوجوں کو واپس شاہ بلاول، اپنے کیمپ میں لے گیا۔ 6جولائی کو رنجیت سنگھ لوہاری دروازے کی طرف بڑھاجس کی حفاظت کے لیے چیت سنگھ اپنی فوج کے ساتھ دروازے کوحصارمیں لیے موجودتھا۔ رنجیت سنگھ نے حکمت عملی سے کام لیااور مائی سدا کور والی بٹالوی فوج کو دہلی دروازے کے محاصرے کے لیے بھیج دیا۔جب چیت سنگھ کواس کی خبرملی تووہ دہلی دروازے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ اس کی غیر حاضری کافائدہ اٹھاتے ہوئے رنجیت سنگھ نے لوہاری دروازے پر ہلہ بول دیا۔مہرمحکم دین نے رنجیت کے لیے لوہاری دروازہ کھول دیا۔دروازہ کھلتے ہی رنجیت سنگھ اندر گھسا اور آگے بڑھ کر حویلی دیوان لکھپت رائے پر حملہ کر دیا جو شاہ عالمی دروازے کے اندر واقع تھی۔ اسی دوران مائی سدا کور نے دہلی دروازہ فتح کر لیا۔
شکست کھاکر چیت سنگھ بھاگااور قلعہ میں پناہ لے لی۔ رنجیت سنگھ نے قلعے کا محاصرہ کر لیا تو چیت سنگھ نے قلعہ کی دیواروں اور شاہی مسجد کے برجوں اور میناروں سے محا صرین پر گولہ باری شروع کر دی جو دوپہر سے شام تک جاری رہی۔ اگرچہ اس کا توپ خانہ بہت مضبوط تھا پھر بھی اس نے مائی سداکور کے ذریعے صلح کی گفت و شنید شروع کر دی۔ رنجیت سنگھ نے اسے غنیمت جانا اورجنگ وجدل کی بجائے صلح بہترسمجھی۔7 جولائی 1799ء کو رنجیت سنگھ کی فوجیں لاہورکے شاہی قلعے پرقابض ہوگئیں ۔یوں انیس سالہ رنجیت سنگھ لاہور کاحاکم بن گیا۔ (''نقوش‘‘ لاہورنمبر،''تاریخ پنجاب‘‘ ازکنہیالال)
( محمدنعیم مرتضیٰ کی مرتب کردہ تصنیف ''واقعاتِ لاہور‘‘ سے مقتبس)
سکھوں کا اپنا سکّہ
مغلوں کی طاقت کمزورہونے سے پنجاب میں سکھ مضبوط ہونے لگے۔ انھوں نے امر تسر کے قریب رام رائو نی کے نام سے قلعہ تعمیر کیااورایک سربر آوردہ سکھ جسا سنگھ کلال اہلو والیہ نے سکھوں کی ایک تنظیم'' خالصہ دل‘‘( سکھ فوج ) قائم کی۔جسا سنگھ کلال اہلووالیہ لاہورکے نزدیک ایک گائوں اہلوال میں1718ء میں پیداہوا۔ نواب کپور سنگھ نے اُس کی بہادری اوردلیری سے خوش ہو کر اسے 1753ء میںاپناوارث مقررکیا۔ سردار جسا سنگھ اہلووالیہ کلال کی قیادت میں سکھوں نے1761ء میں لاہور پر حملہ کیا۔اس معرکے میں خواجہ عبیدخان کو شکست ہوئی اوروہ ماراگیا۔یوں لاہور پرسکھوں کا قبضہ ہوگیا۔'' دل خالصہ‘‘نے جسا سنگھ کی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر سکھوں نے پہلی بار اپنا سکہ لاہور کی ٹکسال میں ضرب کیا۔اس پریہ الفاظ کندہ تھے: '' سکہ زودرجہاں بفضل اکال ۔ ملک احمد گرفت جسا ّ کلال‘‘۔جسا سنگھ اہلووالیہ نے 1772 ء میں ریاست کپورتھلہ کی بنیاد بھی رکھی اورکئی معرکے سرانجام دیے۔ وہ1783ء میں انتقال کرگیاتھا۔ (''نقوش‘‘لاہورنمبر، ویب سائٹس)