ایک واقعہ
اسپیشل فیچر
میری زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس پر یہ اصرار ہو کہ میں اسے ضرور یاد رکھوں۔ مجھے اپنے بارے میں یہ خوش فہمی بھی ہے کہ کسی اور کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آیا ہوگا جس کا تعلق مجھ سے رہا ہو اور وہ اسے بھول نہ گیا ہو۔ میں تو اس درجہ بدنصیب سر پھرا ہوں کہ لکھتے وقت یہ بھی بھول جاتاہوں کہ ادب میں صرف 'اشتراکیت‘ ترقی پسندی کی علامت ہے، اس کا سبب کیا ہے، مجھے بالکل نہیں معلوم، مجھے اس کی فکر بھی نہیں کہ معلوم کروں۔ اگر آپ اس کے درپے ہیں کہ کوئی نہ کوئی وجہ دریافت کرلیں تو پھر صبر کیجیے اور اس وقت کا انتظار کیجیے، جب میں عزیزوں اور دوستوں سے زیادہ خوش حال اور نیک نام ہوجاؤں یا مجھ پر غبن یااغوا کا مقدمہ دائر ہوجائے۔ اس وقت آپ میرے عزیزوں یا دوستوں ہی سے میرے بارے میں ایسے واقعات سن لیں گے جو مجھ پر گزرے ہوں یا نہیں، آپ خود ان کو کبھی نہ بھلائیں گے۔
اربابِ ریڈیو نے مجھے اس پر مامور کیا ہے کہ آپ کو کوئی واقعہ سناؤں ضرور، اور میں سناؤں گا بھی ضرور۔زیادہ دنوں کی بات ہے، میں دلّی آرہا تھا۔ جس ڈبے میں مجھے جگہ ملی وہ خلاف توقع اتنابھرا ہوا نہ تھا جتنا کہ ریلوے والے چاہتے تھے۔ یہ بات بھی میں بھول نہیں سکتا لیکن اس اعتبار سے ڈبہ بھرپور تھا کہ اس میں ہرجنس، ہرعمر اورہر طرح کے لوگ موجود تھے۔ ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ایک بوڑھا کسان بھی گرتا پڑتا داخل ہوا۔ زندگی میں اس طرح کے بڈھے کم دیکھے گئے ہیں، بڑی چوڑی چکلی ہڈی، بہت لمبا قد لیکن اس طورپر جھکا ہوا جیسے بڑھاپے میں قد سنبھلتا نہ تھا اس لیے جھک گیا تھا۔ جسم پر کچھ ایسا گوشت نہ تھا لیکن اس کی شکل اور نوعیت کچھ اس طرح کی تھی کہ اس کے دیکھنے سے اس کے چھولینے کا احساس ہوتا تھا جیسے گوشت اور چمڑے کے بجائے مصنوعی اور مرکب ربر وغیرہ قسم کی کوئی چیز منڈھ دی گئی ہو۔ سخت ناہموار موسم پروف ہی نہیں، رگڑ پروف بھی۔ ہتھیلی اور اس سے متصل انگلیوں کی سطح ایسی ہوگئی تھی کہ جیسے کچھوے کی پیٹھ کی ہڈی کے چھوٹے بڑے ٹکڑوں کی پچے کاری کردی گئی ہو۔ میرے دل میں کچھ وہم سا پیدا ہوا جیسے یہ آدمی نہ تھا۔ کھیت، کھاد، ہل، بیل، مرض، قحط، فاقہ، سردی، گرمی، بارش سب نبٹنے اور اپنی جیسی کرگزرنے کی ایک ہندوستانی علامت سامنے آگئی ہو۔
ڈبے میں کوئی ایسا نہ تھا جس نے اس کی پذیرائی اس طورپر نہ کی ہو جیسے کوئی معذور، مریل، خارشی کتا آگیا ہو۔بے دردی اور اپنی اپنی بڑائی بگھارنے کا ایسا بھونچال آیا کہ میں نے محسوس کیا کہ تعجب نہیں کہ ڈبہّ بغیر انجن کے چلنے لگے گا۔ نووارد کی نظر ایک دوسرے بڈھے پرپڑی جو شاید اس قسم کے سلوک سے دوچار ہوکر ایک گوشے میں سہما سمٹا اپنے ہی بستر پر جو فرش پڑاہوا تھا، دونوں یکجا ہوگئے آنے والا اپنی لٹھیا کے سہارے فرش پر اکڑوں بیٹھ گیا اور سر کو اپنے دونوں گھٹنوں میں اس طور سے ڈال لیا کہ دور سے کوئی اچٹتی ہوئی نظر ڈالے تو چونک پڑے کہ یہ کیسا شخص تھا جس کے کندھوں پر سر نہ تھا۔
شور اور ہنگامہ کم نہ ہوا تھاکہ گاڑی پلیٹ فارم سے سرکنے لگی۔ ایک کلکٹر صاحب نازل ہو گئے۔ ڈبے میں کچھ ایسے لوگ تھے جن کے پاس ٹکٹ نہ تھے۔ صرف قیمتی سگریٹ کیس، فاونٹین پن، گھڑی اور سونے کے بٹن تھے۔ ٹکٹ کلکٹر کو کسی نے سگریٹ پیش کیا، کسی نے دو بڑے بڑے انناس دیے، کسی نے اپنی ساتھی خاتون کا یوں تعارف کرایاکہ وہ بی اے پاس تھیں اورفلم میں کام کرتی تھیں۔ سب کو نجات مل گئی، بڈھا پکڑاگیا اور وہ سب جو ٹکٹ نہ لینے کے مواخذہ سے نجات پاچکے تھے، ٹکٹ کلکٹر کی حمایت میں بڈھے کو برا بھلا کہنے لگے اور وہی قصے پھر سے شروع ہوگئے۔ یعنی پھبتی، پھکڑ، گالی گلوج اور معلوم نہیں کیا کیا۔
بڈھا بھوچکا تھا اور برابر کہے جارہا تھا کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہ بڑی مصیبت اور تکلیف میں تھا۔ کسی کے پاؤں پکڑ لیتا، کسی کی دہائی دیتا۔ اس کی بیوہ لڑکی کا اکیلا نوعمر ناسمجھ لڑکا گھر سے خفا ہوکر دلی بھاگ گیا تھا۔ بغیر کچھ کھائے پیئے یا لیے، جس کے فراق میں ماں پاگل ہورہی تھی اور گھر کے مویشیوں کے گلے میں بانہیں ڈال ڈال کر روتی تھی، جس طرح بڈھا ہم سب کے پاؤں میں سر ڈال کر منتیں کرتا اور روتا تھا۔ گاؤں والے کہتے تھے کہ ماں پر آسیب ہے۔ بڈھا بے اختیار ہوہوکر کہتا تھا، حجور سچ مانوں میری بہو پاگل نہیں ہے، اس پر آسیب نہیں ہے، وہ تو میری خدمت کرتی تھی، ڈھور، ڈنگر کی دیکھ بھال کرتی ہے، کھیتی باڑی کابوجھ اٹھاتے ہوئے گھر کاسارا دھندا کرتی ہے۔
ٹکٹ کلکٹر نے ایک موٹی سی گالی دی اور بولا، ''ٹکٹ کے دام لا، بڑا بہو والا بنا ہے‘‘۔ بڈھا پھر گڑگڑانے لگا۔ اس پر کسی صاحب نے، جن کا لباس میلا، فاونٹین پن امریکن اور شکل بنجاروں جیسی تھی اور پتے پر سے انگلی سے چاٹ چاٹ کر دہی بڑے ختم کیے تھے، سنی ہوئی انگلی سے بالوں کو خلال کرتے ہوئے فرمایا، کیوں رے بڈھے! منہ پر آنکھ نہ تھی کہ ہمارے ڈبے میں گھس آیا۔ شریفوں میں کبھی تیرے پرکھا بھی بیٹھے تھے۔ بڈھا گھگھیا کر بولا، ''بابو! سراپھوں ہی کو دیکھ کر چلا آیا، سراپھ دیالو ہوتے ہیں۔ تمہارے چرنوں میں سکھ اور چھایا ہے، تھرڈکلاس میں گیاتھا۔ ایک نے ڈھکیل دیا گرپڑا۔ بہونے بچے کیلئے ایک نئی ٹوپی اور کچھ سوکھی جلیبی دی تھی جوانگوچھا میں بندھی تھی کہ لونڈا بھوکا ہوگا، دے دینا۔ ٹوپی پہن کر جلیبی کھائے گا تو خوشی کے مارے چلاآئیگا۔ ہڑبڑ میں نہ جانے کس نے انگوچھیا ہتھیالی‘‘۔
ٹکٹ کلکٹر نے سگریٹ کاآخری ٹکڑاکھڑکی کے باہر پھینکا اور فیصلہ کن انداز سے کھڑے ہوکر فیصلہ دیا۔ بڈھا تو یوں نہ مانے گا، اچھا کھڑا ہوجا اور جامہ تلاشی دے ورنہ لے چلتا ہوں ڈپٹی صاحب ہاں، جو پاس کے ڈبے میں موجود ہیں اور ایسوں کو جیل خانے بھیج دیتے ہیں۔ بڈھا جلد تلاشی کیلئے اس خوشی اور مستعدی سے تیار ہوگیا جیسے بے زری اور ناکسی نے بڑے آڑے وقت میں بڑے سچے دوست یا بڑے کاری اسلحہ کا کام کیا تھا۔ اب دوسرے بڈھے سے نہ رہا گیا۔ اس نے کہا، '' بابو صاحب بڈھے نے برا کیا جو اس ڈبے میں چلا آیا اور ٹکٹ نہیں خریدا لیکن اس کو سزا بھی کافی مل چکی ہے۔ اب ماردھاڑ ختم کردیجئے، بڈھا بڑا دکھی معلوم ہوتاہے‘‘۔