سرائیوو……بلقان کا ہیرا
اسپیشل فیچر
سرائیوو کا خوبصورت شہر جو بوسنیا کا پایہ تخت بھی ہے، چہار اطراف سے سبز اور اونچے پہاڑوں کے درمیان کوہ ملیچکہ کی پیالہ نما وادی میں دریائے ملیچکہ کے کنارے پر آباد ہے۔ گزشتہ جنگ(1992 ء تا 1995 ء ) کے خاتمے کے بعد اپنی اصل سے بھی بہتر حالت میں لوٹ رہا ہے۔ پہاڑیوں کی چوٹیوں سے نیچے جب شہر کا نظارہ کیا جائے تو ایک دلفریب منظر آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ سرائیوو کا شہر سطح سمندر سے 2272 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اپنے خوبصورت محل وقوع اور سبزہ وباغات کی وجہ سے سرائیوو کو جزیرہ نمائے بلقان کا ہیرا کہا جاتا ہے۔ سرائیوو کے کھلے اور مسقف بازار گاہکوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ جن کے درمیان پتھروں سے جڑی ہوئی خوبصورت سڑکیں سلطنت عثمانیہ کے انجینئروں کی اعلیٰ کاریگری کا شاہکار دکھائی دیتی ہیں۔ سرائیوو شہر میں عثمانیوں نے فراہمی آب کا جو نظام قائم کیا تھا،وہ ابھی تک کام کر رہا ہے۔ چھ سو برس گزرنے اور کئی جنگوں کے باوجود آب رسائی کا نظام اس لیے برقرار ہے کہ سب تعمیرات پتھر کی بنی ہوئی ہیں۔ بازاروں اور گلیوں میں صفائی کو دیکھ کر کوئی بھی مسافر تعریف کیے بنا نہیں رہ سکتا۔
سرائیوو میں ایک سو سے زائد بڑی جامع مساجد ہیں۔ جن کے لمبے اور چار کونی مینار ترکش ڈیزائن اور عہد کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ خصوصاً جمعہ کے دن مساجد کے اندرونی ہال صحن اور اطراف کے پارکوں میں جگہ حاصل کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ بوسنیا کے مسلمانوں پر دین اسلام کی چھاپ بہت گہری ہے۔ کیونکہ اس خطے پر ترکوں نے کم و بیش چار صدیوں تک حکمرانی کی، اس لیے یہاں کے کلچر، رہن سہن، مساجد کے ڈیزائن و مینار اور عمارت کی آرائش و زیبائش پر ترکی رنگ کی عکاسی نمایاں نظر آتی ہے۔ شاہراہوں کے کنارے درمیانے درجے کے ریستورانوں میں ترکی انداز کے لکڑی کے تخت پوش بچھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سرائیوو کا شہر پندرہویں اور سولہویں صدی میں ایک اہم تجارتی مرکز بن چکا تھا۔ مشرق اور یورپ سے تجارتی قافلے اپنی اپنی اشیا یہاں لا کر فروخت کر کے اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جاتے اور آج کل بڑے بڑے ہوٹلوں کی طرح بڑی بڑی سرائیں تاجروں کی آمد سے بھری ہوتی تھیں، جن میں دن رات رونق رہتی تھی۔
سرائیوو کا شہر ایک ایسی جگہ واقع ہے جو جنت ارضی کہلوانے کا مستحق ہے۔ شہر کے بالکل درمیان میں دریائے ملیچکہ بہہ رہا ہے۔ جس کا منبع سرائیوو کے اردگرد پھیلی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔دریا کے دونوں اطراف بڑی بڑی کشادہ سڑکیں ہیں جو شام پانچ بجے کے بعد عام ٹریفک کیلئے بند کر دی جاتی ہیں۔ جسے پیدل مال کا نام دیا گیا ہے، جس پر ہر عمر کے لوگ جوگنگ کرتے اوربنچوں پر بیٹھے خوش گپیاں لگاتے رات گئے تک نظر آتے ہیں۔ دریا کے دونوں اطراف بڑے بڑے کثیر المنزلہ شاپنگ مال کے علاوہ خوبصورت ریستوران اپنے مہمانوں کو دعوت خورو نوش دینے کیلئے آراستہ نظر آتے ہیں۔ سرائیوو بوسنیا کا صدر مقام ہونے کے علاوہ سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ جس کی آبادی تقریباً چار لاکھ ہے۔ پہاڑوں میں گھرا ہونے کی بنا پر گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 25 اور 27 سنٹی گریڈ تک رہتا ہے۔ موسم سرما میں دو تین فٹ برف باری بھی ہو جاتی ہے۔ سرائیوو شہر کی ٹرام سروس نہایت آرام دہ ہے۔
سرائیوو کے شہر کو بین الاقوامی کھیلوں کی دُنیا میں اس لیے بھی ایک ممتاز مقام حاصل ہے کہ چودھویں سرمائی اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا شرف بھی اس شہر کو حاصل ہوا جو7 فروری 1984 ء کو منعقد ہوئے۔