چینی سائنس دانوں کی انقلابی کامیابی!
اسپیشل فیچر
دماغی ماڈلنگ کیلئے دنیا کی پہلی نیورل ڈائنامیکل سسٹم چپ تیارکرلی
انسانی دماغ کو کائنات کا پیچیدہ ترین نظام قرار دیا جاتا ہے، جس کے اسرار جاننے کیلئے سائنس دان دہائیوں سے کوشاں ہیں۔ مصنوعی ذہانت، سپر کمپیوٹنگ اور جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی نے اس تحقیق کو نئی جہت عطا کی ہے، مگر دماغی سرگرمیوں کی برق رفتار نقل (Brain Modeling) ہمیشہ ایک بڑا تکنیکی چیلنج رہی ہے۔ اب چین کے سائنسدانوں نے ایک نئی چپ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو دماغی ماڈلنگ میں ہونے والی تاخیر کو سیکنڈز سے کم کرکے محض ملی سیکنڈز تک لے آئی ہے۔ اگر یہ پیشرفت عملی میدان میں اپنی افادیت ثابت کر دیتی ہے تو نہ صرف دماغی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں انقلابی تبدیلیاں آسکتی ہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، برین کمپیوٹر انٹرفیس اور اعصابی تحقیق کے شعبوں میں بھی ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ یہ کامیابی اس بات کا بھی مظہر ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت اب مستقبل کی معیشت اور سائنسی برتری کا بنیادی محور بنتے جا رہے ہیں۔
چینی سائنسدانوں نے ''فیز چینج میمریسٹرز‘‘ (phase-change memristors) پر مبنی دنیا کی پہلی نیورل ڈائنامیکل سسٹم چپ تیار کر لی ہے، جس نے دماغی ماڈلنگ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس جدید چپ نے ایک مرحلے (Single Step) کی کمپیوٹیشنل تاخیر کو محض 2.12 ملی سیکنڈ تک محدود کر دیا ہے، جبکہ دماغ کے بیرونی حصے (Brain Cortex) کی تھری ڈی ساخت کی تشکیل نو کے دوران موجودہ جدید ترین گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کے مقابلے میں 50 سے 478 گنا تک زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی ہے۔
یہ اہم تحقیق گزشتہ ہفتے عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے ''سائنس‘‘ میں شائع ہوئی۔ اس منصوبے کی قیادت پیکنگ یونیورسٹی کے اسکول آف انٹیگریٹڈ سرکٹس کے پروفیسر یانگ یوچاؤ (Yang Yuchao) نے کی۔ انہوں نے چینی اخبار گوانگ منگ ڈیلی (Guangming Daily) کو بتایا کہ اگر مشینوں کو حقیقی وقت (Real Time) میں طبعی دنیا کو سمجھنے اور اس کا درست ماڈل تیار کرنے کے قابل بنانا ہے تو اس کیلئے نیورل ڈائنامیکل سسٹم ناگزیر ہے۔ یہ نظام مصنوعی اعصابی نیٹ ورکس (Neural Networks) اور تفاضلی مساوات (Differential Equations) کو یکجا کرتا ہے۔
پروفیسر یانگ کے مطابق ایسا نظام نامکمل، شور زدہ اور غیر مکمل معلومات سے بھی دماغ کی نہایت ہموار، درست اور سہ جہتی ساخت دوبارہ تشکیل دے سکتا ہے۔ جس کے باعث طب، مصنوعی ذہانت اور اعصابی سائنس سمیت متعدد شعبوں میں اس کے بے شمار عملی استعمال ممکن ہیں۔ تاہم روایتی کمپیوٹنگ نظام ایک بنیادی رکاوٹ کا شکار ہیں، جسے میموری اور کمپیوٹیشن کی علیحدگی کہا جاتا ہے۔ موجودہ کمپیوٹر آرکیٹیکچر میں حساب کتاب کے دوران بے شمار درمیانی متغیرات مسلسل میموری اور پروسیسر کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ عمل بالکل ایسے ہے جیسے کسی بڑی فیکٹری میں زیادہ وقت مصنوعات بنانے کے بجائے انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر صرف ہو رہا ہو۔ نتیجتاً کمپیوٹنگ میں تاخیر بڑھ جاتی ہے، توانائی کا بے جا استعمال ہوتا ہے اور مجموعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
اسی مسئلے کے حل کیلئے چینی محققین نے فیز چینج میموری کی ایک منفرد طبعی خصوصیت، یعنی کنڈکٹنس ڈرفٹ (Conductance Drift) سے فائدہ اٹھایا۔ اس خاصیت کی اہم بات یہ ہے کہ ایک مخصوص مدت کے دوران اس کی تبدیلی نہ صرف قابل پیشگوئی ہوتی ہے بلکہ اسے انتہائی درست انداز میں قابو بھی کیا جا سکتا ہے۔
اسی بنیاد پر تحقیقاتی ٹیم نے ''کنٹرول ایبل اِن میموری کمپیوٹنگ‘‘ (Controllable In Memory Computing) کے نام سے ایک نیا کمپیوٹنگ تصور پیش کیا۔ سادہ الفاظ میں، وہ تمام پیچیدہ حسابی مراحل جن کیلئے پہلی بار بار ڈیجیٹل کمپیوٹیشن، کیش میموری تک رسائی اور ڈیٹا کی مسلسل منتقلی درکار ہوتی تھی، اب خود میموری ڈیوائس کی طبعی تبدیلیوں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف رفتار میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے بلکہ توانائی کی بچت بھی ممکن ہوتی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے مصنوعی اعصابی نیٹ ورک کے ویٹس (Weights) کو فیز چینج میموری کی مختلف ملٹی لیول کنڈکٹنس اسٹیٹس پر منتقل کیا، جس کے نتیجے میں میٹرکس ملٹی پلائی (Matrix Multiplication) اور اکیومولیشن (Accumulation) جیسے بنیادی کمپیوٹیشنل عمل ایک ہی میموری ایرے (Memory Array) کے اندر انجام پانے لگے۔
یوں کمپیوٹنگ کے یہ دونوں بنیادی مراحل صرف 0.28 مربع ملی میٹر رقبے پر مشتمل ایک انتہائی چھوٹے میموری کمپیوٹنگ ارے میں یکجا کر دیے گئے۔ اس جدید چپ کو 40 نینو میٹر مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا، جو سیمی کنڈکٹر صنعت میں ایک مستند اور مؤثر پیداواری معیار سمجھا جاتا ہے۔
اس چپ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف 2.12 ملی سیکنڈ میں ایک مکمل کمپیوٹیشنل دور (Single Iteration) مکمل کر لیتی ہے، جس کے ساتھ پہلی مرتبہ نیورل ڈائنامیکل ہارڈ ویئر حقیقی معنوں میں ملی سیکنڈ دور میں داخل ہو گیا ہے۔ پروفیسر یانگ کے مطابق رفتار کے اعتبار سے یہ نئی چپ موجودہ جدید ترین مخصوص کمپیوٹنگ ایکسیلیریٹرز کے مقابلے میں 3.82 سے 36.27 گنا زیادہ تیز ہے، جبکہ اس کی توانائی کی کھپت بھی نمایاں طور پر کم ہے۔
دماغ کے بیرونی حصے یعنی برین کورٹیکس کی سطح کی تشکیل نو کے دوران اس چپ نے غیر ملکی جدید ترین ''گرافکس پروسیسنگ یونٹس‘‘ کے مقابلے میں 478.18 گنا زیادہ رفتار کا مظاہرہ کیا۔ اس کے ذریعے تیار کردہ دماغی ماڈلز نہایت ہموار، ساختی اعتبار سے درست (Topologically Consistent) اور دماغ کی پیچیدہ تہہ دار ساخت کی درست عکاسی کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ چپ روایتی طریقوں میں پیدا ہونے والی غیر ضروری ساختی خرابیاں (Artifacts) اور خود ساختہ باہمی تقاطع کو بھی مؤثر انداز میں ختم کر دیتی ہے۔
پروفیسر یانگ نے کہا کہ یہ پیشرفت برین کمپیوٹر انٹرفیس اعصابی بیماریوں کی تشخیص اور جدید طبی تحقیق کیلئے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ مستقبل میں ہر فرد کے دماغ کا انفرادی اور ڈائنامک ڈیجیٹل ٹوئن تیار کرنا بھی ممکن ہو سکتا ہے، جو حقیقی وقت میں دماغی سرگرمیوں کی عکاسی کرے گا۔ ایسی ٹیکنالوجی دماغی آپریشنز کے دوران ریئل ٹائم نیورل نیوی گیشن، الزائمر جیسی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص، ذاتی نوعیت کے علاج اور اعصابی امراض کے بروقت تدارک کیلئے ایک مضبوط تکنیکی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس تحقیق کو کامیابی کے ساتھ عملی سطح پر منتقل کر دیا گیا تو یہ صرف مصنوعی ذہانت ہی نہیں بلکہ نیورو سائنس، روبوٹکس، طبی تشخیص، ذہین کمپیوٹنگ اور مستقبل کے خودکار نظاموں میں بھی ایک نئے انقلاب کی بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کامیابی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، میموری کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں چین تیزی سے عالمی قیادت کی جانب بڑھ رہا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ شعبہ سائنسی، صنعتی اور طبی دنیا کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔