چینی سائنس دانوں کی انقلابی کامیابی!

چینی سائنس دانوں کی انقلابی کامیابی!

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ارشد لئیق


دماغی ماڈلنگ کیلئے دنیا کی پہلی نیورل ڈائنامیکل سسٹم چپ تیارکرلی
انسانی دماغ کو کائنات کا پیچیدہ ترین نظام قرار دیا جاتا ہے، جس کے اسرار جاننے کیلئے سائنس دان دہائیوں سے کوشاں ہیں۔ مصنوعی ذہانت، سپر کمپیوٹنگ اور جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی نے اس تحقیق کو نئی جہت عطا کی ہے، مگر دماغی سرگرمیوں کی برق رفتار نقل (Brain Modeling) ہمیشہ ایک بڑا تکنیکی چیلنج رہی ہے۔ اب چین کے سائنسدانوں نے ایک نئی چپ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو دماغی ماڈلنگ میں ہونے والی تاخیر کو سیکنڈز سے کم کرکے محض ملی سیکنڈز تک لے آئی ہے۔ اگر یہ پیشرفت عملی میدان میں اپنی افادیت ثابت کر دیتی ہے تو نہ صرف دماغی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں انقلابی تبدیلیاں آسکتی ہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، برین کمپیوٹر انٹرفیس اور اعصابی تحقیق کے شعبوں میں بھی ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ یہ کامیابی اس بات کا بھی مظہر ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت اب مستقبل کی معیشت اور سائنسی برتری کا بنیادی محور بنتے جا رہے ہیں۔
چینی سائنسدانوں نے ''فیز چینج میمریسٹرز‘‘ (phase-change memristors) پر مبنی دنیا کی پہلی نیورل ڈائنامیکل سسٹم چپ تیار کر لی ہے، جس نے دماغی ماڈلنگ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس جدید چپ نے ایک مرحلے (Single Step) کی کمپیوٹیشنل تاخیر کو محض 2.12 ملی سیکنڈ تک محدود کر دیا ہے، جبکہ دماغ کے بیرونی حصے (Brain Cortex) کی تھری ڈی ساخت کی تشکیل نو کے دوران موجودہ جدید ترین گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کے مقابلے میں 50 سے 478 گنا تک زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی ہے۔
یہ اہم تحقیق گزشتہ ہفتے عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے ''سائنس‘‘ میں شائع ہوئی۔ اس منصوبے کی قیادت پیکنگ یونیورسٹی کے اسکول آف انٹیگریٹڈ سرکٹس کے پروفیسر یانگ یوچاؤ (Yang Yuchao) نے کی۔ انہوں نے چینی اخبار گوانگ منگ ڈیلی (Guangming Daily) کو بتایا کہ اگر مشینوں کو حقیقی وقت (Real Time) میں طبعی دنیا کو سمجھنے اور اس کا درست ماڈل تیار کرنے کے قابل بنانا ہے تو اس کیلئے نیورل ڈائنامیکل سسٹم ناگزیر ہے۔ یہ نظام مصنوعی اعصابی نیٹ ورکس (Neural Networks) اور تفاضلی مساوات (Differential Equations) کو یکجا کرتا ہے۔
پروفیسر یانگ کے مطابق ایسا نظام نامکمل، شور زدہ اور غیر مکمل معلومات سے بھی دماغ کی نہایت ہموار، درست اور سہ جہتی ساخت دوبارہ تشکیل دے سکتا ہے۔ جس کے باعث طب، مصنوعی ذہانت اور اعصابی سائنس سمیت متعدد شعبوں میں اس کے بے شمار عملی استعمال ممکن ہیں۔ تاہم روایتی کمپیوٹنگ نظام ایک بنیادی رکاوٹ کا شکار ہیں، جسے میموری اور کمپیوٹیشن کی علیحدگی کہا جاتا ہے۔ موجودہ کمپیوٹر آرکیٹیکچر میں حساب کتاب کے دوران بے شمار درمیانی متغیرات مسلسل میموری اور پروسیسر کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ عمل بالکل ایسے ہے جیسے کسی بڑی فیکٹری میں زیادہ وقت مصنوعات بنانے کے بجائے انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر صرف ہو رہا ہو۔ نتیجتاً کمپیوٹنگ میں تاخیر بڑھ جاتی ہے، توانائی کا بے جا استعمال ہوتا ہے اور مجموعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
اسی مسئلے کے حل کیلئے چینی محققین نے فیز چینج میموری کی ایک منفرد طبعی خصوصیت، یعنی کنڈکٹنس ڈرفٹ (Conductance Drift) سے فائدہ اٹھایا۔ اس خاصیت کی اہم بات یہ ہے کہ ایک مخصوص مدت کے دوران اس کی تبدیلی نہ صرف قابل پیشگوئی ہوتی ہے بلکہ اسے انتہائی درست انداز میں قابو بھی کیا جا سکتا ہے۔
اسی بنیاد پر تحقیقاتی ٹیم نے ''کنٹرول ایبل اِن میموری کمپیوٹنگ‘‘ (Controllable In Memory Computing) کے نام سے ایک نیا کمپیوٹنگ تصور پیش کیا۔ سادہ الفاظ میں، وہ تمام پیچیدہ حسابی مراحل جن کیلئے پہلی بار بار ڈیجیٹل کمپیوٹیشن، کیش میموری تک رسائی اور ڈیٹا کی مسلسل منتقلی درکار ہوتی تھی، اب خود میموری ڈیوائس کی طبعی تبدیلیوں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف رفتار میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے بلکہ توانائی کی بچت بھی ممکن ہوتی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے مصنوعی اعصابی نیٹ ورک کے ویٹس (Weights) کو فیز چینج میموری کی مختلف ملٹی لیول کنڈکٹنس اسٹیٹس پر منتقل کیا، جس کے نتیجے میں میٹرکس ملٹی پلائی (Matrix Multiplication) اور اکیومولیشن (Accumulation) جیسے بنیادی کمپیوٹیشنل عمل ایک ہی میموری ایرے (Memory Array) کے اندر انجام پانے لگے۔
یوں کمپیوٹنگ کے یہ دونوں بنیادی مراحل صرف 0.28 مربع ملی میٹر رقبے پر مشتمل ایک انتہائی چھوٹے میموری کمپیوٹنگ ارے میں یکجا کر دیے گئے۔ اس جدید چپ کو 40 نینو میٹر مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا، جو سیمی کنڈکٹر صنعت میں ایک مستند اور مؤثر پیداواری معیار سمجھا جاتا ہے۔
اس چپ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف 2.12 ملی سیکنڈ میں ایک مکمل کمپیوٹیشنل دور (Single Iteration) مکمل کر لیتی ہے، جس کے ساتھ پہلی مرتبہ نیورل ڈائنامیکل ہارڈ ویئر حقیقی معنوں میں ملی سیکنڈ دور میں داخل ہو گیا ہے۔ پروفیسر یانگ کے مطابق رفتار کے اعتبار سے یہ نئی چپ موجودہ جدید ترین مخصوص کمپیوٹنگ ایکسیلیریٹرز کے مقابلے میں 3.82 سے 36.27 گنا زیادہ تیز ہے، جبکہ اس کی توانائی کی کھپت بھی نمایاں طور پر کم ہے۔
دماغ کے بیرونی حصے یعنی برین کورٹیکس کی سطح کی تشکیل نو کے دوران اس چپ نے غیر ملکی جدید ترین ''گرافکس پروسیسنگ یونٹس‘‘ کے مقابلے میں 478.18 گنا زیادہ رفتار کا مظاہرہ کیا۔ اس کے ذریعے تیار کردہ دماغی ماڈلز نہایت ہموار، ساختی اعتبار سے درست (Topologically Consistent) اور دماغ کی پیچیدہ تہہ دار ساخت کی درست عکاسی کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ چپ روایتی طریقوں میں پیدا ہونے والی غیر ضروری ساختی خرابیاں (Artifacts) اور خود ساختہ باہمی تقاطع کو بھی مؤثر انداز میں ختم کر دیتی ہے۔
پروفیسر یانگ نے کہا کہ یہ پیشرفت برین کمپیوٹر انٹرفیس اعصابی بیماریوں کی تشخیص اور جدید طبی تحقیق کیلئے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ مستقبل میں ہر فرد کے دماغ کا انفرادی اور ڈائنامک ڈیجیٹل ٹوئن تیار کرنا بھی ممکن ہو سکتا ہے، جو حقیقی وقت میں دماغی سرگرمیوں کی عکاسی کرے گا۔ ایسی ٹیکنالوجی دماغی آپریشنز کے دوران ریئل ٹائم نیورل نیوی گیشن، الزائمر جیسی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص، ذاتی نوعیت کے علاج اور اعصابی امراض کے بروقت تدارک کیلئے ایک مضبوط تکنیکی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس تحقیق کو کامیابی کے ساتھ عملی سطح پر منتقل کر دیا گیا تو یہ صرف مصنوعی ذہانت ہی نہیں بلکہ نیورو سائنس، روبوٹکس، طبی تشخیص، ذہین کمپیوٹنگ اور مستقبل کے خودکار نظاموں میں بھی ایک نئے انقلاب کی بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کامیابی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، میموری کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں چین تیزی سے عالمی قیادت کی جانب بڑھ رہا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ شعبہ سائنسی، صنعتی اور طبی دنیا کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ورلڈ کپ یا ورلڈ پَپ؟

ورلڈ کپ یا ورلڈ پَپ؟

بونی اور سمبا نے فٹ بال مہارتوں سے دنیا کو حیران کر دیااگر اس ورلڈ کپ میں یہ باصلاحیت فٹ بال کھیلنے والے کتے میدان میں ہوتے تو شاید کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی کو بھی سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسے ورلڈ کپ کہیں یا ''ورلڈ پَپ‘‘، بات ایک ہی ہے!برطانیہ کے شہر ریڈنگ میں اپنی مالک اولگا جونز کے ساتھ رہنے والے پانچ سالہ بارڈر کولی سمبا اور اس کی سات سالہ بہن شو ٹائپ انگلش اسپرنگر اسپینیئل بونی نے ورلڈ کپ کا جشن منفرد انداز میں مناتے ہوئے اپنے اعزازات کی طویل فہرست میں فٹ بال کے نئے عالمی ریکارڈ بھی شامل کر لیے ہیں۔ مسلسل عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے سمبا نے ایک منٹ میں سب سے زیادہ فٹ بال گول کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس نے صرف ایک منٹ میں 12 گول کر کے نیا عالمی ریکارڈ بنایا۔ دوسری جانب بونی نے صرف 30 سیکنڈ میں 5 گول کر کے اس عرصے میں کسی بھی کتے کی جانب سے سب سے زیادہ فٹ بال گول کرنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔اس سے قبل سمبا ایک منٹ میں 5 گول کر کے بھی ریکارڈ قائم کر چکا تھا، مگر اس نے اپنی ہی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بناتے ہوئے نیا سنگ میل عبور کر لیا۔بلاشبہ یہ ننھے فٹ بالر اپنی مہارت اور پھرتی سے ہر دیکھنے والے کا دل موہ لیتے ہیں۔ اولگا جونز، جن کا تعلق طب کے شعبے سے رہا ہے لیکن اب وہ اپنے ریکارڈ ساز کتوں کی تربیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، نے بتایا کہ ان کے تازہ ترین عالمی ریکارڈ کی کوششوں کا خیال یقیناً فیفا ورلڈ کپ سے ہی متاثر ہو کر آیا۔انہوں نے کہا کہ فٹ بال ان کھیلوں میں سے ایک ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتا ہے۔ جب گنیز ورلڈ ریکارڈز نے فٹ بال سے متعلق ایک نیا ریکارڈ متعارف کرایا تو ہمیں محسوس ہوا کہ یہ سمبا اور بونی کیلئے بہترین موقع ہے۔ دونوں کو پہلے ہی گیند سے کھیلنا، نشانے لگانا اور مختلف مسائل حل کرنے والے کھیل بے حد پسند ہیں، اس لیے ہم نے سوچا کہ کیوں نہ انہیں پینلٹی شوٹ آؤٹ کا اپنا منفرد، کتوں والا انداز آزمانے کا موقع دیا جائے۔اولگا جونز نے مزید بتایا کہ سمبا کو فٹ بال کے گول کرتے دیکھ کر بونی خود کو زیادہ دیر تک روک نہ سکی۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے بیٹھ کر دیکھتی رہی، پھر جیسے اس نے خود سے کہا، ''اچھا، اب میری باری ہے‘‘۔ موقع ملتے ہی وہ بے حد جوش و خروش کے ساتھ میدان میں دوڑ پڑی، اپنے گول کیے اور ہمیشہ کی طرح اپنی مخصوص توانائی، دلکشی اور خوشگوار شرارت سے اس لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔ اولگا نے مسکراتے ہوئے مزید کہا کہ بالکل! ہم دل و جان سے انگلینڈ کی حمایت کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ٹیم بہترین ٹورنامنٹ کھیلے گی۔ سمبا اور بونی نے اگرچہ فٹ بال میں عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں، لیکن انگلینڈ کے گول کیپروں کے برعکس انہیں کسی شاٹ کو روکنے کی ذمہ داری نہیں نبھانا پڑی۔49 سالہ اولگا جونز بونی اور سمبا کی تربیت اُس وقت سے کر رہی ہیں جب وہ بالکل چھوٹے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے انہیں تفریحی کرتب اور کھیل سکھائے، پھر بتدریج ان کی تربیت کو مزید اعلیٰ سطح تک لے گئیں۔ آج یہ دونوں کتے مختلف ڈاگ اسپورٹس، فلموں اور ٹیلی وژن پروگراموں میں شرکت، ڈاگ ڈانسنگ اور متعدد گنیز ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کرنے جیسے غیرمعمولی کارنامے انجام دے چکے ہیں۔اولگا کے مطابق بونی اور سمبا ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے ہر نئے چیلنج کو نہایت شوق سے قبول کرتے ہیں اور نئی چیزیں سیکھنے میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کتوں کی نظر میں یہ سب محض ایک دلچسپ کھیل ہوتا ہے، جو وہ کبھی اپنی مالک اور کبھی ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ جب وہ کوئی کام کامیابی سے انجام دیتے ہیں تو انہیں انعام کے طور پر مزیدار خوراک دی جاتی ہے، جس سے ان کا جوش اور سیکھنے کا جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اولگا کے بقول، جب کھیل بھی ہو، تعریف بھی ملے اور پسندیدہ انعام بھی، تو پھر اسے پسند نہ کرنے کی آخر کوئی وجہ ہی کیا ہو سکتی ہے؟بونی اور سمبا سیکڑوں کرتب، احکامات اور زبانی اشاروں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ متعدد باوقار مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں، جبکہ ٹیلی وژن پروگراموں، اشتہارات اور اسٹیج شوز میں بھی مرکزی کردار ادا کر کے خوب شہرت حاصل کر چکے ہیں۔سمبا کو مصوری کا بھی بے حد شوق ہے۔ اس نے اپنی بنائی ہوئی تصاویر فروخت کر کے فلاحی اداروں کیلئے فنڈز جمع کیے ہیں۔ دوسری جانب بونی نے برطانیز گاٹ ٹیلنٹ میں اپنی شاندار کارکردگی پر جج سمیت پورے حاضرین سے کھڑے ہو کر داد وصول کی تھی۔جب اولگا سے پوچھا گیا کہ انہیں اپنے کتوں کی کون سی بات سب سے زیادہ حیران کرتی ہے تو انہوں نے کہاکہ شاید ان کی مکمل طور پر نئے تصورات کو سیکھنے کی صلاحیت۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کتے صرف حرکات یاد کرتے ہیں، لیکن سمبا اور بونی کسی بھی کام کے اصل مقصد کو غیرمعمولی انداز میں سمجھ لیتے ہیں اور پھر اسے انجام دینے کیلئے اپنا منفرد طریقہ خود تلاش کر لیتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

پاکستان عالمی مالیاتی اداروں میں11جولائی1950ء کو پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور بین الاقوامی بینک برائے تعمیر و ترقی (ورلڈ بینک) کی رکنیت حاصل کی۔ اس اہم پیش رفت سے ملک کو عالمی مالیاتی نظام میں باقاعدہ مقام ملا اور اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ترقیاتی منصوبوں کیلئے قرضوں اور تکنیکی معاونت کے حصول کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ قدم پاکستان کی ابتدائی معاشی اور مالی پالیسیوں میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔جدہ فضائی حادثہ11جولائی1991ء کو نائیجیریا ایئرویز کی ''پرواز 2120‘‘ سعودی عرب کے شہر جدہ سے پرواز کے فوراً بعد حادثے کا شکار ہو گئی۔ طیارے میں آگ لگنے کے باعث وہ گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں سوار تمام 261 مسافر اور عملہ جاں بحق ہو گئے۔ تحقیقات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ طیارے کے پہیوں میں خرابی اور ان میں لگنے والی آگ تھی۔ یہ سانحہ دنیا کے مہلک ترین فضائی حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔سکائی لیب کا اختتام11جولائی1979ء کو امریکہ کا پہلا خلائی اسٹیشن اسکائی لیب اپنے مشن کی تکمیل کے بعد زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہوتے ہوئے تباہ ہو گیا۔ یہ خلائی اسٹیشن بحرِ ہند کے اوپر فضا میں جل کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، جبکہ اس کا کچھ ملبہ مغربی آسٹریلیا کے علاقوں میں بھی گرا۔ 1973ء میں خلا میں بھیجا گیا اسکائی لیب امریکی خلائی تحقیق کا ایک اہم سنگ میل تھا اور اس نے کئی سائنسی تجربات میں نمایاں کردار ادا کیا۔8 ہزار مسلمانوں کا قتل عامسریبرینیکا کا قتل عام 11 جولائی 1995ء کو سریبرینیکا میں بوسنیائی جنگ کے دوران پیش آیا۔ اس افسوس ناک واقعہ میں سریبرینیکا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں 8ہزار بوسنیائی مسلمانوں کا بے دردی سے قتل کیا گیا۔ اس قتل عام کا آغاز بوسنیائی سرب آرمی کے یونٹس نے کیاجبکہ اس کارپئینز نامی فوجی یونٹ جو 1991ء تک سربیا کے وزارت داخلہ کا حصہ تھی نے بھی سرب آرمی کو مدد فراہم کی۔سپین پہلی بارفٹ بال چیمپئن بنا2010ء میں آج کے روز جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں اسپین نے نیدرلینڈز کو اضافی وقت میں 0-1 سے شکست دے کر اپنی تاریخ کا پہلا عالمی کپ اپنے نام کیا۔ سنسنی خیز مقابلے کا واحد اور فیصلہ کن گول آندریس انیئستا نے 116ویں منٹ میں کیا، جس نے اسپین کو تاریخی فتح دلائی۔ اس کامیابی کے ساتھ اسپین یورپی چیمپئن شپ (2008ء) اور ورلڈ کپ (2010ء) جیتنے والی دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل ہو گیا۔عالمی شطرنج مقابلہ11جولائی1972ء کو عالمی شطرنج چیمپئن شب کے نام سے ایک مقابلہ منعقد کیا گیا جو امریکہ چیلنجر بوبی فشراور سوویت یونین کے دفاعی چیمپئن بورس اسپاسکی کے درمیان تھا۔ یہ میچ آئس لینڈ کے شہر یکجاویک کے لاگارڈ الشول میدان میں ہوا اور اسے میچ آف دی سنچری کا نام دیا گیا۔فشر اس مقابلے میں فتح کے بعد شطرنج کا عالمی مقابلہ جیتنے والے پہلے امریکی بن گئے۔ فشر کی جیت نے عالمی چیمپئن شپ پر سوویت یونین کی 24سالہ اجارہ داری بھی ختم کر دی۔

میتھ 2.0 ڈے

میتھ 2.0 ڈے

مستقبل کی معیشت،سائنسی ترقی کی بنیادہر سال 8 جولائی کو میتھ 2.0 ڈے (Math 2.0 Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن ریاضی اور جدید ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق کو اجاگر کرنے کے لیے وقف ہے۔ اگرچہ یہ اقوام متحدہ کا منظور شدہ عالمی دن نہیں تاہم دنیا بھر میں تعلیمی ادارے، ریاضی دان، سائنسدان اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس موقع پر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی ترقی میں ریاضی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دن کا آغاز 2009ء میں Math 2.0 Interest Groupکے قیام کی یاد میں کیا گیا، جس کا مقصد ریاضی کی تعلیم کو جدید ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ریاضی: ہر جدید ایجاد کی بنیادآج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس، خلائی تحقیق، سائبر سکیورٹی، انجینئرنگ، مالیاتی نظام، موسمیاتی پیشگوئی ، طبی تحقیق غرض سائنس جس قسم کی بھی ہو، کسی شعبے کا ریاضی کے بغیر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سمارٹ فون، آن لائن بینکنگ، نیویگیشن سسٹم، ای کامرس، سرچ انجن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی پیچیدہ ریاضیاتی اصولوں پر کام کرتے ہیں۔ریاضی صرف اعداد و شمار کا علم نہیں بلکہ منطقی سوچ، تجزیہ، درست فیصلہ سازی اور مسائل کے حل کا فن بھی سکھاتی ہے۔ یہی صلاحیتیں آج کی عالمی معیشت میں سب سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک ابتدائی جماعتوں ہی سے بچوں میں ریاضیاتی سوچ پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔پاکستان میں ریاضی کے فروغ کی ضرورتپاکستان میں ریاضی کی تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ہمارے ملک میں عموماً طالب علموں کی ریاضی کی قابلیت کمزور ہے اور بہت سے طلبہ ریاضی کو صرف امتحان پاس کرنے کی مجبوری سمجھتے ہیں ، اس کے عملی استعمال، منطقی پہلو اور سائنسی اہمیت پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ رٹے پر مبنی تدریسی انداز، عملی سرگرمیوں کی کمی اور محدود وسائل اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ریاضی کو کمپیوٹر پروگرامنگ، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، انجینئرنگ اور روزمرہ زندگی کی مثالوں کے ساتھ پڑھایا جائے ، طلبہ اس علم کو عملی زندگی سے جوڑ سکیں۔اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے انہیں جدید تدریسی تکنیک، ڈیجیٹل ٹولز، انٹرایکٹو سافٹ ویئر اور مسئلہ حل کرنے پر مبنی تدریسی طریقوں سے روشناس کرایا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح سکولوں اور کالجوں میں ریاضی کے مقابلوں، STEM سرگرمیوں، سائنس میلوں اور روبوٹکس کلبوں کا فروغ طلبہ میں دلچسپی پیدا کر سکتا ہے۔والدین کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟بچوں کی تعلیمی کامیابی میں والدین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاضی کے حوالے سے گھر کا ماحول بچے کے اعتماد پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر والدین خود ریاضی کو مشکل یا خوفناک مضمون قرار دیں تو بچے بھی یہی تاثر لیں گے ۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کو سوال پوچھنے کی ترغیب دیں، غلطیوں پر تنقید کے بجائے رہنمائی کریں اور انہیں مسلسل مشق کی اہمیت سے آگاہ کرتے رہیں۔نیز خریداری، گھریلو بجٹ، وقت، فاصلے، کھیلوں کے سکور اور روزمرہ کے دیگر معاملات میں ریاضی کے استعمال کو بچوں کے سامنے اجاگر کرنا چاہیے تاکہ وہ محسوس کریں کہ ریاضی صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہے۔چھوٹے بچوں کے لیے عددی کھیل، منطقی پہیلیاں، تعمیراتی بلاکس اور ذہنی مشقیں ریاضیاتی سوچ کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ ریاضی کو محض امتحانی مضمون کے بجائے ایک دلچسپ ذہنی مشق کے طور پر دیکھیں۔علم پر مبنی معیشت کی جانب سفردنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، مشین لرننگ، فِن ٹیک اور جدید صنعتوں میں کامیابی کے لیے مضبوط ریاضیاتی بنیاد ناگزیر ہے۔ اگر ہم علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی تشکیل چاہتے ہیں تو ریاضی کی تعلیم کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ حکومت، سکولز، اساتذہ اور والدین کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں تجزیاتی سوچ، تحقیق، اختراع اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو فروغ ملے۔میتھ 2.0 ڈے ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ریاضی صرف نمبروں کا علم نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت، سائنسی ترقی اور قومی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ اگر آج کے بچوں کی تعلیمی بنیاد کو ریاضی کی تعلیم اور جدید سائنسی سوچ فراہم کی جائے تو یہ کل پاکستان کو ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں نئی بلندیوں تک لے جا ئیں گے۔

پاکستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا مسکن

پاکستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا مسکن

پاکستان کو قدرت نے ایسی جغرافیائی دولت سے نوازا ہے جو دنیا کے بہت کم ممالک کے حصے میں آئی ہے۔ ملک کے شمالی علاقہ جات میں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے نہ صرف بے مثال قدرتی حسن پیش کرتے ہیں بلکہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور قطبی علاقوں سے باہرگلیشیئرز کا سب سے بڑا مرکز ہیں۔ دنیا میں 8000 میٹر سے بلند صرف 14 چوٹیاں موجود ہیں، جنہیں ایٹ تھاوزنڈرز(Eight Thousanders) کہا جاتا ہے۔ ان میں سے پانچ پاکستان میں ہیں، جس کے باعث نیپال کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔کے ٹو (K2)کے ٹو پاکستان کی سب سے بلند اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8611 میٹر (28251 فٹ) ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں ضلع شگر، گلگت بلتستان میں پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اپنی انتہائی دشوار گزار چڑھائی، غیر متوقع موسمی تبدیلیوں اور شدید برفانی طوفانوں کی وجہ سے اسےSavage Mountain کہا جاتا ہے۔ 31 جولائی 1954ء کو اطالوی کوہ پیما اچیلے کمپاگنونی اور لینو لاچیڈیلی نے پہلی مرتبہ اس چوٹی کو سر کیا۔نانگا پربت نانگا پربت پاکستان کی دوسری اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8126 میٹر (26660 فٹ) ہے۔ یہ ہمالیہ کے مغربی کنارے پر ضلع دیامر، گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ ماضی میں متعدد ناکام مہمات اور ہلاکتوں کی وجہ سے اسے قاتل پہاڑ (Killer Mountain) کہا جاتا تھا۔ 1953ء میں آسٹریا کے ہرمن بوہل نے پہلی مرتبہ تنہا اس چوٹی کو سر کر کے کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے دامن میں واقع فیری میڈوز دنیا کے حسین ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔گاشر برم ۔iگاشر برم۔i جسے ہڈن پیک بھی کہا جاتا ہے پاکستان کی تیسری اور دنیا کی گیارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8080 میٹر (26509 فٹ) ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں بلتورو گلیشیئر کے شمال مشرق میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ اس چوٹی کی برفانی دیواریں اور دشوار راستے اسے انتہائی مشکل مہمات میں شمار کرتے ہیں۔ پہلی کامیاب مہم 1958ء میں امریکی کوہ پیماؤں نے مکمل کی۔براڈ پیک براڈ پیک پاکستان کی چوتھی اور دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8051 میٹر (26414 فٹ) ہے۔ اس کا نام اس کی تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر چوڑی برفانی چوٹی کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ کے ٹو سے تقریباً آٹھ کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ 1957ء میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں نے پہلی مرتبہ اسے سر کیا۔گاشر برم ۔iiگاشر برم ۔ii پاکستان کی پانچویں اور دنیا کی تیرہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8035 میٹر (26362 فٹ) ہے۔ یہ بھی قراقرم کے سلسلے میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں میں اسے نسبتاً کم دشوار سمجھا جاتا ہے، اسی لیے ہر سال بڑی تعداد میں بین الاقوامی کوہ پیما اس کا رخ کرتے ہیں۔ پہلی کامیاب مہم 1956ء میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں نے مکمل کی۔ملک عزیز میں صرف یہی پانچ عظیم چوٹیاں نہیں بلکہ 7000 میٹر سے بلند 108 اور 6000 میٹر سے بلند سینکڑوں چوٹیاں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ملک میں 7000 سے زائد گلیشیئر پائے جاتے ہیں جن میں بالتورو، بیافو، ہسپر، بتورا اور سیاچن نمایاں ہیں۔پولر علاقوں سے باہر یہ دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز کا ذخیرہ ہے جو دریائے سندھ کے آبی نظام کو پانی فراہم کرتا ہے اور پاکستان کی زراعت، ماحولیات اور معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان عالمی کوہ پیمائی اور ماؤنٹین ٹورازم کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ہر سال یورپ، امریکہ، جاپان، چین، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے سینکڑوں کوہ پیما کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک اور گاشر برم کی چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ اس سے مقامی معیشت، سیاحت اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلیاں برفانی علاقوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں جس سے قدرتی ماحول، آبی وسائل اور پہاڑی آبادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ان قدرتی ذخائر کے تحفظ، ذمہ دارانہ سیاحت کے فروغ اور سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری مستقبل کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کی فلک بوس چوٹیاں صرف جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ قومی فخر، قدرتی ورثے اور عالمی سیاحتی امکانات کی علامت ہیں۔ اگر ان قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جائے اور عالمی معیار کی سیاحتی سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستان ماؤنٹین ٹورازم میں دنیا کے ممتاز ترین مقامات میں اپنی مقام مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

واسکو ڈی گاما کی ہندوستان مہم 8 جولائی 1497ء کو پرتگالی ملاح واسکو ڈی گاما چار جہازوں کے ساتھ لزبن سے روانہ ہوا۔ اس مہم کا مقصد یورپ سے ہندوستان تک براہِ راست سمندری راستہ تلاش کرنا تھا۔ اس سے پہلے یورپی تاجر ایشیا سے تجارت کے لیے زمینی راستوں یا عرب تاجروں پر انحصار کرتے تھے، جس کی وجہ سے مصالحہ جات، ریشم اور دیگر قیمتی اشیاکی تجارت محدود اور مہنگی تھی۔واسکو ڈی گاما نے افریقہ کے جنوبی سرے کیپ آف گڈ ہوپ کا چکر لگایا اور تقریباً دس ماہ بعد ہندوستان کے ساحلی شہر کالیکٹ پہنچا۔ اس سفر نے عالمی تجارت کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ پرتگال نے بحرِ ہند میں اپنی تجارتی اور عسکری موجودگی مضبوط کی جس کے بعد برطانیہ، ہالینڈ اور فرانس سمیت دیگر یورپی طاقتیں بھی ایشیا میں داخل ہوئیں۔ جنگِ پولٹاوا میں روس کی فتح8 جولائی 1709ء کو عظیم شمالی جنگ (Great Northern War) کے دوران جنگِ پولٹاوا لڑی گئی جس میں روس کے بادشاہ پیٹر دی گریٹ نے سویڈن کے بادشاہ چارلس XII کو فیصلہ کن شکست دی۔سترہویں صدی میں سویڈن شمالی یورپ کی سب سے طاقتور سلطنت تھا لیکن پولٹاوا کی شکست کے بعد اس کی عسکری برتری ختم ہونا شروع ہوگئی۔ اس فتح کے بعد روس کو بحیرہ بالٹک تک مضبوط رسائی ملی اور سینٹ پیٹرزبرگ کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی جو بعد میں روسی سلطنت کا دارالحکومت بنا۔اس جنگ نے یورپ کے سیاسی توازن کو تبدیل کر دیا۔ روس نہ صرف فوجی اعتبار سے مضبوط ہوا بلکہ سفارتی اور معاشی میدان میں بھی اس کا اثرورسوخ بڑھ گیا۔ کموڈور پیری کی جاپان آمد8 جولائی 1853ء کو امریکی بحریہ کے کموڈور میتھیو سی پیری اپنے جنگی جہازوں کے ساتھ جاپان کی ایڈو بے (موجودہ ٹوکیو بے) پہنچے۔ اس وقت جاپان تقریباً ڈھائی سو برس سے بیرونی دنیا سے الگ تھلگ رہنے کی پالیسی پر عمل کر رہا تھا۔پیری نے امریکی صدر کا خط جاپانی حکام کے حوالے کیا اور تجارتی و سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جدید جنگی جہازوں کی موجودگی نے جاپانی حکومت پر دباؤ ڈالا جس کے نتیجے میں اگلے سال معاہدہ کھاناگاوا طے پایا۔ اس معاہدے نے جاپان کے دروازے مغربی دنیا کے لیے کھول دیے۔اس واقعے کے بعد جاپان میں جدید اصلاحات کا آغاز ہوا جو بعد میں میجی اصلاحات کی صورت میں سامنے آئیں۔ ورمونٹ میں غلامی کا خاتمہ8 جولائی 1777ء کو ورمونٹ جمہوریہ نے اپنا پہلا آئین منظور کیا جس میں غلامی کے خاتمے کی شق شامل تھی۔ اس وقت ورمونٹ ابھی امریکہ کی ریاست نہیں بنا تھا بلکہ ایک آزاد جمہوریہ تھا۔ یہ شمالی امریکہ کی پہلی آئینی دستاویزات میں شمار ہوتا ہے جس نے غلامی کو آئینی سطح پر مسترد کیا۔اس آئین میں غلامی کے خاتمے کے علاوہ عوامی تعلیم، مذہبی آزادی، شہری حقوق اور نمائندہ حکومت جیسے جدید اصول بھی شامل کیے گئے تھے۔اس اقدام نے بعد میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کو فکری بنیاد فراہم کی۔1791ء میں ورمونٹ امریکہ کی چودہویں ریاست بنا۔ شٹل پروگرام کا آخری مشن 8 جولائی 2011ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی شٹل اٹلانٹس نے مشن STS-135کے ساتھ اپنی آخری پرواز کا آغاز کیا۔ یہ تقریباً تیس برس تک جاری رہنے والے امریکی سپیس شٹل پروگرام کا آخری مشن تھا۔1981ء میں شروع ہونے والے اس پروگرام کے دوران 135 کامیاب خلائی مشنز انجام دیے گئے۔ ان مشنز کے ذریعے متعدد مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے گئے، بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا گیا اور سائنسی تحقیق کے بے شمار منصوبے مکمل ہوئے۔اٹلانٹس کی آخری پرواز کے بعد امریکہ نے چند برس تک اپنے خلابازوں کو روسی خلائی جہازوں کے ذریعے خلائی سٹیشن بھیجنا جاری رکھا۔

ورلڈ چاکلیٹ ڈے

ورلڈ چاکلیٹ ڈے

ذائقے، تاریخ اور تہذیب کا دلکش سفرہر سال 7 جولائی کو دنیا بھر میں چاکلیٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن چاکلیٹ کی دلچسپ تاریخ، اس کی ثقافتی اہمیت، معاشی کردار اور دنیا بھر میں اس کی غیر معمولی مقبولیت کو اجاگر کرنے کیلئے مخصوص ہے۔7 جولائی کو ورلڈ چاکلیٹ ڈے منانے کی روایت کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس دن 1550ء میں چاکلیٹ یورپ میں متعارف ہوئی تھی ‘ تاہم چاکلیٹ کے عالمی دن کا انعقاد 2009 سے شروع ہوا اور اب یہ دنیا کے متعدد ممالک میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ چاکلیٹ صرف ایک میٹھی غذا نہیں بلکہ خوشی، محبت، دوستی اور جشن کی علامت بھی بن چکی ہے۔قدیم تہذیبوں سے جدید دنیا تک چاکلیٹ کی کہانی ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس کی ابتدا وسطی اور جنوبی امریکہ کی قدیم تہذیبوں خصوصاً مایا اور ازٹیک اقوام سے ہوئی۔ ان تہذیبوں میں کوکو کے درخت کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور اس کے بیجوں سے ایک مشروب تیار کیا جاتا تھا جو مذہبی رسومات، شاہی تقریبات اور خصوصی مواقع پر استعمال ہوتا تھا۔ ازٹیک حکمران کوکو کے بیجوں کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ انہیں بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا تھا۔پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپی مہم جو جب امریکہ پہنچے تو وہ کوکو کے بیج اپنے ساتھ یورپ لے گئے۔ ابتدا میں چاکلیٹ صرف شاہی خاندانوں اور امرا تک محدود تھی لیکن بعد میں اس میں چینی، دودھ اور مختلف ذائقے شامل کیے گئے جس سے یہ زیادہ خوش ذائقہ اور مقبول ہوگئی۔ انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے چاکلیٹ کی تیاری کو آسان، تیز اور نسبتاً سستا بنا دیا جس کے بعد یہ عام لوگوں کی دسترس میں بھی آگئی۔آج چاکلیٹ دنیا کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی غذاؤں میں شامل ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ سالگرہ، شادی، عید، کرسمس اور دیگر خوشی کے مواقع پر چاکلیٹ بطور تحفہ پیش کرنا ایک خوبصورت روایت بن چکی ہے۔کوکو کی پیداوار میں مغربی افریقہ کے ممالک خصوصاً آئیوری کوسٹ اور گھانا قابل ذکر ہیں۔صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کا استعمال اینٹی آکسیڈنٹس اور فلیونوئیڈز فراہم کرتا ہے جو دل کی صحت اور خون کی گردش کے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔ تاہم چینی اور چکنائی سے بھرپور چاکلیٹ کا زیادہ استعمال موٹاپے، ذیابیطس اور دانتوں کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔ چاکلیٹ ڈے کی تقریبات اور مقبولیتچاکلیٹ ڈے کے موقع پر مختلف ممالک میں چاکلیٹ فیسٹیول، نمائشیں، کوکنگ مقابلے اور خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ چاکلیٹ بنانے والی کمپنیاں نئی مصنوعات متعارف کراتی ہیں اور صارفین کے لیے خصوصی رعایتوں کا اعلان بھی کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی پسندیدہ چاکلیٹس، گھریلو ترکیبیں اور تصاویر شیئر کرکے اس دن کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔پاکستان میں بھی چاکلیٹ کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی برانڈز کی مصنوعات ہر بڑے شہر میں آسانی سے دستیاب ہیں جبکہ بیکریوں، کیفیز اور گھروں میں چاکلیٹ سے تیار کردہ کیک، براونیز، ڈیزرٹس اور دیگر اشیا کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔خوشیوں کا عالمی ذائقہورلڈ چاکلیٹ ڈے صرف ایک میٹھی چیز سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں اس طویل سفر کی بھی یاد دلاتا ہے جو کوکو کے ایک چھوٹے سے بیج نے قدیم امریکی تہذیبوں سے شروع کیا اور آج پوری دنیا کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ دن اس صنعت سے وابستہ لاکھوں کسانوں اور کارکنوں کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرنے، ذمہ دارانہ خریداری کی حوصلہ افزائی کرنے اور اعتدال کے ساتھ اس لذیذ نعمت سے لطف اندوز ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ چاکلیٹ بلاشبہ ذائقے، خوشی، تہذیب اور انسانوں کو قریب لانے والی ایک ایسی مشترکہ زبان ہے جسے دنیا بھر میں یکساں محبت سے سمجھا جاتا ہے۔