ورلڈ کپ یا ورلڈ پَپ؟
اسپیشل فیچر
بونی اور سمبا نے فٹ بال مہارتوں سے دنیا کو حیران کر دیا
اگر اس ورلڈ کپ میں یہ باصلاحیت فٹ بال کھیلنے والے کتے میدان میں ہوتے تو شاید کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی کو بھی سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسے ورلڈ کپ کہیں یا ''ورلڈ پَپ‘‘، بات ایک ہی ہے!
برطانیہ کے شہر ریڈنگ میں اپنی مالک اولگا جونز کے ساتھ رہنے والے پانچ سالہ بارڈر کولی سمبا اور اس کی سات سالہ بہن شو ٹائپ انگلش اسپرنگر اسپینیئل بونی نے ورلڈ کپ کا جشن منفرد انداز میں مناتے ہوئے اپنے اعزازات کی طویل فہرست میں فٹ بال کے نئے عالمی ریکارڈ بھی شامل کر لیے ہیں۔ مسلسل عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے سمبا نے ایک منٹ میں سب سے زیادہ فٹ بال گول کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس نے صرف ایک منٹ میں 12 گول کر کے نیا عالمی ریکارڈ بنایا۔ دوسری جانب بونی نے صرف 30 سیکنڈ میں 5 گول کر کے اس عرصے میں کسی بھی کتے کی جانب سے سب سے زیادہ فٹ بال گول کرنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔
اس سے قبل سمبا ایک منٹ میں 5 گول کر کے بھی ریکارڈ قائم کر چکا تھا، مگر اس نے اپنی ہی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بناتے ہوئے نیا سنگ میل عبور کر لیا۔بلاشبہ یہ ننھے فٹ بالر اپنی مہارت اور پھرتی سے ہر دیکھنے والے کا دل موہ لیتے ہیں۔ اولگا جونز، جن کا تعلق طب کے شعبے سے رہا ہے لیکن اب وہ اپنے ریکارڈ ساز کتوں کی تربیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، نے بتایا کہ ان کے تازہ ترین عالمی ریکارڈ کی کوششوں کا خیال یقیناً فیفا ورلڈ کپ سے ہی متاثر ہو کر آیا۔انہوں نے کہا کہ فٹ بال ان کھیلوں میں سے ایک ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتا ہے۔ جب گنیز ورلڈ ریکارڈز نے فٹ بال سے متعلق ایک نیا ریکارڈ متعارف کرایا تو ہمیں محسوس ہوا کہ یہ سمبا اور بونی کیلئے بہترین موقع ہے۔ دونوں کو پہلے ہی گیند سے کھیلنا، نشانے لگانا اور مختلف مسائل حل کرنے والے کھیل بے حد پسند ہیں، اس لیے ہم نے سوچا کہ کیوں نہ انہیں پینلٹی شوٹ آؤٹ کا اپنا منفرد، کتوں والا انداز آزمانے کا موقع دیا جائے۔
اولگا جونز نے مزید بتایا کہ سمبا کو فٹ بال کے گول کرتے دیکھ کر بونی خود کو زیادہ دیر تک روک نہ سکی۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے بیٹھ کر دیکھتی رہی، پھر جیسے اس نے خود سے کہا، ''اچھا، اب میری باری ہے‘‘۔ موقع ملتے ہی وہ بے حد جوش و خروش کے ساتھ میدان میں دوڑ پڑی، اپنے گول کیے اور ہمیشہ کی طرح اپنی مخصوص توانائی، دلکشی اور خوشگوار شرارت سے اس لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔ اولگا نے مسکراتے ہوئے مزید کہا کہ بالکل! ہم دل و جان سے انگلینڈ کی حمایت کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ٹیم بہترین ٹورنامنٹ کھیلے گی۔ سمبا اور بونی نے اگرچہ فٹ بال میں عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں، لیکن انگلینڈ کے گول کیپروں کے برعکس انہیں کسی شاٹ کو روکنے کی ذمہ داری نہیں نبھانا پڑی۔
49 سالہ اولگا جونز بونی اور سمبا کی تربیت اُس وقت سے کر رہی ہیں جب وہ بالکل چھوٹے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے انہیں تفریحی کرتب اور کھیل سکھائے، پھر بتدریج ان کی تربیت کو مزید اعلیٰ سطح تک لے گئیں۔ آج یہ دونوں کتے مختلف ڈاگ اسپورٹس، فلموں اور ٹیلی وژن پروگراموں میں شرکت، ڈاگ ڈانسنگ اور متعدد گنیز ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کرنے جیسے غیرمعمولی کارنامے انجام دے چکے ہیں۔اولگا کے مطابق بونی اور سمبا ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے ہر نئے چیلنج کو نہایت شوق سے قبول کرتے ہیں اور نئی چیزیں سیکھنے میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کتوں کی نظر میں یہ سب محض ایک دلچسپ کھیل ہوتا ہے، جو وہ کبھی اپنی مالک اور کبھی ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ جب وہ کوئی کام کامیابی سے انجام دیتے ہیں تو انہیں انعام کے طور پر مزیدار خوراک دی جاتی ہے، جس سے ان کا جوش اور سیکھنے کا جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اولگا کے بقول، جب کھیل بھی ہو، تعریف بھی ملے اور پسندیدہ انعام بھی، تو پھر اسے پسند نہ کرنے کی آخر کوئی وجہ ہی کیا ہو سکتی ہے؟
بونی اور سمبا سیکڑوں کرتب، احکامات اور زبانی اشاروں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ متعدد باوقار مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں، جبکہ ٹیلی وژن پروگراموں، اشتہارات اور اسٹیج شوز میں بھی مرکزی کردار ادا کر کے خوب شہرت حاصل کر چکے ہیں۔سمبا کو مصوری کا بھی بے حد شوق ہے۔ اس نے اپنی بنائی ہوئی تصاویر فروخت کر کے فلاحی اداروں کیلئے فنڈز جمع کیے ہیں۔ دوسری جانب بونی نے برطانیز گاٹ ٹیلنٹ میں اپنی شاندار کارکردگی پر جج سمیت پورے حاضرین سے کھڑے ہو کر داد وصول کی تھی۔
جب اولگا سے پوچھا گیا کہ انہیں اپنے کتوں کی کون سی بات سب سے زیادہ حیران کرتی ہے تو انہوں نے کہاکہ شاید ان کی مکمل طور پر نئے تصورات کو سیکھنے کی صلاحیت۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کتے صرف حرکات یاد کرتے ہیں، لیکن سمبا اور بونی کسی بھی کام کے اصل مقصد کو غیرمعمولی انداز میں سمجھ لیتے ہیں اور پھر اسے انجام دینے کیلئے اپنا منفرد طریقہ خود تلاش کر لیتے ہیں۔